• 0 Comments 0 Shares 0 Views
  • 0 Comments 0 Shares 0 Views
  • Meet Moonis Ather Indiawali

    Born in Calcutta, married in Karachi, and working on making a system where she can easily get visa to India and her daughter who’s born in Karaxhi married in calcutta can come easily back and forth to meet each other !

    If you are in a similar situation, inbox her and tell her your story !
    Meet Moonis Ather Indiawali Born in Calcutta, married in Karachi, and working on making a system where she can easily get visa to India and her daughter who’s born in Karaxhi married in calcutta can come easily back and forth to meet each other ! If you are in a similar situation, inbox her and tell her your story !
    0 Comments 0 Shares 0 Views
  • 0 Comments 0 Shares 0 Views
  • 0 Comments 0 Shares 0 Views
  • Welcome to Pakistans thriving business and investment ecosystem with the SIFC Sponsored Visa, opening doors to unparalleled investment opportunities.

    For more information on SIFC Sponsored visa, visit www.sifc.gov.pk

    #SIFC #RisingPakistan #InvestinPakistan
    Welcome to Pakistan's thriving business and investment ecosystem with the SIFC Sponsored Visa, opening doors to unparalleled investment opportunities. For more information on SIFC Sponsored visa, visit www.sifc.gov.pk #SIFC #RisingPakistan #InvestinPakistan
    0 Comments 0 Shares 441 Views
  • ایک گاؤں میں پانچ نابینا دوست رہتے تھے۔ ایک دن گاؤں میں ایک ہاتھی آیا۔ گاؤں والوں نے ان نابینا دوستوں سے کہا کہ وہ ہاتھی کو چھو کر بتائیں کہ وہ کیسا ہے۔

    پہلا نابینا دوست ہاتھی کی ٹانگ کے پاس گیا۔ اس نے ہاتھی کی ٹانگ کو چھوا اور بولا، "ہاتھی ایک بڑے ستون کی طرح ہے۔"

    دوسرا نابینا دوست ہاتھی کی دم کے پاس گیا۔ اس نے ہاتھی کی دم کو چھوا اور بولا، "نہیں، ہاتھی تو ایک رسے کی طرح ہے۔"

    تیسرا نابینا دوست ہاتھی کے کان کے پاس گیا۔ اس نے ہاتھی کے کان کو چھوا اور بولا، "نہیں، ہاتھی تو ایک بڑے پنکھے کی طرح ہے۔"

    چوتھا نابینا دوست ہاتھی کے پیٹ کے پاس گیا۔ اس نے ہاتھی کے پیٹ کو چھوا اور بولا، "نہیں، ہاتھی تو ایک دیوار کی طرح ہے۔"

    پانچواں نابینا دوست ہاتھی کی سونڈ کے پاس گیا۔ اس نے ہاتھی کی سونڈ کو چھوا اور بولا، "نہیں، ہاتھی تو ایک بڑے سانپ کی طرح ہے۔"

    پانچوں نابینا دوستوں نے ایک دوسرے سے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا اور بحث کرنے لگے۔ ہر ایک کو یقین تھا کہ وہ صحیح ہے اور دوسرے غلط ہیں۔

    یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے، گاؤں کا ایک عقلمند آدمی آگے آیا اور بولا، "تم سب نے ہاتھی کو مختلف زاویوں سے چھوا ہے، اس لیے تمہاری رائے مختلف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہاتھی ان سب چیزوں کا مجموعہ ہے۔ ہمیں مکمل حقیقت سمجھنے کے لیے مختلف زاویوں سے دیکھنے اور سننے کی ضرورت ہے۔"

    یہ بات سن کر پانچوں نابینا دوست سمجھ گئے کہ انہیں ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنا چاہیے اور مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ مکمل حقیقت جان سکیں۔

    کہانی کا اخلاق: ہمیں ہر چیز کو مختلف زاویوں سے دیکھنا چاہیے اور دوسروں کی رائے کا احترام کرنا چاہیے تاکہ ہم مکمل اور صحیح حقیقت کو سمجھ سکیں۔
    ایک گاؤں میں پانچ نابینا دوست رہتے تھے۔ ایک دن گاؤں میں ایک ہاتھی آیا۔ گاؤں والوں نے ان نابینا دوستوں سے کہا کہ وہ ہاتھی کو چھو کر بتائیں کہ وہ کیسا ہے۔ پہلا نابینا دوست ہاتھی کی ٹانگ کے پاس گیا۔ اس نے ہاتھی کی ٹانگ کو چھوا اور بولا، "ہاتھی ایک بڑے ستون کی طرح ہے۔" دوسرا نابینا دوست ہاتھی کی دم کے پاس گیا۔ اس نے ہاتھی کی دم کو چھوا اور بولا، "نہیں، ہاتھی تو ایک رسے کی طرح ہے۔" تیسرا نابینا دوست ہاتھی کے کان کے پاس گیا۔ اس نے ہاتھی کے کان کو چھوا اور بولا، "نہیں، ہاتھی تو ایک بڑے پنکھے کی طرح ہے۔" چوتھا نابینا دوست ہاتھی کے پیٹ کے پاس گیا۔ اس نے ہاتھی کے پیٹ کو چھوا اور بولا، "نہیں، ہاتھی تو ایک دیوار کی طرح ہے۔" پانچواں نابینا دوست ہاتھی کی سونڈ کے پاس گیا۔ اس نے ہاتھی کی سونڈ کو چھوا اور بولا، "نہیں، ہاتھی تو ایک بڑے سانپ کی طرح ہے۔" پانچوں نابینا دوستوں نے ایک دوسرے سے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا اور بحث کرنے لگے۔ ہر ایک کو یقین تھا کہ وہ صحیح ہے اور دوسرے غلط ہیں۔ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے، گاؤں کا ایک عقلمند آدمی آگے آیا اور بولا، "تم سب نے ہاتھی کو مختلف زاویوں سے چھوا ہے، اس لیے تمہاری رائے مختلف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہاتھی ان سب چیزوں کا مجموعہ ہے۔ ہمیں مکمل حقیقت سمجھنے کے لیے مختلف زاویوں سے دیکھنے اور سننے کی ضرورت ہے۔" یہ بات سن کر پانچوں نابینا دوست سمجھ گئے کہ انہیں ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنا چاہیے اور مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ مکمل حقیقت جان سکیں۔ کہانی کا اخلاق: ہمیں ہر چیز کو مختلف زاویوں سے دیکھنا چاہیے اور دوسروں کی رائے کا احترام کرنا چاہیے تاکہ ہم مکمل اور صحیح حقیقت کو سمجھ سکیں۔
    0 Comments 0 Shares 0 Views
  • @sitara e imtiaz Sabina Khatri founder of Kiran Foundation is looking for owning and making a Center for Women and Children in Northern Pakistan

    If you know someone who can donate or sell space for this amazing cause do contact her !
    @sitara e imtiaz Sabina Khatri founder of Kiran Foundation is looking for owning and making a Center for Women and Children in Northern Pakistan 🇵🇰 If you know someone who can donate or sell space for this amazing cause do contact her !
    0 Comments 0 Shares 40 Views
  • The image contains two quotes in Punjabi. Here are their translations:

    1. "Gyaan tey amal na karan jihrhe, vang dhool dey bohl jo sakhran teh."
    Translation: "Those who do not act upon their knowledge are like the buffaloes of dust." (Hafiz Shah)

    2. "Parhaan ilm tey amal na karan jihrhe, vang dhool dey bohl jo sakhran teh."
    Translation: "Those who do not act upon their knowledge are like the buffaloes of dust." (Warish Shah)

    These quotes emphasize the importance of applying ones knowledge through action, comparing inaction to the uselessness of buffaloes covered in dust.
    The image contains two quotes in Punjabi. Here are their translations: 1. "Gyaan tey amal na karan jihrhe, vang dhool dey bohl jo sakhran teh." Translation: "Those who do not act upon their knowledge are like the buffaloes of dust." (Hafiz Shah) 2. "Parhaan ilm tey amal na karan jihrhe, vang dhool dey bohl jo sakhran teh." Translation: "Those who do not act upon their knowledge are like the buffaloes of dust." (Warish Shah) These quotes emphasize the importance of applying one's knowledge through action, comparing inaction to the uselessness of buffaloes covered in dust.
    0 Comments 0 Shares 0 Views
  • ### کاروباری ماڈل کی خلاصہ

    **کاروباری نام:** ایکوگرو ورمی کمپوسٹ

    **شراکت دار:** تین شراکت دار

    **کاروباری تصور:**
    ایکوگرو ورمی کمپوسٹ، فارموں میں موجود وافر مقدار میں گائے کے گوبر کو اعلی معیار کے ورمی کمپوسٹ میں تبدیل کرتا ہے۔ مقامی فارموں کے ساتھ شراکت داری کر کے، ایکوگرو چھوٹی جگہ استعمال کرے گا تاکہ گائے کے گوبر کو قیمتی ورمی کمپوسٹ میں تبدیل کیا جا سکے۔ اس کے بعد پروڈکٹ کو برانڈڈ کر کے آن لائن، جیسے کہ طراز پر فروخت کیا جائے گا۔

    **کاروباری آپریشنز:**
    1. **فارم شراکت داریاں:**
    - مقامی فارموں کے ساتھ معاہدے قائم کریں تاکہ ورمی کمپوسٹنگ کے لیے چھوٹی جگہ حاصل کی جا سکے۔
    - جگہ کے کرائے کے لیے فارموں کو معمولی فیس ادا کریں۔
    2. **ورمی کمپوسٹ پروڈکشن:**
    - شراکت دار فارموں سے ماہانہ 5000 کلو گائے کے گوبر کو جمع کریں۔
    - گوبر کو کیڑوں اور کنٹرولڈ کمپوسٹنگ تکنیکوں کے ذریعے ورمی کمپوسٹ میں تبدیل کریں۔
    3. **فروخت و تقسیم:**
    - ورمی کمپوسٹ کو برانڈڈ پروڈکٹس میں پیک کریں۔
    - تیار شدہ ورمی کمپوسٹ کو آن لائن پلیٹ فارمز جیسے کہ طراز اور دیگر ای کامرس سائٹس پر فروخت کریں۔

    **ریونیو ماڈل:**
    - **ماہانہ پروڈکشن:** 5000 کلو گائے کے گوبر کو ورمی کمپوسٹ میں تبدیل کرنا۔
    - **فروخت کی قیمت:** 100 روپے فی کلو۔

    **مالی منصوبہ:**
    - **ماہانہ آمدنی:**
    \[
    5000 \text{ کلو} \times 100 \text{ روپے/کلو} = 500,000 \text{ روپے}
    \]
    - **سالانہ آمدنی:**
    \[
    500,000 \text{ روپے/ماہ} \times 12 \text{ ماہ} = 6,000,000 \text{ روپے}
    \]

    **خرچ کا ڈھانچہ:**
    1. **جگہ کرایہ:** فارموں کو ادا کی جانے والی معمولی فیس (ہر فارم کے حساب سے بات چیت کی جا سکتی ہے)۔
    2. **کمپوسٹنگ مواد:** کیڑوں کی قیمت، کمپوسٹنگ بِن اور دیگر مواد۔
    3. **پیکیجنگ و برانڈنگ:** پیکیجنگ مواد اور برانڈنگ کی کوششوں کے ساتھ جڑے اخراجات۔
    4. **آن لائن فروخت کی فیس:** طراز جیسے پلیٹ فارمز پر فروخت کے کمیشن اور فیس۔

    **مارکیٹنگ حکمت عملی:**
    - **آن لائن موجودگی:** برانڈ کی پروموشن کے لیے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا استعمال۔
    - **اشتراکات:** ماحولیاتی دوستانہ اور آرگینک فارمنگ کمیونٹیز کے ساتھ شراکت داری کریں۔
    - **کسٹمر ریویوز:** مطمئن صارفین کو مثبت ریویوز چھوڑنے کی ترغیب دیں تاکہ اعتماد اور شہرت بڑھے۔

    **اثر و فوائد:**
    - **ماحولیاتی:** فضلے کو قیمتی پروڈکٹ میں تبدیل کرتا ہے، ماحولیاتی آلودگی کو کم کرتا ہے۔
    - **اقتصادی:** مقامی فارموں کے لیے اضافی آمدنی کا ذریعہ فراہم کرتا ہے اور پیداوار اور فروخت کے عمل میں ملازمتیں پیدا کرتا ہے۔
    - **زرعی:** نامیاتی اور غذائیت سے بھرپور کھاد فراہم کرتا ہے جو مٹی کی صحت اور فصلوں کی پیداوار کو بہتر بناتا ہے۔

    **شراکت داروں کے کردار:**
    - **آپریشنز منیجر:** ورمی کمپوسٹ کی جمع، پروسیسنگ اور کوالٹی کنٹرول کی نگرانی کرتا ہے۔
    - **سیلز و مارکیٹنگ منیجر:** آن لائن فروخت کے پلیٹ فارمز، مارکیٹنگ مہمات اور کسٹمر تعلقات کا انتظام کرتا ہے۔
    - **فنانس و ایڈمنسٹریشن منیجر:** مالی منصوبہ بندی، بجٹ بندی اور انتظامی کاموں کو سنبھالتا ہے۔

    **نتیجہ:**
    ایکوگرو ورمی کمپوسٹ ایک مستحکم اور منافع بخش کاروباری ماڈل پیش کرتا ہے جو گائے کے گوبر کو اعلی طلب ورمی کمپوسٹ میں تبدیل کرتا ہے۔ 500,000 روپے ماہانہ آمدنی اور اہم ماحولیاتی و اقتصادی فوائد کے ساتھ، یہ منصوبہ تمام شراکت داروں کے لیے منافع بخش موقع پیش کرتا ہے۔

    Call Basham Zen +92 345 7132287
    Rayed Afzal +92 321 8756231
    Asif Javed +92 307 7777201
    ### کاروباری ماڈل کی خلاصہ **کاروباری نام:** ایکوگرو ورمی کمپوسٹ **شراکت دار:** تین شراکت دار **کاروباری تصور:** ایکوگرو ورمی کمپوسٹ، فارموں میں موجود وافر مقدار میں گائے کے گوبر کو اعلی معیار کے ورمی کمپوسٹ میں تبدیل کرتا ہے۔ مقامی فارموں کے ساتھ شراکت داری کر کے، ایکوگرو چھوٹی جگہ استعمال کرے گا تاکہ گائے کے گوبر کو قیمتی ورمی کمپوسٹ میں تبدیل کیا جا سکے۔ اس کے بعد پروڈکٹ کو برانڈڈ کر کے آن لائن، جیسے کہ طراز پر فروخت کیا جائے گا۔ **کاروباری آپریشنز:** 1. **فارم شراکت داریاں:** - مقامی فارموں کے ساتھ معاہدے قائم کریں تاکہ ورمی کمپوسٹنگ کے لیے چھوٹی جگہ حاصل کی جا سکے۔ - جگہ کے کرائے کے لیے فارموں کو معمولی فیس ادا کریں۔ 2. **ورمی کمپوسٹ پروڈکشن:** - شراکت دار فارموں سے ماہانہ 5000 کلو گائے کے گوبر کو جمع کریں۔ - گوبر کو کیڑوں اور کنٹرولڈ کمپوسٹنگ تکنیکوں کے ذریعے ورمی کمپوسٹ میں تبدیل کریں۔ 3. **فروخت و تقسیم:** - ورمی کمپوسٹ کو برانڈڈ پروڈکٹس میں پیک کریں۔ - تیار شدہ ورمی کمپوسٹ کو آن لائن پلیٹ فارمز جیسے کہ طراز اور دیگر ای کامرس سائٹس پر فروخت کریں۔ **ریونیو ماڈل:** - **ماہانہ پروڈکشن:** 5000 کلو گائے کے گوبر کو ورمی کمپوسٹ میں تبدیل کرنا۔ - **فروخت کی قیمت:** 100 روپے فی کلو۔ **مالی منصوبہ:** - **ماہانہ آمدنی:** \[ 5000 \text{ کلو} \times 100 \text{ روپے/کلو} = 500,000 \text{ روپے} \] - **سالانہ آمدنی:** \[ 500,000 \text{ روپے/ماہ} \times 12 \text{ ماہ} = 6,000,000 \text{ روپے} \] **خرچ کا ڈھانچہ:** 1. **جگہ کرایہ:** فارموں کو ادا کی جانے والی معمولی فیس (ہر فارم کے حساب سے بات چیت کی جا سکتی ہے)۔ 2. **کمپوسٹنگ مواد:** کیڑوں کی قیمت، کمپوسٹنگ بِن اور دیگر مواد۔ 3. **پیکیجنگ و برانڈنگ:** پیکیجنگ مواد اور برانڈنگ کی کوششوں کے ساتھ جڑے اخراجات۔ 4. **آن لائن فروخت کی فیس:** طراز جیسے پلیٹ فارمز پر فروخت کے کمیشن اور فیس۔ **مارکیٹنگ حکمت عملی:** - **آن لائن موجودگی:** برانڈ کی پروموشن کے لیے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا استعمال۔ - **اشتراکات:** ماحولیاتی دوستانہ اور آرگینک فارمنگ کمیونٹیز کے ساتھ شراکت داری کریں۔ - **کسٹمر ریویوز:** مطمئن صارفین کو مثبت ریویوز چھوڑنے کی ترغیب دیں تاکہ اعتماد اور شہرت بڑھے۔ **اثر و فوائد:** - **ماحولیاتی:** فضلے کو قیمتی پروڈکٹ میں تبدیل کرتا ہے، ماحولیاتی آلودگی کو کم کرتا ہے۔ - **اقتصادی:** مقامی فارموں کے لیے اضافی آمدنی کا ذریعہ فراہم کرتا ہے اور پیداوار اور فروخت کے عمل میں ملازمتیں پیدا کرتا ہے۔ - **زرعی:** نامیاتی اور غذائیت سے بھرپور کھاد فراہم کرتا ہے جو مٹی کی صحت اور فصلوں کی پیداوار کو بہتر بناتا ہے۔ **شراکت داروں کے کردار:** - **آپریشنز منیجر:** ورمی کمپوسٹ کی جمع، پروسیسنگ اور کوالٹی کنٹرول کی نگرانی کرتا ہے۔ - **سیلز و مارکیٹنگ منیجر:** آن لائن فروخت کے پلیٹ فارمز، مارکیٹنگ مہمات اور کسٹمر تعلقات کا انتظام کرتا ہے۔ - **فنانس و ایڈمنسٹریشن منیجر:** مالی منصوبہ بندی، بجٹ بندی اور انتظامی کاموں کو سنبھالتا ہے۔ **نتیجہ:** ایکوگرو ورمی کمپوسٹ ایک مستحکم اور منافع بخش کاروباری ماڈل پیش کرتا ہے جو گائے کے گوبر کو اعلی طلب ورمی کمپوسٹ میں تبدیل کرتا ہے۔ 500,000 روپے ماہانہ آمدنی اور اہم ماحولیاتی و اقتصادی فوائد کے ساتھ، یہ منصوبہ تمام شراکت داروں کے لیے منافع بخش موقع پیش کرتا ہے۔ Call Basham Zen +92 345 7132287 Rayed Afzal +92 321 8756231 Asif Javed +92 307 7777201
    0 Comments 0 Shares 24 Views