• وہ مزدور کا مقدر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن اس نے اپنے وژن، محنت اور ایمانداری سے اپنا مقدر بدل دیا، وہ 2007ء میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔

    وہ 1926ء میں سویڈن کے ایک گاؤں Agonnaryd میں پیدا ہوا، اس کے والدین ایک فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ (Elmtaryd) میں مزدوری کرتے تھے، اس کے والدین نے پانچ برس کی عمر میں اسے بھی مزدوری پر لگا دیا لیکن اس نے مزدور کی بجائے کاروبار کا فیصلہ کیا، اس کا نام تین سال کی عمر میں رکھا گیا، اس کے نام کے دو حصے تھے انگوار اور کیمپارڈ، اس نے گیارہ سال کی عمر میں ماچسیں بیچنا شروع کیں، وہ ماچسوں کے ڈبے لیتا اور سائیکل پر گلی گلی ماچسیں بیچتا رہتا، وہ یہ کام چھ ماہ تک کرتا رہا پھر ایک دن اسے معلوم ہوا اگر وہ شہر سے تھوک میں ماچس خرید لے اور یہ ماچس گاؤں کے دکانداروں اور پھیری بازوں کو بیچ دے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے۔

    انگوار اگلے دن اسٹاک ہوم چلا گیا اور وہاں سے تھوک میں ماچس خرید لایا، اس نے یہ ماچسیں تھوڑا سا منافع رکھ کر بیچ دیں، اس نے اگلے سال تک ماچسوں کے کاروبار کو مچھلی، کرسمس ٹری، کرسمس کارڈز، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس اور پینسلوں تک پھیلا دیا، وہ یہ ساری اشیاء تھوک میں خریدتا تھا اور بعد ازاں گاؤں کے دکانداروں کو فروخت کر دیتا تھا، وہ 17 سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دیے۔

    اس نے اس معمولی سی رقم سے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل تبدیل کر دیا، انگوار نے اس رقم سے وزن میں ہلکا لیکن رنگوں میں تیز فرنیچر بنانا شروع کر دیا، لوگوں کا خیال تھا اس کا آئیڈیا ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس وقت لکڑی کے بھاری بھر کم فرنیچر کا رواج تھا، لوگ ایک مرتبہ فرنیچر بنواتے تھے اور یہ فرنیچر تین نسلوں تک ان کا ساتھ دیتا تھا چنانچہ اس وقت یورپ میں فرنیچر ایک ایسی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا جس کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی، اس وقت تک فرنیچر کے اسٹورز اور شو رومز بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔

    لوگ ترکھانوں سے اپنی ضرورت کا فرنیچر بنوا لیتے تھے لیکن انگوار نے فرنیچر کو کاروبار کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، اس کا خیال تھا آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں نقل مکانی شروع ہو جائے گی، لوگ روزگار کے لیے آبائی شہروں سے باہر نکلیں گے لہٰذا اس نقل مکانی کے دوران بھاری فرنیچر کی نقل و حمل مشکل ہو جائے گی۔

    اس کا خیال تھا مستقبل قریب میں بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں مکانوں اور فلیٹوں کا سائز چھوٹا ہو گا چنانچہ لوگوں کو چھوٹے سائز کے مکانوں کے لیے فرنیچر بھی چھوٹے سائز کا چاہیے، اس کا خیال تھا مستقبل رنگوں کا دور ہو گا، آنے والے دنوں میں ہر چیز رنگین ہو جائے گی چنانچہ اس نے ان تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکیا (ikea) کے نام سے یورپ میں فرنیچر سازی کی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔

    ’’اکیا‘‘ ایک لایعنی لفظ تھا، یہ چار حروف آئی، کے ، ای اور اے کا مجموعہ تھا، اس نے چار حرف اپنے نام اور اپنے گاؤں سے لیے تھے، آئی اس کے نام انگوار کو ظاہر کرتا تھا، کے سے مراد کیمپارڈ تھی، ای کا تعلق اس فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ سے تھا، جس میں اس نے پرورش پائی تھی اور اے اس کے آبائی گاؤں Agunnaryd کا پہلا حرف تھا، انگوار نے جب اپنی کمپنی کا نام ’’اکیا‘‘ رکھا تو لوگوں کا خیال تھا اس کے بزنس کی طرح اس کی کمپنی کا نام بھی لایعنی ہے لہٰذا یہ کاروبار اور یہ کمپنی چند ماہ میں ماضی کا قصہ بن جائے گی لیکن انگوار نے آنے والے دنوں میں لوگوں کے سارے خدشات باطل ثابت کر دیے۔

    اس نے سائز میں چھوٹا، وزن میں ہلکا اور رنگوں میں تیز فرنیچر بنوایا اور یہ فرنیچر آنے والے دنوں میں دنیا کا لائف اسٹائل بن گیا، اس نے دنیا کی نفسیات اور طرز رہائش بدل کر رکھ دی ’’اکیا‘‘ بیس برس بعد یورپ کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، اس کی یہ کامیابی اس کے وژن، محنت اور ایمانداری کا نتیجہ تھا، اس نے وقت کی تبدیلی کو بھانپ لیا تھا، وہ سمجھ گیا تھا چھوٹی اور کارآمد چیزوں کا دور آنے والا ہے لہٰذا مستقبل میں صرف وہی چیزیں کامیاب ہوں گی جو سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور استعمال میں وسیع ہوں گی، 1980ء میں اس نے بزنس کو ایک اور کروٹ دی، اس نے گھر میں استعمال ہونے والی ہر قسم کی مشینری بنانا شروع کر دی، وہ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والے باتھ ٹب تک ہر چیز بنا رہا ہے۔

    اس کا کاروبار یورپ سے لے کر امریکا تک اور دبئی سے لے کر نیوزی لینڈ تک دنیا کے 34 بڑے ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اس کے اسٹورز پر روزانہ 900 ملین ڈالر کی سیل ہوتی ہے اور آج یہ کہا جاتا ہے یورپ میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو گا جس میں ’’اکیا‘‘ کی کوئی نہ کوئی چیز نہ ہو، مارچ 2007ء میں فوربس انٹرنیشنل نے مزدور کے اس بیٹے کو دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص قراردیا تھا جب کہ جون 2015ء میں Bloomberg Billionaires Index نے اسے دنیا کا آٹھواں امیر ترین شخص قرار دیا، اس وقت اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر جمع ہیں جب کہ اس کی دولت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

    انگوار کیمپارڈ ایک انتہائی دلچسپ شخص ہے، وہ ارب پتی ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، وہ پندرہ سال پرانی والو گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، ہمیشہ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، اس نے سات سال کی عمر میں کرسمس پیپر بیچنے کا کام شروع کیا تھا وہ اب تک یہ کاروبار کر رہا ہے، وہ ہر سال کرسمس پیپر خریدتا ہے اور کرسمس کے بعد ان پیپرز کی سیل لگاتا ہے، اس نے ’’ اکیا ‘‘ کے تمام ملازمین کو کاغذ کی دونوں سمتیں استعمال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

    اس کے کسی دفتر میں اگر کوئی شخص ایک سمت استعمال کر کے کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دے تو وہ لڑنے مارنے پرآمادہ ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ سستے ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہے، اس نے چالیس برس قبل ’’اکیا‘‘ کے دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازموں کے لیے سستا کھانا شروع کرایا تھا، وہ اگر کھانے کے وقت اپنی کسی فیکٹری یا دفتر کے نزدیک ہو تو وہ ہمیشہ ’’ اکیا‘‘ کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتا ہے اور دو تین ڈالر ، پاؤنڈ ، مارک یا کراؤن بچا کر خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی فراخ دل شخص بھی ہے، اس نے INGKA Fondation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔

    وہ اس ادارے کے ذریعے اب تک 36 بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے، دنیا کے نامور میگزین اکانومسٹ کے مطابق انگوار فلاح عامہ میں بل گیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن وہ اپنی چیرٹی کے تمام کاموں کی تشہیر نہیں کرتا لہٰذا دنیا اس کی خیرات اور فلاحی کاموں سے پوری طرح واقف نہیں، اگر انگوار کیمپارڈ کی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ’’ کنجوس سخی، ، محسوس ہوتا ہے، وہ ایک طرف اپنے کسی ورکر کو ایک پنسل ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کاغذ کی دوسری پرت ضایع کرنے کے جرم میں اپنے ایم ڈی تک کو فارغ کر دیتا ہے جب کہ دوسری طرف وہ اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دیتا ہے، وہ شاید اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہو گا۔

    مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کیں ، اس نے بتایا ’’ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘ اس کی دوسری بات اس سے بھی دلچسپ تھی، اس کا کہنا تھا ’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کہنا تھا ’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘ اس کا کہنا تھا اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی، یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ اس کا کہنا تھا وہ زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا لیکن اس وقت اس کی کمپنی میں 30 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کام کر رہے ہیں۔

    یہ تعلیم یافتہ لوگ وژن، علم اور دماغ میں اس سے کہیں بہتر ہیں بس ان میں ایک خامی تھی، ان میں نوکری چھوڑنے کا حوصلہ نہیں تھا، انھیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اگر کوئی شخص انگوار کے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بھی کام کر سکتا ہے، بس اس کے لیے ذرا سا حوصلہ چاہیے‘‘ اس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا ’’ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اس کے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘ اس نے کہا ’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔

    اس نے کہا ’’ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں جب کہ کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے‘‘ اس نے کہا ’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے‘‘ میں نے جب انگوار کے یہ خیالات سنے تو میں نے سوچا کاش میں یہ خیالات پاکستان کے ان تمام بے روزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں، کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں اگر فارم ہاؤس کا ایک مزدور مسلسل محنت سے انگوار بن سکتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے، انگوار نے کہا تھا ’’آگے بڑھنے کا راستہ انھیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں‘‘ میرا خیال ہے ہمارے نوجوانوں کو چلنے کا ہنر نہیں آتا۔

    The post ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے appeared first on ا

    Shared via Liaqat Jawaid
    وہ مزدور کا مقدر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن اس نے اپنے وژن، محنت اور ایمانداری سے اپنا مقدر بدل دیا، وہ 2007ء میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔ وہ 1926ء میں سویڈن کے ایک گاؤں Agonnaryd میں پیدا ہوا، اس کے والدین ایک فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ (Elmtaryd) میں مزدوری کرتے تھے، اس کے والدین نے پانچ برس کی عمر میں اسے بھی مزدوری پر لگا دیا لیکن اس نے مزدور کی بجائے کاروبار کا فیصلہ کیا، اس کا نام تین سال کی عمر میں رکھا گیا، اس کے نام کے دو حصے تھے انگوار اور کیمپارڈ، اس نے گیارہ سال کی عمر میں ماچسیں بیچنا شروع کیں، وہ ماچسوں کے ڈبے لیتا اور سائیکل پر گلی گلی ماچسیں بیچتا رہتا، وہ یہ کام چھ ماہ تک کرتا رہا پھر ایک دن اسے معلوم ہوا اگر وہ شہر سے تھوک میں ماچس خرید لے اور یہ ماچس گاؤں کے دکانداروں اور پھیری بازوں کو بیچ دے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے۔ انگوار اگلے دن اسٹاک ہوم چلا گیا اور وہاں سے تھوک میں ماچس خرید لایا، اس نے یہ ماچسیں تھوڑا سا منافع رکھ کر بیچ دیں، اس نے اگلے سال تک ماچسوں کے کاروبار کو مچھلی، کرسمس ٹری، کرسمس کارڈز، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس اور پینسلوں تک پھیلا دیا، وہ یہ ساری اشیاء تھوک میں خریدتا تھا اور بعد ازاں گاؤں کے دکانداروں کو فروخت کر دیتا تھا، وہ 17 سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دیے۔ اس نے اس معمولی سی رقم سے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل تبدیل کر دیا، انگوار نے اس رقم سے وزن میں ہلکا لیکن رنگوں میں تیز فرنیچر بنانا شروع کر دیا، لوگوں کا خیال تھا اس کا آئیڈیا ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس وقت لکڑی کے بھاری بھر کم فرنیچر کا رواج تھا، لوگ ایک مرتبہ فرنیچر بنواتے تھے اور یہ فرنیچر تین نسلوں تک ان کا ساتھ دیتا تھا چنانچہ اس وقت یورپ میں فرنیچر ایک ایسی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا جس کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی، اس وقت تک فرنیچر کے اسٹورز اور شو رومز بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔ لوگ ترکھانوں سے اپنی ضرورت کا فرنیچر بنوا لیتے تھے لیکن انگوار نے فرنیچر کو کاروبار کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، اس کا خیال تھا آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں نقل مکانی شروع ہو جائے گی، لوگ روزگار کے لیے آبائی شہروں سے باہر نکلیں گے لہٰذا اس نقل مکانی کے دوران بھاری فرنیچر کی نقل و حمل مشکل ہو جائے گی۔ اس کا خیال تھا مستقبل قریب میں بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں مکانوں اور فلیٹوں کا سائز چھوٹا ہو گا چنانچہ لوگوں کو چھوٹے سائز کے مکانوں کے لیے فرنیچر بھی چھوٹے سائز کا چاہیے، اس کا خیال تھا مستقبل رنگوں کا دور ہو گا، آنے والے دنوں میں ہر چیز رنگین ہو جائے گی چنانچہ اس نے ان تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکیا (ikea) کے نام سے یورپ میں فرنیچر سازی کی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ ’’اکیا‘‘ ایک لایعنی لفظ تھا، یہ چار حروف آئی، کے ، ای اور اے کا مجموعہ تھا، اس نے چار حرف اپنے نام اور اپنے گاؤں سے لیے تھے، آئی اس کے نام انگوار کو ظاہر کرتا تھا، کے سے مراد کیمپارڈ تھی، ای کا تعلق اس فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ سے تھا، جس میں اس نے پرورش پائی تھی اور اے اس کے آبائی گاؤں Agunnaryd کا پہلا حرف تھا، انگوار نے جب اپنی کمپنی کا نام ’’اکیا‘‘ رکھا تو لوگوں کا خیال تھا اس کے بزنس کی طرح اس کی کمپنی کا نام بھی لایعنی ہے لہٰذا یہ کاروبار اور یہ کمپنی چند ماہ میں ماضی کا قصہ بن جائے گی لیکن انگوار نے آنے والے دنوں میں لوگوں کے سارے خدشات باطل ثابت کر دیے۔ اس نے سائز میں چھوٹا، وزن میں ہلکا اور رنگوں میں تیز فرنیچر بنوایا اور یہ فرنیچر آنے والے دنوں میں دنیا کا لائف اسٹائل بن گیا، اس نے دنیا کی نفسیات اور طرز رہائش بدل کر رکھ دی ’’اکیا‘‘ بیس برس بعد یورپ کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، اس کی یہ کامیابی اس کے وژن، محنت اور ایمانداری کا نتیجہ تھا، اس نے وقت کی تبدیلی کو بھانپ لیا تھا، وہ سمجھ گیا تھا چھوٹی اور کارآمد چیزوں کا دور آنے والا ہے لہٰذا مستقبل میں صرف وہی چیزیں کامیاب ہوں گی جو سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور استعمال میں وسیع ہوں گی، 1980ء میں اس نے بزنس کو ایک اور کروٹ دی، اس نے گھر میں استعمال ہونے والی ہر قسم کی مشینری بنانا شروع کر دی، وہ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والے باتھ ٹب تک ہر چیز بنا رہا ہے۔ اس کا کاروبار یورپ سے لے کر امریکا تک اور دبئی سے لے کر نیوزی لینڈ تک دنیا کے 34 بڑے ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اس کے اسٹورز پر روزانہ 900 ملین ڈالر کی سیل ہوتی ہے اور آج یہ کہا جاتا ہے یورپ میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو گا جس میں ’’اکیا‘‘ کی کوئی نہ کوئی چیز نہ ہو، مارچ 2007ء میں فوربس انٹرنیشنل نے مزدور کے اس بیٹے کو دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص قراردیا تھا جب کہ جون 2015ء میں Bloomberg Billionaires Index نے اسے دنیا کا آٹھواں امیر ترین شخص قرار دیا، اس وقت اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر جمع ہیں جب کہ اس کی دولت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انگوار کیمپارڈ ایک انتہائی دلچسپ شخص ہے، وہ ارب پتی ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، وہ پندرہ سال پرانی والو گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، ہمیشہ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، اس نے سات سال کی عمر میں کرسمس پیپر بیچنے کا کام شروع کیا تھا وہ اب تک یہ کاروبار کر رہا ہے، وہ ہر سال کرسمس پیپر خریدتا ہے اور کرسمس کے بعد ان پیپرز کی سیل لگاتا ہے، اس نے ’’ اکیا ‘‘ کے تمام ملازمین کو کاغذ کی دونوں سمتیں استعمال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ اس کے کسی دفتر میں اگر کوئی شخص ایک سمت استعمال کر کے کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دے تو وہ لڑنے مارنے پرآمادہ ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ سستے ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہے، اس نے چالیس برس قبل ’’اکیا‘‘ کے دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازموں کے لیے سستا کھانا شروع کرایا تھا، وہ اگر کھانے کے وقت اپنی کسی فیکٹری یا دفتر کے نزدیک ہو تو وہ ہمیشہ ’’ اکیا‘‘ کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتا ہے اور دو تین ڈالر ، پاؤنڈ ، مارک یا کراؤن بچا کر خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی فراخ دل شخص بھی ہے، اس نے INGKA Fondation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔ وہ اس ادارے کے ذریعے اب تک 36 بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے، دنیا کے نامور میگزین اکانومسٹ کے مطابق انگوار فلاح عامہ میں بل گیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن وہ اپنی چیرٹی کے تمام کاموں کی تشہیر نہیں کرتا لہٰذا دنیا اس کی خیرات اور فلاحی کاموں سے پوری طرح واقف نہیں، اگر انگوار کیمپارڈ کی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ’’ کنجوس سخی، ، محسوس ہوتا ہے، وہ ایک طرف اپنے کسی ورکر کو ایک پنسل ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کاغذ کی دوسری پرت ضایع کرنے کے جرم میں اپنے ایم ڈی تک کو فارغ کر دیتا ہے جب کہ دوسری طرف وہ اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دیتا ہے، وہ شاید اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہو گا۔ مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کیں ، اس نے بتایا ’’ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘ اس کی دوسری بات اس سے بھی دلچسپ تھی، اس کا کہنا تھا ’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کہنا تھا ’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘ اس کا کہنا تھا اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی، یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ اس کا کہنا تھا وہ زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا لیکن اس وقت اس کی کمپنی میں 30 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کام کر رہے ہیں۔ یہ تعلیم یافتہ لوگ وژن، علم اور دماغ میں اس سے کہیں بہتر ہیں بس ان میں ایک خامی تھی، ان میں نوکری چھوڑنے کا حوصلہ نہیں تھا، انھیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اگر کوئی شخص انگوار کے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بھی کام کر سکتا ہے، بس اس کے لیے ذرا سا حوصلہ چاہیے‘‘ اس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا ’’ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اس کے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘ اس نے کہا ’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔ اس نے کہا ’’ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں جب کہ کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے‘‘ اس نے کہا ’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے‘‘ میں نے جب انگوار کے یہ خیالات سنے تو میں نے سوچا کاش میں یہ خیالات پاکستان کے ان تمام بے روزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں، کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں اگر فارم ہاؤس کا ایک مزدور مسلسل محنت سے انگوار بن سکتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے، انگوار نے کہا تھا ’’آگے بڑھنے کا راستہ انھیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں‘‘ میرا خیال ہے ہمارے نوجوانوں کو چلنے کا ہنر نہیں آتا۔ The post ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے appeared first on ا Shared via Liaqat Jawaid
    0 التعليقات 0 المشاركات 885 مشاهدة
  • تصور کریں…
    دو ہمسایہ ملک 75 سال سے ایک دوسرے کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

    کھانا ملتا جلتا۔
    زبانیں ملتی جلتی۔
    کرکٹ ایک جیسی۔
    موسیقی ایک جیسی۔
    خواب، خاندان، محبت، تکلیفیں… سب بہت حد تک ایک جیسے۔

    پھر بھی…
    آج بھی بہت سے پاکستانی صرف ایک بھارتی کو WhatsApp پر میسج کرنے سے گھبراتے ہیں۔

    کیوں؟

    کیونکہ خوف آہستہ آہستہ پیدا کیا گیا ہے۔
    خبروں، سیاست، غلط فہمیوں اور برسوں کی دوریوں کے ذریعے۔

    لیکن حقیقت یہ ہے کہ عام لوگ دشمن نہیں ہوتے۔

    ایک بھارتی ماں بھی اپنے بچوں کے لیے وہی خواب دیکھتی ہے جو ایک پاکستانی ماں دیکھتی ہے۔
    ایک بھارتی نوجوان بھی کامیابی چاہتا ہے، جیسے ایک پاکستانی نوجوان چاہتا ہے۔
    دونوں طرف لوگ بہتر زندگی، عزت، محبت اور سکون چاہتے ہیں۔

    WhatsApp صرف ایک ایپ نہیں۔
    یہ انسانوں کے درمیان ایک پل ہے۔

    پہلی بار تاریخ میں عام لوگ بغیر کسی ٹی وی چینل، سیاستدان یا میڈیا کے براہِ راست ایک دوسرے سے بات کر سکتے ہیں۔

    اور اکثر…
    صرف ایک ایماندار گفتگو
    20 سال کی غلط فہمی ختم کر دیتی ہے۔

    جب پاکستانی اور بھارتی آپس میں بات کرتے ہیں:

    * تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ دوسری طرف بھی انسان ہیں،
    * وہ ایک دوسرے کی ثقافت سمجھتے ہیں،
    * دوستی بنتی ہے،
    * بزنس بنتا ہے،
    * طلبہ ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں،
    * اور نفرت آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے۔

    خوف خاموشی میں بڑھتا ہے۔
    سمجھ بوجھ گفتگو سے بڑھتی ہے۔

    آپ کو سیاست پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔
    کھانے سے بات شروع کریں۔
    کرکٹ سے کریں۔
    فلموں سے کریں۔
    یا صرف “السلام علیکم” یا “Hello” سے شروع کریں۔

    شاید جنوبی ایشیا کا مستقبل صرف حکومتیں طے نہیں کریں گی۔
    شاید کروڑوں عام لوگ کریں گے…
    جو ایک دن سمجھ جائیں گے کہ:

    “ہمیں ایک دوسرے سے اتنی نفرت کرنے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا تھا۔”

    اگر کوئی پاکستانی یہ پڑھ رہا ہے…
    اور کسی بھارتی سے دوستی کرنا چاہتا ہے، بات کرنا چاہتا ہے، ان کی ثقافت سمجھنا چاہتا ہے یا صرف یہ محسوس کرنا چاہتا ہے کہ دوسری طرف بھی انسان بستے ہیں…

    تو آپ Zuynia کو WhatsApp کر سکتے ہیں

    +91 89310 77989

    نہ سیاست۔
    نہ نفرت۔
    صرف انسانوں کی طرح گفتگو۔

    شاید جنوبی ایشیا کو لاکھوں چھوٹی چھوٹی دوستیوں کی ضرورت ہے۔

    :::
    تصور کریں… دو ہمسایہ ملک 75 سال سے ایک دوسرے کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ کھانا ملتا جلتا۔ زبانیں ملتی جلتی۔ کرکٹ ایک جیسی۔ موسیقی ایک جیسی۔ خواب، خاندان، محبت، تکلیفیں… سب بہت حد تک ایک جیسے۔ پھر بھی… آج بھی بہت سے پاکستانی صرف ایک بھارتی کو WhatsApp پر میسج کرنے سے گھبراتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ خوف آہستہ آہستہ پیدا کیا گیا ہے۔ خبروں، سیاست، غلط فہمیوں اور برسوں کی دوریوں کے ذریعے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عام لوگ دشمن نہیں ہوتے۔ ایک بھارتی ماں بھی اپنے بچوں کے لیے وہی خواب دیکھتی ہے جو ایک پاکستانی ماں دیکھتی ہے۔ ایک بھارتی نوجوان بھی کامیابی چاہتا ہے، جیسے ایک پاکستانی نوجوان چاہتا ہے۔ دونوں طرف لوگ بہتر زندگی، عزت، محبت اور سکون چاہتے ہیں۔ WhatsApp صرف ایک ایپ نہیں۔ یہ انسانوں کے درمیان ایک پل ہے۔ پہلی بار تاریخ میں عام لوگ بغیر کسی ٹی وی چینل، سیاستدان یا میڈیا کے براہِ راست ایک دوسرے سے بات کر سکتے ہیں۔ اور اکثر… صرف ایک ایماندار گفتگو 20 سال کی غلط فہمی ختم کر دیتی ہے۔ جب پاکستانی اور بھارتی آپس میں بات کرتے ہیں: * تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ دوسری طرف بھی انسان ہیں، * وہ ایک دوسرے کی ثقافت سمجھتے ہیں، * دوستی بنتی ہے، * بزنس بنتا ہے، * طلبہ ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں، * اور نفرت آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے۔ خوف خاموشی میں بڑھتا ہے۔ سمجھ بوجھ گفتگو سے بڑھتی ہے۔ آپ کو سیاست پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔ کھانے سے بات شروع کریں۔ کرکٹ سے کریں۔ فلموں سے کریں۔ یا صرف “السلام علیکم” یا “Hello” سے شروع کریں۔ شاید جنوبی ایشیا کا مستقبل صرف حکومتیں طے نہیں کریں گی۔ شاید کروڑوں عام لوگ کریں گے… جو ایک دن سمجھ جائیں گے کہ: “ہمیں ایک دوسرے سے اتنی نفرت کرنے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا تھا۔” اگر کوئی پاکستانی یہ پڑھ رہا ہے… اور کسی بھارتی سے دوستی کرنا چاہتا ہے، بات کرنا چاہتا ہے، ان کی ثقافت سمجھنا چاہتا ہے یا صرف یہ محسوس کرنا چاہتا ہے کہ دوسری طرف بھی انسان بستے ہیں… تو آپ Zuynia کو WhatsApp کر سکتے ہیں 🇮🇳 📱 +91 89310 77989 نہ سیاست۔ نہ نفرت۔ صرف انسانوں کی طرح گفتگو۔ شاید جنوبی ایشیا کو لاکھوں چھوٹی چھوٹی دوستیوں کی ضرورت ہے۔ :::
    0 التعليقات 0 المشاركات 266 مشاهدة
  • السلام و علیکم
    استاد محترم، میں 6 سال سے آپ کو فالو کر رہا ہوں۔ جو فرق مجھ میں آیا ہے وہ آپ کی وجہ سے آیا ہے۔ آپ سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ میں آپ کے سیکھائے ہوئی چیزوں کی وجہ سے Grow کر رہا ہوں۔ اللہ تعالی آپ کو اجر عطا فرمائے۔
    آپ کی ویڈیوز اور لائیو سیشن میرے لیے بہت مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ آپ پاکستانی نوجوانوں اور پاکستان کی بہت خدمت کر رہے ہیں۔ اسی طرح مزید ویڈیوز بناتے رہیں۔
    آپ کا تابعدار شاگرد
    کاشف ماربل پالش والا

    Kashif Marble Polishwala
    السلام و علیکم استاد محترم، میں 6 سال سے آپ کو فالو کر رہا ہوں۔ جو فرق مجھ میں آیا ہے وہ آپ کی وجہ سے آیا ہے۔ آپ سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ میں آپ کے سیکھائے ہوئی چیزوں کی وجہ سے Grow کر رہا ہوں۔ اللہ تعالی آپ کو اجر عطا فرمائے۔ آپ کی ویڈیوز اور لائیو سیشن میرے لیے بہت مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ آپ پاکستانی نوجوانوں اور پاکستان کی بہت خدمت کر رہے ہیں۔ اسی طرح مزید ویڈیوز بناتے رہیں۔ آپ کا تابعدار شاگرد کاشف ماربل پالش والا Kashif Marble Polishwala
    0 التعليقات 0 المشاركات 257 مشاهدة
  • کیا اپ ان کو گائڈ کر سکتے ہین ؟

    اسلام علیکم ریحان اللہ ولا صاحب قوم آپکی احسان کی بدلہ نہیں دیجاسکتہا یہی آپ کو اور آپکی سب روفقہ کو اللہ تعالیٰ اپنا قدرت سے جزا دی اللہ تعالیٰ آپ کی دنیاوی اور آخری زندگی خوش وخورم عطا فرمائیں آمین ثم آمین سرا ہم سب پاکستانی نوجوانوں کو آپ سے کچھ سیکھنا چھایہی آپ اس قوم کی محسن اور قاید ھوں آپ ہماری رہنمائی فرمائیں شکریہ جناب سرا بہت لوگوں آج بی اس چیز (فری لیسنگ) کی باری کچھ معلوم نہیں یہی سرا آپ اس طرح کی پروگرام اور زیادہ کیا جانا چاہئے کیونکہ لوگوں معلوم ہوجائے اور آپ پاکستان کی ہر علاقے اور ہر صوبے میں اور ہر ضلع میں یہ پروگرام کروں تو انشاءاللہ جلد پاکستانی قوم کو ترقی یافتہ بنے کی ہنر معلوم ہوگا

    ثناءلله ثناءلله
    کیا اپ ان کو گائڈ کر سکتے ہین ؟ اسلام علیکم ریحان اللہ ولا صاحب قوم آپکی احسان کی بدلہ نہیں دیجاسکتہا یہی آپ کو اور آپکی سب روفقہ کو اللہ تعالیٰ اپنا قدرت سے جزا دی اللہ تعالیٰ آپ کی دنیاوی اور آخری زندگی خوش وخورم عطا فرمائیں آمین ثم آمین سرا ہم سب پاکستانی نوجوانوں کو آپ سے کچھ سیکھنا چھایہی آپ اس قوم کی محسن اور قاید ھوں آپ ہماری رہنمائی فرمائیں شکریہ جناب سرا بہت لوگوں آج بی اس چیز (فری لیسنگ) کی باری کچھ معلوم نہیں یہی سرا آپ اس طرح کی پروگرام اور زیادہ کیا جانا چاہئے کیونکہ لوگوں معلوم ہوجائے اور آپ پاکستان کی ہر علاقے اور ہر صوبے میں اور ہر ضلع میں یہ پروگرام کروں تو انشاءاللہ جلد پاکستانی قوم کو ترقی یافتہ بنے کی ہنر معلوم ہوگا ثناءلله ثناءلله
    0 التعليقات 0 المشاركات 256 مشاهدة
  • ہندوستانی مسلمانوں کے نام
    جب دماغ کا لاوا پھٹے تو پھر کچھ اس طرح کی تحریر بن جاتی ہے
    آپ بھی پڑھئے

    انٹرنیشنل آئی ٹی بورڈ کے مطابق عالمی ای پے مینٹ کمپنی پایونیر نے فری لانسنگ میں سرفہرست 10 ممالک کی رینکنگ جاری کر دی جس کے مطابق پاکستان چوتھے اور بھارت ساتویں نمبر پر آگیا ہے

    ہائے افسوس ہمارا پڑوسی ملک گذشتہ تین سالوں میں وہاں لوگ ارننگ اور لرننگ پر اس طرح محنت کررہے ہیں کہ آج پوری دنیا انکی طرف متوجہ ہورہی ہے اور ہم سو رہے ہیں

    فی الوقت تو میں پورے ہندوستان کی بات نہیں کرتا بس صرف ہندوستانی مسلمانوں کو جگانا چاہتا ہوں کہ آئیے آگے بڑھتے ہیں اور اسکلز سیکھ کر محنت کرکے خود بھی خوشحال ہوتے ہیں اور اس ملک کو آگے بڑھانے میں اپنا اہم کردار نبھاتے ہیں

    2021 کے سال میں دنیا کی سب سے بڑا ای کامرس پلیٹ فارم علی بابا نے اعلان کیا کہ اس سال علی بابا کی سب سے زیادہ دنیا بھر میں سیلنگ کرنے والے پاکستانی نوجوان ہیں اور علی بابا کے مینیجر نے باقاعدہ اس طرح کے ادارے جو ای کامرس و فری لانسنگ کو فروغ دینے اور سکھانے کے لئے سر توڑ محنت کررہے ہیں انہیں جا کر مبارکباد بھی دی

    اور ہم ابھی تک مفت کی روٹی ہی توڑنا چاہتے ہیں..........

    پاکستان فری لانسنگ میں اضافے میں بھارت کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چوتھے نمبر پر آگیا ہے۔ جبکہ آج سے تین سال پہلے پاکستان فہرست میں ہی نہيں آتا تھا
    امریکا پہلے، برطانیہ دوسرے، برازیل تیسرے، پاکستان چوتھے، یوکرائن پانچویں، فلپائن چھٹے، بھارت ساتویں، بنگلہ دیش آٹھویں، روس نویں اور سربیا دسویں نمبر پر ہے۔

    ترجمان آئی ٹی بورڈ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس کے مقابلے میں فری لانسنگ میں 47 فیصد اضافہ ہوا اور سرکاری شعبہ ملک میں فری لانسنگ کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے فری لانسنگ ہنرمند افراد کےلیے امید کی کرن

    صرف پاکستان کا ایک ادارہ *ای روزگار فری لانسنگ پروگرام* ملک کے زرمبادلہ میں اضافے اور بیروزگار میں کمی کا باعث بن رہا ہے، ای روزگار سے فارغ التحصیل 12 ہزار نوجوان صرف کچھ ہی عرصہ میں انٹرنیٹ سے کام کر کے 14 کروڑ روپے کما چکے ہیں

    یہ تو صرف ایک ادارہ کا ہم نے بتایا ہے ایسے بہت سے ادارے وہ لوگ بناکر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں
    یہ لوگ خلوص دل کے ساتھ شہر شہر بستی بستی جا جا کر نوجوانوں کو جگارہے ہیں سمجھا رہے ہیں کہ ڈگریوں کے پیچھے پندرہ سے بیس سال لگانے کی بجائے آئیں اسکلز کی طرف تاکہ چند مہینوں میں پیروں پر کھڑے ہوجائیں اور خوشحال زندگی گزاری
    آپ صرف مزید دو اداروں کا ہی رکورڈ دیکھ لیں حیران ہوجائینگے کہ صرف تین سال میں دنیا بھر میں اتنا بڑا نیٹورک اور ہزاروں نوجوانوں کو ٹرینڈنگ اسکل سکھا کر لاکھوں کمانے والا بنا چکے ہیں اور ہم ابھی تک اپنے بچوں کو ڈگریوں کی ریس میں دوڑا رہے ہیں..........
    جائیے سرچ کیجئے انیبلرس اور اکسٹریم کامرس کے ان کے اسٹوڈنٹس سالانہ کتنے بلین کماکر لارہے ہیں

    آج ہمارا ہر آدمی جس کے پاس چار پیسے ہو وہ اگر کچھ کرنا چاہیں تو اس کے ذہن میں یہی چند چیز آتی ہے کہ ہم مسجد بنائینگے یا ہسپتال یا اسکول یا کالج یا مدرسہ
    ضرورت انکی بھی ہے مگر اس سے زیادہ یوٹیوب انکیوبیٹر کی ضرورت ہے
    ڈیجیٹل اسکلز سکھانے کے ادارے بنانے کی ضرورت ہے
    اور مالیگاﺅں بزنس ہب اسی خواب کا ایک نام ہے

    کچھ لوگ یہ پوسٹ پڑھ کر بندہ سے الجھینگے
    تو ان کے لئے عرض ہے کہ جاؤ گوگل پر یوٹیوب پر اور سرچ کرو
    ریحان اللہ والا کون ہے اور کیا کررہا ہے
    ثاقب اظہر کون ہے اور کیا کررہا ہے
    عثمان جغتائی کون ہے اور کیا کررہا ہے
    ہشام سرور کون ہے اور کیا کررہا ہے
    تنویر ناڈلہ کون ہے اور کیا کررہا ہے
    سنی علی کون ہے اور کیا کررہا ہے
    سکندر حیات بابا کون ہے اور کیا کررہا ہے
    آزاد چائے والا کون ہے اور کیا کررہا ہے
    سید کاشف شاہ کون ہے اور کیا کررہا ہے
    شکیل احمد میر کون ہے اور کیا کررہا ہے
    اشرف چودھری کون ہے اور کیا کررہا ہے
    یہ چند نام بطور مثال پیش کئے ہیں ایسے ہزاروں لوگ میدان میں کود پڑے ہیں جو ہزاروں لوگوں کو لاکھوں کمانا سکھا چکے ہیں اور باقاعدہ رزلٹ ہزاروں کا لوگوں کے سامنے بھی ہے اور
    ہم مفت خوری سکھا رہے ہیں کہ آئیے ہم فری میڈیکل کیمپ لگائیں آئیے ہم یہ فری اور وہ فری دے
    کیا اس طرح غربت ختم ہوگی؟؟؟
    کیا اس طرح لوگوں میں شعور بیدار ہوگا
    کیا اس طرح ہماری سوچ بدلیگی

    کب تک ہم امداد کے نام پر مفت خوری کی طرف قوم کو لیکر جائینگے
    آئیے نعرہ لگاتے ہیں سوچ بدلو زندگی بدلےگی

    اگر میری بات آپ کو بہت بری لگے تو پھر بتائیے
    یہ پڑوس کے چند نوجوان ہے
    ابھی تو انڈونیشیا ملیشیا فلپائن ویتنام کوریا جیسے ملکوں کی تو بات ہی نہیں کی ہے ان ملکوں میں بھی ایسے بہت سے ادارے ہیں جو مستقل اسکلز سکھانے اور نت نئے ڈیجیٹل روزگار کی طرف لانے کا کام کررہے ہیں

    انڈیا پاکستان کرتے ہم نہیں تھکتے
    انکی کرکٹ میں پریشان رہتے ہیں

    اپنے علاقہ سے
    تو ایک آزاد چائے والا دکھادو
    ایک ریحان اللہ والا دکھادو
    ایک سنی علی دکھادو
    ایک ثاقب اظہر دکھادو
    ایک شاہد حسین دکھادو

    آئیے پھر نعرہ لگائیں .......... بدلو ذہن جی لو زندگی

    مولانا شیخ محمد علقمہ
    آواز: مالیگاﺅں بزنس ہب

    Via Shaikh Muhammad Alqama
    ہندوستانی مسلمانوں کے نام جب دماغ کا لاوا پھٹے تو پھر کچھ اس طرح کی تحریر بن جاتی ہے آپ بھی پڑھئے انٹرنیشنل آئی ٹی بورڈ کے مطابق عالمی ای پے مینٹ کمپنی پایونیر نے فری لانسنگ میں سرفہرست 10 ممالک کی رینکنگ جاری کر دی جس کے مطابق پاکستان چوتھے اور بھارت ساتویں نمبر پر آگیا ہے ہائے افسوس ہمارا پڑوسی ملک گذشتہ تین سالوں میں وہاں لوگ ارننگ اور لرننگ پر اس طرح محنت کررہے ہیں کہ آج پوری دنیا انکی طرف متوجہ ہورہی ہے اور ہم سو رہے ہیں فی الوقت تو میں پورے ہندوستان کی بات نہیں کرتا بس صرف ہندوستانی مسلمانوں کو جگانا چاہتا ہوں کہ آئیے آگے بڑھتے ہیں اور اسکلز سیکھ کر محنت کرکے خود بھی خوشحال ہوتے ہیں اور اس ملک کو آگے بڑھانے میں اپنا اہم کردار نبھاتے ہیں 2021 کے سال میں دنیا کی سب سے بڑا ای کامرس پلیٹ فارم علی بابا نے اعلان کیا کہ اس سال علی بابا کی سب سے زیادہ دنیا بھر میں سیلنگ کرنے والے پاکستانی نوجوان ہیں اور علی بابا کے مینیجر نے باقاعدہ اس طرح کے ادارے جو ای کامرس و فری لانسنگ کو فروغ دینے اور سکھانے کے لئے سر توڑ محنت کررہے ہیں انہیں جا کر مبارکباد بھی دی اور ہم ابھی تک مفت کی روٹی ہی توڑنا چاہتے ہیں.......... پاکستان فری لانسنگ میں اضافے میں بھارت کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چوتھے نمبر پر آگیا ہے۔ جبکہ آج سے تین سال پہلے پاکستان فہرست میں ہی نہيں آتا تھا امریکا پہلے، برطانیہ دوسرے، برازیل تیسرے، پاکستان چوتھے، یوکرائن پانچویں، فلپائن چھٹے، بھارت ساتویں، بنگلہ دیش آٹھویں، روس نویں اور سربیا دسویں نمبر پر ہے۔ ترجمان آئی ٹی بورڈ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس کے مقابلے میں فری لانسنگ میں 47 فیصد اضافہ ہوا اور سرکاری شعبہ ملک میں فری لانسنگ کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے فری لانسنگ ہنرمند افراد کےلیے امید کی کرن صرف پاکستان کا ایک ادارہ *ای روزگار فری لانسنگ پروگرام* ملک کے زرمبادلہ میں اضافے اور بیروزگار میں کمی کا باعث بن رہا ہے، ای روزگار سے فارغ التحصیل 12 ہزار نوجوان صرف کچھ ہی عرصہ میں انٹرنیٹ سے کام کر کے 14 کروڑ روپے کما چکے ہیں یہ تو صرف ایک ادارہ کا ہم نے بتایا ہے ایسے بہت سے ادارے وہ لوگ بناکر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں یہ لوگ خلوص دل کے ساتھ شہر شہر بستی بستی جا جا کر نوجوانوں کو جگارہے ہیں سمجھا رہے ہیں کہ ڈگریوں کے پیچھے پندرہ سے بیس سال لگانے کی بجائے آئیں اسکلز کی طرف تاکہ چند مہینوں میں پیروں پر کھڑے ہوجائیں اور خوشحال زندگی گزاری آپ صرف مزید دو اداروں کا ہی رکورڈ دیکھ لیں حیران ہوجائینگے کہ صرف تین سال میں دنیا بھر میں اتنا بڑا نیٹورک اور ہزاروں نوجوانوں کو ٹرینڈنگ اسکل سکھا کر لاکھوں کمانے والا بنا چکے ہیں اور ہم ابھی تک اپنے بچوں کو ڈگریوں کی ریس میں دوڑا رہے ہیں.......... جائیے سرچ کیجئے انیبلرس اور اکسٹریم کامرس کے ان کے اسٹوڈنٹس سالانہ کتنے بلین کماکر لارہے ہیں آج ہمارا ہر آدمی جس کے پاس چار پیسے ہو وہ اگر کچھ کرنا چاہیں تو اس کے ذہن میں یہی چند چیز آتی ہے کہ ہم مسجد بنائینگے یا ہسپتال یا اسکول یا کالج یا مدرسہ ضرورت انکی بھی ہے مگر اس سے زیادہ یوٹیوب انکیوبیٹر کی ضرورت ہے ڈیجیٹل اسکلز سکھانے کے ادارے بنانے کی ضرورت ہے اور مالیگاﺅں بزنس ہب اسی خواب کا ایک نام ہے کچھ لوگ یہ پوسٹ پڑھ کر بندہ سے الجھینگے تو ان کے لئے عرض ہے کہ جاؤ گوگل پر یوٹیوب پر اور سرچ کرو ریحان اللہ والا کون ہے اور کیا کررہا ہے ثاقب اظہر کون ہے اور کیا کررہا ہے عثمان جغتائی کون ہے اور کیا کررہا ہے ہشام سرور کون ہے اور کیا کررہا ہے تنویر ناڈلہ کون ہے اور کیا کررہا ہے سنی علی کون ہے اور کیا کررہا ہے سکندر حیات بابا کون ہے اور کیا کررہا ہے آزاد چائے والا کون ہے اور کیا کررہا ہے سید کاشف شاہ کون ہے اور کیا کررہا ہے شکیل احمد میر کون ہے اور کیا کررہا ہے اشرف چودھری کون ہے اور کیا کررہا ہے یہ چند نام بطور مثال پیش کئے ہیں ایسے ہزاروں لوگ میدان میں کود پڑے ہیں جو ہزاروں لوگوں کو لاکھوں کمانا سکھا چکے ہیں اور باقاعدہ رزلٹ ہزاروں کا لوگوں کے سامنے بھی ہے اور ہم مفت خوری سکھا رہے ہیں کہ آئیے ہم فری میڈیکل کیمپ لگائیں آئیے ہم یہ فری اور وہ فری دے کیا اس طرح غربت ختم ہوگی؟؟؟ کیا اس طرح لوگوں میں شعور بیدار ہوگا کیا اس طرح ہماری سوچ بدلیگی کب تک ہم امداد کے نام پر مفت خوری کی طرف قوم کو لیکر جائینگے آئیے نعرہ لگاتے ہیں سوچ بدلو زندگی بدلےگی اگر میری بات آپ کو بہت بری لگے تو پھر بتائیے یہ پڑوس کے چند نوجوان ہے ابھی تو انڈونیشیا ملیشیا فلپائن ویتنام کوریا جیسے ملکوں کی تو بات ہی نہیں کی ہے ان ملکوں میں بھی ایسے بہت سے ادارے ہیں جو مستقل اسکلز سکھانے اور نت نئے ڈیجیٹل روزگار کی طرف لانے کا کام کررہے ہیں انڈیا پاکستان کرتے ہم نہیں تھکتے انکی کرکٹ میں پریشان رہتے ہیں اپنے علاقہ سے تو ایک آزاد چائے والا دکھادو ایک ریحان اللہ والا دکھادو ایک سنی علی دکھادو ایک ثاقب اظہر دکھادو ایک شاہد حسین دکھادو آئیے پھر نعرہ لگائیں .......... بدلو ذہن جی لو زندگی مولانا شیخ محمد علقمہ آواز: مالیگاﺅں بزنس ہب Via Shaikh Muhammad Alqama
    0 التعليقات 0 المشاركات 363 مشاهدة
  • میں آج اپنے پیارے ملک پاکستان کے ایک عظیم شخصیت، سید بابر علی صاحب کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے بڑے حصے کو علم کی خدمت میں مختص کیا۔ انہوں نے لمس کے قیام کے ساتھ ہماری قوم کو ایک عظیم تحفہ دیا ہے، جو ایک بہتر مستقبل کی جانب ہمارا راستہ بناتا ہے۔

    ان کا نام بزرگ صنعتکاروں میں شامل ہونے کے باوجود، سید بابر علی نے ہمیشہ علم و تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اسے فروغ دیا۔ پاکستانی نوجوان نسل کے لئے ان کی خدمات اور تعلیم کے شعور کو ہم ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

    ہمارے ملک کے ایک ایسے شخص کے بارے میں بات کرتے ہوئے مجھے فخر محسوس ہوتا ہے جس نے اپنی زندگی کو ہمارے معاشرے کی بہتری کے لئے وقف کیا۔ ان کے یوں ہمارے لئے رہنمائی کرنے کا ہمیں حقدار بناتا ہے۔

    سید بابر علی صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہیں، آپ نے ہمیں یہ سکھایا کہ علم کے بغیر ہم کہیں نہیں جا سکتے۔ آپ کی محنت والی زندگی ہمیں ہمیشہ یاد رہے گی اور ہمیں آپ کی خدمات کی قدر کرنی چاہیے۔
    #سید_بابر_علی #علم_کی_روشنی #پاکستان

    I want to highlight an eminent personality from our beloved country, Pakistan - Syed Babar Ali. He dedicated a significant part of his life in the service of education. His contribution to the establishment of LUMS has given our nation a remarkable gift that paves the way towards a brighter future.

    Despite being counted among the illustrious industrialists, Syed Babar Ali always understood the importance of knowledge and education, and worked to promote it. His services and dedication to education will always be remembered by the young generation of Pakistan.

    It fills me with pride to speak about an individual who devoted his life for the betterment of our society. His guidance sets an example for us.

    We express gratitude to Syed Babar Ali. You have taught us that we cannot move forward without knowledge. Your hard-working life will always be remembered, and we should appreciate your services.
    #SyedBabarAli #LightofKnowledge #Pakistan
    میں آج اپنے پیارے ملک پاکستان کے ایک عظیم شخصیت، سید بابر علی صاحب کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے بڑے حصے کو علم کی خدمت میں مختص کیا۔ انہوں نے لمس کے قیام کے ساتھ ہماری قوم کو ایک عظیم تحفہ دیا ہے، جو ایک بہتر مستقبل کی جانب ہمارا راستہ بناتا ہے۔ ان کا نام بزرگ صنعتکاروں میں شامل ہونے کے باوجود، سید بابر علی نے ہمیشہ علم و تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اسے فروغ دیا۔ پاکستانی نوجوان نسل کے لئے ان کی خدمات اور تعلیم کے شعور کو ہم ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ ہمارے ملک کے ایک ایسے شخص کے بارے میں بات کرتے ہوئے مجھے فخر محسوس ہوتا ہے جس نے اپنی زندگی کو ہمارے معاشرے کی بہتری کے لئے وقف کیا۔ ان کے یوں ہمارے لئے رہنمائی کرنے کا ہمیں حقدار بناتا ہے۔ سید بابر علی صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہیں، آپ نے ہمیں یہ سکھایا کہ علم کے بغیر ہم کہیں نہیں جا سکتے۔ آپ کی محنت والی زندگی ہمیں ہمیشہ یاد رہے گی اور ہمیں آپ کی خدمات کی قدر کرنی چاہیے۔ #سید_بابر_علی #علم_کی_روشنی #پاکستان I want to highlight an eminent personality from our beloved country, Pakistan - Syed Babar Ali. He dedicated a significant part of his life in the service of education. His contribution to the establishment of LUMS has given our nation a remarkable gift that paves the way towards a brighter future. Despite being counted among the illustrious industrialists, Syed Babar Ali always understood the importance of knowledge and education, and worked to promote it. His services and dedication to education will always be remembered by the young generation of Pakistan. It fills me with pride to speak about an individual who devoted his life for the betterment of our society. His guidance sets an example for us. We express gratitude to Syed Babar Ali. You have taught us that we cannot move forward without knowledge. Your hard-working life will always be remembered, and we should appreciate your services. #SyedBabarAli #LightofKnowledge #Pakistan
    0 التعليقات 0 المشاركات 879 مشاهدة
  • ### اکیو موریتا کی کہانی

    **اکیو موریتا** کی کہانی ایک حیرت انگیز جدت، وژن اور استقامت کی داستان ہے۔ اکیو موریتا، جو کہ **سونی** کے بانیوں میں سے ایک ہیں، نے اپنی محنت اور عزم کے ذریعے ایک چھوٹی سی جاپانی الیکٹرانکس کمپنی کو ایک عالمی ٹیکنالوجی دیو میں تبدیل کیا۔

    #### ابتدائی زندگی:
    اکیو موریتا 26 جنوری 1921 کو **ناگویا، جاپان** میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان ساکے (روایتی جاپانی مشروب) بنانے کے کاروبار سے وابستہ تھا، لیکن اکیو کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں دلچسپی تھی۔ انہوں نے **اوساکا امپیریل یونیورسٹی** سے **فزکس** میں تعلیم حاصل کی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی بحریہ میں خدمات انجام دیں۔

    #### سونی کی بنیاد:
    1946 میں، اکیو موریتا نے **ماسارو ایبوکا** سے ملاقات کی، جو ایک چھوٹی سی الیکٹرانکس مرمت کی دکان چلا رہے تھے۔ دونوں نے مل کر **ٹوکیو تسوشن کوگیو** کی بنیاد رکھی، جو بعد میں **سونی** بن گئی۔ 1955 میں، انہوں نے جاپان کا پہلا **ٹرانزسٹر ریڈیو** متعارف کرایا، جو ایک بڑی کامیابی تھی۔ 1958 میں، کمپنی کا نام **سونی** رکھا گیا، جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر شناخت بنانا تھا۔

    #### اہم مصنوعات:
    اکیو موریتا کی قیادت میں سونی نے کئی مشہور مصنوعات متعارف کرائیں:
    1. **ٹرینیٹرون ٹی وی**: 1968 میں، سونی نے ٹرینیٹرون متعارف کرایا، جو ایک انقلابی ٹیلی ویژن تھا۔
    2. **سونی واک مین**: 1979 میں، انہوں نے **واک مین** متعارف کرایا، جو موسیقی کو پورٹیبل بنانے والا پہلا آلہ تھا۔

    #### عالمی وژن:
    اکیو موریتا نے ہمیشہ بین الاقوامی منڈیوں میں توجہ دی اور سونی کو ایک عالمی برانڈ بنایا۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجیز کو اپنایا اور تخلیقیت کو فروغ دیا، جو سونی کی کامیابی کا اہم حصہ تھا۔

    ### پاکستانی نوجوانوں کے لیے سبق:
    اکیو موریتا کی کہانی ہمیں کئی اہم اسباق دیتی ہے:

    1. **جدت اور تخلیقی سوچ**:
    - نوجوانوں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہیے۔ جدید ٹیکنالوجیز، جیسے **AI** اور **ڈجیٹل مارکیٹنگ** میں مہارت حاصل کریں، اور نئے حل تلاش کریں۔

    2. **عزم اور محنت**:
    - اکیو موریتا کی کامیابی کی بنیاد محنت اور عزم تھی۔ نوجوانوں کو اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے سخت محنت کرنی چاہیے۔ تعلیمی اور پیشہ ورانہ اہداف مقرر کریں۔

    3. **عالمی سوچ**:
    - اکیو موریتا نے بین الاقوامی منڈیوں میں توجہ دی۔ پاکستانی نوجوانوں کو بھی عالمی مواقع کو دیکھنا چاہیے اور اپنی مصنوعات اور خدمات کو عالمی سطح پر پیش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    ### نتیجہ:
    اکیو موریتا کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عزم، جدت، اور محنت کے ذریعے کوئی بھی شخص اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتا ہے۔ پاکستانی نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اکیو موریتا کی مثال کو اپنائیں، اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، اور ایک بہتر مستقبل کی تشکیل کے لیے اقدامات کریں۔ اس طرح وہ نہ صرف اپنی زندگی بلکہ اپنے ملک اور دنیا کو بھی بدل سکتے ہیں۔
    ### اکیو موریتا کی کہانی **اکیو موریتا** کی کہانی ایک حیرت انگیز جدت، وژن اور استقامت کی داستان ہے۔ اکیو موریتا، جو کہ **سونی** کے بانیوں میں سے ایک ہیں، نے اپنی محنت اور عزم کے ذریعے ایک چھوٹی سی جاپانی الیکٹرانکس کمپنی کو ایک عالمی ٹیکنالوجی دیو میں تبدیل کیا۔ #### ابتدائی زندگی: اکیو موریتا 26 جنوری 1921 کو **ناگویا، جاپان** میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان ساکے (روایتی جاپانی مشروب) بنانے کے کاروبار سے وابستہ تھا، لیکن اکیو کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں دلچسپی تھی۔ انہوں نے **اوساکا امپیریل یونیورسٹی** سے **فزکس** میں تعلیم حاصل کی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی بحریہ میں خدمات انجام دیں۔ #### سونی کی بنیاد: 1946 میں، اکیو موریتا نے **ماسارو ایبوکا** سے ملاقات کی، جو ایک چھوٹی سی الیکٹرانکس مرمت کی دکان چلا رہے تھے۔ دونوں نے مل کر **ٹوکیو تسوشن کوگیو** کی بنیاد رکھی، جو بعد میں **سونی** بن گئی۔ 1955 میں، انہوں نے جاپان کا پہلا **ٹرانزسٹر ریڈیو** متعارف کرایا، جو ایک بڑی کامیابی تھی۔ 1958 میں، کمپنی کا نام **سونی** رکھا گیا، جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر شناخت بنانا تھا۔ #### اہم مصنوعات: اکیو موریتا کی قیادت میں سونی نے کئی مشہور مصنوعات متعارف کرائیں: 1. **ٹرینیٹرون ٹی وی**: 1968 میں، سونی نے ٹرینیٹرون متعارف کرایا، جو ایک انقلابی ٹیلی ویژن تھا۔ 2. **سونی واک مین**: 1979 میں، انہوں نے **واک مین** متعارف کرایا، جو موسیقی کو پورٹیبل بنانے والا پہلا آلہ تھا۔ #### عالمی وژن: اکیو موریتا نے ہمیشہ بین الاقوامی منڈیوں میں توجہ دی اور سونی کو ایک عالمی برانڈ بنایا۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجیز کو اپنایا اور تخلیقیت کو فروغ دیا، جو سونی کی کامیابی کا اہم حصہ تھا۔ ### پاکستانی نوجوانوں کے لیے سبق: اکیو موریتا کی کہانی ہمیں کئی اہم اسباق دیتی ہے: 1. **جدت اور تخلیقی سوچ**: - نوجوانوں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہیے۔ جدید ٹیکنالوجیز، جیسے **AI** اور **ڈجیٹل مارکیٹنگ** میں مہارت حاصل کریں، اور نئے حل تلاش کریں۔ 2. **عزم اور محنت**: - اکیو موریتا کی کامیابی کی بنیاد محنت اور عزم تھی۔ نوجوانوں کو اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے سخت محنت کرنی چاہیے۔ تعلیمی اور پیشہ ورانہ اہداف مقرر کریں۔ 3. **عالمی سوچ**: - اکیو موریتا نے بین الاقوامی منڈیوں میں توجہ دی۔ پاکستانی نوجوانوں کو بھی عالمی مواقع کو دیکھنا چاہیے اور اپنی مصنوعات اور خدمات کو عالمی سطح پر پیش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ### نتیجہ: اکیو موریتا کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عزم، جدت، اور محنت کے ذریعے کوئی بھی شخص اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتا ہے۔ پاکستانی نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اکیو موریتا کی مثال کو اپنائیں، اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، اور ایک بہتر مستقبل کی تشکیل کے لیے اقدامات کریں۔ اس طرح وہ نہ صرف اپنی زندگی بلکہ اپنے ملک اور دنیا کو بھی بدل سکتے ہیں۔
    0 التعليقات 0 المشاركات 268 مشاهدة
  • آج جب میں ائرپورٹ لاؤنج سے نکلا اور باتھ روم گیا، تو باہر آتے ہی حافظ حمزہ نے مجھے پکڑ لیا۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، “ریحان بھائی، آپ کیسے ہیں؟” میں نے جواب دیا، “میں ٹھیک ہوں، آپ کیسے ہیں؟” حمزہ نے یاد دلایا کہ ہم دس سال پہلے ملے تھے، جب میں نے انہیں اپنا کارڈ اور ڈی وی ڈی دی تھی۔ بدقسمتی سے، ان کا کارڈ گم ہو گیا تھا لیکن آج مجھے پہچان کر وہ خوش تھے۔

    میں نے دیکھا کہ ان کے پاس اب ایک اچھا سمارٹ فون ہے، تو میں نے انہیں اپنا نیا نمبر دیا اور پوچھا کہ وہ کہاں رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کورنگی میں رہتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ انہیں ایک سکول جانا ہے جہاں وہ اے آئی اور چات جی پی ٹی کی تربیت حاصل کریں گے۔ جب میں باہر کسی صاحب کا انتظار کر رہا تھا، تو مجھے حمزہ کا سمارٹ فون اچھا لگا۔ میں نے ان کا فون لیا، اس میں چات جی پی ٹی انسٹال کیا اور انہیں ایک ذمہ داری سونپی کہ وہ ائرپورٹ پر کام کرنے والے تمام عملے کو چات جی پی ٹی کے بارے میں آگاہ کریں، ان کو استعمال کرنے کا طریقہ بتائیں، اور انہیں یہ بھی بتائیں کہ وہ کم از کم دو لاکھ روپے کیسے کما سکتے ہیں۔

    حمزہ بہت خوش ہوئے اور انہوں نے کچھ لطیفے بھی سنائے۔ مجھے امید ہے کہ وہ، اور ان جیسے دوسرے لوگ، ان مواقع کا بھرپور فائدہ اٹھائیں گے اور اپنی آمدنی کو بڑھا سکیں گے۔ اللہ حمزہ کو اور ہمارے تمام محنتی پاکستانی بھائیوں کو خوش رکھے، اور اے آئی کی مدد سے وہ اپنے مقاصد جلد حاصل کر سکیں۔

    #اے_آئی #چات_جی_پی_ٹی #مواقع #پاکستانی_نوجوان #آمدنی_بڑھاؤ #اے_آئی_سب_کے_لیے
    آج جب میں ائرپورٹ لاؤنج سے نکلا اور باتھ روم گیا، تو باہر آتے ہی حافظ حمزہ نے مجھے پکڑ لیا۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، “ریحان بھائی، آپ کیسے ہیں؟” میں نے جواب دیا، “میں ٹھیک ہوں، آپ کیسے ہیں؟” حمزہ نے یاد دلایا کہ ہم دس سال پہلے ملے تھے، جب میں نے انہیں اپنا کارڈ اور ڈی وی ڈی دی تھی۔ بدقسمتی سے، ان کا کارڈ گم ہو گیا تھا لیکن آج مجھے پہچان کر وہ خوش تھے۔ میں نے دیکھا کہ ان کے پاس اب ایک اچھا سمارٹ فون ہے، تو میں نے انہیں اپنا نیا نمبر دیا اور پوچھا کہ وہ کہاں رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کورنگی میں رہتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ انہیں ایک سکول جانا ہے جہاں وہ اے آئی اور چات جی پی ٹی کی تربیت حاصل کریں گے۔ جب میں باہر کسی صاحب کا انتظار کر رہا تھا، تو مجھے حمزہ کا سمارٹ فون اچھا لگا۔ میں نے ان کا فون لیا، اس میں چات جی پی ٹی انسٹال کیا اور انہیں ایک ذمہ داری سونپی کہ وہ ائرپورٹ پر کام کرنے والے تمام عملے کو چات جی پی ٹی کے بارے میں آگاہ کریں، ان کو استعمال کرنے کا طریقہ بتائیں، اور انہیں یہ بھی بتائیں کہ وہ کم از کم دو لاکھ روپے کیسے کما سکتے ہیں۔ حمزہ بہت خوش ہوئے اور انہوں نے کچھ لطیفے بھی سنائے۔ مجھے امید ہے کہ وہ، اور ان جیسے دوسرے لوگ، ان مواقع کا بھرپور فائدہ اٹھائیں گے اور اپنی آمدنی کو بڑھا سکیں گے۔ اللہ حمزہ کو اور ہمارے تمام محنتی پاکستانی بھائیوں کو خوش رکھے، اور اے آئی کی مدد سے وہ اپنے مقاصد جلد حاصل کر سکیں۔ #اے_آئی #چات_جی_پی_ٹی #مواقع #پاکستانی_نوجوان #آمدنی_بڑھاؤ #اے_آئی_سب_کے_لیے
    0 التعليقات 0 المشاركات 635 مشاهدة
  • پاکستان سے شاندار خبر!
    ChatGPT اس وقت پاکستان کا نمبر 1 ڈاؤنلوڈ کیا جانے والا ایپ بن چکا ہے۔

    جی ہاں،
    واٹس ایپ سے زیادہ
    یوٹیوب سے زیادہ
    ٹک ٹاک سے زیادہ
    کسی بھی گیم سے زیادہ

    یہ صرف ایک چارٹ نہیں… یہ ایک انقلاب ہے۔

    پاکستان نے کہہ دیا ہے:
    “ہم سیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں۔ ہم AI کو اپنانا چاہتے ہیں۔”

    اب ChatGPT صرف ہمارے فون میں نہیں…
    جلد یہ ہماری کلاس رومز میں ہوگا
    ہماری دکانوں میں
    ہمارے کھیتوں میں
    ہماری مساجد میں
    اور ہمارے گھروں میں

    اور اب…
    چلیں Perplexity AI کو بنائیں پاکستان کا نمبر 2 ایپ
    Grok کو لے آئیں نمبر 3 پر
    Microsoft Copilot کو کریں نمبر 4

    دنیا کو بتا دیں:
    پاکستان AI کے لیے تیار نہیں — ہم تو AI کی قیادت کرنے جا رہے ہیں!

    آئیں، اپنے بچوں کو AI سکھائیں
    اپنے بڑوں کو AI سے متعارف کروائیں
    پاکستان کو بنائیں مسلم دنیا کا AI سپرپاور

    دوستوں کو ٹیگ کریں
    انھیں کہیں ChatGPT اور دوسرے AI ٹولز ڈاؤنلوڈ کریں
    روزانہ استعمال کریں
    کچھ نیا سیکھیں
    کچھ نیا بنائیں
    کسی کو سکھائیں

    یہ صرف آغاز ہے
    اور ہم صرف طلوعِ آفتاب نہیں دیکھ رہے —
    ہم خود سورج بننے جا رہے ہیں۔

    #پاکستان_کا_AI_انقلاب
    #ChatGPT_پاکستان_میں
    #AI_سے_سیکھو
    #ڈیجیٹل_پاکستان
    #RehanSchool
    #PerplexityAI
    #GrokAI
    #MicrosoftCopilot
    #AI_کا_مستقبل
    #پاکستانی_نوجوان
    #اب_نہیں_تو_کب؟
    پاکستان سے شاندار خبر! ChatGPT اس وقت پاکستان کا نمبر 1 ڈاؤنلوڈ کیا جانے والا ایپ بن چکا ہے۔ جی ہاں، واٹس ایپ سے زیادہ یوٹیوب سے زیادہ ٹک ٹاک سے زیادہ کسی بھی گیم سے زیادہ یہ صرف ایک چارٹ نہیں… یہ ایک انقلاب ہے۔ پاکستان نے کہہ دیا ہے: “ہم سیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں۔ ہم AI کو اپنانا چاہتے ہیں۔” اب ChatGPT صرف ہمارے فون میں نہیں… جلد یہ ہماری کلاس رومز میں ہوگا ہماری دکانوں میں ہمارے کھیتوں میں ہماری مساجد میں اور ہمارے گھروں میں اور اب… چلیں Perplexity AI کو بنائیں پاکستان کا نمبر 2 ایپ Grok کو لے آئیں نمبر 3 پر Microsoft Copilot کو کریں نمبر 4 دنیا کو بتا دیں: پاکستان AI کے لیے تیار نہیں — ہم تو AI کی قیادت کرنے جا رہے ہیں! آئیں، اپنے بچوں کو AI سکھائیں اپنے بڑوں کو AI سے متعارف کروائیں پاکستان کو بنائیں مسلم دنیا کا AI سپرپاور دوستوں کو ٹیگ کریں انھیں کہیں ChatGPT اور دوسرے AI ٹولز ڈاؤنلوڈ کریں روزانہ استعمال کریں کچھ نیا سیکھیں کچھ نیا بنائیں کسی کو سکھائیں یہ صرف آغاز ہے اور ہم صرف طلوعِ آفتاب نہیں دیکھ رہے — ہم خود سورج بننے جا رہے ہیں۔ #پاکستان_کا_AI_انقلاب #ChatGPT_پاکستان_میں #AI_سے_سیکھو #ڈیجیٹل_پاکستان #RehanSchool #PerplexityAI #GrokAI #MicrosoftCopilot #AI_کا_مستقبل #پاکستانی_نوجوان #اب_نہیں_تو_کب؟
    0 التعليقات 0 المشاركات 1939 مشاهدة
  • AI کے ذریعے اپنی سوشل میڈیا پوسٹس کو زندہ کریں!

    آج کے دور میں آپ کو پروفیشنل فوٹوگرافر یا ڈیزائنر کی ضرورت نہیں۔
    اب آپ ChatGPT، Grok، Gemini اور Meta جیسے AI ٹولز کی مدد سے ایسی ہائپر رئیلسٹک، شاندار اور کریئیٹو تصویریں خود بنا سکتے ہیں جو آپ کی سوشل میڈیا پوسٹس اور ایڈز کو نئی جان بخش دیں۔

    یہاں ایک مثال دیکھیں
    ہم نے صرف ایک اردو پرامپٹ لکھا اور AI نے ہمارے لیے یہ زبردست تصویر تخلیق کر دی۔



    پرامپٹ (اردو میں):

    “ایک حسین پاکستانی نوجوان لڑکی پراعتماد مسکراہٹ کے ساتھ سیلفی لے رہی ہے جب وہ آہستہ سے ایک فلک بوس عمارت کے کنارے سے پیچھے ہٹتی ہے۔ اُس کا خوبصورت روایتی پاکستانی لباس جدید شہری منظرنامے کے برعکس نمایاں ہو رہا ہے۔ کیمرہ اُس کے اُوپر کے زاویے سے صرف اوپری دھڑ کو قید کرتا ہے، جبکہ اُس کے ہلکے بال ہوا میں بکھر کر چہرے کے گرد ایک فریم بنا رہے ہیں۔ سورج کی سنہری روشنی پورے منظر کو نہلا رہی ہے۔ نیچے مصروف شہر میں چھوٹی چھوٹی گاڑیاں اور پیدل چلنے والے نظر آ رہے ہیں، اور اُس کے سفید جوتے تصویر میں ایک آرام دہ اور کیژول تاثر پیدا کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ 8K کوالٹی اور DSLR ہائپر رئیلسٹک اسٹائل میں 9:16 عمودی فریم پر قید کیا گیا ہے۔ پس منظر: کراچی، حب بینک پلازہ کے اوپر۔”



    اب آپ بھی اپنے برانڈ یا پیج کے لیے صرف ایک پرامپٹ لکھ کر دنیا کی بہترین تصاویر بنا سکتے ہیں۔

    Meri ai community join karain

    https://chat.whatsapp.com/EMW0lOpoGk5BdEjxaHQH48?mode=ems_copy_c
    🌟 AI کے ذریعے اپنی سوشل میڈیا پوسٹس کو زندہ کریں! 🌟 آج کے دور میں آپ کو پروفیشنل فوٹوگرافر یا ڈیزائنر کی ضرورت نہیں۔ اب آپ ChatGPT، Grok، Gemini اور Meta جیسے AI ٹولز کی مدد سے ایسی ہائپر رئیلسٹک، شاندار اور کریئیٹو تصویریں خود بنا سکتے ہیں جو آپ کی سوشل میڈیا پوسٹس اور ایڈز کو نئی جان بخش دیں۔ یہاں ایک مثال دیکھیں 👇 ہم نے صرف ایک اردو پرامپٹ لکھا اور AI نے ہمارے لیے یہ زبردست تصویر تخلیق کر دی۔ ⸻ پرامپٹ (اردو میں): “ایک حسین پاکستانی نوجوان لڑکی پراعتماد مسکراہٹ کے ساتھ سیلفی لے رہی ہے جب وہ آہستہ سے ایک فلک بوس عمارت کے کنارے سے پیچھے ہٹتی ہے۔ اُس کا خوبصورت روایتی پاکستانی لباس جدید شہری منظرنامے کے برعکس نمایاں ہو رہا ہے۔ کیمرہ اُس کے اُوپر کے زاویے سے صرف اوپری دھڑ کو قید کرتا ہے، جبکہ اُس کے ہلکے بال ہوا میں بکھر کر چہرے کے گرد ایک فریم بنا رہے ہیں۔ سورج کی سنہری روشنی پورے منظر کو نہلا رہی ہے۔ نیچے مصروف شہر میں چھوٹی چھوٹی گاڑیاں اور پیدل چلنے والے نظر آ رہے ہیں، اور اُس کے سفید جوتے تصویر میں ایک آرام دہ اور کیژول تاثر پیدا کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ 8K کوالٹی اور DSLR ہائپر رئیلسٹک اسٹائل میں 9:16 عمودی فریم پر قید کیا گیا ہے۔ پس منظر: کراچی، حب بینک پلازہ کے اوپر۔” ⸻ 🚀 اب آپ بھی اپنے برانڈ یا پیج کے لیے صرف ایک پرامپٹ لکھ کر دنیا کی بہترین تصاویر بنا سکتے ہیں۔ Meri ai community join karain https://chat.whatsapp.com/EMW0lOpoGk5BdEjxaHQH48?mode=ems_copy_c
    0 التعليقات 0 المشاركات 265 مشاهدة
الصفحات المعززة