• کراچی کا خاموش سپاہی

    آج سوشل میڈیا پر ایک ایسی شخصیت کو دیکھا جس نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا۔

    82 سالہ عبدالحمید ڈاگیا صاحب، ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، جو گزشتہ 11 سال سے زیادہ عرصے سے کراچی کی سڑکوں پر تنہا کھڑے ہو کر شہر کے مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

    نہ کوئی سیاسی جماعت۔
    نہ کوئی سرکاری عہدہ۔
    نہ کوئی فنڈنگ۔

    صرف ایک تختی، ایک لاٹھی، اور اپنے شہر سے محبت۔

    جب بہت سے لوگ فیس بک پر شکایت لکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، یہ شخص گرمی، دھول اور آلودگی میں خود کھڑا ہو کر گٹر، ٹوٹی سڑکوں، کچرے، درختوں کی کٹائی اور شہری مسائل کی طرف توجہ دلاتا ہے۔

    مجھے ان کی سب سے متاثر کن بات یہ لگی کہ انہوں نے صرف ایک دن، ایک ہفتہ یا ایک سال نہیں، بلکہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ مستقل مزاجی کے ساتھ یہ کام جاری رکھا۔

    اکثر لوگ کہتے ہیں:

    “ایک آدمی کیا بدل سکتا ہے؟”

    شاید جواب یہ ہے:

    “شہر نہ بھی بدلے، لیکن ایک آدمی اپنے ضمیر کو زندہ رکھ سکتا ہے۔”

    کراچی کو ایسے ہزاروں شہریوں کی ضرورت ہے جو صرف تنقید نہ کریں بلکہ مسئلے کی طرف عملی توجہ بھی دلائیں۔

    اگر آپ پوڈکاسٹ کرتے ہیں، یوٹیوب چینل چلاتے ہیں، کسی اسکول، کالج، یونیورسٹی، چیمبر آف کامرس یا کمیونٹی گروپ سے وابستہ ہیں، تو میں آپ سے درخواست کروں گا کہ عبدالحمید ڈاگیا صاحب کو مدعو کریں اور ان کی کہانی دنیا تک پہنچائیں۔

    عبدالحمید ڈاگیا صاحب
    +92 321 8233323

    Abdul Hamid Dagia

    شاید کراچی کے مسائل حل کرنے سے پہلے ہمیں ایسے لوگوں کو سننا سیکھنا ہوگا جو برسوں سے ان مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

    عبدالحمید ڈاگیا صاحب کو سلام۔

    آپ نے ثابت کیا کہ شہری ذمہ داری کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔

    — ریحان اللہ والا

    #Karachi #AbdulHamidDagia #KarachiNeedsHeroes #Podcast #Interview #Leadership #Pakistan
    کراچی کا خاموش سپاہی آج سوشل میڈیا پر ایک ایسی شخصیت کو دیکھا جس نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ 82 سالہ عبدالحمید ڈاگیا صاحب، ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، جو گزشتہ 11 سال سے زیادہ عرصے سے کراچی کی سڑکوں پر تنہا کھڑے ہو کر شہر کے مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ نہ کوئی سیاسی جماعت۔ نہ کوئی سرکاری عہدہ۔ نہ کوئی فنڈنگ۔ صرف ایک تختی، ایک لاٹھی، اور اپنے شہر سے محبت۔ جب بہت سے لوگ فیس بک پر شکایت لکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، یہ شخص گرمی، دھول اور آلودگی میں خود کھڑا ہو کر گٹر، ٹوٹی سڑکوں، کچرے، درختوں کی کٹائی اور شہری مسائل کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ مجھے ان کی سب سے متاثر کن بات یہ لگی کہ انہوں نے صرف ایک دن، ایک ہفتہ یا ایک سال نہیں، بلکہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ مستقل مزاجی کے ساتھ یہ کام جاری رکھا۔ اکثر لوگ کہتے ہیں: “ایک آدمی کیا بدل سکتا ہے؟” شاید جواب یہ ہے: “شہر نہ بھی بدلے، لیکن ایک آدمی اپنے ضمیر کو زندہ رکھ سکتا ہے۔” کراچی کو ایسے ہزاروں شہریوں کی ضرورت ہے جو صرف تنقید نہ کریں بلکہ مسئلے کی طرف عملی توجہ بھی دلائیں۔ اگر آپ پوڈکاسٹ کرتے ہیں، یوٹیوب چینل چلاتے ہیں، کسی اسکول، کالج، یونیورسٹی، چیمبر آف کامرس یا کمیونٹی گروپ سے وابستہ ہیں، تو میں آپ سے درخواست کروں گا کہ عبدالحمید ڈاگیا صاحب کو مدعو کریں اور ان کی کہانی دنیا تک پہنچائیں۔ عبدالحمید ڈاگیا صاحب 📞 +92 321 8233323 Abdul Hamid Dagia شاید کراچی کے مسائل حل کرنے سے پہلے ہمیں ایسے لوگوں کو سننا سیکھنا ہوگا جو برسوں سے ان مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ عبدالحمید ڈاگیا صاحب کو سلام۔ آپ نے ثابت کیا کہ شہری ذمہ داری کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ — ریحان اللہ والا #Karachi #AbdulHamidDagia #KarachiNeedsHeroes #Podcast #Interview #Leadership #Pakistan
    0 Comments 0 Shares 1 Views
  • 0 Comments 0 Shares 1 Views
  • کیا آپ کے گھر میں کوئی چرسی رہتا ہے؟

    یا

    اگر آپ یا آپ کے گھر کا کوئی فرد روزانہ 1 گھنٹے سے زیادہ مسلسل ٹی وی، ٹک ٹاک، فیس بک، یوٹیوب، روبلوکس، گیمز، خبریں، اخبارات، کتابیں یا کسی بھی ایک سرگرمی میں حد سے زیادہ وقت گزارتا ہے تو شاید آپ کے گھر میں بھی ایک “ڈیجیٹل یا ذہنی چرسی” رہتا ہے۔

    ذرا رک کر سوچئے۔

    ہم عام طور پر نشے کو صرف سگریٹ، شراب یا منشیات سمجھتے ہیں۔

    لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان کسی بھی ایسی چیز کا عادی بن سکتا ہے جو بار بار دماغ میں خوشی، سنسنی یا تسکین پیدا کرے۔

    یہ موبائل بھی ہو سکتا ہے۔

    گیم بھی۔

    خبریں بھی۔

    اخبار بھی۔

    کتابیں بھی۔

    یہاں تک کہ بعض اوقات اپنا کام بھی۔

    دماغ میں کیا ہوتا ہے؟

    اللہ تعالیٰ نے ہمارے دماغ میں ایک نظام بنایا ہے جسے “ریوارڈ سسٹم” کہتے ہیں۔

    اس میں کئی کیمیکلز کام کرتے ہیں، جن میں:

    * ڈوپامین (Dopamine)
    * سیروٹونن (Serotonin)
    * اینڈورفنز (Endorphins)

    شامل ہیں۔

    جب آپ کو کوئی دلچسپ چیز ملتی ہے، نئی خبر ملتی ہے، لائک آتا ہے، گیم جیتتے ہیں، یا کوئی ایسا کام کرتے ہیں جس سے خوشی ملتی ہے، تو یہ کیمیکلز خارج ہوتے ہیں۔

    یہ کوئی منشیات نہیں ہیں بلکہ جسم کے اپنے قدرتی کیمیکلز ہیں۔

    مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب انسان صرف انہی احساسات کے پیچھے بھاگنے لگتا ہے۔

    نشہ صرف موبائل کا نہیں ہوتا

    بعض لوگ:

    * ٹک ٹاک کے عادی ہوتے ہیں۔
    * بعض گیمز کے۔
    * بعض یوٹیوب کے۔
    * بعض خبریں پڑھنے کے۔
    * بعض ہر وقت سیاسی بحثوں کے۔
    * بعض کتابوں کے۔
    * بعض اپنے کام کے۔

    اگر کوئی سرگرمی آپ کی زندگی کے دوسرے اہم حصوں کو نقصان پہنچا رہی ہے، تو وہ عادت خطرناک بن سکتی ہے۔

    یہ کمپنیاں کیا کرتی ہیں؟

    دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیاں ہزاروں ماہرین نفسیات، ڈیٹا سائنسدانوں اور AI انجینئرز کو ملازمت دیتی ہیں۔

    ان کا مقصد ایک ہی ہے:

    آپ کی توجہ کو زیادہ سے زیادہ دیر تک اپنی سکرین پر رکھنا۔

    کیونکہ آپ کی توجہ ان کا کاروبار ہے۔

    خطرے کی نشانیاں

    اگر کوئی شخص:

    ✓ ہر چند منٹ بعد موبائل چیک کرتا ہے

    ✓ خاموشی برداشت نہیں کر سکتا

    ✓ تنہا بیٹھنے سے گھبراتا ہے

    ✓ مسلسل نئی معلومات ڈھونڈتا رہتا ہے

    ✓ ایک گھنٹے کا ارادہ کرتا ہے اور چار گھنٹے لگا دیتا ہے

    ✓ عبادت یا مطالعے میں توجہ برقرار نہیں رکھ پاتا

    تو اسے اپنی عادات کا جائزہ لینا چاہیے۔

    اس سے نکلنے کے طریقے

    1. روزانہ 5 منٹ مراقبہ (Meditation)

    پہلے 5 منٹ۔

    پھر 10 منٹ۔

    پھر 20 منٹ۔

    اور آخرکار 30 منٹ روزانہ۔

    صرف خاموش بیٹھیں اور اپنی سانسوں پر توجہ دیں۔

    دماغ آہستہ آہستہ سکون سیکھنا شروع کر دیتا ہے۔

    2. دو نفل روزانہ

    شروع میں صرف 2 نفل۔

    پھر 4۔

    پھر 8۔

    پھر 12۔

    اور اگر ممکن ہو تو وقت کے ساتھ 20 نوافل تک پہنچیں۔

    لیکن مقصد صرف تعداد نہیں۔

    ہر لفظ کو سمجھ کر، محسوس کر کے اور پوری توجہ سے پڑھنا ہے۔

    یہ دماغ کو دوبارہ فوکس کرنا سکھاتا ہے۔

    3. روزانہ چہل قدمی

    کم از کم 20 سے 30 منٹ۔

    4. باغبانی

    پودے لگائیں۔

    ان کی دیکھ بھال کریں۔

    فطرت کے ساتھ وقت گزاریں۔

    5. سکرین فری وقت

    روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ۔

    6. نوٹیفکیشن بند کریں

    ہر بیپ آپ کے دماغ کو دوبارہ اپنی طرف کھینچتی ہے۔

    7. خاموشی کی مشق

    روزانہ چند منٹ بغیر موبائل، بغیر موسیقی، بغیر گفتگو کے بیٹھیں۔

    شروع میں یہ مشکل لگے گا۔

    یہی اس بات کی علامت ہے کہ دماغ مسلسل تحریک کا عادی ہو چکا ہے۔

    ایک اہم سوال

    اگر آپ ایک کمرے میں اکیلے بیٹھ جائیں اور آپ کا موبائل، ٹی وی، اخبار، کتاب، گیم، یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک، موسیقی اور تمام مصروفیات آپ سے لے لی جائیں…

    تو کیا آپ سکون سے ایک گھنٹہ بیٹھ سکتے ہیں؟

    اگر جواب “نہیں” ہے تو شاید مسئلہ ان چیزوں میں نہیں، بلکہ ہمارے اندر پیدا ہونے والی انحصار کی کیفیت میں ہے۔

    شاید آنے والے زمانے کا سب سے بڑا نشہ ہیروئن، چرس یا شراب نہیں ہوگا۔

    شاید آنے والے زمانے کا سب سے بڑا نشہ توجہ کھانے والی مشینیں (Attention Machines) ہوں گی۔

    اور جو انسان اپنے دماغ، توجہ، وقت اور نفس پر دوبارہ قابو پا لے گا، وہی حقیقی طور پر آزاد انسان ہوگا۔
    By Rehan Allahwala
    کیا آپ کے گھر میں کوئی چرسی رہتا ہے؟ یا اگر آپ یا آپ کے گھر کا کوئی فرد روزانہ 1 گھنٹے سے زیادہ مسلسل ٹی وی، ٹک ٹاک، فیس بک، یوٹیوب، روبلوکس، گیمز، خبریں، اخبارات، کتابیں یا کسی بھی ایک سرگرمی میں حد سے زیادہ وقت گزارتا ہے تو شاید آپ کے گھر میں بھی ایک “ڈیجیٹل یا ذہنی چرسی” رہتا ہے۔ ذرا رک کر سوچئے۔ ہم عام طور پر نشے کو صرف سگریٹ، شراب یا منشیات سمجھتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان کسی بھی ایسی چیز کا عادی بن سکتا ہے جو بار بار دماغ میں خوشی، سنسنی یا تسکین پیدا کرے۔ یہ موبائل بھی ہو سکتا ہے۔ گیم بھی۔ خبریں بھی۔ اخبار بھی۔ کتابیں بھی۔ یہاں تک کہ بعض اوقات اپنا کام بھی۔ دماغ میں کیا ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ہمارے دماغ میں ایک نظام بنایا ہے جسے “ریوارڈ سسٹم” کہتے ہیں۔ اس میں کئی کیمیکلز کام کرتے ہیں، جن میں: * ڈوپامین (Dopamine) * سیروٹونن (Serotonin) * اینڈورفنز (Endorphins) شامل ہیں۔ جب آپ کو کوئی دلچسپ چیز ملتی ہے، نئی خبر ملتی ہے، لائک آتا ہے، گیم جیتتے ہیں، یا کوئی ایسا کام کرتے ہیں جس سے خوشی ملتی ہے، تو یہ کیمیکلز خارج ہوتے ہیں۔ یہ کوئی منشیات نہیں ہیں بلکہ جسم کے اپنے قدرتی کیمیکلز ہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب انسان صرف انہی احساسات کے پیچھے بھاگنے لگتا ہے۔ نشہ صرف موبائل کا نہیں ہوتا بعض لوگ: * ٹک ٹاک کے عادی ہوتے ہیں۔ * بعض گیمز کے۔ * بعض یوٹیوب کے۔ * بعض خبریں پڑھنے کے۔ * بعض ہر وقت سیاسی بحثوں کے۔ * بعض کتابوں کے۔ * بعض اپنے کام کے۔ اگر کوئی سرگرمی آپ کی زندگی کے دوسرے اہم حصوں کو نقصان پہنچا رہی ہے، تو وہ عادت خطرناک بن سکتی ہے۔ یہ کمپنیاں کیا کرتی ہیں؟ دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیاں ہزاروں ماہرین نفسیات، ڈیٹا سائنسدانوں اور AI انجینئرز کو ملازمت دیتی ہیں۔ ان کا مقصد ایک ہی ہے: آپ کی توجہ کو زیادہ سے زیادہ دیر تک اپنی سکرین پر رکھنا۔ کیونکہ آپ کی توجہ ان کا کاروبار ہے۔ خطرے کی نشانیاں اگر کوئی شخص: ✓ ہر چند منٹ بعد موبائل چیک کرتا ہے ✓ خاموشی برداشت نہیں کر سکتا ✓ تنہا بیٹھنے سے گھبراتا ہے ✓ مسلسل نئی معلومات ڈھونڈتا رہتا ہے ✓ ایک گھنٹے کا ارادہ کرتا ہے اور چار گھنٹے لگا دیتا ہے ✓ عبادت یا مطالعے میں توجہ برقرار نہیں رکھ پاتا تو اسے اپنی عادات کا جائزہ لینا چاہیے۔ اس سے نکلنے کے طریقے 1. روزانہ 5 منٹ مراقبہ (Meditation) پہلے 5 منٹ۔ پھر 10 منٹ۔ پھر 20 منٹ۔ اور آخرکار 30 منٹ روزانہ۔ صرف خاموش بیٹھیں اور اپنی سانسوں پر توجہ دیں۔ دماغ آہستہ آہستہ سکون سیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ 2. دو نفل روزانہ شروع میں صرف 2 نفل۔ پھر 4۔ پھر 8۔ پھر 12۔ اور اگر ممکن ہو تو وقت کے ساتھ 20 نوافل تک پہنچیں۔ لیکن مقصد صرف تعداد نہیں۔ ہر لفظ کو سمجھ کر، محسوس کر کے اور پوری توجہ سے پڑھنا ہے۔ یہ دماغ کو دوبارہ فوکس کرنا سکھاتا ہے۔ 3. روزانہ چہل قدمی کم از کم 20 سے 30 منٹ۔ 4. باغبانی پودے لگائیں۔ ان کی دیکھ بھال کریں۔ فطرت کے ساتھ وقت گزاریں۔ 5. سکرین فری وقت روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ۔ 6. نوٹیفکیشن بند کریں ہر بیپ آپ کے دماغ کو دوبارہ اپنی طرف کھینچتی ہے۔ 7. خاموشی کی مشق روزانہ چند منٹ بغیر موبائل، بغیر موسیقی، بغیر گفتگو کے بیٹھیں۔ شروع میں یہ مشکل لگے گا۔ یہی اس بات کی علامت ہے کہ دماغ مسلسل تحریک کا عادی ہو چکا ہے۔ ایک اہم سوال اگر آپ ایک کمرے میں اکیلے بیٹھ جائیں اور آپ کا موبائل، ٹی وی، اخبار، کتاب، گیم، یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک، موسیقی اور تمام مصروفیات آپ سے لے لی جائیں… تو کیا آپ سکون سے ایک گھنٹہ بیٹھ سکتے ہیں؟ اگر جواب “نہیں” ہے تو شاید مسئلہ ان چیزوں میں نہیں، بلکہ ہمارے اندر پیدا ہونے والی انحصار کی کیفیت میں ہے۔ شاید آنے والے زمانے کا سب سے بڑا نشہ ہیروئن، چرس یا شراب نہیں ہوگا۔ شاید آنے والے زمانے کا سب سے بڑا نشہ توجہ کھانے والی مشینیں (Attention Machines) ہوں گی۔ اور جو انسان اپنے دماغ، توجہ، وقت اور نفس پر دوبارہ قابو پا لے گا، وہی حقیقی طور پر آزاد انسان ہوگا۔ By Rehan Allahwala
    0 Comments 0 Shares 61 Views
  • یہ میسج پڑھ کر میرا دن بن گیا۔

    آج رات ایک نوجوان والد کا یہ پیغام ملا:

    “میرا بیٹا ابھی 9 ماہ کا ہے، اور مجھے امید ہے کہ جب وہ 9 سال کا ہوگا تو آپ کا ایک اسکول نیو کراچی میں بھی کھل چکا ہوگا۔”

    لوگ اکثر عمارتیں دیکھتے ہیں، ہم خواب دیکھتے ہیں۔

    ریحان اسکول صرف آج کے بچوں کے لیے نہیں بن رہا، بلکہ اُن بچوں کے لیے بھی بن رہا ہے جو ابھی بولنا بھی نہیں سیکھے، مگر جن کا مستقبل آج کے فیصلوں سے بنے گا۔

    یہ پیغام مجھے یاد دلاتا ہے کہ ہم صرف اسکول نہیں بنا رہے، ہم امید بنا رہے ہیں۔

    میری دعا ہے کہ جب یہ ننھا بچہ 9 سال کا ہو، تو پاکستان کے ہر ضلع، ہر شہر، اور ہر محلے میں ایسے اسکول موجود ہوں جہاں بچوں کو صرف کتابیں نہیں، بلکہ AI، اعتماد، انٹرنیٹ، لیڈرشپ، اور روزگار کمانا بھی سکھایا جائے۔

    آپ سب کی دعاؤں، محبت اور اعتماد کا شکریہ۔

    ایک پیغام کبھی کبھی کئی مہینوں کی تھکن اتار دیتا ہے۔

    — ریحان اللہ والا

    #RehanSchool #FutureOfPakistan #AIEducation #NewKarachi #EducationRevolution #MadeMyDay
    یہ میسج پڑھ کر میرا دن بن گیا۔ ❤️ آج رات ایک نوجوان والد کا یہ پیغام ملا: “میرا بیٹا ابھی 9 ماہ کا ہے، اور مجھے امید ہے کہ جب وہ 9 سال کا ہوگا تو آپ کا ایک اسکول نیو کراچی میں بھی کھل چکا ہوگا۔” لوگ اکثر عمارتیں دیکھتے ہیں، ہم خواب دیکھتے ہیں۔ ریحان اسکول صرف آج کے بچوں کے لیے نہیں بن رہا، بلکہ اُن بچوں کے لیے بھی بن رہا ہے جو ابھی بولنا بھی نہیں سیکھے، مگر جن کا مستقبل آج کے فیصلوں سے بنے گا۔ یہ پیغام مجھے یاد دلاتا ہے کہ ہم صرف اسکول نہیں بنا رہے، ہم امید بنا رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ جب یہ ننھا بچہ 9 سال کا ہو، تو پاکستان کے ہر ضلع، ہر شہر، اور ہر محلے میں ایسے اسکول موجود ہوں جہاں بچوں کو صرف کتابیں نہیں، بلکہ AI، اعتماد، انٹرنیٹ، لیڈرشپ، اور روزگار کمانا بھی سکھایا جائے۔ آپ سب کی دعاؤں، محبت اور اعتماد کا شکریہ۔ ایک پیغام کبھی کبھی کئی مہینوں کی تھکن اتار دیتا ہے۔ — ریحان اللہ والا ❤️ #RehanSchool #FutureOfPakistan #AIEducation #NewKarachi #EducationRevolution #MadeMyDay
    0 Comments 0 Shares 999 Views
  • ریحان اسکول گرین انٹرپرینیورشپ پروگرام

    ریحان اسکول میں ہم ایک نیا پروگرام شروع کر رہے ہیں جس کا مقصد صرف درخت لگانا نہیں بلکہ بچوں کو ماحول دوست کاروبار سکھانا اور انہیں آمدنی کے قابل بنانا ہے۔

    ہمارا ہدف:
    ہر طالب علم پودوں کی افزائش، دیکھ بھال اور فروخت سیکھے اور 12 ماہ کے اندر اپنے گھر سے کم از کم 5,000 روپے ماہانہ کمانا شروع کرے۔

    روزانہ 25 تا 35 منٹ کی سرگرمی

    ہر طالب علم روزانہ 25 سے 35 منٹ:

    * پودوں کو پانی دینے
    * نئے پودے تیار کرنے
    * بیج بونے
    * نرسری کی صفائی
    * تصاویر اور ویڈیوز بنانے
    * فروخت اور مارکیٹنگ سیکھنے

    پر صرف کرے گا۔



    آئیڈیا نمبر 1: کیکٹس اور سکولنٹ بزنس

    کم جگہ میں اگنے والے پودے جیسے:

    * کیکٹس
    * جیڈ پلانٹ
    * ایلو ویرا
    * ایلیفینٹ بش

    بچے ان کی قلمیں تیار کر کے فروخت کر سکتے ہیں۔

    ہدف:
    50 پودے ماہانہ × 100 روپے منافع = 5,000 روپے ماہانہ



    آئیڈیا نمبر 2: کچن ہرب نرسری

    گھر کی چھت یا بالکونی میں:

    * پودینہ
    * دھنیا
    * تلسی
    * لیمن گراس
    * کری پتا

    اگائے جائیں۔

    ہدف:
    100 گملے × 50 روپے منافع = 5,000 روپے ماہانہ



    آئیڈیا نمبر 3: فروٹ ٹری نرسری

    ہر طالب علم بیج یا قلم سے:

    * آم
    * امرود
    * نیم
    * جامن
    * مورنگا

    کے پودے تیار کرے۔

    ہدف:
    100 پودے × 50 روپے منافع = 5,000 روپے ماہانہ



    آئیڈیا نمبر 4: ایئر پیوریفائنگ پلانٹ بزنس

    گھروں اور دفاتر میں پسند کیے جانے والے پودے:

    * سنیک پلانٹ
    * منی پلانٹ
    * اسپائیڈر پلانٹ
    * اریکا پام

    فروخت کیے جائیں۔

    ہدف:
    25 پودے × 200 روپے منافع = 5,000 روپے ماہانہ



    آئیڈیا نمبر 5: پلانٹ سبسکرپشن سروس

    طالب علم اپنے علاقے کے گھروں اور دفاتر کو ماہانہ پلانٹ سروس فراہم کریں۔

    مثال:

    * 20 گاہک
    * 250 روپے ماہانہ فی گاہک

    کل آمدنی: 5,000 روپے ماہانہ



    روزانہ کا شیڈول

    5 منٹ

    پودوں کا معائنہ اور پانی دینا

    10 منٹ

    بیج بونا، قلم لگانا اور نرسری کا کام

    10 منٹ

    تصاویر، ویڈیوز اور سوشل میڈیا پوسٹ بنانا

    5 منٹ

    فروخت اور گاہکوں سے رابطہ

    5 منٹ

    پودوں اور کاروبار کے بارے میں سیکھنا



    ہمارا خواب

    ہر ریحان اسکول کی اپنی نرسری ہو۔

    ہر طالب علم کے گھر میں ایک چھوٹی نرسری ہو۔

    ہر طالب علم کم از کم ایک درخت روزانہ لگانے یا تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

    اور ہر طالب علم اپنی تعلیم کے دوران ہی آمدنی حاصل کرنا شروع کر دے۔

    “سیکھو، اگاؤ، کماؤ اور پاکستان کو سرسبز بناؤ۔”

    — ریحان اسکول گرین انٹرپرینیورشپ پروگرام
    ریحان اسکول گرین انٹرپرینیورشپ پروگرام ریحان اسکول میں ہم ایک نیا پروگرام شروع کر رہے ہیں جس کا مقصد صرف درخت لگانا نہیں بلکہ بچوں کو ماحول دوست کاروبار سکھانا اور انہیں آمدنی کے قابل بنانا ہے۔ ہمارا ہدف: ہر طالب علم پودوں کی افزائش، دیکھ بھال اور فروخت سیکھے اور 12 ماہ کے اندر اپنے گھر سے کم از کم 5,000 روپے ماہانہ کمانا شروع کرے۔ روزانہ 25 تا 35 منٹ کی سرگرمی ہر طالب علم روزانہ 25 سے 35 منٹ: * پودوں کو پانی دینے * نئے پودے تیار کرنے * بیج بونے * نرسری کی صفائی * تصاویر اور ویڈیوز بنانے * فروخت اور مارکیٹنگ سیکھنے پر صرف کرے گا۔ ⸻ آئیڈیا نمبر 1: کیکٹس اور سکولنٹ بزنس کم جگہ میں اگنے والے پودے جیسے: * کیکٹس * جیڈ پلانٹ * ایلو ویرا * ایلیفینٹ بش بچے ان کی قلمیں تیار کر کے فروخت کر سکتے ہیں۔ ہدف: 50 پودے ماہانہ × 100 روپے منافع = 5,000 روپے ماہانہ ⸻ آئیڈیا نمبر 2: کچن ہرب نرسری گھر کی چھت یا بالکونی میں: * پودینہ * دھنیا * تلسی * لیمن گراس * کری پتا اگائے جائیں۔ ہدف: 100 گملے × 50 روپے منافع = 5,000 روپے ماہانہ ⸻ آئیڈیا نمبر 3: فروٹ ٹری نرسری ہر طالب علم بیج یا قلم سے: * آم * امرود * نیم * جامن * مورنگا کے پودے تیار کرے۔ ہدف: 100 پودے × 50 روپے منافع = 5,000 روپے ماہانہ ⸻ آئیڈیا نمبر 4: ایئر پیوریفائنگ پلانٹ بزنس گھروں اور دفاتر میں پسند کیے جانے والے پودے: * سنیک پلانٹ * منی پلانٹ * اسپائیڈر پلانٹ * اریکا پام فروخت کیے جائیں۔ ہدف: 25 پودے × 200 روپے منافع = 5,000 روپے ماہانہ ⸻ آئیڈیا نمبر 5: پلانٹ سبسکرپشن سروس طالب علم اپنے علاقے کے گھروں اور دفاتر کو ماہانہ پلانٹ سروس فراہم کریں۔ مثال: * 20 گاہک * 250 روپے ماہانہ فی گاہک کل آمدنی: 5,000 روپے ماہانہ ⸻ روزانہ کا شیڈول 5 منٹ پودوں کا معائنہ اور پانی دینا 10 منٹ بیج بونا، قلم لگانا اور نرسری کا کام 10 منٹ تصاویر، ویڈیوز اور سوشل میڈیا پوسٹ بنانا 5 منٹ فروخت اور گاہکوں سے رابطہ 5 منٹ پودوں اور کاروبار کے بارے میں سیکھنا ⸻ ہمارا خواب ہر ریحان اسکول کی اپنی نرسری ہو۔ ہر طالب علم کے گھر میں ایک چھوٹی نرسری ہو۔ ہر طالب علم کم از کم ایک درخت روزانہ لگانے یا تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اور ہر طالب علم اپنی تعلیم کے دوران ہی آمدنی حاصل کرنا شروع کر دے۔ “سیکھو، اگاؤ، کماؤ اور پاکستان کو سرسبز بناؤ۔” — ریحان اسکول گرین انٹرپرینیورشپ پروگرام
    0 Comments 0 Shares 62 Views
  • کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ پاکستان کے دور دراز شہروں میں کتنی صلاحیت چھپی ہوئی ہے جسے دنیا ابھی تک نہیں جانتی۔

    کئی سال پہلے میری ملاقات سندھ کے شہر شکارپور کے ایک کم عمر لڑکے سے ہوئی۔

    مجھے یاد ہے اس وقت اس کی عمر شاید صرف 14 سال تھی۔

    عام طور پر اس عمر کے بچے ویڈیو گیمز کھیل رہے ہوتے ہیں، وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں یا یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ بڑے ہو کر کیا بنیں گے۔

    لیکن یہ لڑکا مختلف تھا۔

    Meet Nanah Ahsan

    وہ انٹرنیٹ پر کام کر رہا تھا۔

    سیکھ رہا تھا۔

    تجربے کر رہا تھا۔

    اور حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہ اس عمر میں ہی ماہانہ 20 لاکھ روپے سے زیادہ کما رہا تھا۔

    آج وہی نوجوان احسن ناناہ پاکستان کے نوجوانوں کو AI، ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اسکلز اور مستقبل کی دنیا کے بارے میں سکھانے کے مشن پر ہے۔

    مجھے اس کی سب سے اچھی بات یہ لگتی ہے کہ وہ صرف پیسے کمانے کی بات نہیں کرتا۔

    وہ کہتا ہے:

    “بچوں کو پہلے سیکھنا چاہیے، تخلیقی بننا چاہیے، ٹیکنالوجی کو سمجھنا چاہیے، AI کو ذمہ داری سے استعمال کرنا چاہیے، اور اپنی شخصیت کو مضبوط بنانا چاہیے۔”

    پیسہ اس کے بعد آتا ہے۔

    اسی مقصد کے لیے احسن ناناہ طلبہ کے لیے مفت Zoom کلاسز لے رہے ہیں۔

    اگر آپ کی عمر 10 سے 25 سال کے درمیان ہے اور آپ:

    AI سیکھنا چاہتے ہیں
    انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں
    مستقبل کی مہارتیں حاصل کرنا چاہتے ہیں
    اپنی زندگی کو اگلے درجے پر لے جانا چاہتے ہیں

    تو اس موقع کو ضائع نہ کریں۔

    شکارپور کے ایک نوجوان نے ثابت کر دیا کہ دنیا بدلنے کے لیے نہ بڑے شہر کی ضرورت ہے، نہ بڑے خاندان کی۔

    ضرورت صرف ایک چیز کی ہے:

    سیکھنے کی بھوک۔

    واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کمنٹ میں صرف “AI” لکھیں۔

    آپ کو گروپ لنک بھیج دیا جائے گا جہاں سے آپ مفت Zoom کلاسز میں شامل ہو سکیں گے۔

    ہوسکتا ہے اگلی کامیابی کی کہانی آپ کی ہو۔

    — ریحان اللہ والا

    https://chat.whatsapp.com/JMiaRo6d1VhCo8PjYtsQxl?s=cl&p=i&ilr=2&amv=1
    کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ پاکستان کے دور دراز شہروں میں کتنی صلاحیت چھپی ہوئی ہے جسے دنیا ابھی تک نہیں جانتی۔ کئی سال پہلے میری ملاقات سندھ کے شہر شکارپور کے ایک کم عمر لڑکے سے ہوئی۔ مجھے یاد ہے اس وقت اس کی عمر شاید صرف 14 سال تھی۔ عام طور پر اس عمر کے بچے ویڈیو گیمز کھیل رہے ہوتے ہیں، وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں یا یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ بڑے ہو کر کیا بنیں گے۔ لیکن یہ لڑکا مختلف تھا۔ Meet Nanah Ahsan وہ انٹرنیٹ پر کام کر رہا تھا۔ سیکھ رہا تھا۔ تجربے کر رہا تھا۔ اور حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہ اس عمر میں ہی ماہانہ 20 لاکھ روپے سے زیادہ کما رہا تھا۔ آج وہی نوجوان احسن ناناہ پاکستان کے نوجوانوں کو AI، ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اسکلز اور مستقبل کی دنیا کے بارے میں سکھانے کے مشن پر ہے۔ مجھے اس کی سب سے اچھی بات یہ لگتی ہے کہ وہ صرف پیسے کمانے کی بات نہیں کرتا۔ وہ کہتا ہے: “بچوں کو پہلے سیکھنا چاہیے، تخلیقی بننا چاہیے، ٹیکنالوجی کو سمجھنا چاہیے، AI کو ذمہ داری سے استعمال کرنا چاہیے، اور اپنی شخصیت کو مضبوط بنانا چاہیے۔” پیسہ اس کے بعد آتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے احسن ناناہ طلبہ کے لیے مفت Zoom کلاسز لے رہے ہیں۔ اگر آپ کی عمر 10 سے 25 سال کے درمیان ہے اور آپ: ✅ AI سیکھنا چاہتے ہیں ✅ انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ✅ مستقبل کی مہارتیں حاصل کرنا چاہتے ہیں ✅ اپنی زندگی کو اگلے درجے پر لے جانا چاہتے ہیں تو اس موقع کو ضائع نہ کریں۔ شکارپور کے ایک نوجوان نے ثابت کر دیا کہ دنیا بدلنے کے لیے نہ بڑے شہر کی ضرورت ہے، نہ بڑے خاندان کی۔ ضرورت صرف ایک چیز کی ہے: سیکھنے کی بھوک۔ واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کمنٹ میں صرف “AI” لکھیں۔ آپ کو گروپ لنک بھیج دیا جائے گا جہاں سے آپ مفت Zoom کلاسز میں شامل ہو سکیں گے۔ ہوسکتا ہے اگلی کامیابی کی کہانی آپ کی ہو۔ — ریحان اللہ والا https://chat.whatsapp.com/JMiaRo6d1VhCo8PjYtsQxl?s=cl&p=i&ilr=2&amv=1
    0 Comments 0 Shares 91 Views
  • via WhatsApp messenger ! +92 301 7671935 or info@pakistanstaff.com
    via WhatsApp messenger ! +92 301 7671935 or info@pakistanstaff.com
    0 Comments 0 Shares 1 Views
  • آج مجھے یہ خوبصورت میسج موصول ہوا۔

    پاکستان میں شاید ہزاروں لوگ ہیں جو دوبارہ فطرت، سادگی، خالص کھانے اور ذہنی سکون کی طرف واپس جانا چاہتے ہیں۔
    لیکن افسوس کہ ہماری زندگیاں اب مکمل طور پر مصنوعی خوراک، اسکرینوں، شور، آلودگی اور ذہنی دباؤ میں گھِر چکی ہیں۔

    تھرپارکر کے ایک نوجوان، بھگوان داس کیولانی، نے ایک بہت خوبصورت آئیڈیا شیئر کیا ہے:

    “دیسی آرگینک ولیج ریٹریٹ”

    ایک ایسا مقام جہاں لوگ ایک یا دو دن کے لیے جا کر اصل دیسی زندگی کا تجربہ حاصل کر سکیں۔

    مٹی کے گھر
    چارپائیاں
    درختوں کی چھاؤں
    تازہ دودھ، لسی، مکھن، دیسی گھی
    کھیتوں کی سبزیاں
    دیسی روٹی، ساگ، دالیں
    سندھی، پنجابی، بلوچی، پٹھان ثقافت
    بیل گاڑی کی سیر
    جانوروں کی دیکھ بھال
    لوک موسیقی اور گاؤں کی محفلیں

    مجھے ذاتی طور پر لگتا ہے کہ مستقبل میں “نیچر ریٹریٹس” اور “آرگینک ولیجز” ایک بہت بڑی انڈسٹری بننے جا رہے ہیں کیونکہ انسان اب مصنوعی زندگی سے تھک چکا ہے۔

    اگر کوئی شخص، سرمایہ کار، فارمر، آرکیٹیکٹ، یا پارٹنر اس خواب کو حقیقت بنانا چاہتا ہے تو براہِ راست ان سے رابطہ کریں۔

    بھگوان داس کیولانی
    مٹھی، تھرپارکر
    0336-3222330

    ہوسکتا ہے پاکستان کی اگلی خوبصورت اور پُرسکون ٹورزم انڈسٹری کسی بڑے شہر سے نہیں بلکہ تھرپارکر کے صحرا سے شروع ہو۔

    — ریحان اللہ وا

    :::
    آج مجھے یہ خوبصورت میسج موصول ہوا۔ پاکستان میں شاید ہزاروں لوگ ہیں جو دوبارہ فطرت، سادگی، خالص کھانے اور ذہنی سکون کی طرف واپس جانا چاہتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ ہماری زندگیاں اب مکمل طور پر مصنوعی خوراک، اسکرینوں، شور، آلودگی اور ذہنی دباؤ میں گھِر چکی ہیں۔ تھرپارکر کے ایک نوجوان، بھگوان داس کیولانی، نے ایک بہت خوبصورت آئیڈیا شیئر کیا ہے: “دیسی آرگینک ولیج ریٹریٹ” ایک ایسا مقام جہاں لوگ ایک یا دو دن کے لیے جا کر اصل دیسی زندگی کا تجربہ حاصل کر سکیں۔ 🌿 مٹی کے گھر 🌿 چارپائیاں 🌿 درختوں کی چھاؤں 🌿 تازہ دودھ، لسی، مکھن، دیسی گھی 🌿 کھیتوں کی سبزیاں 🌿 دیسی روٹی، ساگ، دالیں 🌿 سندھی، پنجابی، بلوچی، پٹھان ثقافت 🌿 بیل گاڑی کی سیر 🌿 جانوروں کی دیکھ بھال 🌿 لوک موسیقی اور گاؤں کی محفلیں مجھے ذاتی طور پر لگتا ہے کہ مستقبل میں “نیچر ریٹریٹس” اور “آرگینک ولیجز” ایک بہت بڑی انڈسٹری بننے جا رہے ہیں کیونکہ انسان اب مصنوعی زندگی سے تھک چکا ہے۔ اگر کوئی شخص، سرمایہ کار، فارمر، آرکیٹیکٹ، یا پارٹنر اس خواب کو حقیقت بنانا چاہتا ہے تو براہِ راست ان سے رابطہ کریں۔ بھگوان داس کیولانی مٹھی، تھرپارکر 📞 0336-3222330 ہوسکتا ہے پاکستان کی اگلی خوبصورت اور پُرسکون ٹورزم انڈسٹری کسی بڑے شہر سے نہیں بلکہ تھرپارکر کے صحرا سے شروع ہو۔ — ریحان اللہ وا :::
    0 Comments 0 Shares 1 Views
  • مسٹر اور مسز فرحان سے۔
    اور ان کے خوبصورت مشن:
    “10 Children’s Garden” سے۔

    مسز نمرہ فرحان کبھی سافٹ ویئر انجینئر تھیں۔

    پھر شادی ہوئی…
    زندگی بدلی…
    اور جیسے پاکستان میں اکثر ہوتا ہے…
    کیریئر تھوڑا سائیڈ پر چلا گیا۔

    لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔

    انہوں نے اور ان کے شوہر نے کراچی کی ایک چھت پر…
    خاموشی سے ایک چھوٹا سا پلانٹ سیٹ اپ شروع کیا۔

    نہ کوئی بڑی انویسٹمنٹ۔
    نہ کوئی بڑی کمپنی۔
    نہ کوئی شور۔

    صرف:
    پودے…
    مٹی…
    اور 10 بچے۔

    گھر کے بچے موبائل، ٹی وی اور اسکرین میں کھو رہے تھے۔

    تو انہوں نے ایک عجیب فیصلہ کیا۔

    انہوں نے بچوں کو گملے رنگنے دیے۔

    پودوں کو پانی دینا سکھایا۔

    پتے صاف کروائے۔

    چھت سے نیچے پلانٹ اٹھوا کر لے گئے۔

    آرڈر پیک کروائے۔

    اور پھر کچھ ایسا ہوا…
    جو شاید کراچی کے ہزاروں گھروں میں ہونا چاہیے۔

    بچے اسکرین چھوڑنے لگے۔

    وہ بھاگ کر آنے لگے:
    “آج کون سا پاٹ کلر کرنا ہے؟”

    ان کے ہاتھ مٹی سے گندے ہونے لگے…
    لیکن ان کے دماغ صاف ہونے لگے۔

    ان کے جسم حرکت کرنے لگے۔

    ان کے اندر patience آنے لگا۔

    ذمہ داری آنے لگی۔

    اور پھر مسٹر اور مسز فرحان نے اپنے اس چھوٹے سے سیٹ اپ کا نام رکھا:

    “10 Children’s Garden”

    کیونکہ یہ صرف پودوں کا کاروبار نہیں تھا۔

    یہ بچوں کو دوبارہ زندگی سے جوڑنے کا مشن تھا۔

    آج کراچی کے اندر…
    لوگ صرف پلانٹس خریدنے کے لیے نہیں…

    بلکہ ان کی sincerity خریدنے کے لیے آرڈر دیتے ہیں۔

    ان کے کلر کیے ہوئے پاٹس…
    ان کی پہچان بن چکے ہیں۔

    یہ ہے کراچی کی اصل entrepreneurship۔

    جہاں:
    Business + Family + Children + Nature
    ایک ساتھ چل رہے ہیں۔

    میرے نزدیک…
    یہ لوگ صرف پلانٹ سیلرز نہیں۔

    یہ کراچی کے Green Superheroes ہیں۔

    اگر پاکستان کے ہر گھر کی چھت پر…
    ایسے 10 بچے پودوں کے ساتھ بڑے ہونے لگ جائیں…

    تو شاید:
    ہماری گرمی بھی کم ہو جائے…
    بچوں کی anxiety بھی…
    اور بے مقصد اسکرین اسکرولنگ بھی۔

    Respect for Mr. & Mrs. Farhan.

    Contact: Nimra Farhan
    0319-2782310

    Facebook Page:

    10 childrens garden

    Join their group to learn this from them

    https://chat.whatsapp.com/LP7M1QY48CJ8Sc8JGXNZUz?s=cl&p=i&mlu=1&amv=1

    — ریحان
    مسٹر اور مسز فرحان سے۔ اور ان کے خوبصورت مشن: “10 Children’s Garden” سے۔ ❤️ مسز نمرہ فرحان کبھی سافٹ ویئر انجینئر تھیں۔ پھر شادی ہوئی… زندگی بدلی… اور جیسے پاکستان میں اکثر ہوتا ہے… کیریئر تھوڑا سائیڈ پر چلا گیا۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے اور ان کے شوہر نے کراچی کی ایک چھت پر… خاموشی سے ایک چھوٹا سا پلانٹ سیٹ اپ شروع کیا۔ نہ کوئی بڑی انویسٹمنٹ۔ نہ کوئی بڑی کمپنی۔ نہ کوئی شور۔ صرف: پودے… مٹی… اور 10 بچے۔ گھر کے بچے موبائل، ٹی وی اور اسکرین میں کھو رہے تھے۔ تو انہوں نے ایک عجیب فیصلہ کیا۔ انہوں نے بچوں کو گملے رنگنے دیے۔ 🎨 پودوں کو پانی دینا سکھایا۔ 🌿 پتے صاف کروائے۔ چھت سے نیچے پلانٹ اٹھوا کر لے گئے۔ آرڈر پیک کروائے۔ اور پھر کچھ ایسا ہوا… جو شاید کراچی کے ہزاروں گھروں میں ہونا چاہیے۔ بچے اسکرین چھوڑنے لگے۔ وہ بھاگ کر آنے لگے: “آج کون سا پاٹ کلر کرنا ہے؟” ان کے ہاتھ مٹی سے گندے ہونے لگے… لیکن ان کے دماغ صاف ہونے لگے۔ ان کے جسم حرکت کرنے لگے۔ ان کے اندر patience آنے لگا۔ ذمہ داری آنے لگی۔ اور پھر مسٹر اور مسز فرحان نے اپنے اس چھوٹے سے سیٹ اپ کا نام رکھا: “10 Children’s Garden” کیونکہ یہ صرف پودوں کا کاروبار نہیں تھا۔ یہ بچوں کو دوبارہ زندگی سے جوڑنے کا مشن تھا۔ ❤️ آج کراچی کے اندر… لوگ صرف پلانٹس خریدنے کے لیے نہیں… بلکہ ان کی sincerity خریدنے کے لیے آرڈر دیتے ہیں۔ ان کے کلر کیے ہوئے پاٹس… ان کی پہچان بن چکے ہیں۔ یہ ہے کراچی کی اصل entrepreneurship۔ جہاں: Business + Family + Children + Nature ایک ساتھ چل رہے ہیں۔ میرے نزدیک… یہ لوگ صرف پلانٹ سیلرز نہیں۔ یہ کراچی کے Green Superheroes ہیں۔ 🌿🦸‍♀️🦸‍♂️ اگر پاکستان کے ہر گھر کی چھت پر… ایسے 10 بچے پودوں کے ساتھ بڑے ہونے لگ جائیں… تو شاید: ہماری گرمی بھی کم ہو جائے… بچوں کی anxiety بھی… اور بے مقصد اسکرین اسکرولنگ بھی۔ Respect for Mr. & Mrs. Farhan. ❤️ 📞 Contact: Nimra Farhan 0319-2782310 📍 Facebook Page: 10 children's garden Join their group to learn this from them https://chat.whatsapp.com/LP7M1QY48CJ8Sc8JGXNZUz?s=cl&p=i&mlu=1&amv=1 — ریحان
    0 Comments 0 Shares 1 Views
  • PakistanStaff.com allows you to help jobs & staff via WhatsApp messenger ! +92 301 7671935 or info@pakistanstaff.com Service is under testing ! Errors may happen !
    PakistanStaff.com allows you to help jobs & staff via WhatsApp messenger ! +92 301 7671935 or info@pakistanstaff.com Service is under testing ! Errors may happen !
    0 Comments 0 Shares 1 Views