• Thank you Kabir bhai for lovely kids for our rehan school students ! May you have more rizq and barakah !

    If you want to buy laptops in lahore or sharjah do contact him !
    Thank you Kabir bhai for lovely kids for our rehan school students ! May you have more rizq and barakah ! If you want to buy laptops in lahore or sharjah do contact him !
    0 Comments 0 Shares 18 Views
  • کراچی ای پی زیڈ (Export Processing Zone) کیا ہے؟

    حکومت پاکستان نے Export Processing Zones Authority کے ذریعے کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون بنایا تاکہ ایسی کمپنیاں جو بیرونِ ملک سامان ایکسپورٹ کرتی ہیں، انہیں خاص سہولیات دی جا سکیں۔

    آفیشل ویب سائٹ: EPZA Pakistan

    سادہ الفاظ میں:

    “یہ پاکستان کے اندر ایک خاص صنعتی علاقہ ہے جہاں ایکسپورٹ کرنے والے کاروباروں کو VIP سہولیات دی جاتی ہیں۔”

    اگر آپ کا کاروبار زیادہ تر بیرونِ ملک سامان بیچتا ہے تو حکومت آپ کو:

    * ٹیکس میں رعایت،
    * آسان امپورٹ،
    * تیز کسٹمز،
    * صنعتی سہولیات،
    * اور بہتر بزنس ماحول دیتی ہے۔



    کراچی EPZ کمپیوٹر ریفربشنگ بزنس کے لیے کیوں بہترین ہے؟

    فرض کریں ایک بزنس مین:

    * امریکہ،
    * یورپ،
    * جاپان

    سے پرانے لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر خریدتا ہے۔

    پھر کراچی EPZ کے اندر:

    * ان کی صفائی کرتا ہے،
    * پینٹنگ کرتا ہے،
    * RAM اور SSD اپگریڈ کرتا ہے،
    * سافٹ ویئر انسٹال کرتا ہے،
    * بیٹری تبدیل کرتا ہے،
    * خوبصورت پیکنگ کرتا ہے،
    * اور پھر انہیں افریقہ، پاکستان، یا دوسرے ممالک میں ایکسپورٹ کرتا ہے۔



    کراچی EPZ کے بڑے فائدے

    1. مشینری اور پارٹس پر کم یا زیرو ڈیوٹی

    آپ:

    * لیپ ٹاپ،
    * SSD،
    * RAM،
    * کمپیوٹر پارٹس،
    * ٹولز

    بغیر عام کسٹمز ڈیوٹی کے امپورٹ کر سکتے ہیں۔

    یہ کمپیوٹر ریفربشنگ بزنس کے لیے بہت بڑا فائدہ ہے۔



    2. کئی چیزوں پر ٹیکس رعایت

    EPZ میں اکثر:

    * خام مال،
    * بجلی،
    * گیس،
    * امپورٹڈ سامان

    پر خصوصی رعایتیں ملتی ہیں۔

    اس سے بزنس کی لاگت کم ہو جاتی ہے۔



    3. تیز کسٹمز سسٹم

    کراچی EPZ کے اندر ہی کسٹمز کی سہولت موجود ہوتی ہے۔

    اس کا مطلب:

    * کنٹینر جلدی کلیئر،
    * کم کاغذی کارروائی،
    * کم تاخیر۔



    4. EPZ میں لین دین پاکستانی روپے میں نہیں ہوتا

    ایک بہت اہم بات جو اکثر لوگ نہیں جانتے:

    EPZ میں زیادہ تر بزنس ٹرانزیکشن:

    * امریکی ڈالر،
    * یو اے ای درہم،
    * یا دوسری فارن کرنسی میں ہوتی ہیں،

    پاکستانی روپے میں نہیں۔

    کیونکہ EPZ اصل میں:

    * ایکسپورٹ،
    * فارن ایکسچینج،
    * اور انٹرنیشنل ٹریڈ

    کے لیے بنایا جاتا ہے۔

    اس کا فائدہ یہ ہے کہ:

    * بزنس ڈالر میں کماتا ہے،
    * ڈالر میں خریدتا ہے،
    * عالمی مارکیٹ کے ساتھ آسانی سے جڑ جاتا ہے،
    * اور کرنسی کے مسائل کم ہوتے ہیں۔



    کمپیوٹر ریفربشنگ کا مکمل ماڈل

    Step 1 — امپورٹ

    امریکہ اور یورپ سے پرانے لیپ ٹاپ خریدیں۔

    Step 2 — ریفربش

    کراچی EPZ میں:

    * مرمت،
    * صفائی،
    * پینٹنگ،
    * SSD اپگریڈ،
    * ونڈوز یا لینکس انسٹال،
    * ٹیسٹنگ،
    * پیکنگ۔

    Step 3 — ایکسپورٹ

    پھر انہیں:

    * افریقہ،
    * مڈل ایسٹ،
    * سینٹرل ایشیا،
    * اسکولز،
    * اداروں

    کو فروخت کریں۔



    مثال

    چیز خرچ
    پرانا لیپ ٹاپ $25
    SSD + مرمت + پینٹ $20
    مزدوری + پیکنگ $10
    کل لاگت $55
    فروخت قیمت $120
    منافع تقریباً $65

    اگر ماہانہ:

    * 10,000 لیپ ٹاپ بھی ریفربش ہوں،

    تو یہ ایک بہت بڑی ایکسپورٹ انڈسٹری بن سکتی ہے۔



    بڑا وژن

    کراچی EPZ مستقبل میں بن سکتا ہے:

    * ساؤتھ ایشیا کا AI لیپ ٹاپ حب،
    * Chromebook ریفربشنگ سینٹر،
    * ای ویسٹ ری سائیکلنگ حب،
    * کم قیمت تعلیمی لیپ ٹاپ ایکسپورٹر،
    * غریب ممالک کے لیے سستی کمپیوٹنگ سینٹر۔

    یعنی کچرے میں جانے والے پرانے کمپیوٹر،
    لاکھوں لوگوں کے لیے:

    تعلیم،
    AI،
    فری لانسنگ،
    اور روزگار کا ذریعہ بن سکتے ہی

    :::
    کراچی ای پی زیڈ (Export Processing Zone) کیا ہے؟ حکومت پاکستان نے Export Processing Zones Authority کے ذریعے کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون بنایا تاکہ ایسی کمپنیاں جو بیرونِ ملک سامان ایکسپورٹ کرتی ہیں، انہیں خاص سہولیات دی جا سکیں۔ آفیشل ویب سائٹ: EPZA Pakistan سادہ الفاظ میں: “یہ پاکستان کے اندر ایک خاص صنعتی علاقہ ہے جہاں ایکسپورٹ کرنے والے کاروباروں کو VIP سہولیات دی جاتی ہیں۔” اگر آپ کا کاروبار زیادہ تر بیرونِ ملک سامان بیچتا ہے تو حکومت آپ کو: * ٹیکس میں رعایت، * آسان امپورٹ، * تیز کسٹمز، * صنعتی سہولیات، * اور بہتر بزنس ماحول دیتی ہے۔ ⸻ کراچی EPZ کمپیوٹر ریفربشنگ بزنس کے لیے کیوں بہترین ہے؟ فرض کریں ایک بزنس مین: * امریکہ، * یورپ، * جاپان سے پرانے لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر خریدتا ہے۔ پھر کراچی EPZ کے اندر: * ان کی صفائی کرتا ہے، * پینٹنگ کرتا ہے، * RAM اور SSD اپگریڈ کرتا ہے، * سافٹ ویئر انسٹال کرتا ہے، * بیٹری تبدیل کرتا ہے، * خوبصورت پیکنگ کرتا ہے، * اور پھر انہیں افریقہ، پاکستان، یا دوسرے ممالک میں ایکسپورٹ کرتا ہے۔ ⸻ کراچی EPZ کے بڑے فائدے 1. مشینری اور پارٹس پر کم یا زیرو ڈیوٹی آپ: * لیپ ٹاپ، * SSD، * RAM، * کمپیوٹر پارٹس، * ٹولز بغیر عام کسٹمز ڈیوٹی کے امپورٹ کر سکتے ہیں۔ یہ کمپیوٹر ریفربشنگ بزنس کے لیے بہت بڑا فائدہ ہے۔ ⸻ 2. کئی چیزوں پر ٹیکس رعایت EPZ میں اکثر: * خام مال، * بجلی، * گیس، * امپورٹڈ سامان پر خصوصی رعایتیں ملتی ہیں۔ اس سے بزنس کی لاگت کم ہو جاتی ہے۔ ⸻ 3. تیز کسٹمز سسٹم کراچی EPZ کے اندر ہی کسٹمز کی سہولت موجود ہوتی ہے۔ اس کا مطلب: * کنٹینر جلدی کلیئر، * کم کاغذی کارروائی، * کم تاخیر۔ ⸻ 4. EPZ میں لین دین پاکستانی روپے میں نہیں ہوتا ایک بہت اہم بات جو اکثر لوگ نہیں جانتے: EPZ میں زیادہ تر بزنس ٹرانزیکشن: * امریکی ڈالر، * یو اے ای درہم، * یا دوسری فارن کرنسی میں ہوتی ہیں، پاکستانی روپے میں نہیں۔ کیونکہ EPZ اصل میں: * ایکسپورٹ، * فارن ایکسچینج، * اور انٹرنیشنل ٹریڈ کے لیے بنایا جاتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ: * بزنس ڈالر میں کماتا ہے، * ڈالر میں خریدتا ہے، * عالمی مارکیٹ کے ساتھ آسانی سے جڑ جاتا ہے، * اور کرنسی کے مسائل کم ہوتے ہیں۔ ⸻ کمپیوٹر ریفربشنگ کا مکمل ماڈل Step 1 — امپورٹ امریکہ اور یورپ سے پرانے لیپ ٹاپ خریدیں۔ Step 2 — ریفربش کراچی EPZ میں: * مرمت، * صفائی، * پینٹنگ، * SSD اپگریڈ، * ونڈوز یا لینکس انسٹال، * ٹیسٹنگ، * پیکنگ۔ Step 3 — ایکسپورٹ پھر انہیں: * افریقہ، * مڈل ایسٹ، * سینٹرل ایشیا، * اسکولز، * اداروں کو فروخت کریں۔ ⸻ مثال چیز خرچ پرانا لیپ ٹاپ $25 SSD + مرمت + پینٹ $20 مزدوری + پیکنگ $10 کل لاگت $55 فروخت قیمت $120 منافع تقریباً $65 اگر ماہانہ: * 10,000 لیپ ٹاپ بھی ریفربش ہوں، تو یہ ایک بہت بڑی ایکسپورٹ انڈسٹری بن سکتی ہے۔ ⸻ بڑا وژن کراچی EPZ مستقبل میں بن سکتا ہے: * ساؤتھ ایشیا کا AI لیپ ٹاپ حب، * Chromebook ریفربشنگ سینٹر، * ای ویسٹ ری سائیکلنگ حب، * کم قیمت تعلیمی لیپ ٹاپ ایکسپورٹر، * غریب ممالک کے لیے سستی کمپیوٹنگ سینٹر۔ یعنی کچرے میں جانے والے پرانے کمپیوٹر، لاکھوں لوگوں کے لیے: تعلیم، AI، فری لانسنگ، اور روزگار کا ذریعہ بن سکتے ہی :::
    0 Comments 0 Shares 5 Views
  • Today I am in Sharjah computer market updating myself about Chromebooks and laptops !

    Who’s around ?
    Today I am in Sharjah computer market updating myself about Chromebooks and laptops ! Who’s around ?
    0 Comments 0 Shares 18 Views
  • *Video Introduction Maker کی تلاش ہے؟*

    یہ poster forward کریں — کوئی بھی *Video Introduction Maker* اپنی CV ہماری WhatsApp number پر بھیجے گا، ہم آپ سے رابطہ کریں گے۔

    _— Team PakistanStaff _
    📢 *Video Introduction Maker کی تلاش ہے؟* یہ poster forward کریں — کوئی بھی *Video Introduction Maker* اپنی CV ہماری WhatsApp number پر بھیجے گا، ہم آپ سے رابطہ کریں گے۔ _— Team PakistanStaff 🇵🇰_
    0 Comments 0 Shares 1 Views
  • Join Paki.com - app now on play store
    Join Paki.com - app now on play store
    0 Comments 0 Shares 1 Views
  • Draft 1 admission process of Rehan School Online Academy
    Draft 1 admission process of Rehan School Online Academy
    0 Comments 0 Shares 1 Views
  • میں کافی عرصے سے خاموش تھا… لیکن اب کسی نہ کسی کو سچ بولنا ہی پڑے گا

    ریحان اللہ والا حقیقت میں انسان نہیں لگتے…
    کوئی نارمل بندہ 243 ہزار پوسٹس نہیں کرتا، ہر دوسری پوسٹ میں AI، WiFi، ambition اور “پاکستان بدل دو” نہیں بولتا

    میرے خیال میں Rehan School والوں نے secretly ان کا Agentic AI ورژن لانچ کر دیا ہے اور اصلی ریحان کو کہیں سرور روم میں رکھ دیا ہے

    اور سب سے بڑا ریڈ فلیگ؟
    یہ بندہ ہر تصویر میں ایسے لگتا ہے جیسے ابھی TED Talk دے کر آیا ہو

    کبھی بچوں کے ساتھ، کبھی Chromebook کے ساتھ، کبھی AI Emergency Course، کبھی trillion trees، کبھی Future City…

    بھائی ایک انسان اتنی tabs ایک ساتھ کیسے کھول سکتا ہے؟

    اب تو مجھے یقین ہو گیا ہے کہ ChatGPT بھی کبھی کبھی ان سے advice لیتا ہوگا

    Inspire by Jonathan Montoya
    میں کافی عرصے سے خاموش تھا… لیکن اب کسی نہ کسی کو سچ بولنا ہی پڑے گا 😭😂 ریحان اللہ والا حقیقت میں انسان نہیں لگتے… کوئی نارمل بندہ 243 ہزار پوسٹس نہیں کرتا، ہر دوسری پوسٹ میں AI، WiFi، ambition اور “پاکستان بدل دو” نہیں بولتا 💀 میرے خیال میں Rehan School والوں نے secretly ان کا Agentic AI ورژن لانچ کر دیا ہے اور اصلی ریحان کو کہیں سرور روم میں رکھ دیا ہے 😭 اور سب سے بڑا ریڈ فلیگ؟ یہ بندہ ہر تصویر میں ایسے لگتا ہے جیسے ابھی TED Talk دے کر آیا ہو 😭😂 کبھی بچوں کے ساتھ، کبھی Chromebook کے ساتھ، کبھی AI Emergency Course، کبھی trillion trees، کبھی Future City… بھائی ایک انسان اتنی tabs ایک ساتھ کیسے کھول سکتا ہے؟ 💀 اب تو مجھے یقین ہو گیا ہے کہ ChatGPT بھی کبھی کبھی ان سے advice لیتا ہوگا 😭 Inspire by Jonathan Montoya
    0 Comments 0 Shares 1 Views
  • What app is available to buy virtual silver and gold in Pakistan ?
    What app is available to buy virtual silver and gold in Pakistan 🇵🇰 ?
    0 Comments 0 Shares 1 Views
  • جیسے بھارت اسے “آپریشن سندور” کہتا ہے اور پاکستان اسے “معرکۂ حق” کہتا ہے، یہ دراصل پچھلے سال بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی ایک محدود جنگ کے دو مختلف نام ہیں۔ دونوں ملک دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ واضح طور پر جیت گئے اور انہوں نے دوسرے کو ایسا سبق سکھایا جو کبھی نہیں بھولے گا۔

    لیکن ایک بات بالکل واضح ہے: نہ کسی طرف کوئی بڑی تبدیلی آئی اور نہ ہی کسی نے کوئی سبق سیکھا۔
    چاہے امریکی صدر Donald Trump نے واقعی مداخلت کر کے حالات کو مزید خراب ہونے سے روکا ہو، جیسا کہ انہوں نے دعویٰ کیا؛
    یا پاکستان نے امن کی درخواست کی ہو، جیسا کہ بھارت کہتا ہے؛
    یا بھارت کو نقصان اٹھانا پڑا ہو اور اسے پیچھے ہٹنا پڑا ہو، جیسا کہ پاکستان دعویٰ کرتا ہے —
    یہ سب بحث کی باتیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دو ایٹمی طاقتیں ایک حد سے آگے نہیں جا سکتیں، ورنہ تباہی بہت بڑی ہو سکتی ہے۔

    آج کے دور میں جنگیں بدل چکی ہیں۔ اب سستے ڈرون بھی جنگ کا رخ بدل سکتے ہیں۔ اس لیے ایسی جنگوں میں واضح فاتح نکلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر ایک فریق مکمل ہار مانے بھی، تو جیتنے والے کو بھی بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔
    Russian invasion of Ukraine اور Iran–Israel conflict جیسے تنازعات بھی یہی دکھا رہے ہیں۔

    پاکستان کو اپنی معیشت مضبوط کرنے کے لیے حقیقت کو قبول کرنا ہوگا۔ اگر وہ بار بار قرضوں اور امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے، تو اسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ مسلسل تنازعات اور مسائل میں الجھا رہنا چاہتا ہے، یا امن، تجارت اور معاشی ترقی پر توجہ دینا چاہتا ہے۔
    بھارت کی معیشت بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور پاکستان کے لیے اسے روکنا آسان نہیں ہوگا۔ بھارت کے پاس کھونے کے لیے نسبتاً کم ہے۔

    آخرکار، بھارت اور پاکستان دونوں کو اپنے عوام کے بہتر مستقبل کے لیے ایک ایسا حل نکالنا ہوگا جس کے ذریعے وہ امن کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکیں۔

    By Kanwal Rekhi
    A Silicon Valley based founder entrepreneur amazing man !
    جیسے بھارت اسے “آپریشن سندور” کہتا ہے اور پاکستان اسے “معرکۂ حق” کہتا ہے، یہ دراصل پچھلے سال بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی ایک محدود جنگ کے دو مختلف نام ہیں۔ دونوں ملک دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ واضح طور پر جیت گئے اور انہوں نے دوسرے کو ایسا سبق سکھایا جو کبھی نہیں بھولے گا۔ لیکن ایک بات بالکل واضح ہے: نہ کسی طرف کوئی بڑی تبدیلی آئی اور نہ ہی کسی نے کوئی سبق سیکھا۔ چاہے امریکی صدر Donald Trump نے واقعی مداخلت کر کے حالات کو مزید خراب ہونے سے روکا ہو، جیسا کہ انہوں نے دعویٰ کیا؛ یا پاکستان نے امن کی درخواست کی ہو، جیسا کہ بھارت کہتا ہے؛ یا بھارت کو نقصان اٹھانا پڑا ہو اور اسے پیچھے ہٹنا پڑا ہو، جیسا کہ پاکستان دعویٰ کرتا ہے — یہ سب بحث کی باتیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دو ایٹمی طاقتیں ایک حد سے آگے نہیں جا سکتیں، ورنہ تباہی بہت بڑی ہو سکتی ہے۔ آج کے دور میں جنگیں بدل چکی ہیں۔ اب سستے ڈرون بھی جنگ کا رخ بدل سکتے ہیں۔ اس لیے ایسی جنگوں میں واضح فاتح نکلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر ایک فریق مکمل ہار مانے بھی، تو جیتنے والے کو بھی بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ Russian invasion of Ukraine اور Iran–Israel conflict جیسے تنازعات بھی یہی دکھا رہے ہیں۔ پاکستان کو اپنی معیشت مضبوط کرنے کے لیے حقیقت کو قبول کرنا ہوگا۔ اگر وہ بار بار قرضوں اور امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے، تو اسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ مسلسل تنازعات اور مسائل میں الجھا رہنا چاہتا ہے، یا امن، تجارت اور معاشی ترقی پر توجہ دینا چاہتا ہے۔ بھارت کی معیشت بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور پاکستان کے لیے اسے روکنا آسان نہیں ہوگا۔ بھارت کے پاس کھونے کے لیے نسبتاً کم ہے۔ آخرکار، بھارت اور پاکستان دونوں کو اپنے عوام کے بہتر مستقبل کے لیے ایک ایسا حل نکالنا ہوگا جس کے ذریعے وہ امن کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکیں۔ By Kanwal Rekhi A Silicon Valley based founder entrepreneur amazing man !
    0 Comments 0 Shares 11 Views
  • پاکستان میں تقریباً ہر بڑا معاشی موقع طاقتور اور امیر لوگوں کے فائدے کا ذریعہ بنا دیا گیا۔

    — عمر سیف

    1. پاکستان نے اربوں ڈالر قرض لیا۔
    یہ پیسہ فیکٹریاں، ایکسپورٹ، ہنر مند لوگ اور کاروبار بڑھانے پر خرچ ہونا چاہیے تھا۔
    لیکن اس کا بڑا حصہ بڑے بڑے منصوبوں اور کمیشن میں غائب ہو گیا۔

    نتیجہ:
    ہر چند سال بعد پاکستان دوبارہ آئی ایم ایف کے سامنے قرض مانگنے پہنچ جاتا ہے، جبکہ امیر لوگ اپنا پیسہ بیرونِ ملک منتقل کر دیتے ہیں۔

    2. پاکستان کی صنعت کو دنیا میں مقابلہ کرنے کے لیے سستی بجلی چاہیے تھی۔
    لیکن نظام ایسا بنا دیا گیا کہ فائدہ صرف آئی پی پیز اور طاقتور لوگوں کو ہو۔

    نتیجہ:
    آئی پی پی مالکان امیر ہوتے گئے، جبکہ مہنگی بجلی نے صنعت کو کمزور کر دیا۔
    ایکسپورٹ آگے نہ بڑھ سکی۔

    3. کسانوں کو سستی کھاد کی ضرورت تھی۔
    گیس سبسڈی زراعت کی مدد کے لیے دی گئی تھی۔
    لیکن یہ سبسڈی بھی چند طاقتور لوگوں کے منافع کا ذریعہ بن گئی۔

    نتیجہ:
    کھاد بنانے والے بڑے گروپ فائدے میں رہے، مگر زراعت اور ایکسپورٹ میں خاص ترقی نہ ہو سکی۔

    4. پاکستان افغانستان اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک بڑا تجارتی راستہ بن سکتا تھا۔
    لیکن ٹرانزٹ ٹریڈ کو اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔

    نتیجہ:
    ڈالر ملک سے باہر جاتے رہے، بلیک مارکیٹ بڑھی، تجارتی خسارہ بڑھتا گیا اور معیشت کمزور رہی۔

    5. پاکستان کو بہترین تعلیم اور قابلِ روزگار مہارتوں کی ضرورت تھی۔
    لیکن ڈگریاں بانٹنے والے ادارے بڑھتے گئے جبکہ سرکاری یونیورسٹیاں کمزور ہوتی گئیں۔

    نتیجہ:
    ہر سال تقریباً 75 ہزار آئی ٹی گریجویٹس نکلتے ہیں، مگر ان میں سے 5 ہزار سے بھی کم واقعی نوکری کے قابل ہوتے ہیں۔

    پاکستان کا اصل مسئلہ مواقع کی کمی نہیں۔
    اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہر موقع کو ملک کی ترقی کے بجائے صرف پیسہ نکالنے کا ذریعہ بنا دیا گیا۔

    اب پاکستان کو دنیا میں ایک نئی اہمیت اور سفارتی مقام مل رہا ہے۔
    امید ہے کہ اس موقع کو بھی ضائع نہیں کیا جائے

    :::

    Via Umar Saif
    پاکستان میں تقریباً ہر بڑا معاشی موقع طاقتور اور امیر لوگوں کے فائدے کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ — عمر سیف 1. پاکستان نے اربوں ڈالر قرض لیا۔ یہ پیسہ فیکٹریاں، ایکسپورٹ، ہنر مند لوگ اور کاروبار بڑھانے پر خرچ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن اس کا بڑا حصہ بڑے بڑے منصوبوں اور کمیشن میں غائب ہو گیا۔ نتیجہ: ہر چند سال بعد پاکستان دوبارہ آئی ایم ایف کے سامنے قرض مانگنے پہنچ جاتا ہے، جبکہ امیر لوگ اپنا پیسہ بیرونِ ملک منتقل کر دیتے ہیں۔ 2. پاکستان کی صنعت کو دنیا میں مقابلہ کرنے کے لیے سستی بجلی چاہیے تھی۔ لیکن نظام ایسا بنا دیا گیا کہ فائدہ صرف آئی پی پیز اور طاقتور لوگوں کو ہو۔ نتیجہ: آئی پی پی مالکان امیر ہوتے گئے، جبکہ مہنگی بجلی نے صنعت کو کمزور کر دیا۔ ایکسپورٹ آگے نہ بڑھ سکی۔ 3. کسانوں کو سستی کھاد کی ضرورت تھی۔ گیس سبسڈی زراعت کی مدد کے لیے دی گئی تھی۔ لیکن یہ سبسڈی بھی چند طاقتور لوگوں کے منافع کا ذریعہ بن گئی۔ نتیجہ: کھاد بنانے والے بڑے گروپ فائدے میں رہے، مگر زراعت اور ایکسپورٹ میں خاص ترقی نہ ہو سکی۔ 4. پاکستان افغانستان اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک بڑا تجارتی راستہ بن سکتا تھا۔ لیکن ٹرانزٹ ٹریڈ کو اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔ نتیجہ: ڈالر ملک سے باہر جاتے رہے، بلیک مارکیٹ بڑھی، تجارتی خسارہ بڑھتا گیا اور معیشت کمزور رہی۔ 5. پاکستان کو بہترین تعلیم اور قابلِ روزگار مہارتوں کی ضرورت تھی۔ لیکن ڈگریاں بانٹنے والے ادارے بڑھتے گئے جبکہ سرکاری یونیورسٹیاں کمزور ہوتی گئیں۔ نتیجہ: ہر سال تقریباً 75 ہزار آئی ٹی گریجویٹس نکلتے ہیں، مگر ان میں سے 5 ہزار سے بھی کم واقعی نوکری کے قابل ہوتے ہیں۔ پاکستان کا اصل مسئلہ مواقع کی کمی نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہر موقع کو ملک کی ترقی کے بجائے صرف پیسہ نکالنے کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ اب پاکستان کو دنیا میں ایک نئی اہمیت اور سفارتی مقام مل رہا ہے۔ امید ہے کہ اس موقع کو بھی ضائع نہیں کیا جائے ::: Via Umar Saif
    0 Comments 0 Shares 13 Views