• وفاق المدارس العربيہ پاكستان اور لاہور كانفرنس كا پس منظر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وفاق المدارس العربيہ پاكستان وطن عزيز كے دينى مدارس كا سب سے بڑا ،منظم اور مظبوط تعليمى بورڈ ہے اس كى بنيادى ذمہ دارى ميں دينى مدارس كى حفاظت، رجسٹريشن، ترقى، نصاب سازى، امتحانات اور ڈگرى سے منسلك معاملات كو ديكھنا ہے۔ وفاق المدارس كے صدر استاذ العلماء شيخ الحديث حضرت مولانا سليم اللہ خان صاحب ہيں اور سيكٹرى جنرل مولانا قارى محمد حنيف جالندھرى صاحب ہيں وفاق كے تحت رجسٹرد مدارس اور ان كى ذيلى شاخوں كى تعداد 20 ہزار سے زائد ہے جن ميں 25 لاكھ طلبہ و طالبات دينى تعليم و تربيت حاصل كر رہے ہيں جن ميں طلبہ كى تعداد 16 لاكھ 61 ہزار 8 سو 55 ہے جبكہ طالبات كى تعداد 8 لاكھ 48 ہزار 6 سو 27 ہے۔ ان طلبہ و طالبات كے ليے 72 ہزار 3 سو 88 اساتذہ 30 ہزار 4 سو 6 معلمات 19ہزار 85 ديگر عملے كے افراد آج كے ہو شر با مہنگاہى كے دور ميں بھى واجبى سے حق الخدمت پر اپنى خدمات ايك دينى اور ملى فريضہ سمجھ كر ادا كر رہے ہيں۔
    اب تك شعبہ تحفيظ القرآن ميں وفاق 7 لاكھ 71 ہزار 9 سو 92 حفاظ اور 2 لاكھ 17 ہزار 6 سو 67 حافظات تيار كر چكا ہے۔ قرآن كريم كى اس عظيم خدمت كا ايسا منظم نٹ ورك دنيا ميں اور كہيں ديكھنے كو نہيں ملتا۔ شعبہ درس نظامى كے تحت فارغ التحصيل علماء كى تعداد 1 لاكھ 27 ہزار 2 ہے۔ يہ فارغ التحصيل نوجوان اپنى روايتى تعليم مكمل كرنے كے بعد ملك بھر كے دينى ،عصرى اور عسكرى اداروں ميں دينى وملى خدمات سر انجام دے رہے ہيں۔
    وفاق المدارس العربيہ نے اپنے قيام كے تين سال بعد 1960 ميں درس نظامى كے آخرى سال درجہ عالميہ كا امتحان سب سے پہلے منعقد كيا تھا اور پھر تدريجا مختلف درجات كے امتحانات بھى وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ہونے لگے۔ 1960 سے 2015 تك كے 55 سالوں ميں وفاق كے تحت مختلف درجات ميں 31 لاكھ84 ہزار 2 سو 98 طلبہ و طالبات نے امتحانات ديے ہيں جن كى درجہ وار تفصيل وفاق كى ويب سائٹ پر ديكھ جا سكتى ہے۔ وفاق كى كاركردگى كا جائزہ ليا جائے تو كہا جا سكتا ہے كہ اب تك اوسطا وفاق ہر سال 57 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات كے امتحان ليتا رہا ہے۔ گذشتہ دہائى سے ايك مخصوص سيكولر طبقہ نے مدارس كے خلاف ايك منفى اور حقارت آميز فضاء بنا ركھى ہے بد قسمتى سے اس دين بيزار طبقہ كو بيرونى آشير باد بھى حاصل رہى ہے اور پروپيگنڈہ كے تمام وسائل بھى اسے دستياب ہيں اس كے باوجود يہ عجيب اتفاق ہے كہ دينى مدارس ميں طلبہ كى تعداد ميں كمى كے بجائے مسلسل اضاف ديكھنے ميں آ رہا ہے۔
    اس كا اندازہ آپ اس سے لگا سكتے ہيں صرف گذشتہ سال 2015 ميں وفاق نے 2 لاكھ 65 ہزار 7 سو 95 طلبہ و طالبات كا امتحان ليا جن كے ليے ملك بھر ميں 1 ہزار 6 سو 91 امتحانى مراكز قائم كيے۔وفاق المدارس العربيہ نے ادارے كو مختلف انتظامى شعبہ جاتا ميں تقسيم كر ركھا ہے ان انتظامى شعبہ جاتات كى تعداد 25 ہے۔ وفاق كى يہ انتظامى تقسيم اس كے حسن انتظام اور سليقہ مندى كى نشاندہى كرتى ہے۔
    وفاق المدارس العربيہ كى دينى و ملى خدمات اس كے مضبوظ و مربوط نظام تعليم اور اس كے معيار كو ديكھتے ہوئے يونيورسٹى گرانٹس كميشن نے 17 نومبر 1982 كو وفاق المدارس كى شہادة العالميہ كى سند كو ايم اے عربى، ايم اے اسلاميات كے مساوى تسليم كر ليا تھا جس كے بعد دينى مدارس كے فضلاء كے ليے عصرى تعليمى اداروں ميں مزيد ايم فل پى ايچ ڈى جيسى اعلى تعليم كے دروازے بھى كھل گئے۔
    وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ملك كے طول و عرض ميں پھيلے ہوئے ہزاروں مدارس بلا شبہ تعليم كے ميدان ميں دنيا كى سب سے بڑى اين جى او كا نٹ ورك كہلائے جا سكتے ہيں۔ يہ ادارے طلبہ و طالبات كو نہ صرف مفت دينى تعليم ديتے ہيں بلكہ ان كو رہائش، خوراك ، لباس علاج معالجہ حتى كہ درسى كتب تك بلا معاوضہ مہيا كرتے ہيں۔ اكثر مدارس ميں رہائش پذير طلبہ كو جيب خرچ بھى ديا جاتا ہے۔ اس كے علاوہ تعليمى ميدان ميں نماياں كاميابياں حاصل كرنے والوں كى حوصلہ افزائى كے ليے انعامات بھى ديے جاتے ہيں۔
    ان پر اٹھنے والے اخراجات ہميشہ ہى موضوع بحث رہے ہيں اور جب كبھى مدارس كى كردار كشى شروع كى جاتى ہے اس كى بسم اللہ يہاں سے ہى كى جاتى ہے جبكہ حقائق يہ ميں نہ مانوں كى رٹ لگائے بيٹھے ايك لبرل طبقہ كے علاوہ سارے ملك كو معلوم ہے كہ ان مدارس كو معاشرے كے اصحاب ثروت مسلمانوں كے تعاون سے چلايا جاتا ہے وہ اپنى زكوة صدقات خيرات اور عطيات سے ان مدارس كى ضروريات پورے كرتے ہيں۔
    حكومتى ادارے بار ہاں ان معاملات كى چھان بين كر چكے ہيں خود وفاق كے اكابرين نے مدارس كے حوالے سے پائے جانے والے ہر قسم كے شكوك و شبہات كو دور كرنے كے ليے حكومت سے ہر سطح پر مكمل تعاون كيا ۔
    نائن اليون كے بعد باقاعدہ منصوبہ بندى سے دينى مدارس كى ان خدمات كو پس پشت ڈالا جانے لگا۔ مدارس كو يوں پيش كيا جانے لگا گويا دنيا بھر ميں پھلائى جانے والى تباہى اور فساد كے ذمہ دار يہى مدارس ہيں الميہ يہ ہے كہ صديوں سے جو ادارے خير كے مراكز سمجھے جا رہے تھے انہيں ہى شر كى آماجگاہيں قرار ديا جانے لگا اور اس سفيد جھوٹ كو سچ ثابت كرنے كے ليے ہر قسم كے اوچھے ہتھكنڈے استعمال كيے جانے لگے۔ دينى مدارس كے بارے ميں اتنا جھوٹ بولا جانے لگا كہ عام مسلمان تو رہے ايك طرف اچھے خاصے پڑھے لكھے حضرات جو ان اداروں سے كسى نہ كسى طرح كا تعلق ركھنے والے تھے وہ بھى شكوك و شبہات ميں الجھ كر ان اداروں سے محتاط ہونا شروع ہو گے۔
    كتنے دكھ كا مقام ہے كہ پاكستان كے دينى مدارس كا يہ عظيم نٹ ورك جو ہمارے سر كا تاج بن سكتا ہے اسے دنيا كے سامنے ہمارے بعض نا عاقبت انديش لوگ اپنے گلے كا طوق بنا كر پيش كر رہے ہيں۔ اسلام كے نام پر حاصل كردہ ملك ميں مدارس ہى پاكستان كى نظرياتى اساس كى حفاظت كے امين ہيں۔ انہيں نشانہ بنانا پاكستان كى اساس دو قومى نظريہ كو نشانہ بنانے كے مترادف ہے۔
    پاكستان كا مذہبى طبقہ سمجھتا ہے كہ پاكستان كا استحكام ان بنيادوں كو مضبوط كرنے سے ہى ممكن ہو پائے گا جن بنيادوں پر اسے ہمارے آباؤ اجداد نے حاصل كيا تھا ہمارے بڑے پاكستان كا مطلب كيا لا الہ اللہ كہتے كہتے شہيد ہو گے اور آج ان لاكھوں شہداء كے امين يہى دينى مدارس ہيں اور يہاں سے ہى وہ تمام تر نا مساعد حالات كے باوجود بزرگوں كے اس جذبے كو آنے والى نئى نسل تك پہچانے كا فريضہ سر انجام دے رہے ہيں۔
    اس پس منظر ميں وفاق المدارس العربيہ پاكستان كى قيادت نے بر وقت فيصلہ كرتے ہوئے 3 اپريل 2016 كو گلش اقبال پارك اقبال ٹاؤن لاہور ميں ايك عظيم الشان استحكام مدارس و پاكستان كانفرنس منققد كرنے كا فيصلہ كيا ہے ۔ آج كل مولانا قارى حنيف جالندھرى صاحب اپنى ٹيم كے ہمراہ دن رات اس كانفرنس كى تياريوں ميں مصروف ہيں۔ توقع كى جا رہى ہے كہ يہ عظيم الشان كانفرنس دينى مدارس كے خلاف ہونے والے عالمى سامراجى پروپيگنڈے كاتوڑ كرتےہوئے مدارس كے محكم و مثبت كردار كو اجاگر كرنے كى تحريك كى خشت اول بنے گى۔وفاق المدارس كے طرز عمل پر چلتے ہوئے پاكستان ميں مدارس كے دوسرے وفاق بھى ايسے ہى عملى اقدام اٹھائيں گے۔ جو دينى مدارس كے حقيقى كردار اور ضرورت كو معاشرے كے سامنے پيش كرنے ميں معاون ثابت ہو گے۔
    وفاق المدارس العربيہ پاكستان اور لاہور كانفرنس كا پس منظر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وفاق المدارس العربيہ پاكستان وطن عزيز كے دينى مدارس كا سب سے بڑا ،منظم اور مظبوط تعليمى بورڈ ہے اس كى بنيادى ذمہ دارى ميں دينى مدارس كى حفاظت، رجسٹريشن، ترقى، نصاب سازى، امتحانات اور ڈگرى سے منسلك معاملات كو ديكھنا ہے۔ وفاق المدارس كے صدر استاذ العلماء شيخ الحديث حضرت مولانا سليم اللہ خان صاحب ہيں اور سيكٹرى جنرل مولانا قارى محمد حنيف جالندھرى صاحب ہيں وفاق كے تحت رجسٹرد مدارس اور ان كى ذيلى شاخوں كى تعداد 20 ہزار سے زائد ہے جن ميں 25 لاكھ طلبہ و طالبات دينى تعليم و تربيت حاصل كر رہے ہيں جن ميں طلبہ كى تعداد 16 لاكھ 61 ہزار 8 سو 55 ہے جبكہ طالبات كى تعداد 8 لاكھ 48 ہزار 6 سو 27 ہے۔ ان طلبہ و طالبات كے ليے 72 ہزار 3 سو 88 اساتذہ 30 ہزار 4 سو 6 معلمات 19ہزار 85 ديگر عملے كے افراد آج كے ہو شر با مہنگاہى كے دور ميں بھى واجبى سے حق الخدمت پر اپنى خدمات ايك دينى اور ملى فريضہ سمجھ كر ادا كر رہے ہيں۔ اب تك شعبہ تحفيظ القرآن ميں وفاق 7 لاكھ 71 ہزار 9 سو 92 حفاظ اور 2 لاكھ 17 ہزار 6 سو 67 حافظات تيار كر چكا ہے۔ قرآن كريم كى اس عظيم خدمت كا ايسا منظم نٹ ورك دنيا ميں اور كہيں ديكھنے كو نہيں ملتا۔ شعبہ درس نظامى كے تحت فارغ التحصيل علماء كى تعداد 1 لاكھ 27 ہزار 2 ہے۔ يہ فارغ التحصيل نوجوان اپنى روايتى تعليم مكمل كرنے كے بعد ملك بھر كے دينى ،عصرى اور عسكرى اداروں ميں دينى وملى خدمات سر انجام دے رہے ہيں۔ وفاق المدارس العربيہ نے اپنے قيام كے تين سال بعد 1960 ميں درس نظامى كے آخرى سال درجہ عالميہ كا امتحان سب سے پہلے منعقد كيا تھا اور پھر تدريجا مختلف درجات كے امتحانات بھى وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ہونے لگے۔ 1960 سے 2015 تك كے 55 سالوں ميں وفاق كے تحت مختلف درجات ميں 31 لاكھ84 ہزار 2 سو 98 طلبہ و طالبات نے امتحانات ديے ہيں جن كى درجہ وار تفصيل وفاق كى ويب سائٹ پر ديكھ جا سكتى ہے۔ وفاق كى كاركردگى كا جائزہ ليا جائے تو كہا جا سكتا ہے كہ اب تك اوسطا وفاق ہر سال 57 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات كے امتحان ليتا رہا ہے۔ گذشتہ دہائى سے ايك مخصوص سيكولر طبقہ نے مدارس كے خلاف ايك منفى اور حقارت آميز فضاء بنا ركھى ہے بد قسمتى سے اس دين بيزار طبقہ كو بيرونى آشير باد بھى حاصل رہى ہے اور پروپيگنڈہ كے تمام وسائل بھى اسے دستياب ہيں اس كے باوجود يہ عجيب اتفاق ہے كہ دينى مدارس ميں طلبہ كى تعداد ميں كمى كے بجائے مسلسل اضاف ديكھنے ميں آ رہا ہے۔ اس كا اندازہ آپ اس سے لگا سكتے ہيں صرف گذشتہ سال 2015 ميں وفاق نے 2 لاكھ 65 ہزار 7 سو 95 طلبہ و طالبات كا امتحان ليا جن كے ليے ملك بھر ميں 1 ہزار 6 سو 91 امتحانى مراكز قائم كيے۔وفاق المدارس العربيہ نے ادارے كو مختلف انتظامى شعبہ جاتا ميں تقسيم كر ركھا ہے ان انتظامى شعبہ جاتات كى تعداد 25 ہے۔ وفاق كى يہ انتظامى تقسيم اس كے حسن انتظام اور سليقہ مندى كى نشاندہى كرتى ہے۔ وفاق المدارس العربيہ كى دينى و ملى خدمات اس كے مضبوظ و مربوط نظام تعليم اور اس كے معيار كو ديكھتے ہوئے يونيورسٹى گرانٹس كميشن نے 17 نومبر 1982 كو وفاق المدارس كى شہادة العالميہ كى سند كو ايم اے عربى، ايم اے اسلاميات كے مساوى تسليم كر ليا تھا جس كے بعد دينى مدارس كے فضلاء كے ليے عصرى تعليمى اداروں ميں مزيد ايم فل پى ايچ ڈى جيسى اعلى تعليم كے دروازے بھى كھل گئے۔ وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ملك كے طول و عرض ميں پھيلے ہوئے ہزاروں مدارس بلا شبہ تعليم كے ميدان ميں دنيا كى سب سے بڑى اين جى او كا نٹ ورك كہلائے جا سكتے ہيں۔ يہ ادارے طلبہ و طالبات كو نہ صرف مفت دينى تعليم ديتے ہيں بلكہ ان كو رہائش، خوراك ، لباس علاج معالجہ حتى كہ درسى كتب تك بلا معاوضہ مہيا كرتے ہيں۔ اكثر مدارس ميں رہائش پذير طلبہ كو جيب خرچ بھى ديا جاتا ہے۔ اس كے علاوہ تعليمى ميدان ميں نماياں كاميابياں حاصل كرنے والوں كى حوصلہ افزائى كے ليے انعامات بھى ديے جاتے ہيں۔ ان پر اٹھنے والے اخراجات ہميشہ ہى موضوع بحث رہے ہيں اور جب كبھى مدارس كى كردار كشى شروع كى جاتى ہے اس كى بسم اللہ يہاں سے ہى كى جاتى ہے جبكہ حقائق يہ ميں نہ مانوں كى رٹ لگائے بيٹھے ايك لبرل طبقہ كے علاوہ سارے ملك كو معلوم ہے كہ ان مدارس كو معاشرے كے اصحاب ثروت مسلمانوں كے تعاون سے چلايا جاتا ہے وہ اپنى زكوة صدقات خيرات اور عطيات سے ان مدارس كى ضروريات پورے كرتے ہيں۔ حكومتى ادارے بار ہاں ان معاملات كى چھان بين كر چكے ہيں خود وفاق كے اكابرين نے مدارس كے حوالے سے پائے جانے والے ہر قسم كے شكوك و شبہات كو دور كرنے كے ليے حكومت سے ہر سطح پر مكمل تعاون كيا ۔ نائن اليون كے بعد باقاعدہ منصوبہ بندى سے دينى مدارس كى ان خدمات كو پس پشت ڈالا جانے لگا۔ مدارس كو يوں پيش كيا جانے لگا گويا دنيا بھر ميں پھلائى جانے والى تباہى اور فساد كے ذمہ دار يہى مدارس ہيں الميہ يہ ہے كہ صديوں سے جو ادارے خير كے مراكز سمجھے جا رہے تھے انہيں ہى شر كى آماجگاہيں قرار ديا جانے لگا اور اس سفيد جھوٹ كو سچ ثابت كرنے كے ليے ہر قسم كے اوچھے ہتھكنڈے استعمال كيے جانے لگے۔ دينى مدارس كے بارے ميں اتنا جھوٹ بولا جانے لگا كہ عام مسلمان تو رہے ايك طرف اچھے خاصے پڑھے لكھے حضرات جو ان اداروں سے كسى نہ كسى طرح كا تعلق ركھنے والے تھے وہ بھى شكوك و شبہات ميں الجھ كر ان اداروں سے محتاط ہونا شروع ہو گے۔ كتنے دكھ كا مقام ہے كہ پاكستان كے دينى مدارس كا يہ عظيم نٹ ورك جو ہمارے سر كا تاج بن سكتا ہے اسے دنيا كے سامنے ہمارے بعض نا عاقبت انديش لوگ اپنے گلے كا طوق بنا كر پيش كر رہے ہيں۔ اسلام كے نام پر حاصل كردہ ملك ميں مدارس ہى پاكستان كى نظرياتى اساس كى حفاظت كے امين ہيں۔ انہيں نشانہ بنانا پاكستان كى اساس دو قومى نظريہ كو نشانہ بنانے كے مترادف ہے۔ پاكستان كا مذہبى طبقہ سمجھتا ہے كہ پاكستان كا استحكام ان بنيادوں كو مضبوط كرنے سے ہى ممكن ہو پائے گا جن بنيادوں پر اسے ہمارے آباؤ اجداد نے حاصل كيا تھا ہمارے بڑے پاكستان كا مطلب كيا لا الہ اللہ كہتے كہتے شہيد ہو گے اور آج ان لاكھوں شہداء كے امين يہى دينى مدارس ہيں اور يہاں سے ہى وہ تمام تر نا مساعد حالات كے باوجود بزرگوں كے اس جذبے كو آنے والى نئى نسل تك پہچانے كا فريضہ سر انجام دے رہے ہيں۔ اس پس منظر ميں وفاق المدارس العربيہ پاكستان كى قيادت نے بر وقت فيصلہ كرتے ہوئے 3 اپريل 2016 كو گلش اقبال پارك اقبال ٹاؤن لاہور ميں ايك عظيم الشان استحكام مدارس و پاكستان كانفرنس منققد كرنے كا فيصلہ كيا ہے ۔ آج كل مولانا قارى حنيف جالندھرى صاحب اپنى ٹيم كے ہمراہ دن رات اس كانفرنس كى تياريوں ميں مصروف ہيں۔ توقع كى جا رہى ہے كہ يہ عظيم الشان كانفرنس دينى مدارس كے خلاف ہونے والے عالمى سامراجى پروپيگنڈے كاتوڑ كرتےہوئے مدارس كے محكم و مثبت كردار كو اجاگر كرنے كى تحريك كى خشت اول بنے گى۔وفاق المدارس كے طرز عمل پر چلتے ہوئے پاكستان ميں مدارس كے دوسرے وفاق بھى ايسے ہى عملى اقدام اٹھائيں گے۔ جو دينى مدارس كے حقيقى كردار اور ضرورت كو معاشرے كے سامنے پيش كرنے ميں معاون ثابت ہو گے۔
    0 Комментарии 0 Поделились 355 Просмотры
  • میری طرف سے آپ کے لیئے امن اور سلامتی کا پیغام ۔

    دنیا میں ھر کارباری اور صنعت کار کی خواہش ھوتی ھے کہ اسکے لیے کام کرنے والا منجھا ھوا ھو تاکہ اسکا کاروبار بہترین چلے۔ انٹرویو دیکھکر تھوڑی سی مایوسی ھوئ شائد آپ دونوں وہ وقت بھول گئے جب آپ دونوں ھی تنکے کے سہارے تلاش کر ھے تھے لیکن لگاتار اپنی جسمانی ، ذھنی مشقت اور ضدی طبیعت کے باعث مالی بحرانوں سے نکل آے۔

    آپ دونوں کی نیت پر شک نہی کیا جا سکتا کہ آپ پاکستانی جوانوں کی معاشی اور معاشرتی ابتری سے پریشان ھیں ۔ جن بچوں کو آپ طریقئہ کاروبار بلخصوص آئ ۔ ٹی کے حوالے سے سکھلانے نکلے ھیں انکے معاشی اور معاشرتی رویوں اور حالات کا تجزیہ آپکو اپنے موجودہ معشای حالات کی بنیاد پر نہی اپنے ابتدائ ادوار کی بنیاد پر کرنا چاھیے۔

    ھمارے ھاں آئ ۔ ٹی نیا ھے آن لائین کام کا خوب شور شرابہ ھے اسکے لیے ریحان صاحب کی تجویز کہ ان بچوں کی ذمہ داری لی جائے جنمیں اس کام کو کرنے کی لگن اور ضد پائ جائے۔ میرا نہی خیال کہ آپکو بچے تلاش کرنے میں مشکل ھو گی۔ طریقہ کار اور آپکی لگن میں کمی ھو سکتی ھے اسپر تنقیدی جائزہ لیں۔

    بچہ جب چن لیا جائے تو اس بات آپنے اپنے آپ سے وعدہ کرنا ھے کہ تربیت کی میعاد ھر صورت میں پوری کرنی ھے بلکل ایسے ھی جیسے کسی سکول میں کچی پکی کلاس کا بچہ داخل ھوتا ھے لیکن ھر کوئ کوشش میں ھوتا ھے کہ پڑھائ \ تربیت مکلمل ھو [ میری رائے میں آپ دونوں ] اس نقطے پر توجہ نہی دے رھے، اور کوشش میں ھیں کہ بچہ فوری اپنے پاوں پر کھڑا ھو جائے اور شائد تھوڑے سے مطلبی بھی ۔

    بچے کو بلا کسی زاتی مفاد کے کام سکھایے ۔ اگر آپ انکی دال روٹی کا خیال رکھیں گے تو وہ بچہ آپکے لیے کافی عرصے تک فائدہ مند ثابت ھو سکتا ھے ۔ بچوں کی تربیت کا سلسلہ جاری رکھتے رھیں ۔ بلکل ایک سکول یا فوجی ادارے یا بنک کے ادارے یا سرکار ادارے کی طرح جو بچہ اگلا کورس کاروبار کے ساتھ کرتا رھے مالی اور عہدے کی ترقی کا اھل اھلیت کی بنیاد پر پائے گا۔

    قاسم حسین صاحب کے لیے وقت مسلہ ھے انکو چاھیے کہ اپنے ھاتھ سے کام کرنا چھوڑ دیں دوسروں پر ذمہ داری بتجریج ڈالتے رھیں لیکن گہری نظر رکھیں ایک سال کا ٹارگٹ رکھیں وقت فالتو ھو گا ۔ قاسم صاحب خوف سے نکلیں کہ میرے بغیر کاروبار خراب ھو گا ۔

    بنیادی نقطہ مد نظر رھے کہ آپ نے کام بلا کسی مالی فائدے کے کرنا ھے۔ اسی میں سبکی بھلائ ھے۔ مالی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔۔ جن لوگوں اقوام کی مثالیں آپ دیتے ھیں انھوں پچیس تیس سال لگایے ھیں اور لگاتار مالی انویسٹمنٹ کر ھے ھیں۔

    Faisal Pony Wala
    فیصل پونی والا
    میری طرف سے آپ کے لیئے امن اور سلامتی کا پیغام ۔ دنیا میں ھر کارباری اور صنعت کار کی خواہش ھوتی ھے کہ اسکے لیے کام کرنے والا منجھا ھوا ھو تاکہ اسکا کاروبار بہترین چلے۔ انٹرویو دیکھکر تھوڑی سی مایوسی ھوئ شائد آپ دونوں وہ وقت بھول گئے جب آپ دونوں ھی تنکے کے سہارے تلاش کر ھے تھے لیکن لگاتار اپنی جسمانی ، ذھنی مشقت اور ضدی طبیعت کے باعث مالی بحرانوں سے نکل آے۔ آپ دونوں کی نیت پر شک نہی کیا جا سکتا کہ آپ پاکستانی جوانوں کی معاشی اور معاشرتی ابتری سے پریشان ھیں ۔ جن بچوں کو آپ طریقئہ کاروبار بلخصوص آئ ۔ ٹی کے حوالے سے سکھلانے نکلے ھیں انکے معاشی اور معاشرتی رویوں اور حالات کا تجزیہ آپکو اپنے موجودہ معشای حالات کی بنیاد پر نہی اپنے ابتدائ ادوار کی بنیاد پر کرنا چاھیے۔ ھمارے ھاں آئ ۔ ٹی نیا ھے آن لائین کام کا خوب شور شرابہ ھے اسکے لیے ریحان صاحب کی تجویز کہ ان بچوں کی ذمہ داری لی جائے جنمیں اس کام کو کرنے کی لگن اور ضد پائ جائے۔ میرا نہی خیال کہ آپکو بچے تلاش کرنے میں مشکل ھو گی۔ طریقہ کار اور آپکی لگن میں کمی ھو سکتی ھے اسپر تنقیدی جائزہ لیں۔ بچہ جب چن لیا جائے تو اس بات آپنے اپنے آپ سے وعدہ کرنا ھے کہ تربیت کی میعاد ھر صورت میں پوری کرنی ھے بلکل ایسے ھی جیسے کسی سکول میں کچی پکی کلاس کا بچہ داخل ھوتا ھے لیکن ھر کوئ کوشش میں ھوتا ھے کہ پڑھائ \ تربیت مکلمل ھو [ میری رائے میں آپ دونوں ] اس نقطے پر توجہ نہی دے رھے، اور کوشش میں ھیں کہ بچہ فوری اپنے پاوں پر کھڑا ھو جائے اور شائد تھوڑے سے مطلبی بھی ۔ بچے کو بلا کسی زاتی مفاد کے کام سکھایے ۔ اگر آپ انکی دال روٹی کا خیال رکھیں گے تو وہ بچہ آپکے لیے کافی عرصے تک فائدہ مند ثابت ھو سکتا ھے ۔ بچوں کی تربیت کا سلسلہ جاری رکھتے رھیں ۔ بلکل ایک سکول یا فوجی ادارے یا بنک کے ادارے یا سرکار ادارے کی طرح جو بچہ اگلا کورس کاروبار کے ساتھ کرتا رھے مالی اور عہدے کی ترقی کا اھل اھلیت کی بنیاد پر پائے گا۔ قاسم حسین صاحب کے لیے وقت مسلہ ھے انکو چاھیے کہ اپنے ھاتھ سے کام کرنا چھوڑ دیں دوسروں پر ذمہ داری بتجریج ڈالتے رھیں لیکن گہری نظر رکھیں ایک سال کا ٹارگٹ رکھیں وقت فالتو ھو گا ۔ قاسم صاحب خوف سے نکلیں کہ میرے بغیر کاروبار خراب ھو گا ۔ بنیادی نقطہ مد نظر رھے کہ آپ نے کام بلا کسی مالی فائدے کے کرنا ھے۔ اسی میں سبکی بھلائ ھے۔ مالی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔۔ جن لوگوں اقوام کی مثالیں آپ دیتے ھیں انھوں پچیس تیس سال لگایے ھیں اور لگاتار مالی انویسٹمنٹ کر ھے ھیں۔ Faisal Pony Wala فیصل پونی والا
    0 Комментарии 0 Поделились 230 Просмотры
  • ایک پانی سے بھرے برتن میں ایک زندہ مینڈک ڈالیں اور پانی کو گرم کرنا شروع کریں - جیسے ہی پانی کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو گا ، مینڈک بھی اپنی باڈی کا درجہ حرارت پانی کے مطابق ایڈجسٹ کرے گا اور تب تک کرتا رہے گا جب تک پانی کا درجہ حرارت "بوائلنگ پوائنٹ" تک نہیں پہنچ جاتا ۔۔۔۔
    جیسے ہی پانی کا ٹمپریچر بوائلنگ پوائنٹ تک پہنچے گا تو مینڈک اپنی باڈی کا ٹمپریچر پانی کے ٹمپریچر کے مطابق ایڈجسٹ نہیں کر پائے گا اور برتن سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا لیکن ایسا کر نہیں پائے گا کیونکہ تب تک مینڈک اپنی ساری توانائی خود کو "ماحول کے مطابق" ڈھالنے میں صرف کر چکا ہو گا
    بہت جلد مینڈک مر جائے گا۔۔۔
    یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے
    "وہ کونسی چیز ہے جس نے مینڈک کو مارا؟"
    سوچیئے!
    میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے اکثر یہ کہیں گے کہ
    مینڈک کو مارنے والی چیز وہ "بے غیرت انسان" ہے جس نے مینڈک کو پانی میں ڈالا
    یا پھر کچھ یہ کہیں گے کہ
    مینڈک اُبلتے ہوئے پانی کی وجہ سے مرا۔۔۔
    لیکن،
    سچ یہ ہے کہ مینڈک صرف اس وجہ سے مرا کیونکہ وہ وقت پر جمپ کرنے کا فیصلہ نہ کر سکا اور خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے میں لگا رہا ۔۔۔
    ہماری زندگیوں میں بھی ایسے بہت سے لمحات آتے ہیں جب ہمیں خود کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے خیال رکھیں کہ کب آپ نے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا ہے اور کب حالات کو اپنے مطابق ۔۔۔۔
    اگر ہم دوسروں کو اپنی زندگیوں کے ساتھ جسمانی، جذباتی، مالی، روحانی اور دماغی طور پر کھیلنے کا موقع دیں گے تو وہ ایسا کرتے ہی رہیں گے
    اس لیے وقت اور توانائی رہتے "جمپ" کرنے کا فیصلہ کریں ۔۔۔
    اور ہر دفعہ کنوئیں کا مینڈک بننے سے پرہیز کریں ۔۔۔

    -ایک فیس بکی پوسٹ سے اقتباس

    Via Lubna Shakoor
    ایک پانی سے بھرے برتن میں ایک زندہ مینڈک ڈالیں اور پانی کو گرم کرنا شروع کریں - جیسے ہی پانی کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو گا ، مینڈک بھی اپنی باڈی کا درجہ حرارت پانی کے مطابق ایڈجسٹ کرے گا اور تب تک کرتا رہے گا جب تک پانی کا درجہ حرارت "بوائلنگ پوائنٹ" تک نہیں پہنچ جاتا ۔۔۔۔ جیسے ہی پانی کا ٹمپریچر بوائلنگ پوائنٹ تک پہنچے گا تو مینڈک اپنی باڈی کا ٹمپریچر پانی کے ٹمپریچر کے مطابق ایڈجسٹ نہیں کر پائے گا اور برتن سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا لیکن ایسا کر نہیں پائے گا کیونکہ تب تک مینڈک اپنی ساری توانائی خود کو "ماحول کے مطابق" ڈھالنے میں صرف کر چکا ہو گا بہت جلد مینڈک مر جائے گا۔۔۔ یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے "وہ کونسی چیز ہے جس نے مینڈک کو مارا؟" سوچیئے! میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے اکثر یہ کہیں گے کہ مینڈک کو مارنے والی چیز وہ "بے غیرت انسان" ہے جس نے مینڈک کو پانی میں ڈالا یا پھر کچھ یہ کہیں گے کہ مینڈک اُبلتے ہوئے پانی کی وجہ سے مرا۔۔۔ لیکن، سچ یہ ہے کہ مینڈک صرف اس وجہ سے مرا کیونکہ وہ وقت پر جمپ کرنے کا فیصلہ نہ کر سکا اور خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے میں لگا رہا ۔۔۔ ہماری زندگیوں میں بھی ایسے بہت سے لمحات آتے ہیں جب ہمیں خود کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے خیال رکھیں کہ کب آپ نے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا ہے اور کب حالات کو اپنے مطابق ۔۔۔۔ اگر ہم دوسروں کو اپنی زندگیوں کے ساتھ جسمانی، جذباتی، مالی، روحانی اور دماغی طور پر کھیلنے کا موقع دیں گے تو وہ ایسا کرتے ہی رہیں گے اس لیے وقت اور توانائی رہتے "جمپ" کرنے کا فیصلہ کریں ۔۔۔ اور ہر دفعہ کنوئیں کا مینڈک بننے سے پرہیز کریں ۔۔۔ -ایک فیس بکی پوسٹ سے اقتباس Via Lubna Shakoor
    0 Комментарии 0 Поделились 128 Просмотры
  • نہ جانے کون سے لمحے میں
    ھم مٹی میں مل جائیں

    چلو کچھ کام کر جائیں
    کسی کے کام آ جائیں
    کوئی رستہ سُجھا جائیں
    کوئی بستہ تھما جائیں
    کسی کی رھنمائی اور
    کسی کا گھر بنا جائیں
    کہیں فکری ضرورت ھے
    کہیں عملی ضرورت ھے
    نئی فکریں جگا جائیں
    چلو کچھ کام کر جائیں

    ابھی بھی وقت ھے یارو
    اے علم و فن کے ھرکارو
    جو سیکھا ھے سکھا جاؤ
    جو دیکھا ھے دِکھا جاؤ
    رسائی سوچ کی اپنی
    گلی کوچوں میں پھیلاؤ
    فروغ نسل کی خاطر
    ذرا سا وقت دے جاؤ
    کوئی تبدیلی لے آئیں
    چلو کچھ کام کر جائیں

    من و سلویٰ نہ آئے گا
    زمانہ نوچ کھائے گا
    خودی کو جو جگائے گا
    وھی تو آگے آئے گا
    محض باتوں سے تبدیلی
    کوئی بھی لا نہ پائے گا
    تمہی امید ِ اوّل ھو
    تمہی سے رنگ آئے گا
    سبق آموز ھو جائیں
    چلو کچھ کام کر جائیں

    Via Hameed Garbagewala
    نہ جانے کون سے لمحے میں ھم مٹی میں مل جائیں چلو کچھ کام کر جائیں کسی کے کام آ جائیں کوئی رستہ سُجھا جائیں کوئی بستہ تھما جائیں کسی کی رھنمائی اور کسی کا گھر بنا جائیں کہیں فکری ضرورت ھے کہیں عملی ضرورت ھے نئی فکریں جگا جائیں چلو کچھ کام کر جائیں ابھی بھی وقت ھے یارو اے علم و فن کے ھرکارو جو سیکھا ھے سکھا جاؤ جو دیکھا ھے دِکھا جاؤ رسائی سوچ کی اپنی گلی کوچوں میں پھیلاؤ فروغ نسل کی خاطر ذرا سا وقت دے جاؤ کوئی تبدیلی لے آئیں چلو کچھ کام کر جائیں من و سلویٰ نہ آئے گا زمانہ نوچ کھائے گا خودی کو جو جگائے گا وھی تو آگے آئے گا محض باتوں سے تبدیلی کوئی بھی لا نہ پائے گا تمہی امید ِ اوّل ھو تمہی سے رنگ آئے گا سبق آموز ھو جائیں چلو کچھ کام کر جائیں Via Hameed Garbagewala
    0 Комментарии 0 Поделились 392 Просмотры
  • نہ جانے کون سے لمحے میں
    ھم سب مٹی میں مل جائیں

    چلو کچھ کام کر جائیں
    کسی کے کام آ جائیں
    کوئی رستہ سُجھا جائیں
    کوئی بستہ تھما جائیں
    کسی کی رھنمائی اور
    کسی کا گھر بنا جائیں
    کہیں فکری ضرورت ھے
    کہیں عملی ضرورت ھے
    نئی فکریں جگا جائیں
    چلو کچھ کام کر جائیں

    ابھی بھی وقت ھے یارو
    اے علم و فن کے ھرکارو
    جو سیکھا ھے سکھا جاؤ
    جو دیکھا ھے دِکھا جاؤ
    رسائی سوچ کی اپنی
    گلی کوچوں میں پھیلاؤ
    فروغ نسل کی خاطر
    ذرا سا وقت دے جاؤ
    کوئی تبدیلی لے آئیں
    چلو کچھ کام کر جائیں

    من و سلویٰ نہ آئے گا
    زمانہ نوچ کھائے گا
    خودی کو جو جگائے گا
    وھی تو آگے آئے گا
    محض باتوں سے تبدیلی
    کوئی بھی لا نہ پائے گا
    تمہی امیدِ اوّل ھو
    تمہی سے رنگ آئے گا
    سبق آموز ھو جائیں
    چلو کچھ کام کر جائیں

    Via Nauman Imtiaz
    نہ جانے کون سے لمحے میں ھم سب مٹی میں مل جائیں چلو کچھ کام کر جائیں کسی کے کام آ جائیں کوئی رستہ سُجھا جائیں کوئی بستہ تھما جائیں کسی کی رھنمائی اور کسی کا گھر بنا جائیں کہیں فکری ضرورت ھے کہیں عملی ضرورت ھے نئی فکریں جگا جائیں چلو کچھ کام کر جائیں ابھی بھی وقت ھے یارو اے علم و فن کے ھرکارو جو سیکھا ھے سکھا جاؤ جو دیکھا ھے دِکھا جاؤ رسائی سوچ کی اپنی گلی کوچوں میں پھیلاؤ فروغ نسل کی خاطر ذرا سا وقت دے جاؤ کوئی تبدیلی لے آئیں چلو کچھ کام کر جائیں من و سلویٰ نہ آئے گا زمانہ نوچ کھائے گا خودی کو جو جگائے گا وھی تو آگے آئے گا محض باتوں سے تبدیلی کوئی بھی لا نہ پائے گا تمہی امیدِ اوّل ھو تمہی سے رنگ آئے گا سبق آموز ھو جائیں چلو کچھ کام کر جائیں Via Nauman Imtiaz
    0 Комментарии 0 Поделились 118 Просмотры
  • 1. چیٹ جی پی ٹی کی روشنی، ہر گھر کو علم سے روشن کرے
    غربت کا جو اندھیرا ہے، اسے تعلیم سے روشن کرے

    2. علم کی جو دنیا ہے، وہ چیٹ جی پی ٹی سے کھلتی ہے
    اس کی مدد سے ہر مشکل، راہیں آسان چلتی ہیں

    3. ہر گاؤں کو روشنی دیں، ہر شہر کو بلند کریں
    چیٹ جی پی ٹی کی تعلیم سے، علم کے خواب سند کریں

    4. جو بوجھ غربت کا ہے، وہ ہنر سے ہلکا کر دیں
    چیٹ جی پی ٹی کی طاقت سے، ہر شخص کو خوددار کر دیں

    5. جسے تعلیم ملے گی، اس کی زندگی بدل جائے گی
    چیٹ جی پی ٹی کی رہنمائی، ہر امید کو جگا جائے گی

    6. پڑھنے کا حق ہر شخص کا، یہ چیٹ جی پی ٹی جانتا ہے
    ہر نوجوان کو تعلیم دے کر، غربت کا خاتمہ مانتا ہے

    7. چیٹ جی پی ٹی کی رہنمائی، مستقبل کو محفوظ کرے
    علم کی ہر کرن لے کر، ہر نوجوان کو روشن کرے

    8. علم کی روشنی پھیلائیں، ہر فرد کو روشن کریں
    چیٹ جی پی ٹی کا ساتھ ہو، تو خوابوں کو حقیقت بنائیں

    9. غربت کا جو حل ڈھونڈا، وہ علم میں ہی پنہاں ہے
    چیٹ جی پی ٹی کا ہنر ہے، جو علم کا ترجمان ہے

    10. چیٹ جی پی ٹی کی تعلیم، ہر بچہ حاصل کر پائے
    پڑھنے کا جو خواب ہے، وہ حقیقت کا روپ بن جائے

    11. چیٹ جی پی ٹی کا علم، نئی راہیں دکھاتا ہے
    ہر شخص کو اس کی مدد سے، منزل تک پہنچاتا ہے

    12. علم کا سمندر ہے، جو ہر دل میں بھر سکتا ہے
    چیٹ جی پی ٹی کی موجیں، ہر شخص کو ہنر دے سکتا ہے

    13. چیٹ جی پی ٹی کا سافٹ ویئر، علم کو عام کرتا ہے
    ہر شخص کو بااختیار، اپنے پاؤں پر کھڑا کرتا ہے

    14. پڑھائی کا جو راستہ، چیٹ جی پی ٹی بتاتا ہے
    غربت کو بھگا کر، علم سے گھر کو سجاتا ہے

    15. علم کی یہ شمع ہے، جو جلتی چیٹ جی پی ٹی سے ہے
    ہر ذہن کو روشن کرے، یہ طاقت چیٹ جی پی ٹی سے ہے

    16. غربت کا جو خاتمہ ہے، وہ علم سے ہی ممکن ہے
    چیٹ جی پی ٹی کا ہاتھ ہو، تو ہر شخص قابل فہم ہے

    17. جو خواب علم کا ہے، وہ چیٹ جی پی ٹی سے پورا ہو
    غربت کی جو دیوار ہے، اسے تعلیم کی تلوار سے توڑا ہو

    18. چیٹ جی پی ٹی کا پیغام، ہر گھر میں اب پھیلے گا
    غربت کا جو اندھیرا ہے، وہ علم سے اب ڈھل جائے گا

    19. چیٹ جی پی ٹی کا علم، ہر گھر میں عام کریں
    تعلیم سے غربت کو، ہر ذہن میں نام کریں

    20. علم کا جو خزانہ ہے، وہ چیٹ جی پی ٹی سے ملتا ہے
    ہر دل کو علم کی روشنی، غربت کے اندھیرے میں جمتا ہے
    1. چیٹ جی پی ٹی کی روشنی، ہر گھر کو علم سے روشن کرے غربت کا جو اندھیرا ہے، اسے تعلیم سے روشن کرے 2. علم کی جو دنیا ہے، وہ چیٹ جی پی ٹی سے کھلتی ہے اس کی مدد سے ہر مشکل، راہیں آسان چلتی ہیں 3. ہر گاؤں کو روشنی دیں، ہر شہر کو بلند کریں چیٹ جی پی ٹی کی تعلیم سے، علم کے خواب سند کریں 4. جو بوجھ غربت کا ہے، وہ ہنر سے ہلکا کر دیں چیٹ جی پی ٹی کی طاقت سے، ہر شخص کو خوددار کر دیں 5. جسے تعلیم ملے گی، اس کی زندگی بدل جائے گی چیٹ جی پی ٹی کی رہنمائی، ہر امید کو جگا جائے گی 6. پڑھنے کا حق ہر شخص کا، یہ چیٹ جی پی ٹی جانتا ہے ہر نوجوان کو تعلیم دے کر، غربت کا خاتمہ مانتا ہے 7. چیٹ جی پی ٹی کی رہنمائی، مستقبل کو محفوظ کرے علم کی ہر کرن لے کر، ہر نوجوان کو روشن کرے 8. علم کی روشنی پھیلائیں، ہر فرد کو روشن کریں چیٹ جی پی ٹی کا ساتھ ہو، تو خوابوں کو حقیقت بنائیں 9. غربت کا جو حل ڈھونڈا، وہ علم میں ہی پنہاں ہے چیٹ جی پی ٹی کا ہنر ہے، جو علم کا ترجمان ہے 10. چیٹ جی پی ٹی کی تعلیم، ہر بچہ حاصل کر پائے پڑھنے کا جو خواب ہے، وہ حقیقت کا روپ بن جائے 11. چیٹ جی پی ٹی کا علم، نئی راہیں دکھاتا ہے ہر شخص کو اس کی مدد سے، منزل تک پہنچاتا ہے 12. علم کا سمندر ہے، جو ہر دل میں بھر سکتا ہے چیٹ جی پی ٹی کی موجیں، ہر شخص کو ہنر دے سکتا ہے 13. چیٹ جی پی ٹی کا سافٹ ویئر، علم کو عام کرتا ہے ہر شخص کو بااختیار، اپنے پاؤں پر کھڑا کرتا ہے 14. پڑھائی کا جو راستہ، چیٹ جی پی ٹی بتاتا ہے غربت کو بھگا کر، علم سے گھر کو سجاتا ہے 15. علم کی یہ شمع ہے، جو جلتی چیٹ جی پی ٹی سے ہے ہر ذہن کو روشن کرے، یہ طاقت چیٹ جی پی ٹی سے ہے 16. غربت کا جو خاتمہ ہے، وہ علم سے ہی ممکن ہے چیٹ جی پی ٹی کا ہاتھ ہو، تو ہر شخص قابل فہم ہے 17. جو خواب علم کا ہے، وہ چیٹ جی پی ٹی سے پورا ہو غربت کی جو دیوار ہے، اسے تعلیم کی تلوار سے توڑا ہو 18. چیٹ جی پی ٹی کا پیغام، ہر گھر میں اب پھیلے گا غربت کا جو اندھیرا ہے، وہ علم سے اب ڈھل جائے گا 19. چیٹ جی پی ٹی کا علم، ہر گھر میں عام کریں تعلیم سے غربت کو، ہر ذہن میں نام کریں 20. علم کا جو خزانہ ہے، وہ چیٹ جی پی ٹی سے ملتا ہے ہر دل کو علم کی روشنی، غربت کے اندھیرے میں جمتا ہے
    0 Комментарии 0 Поделились 427 Просмотры
  • . حاصل زیست

    کوئی پندرہ سال لگے ہوں گے اس سلجھن کو پانے میں…. الجھن یہ تھی کہ وطن عزیز کے لوگ باقی دنیا کے لوگوں کی طرح قابل، انتہائی ہنرمند اور مبدی. (creative) کیوں نہیں…. ہم جب بھی دنیا کے دیگر ممالک کی صنعتوں میں لوگوں کو تندہی، جانفشانی اور کسی قدر اطمینان سے کام کرتے ہوئے دیکھتے تو قدرتی طور پر دل گرفتہ تو ہوتے ہی مگر ساتھ ہی جواب کی تلاش میں لگ جاتے کہ آخر ایسا کیوں ہے. اور پندرہ سال بعد آخر جواب مل ہی گیا..اور وہ بھی ایک واٹس ایپ گروپ سے.

    ہوا یوں کہ کچھ عرصہ قبل ایک محترم دوست نے ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا. گروپ کیا ہے بہت سے مشہور اور قابل دوستوں کی کہکشاں ہے. گو پہلے سے ایسے کئی گروپس کا حصہ رہے ہیں، مگر اس گروپ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں مکالمہ انتہائی احترام سے کیا جاتا ہے. کسی بھی گروپ ممبر کو Respected sir یا Respected maam کے سوا مخاطب نہیں کیا جاسکتا.

    اختلاف رائے کے لیے الفاظ کا چناؤ بھی بہت احتیاط سے کیا جاتا ہے کہ کسی کے لیے کوئی خلاف شان یا باعث تکلیف بات نہ کہی جائے. گروپ میں سیاست، مذہب، تعلیم، عالمی معاملات غرض ہر موضوع پر بات ہوتی ہے.. مگر ہر مکالمہ کے بعد ایک عجیب سی طمانیت اور مسرت کا احساس ہوتا ہے. آپ خود کو اہم محسوس کرتے ہیں. جی کرتا ہے گروپ کے باہر کے لوگ بھی ہم سے ایسا ہی برتاو کریں اور ہم لوگوں سے.. لیکن ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہوتا..

    اس احترام سے ملی سرشاری پر غور کرتے ہوئے ہی یہ عقدہ کھلا کہ انسان جو شاید اسی لیے اشرف المخلوقات ہے، کی ذہنی صلاحیتیں اس وقت تک اجاگر اور کارگر نہیں ہوتیں جب تک اس کی عزت نفس مکمل طور پر بحال نہ ہو. اس دریافت کے بعد ہم نے اپنے ارد گرد کام کرنے والے لوگوں پر کچھ تجربات بھی کیے. کاریگروں اور مزدوروں کے ساتھ انتہائی ادب و احترام سے پیش آنا شروع کیا، ایک دو استثنائی صورتوں exceptions کے سوا حیرت انگیز نتائج ملے.

    تبھی ہمیں اندازہ ہوا کہ گوروں نے دو صدیاں قبل جب افریقی انسانوں کو غلام بناکر کام لینا شروع کیا تو اس قدر جلد کیوں اس غلامی کو ختم کرکے کارپوریٹ ورلڈ کا ماڈل تشکیل دیدیا . کیونکہ غور و فکر کی عادت نے انہیں اس حقیقت سے جلد روشناس کرا دیا ہوگا کہ تمام تر سہولتوں، انسانی حقوق کی پاسداری اور احترام کے ساتھ انسانوں سے غلامی کی نسبت کہیں زیادہ بہتر کام لیا جاسکتا ہے. دوسری طرف بدقسمتی سے صدیاں گذرنے کے باوجود ہم اس بات کو نہیں جان پائے.. ہم نے آج بھی کام کرنے والوں کو کاما، مزارع، نائی اور موچی ہی بنا کر رکھا ہوا ہے.

    اگر ہمیں بھی غوروفکر کی عادت ہوتی تو شاید ہم بھی جان پاتے کہ شرف معراج انسانیت سے ہمکنار ہونے کے بعد ہی انسان اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ استعداد کے ساتھ کام کرسکتا ہے. اور اگر ہم بھی کہیں ایسا کرپاتے تو ہمارے کامے.. مزارع.. نائی.. موچی وغیرہ بھی، نیبرلی، کارگل، گریٹ کلپس اور باٹا جیسے ادارے بناکر بیٹھے ہوتے.

    دیکھیں انسان کی اہمیت اور احترام تو خالق کی نظر میں بھی بہت ہی زیادہ ہے. خالق اپنی کتاب میں انسانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کبھی تکریم کی کمی نہیں کرتے. لیکن اس کے برعکس وطن عزیز کے نظام میں بچپن میں گھر، سکول، کالج سے لیکر بڑے ہوتے تک ہسپتالوں، سرکاری اداروں، تھانوں، کچہریوں، پولیس کے ناکوں، غرض ہر جگہ پر یہ باور کرایا جاتا ہے کہ تم بس غیر اہم سی اکائی ہو. اور ایسا سلوک تو شہری آبادی کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے، دیہات اور دور دراز تو صورت حال اور بھی مخدوش ہے.

    آپ ناراض مت ہوئیے گا… حقیقت یہ کہ ہم میں سے بیشتر لوگوں کو علم ہی نہیں کہ انسانوں کا معاشرہ ہوتا کیسا ہے. انسان کی اہمیت اور قدر کیا ہے اور اس سے کس طرح پیش آنا چاہیے یا آیا جاتا ہے. ہم اکثر کہتے ہیں کہ جو لوگ باہر کے ممالک کا سفر کرتے ہیں یا وہاں رہ کر آتے ان کو ہی اندازہ ہوتا ہے. اس میں شک نہیں کہ بہت سی باتیں ہمارے اختیار میں نہیں مگر جہاں تک ہمارے بس میں ہے ہمیں ایک دوسرے سے ازحد احترام سے پیش آنا چاہئے. گھر والوں سے، اعزا و اقربا سے خاص طور پر ماتحتوں اور مالی طور پر کمزور لوگوں سے..

    آئیں آج سے عہد کریں کہ اپنے ارد گرد موجود لوگوں کواشرف المخلوقات کا مرتبہ دیں ان کی توقیر کریں تاکہ ہمارے لوگوں کی صلاحیتیں بھی پوری طرح اجاگر ہوں… ہم پاکستانی بھی افق اقوام عالم پر پوری آب وتاب سے چمکیں. ہم بھی خوشحال ہوں.

    ( ابن فاضل)
    #ابن_فاضل

    #Ibn_e_fazil
    #ibnefazil

    Ibn e Fazil
    . حاصل زیست کوئی پندرہ سال لگے ہوں گے اس سلجھن کو پانے میں…. الجھن یہ تھی کہ وطن عزیز کے لوگ باقی دنیا کے لوگوں کی طرح قابل، انتہائی ہنرمند اور مبدی. (creative) کیوں نہیں…. ہم جب بھی دنیا کے دیگر ممالک کی صنعتوں میں لوگوں کو تندہی، جانفشانی اور کسی قدر اطمینان سے کام کرتے ہوئے دیکھتے تو قدرتی طور پر دل گرفتہ تو ہوتے ہی مگر ساتھ ہی جواب کی تلاش میں لگ جاتے کہ آخر ایسا کیوں ہے. اور پندرہ سال بعد آخر جواب مل ہی گیا..اور وہ بھی ایک واٹس ایپ گروپ سے. ہوا یوں کہ کچھ عرصہ قبل ایک محترم دوست نے ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا. گروپ کیا ہے بہت سے مشہور اور قابل دوستوں کی کہکشاں ہے. گو پہلے سے ایسے کئی گروپس کا حصہ رہے ہیں، مگر اس گروپ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں مکالمہ انتہائی احترام سے کیا جاتا ہے. کسی بھی گروپ ممبر کو Respected sir یا Respected ma'am کے سوا مخاطب نہیں کیا جاسکتا. اختلاف رائے کے لیے الفاظ کا چناؤ بھی بہت احتیاط سے کیا جاتا ہے کہ کسی کے لیے کوئی خلاف شان یا باعث تکلیف بات نہ کہی جائے. گروپ میں سیاست، مذہب، تعلیم، عالمی معاملات غرض ہر موضوع پر بات ہوتی ہے.. مگر ہر مکالمہ کے بعد ایک عجیب سی طمانیت اور مسرت کا احساس ہوتا ہے. آپ خود کو اہم محسوس کرتے ہیں. جی کرتا ہے گروپ کے باہر کے لوگ بھی ہم سے ایسا ہی برتاو کریں اور ہم لوگوں سے.. لیکن ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہوتا.. اس احترام سے ملی سرشاری پر غور کرتے ہوئے ہی یہ عقدہ کھلا کہ انسان جو شاید اسی لیے اشرف المخلوقات ہے، کی ذہنی صلاحیتیں اس وقت تک اجاگر اور کارگر نہیں ہوتیں جب تک اس کی عزت نفس مکمل طور پر بحال نہ ہو. اس دریافت کے بعد ہم نے اپنے ارد گرد کام کرنے والے لوگوں پر کچھ تجربات بھی کیے. کاریگروں اور مزدوروں کے ساتھ انتہائی ادب و احترام سے پیش آنا شروع کیا، ایک دو استثنائی صورتوں exceptions کے سوا حیرت انگیز نتائج ملے. تبھی ہمیں اندازہ ہوا کہ گوروں نے دو صدیاں قبل جب افریقی انسانوں کو غلام بناکر کام لینا شروع کیا تو اس قدر جلد کیوں اس غلامی کو ختم کرکے کارپوریٹ ورلڈ کا ماڈل تشکیل دیدیا . کیونکہ غور و فکر کی عادت نے انہیں اس حقیقت سے جلد روشناس کرا دیا ہوگا کہ تمام تر سہولتوں، انسانی حقوق کی پاسداری اور احترام کے ساتھ انسانوں سے غلامی کی نسبت کہیں زیادہ بہتر کام لیا جاسکتا ہے. دوسری طرف بدقسمتی سے صدیاں گذرنے کے باوجود ہم اس بات کو نہیں جان پائے.. ہم نے آج بھی کام کرنے والوں کو کاما، مزارع، نائی اور موچی ہی بنا کر رکھا ہوا ہے. اگر ہمیں بھی غوروفکر کی عادت ہوتی تو شاید ہم بھی جان پاتے کہ شرف معراج انسانیت سے ہمکنار ہونے کے بعد ہی انسان اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ استعداد کے ساتھ کام کرسکتا ہے. اور اگر ہم بھی کہیں ایسا کرپاتے تو ہمارے کامے.. مزارع.. نائی.. موچی وغیرہ بھی، نیبرلی، کارگل، گریٹ کلپس اور باٹا جیسے ادارے بناکر بیٹھے ہوتے. دیکھیں انسان کی اہمیت اور احترام تو خالق کی نظر میں بھی بہت ہی زیادہ ہے. خالق اپنی کتاب میں انسانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کبھی تکریم کی کمی نہیں کرتے. لیکن اس کے برعکس وطن عزیز کے نظام میں بچپن میں گھر، سکول، کالج سے لیکر بڑے ہوتے تک ہسپتالوں، سرکاری اداروں، تھانوں، کچہریوں، پولیس کے ناکوں، غرض ہر جگہ پر یہ باور کرایا جاتا ہے کہ تم بس غیر اہم سی اکائی ہو. اور ایسا سلوک تو شہری آبادی کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے، دیہات اور دور دراز تو صورت حال اور بھی مخدوش ہے. آپ ناراض مت ہوئیے گا… حقیقت یہ کہ ہم میں سے بیشتر لوگوں کو علم ہی نہیں کہ انسانوں کا معاشرہ ہوتا کیسا ہے. انسان کی اہمیت اور قدر کیا ہے اور اس سے کس طرح پیش آنا چاہیے یا آیا جاتا ہے. ہم اکثر کہتے ہیں کہ جو لوگ باہر کے ممالک کا سفر کرتے ہیں یا وہاں رہ کر آتے ان کو ہی اندازہ ہوتا ہے. اس میں شک نہیں کہ بہت سی باتیں ہمارے اختیار میں نہیں مگر جہاں تک ہمارے بس میں ہے ہمیں ایک دوسرے سے ازحد احترام سے پیش آنا چاہئے. گھر والوں سے، اعزا و اقربا سے خاص طور پر ماتحتوں اور مالی طور پر کمزور لوگوں سے.. آئیں آج سے عہد کریں کہ اپنے ارد گرد موجود لوگوں کواشرف المخلوقات کا مرتبہ دیں ان کی توقیر کریں تاکہ ہمارے لوگوں کی صلاحیتیں بھی پوری طرح اجاگر ہوں… ہم پاکستانی بھی افق اقوام عالم پر پوری آب وتاب سے چمکیں. ہم بھی خوشحال ہوں. ( ابن فاضل) #ابن_فاضل #Ibn_e_fazil #ibnefazil Ibn e Fazil
    0 Комментарии 0 Поделились 377 Просмотры
  • Seems like I am possessed !

    جن کے زیرِ اثر ہونے کا کوئی سائنسی یا طبی ثبوت موجود نہیں ہے، اور اس حوالے سے مختلف معاشرتی اور مذہبی عقائد پائے جاتے ہیں۔ اسلام میں بھی جن کا تصور موجود ہے، لیکن جن کے اثرات کی تشخیص اور علاج سے متعلق کوئی واضح سائنسی یا میڈیکل طریقہ موجود نہیں ہے۔

    عام طور پر، جن کے اثرات کے حوالے سے لوگ کچھ علامات بیان کرتے ہیں جیسے کہ:

    1. غیر معمولی برتاؤ: کسی شخص کا عجیب و غریب یا غیر معمولی رویہ، جیسے کہ اچانک غصہ، خوف یا الجھن۔
    2. جسمانی تبدیلیاں: اچانک جسمانی کمزوری، جسم میں درد یا بیماری کی علامات۔
    3. غیر معمولی آوازیں یا حرکتیں: غیر معمولی آوازوں کا سننا یا جسم کے کسی حصے کا بے قابو ہونا۔
    4. نیند میں مسائل: شدید بے خوابی یا خوفناک خواب آنا۔
    5. روحانی یا مذہبی مسائل: کسی شخص کا نماز یا عبادات میں دل نہ لگنا یا مذہبی اشیاء سے خوف محسوس کرنا۔

    جن کا اثر ہونے کا ٹیسٹ:

    اسلامی اور روحانی طریقوں میں جن کے اثرات کی تشخیص کے لیے چند طریقے استعمال کیے جاتے ہیں:

    1. روحانی علاج یا دم: کسی عالم یا حافظِ قرآن سے دم کروانا یا قرآن مجید کی تلاوت کرنا، خاص طور پر سورۃ الفاتحہ، سورۃ البقرہ، اور آیۃ الکرسی۔ اگر کوئی غیر معمولی ردِعمل سامنے آتا ہے تو بعض لوگ اسے جن کا اثر سمجھتے ہیں۔
    2. علماء سے رجوع کرنا: کسی مستند عالم یا روحانی معالج سے مشورہ کرنا جو اس معاملے میں ماہر ہو۔
    3. دعا اور تسبیحات: اسلامی عقائد میں دعا اور ذکر کو شیطانی اثرات سے بچاؤ کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے لیے قرآن پاک کی مخصوص آیات اور دعائیں تلاوت کی جاتی ہیں۔

    یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ بہت سے نفسیاتی اور جسمانی مسائل کو جن کا اثر سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ان کا علاج طبی طریقوں سے ممکن ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے مسائل کی صورت میں پہلے ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا ضروری ہے تاکہ صحیح تشخیص ہو سکے۔
    Seems like I am possessed ! جن کے زیرِ اثر ہونے کا کوئی سائنسی یا طبی ثبوت موجود نہیں ہے، اور اس حوالے سے مختلف معاشرتی اور مذہبی عقائد پائے جاتے ہیں۔ اسلام میں بھی جن کا تصور موجود ہے، لیکن جن کے اثرات کی تشخیص اور علاج سے متعلق کوئی واضح سائنسی یا میڈیکل طریقہ موجود نہیں ہے۔ عام طور پر، جن کے اثرات کے حوالے سے لوگ کچھ علامات بیان کرتے ہیں جیسے کہ: 1. غیر معمولی برتاؤ: کسی شخص کا عجیب و غریب یا غیر معمولی رویہ، جیسے کہ اچانک غصہ، خوف یا الجھن۔ 2. جسمانی تبدیلیاں: اچانک جسمانی کمزوری، جسم میں درد یا بیماری کی علامات۔ 3. غیر معمولی آوازیں یا حرکتیں: غیر معمولی آوازوں کا سننا یا جسم کے کسی حصے کا بے قابو ہونا۔ 4. نیند میں مسائل: شدید بے خوابی یا خوفناک خواب آنا۔ 5. روحانی یا مذہبی مسائل: کسی شخص کا نماز یا عبادات میں دل نہ لگنا یا مذہبی اشیاء سے خوف محسوس کرنا۔ جن کا اثر ہونے کا ٹیسٹ: اسلامی اور روحانی طریقوں میں جن کے اثرات کی تشخیص کے لیے چند طریقے استعمال کیے جاتے ہیں: 1. روحانی علاج یا دم: کسی عالم یا حافظِ قرآن سے دم کروانا یا قرآن مجید کی تلاوت کرنا، خاص طور پر سورۃ الفاتحہ، سورۃ البقرہ، اور آیۃ الکرسی۔ اگر کوئی غیر معمولی ردِعمل سامنے آتا ہے تو بعض لوگ اسے جن کا اثر سمجھتے ہیں۔ 2. علماء سے رجوع کرنا: کسی مستند عالم یا روحانی معالج سے مشورہ کرنا جو اس معاملے میں ماہر ہو۔ 3. دعا اور تسبیحات: اسلامی عقائد میں دعا اور ذکر کو شیطانی اثرات سے بچاؤ کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے لیے قرآن پاک کی مخصوص آیات اور دعائیں تلاوت کی جاتی ہیں۔ یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ بہت سے نفسیاتی اور جسمانی مسائل کو جن کا اثر سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ان کا علاج طبی طریقوں سے ممکن ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے مسائل کی صورت میں پہلے ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا ضروری ہے تاکہ صحیح تشخیص ہو سکے۔
    0 Комментарии 0 Поделились 211 Просмотры
  • طلوع اسلام

    خرد نے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل
    دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

    طریقۂِ کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں بروت
    جو راہرو کے لیے رہنما نہیں ہوتے

    بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی
    مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟

    فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں
    خبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہے؟

    فقیہ شہر کی محراب و منبر سے ہیں پیدا
    کسے خبر کہ ہزاروں ہیں صحرا میں رند بھی

    یہ امتیں علم و ہنر سے زندہ ہیں، ورنہ
    اک سانس بھی میراثِ مصطفیٰ نہیں ہوتی

    ترجمہ اور وضاحت

    خرد نے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل
    دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

    ترجمہ:
    اگر عقل نے “لا الہ” یعنی “اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں” کہہ بھی دیا تو اس کا کیا فائدہ؟
    اگر مسلمان کا دل اور نظر ایمان سے خالی ہیں، تو اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

    وضاحت:
    اقبال اس شعر میں یہ بیان کرتے ہیں کہ محض زبانی اقرار یا عقلی طور پر مان لینا کافی نہیں ہے۔ حقیقی ایمان وہ ہے جو دل میں جاگزین ہو اور انسان کی بصیرت کو متاثر کرے۔ اگر ایمان دل اور نظر میں نہ ہو تو یہ بیکار ہے۔

    طریقۂِ کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں بروت
    جو راہرو کے لیے رہنما نہیں ہوتے

    ترجمہ:
    پہاڑ کو سر کرنے کے طریقے میں وہی پرانے حربے ہیں،
    جو مسافر کے لیے رہنمائی فراہم نہیں کرتے۔

    وضاحت:
    اقبال یہاں پر اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ جو لوگ ترقی یا جدوجہد کے دعوے کرتے ہیں، وہ اکثر پرانی اور غیر مؤثر حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہیں۔ یہ راستے، حقیقی رہنمائی فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔

    بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی
    مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟

    ترجمہ:
    تجھے بتوں سے امیدیں ہیں اور اللہ سے مایوسی،
    مجھے بتا کہ اس سے بڑھ کر کفر کیا ہو سکتا ہے؟

    وضاحت:
    یہاں اقبال مسلمانوں کی حالت زار کو بیان کرتے ہیں کہ وہ اللہ سے امیدیں توڑ چکے ہیں لیکن دنیاوی چیزوں، بتوں یا دیگر طاقتوں پر انحصار کر رہے ہیں۔ اقبال کے مطابق، اس رویے سے بڑھ کر اور کوئی کفر نہیں ہو سکتا۔

    فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں
    خبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہے؟

    ترجمہ:
    آسمان نے ان لوگوں کو حکمرانی عطا کر دی ہے،
    جو بندہ نوازی کے آداب سے بے خبر ہیں۔

    وضاحت:
    یہ شعر ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو اقتدار یا حکمرانی رکھتے ہیں لیکن انسانیت کی خدمت اور لوگوں کی خیرخواہی کا شعور نہیں رکھتے۔ اقبال ان لوگوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جو حکمران ہیں لیکن ان کے اندر انسانیت کا جذبہ نہیں ہے۔

    فقیہ شہر کی محراب و منبر سے ہیں پیدا
    کسے خبر کہ ہزاروں ہیں صحرا میں رند بھی

    ترجمہ:
    شہر کے فقیہہ محراب اور منبر سے پیدا ہو رہے ہیں،
    کون جانتا ہے کہ صحرا میں بھی ہزاروں خالص اور مخلص لوگ موجود ہیں۔

    وضاحت:
    اقبال یہاں کہتے ہیں کہ دنیاوی علم یا مذہبی خطبات کا اثر صرف ظاہر پر رہ گیا ہے، جبکہ اصل نیک اور مخلص لوگ ان سے دور ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ علم رکھنے والے اپنی عبادت گاہوں میں رہتے ہیں، جبکہ حقیقی روحانیت رکھنے والے عام لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔

    یہ امتیں علم و ہنر سے زندہ ہیں، ورنہ
    اک سانس بھی میراثِ مصطفیٰ نہیں ہوتی

    ترجمہ:
    قومیں علم و فن سے زندہ رہتی ہیں، ورنہ
    نبی کریم ﷺ کی میراث ایک سانس بھی نہیں چل سکتی۔

    وضاحت:
    اقبال یہاں علم اور ہنر کی اہمیت کو بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امت محمدیہ کی بقا علم اور فنون پر ہے، اگر یہ علم و فن سے محروم ہو جائیں تو ان کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ علم اور ہنر کے بغیر ان کی نسبت نبی ﷺ کی طرف ایک رسمی دعویٰ ہی رہ جائے گی۔

    اقبال کی یہ نظم مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگانے اور حقیقی ایمان، علم اور فن کی اہمیت کو سمجھنے کی ترغیب دیتی ہے۔
    طلوع اسلام خرد نے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں طریقۂِ کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں بروت جو راہرو کے لیے رہنما نہیں ہوتے بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟ فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں خبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہے؟ فقیہ شہر کی محراب و منبر سے ہیں پیدا کسے خبر کہ ہزاروں ہیں صحرا میں رند بھی یہ امتیں علم و ہنر سے زندہ ہیں، ورنہ اک سانس بھی میراثِ مصطفیٰ نہیں ہوتی ترجمہ اور وضاحت خرد نے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں ترجمہ: اگر عقل نے “لا الہ” یعنی “اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں” کہہ بھی دیا تو اس کا کیا فائدہ؟ اگر مسلمان کا دل اور نظر ایمان سے خالی ہیں، تو اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ وضاحت: اقبال اس شعر میں یہ بیان کرتے ہیں کہ محض زبانی اقرار یا عقلی طور پر مان لینا کافی نہیں ہے۔ حقیقی ایمان وہ ہے جو دل میں جاگزین ہو اور انسان کی بصیرت کو متاثر کرے۔ اگر ایمان دل اور نظر میں نہ ہو تو یہ بیکار ہے۔ طریقۂِ کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں بروت جو راہرو کے لیے رہنما نہیں ہوتے ترجمہ: پہاڑ کو سر کرنے کے طریقے میں وہی پرانے حربے ہیں، جو مسافر کے لیے رہنمائی فراہم نہیں کرتے۔ وضاحت: اقبال یہاں پر اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ جو لوگ ترقی یا جدوجہد کے دعوے کرتے ہیں، وہ اکثر پرانی اور غیر مؤثر حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہیں۔ یہ راستے، حقیقی رہنمائی فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟ ترجمہ: تجھے بتوں سے امیدیں ہیں اور اللہ سے مایوسی، مجھے بتا کہ اس سے بڑھ کر کفر کیا ہو سکتا ہے؟ وضاحت: یہاں اقبال مسلمانوں کی حالت زار کو بیان کرتے ہیں کہ وہ اللہ سے امیدیں توڑ چکے ہیں لیکن دنیاوی چیزوں، بتوں یا دیگر طاقتوں پر انحصار کر رہے ہیں۔ اقبال کے مطابق، اس رویے سے بڑھ کر اور کوئی کفر نہیں ہو سکتا۔ فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں خبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہے؟ ترجمہ: آسمان نے ان لوگوں کو حکمرانی عطا کر دی ہے، جو بندہ نوازی کے آداب سے بے خبر ہیں۔ وضاحت: یہ شعر ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو اقتدار یا حکمرانی رکھتے ہیں لیکن انسانیت کی خدمت اور لوگوں کی خیرخواہی کا شعور نہیں رکھتے۔ اقبال ان لوگوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جو حکمران ہیں لیکن ان کے اندر انسانیت کا جذبہ نہیں ہے۔ فقیہ شہر کی محراب و منبر سے ہیں پیدا کسے خبر کہ ہزاروں ہیں صحرا میں رند بھی ترجمہ: شہر کے فقیہہ محراب اور منبر سے پیدا ہو رہے ہیں، کون جانتا ہے کہ صحرا میں بھی ہزاروں خالص اور مخلص لوگ موجود ہیں۔ وضاحت: اقبال یہاں کہتے ہیں کہ دنیاوی علم یا مذہبی خطبات کا اثر صرف ظاہر پر رہ گیا ہے، جبکہ اصل نیک اور مخلص لوگ ان سے دور ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ علم رکھنے والے اپنی عبادت گاہوں میں رہتے ہیں، جبکہ حقیقی روحانیت رکھنے والے عام لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔ یہ امتیں علم و ہنر سے زندہ ہیں، ورنہ اک سانس بھی میراثِ مصطفیٰ نہیں ہوتی ترجمہ: قومیں علم و فن سے زندہ رہتی ہیں، ورنہ نبی کریم ﷺ کی میراث ایک سانس بھی نہیں چل سکتی۔ وضاحت: اقبال یہاں علم اور ہنر کی اہمیت کو بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امت محمدیہ کی بقا علم اور فنون پر ہے، اگر یہ علم و فن سے محروم ہو جائیں تو ان کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ علم اور ہنر کے بغیر ان کی نسبت نبی ﷺ کی طرف ایک رسمی دعویٰ ہی رہ جائے گی۔ اقبال کی یہ نظم مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگانے اور حقیقی ایمان، علم اور فن کی اہمیت کو سمجھنے کی ترغیب دیتی ہے۔
    0 Комментарии 0 Поделились 140 Просмотры
  • جب بھی کوئی نئی ایجاد ہوتی ہے، دنیا اس پر تنقید کرتی ہے

    تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی انقلابی ایجاد یا نیا نظریہ دنیا کے سامنے آتا ہے، تو سب سے پہلے اسے شک و شبہ، تنقید اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رائٹ برادران کی کہانی بھی کچھ مختلف نہیں تھی۔ جب انہوں نے ہوائی جہاز ایجاد کرنے کی کوشش کی تو انہیں میڈیا، سائنسی برادری اور عوامی حلقوں میں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

    میڈیا کی طرف سے شکوک و شبہات

    انیسویں اور بیسویں صدی کے اوائل میں، میڈیا اور سائنسی ماہرین کا ماننا تھا کہ انسان کبھی بھی مشینی پرواز کے قابل نہیں ہوگا۔ نیویارک ٹائمز نے 9 اکتوبر 1903 کو ایک اداریہ شائع کیا جس کا عنوان تھا “اڑنے والی مشینیں جو نہیں اڑ سکتیں”۔ اس مضمون میں بیان کیا گیا کہ انسانی پرواز ممکن ہونے میں “10 لاکھ سے 10 ملین سال” لگ سکتے ہیں۔ حیران کن طور پر، صرف دو ماہ بعد، 17 دسمبر 1903 کو، رائٹ برادران نے کامیابی سے اپنی پہلی پرواز مکمل کی۔

    سائنسی برادری کی طرف سے عدم اعتماد

    اس وقت کے کئی سائنسدان بھی ہوائی جہاز کی ایجاد کے امکان پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ 1895 میں، مشہور موجد تھامس ایڈیسن نے نیویارک ورلڈ کو دیے گئے ایک بیان میں کہا:
    “مجھے صاف نظر آتا ہے کہ ہوائی جہاز کے امکانات ختم ہو چکے ہیں اور ہمیں کسی اور سمت دیکھنا ہوگا۔”
    یہ بیان اس دور کی عمومی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں ہوائی جہاز کو ایک ناممکن خواب سمجھا جاتا تھا۔

    یورپ میں رائٹ برادران کی تردید

    یورپ، خاص طور پر فرانس میں، رائٹ برادران کے دعووں کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ 1906 میں، نیویارک ہیرالڈ (پیرس ایڈیشن) نے ایک اداریہ شائع کیا جس میں کہا گیا:
    “رائٹ برادران نے پرواز کی ہے یا نہیں؟ ان کے پاس ہوائی جہاز ہے یا نہیں؟ وہ یا تو ہوا میں اڑنے والے ہیں یا پھر جھوٹے!”
    یہ بیان یورپی حلقوں میں پائے جانے والے شک و شبہات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں لوگ رائٹ برادران کی کامیابی کو محض ایک دعویٰ سمجھ رہے تھے۔

    پیٹنٹ کے جھگڑے اور الزامات

    اپنی کامیابی کے بعد، رائٹ برادران نے اپنے ہوائی جہاز کے پیٹنٹ کو قانونی تحفظ دینے کی کوشش کی۔ اس پر انہیں کئی تنقیدی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض ماہرین کا خیال تھا کہ وہ اپنی قانونی جنگوں کے ذریعے ہوابازی کی ترقی کو روک رہے ہیں۔ کچھ ناقدین نے انہیں محض پیسے کمانے والے افراد قرار دیا جو سائنسی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔

    نتیجہ

    یہ حقیقت ہے کہ جب بھی کوئی نئی ایجاد یا نظریہ دنیا کے سامنے آتا ہے، تو ابتدا میں اسے تنقید، مخالفت اور تمسخر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رائٹ برادران کی کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقی موجد وہی ہوتے ہیں جو تنقید اور مخالفت کے باوجود اپنے مقصد پر قائم رہتے ہیں۔ آج، رائٹ برادران کی ایجاد نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا، اور وہ ہمیشہ تاریخ میں ایک انقلابی کامیابی کے طور پر یاد کیے جائیں گے۔
    جب بھی کوئی نئی ایجاد ہوتی ہے، دنیا اس پر تنقید کرتی ہے تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی انقلابی ایجاد یا نیا نظریہ دنیا کے سامنے آتا ہے، تو سب سے پہلے اسے شک و شبہ، تنقید اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رائٹ برادران کی کہانی بھی کچھ مختلف نہیں تھی۔ جب انہوں نے ہوائی جہاز ایجاد کرنے کی کوشش کی تو انہیں میڈیا، سائنسی برادری اور عوامی حلقوں میں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ میڈیا کی طرف سے شکوک و شبہات انیسویں اور بیسویں صدی کے اوائل میں، میڈیا اور سائنسی ماہرین کا ماننا تھا کہ انسان کبھی بھی مشینی پرواز کے قابل نہیں ہوگا۔ نیویارک ٹائمز نے 9 اکتوبر 1903 کو ایک اداریہ شائع کیا جس کا عنوان تھا “اڑنے والی مشینیں جو نہیں اڑ سکتیں”۔ اس مضمون میں بیان کیا گیا کہ انسانی پرواز ممکن ہونے میں “10 لاکھ سے 10 ملین سال” لگ سکتے ہیں۔ حیران کن طور پر، صرف دو ماہ بعد، 17 دسمبر 1903 کو، رائٹ برادران نے کامیابی سے اپنی پہلی پرواز مکمل کی۔ سائنسی برادری کی طرف سے عدم اعتماد اس وقت کے کئی سائنسدان بھی ہوائی جہاز کی ایجاد کے امکان پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ 1895 میں، مشہور موجد تھامس ایڈیسن نے نیویارک ورلڈ کو دیے گئے ایک بیان میں کہا: “مجھے صاف نظر آتا ہے کہ ہوائی جہاز کے امکانات ختم ہو چکے ہیں اور ہمیں کسی اور سمت دیکھنا ہوگا۔” یہ بیان اس دور کی عمومی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں ہوائی جہاز کو ایک ناممکن خواب سمجھا جاتا تھا۔ یورپ میں رائٹ برادران کی تردید یورپ، خاص طور پر فرانس میں، رائٹ برادران کے دعووں کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ 1906 میں، نیویارک ہیرالڈ (پیرس ایڈیشن) نے ایک اداریہ شائع کیا جس میں کہا گیا: “رائٹ برادران نے پرواز کی ہے یا نہیں؟ ان کے پاس ہوائی جہاز ہے یا نہیں؟ وہ یا تو ہوا میں اڑنے والے ہیں یا پھر جھوٹے!” یہ بیان یورپی حلقوں میں پائے جانے والے شک و شبہات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں لوگ رائٹ برادران کی کامیابی کو محض ایک دعویٰ سمجھ رہے تھے۔ پیٹنٹ کے جھگڑے اور الزامات اپنی کامیابی کے بعد، رائٹ برادران نے اپنے ہوائی جہاز کے پیٹنٹ کو قانونی تحفظ دینے کی کوشش کی۔ اس پر انہیں کئی تنقیدی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض ماہرین کا خیال تھا کہ وہ اپنی قانونی جنگوں کے ذریعے ہوابازی کی ترقی کو روک رہے ہیں۔ کچھ ناقدین نے انہیں محض پیسے کمانے والے افراد قرار دیا جو سائنسی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ نتیجہ یہ حقیقت ہے کہ جب بھی کوئی نئی ایجاد یا نظریہ دنیا کے سامنے آتا ہے، تو ابتدا میں اسے تنقید، مخالفت اور تمسخر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رائٹ برادران کی کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقی موجد وہی ہوتے ہیں جو تنقید اور مخالفت کے باوجود اپنے مقصد پر قائم رہتے ہیں۔ آج، رائٹ برادران کی ایجاد نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا، اور وہ ہمیشہ تاریخ میں ایک انقلابی کامیابی کے طور پر یاد کیے جائیں گے۔
    0 Комментарии 0 Поделились 119 Просмотры
Расширенные страницы