• اللہ آپکی جان ، مال ، ایمان ، آبرو، روزی ، رزق ، علم ، عمل ، گھر، کاروبار ، دسترخوان ، اولاد، زندگی ، خوشیوں، عبادات ، تقوی ا ،اخلاص ، اخلاق ، سادگی ، عاجزی، انکساری اور عمر میں برکتیں، رحمتیں ، وسعتیں، رفعتیں، اورعروج و بلندیاں عطاء فرماۓ. آمین

    A beautiful dua by Rabia Khalid
    اللہ آپکی جان ، مال ، ایمان ، آبرو، روزی ، رزق ، علم ، عمل ، گھر، کاروبار ، دسترخوان ، اولاد، زندگی ، خوشیوں، عبادات ، تقوی ا ،اخلاص ، اخلاق ، سادگی ، عاجزی، انکساری اور عمر میں برکتیں، رحمتیں ، وسعتیں، رفعتیں، اورعروج و بلندیاں عطاء فرماۓ. آمین A beautiful dua by Rabia Khalid
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 806 Visualizações
  • Forwarding as found

    Aoa All
    Pls spare sometime and read this carefully, someone compiled so nicely at one place.

    *اللہ تعالیٰ کی قرآنِ پاک میں انسانیت کو 100 کے قریب براہِ راست ہدایات*

    1. بدزبانی سے بچو (3:159)
    2. غصے کو پی جاؤ (3:134)
    3. دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو (4:36)
    4. تکبر سے بچو (7:13)
    5. دوسروں کی غلطیاں معاف کرو (7:199)
    6. لوگوں سے نرمی سے بات کرو (20:44)
    7. اپنی آواز پست رکھو (31:19)
    8. دوسروں کا مذاق نہ اڑاؤ (49:11)
    9. والدین کا احترام اور ان کی فرمانبراداری کرو (17:23)
    10. والدین کی بے ادبی سے بچو اور اُن کے سامنے اُف تک نہ کہو (17:23)
    11. اجازت کے بغیر کسی کی خلوت گاہ (پرائیویٹ کمرہ) میں داخل نہ ہو (24:58)
    12. آپس میں قرض کے معاملات تحریر کر لیا کرو (2:282)
    13. کسی کی اندھی تقلید مت کرو (2:170)
    14. اگر کوئی تنگی میں ہے تو اسے قرضہ اتارنے میں مہلت دو (2:280)
    15. سود مت کھاؤ (2:275)
    16. رشوت مت اختیار کرو (2:188)
    17. وعدوں کو پورا کرو (2:177)
    18. آپس میں اعتماد قائم رکھو (2:283)
    19. سچ اور جھوٹ کو آپس میں خلط ملط نہ کرو (2:42)
    20. لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرو (4:58)
    21. عدل و انصاف پر مضبوطی سے جم جاؤ (4:135)
    22. مرنے کے بعد ہر شخص کی دولت اس کے قریبی عزیزوں میں تقسیم کر دو (4:7)
    23. عورتوں کا بھی وراثت میں حق ہے (4:7)
    24. یتیموں کا مال ناحق مت کھاؤ (4:10)
    25. یتیموں کا خیال رکھو (2:220)
    26. ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھاؤ (4:29)
    27. کسی جھگڑے کی صورت میں لوگوں کے درمیان صلح کراؤ (49:9)
    28. بدگمانیوں سے بچو (49:12)
    29. گواہی کو مت چھپاؤ (2:283)
    30. ایک دوسرے کے بھید نہ ٹٹولا کرو اور کسی کی غیبت مت کرو (49:12)
    31. اپنے مال میں سے خیرات کرو (57:7)
    32. مسکین غریبوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب دو (107:3)
    33. ضرورتمندوں کو تلاش کر کے اُن کی مدد کرو (2:273)
    34. کنجوسی اور فضول خرچی سے اجتناب کرو (17:29)
    35. اپنی خیرات لوگوں کو دکھا نے کے لیئے اور احسان جتا کر ضائع مت کرو (2:264)
    36. مہمانوں کا احترام کرو (51:26)
    37. بھلائی پر خود عمل کرنے کے بعد دوسروں کو اس کی ترغیب دو (2:44)
    38. زمین پر فساد مت کرو (2:60)
    39. لوگوں کو مسجدوں میں اللہ کے ذکر سے مت روکو (2:114)
    40. صرف اُن سےلڑوجوتم سے لڑیں (2:190)
    41. جنگ کے آداب کا خیال رکھو (2:191)
    42. جنگ کے دوران پُشت مت پھیرنا (8:15)
    43. د ین میں کوئی زبردستی نہیں (2:256)
    44. تمام پیغمبروں پر ایمان لاؤ (2:285)
    45. حالتِ حیض میں عورتوں سے جماع نہ کرو (2:222)
    46. مائیں بچوں کو دو سال تک دودھ پلائیں (2:233)
    47. خبردار زنا کے قریب کسی صورت میں نہیں جانا (17:32)
    48. حکمرانوں کو اہلیت کی بنیاد پر منتخب کرو (2:247)
    49. کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ مت ڈالو (2:286)
    50. آپس میں تفرقہ مت ڈالو (3:103)
    51. کائنات کی تخلیق اور عجائبات پر گہری غوروفکر کرو (3:191)
    52. مرد اور عورت کو اعمال کا صلہ برابر ملے گا (3:195)
    53. خون کے رشتوں میں شادی مت کرو (4:23)
    54. مرد خاندان کا حکمران ہے (4:34)
    55. بخیلی و کنجوسی مت کرو (4:37)
    56. حسد مت کرو (4:54)
    57. ایک دوسرے کا قتل مت کرو (4:92)
    58. خیانت کرنے والوں کے حمایتی مت بنو (4:105)
    59. گناہ اور ظلم وزیادتی میں تعاون مت کرو (5:2)
    60. نیکی اور بھلائی میں تعاون کرو (5:2)
    61. اکثریت میں ہونا سچائی کا جواز نہیں (6:116)
    62. عدل و انصاف پر قائم رہو (5:8)
    63. جرائم کی سزا مثالی طور پر دو (5:38)
    64. گناہ اور بد اعمالیوں کے خلاف بھرپور جدوجہد کرو (5:63)
    65. مردہ جانور, خون, سور کا گوشت ممنوع ہیں (5:3)
    66. شراب اور منشیات سے بچو (5:90)
    67. جوا مت کھیلو (5:90)
    68. دوسروں کے معبودوں کو بُرا مت کہو (6:108)
    69. لوگوں کو دھوکہ دینے کی خاطر ناپ تول میں کمی مت کرو (6:152)
    70. خوب کھاؤ پیو مگر حد سے تجاوز نہ کرو (7:31)
    71. مسجدوں میں عبادت کے وقت اچھے کپڑے پہنو (7:31)
    72. جو تم سے مدد اور حفاظت و پناہ کا طلبگار ہو اسکی مدد اور حفاظت کرو (9:6)
    73. پاکیزگی اختیار کرو (9:108)
    74. اللہ کی رحمت سے کبھی نا اُمید مت ہونا (12:87)
    75. لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے کیے گئے بُرے کام و گناہ اللہ معاف فرما دے گا (16:119)
    76. لوگوں کو اللہ کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلاؤ (16:125)
    77. کوئی کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا (17:15)
    78. مفلسی و غربت کے خوف سے اولاد کا قتل مت کرو (17:31)
    79. جس بات کا علم نہ ہو اُس کے پیچھے مت پڑو. (17:36)
    80. بے بنیاد اور لغو کاموں سے پرہیز کرو (23:3)
    81. دوسروں کے گھروں میں بلا اجازت مت داخل ہو (24:27)
    82. جو اللہ پر یقین رکھتے ہیں, اللہ اُن کی حفاظت فرمائے گا (24:55)
    83. زمین پر عاجزی و انکساری سے چلو (25:63)
    84. اپنی دنیاوی زندگی کو نظرانداز مت کرو (28:77)
    85. اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو مت پکارو (28:88)
    86. ہم جنس پرستی سے اجتناب کرو (29:29)
    87. اچھے کاموں کی نصیحت اور برے کاموں کی ممانعت کرو (31:17)
    88. زمین پر شیخی اور تکبر سے اِترا کر مت چلو (31:18)
    89. عورتیں اپنے بناؤسنگھار کی نمائش مت کریں (33:33)
    90. اللہ تمام گناہ معاف کردے گا سوائے شرک (39:53)
    91. اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو (39:53)
    92. برائی کو بھلائی سے دفع کرو (41:34)
    93. مشورے سے اپنے کام سرانجام دو (42:38)
    94. تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جس نے سچائی و بھلائی کو اختیار کیا ہو (49:13)
    95. دین میں رہبانیت کا کوئی وجود نہیں (57:27)
    96. اللہ کے ہاں علم والے کے درجات بلند ہیں (58:11)
    97. غیرمسلموں کے ساتھ منصفانہ سلوک و احسان اور اچھا برتاؤ کرو (60:8)
    98. اپنے آپ کو نفس کی حرص سے پاک رکھو (64:16)
    99. اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو, وہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے (73:20)
    Forwarding as found Aoa All Pls spare sometime and read this carefully, someone compiled so nicely at one place. *اللہ تعالیٰ کی قرآنِ پاک میں انسانیت کو 100 کے قریب براہِ راست ہدایات* 1. بدزبانی سے بچو (3:159) 2. غصے کو پی جاؤ (3:134) 3. دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو (4:36) 4. تکبر سے بچو (7:13) 5. دوسروں کی غلطیاں معاف کرو (7:199) 6. لوگوں سے نرمی سے بات کرو (20:44) 7. اپنی آواز پست رکھو (31:19) 8. دوسروں کا مذاق نہ اڑاؤ (49:11) 9. والدین کا احترام اور ان کی فرمانبراداری کرو (17:23) 10. والدین کی بے ادبی سے بچو اور اُن کے سامنے اُف تک نہ کہو (17:23) 11. اجازت کے بغیر کسی کی خلوت گاہ (پرائیویٹ کمرہ) میں داخل نہ ہو (24:58) 12. آپس میں قرض کے معاملات تحریر کر لیا کرو (2:282) 13. کسی کی اندھی تقلید مت کرو (2:170) 14. اگر کوئی تنگی میں ہے تو اسے قرضہ اتارنے میں مہلت دو (2:280) 15. سود مت کھاؤ (2:275) 16. رشوت مت اختیار کرو (2:188) 17. وعدوں کو پورا کرو (2:177) 18. آپس میں اعتماد قائم رکھو (2:283) 19. سچ اور جھوٹ کو آپس میں خلط ملط نہ کرو (2:42) 20. لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرو (4:58) 21. عدل و انصاف پر مضبوطی سے جم جاؤ (4:135) 22. مرنے کے بعد ہر شخص کی دولت اس کے قریبی عزیزوں میں تقسیم کر دو (4:7) 23. عورتوں کا بھی وراثت میں حق ہے (4:7) 24. یتیموں کا مال ناحق مت کھاؤ (4:10) 25. یتیموں کا خیال رکھو (2:220) 26. ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھاؤ (4:29) 27. کسی جھگڑے کی صورت میں لوگوں کے درمیان صلح کراؤ (49:9) 28. بدگمانیوں سے بچو (49:12) 29. گواہی کو مت چھپاؤ (2:283) 30. ایک دوسرے کے بھید نہ ٹٹولا کرو اور کسی کی غیبت مت کرو (49:12) 31. اپنے مال میں سے خیرات کرو (57:7) 32. مسکین غریبوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب دو (107:3) 33. ضرورتمندوں کو تلاش کر کے اُن کی مدد کرو (2:273) 34. کنجوسی اور فضول خرچی سے اجتناب کرو (17:29) 35. اپنی خیرات لوگوں کو دکھا نے کے لیئے اور احسان جتا کر ضائع مت کرو (2:264) 36. مہمانوں کا احترام کرو (51:26) 37. بھلائی پر خود عمل کرنے کے بعد دوسروں کو اس کی ترغیب دو (2:44) 38. زمین پر فساد مت کرو (2:60) 39. لوگوں کو مسجدوں میں اللہ کے ذکر سے مت روکو (2:114) 40. صرف اُن سےلڑوجوتم سے لڑیں (2:190) 41. جنگ کے آداب کا خیال رکھو (2:191) 42. جنگ کے دوران پُشت مت پھیرنا (8:15) 43. د ین میں کوئی زبردستی نہیں (2:256) 44. تمام پیغمبروں پر ایمان لاؤ (2:285) 45. حالتِ حیض میں عورتوں سے جماع نہ کرو (2:222) 46. مائیں بچوں کو دو سال تک دودھ پلائیں (2:233) 47. خبردار زنا کے قریب کسی صورت میں نہیں جانا (17:32) 48. حکمرانوں کو اہلیت کی بنیاد پر منتخب کرو (2:247) 49. کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ مت ڈالو (2:286) 50. آپس میں تفرقہ مت ڈالو (3:103) 51. کائنات کی تخلیق اور عجائبات پر گہری غوروفکر کرو (3:191) 52. مرد اور عورت کو اعمال کا صلہ برابر ملے گا (3:195) 53. خون کے رشتوں میں شادی مت کرو (4:23) 54. مرد خاندان کا حکمران ہے (4:34) 55. بخیلی و کنجوسی مت کرو (4:37) 56. حسد مت کرو (4:54) 57. ایک دوسرے کا قتل مت کرو (4:92) 58. خیانت کرنے والوں کے حمایتی مت بنو (4:105) 59. گناہ اور ظلم وزیادتی میں تعاون مت کرو (5:2) 60. نیکی اور بھلائی میں تعاون کرو (5:2) 61. اکثریت میں ہونا سچائی کا جواز نہیں (6:116) 62. عدل و انصاف پر قائم رہو (5:8) 63. جرائم کی سزا مثالی طور پر دو (5:38) 64. گناہ اور بد اعمالیوں کے خلاف بھرپور جدوجہد کرو (5:63) 65. مردہ جانور, خون, سور کا گوشت ممنوع ہیں (5:3) 66. شراب اور منشیات سے بچو (5:90) 67. جوا مت کھیلو (5:90) 68. دوسروں کے معبودوں کو بُرا مت کہو (6:108) 69. لوگوں کو دھوکہ دینے کی خاطر ناپ تول میں کمی مت کرو (6:152) 70. خوب کھاؤ پیو مگر حد سے تجاوز نہ کرو (7:31) 71. مسجدوں میں عبادت کے وقت اچھے کپڑے پہنو (7:31) 72. جو تم سے مدد اور حفاظت و پناہ کا طلبگار ہو اسکی مدد اور حفاظت کرو (9:6) 73. پاکیزگی اختیار کرو (9:108) 74. اللہ کی رحمت سے کبھی نا اُمید مت ہونا (12:87) 75. لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے کیے گئے بُرے کام و گناہ اللہ معاف فرما دے گا (16:119) 76. لوگوں کو اللہ کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلاؤ (16:125) 77. کوئی کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا (17:15) 78. مفلسی و غربت کے خوف سے اولاد کا قتل مت کرو (17:31) 79. جس بات کا علم نہ ہو اُس کے پیچھے مت پڑو. (17:36) 80. بے بنیاد اور لغو کاموں سے پرہیز کرو (23:3) 81. دوسروں کے گھروں میں بلا اجازت مت داخل ہو (24:27) 82. جو اللہ پر یقین رکھتے ہیں, اللہ اُن کی حفاظت فرمائے گا (24:55) 83. زمین پر عاجزی و انکساری سے چلو (25:63) 84. اپنی دنیاوی زندگی کو نظرانداز مت کرو (28:77) 85. اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو مت پکارو (28:88) 86. ہم جنس پرستی سے اجتناب کرو (29:29) 87. اچھے کاموں کی نصیحت اور برے کاموں کی ممانعت کرو (31:17) 88. زمین پر شیخی اور تکبر سے اِترا کر مت چلو (31:18) 89. عورتیں اپنے بناؤسنگھار کی نمائش مت کریں (33:33) 90. اللہ تمام گناہ معاف کردے گا سوائے شرک (39:53) 91. اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو (39:53) 92. برائی کو بھلائی سے دفع کرو (41:34) 93. مشورے سے اپنے کام سرانجام دو (42:38) 94. تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جس نے سچائی و بھلائی کو اختیار کیا ہو (49:13) 95. دین میں رہبانیت کا کوئی وجود نہیں (57:27) 96. اللہ کے ہاں علم والے کے درجات بلند ہیں (58:11) 97. غیرمسلموں کے ساتھ منصفانہ سلوک و احسان اور اچھا برتاؤ کرو (60:8) 98. اپنے آپ کو نفس کی حرص سے پاک رکھو (64:16) 99. اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو, وہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے (73:20)
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 1874 Visualizações
  • Bhai mera yeh paigham Rehan Allahwala sahab tak forward kar do Please
    Bohat pareshani hai, please Abhi Abhi forward Karna time nahi hai zyada,
    ------------------

    اسلام علیکم۔
    سر امید ہے آپ خیریت سے ہونگے۔ سر میرا نام عدیل اقبال ہے عمر قریباً 29 برس ہے۔ اور میں ضلع جہلم سے تعلق رکھتا ہوں۔ اس وقت میں عر صہ 4 برس سے ملازمت کے سلسلہ میں متحدہ عرب امارات کی ریاست اجمان میں مقیم ہوں۔ سر یقیناً آپ مجھے نہیں جانتے پر سر میں آپ کو سوشل میڈیا کے ذریعے سے بہت فالو کرتا ہے۔ سر یہ کہنا کچھ غلط نہیں ہوگا کہ آپ میرے رول ماڈل ہیں۔سر میں دل سے آپکا بہت احترام کرتا ہوں میرے پاس یہ بتانے کے لیئے مناسب الفاظ نہیں ہیں۔ مجھے بہت افسوس اور شرمندگی ہے سر کہ میں اس وقت میں بے حد مجبوری اور پریشانی کے عالم میں آپ سے رابطہ کر رہا ہوں۔ سر میں اس وقت بڑی شدید الجھن اور پریشانی میں ہوں۔ اس سلسلے میں آپکی مدد درکارh ہے۔ سر مجھ پر کچھ قرض ہے ۔ اور میرے ذاتی چیک یہاں پر کسی کے پاس موجود ہیں۔ جن کی مالیت 22,500 اماراتی درہم (قریباً 7 لاکھ پاکستانی روپے ) ہے۔ سر چیک کی تاریخ 15 دسمبر 2017 کی تھی۔ جو کہ ڈس آنر ہو چکے ہیں۔ لیکن اگلے بندے سے میں سے بڑی عاجزی سے درخواست کر رکھی ہے کہ فی الوقت قانونی چارہ جوئی نہ کرے۔ آج اس شخص نے ایک آخری بار مجھے ایک دن کا وقت دیا ہے اور کہا ہے کہ رقم ادا نہ کی تو میرے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے گا۔ اب سر میں ایک نہایت متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔ خاندان کے قریباً 10 سے زائد افراد کا واحد زمہ دار کفیل ہوں۔ آپ بہتر جانتے اور سمجھتے ہیں کہ ہمارے ملک پاکستان میں روزگار کے کیا حالات ہیں۔ جس کی وجہ سے میں یہاں طویل عرصہ سے قیام پذیر پوں۔ اور دن رات محنت کر کے اپنے خاندان کے لوگوں کی بنیادی ضروریات بمشکل پوری کر پا رہا ہوں۔ والدین بوڑھے ہیں اور شدید بیمار ہیں۔ گزشتہ ماہ کی ہی بات ہے میرے والد صاحب کو دماغ پر فالج کا اٹیک ہوا ہے۔ اور بروقت طبی امداد کے باعث بمشکل بچت ہو پائی ہے۔ ایک بہن اور ایک بھائی کسی روڈ ایکسیڈنٹ کے باعث بالکل ٹھیک نہیں ہیں۔ جن کا علاج درکار ہے۔ میرے کاندھوں میری 3 بہنوں کی شادی کی ذمےداری بھی ہے۔اور سر بس کیا کیا بتاؤں آپ کو ذہنی پریشانی اور الجھنوں کے باعث میری صحت بھی کچھ ٹھیک نہیں رہتی۔بے پناہ قرض وبال جان بنا پڑا ہے۔ سر ایسے حالات میں اگر مجھے یہاں پر کسی قسم کی قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو سر میں تو پھر اسے بہتر مرنا پسند کروں گا۔ سر میرے پاس سفید پوشی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے مجھے ایسے اس انداز میں آپ کو تکلیف دینا بالکل اچھا نہیں لگ رہا۔ لیکن سر میرے پاس اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ آپ میری امید کی آخری کرن ہیں۔ سر میری مدد کریں یا پھر یہاں پر کوئی اپنا عزیز بتائیں جو میری مدد کر سکے۔ آپکو میرا شناختی کارڈ, پاسپورٹ، پرسنل چیک ضمانت کے طور پر جو بھی چاہیے ہوا میں آپ کو مہیا کر دوں گا۔ اور سر 8-6 ماہ کے اندر اندر آپکی رقم واپس لوٹا دوں گا۔ پر پلیز سر مایوس مت کیجئے گا۔ بڑی مشکل سے آپ سے رابطہ ہو پایا ہے۔ آپکا مجھ سمیت میرے خاندان کے بہت سے لوگوں پر زندگی بھر احسان رہے گا۔ سر میرے پاس فی الوقت وسائل کی کمی ہے جسکی وجہ سے یہاں دبئی میں ایک فلیٹ میٹ ہے اس کا کوئی پاکستان میں جاننے والا ہے۔ اس کے ذریعے سے پیغام بھیج رہا ہوں آپ تک۔ پلیز سر مدد کیجئے گا۔ سر مجھے اس طرح سے اس انداز میں آپ کو تکلیف دینا بالکل گوارہ نہیں لیکن سر میں بے انتہا مجبوری میں ہوں اور عاجزی کی انتہا پر آپ سے مدد کی اپیل ہے۔ اللہ رب العزت آپکے درجات میں مزید اضافہ فرمائے۔ آمین
    سر آپکے بر وقت جواب کا انتظار رہے گا۔
    +971 52 3373100
    Bhai mera yeh paigham Rehan Allahwala sahab tak forward kar do Please Bohat pareshani hai, please Abhi Abhi forward Karna time nahi hai zyada, ------------------ اسلام علیکم۔ سر امید ہے آپ خیریت سے ہونگے۔ سر میرا نام عدیل اقبال ہے عمر قریباً 29 برس ہے۔ اور میں ضلع جہلم سے تعلق رکھتا ہوں۔ اس وقت میں عر صہ 4 برس سے ملازمت کے سلسلہ میں متحدہ عرب امارات کی ریاست اجمان میں مقیم ہوں۔ سر یقیناً آپ مجھے نہیں جانتے پر سر میں آپ کو سوشل میڈیا کے ذریعے سے بہت فالو کرتا ہے۔ سر یہ کہنا کچھ غلط نہیں ہوگا کہ آپ میرے رول ماڈل ہیں۔سر میں دل سے آپکا بہت احترام کرتا ہوں میرے پاس یہ بتانے کے لیئے مناسب الفاظ نہیں ہیں۔ مجھے بہت افسوس اور شرمندگی ہے سر کہ میں اس وقت میں بے حد مجبوری اور پریشانی کے عالم میں آپ سے رابطہ کر رہا ہوں۔ سر میں اس وقت بڑی شدید الجھن اور پریشانی میں ہوں۔ اس سلسلے میں آپکی مدد درکارh ہے۔ سر مجھ پر کچھ قرض ہے ۔ اور میرے ذاتی چیک یہاں پر کسی کے پاس موجود ہیں۔ جن کی مالیت 22,500 اماراتی درہم (قریباً 7 لاکھ پاکستانی روپے ) ہے۔ سر چیک کی تاریخ 15 دسمبر 2017 کی تھی۔ جو کہ ڈس آنر ہو چکے ہیں۔ لیکن اگلے بندے سے میں سے بڑی عاجزی سے درخواست کر رکھی ہے کہ فی الوقت قانونی چارہ جوئی نہ کرے۔ آج اس شخص نے ایک آخری بار مجھے ایک دن کا وقت دیا ہے اور کہا ہے کہ رقم ادا نہ کی تو میرے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے گا۔ اب سر میں ایک نہایت متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔ خاندان کے قریباً 10 سے زائد افراد کا واحد زمہ دار کفیل ہوں۔ آپ بہتر جانتے اور سمجھتے ہیں کہ ہمارے ملک پاکستان میں روزگار کے کیا حالات ہیں۔ جس کی وجہ سے میں یہاں طویل عرصہ سے قیام پذیر پوں۔ اور دن رات محنت کر کے اپنے خاندان کے لوگوں کی بنیادی ضروریات بمشکل پوری کر پا رہا ہوں۔ والدین بوڑھے ہیں اور شدید بیمار ہیں۔ گزشتہ ماہ کی ہی بات ہے میرے والد صاحب کو دماغ پر فالج کا اٹیک ہوا ہے۔ اور بروقت طبی امداد کے باعث بمشکل بچت ہو پائی ہے۔ ایک بہن اور ایک بھائی کسی روڈ ایکسیڈنٹ کے باعث بالکل ٹھیک نہیں ہیں۔ جن کا علاج درکار ہے۔ میرے کاندھوں میری 3 بہنوں کی شادی کی ذمےداری بھی ہے۔اور سر بس کیا کیا بتاؤں آپ کو ذہنی پریشانی اور الجھنوں کے باعث میری صحت بھی کچھ ٹھیک نہیں رہتی۔بے پناہ قرض وبال جان بنا پڑا ہے۔ سر ایسے حالات میں اگر مجھے یہاں پر کسی قسم کی قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو سر میں تو پھر اسے بہتر مرنا پسند کروں گا۔ سر میرے پاس سفید پوشی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے مجھے ایسے اس انداز میں آپ کو تکلیف دینا بالکل اچھا نہیں لگ رہا۔ لیکن سر میرے پاس اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ آپ میری امید کی آخری کرن ہیں۔ سر میری مدد کریں یا پھر یہاں پر کوئی اپنا عزیز بتائیں جو میری مدد کر سکے۔ آپکو میرا شناختی کارڈ, پاسپورٹ، پرسنل چیک ضمانت کے طور پر جو بھی چاہیے ہوا میں آپ کو مہیا کر دوں گا۔ اور سر 8-6 ماہ کے اندر اندر آپکی رقم واپس لوٹا دوں گا۔ پر پلیز سر مایوس مت کیجئے گا۔ بڑی مشکل سے آپ سے رابطہ ہو پایا ہے۔ آپکا مجھ سمیت میرے خاندان کے بہت سے لوگوں پر زندگی بھر احسان رہے گا۔ سر میرے پاس فی الوقت وسائل کی کمی ہے جسکی وجہ سے یہاں دبئی میں ایک فلیٹ میٹ ہے اس کا کوئی پاکستان میں جاننے والا ہے۔ اس کے ذریعے سے پیغام بھیج رہا ہوں آپ تک۔ پلیز سر مدد کیجئے گا۔ سر مجھے اس طرح سے اس انداز میں آپ کو تکلیف دینا بالکل گوارہ نہیں لیکن سر میں بے انتہا مجبوری میں ہوں اور عاجزی کی انتہا پر آپ سے مدد کی اپیل ہے۔ اللہ رب العزت آپکے درجات میں مزید اضافہ فرمائے۔ آمین سر آپکے بر وقت جواب کا انتظار رہے گا۔ +971 52 3373100
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 1144 Visualizações
  • بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمَنِ الرَّحِيم*

    انسان بہت کچھ سیکھتا هے ‎لیکن جب تک دوسروں سے پیار کرنا دوسروں کو معاف کرنا اور دوسروں کی عزت کرنا نهیں سیکھ جاتا, سمجھو‎ ‎کچھ نہیں سیکھا‎.
    اے الله سخاوت والا رزق عاجزی والی عبادت بندگی والی زندگی اور ایمان والی موت نصیب فرما. هم پر خصوصی رحم و کرم فرما دنیا, وآخرت دونوں میں راہنمائ اور کامیابی عطاء فرما.

    *آمین یا رب العالمین*
    اسلام علیکم
    صبح بخیر
    بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمَنِ الرَّحِيم* ‏ انسان بہت کچھ سیکھتا هے ‎لیکن جب تک دوسروں سے پیار کرنا دوسروں کو معاف کرنا اور دوسروں کی عزت کرنا نهیں سیکھ جاتا, سمجھو‎ ‎کچھ نہیں سیکھا‎. اے الله سخاوت والا رزق عاجزی والی عبادت بندگی والی زندگی اور ایمان والی موت نصیب فرما. هم پر خصوصی رحم و کرم فرما دنیا, وآخرت دونوں میں راہنمائ اور کامیابی عطاء فرما. *آمین یا رب العالمین* اسلام علیکم صبح بخیر
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 288 Visualizações
  • ایک دن ایک نوجوان شیخ عبد القادر جیلانی کے پاس آیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اسے اپنا مرید بنالیں۔ شیخ، جو اپنی حکمت اور روحانی بصیرت کے لئے مشہور تھے، اس نوجوان کی اخلاص اور عاجزی کو پرکھنا چاہتے تھے۔

    شیخ عبد القادر جیلانی نے نوجوان کو ایک پرانی جوتی اور کھجوروں کی ایک تھیلی دی۔ انہوں نے اس سے کہا، "بازار جاؤ۔ ہر شخص کو ایک کھجور پیش کرو اور بدلے میں ان سے کہو کہ وہ تمہیں دو مرتبہ اس جوتی سے ماریں۔ یہ کام اس وقت تک جاری رکھو جب تک کہ تمام کھجوریں ختم نہ ہو جائیں۔"

    نوجوان، اگرچہ اس کام سے پریشان اور کچھ حد تک شرمندہ تھا، بغیر کسی سوال کے حکم کی تعمیل کی۔ وہ بازار گیا اور بالکل ویسا ہی کیا جیسا شیخ نے کہا تھا۔ لوگ اس پر ہنسے، کچھ لوگوں نے شرکت سے انکار کر دیا، لیکن کچھ نے کھجور لی اور اسے جوتی سے مارا۔

    تمام کھجوریں دینے کے بعد، نوجوان شیخ عبد القادر جیلانی کے پاس واپس آیا، تھکا ہوا اور زخمی لیکن دل میں عاجزی سے بھرا ہوا۔ شیخ نے اسے گرمجوشی سے خوش آمدید کہا اور اس کی اخلاص اور سیکھنے کی حقیقی خواہش کو پہچانتے ہوئے اسے اپنا مرید بنالیا۔

    یہ کہانی صوفی تعلیمات کو اجاگر کرتی ہے کہ حقیقی روحانی ترقی کے لئے نفس کی تحلیل اور عاجزی کی پرورش ضروری ہے۔ اس طرح کے چیلنجنگ آزمائشوں کے ذریعے، ایک سالک اپنی لگن اور روحانی راستے کے لئے تیاری کا ثبوت دے سکتا ہے۔
    ایک دن ایک نوجوان شیخ عبد القادر جیلانی کے پاس آیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اسے اپنا مرید بنالیں۔ شیخ، جو اپنی حکمت اور روحانی بصیرت کے لئے مشہور تھے، اس نوجوان کی اخلاص اور عاجزی کو پرکھنا چاہتے تھے۔ شیخ عبد القادر جیلانی نے نوجوان کو ایک پرانی جوتی اور کھجوروں کی ایک تھیلی دی۔ انہوں نے اس سے کہا، "بازار جاؤ۔ ہر شخص کو ایک کھجور پیش کرو اور بدلے میں ان سے کہو کہ وہ تمہیں دو مرتبہ اس جوتی سے ماریں۔ یہ کام اس وقت تک جاری رکھو جب تک کہ تمام کھجوریں ختم نہ ہو جائیں۔" نوجوان، اگرچہ اس کام سے پریشان اور کچھ حد تک شرمندہ تھا، بغیر کسی سوال کے حکم کی تعمیل کی۔ وہ بازار گیا اور بالکل ویسا ہی کیا جیسا شیخ نے کہا تھا۔ لوگ اس پر ہنسے، کچھ لوگوں نے شرکت سے انکار کر دیا، لیکن کچھ نے کھجور لی اور اسے جوتی سے مارا۔ تمام کھجوریں دینے کے بعد، نوجوان شیخ عبد القادر جیلانی کے پاس واپس آیا، تھکا ہوا اور زخمی لیکن دل میں عاجزی سے بھرا ہوا۔ شیخ نے اسے گرمجوشی سے خوش آمدید کہا اور اس کی اخلاص اور سیکھنے کی حقیقی خواہش کو پہچانتے ہوئے اسے اپنا مرید بنالیا۔ یہ کہانی صوفی تعلیمات کو اجاگر کرتی ہے کہ حقیقی روحانی ترقی کے لئے نفس کی تحلیل اور عاجزی کی پرورش ضروری ہے۔ اس طرح کے چیلنجنگ آزمائشوں کے ذریعے، ایک سالک اپنی لگن اور روحانی راستے کے لئے تیاری کا ثبوت دے سکتا ہے۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 371 Visualizações
  • ایک دن ایک نوجوان نے حضرت بایزید بسطامی کے پاس آکر ان سے درخواست کی کہ وہ اسے اپنا مرید بنالیں۔ حضرت بایزید بسطامی نے نوجوان کی خواہش کو پرکھنے کا فیصلہ کیا اور اسے ایک عجیب آزمائش میں ڈالا۔

    انہوں نے نوجوان سے کہا، "اگر تم میرے مرید بننا چاہتے ہو تو جاؤ اور شہر کے بازار میں گدھے پر سوار ہو کر شہر کی گلیوں میں چکر لگاؤ۔ اور لوگوں کو بتاؤ کہ تم پاگل ہو اور کسی بھی قسم کی ذلت برداشت کرو۔"

    نوجوان، جو حضرت بایزید بسطامی کی تعلیمات سے متاثر تھا، بغیر کسی سوال کے اس عجیب و غریب آزمائش کو قبول کیا۔ وہ گدھے پر سوار ہو کر بازار گیا اور لوگوں کو بتانے لگا کہ وہ پاگل ہے۔ لوگ اس پر ہنسے، اس کا مذاق اڑایا اور کچھ نے اسے پتھر بھی مارے۔

    لیکن نوجوان نے صبر اور عاجزی کا مظاہرہ کیا اور آزمائش کو مکمل کر کے واپس حضرت بایزید بسطامی کے پاس آیا۔ انہوں نے اسے گلے لگا کر کہا، "اب تم اس قابل ہو کہ تمہیں روحانی تعلیمات دی جا سکیں۔ تم نے اپنے نفس کو مغلوب کر لیا ہے اور اب تم حقیقتاً میری تعلیمات کو سمجھنے کے قابل ہو۔"

    یہ کہانی صوفی تعلیمات کی روح کو اجاگر کرتی ہے کہ نفس کی تحلیل، عاجزی اور صبر کے بغیر روحانی ترقی ممکن نہیں۔ اس طرح کی آزمائشیں انسان کو اس کے اندر کی خامیوں سے پاک کرتی ہیں اور اسے سچے روحانی راستے پر گامزن کرتی ہیں۔
    ایک دن ایک نوجوان نے حضرت بایزید بسطامی کے پاس آکر ان سے درخواست کی کہ وہ اسے اپنا مرید بنالیں۔ حضرت بایزید بسطامی نے نوجوان کی خواہش کو پرکھنے کا فیصلہ کیا اور اسے ایک عجیب آزمائش میں ڈالا۔ انہوں نے نوجوان سے کہا، "اگر تم میرے مرید بننا چاہتے ہو تو جاؤ اور شہر کے بازار میں گدھے پر سوار ہو کر شہر کی گلیوں میں چکر لگاؤ۔ اور لوگوں کو بتاؤ کہ تم پاگل ہو اور کسی بھی قسم کی ذلت برداشت کرو۔" نوجوان، جو حضرت بایزید بسطامی کی تعلیمات سے متاثر تھا، بغیر کسی سوال کے اس عجیب و غریب آزمائش کو قبول کیا۔ وہ گدھے پر سوار ہو کر بازار گیا اور لوگوں کو بتانے لگا کہ وہ پاگل ہے۔ لوگ اس پر ہنسے، اس کا مذاق اڑایا اور کچھ نے اسے پتھر بھی مارے۔ لیکن نوجوان نے صبر اور عاجزی کا مظاہرہ کیا اور آزمائش کو مکمل کر کے واپس حضرت بایزید بسطامی کے پاس آیا۔ انہوں نے اسے گلے لگا کر کہا، "اب تم اس قابل ہو کہ تمہیں روحانی تعلیمات دی جا سکیں۔ تم نے اپنے نفس کو مغلوب کر لیا ہے اور اب تم حقیقتاً میری تعلیمات کو سمجھنے کے قابل ہو۔" یہ کہانی صوفی تعلیمات کی روح کو اجاگر کرتی ہے کہ نفس کی تحلیل، عاجزی اور صبر کے بغیر روحانی ترقی ممکن نہیں۔ اس طرح کی آزمائشیں انسان کو اس کے اندر کی خامیوں سے پاک کرتی ہیں اور اسے سچے روحانی راستے پر گامزن کرتی ہیں۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 374 Visualizações
  • ایک دن ایک نوجوان حضرت نظام الدین اولیاء کے پاس آیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اسے اپنا مرید بنالیں۔ حضرت نظام الدین اولیاء نے اس کی اخلاص اور عاجزی کو جانچنے کا فیصلہ کیا۔

    انہوں نے نوجوان سے کہا، "اگر تم میرے مرید بننا چاہتے ہو تو جاؤ اور شہر کے مختلف گھروں میں جا کر کھانا مانگو۔ جو کچھ بھی تمہیں دیا جائے، اسے قبول کرو اور اس پر صبر کرو۔"

    نوجوان نے حضرت نظام الدین اولیاء کے حکم کی تعمیل کی۔ وہ شہر کے مختلف گھروں میں گیا اور کھانا مانگا۔ کچھ لوگوں نے اسے کھانا دیا، کچھ نے اس کا مذاق اڑایا، اور کچھ نے اسے بھگا دیا۔ لیکن نوجوان نے صبر اور عاجزی کا مظاہرہ کیا اور جو کچھ بھی ملا، اسے قبول کیا۔

    کئی دنوں بعد، جب نوجوان نے یہ آزمائش مکمل کر لی، تو وہ واپس حضرت نظام الدین اولیاء کے پاس آیا۔ حضرت نظام الدین اولیاء نے اس کی اخلاص اور عاجزی کو سراہا اور اسے اپنے مریدوں میں شامل کر لیا۔

    انہوں نے کہا، "تم نے ثابت کر دیا ہے کہ تمہارا نفس مغلوب ہو چکا ہے اور تم عاجزی کے راستے پر چلنے کے لئے تیار ہو۔ اب تم روحانی تعلیمات کو سیکھنے اور سمجھنے کے قابل ہو۔"

    یہ کہانی صوفی تعلیمات کی روح کو اجاگر کرتی ہے کہ روحانی ترقی کے لئے عاجزی، صبر، اور نفس کی تحلیل ضروری ہے۔ اس طرح کی آزمائشیں انسان کو اس کے اندر کی خامیوں سے پاک کرتی ہیں اور اسے سچے روحانی راستے پر گامزن کرتی ہیں۔
    ایک دن ایک نوجوان حضرت نظام الدین اولیاء کے پاس آیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اسے اپنا مرید بنالیں۔ حضرت نظام الدین اولیاء نے اس کی اخلاص اور عاجزی کو جانچنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے نوجوان سے کہا، "اگر تم میرے مرید بننا چاہتے ہو تو جاؤ اور شہر کے مختلف گھروں میں جا کر کھانا مانگو۔ جو کچھ بھی تمہیں دیا جائے، اسے قبول کرو اور اس پر صبر کرو۔" نوجوان نے حضرت نظام الدین اولیاء کے حکم کی تعمیل کی۔ وہ شہر کے مختلف گھروں میں گیا اور کھانا مانگا۔ کچھ لوگوں نے اسے کھانا دیا، کچھ نے اس کا مذاق اڑایا، اور کچھ نے اسے بھگا دیا۔ لیکن نوجوان نے صبر اور عاجزی کا مظاہرہ کیا اور جو کچھ بھی ملا، اسے قبول کیا۔ کئی دنوں بعد، جب نوجوان نے یہ آزمائش مکمل کر لی، تو وہ واپس حضرت نظام الدین اولیاء کے پاس آیا۔ حضرت نظام الدین اولیاء نے اس کی اخلاص اور عاجزی کو سراہا اور اسے اپنے مریدوں میں شامل کر لیا۔ انہوں نے کہا، "تم نے ثابت کر دیا ہے کہ تمہارا نفس مغلوب ہو چکا ہے اور تم عاجزی کے راستے پر چلنے کے لئے تیار ہو۔ اب تم روحانی تعلیمات کو سیکھنے اور سمجھنے کے قابل ہو۔" یہ کہانی صوفی تعلیمات کی روح کو اجاگر کرتی ہے کہ روحانی ترقی کے لئے عاجزی، صبر، اور نفس کی تحلیل ضروری ہے۔ اس طرح کی آزمائشیں انسان کو اس کے اندر کی خامیوں سے پاک کرتی ہیں اور اسے سچے روحانی راستے پر گامزن کرتی ہیں۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 342 Visualizações
  • ایک دن ایک نوجوان حضرت رابعہ بصری کے پاس آیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اسے اپنا مرید بنالیں۔ حضرت رابعہ بصری نے اس کی اخلاص اور عاجزی کو پرکھنے کا فیصلہ کیا۔

    انہوں نے نوجوان سے کہا، "اگر تم سچے دل سے اللہ کی محبت چاہتے ہو اور میری تعلیمات کو سیکھنا چاہتے ہو تو پہلے اپنے دل کو ہر قسم کی دنیاوی خواہشات اور خود پسندی سے پاک کرو۔ جاؤ اور شہر کے نچلے طبقے کے لوگوں کے ساتھ وقت گزارو، ان کی خدمت کرو، اور ان کے دکھ درد کو سمجھو۔"

    نوجوان نے حضرت رابعہ بصری کے حکم کی تعمیل کی۔ وہ شہر کے نچلے طبقے کے لوگوں کے ساتھ رہنے لگا، ان کی خدمت کی، اور ان کے دکھ درد کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اس نے اپنے دل کو دنیاوی خواہشات اور خود پسندی سے پاک کرنے کی کوشش کی۔

    کئی ماہ بعد، جب نوجوان نے یہ آزمائش مکمل کر لی، تو وہ واپس حضرت رابعہ بصری کے پاس آیا۔ حضرت رابعہ بصری نے اس کی اخلاص اور عاجزی کو سراہا اور اسے اپنے مریدوں میں شامل کر لیا۔

    انہوں نے کہا، "تم نے ثابت کر دیا ہے کہ تمہارا دل اللہ کی محبت کے لئے تیار ہے۔ اب تم میری تعلیمات کو سیکھنے اور سمجھنے کے قابل ہو۔"

    یہ کہانی صوفی تعلیمات کی روح کو اجاگر کرتی ہے کہ روحانی ترقی کے لئے دل کو ہر قسم کی دنیاوی خواہشات اور خود پسندی سے پاک کرنا ضروری ہے۔ اس طرح کی آزمائشیں انسان کو اس کے اندر کی خامیوں سے پاک کرتی ہیں اور اسے سچے روحانی راستے پر گامزن کرتی ہیں۔
    ایک دن ایک نوجوان حضرت رابعہ بصری کے پاس آیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اسے اپنا مرید بنالیں۔ حضرت رابعہ بصری نے اس کی اخلاص اور عاجزی کو پرکھنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے نوجوان سے کہا، "اگر تم سچے دل سے اللہ کی محبت چاہتے ہو اور میری تعلیمات کو سیکھنا چاہتے ہو تو پہلے اپنے دل کو ہر قسم کی دنیاوی خواہشات اور خود پسندی سے پاک کرو۔ جاؤ اور شہر کے نچلے طبقے کے لوگوں کے ساتھ وقت گزارو، ان کی خدمت کرو، اور ان کے دکھ درد کو سمجھو۔" نوجوان نے حضرت رابعہ بصری کے حکم کی تعمیل کی۔ وہ شہر کے نچلے طبقے کے لوگوں کے ساتھ رہنے لگا، ان کی خدمت کی، اور ان کے دکھ درد کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اس نے اپنے دل کو دنیاوی خواہشات اور خود پسندی سے پاک کرنے کی کوشش کی۔ کئی ماہ بعد، جب نوجوان نے یہ آزمائش مکمل کر لی، تو وہ واپس حضرت رابعہ بصری کے پاس آیا۔ حضرت رابعہ بصری نے اس کی اخلاص اور عاجزی کو سراہا اور اسے اپنے مریدوں میں شامل کر لیا۔ انہوں نے کہا، "تم نے ثابت کر دیا ہے کہ تمہارا دل اللہ کی محبت کے لئے تیار ہے۔ اب تم میری تعلیمات کو سیکھنے اور سمجھنے کے قابل ہو۔" یہ کہانی صوفی تعلیمات کی روح کو اجاگر کرتی ہے کہ روحانی ترقی کے لئے دل کو ہر قسم کی دنیاوی خواہشات اور خود پسندی سے پاک کرنا ضروری ہے۔ اس طرح کی آزمائشیں انسان کو اس کے اندر کی خامیوں سے پاک کرتی ہیں اور اسے سچے روحانی راستے پر گامزن کرتی ہیں۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 303 Visualizações
  • حضرت بہاؤ الدین نقشبند کے بارے میں ایک مشہور کہانی ہے جو عاجزی، خدمت، اور دل کی پاکیزگی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ کہانی کچھ اس طرح ہے:

    ### حضرت بہاؤ الدین نقشبند کی کہانی

    حضرت بہاؤ الدین نقشبند، جو نقشبندی سلسلے کے بانی ہیں، اپنی تعلیمات میں خدمت اور عاجزی کی اہمیت پر زور دیتے تھے۔ ایک دن ایک نوجوان ان کے پاس آیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اسے اپنا مرید بنالیں۔ حضرت بہاؤ الدین نقشبند نے اس کی اخلاص اور عاجزی کو پرکھنے کا فیصلہ کیا۔

    انہوں نے نوجوان سے کہا، "اگر تم سچے دل سے روحانی راستے پر چلنا چاہتے ہو تو جاؤ اور چالیس دن تک گاؤں کے بیت الخلاء صاف کرو۔" یہ کام اس لئے دیا گیا تاکہ نوجوان عاجزی سیکھ سکے اور اپنے دل کو تکبر اور غرور سے پاک کر سکے۔

    نوجوان، اگرچہ اس کام سے پریشان تھا، مگر اس نے بغیر کسی سوال کے حکم کی تعمیل کی۔ وہ ہر روز بیت الخلاء صاف کرتا، جسمانی تکلیف اور معاشرتی رسوائی کو برداشت کرتا رہا۔

    چالیس دن بعد، نوجوان حضرت بہاؤ الدین نقشبند کے پاس واپس آیا۔ اس کی لگن اور عاجزی کو دیکھ کر، حضرت بہاؤ الدین نقشبند نے اسے اپنے مریدوں میں شامل کر لیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حقیقی روحانی ترقی کے لئے نفس کی تحلیل ضروری ہے اور دوسروں کی خدمت کر کے اور خود کو عاجز بنا کر دل کو پاک کرنا پڑتا ہے۔

    ### حوالہ جات

    1. **"The Naqshbandi Sufi Way: History and Guidebook of the Saints of the Golden Chain" by Shaykh Muhammad Hisham Kabbani**:
    - یہ کتاب نقشبندی سلسلے کی تاریخ اور حضرت بہاؤ الدین نقشبند کی زندگی اور تعلیمات پر مشتمل ہے۔

    2. **"The Sufis" by Idries Shah**:
    - ادریس شاہ کی یہ کتاب مختلف صوفی بزرگوں کی زندگی اور تعلیمات کے بارے میں بصیرت فراہم کرتی ہے، جس میں عاجزی اور خدمت کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔

    3. **"Sufism: The Formative Period" by Ahmet T. Karamustafa**:
    - یہ کتاب صوفی عقائد اور اعمال کی تشکیل کے دور کو بیان کرتی ہے، جس میں روحانی راستے پر عاجزی اور خدمت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

    یہ حوالہ جات حضرت بہاؤ الدین نقشبند اور دیگر صوفی بزرگوں کی زندگی اور تعلیمات کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے ہیں، جو صوفی طریقت میں عاجزی، خدمت، اور دل کی پاکیزگی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
    حضرت بہاؤ الدین نقشبند کے بارے میں ایک مشہور کہانی ہے جو عاجزی، خدمت، اور دل کی پاکیزگی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ کہانی کچھ اس طرح ہے: ### حضرت بہاؤ الدین نقشبند کی کہانی حضرت بہاؤ الدین نقشبند، جو نقشبندی سلسلے کے بانی ہیں، اپنی تعلیمات میں خدمت اور عاجزی کی اہمیت پر زور دیتے تھے۔ ایک دن ایک نوجوان ان کے پاس آیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اسے اپنا مرید بنالیں۔ حضرت بہاؤ الدین نقشبند نے اس کی اخلاص اور عاجزی کو پرکھنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے نوجوان سے کہا، "اگر تم سچے دل سے روحانی راستے پر چلنا چاہتے ہو تو جاؤ اور چالیس دن تک گاؤں کے بیت الخلاء صاف کرو۔" یہ کام اس لئے دیا گیا تاکہ نوجوان عاجزی سیکھ سکے اور اپنے دل کو تکبر اور غرور سے پاک کر سکے۔ نوجوان، اگرچہ اس کام سے پریشان تھا، مگر اس نے بغیر کسی سوال کے حکم کی تعمیل کی۔ وہ ہر روز بیت الخلاء صاف کرتا، جسمانی تکلیف اور معاشرتی رسوائی کو برداشت کرتا رہا۔ چالیس دن بعد، نوجوان حضرت بہاؤ الدین نقشبند کے پاس واپس آیا۔ اس کی لگن اور عاجزی کو دیکھ کر، حضرت بہاؤ الدین نقشبند نے اسے اپنے مریدوں میں شامل کر لیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حقیقی روحانی ترقی کے لئے نفس کی تحلیل ضروری ہے اور دوسروں کی خدمت کر کے اور خود کو عاجز بنا کر دل کو پاک کرنا پڑتا ہے۔ ### حوالہ جات 1. **"The Naqshbandi Sufi Way: History and Guidebook of the Saints of the Golden Chain" by Shaykh Muhammad Hisham Kabbani**: - یہ کتاب نقشبندی سلسلے کی تاریخ اور حضرت بہاؤ الدین نقشبند کی زندگی اور تعلیمات پر مشتمل ہے۔ 2. **"The Sufis" by Idries Shah**: - ادریس شاہ کی یہ کتاب مختلف صوفی بزرگوں کی زندگی اور تعلیمات کے بارے میں بصیرت فراہم کرتی ہے، جس میں عاجزی اور خدمت کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ 3. **"Sufism: The Formative Period" by Ahmet T. Karamustafa**: - یہ کتاب صوفی عقائد اور اعمال کی تشکیل کے دور کو بیان کرتی ہے، جس میں روحانی راستے پر عاجزی اور خدمت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ حوالہ جات حضرت بہاؤ الدین نقشبند اور دیگر صوفی بزرگوں کی زندگی اور تعلیمات کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے ہیں، جو صوفی طریقت میں عاجزی، خدمت، اور دل کی پاکیزگی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 436 Visualizações
  • یہاں ایک اور مشہور کہانی ہے جو حضرت شمس تبریزی اور مولانا جلال الدین رومی کے بارے میں ہے، جو عاجزی، خدمت اور روحانی علم کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے:

    ### حضرت شمس تبریزی اور مولانا رومی کی کہانی

    مولانا جلال الدین رومی اپنے وقت کے ایک مشہور عالم تھے، جن کا درس اور وعظ بہت مقبول تھا۔ ایک دن حضرت شمس تبریزی، جو ایک عظیم صوفی بزرگ تھے، ان سے ملنے آئے۔ حضرت شمس تبریزی نے مولانا رومی کو روحانی علم کی گہرائیوں میں لے جانے کا فیصلہ کیا۔

    حضرت شمس تبریزی نے مولانا رومی سے کہا، "اگر تم واقعی روحانی علم اور معرفت چاہتے ہو تو تمہیں عاجزی اور خدمت کا راستہ اپنانا ہوگا۔" پھر انہوں نے مولانا رومی سے ایک عجیب آزمائش کرنے کا کہا۔

    حضرت شمس تبریزی نے مولانا رومی سے کہا، "جاؤ اور بازار میں سب کے سامنے ایک چھوٹی دکان لگاؤ اور کھانے پینے کی چیزیں بیچو۔ لوگوں کی باتیں اور مذاق برداشت کرو اور ہر شخص کی خدمت کرو جو تمہاری دکان پر آئے۔"

    مولانا رومی، جو کہ ایک عظیم عالم تھے، نے اس آزمائش کو قبول کیا اور بازار میں دکان لگا لی۔ انہوں نے لوگوں کی باتیں اور مذاق برداشت کیا اور ہر شخص کی خدمت کی۔ اس آزمائش نے مولانا رومی کے دل کو غرور اور تکبر سے پاک کر دیا اور ان میں حقیقی عاجزی پیدا کی۔

    کچھ عرصے بعد، مولانا رومی حضرت شمس تبریزی کے پاس واپس آئے۔ حضرت شمس تبریزی نے ان کی عاجزی اور اخلاص کو سراہا اور انہیں اپنے روحانی تعلیمات میں شامل کر لیا۔

    ### حوالہ جات

    1. **"The Forty Rules of Love" by Elif Shafak**:
    - یہ ناول مولانا رومی اور حضرت شمس تبریزی کی ملاقات اور ان کے درمیان روحانی تعلقات کے بارے میں ہے۔ اگرچہ یہ ناول ہے، لیکن اس میں بہت سی حقیقی تاریخی معلومات بھی شامل ہیں۔

    2. **"Rumi: The Path of Love" by Manuela Dunn Mascetti**:
    - یہ کتاب مولانا رومی کی زندگی اور حضرت شمس تبریزی کے ساتھ ان کی ملاقات کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتی ہے۔

    3. **"The Essential Rumi" translated by Coleman Barks**:
    - یہ کتاب مولانا رومی کی شاعری اور حضرت شمس تبریزی کے ساتھ ان کے روحانی سفر کی عکاسی کرتی ہے۔

    یہ کہانی اور حوالہ جات حضرت شمس تبریزی اور مولانا رومی کے روحانی سفر اور عاجزی، خدمت، اور روحانی علم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
    یہاں ایک اور مشہور کہانی ہے جو حضرت شمس تبریزی اور مولانا جلال الدین رومی کے بارے میں ہے، جو عاجزی، خدمت اور روحانی علم کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے: ### حضرت شمس تبریزی اور مولانا رومی کی کہانی مولانا جلال الدین رومی اپنے وقت کے ایک مشہور عالم تھے، جن کا درس اور وعظ بہت مقبول تھا۔ ایک دن حضرت شمس تبریزی، جو ایک عظیم صوفی بزرگ تھے، ان سے ملنے آئے۔ حضرت شمس تبریزی نے مولانا رومی کو روحانی علم کی گہرائیوں میں لے جانے کا فیصلہ کیا۔ حضرت شمس تبریزی نے مولانا رومی سے کہا، "اگر تم واقعی روحانی علم اور معرفت چاہتے ہو تو تمہیں عاجزی اور خدمت کا راستہ اپنانا ہوگا۔" پھر انہوں نے مولانا رومی سے ایک عجیب آزمائش کرنے کا کہا۔ حضرت شمس تبریزی نے مولانا رومی سے کہا، "جاؤ اور بازار میں سب کے سامنے ایک چھوٹی دکان لگاؤ اور کھانے پینے کی چیزیں بیچو۔ لوگوں کی باتیں اور مذاق برداشت کرو اور ہر شخص کی خدمت کرو جو تمہاری دکان پر آئے۔" مولانا رومی، جو کہ ایک عظیم عالم تھے، نے اس آزمائش کو قبول کیا اور بازار میں دکان لگا لی۔ انہوں نے لوگوں کی باتیں اور مذاق برداشت کیا اور ہر شخص کی خدمت کی۔ اس آزمائش نے مولانا رومی کے دل کو غرور اور تکبر سے پاک کر دیا اور ان میں حقیقی عاجزی پیدا کی۔ کچھ عرصے بعد، مولانا رومی حضرت شمس تبریزی کے پاس واپس آئے۔ حضرت شمس تبریزی نے ان کی عاجزی اور اخلاص کو سراہا اور انہیں اپنے روحانی تعلیمات میں شامل کر لیا۔ ### حوالہ جات 1. **"The Forty Rules of Love" by Elif Shafak**: - یہ ناول مولانا رومی اور حضرت شمس تبریزی کی ملاقات اور ان کے درمیان روحانی تعلقات کے بارے میں ہے۔ اگرچہ یہ ناول ہے، لیکن اس میں بہت سی حقیقی تاریخی معلومات بھی شامل ہیں۔ 2. **"Rumi: The Path of Love" by Manuela Dunn Mascetti**: - یہ کتاب مولانا رومی کی زندگی اور حضرت شمس تبریزی کے ساتھ ان کی ملاقات کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتی ہے۔ 3. **"The Essential Rumi" translated by Coleman Barks**: - یہ کتاب مولانا رومی کی شاعری اور حضرت شمس تبریزی کے ساتھ ان کے روحانی سفر کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ کہانی اور حوالہ جات حضرت شمس تبریزی اور مولانا رومی کے روحانی سفر اور عاجزی، خدمت، اور روحانی علم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 731 Visualizações
Páginas Impulsionadas