• Meet Sharjeel Abrar
    His father is a guard , he has 5 brothers , 1 sister and he came from Kashmir to Rehan College to fulfill his father’s dream of success for him !

    He is very hard working and talented young man, I hope and pray that we will carve him into a successful Pakistani that he deserves to be !
    Meet Sharjeel Abrar His father is a guard , he has 5 brothers , 1 sister and he came from Kashmir to Rehan College to fulfill his father’s dream of success for him ! He is very hard working and talented young man, I hope and pray that we will carve him into a successful Pakistani that he deserves to be !
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 93 Views 0
  • Tour of Rehan School Islamabad Campus to Teacher.usman
    Tour of Rehan School Islamabad Campus to Teacher.usman
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 82 Views 0
  • Rain water harvesting with Teacher.usman in Rehan School Islamabad Campus
    Rain water harvesting with Teacher.usman in Rehan School Islamabad Campus
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 80 Views 0
  • رین واٹر ہارویسٹنگ — ایک ایسا بزنس جو لاکھوں لوگوں کی زندگی بدل سکتا ہے

    Rain Water Harvesting کا مطلب ہے بارش کے پانی کو جمع کرنا اور محفوظ کرنا تاکہ بعد میں اسے استعمال کیا جا سکے، بجائے اس کے کہ وہ ضائع ہو جائے یا نالیوں میں بہہ کر ختم ہو جائے۔

    ہر سال اربوں لیٹر بارش کا پانی ہماری چھتوں، گلیوں اور زمین پر گرتا ہے۔
    لیکن اس کا زیادہ حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔

    اگر ایک سادہ سسٹم بنا دیا جائے تو:

    • چھتوں سے پانی پائپ کے ذریعے جمع کیا جا سکتا ہے
    • فلٹر کیا جا سکتا ہے
    • ٹینک میں محفوظ کیا جا سکتا ہے
    • یا زمین میں واپس پہنچا کر زیرِ زمین پانی کو بڑھایا جا سکتا ہے

    اس طرح ایک سادہ سا نظام پانی کی کمی کا مسئلہ لاکھوں لوگوں کے لیے حل کر سکتا ہے۔

    اسے بزنس کیوں بنایا جائے؟

    زیادہ تر لوگ جانتے ہیں کہ بارش کا پانی قیمتی ہے، لیکن انہیں نہیں معلوم:

    • سسٹم کیسے ڈیزائن کرنا ہے
    • کون سا فلٹر لگانا ہے
    • پائپ کیسے لگانے ہیں
    • پانی کو محفوظ یا زمین میں واپس کیسے بھیجنا ہے

    اسی لیے ضروری ہے کہ رین واٹر ہارویسٹنگ کو ایک منظم بزنس بنایا جائے۔

    اگر اسے فرنچائز ماڈل پر کیا جائے تو یہ پورے ملک میں تیزی سے پھیل سکتا ہے۔

    یعنی:

    ایک ٹیم ➜ 100 ٹیمیں
    ایک شہر ➜ 100 شہر
    ہزاروں گھر ➜ لاکھوں گھر

    اس سے:

    • پانی کی کمی کم ہو سکتی ہے
    • زیر زمین پانی دوبارہ بھر سکتا ہے
    • سیلاب کے مسائل کم ہو سکتے ہیں
    • ہزاروں لوگوں کو روزگار مل سکتا ہے
    • پورے معاشرے کو فائدہ ہو سکتا ہے

    بزنس بنانا کیوں ضروری ہے؟

    اگر یہ صرف ایک فلاحی کام رہے گا تو اس کی رفتار سست رہے گی۔

    لیکن اگر اسے بزنس اور فرنچائز سسٹم بنایا جائے تو:

    • لوگ اس میں روزگار کما سکیں گے
    • ٹرینڈ ٹیمیں ہر شہر میں بن سکیں گی
    • لاکھوں گھروں میں یہ سسٹم لگایا جا سکے گا
    • مسئلہ تیزی سے حل ہو سکے گا

    دنیا کے بہت سے بڑے مسائل تب حل ہوتے ہیں جب اچھا آئیڈیا ایک مضبوط بزنس بن جاتا ہے۔

    تعارف — Teacher.usman

    اس مشن کے پیچھے ایک جذبہ رکھنے والے استاد ہیں:

    Teacher.usman

    Teacher Usman ایک ایسے استاد ہیں جو تعلیم کو صرف کتابوں تک محدود نہیں سمجھتے بلکہ چاہتے ہیں کہ علم کو استعمال کر کے معاشرے کے حقیقی مسائل حل کیے جائیں۔

    اسی سوچ کے ساتھ وہ Rain Water Harvesting کو ایک بزنس اور فرنچائز ماڈل کے طور پر شروع کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ سسٹم لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکے۔

    کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ:

    زیادہ تر لوگ خود سے ایسا نظام نہیں بنا سکتے۔

    انہیں ضرورت ہوتی ہے:

    • رہنمائی کی
    • ڈیزائن کی
    • انسٹالیشن کی
    • اور ایک قابل اعتماد سروس کی

    اگر یہ کام ایک مضبوط بزنس کی شکل میں کیا جائے تو پانی کا مسئلہ حل کرنے کے ساتھ ساتھ ہزاروں لوگوں کو روزگار بھی مل سکتا ہے۔

    اور کبھی کبھی سب سے بڑے بزنس وہ ہوتے ہیں جو انسان کی بنیادی ضرورت کو حل کرتے ہیں — جیسے پانی۔

    #RainWaterHarvesting
    #WaterCrisis
    #SaveWater
    #WaterForPakistan
    #ClimateSolutions
    #GreenPakistan
    #SustainablePakistan
    #SocialEntrepreneurship
    #FranchiseModel
    #CommunitySolutions
    #TeacherUsman
    #RehanSchool
    #SolveRealProblems
    #EntrepreneurshipForImpact

    Starting a rain water harvesting business with Teacher.usman
    💧 رین واٹر ہارویسٹنگ — ایک ایسا بزنس جو لاکھوں لوگوں کی زندگی بدل سکتا ہے Rain Water Harvesting کا مطلب ہے بارش کے پانی کو جمع کرنا اور محفوظ کرنا تاکہ بعد میں اسے استعمال کیا جا سکے، بجائے اس کے کہ وہ ضائع ہو جائے یا نالیوں میں بہہ کر ختم ہو جائے۔ ہر سال اربوں لیٹر بارش کا پانی ہماری چھتوں، گلیوں اور زمین پر گرتا ہے۔ لیکن اس کا زیادہ حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر ایک سادہ سسٹم بنا دیا جائے تو: • چھتوں سے پانی پائپ کے ذریعے جمع کیا جا سکتا ہے • فلٹر کیا جا سکتا ہے • ٹینک میں محفوظ کیا جا سکتا ہے • یا زمین میں واپس پہنچا کر زیرِ زمین پانی کو بڑھایا جا سکتا ہے اس طرح ایک سادہ سا نظام پانی کی کمی کا مسئلہ لاکھوں لوگوں کے لیے حل کر سکتا ہے۔ اسے بزنس کیوں بنایا جائے؟ زیادہ تر لوگ جانتے ہیں کہ بارش کا پانی قیمتی ہے، لیکن انہیں نہیں معلوم: • سسٹم کیسے ڈیزائن کرنا ہے • کون سا فلٹر لگانا ہے • پائپ کیسے لگانے ہیں • پانی کو محفوظ یا زمین میں واپس کیسے بھیجنا ہے اسی لیے ضروری ہے کہ رین واٹر ہارویسٹنگ کو ایک منظم بزنس بنایا جائے۔ اگر اسے فرنچائز ماڈل پر کیا جائے تو یہ پورے ملک میں تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ یعنی: ایک ٹیم ➜ 100 ٹیمیں ایک شہر ➜ 100 شہر ہزاروں گھر ➜ لاکھوں گھر اس سے: • پانی کی کمی کم ہو سکتی ہے • زیر زمین پانی دوبارہ بھر سکتا ہے • سیلاب کے مسائل کم ہو سکتے ہیں • ہزاروں لوگوں کو روزگار مل سکتا ہے • پورے معاشرے کو فائدہ ہو سکتا ہے بزنس بنانا کیوں ضروری ہے؟ اگر یہ صرف ایک فلاحی کام رہے گا تو اس کی رفتار سست رہے گی۔ لیکن اگر اسے بزنس اور فرنچائز سسٹم بنایا جائے تو: • لوگ اس میں روزگار کما سکیں گے • ٹرینڈ ٹیمیں ہر شہر میں بن سکیں گی • لاکھوں گھروں میں یہ سسٹم لگایا جا سکے گا • مسئلہ تیزی سے حل ہو سکے گا دنیا کے بہت سے بڑے مسائل تب حل ہوتے ہیں جب اچھا آئیڈیا ایک مضبوط بزنس بن جاتا ہے۔ تعارف — Teacher.usman اس مشن کے پیچھے ایک جذبہ رکھنے والے استاد ہیں: Teacher.usman Teacher Usman ایک ایسے استاد ہیں جو تعلیم کو صرف کتابوں تک محدود نہیں سمجھتے بلکہ چاہتے ہیں کہ علم کو استعمال کر کے معاشرے کے حقیقی مسائل حل کیے جائیں۔ اسی سوچ کے ساتھ وہ Rain Water Harvesting کو ایک بزنس اور فرنچائز ماڈل کے طور پر شروع کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ سسٹم لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ: زیادہ تر لوگ خود سے ایسا نظام نہیں بنا سکتے۔ انہیں ضرورت ہوتی ہے: • رہنمائی کی • ڈیزائن کی • انسٹالیشن کی • اور ایک قابل اعتماد سروس کی اگر یہ کام ایک مضبوط بزنس کی شکل میں کیا جائے تو پانی کا مسئلہ حل کرنے کے ساتھ ساتھ ہزاروں لوگوں کو روزگار بھی مل سکتا ہے۔ اور کبھی کبھی سب سے بڑے بزنس وہ ہوتے ہیں جو انسان کی بنیادی ضرورت کو حل کرتے ہیں — جیسے پانی۔ 💧 #RainWaterHarvesting #WaterCrisis #SaveWater #WaterForPakistan #ClimateSolutions #GreenPakistan #SustainablePakistan #SocialEntrepreneurship #FranchiseModel #CommunitySolutions #TeacherUsman #RehanSchool #SolveRealProblems #EntrepreneurshipForImpact Starting a rain water harvesting business with Teacher.usman
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 4909 Views 0
  • What is sultan bhau trust ?
    What is Rehan College
    What are we trying to create in education at Rehan School Islamabad Campus

    Podcast with Farrukh Shahzad
    What is sultan bhau trust ? What is Rehan College What are we trying to create in education at Rehan School Islamabad Campus Podcast with Farrukh Shahzad
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 91 Views 0
  • Can we create a new kind of education system for the world asks Farrukh Shahzad
    Can we create a new kind of education system for the world 🌎 asks Farrukh Shahzad
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 85 Views 0
  • کیا آپ کا دل صرف دھڑک رہا ہے یا واقعی زندہ ہے؟
    دلِ مردہ دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ
    کہ یہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ
    تو ضمیرِ آسماں سے ابھی آشناء نہیں ہے
    نہیں بے قرار کرتا تجھے غمزہء ستارہ
    (حکیم الامت علامہ محمد اقبال رح)
    آج کے ڈیجیٹل دور میں ہمارے پاس سب کچھ ہے: تیز ترین انٹرنیٹ، مہنگی گاڑیاں، اور سوشل میڈیا پر ہزاروں "فرینڈز"۔ لیکن اس چکا چوند میں ایک چیز کہیں کھو گئی ہے... اور وہ ہے ہمارا "زندہ دل"۔
    علامہ اقبالؒ نے ان چند مصرعوں میں پوری انسانیت اور خاص طور پر ہم نوجوانوں کو ایک زبردست "ویک اپ کال" دی ہے۔ آئیے اس پیغام کی گہرائی کو سمجھتے ہیں:
    مسئلہ: مردہ دلی اور پرانی بیماری (مرضِ کہن)
    اقبال فرماتے ہیں کہ وہ دل جس میں کوئی تڑپ نہیں، جو کسی بڑے مقصد کے لیے بے چین نہیں ہوتا، وہ دراصل "مردہ" ہے۔
    * مرضِ کہن کیا ہے؟ یہ وہ ذہنی غلامی، سستی اور "کمفرٹ زون" ہے جس میں ہم قید ہیں۔ ہم صرف کھا رہے ہیں، پی رہے ہیں اور سو رہے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ قوموں کی تمام بیماریوں کا واحد علاج یہ ہے کہ ان کے افراد کے اندر کا دل بیدار ہو جائے۔
    شکوہ: پست خیالی کا قید خانہ
    اقبال ہمیں جھنجھوڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمہاری سوچ ابھی تک زمین کی پستیوں میں الجھی ہوئی ہے۔ تم روٹی، کپڑا، مکان اور چھوٹی موٹی رنجشوں سے باہر نہیں نکل پائے۔
    * کائنات کی وسعتیں اور ستاروں کی بلندی تمہیں پکار رہی ہے، لیکن تم اتنے بے حس ہو چکے ہو کہ قدرت کے یہ عظیم اشارے (غمزہء ستارہ) تمہیں بے قرار ہی نہیں کرتے۔
    یہ سب کیسے ممکن ہے؟ (عملی طریقہ کار)
    اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ "خودی" کو کیسے بیدار کریں؟ اقبال کے اس فلسفے کو اپنی زندگی میں اتارنے کے لیے یہ 4 قدم اٹھائیں:
    الف: مقصدِ زندگی کا تعین (Find Your Why)
    دل تب مردہ ہوتا ہے جب زندگی کا کوئی بڑا ویژن نہ ہو۔ آج ہی کاغذ قلم اٹھائیں اور لکھیں کہ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ ایسا مقصد جو آپ کی ذات سے بڑا ہو اور انسانیت کے کام آئے۔ جب مقصد بڑا ہوتا ہے، تو دل کی دھڑکنوں میں جنون پیدا ہوتا ہے۔
    ب: تنہائی اور خود شناسی (Self-Reflection)
    دن میں کم از کم 15 منٹ سوشل میڈیا کے شور سے دور ہو کر تنہائی میں بیٹھیں۔ اپنے آپ سے سوال کریں، اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں۔ یاد رکھیں، جو شخص خود کو نہیں پہچانتا، وہ کائنات کو کیا پہچانے گا؟ خودی کی بیداری کا راستہ آپ کے اپنے اندر سے شروع ہوتا ہے۔
    ج: مطالعہ اور بلند خیالی (Elevate Your Thoughts)
    اپنی پستی سے نکلنے کے لیے اپنے آئیڈیلز بدلیں۔ سستی تفریح کے بجائے وہ علم حاصل کریں جو آپ کی سوچ کو وسعت دے۔ جب آپ کا علم بڑھے گا، تو آپ کو ستاروں کی پکار سنائی دینے لگے گی اور آپ چھوٹی باتوں پر وقت ضائع کرنا چھوڑ دیں گے۔
    د: حرکت و عمل (Be Proactive)
    اقبال کے نزدیک تڑپ کا مطلب صرف سوچنا نہیں بلکہ "عمل" ہے۔ جس کام کو کرنے کا ارادہ کریں، اسے پوری روح اور جنون کے ساتھ کریں۔ سستی اور ٹال مٹول (Procrastination) مردہ دلی کی سب سے بڑی علامت ہے۔ حرکت میں ہی برکت اور زندگی ہے۔
    حاصلِ کلام:
    دوستو! دنیا آپ کو ایک "نمبر" یا "صارف" (User) سمجھتی ہے، لیکن اقبال آپ کو "شاہین" دیکھنا چاہتے ہیں۔ اپنے دل کو دوبارہ زندہ کریں، اپنے ضمیر کو بیدار کریں، اور یاد رکھیں کہ آپ کی منزل ستاروں سے بھی آگے ہے۔
    "اٹھو! اپنے اندر کا چراغ روشن کرو، کیونکہ زندہ دل ہی تاریخ بدلتے ہیں۔"
    #AllamaIqbal #UrduPoetry #Motivation #Khudi #SelfDiscovery #Iqbaliyat #ZindaDil #SuccessMindset #Pakistan #ViralPost
    🔥 کیا آپ کا دل صرف دھڑک رہا ہے یا واقعی زندہ ہے؟ 🔥 دلِ مردہ دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ کہ یہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ تو ضمیرِ آسماں سے ابھی آشناء نہیں ہے نہیں بے قرار کرتا تجھے غمزہء ستارہ (حکیم الامت علامہ محمد اقبال رح) آج کے ڈیجیٹل دور میں ہمارے پاس سب کچھ ہے: تیز ترین انٹرنیٹ، مہنگی گاڑیاں، اور سوشل میڈیا پر ہزاروں "فرینڈز"۔ لیکن اس چکا چوند میں ایک چیز کہیں کھو گئی ہے... اور وہ ہے ہمارا "زندہ دل"۔ علامہ اقبالؒ نے ان چند مصرعوں میں پوری انسانیت اور خاص طور پر ہم نوجوانوں کو ایک زبردست "ویک اپ کال" دی ہے۔ آئیے اس پیغام کی گہرائی کو سمجھتے ہیں: 1️⃣ مسئلہ: مردہ دلی اور پرانی بیماری (مرضِ کہن) 🥀 اقبال فرماتے ہیں کہ وہ دل جس میں کوئی تڑپ نہیں، جو کسی بڑے مقصد کے لیے بے چین نہیں ہوتا، وہ دراصل "مردہ" ہے۔ * مرضِ کہن کیا ہے؟ یہ وہ ذہنی غلامی، سستی اور "کمفرٹ زون" ہے جس میں ہم قید ہیں۔ ہم صرف کھا رہے ہیں، پی رہے ہیں اور سو رہے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ قوموں کی تمام بیماریوں کا واحد علاج یہ ہے کہ ان کے افراد کے اندر کا دل بیدار ہو جائے۔ 2️⃣ شکوہ: پست خیالی کا قید خانہ ⛓️ اقبال ہمیں جھنجھوڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمہاری سوچ ابھی تک زمین کی پستیوں میں الجھی ہوئی ہے۔ تم روٹی، کپڑا، مکان اور چھوٹی موٹی رنجشوں سے باہر نہیں نکل پائے۔ * کائنات کی وسعتیں اور ستاروں کی بلندی تمہیں پکار رہی ہے، لیکن تم اتنے بے حس ہو چکے ہو کہ قدرت کے یہ عظیم اشارے (غمزہء ستارہ) تمہیں بے قرار ہی نہیں کرتے۔ 🛠️ یہ سب کیسے ممکن ہے؟ (عملی طریقہ کار) اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ "خودی" کو کیسے بیدار کریں؟ اقبال کے اس فلسفے کو اپنی زندگی میں اتارنے کے لیے یہ 4 قدم اٹھائیں: الف: مقصدِ زندگی کا تعین (Find Your 'Why') 🎯 دل تب مردہ ہوتا ہے جب زندگی کا کوئی بڑا ویژن نہ ہو۔ آج ہی کاغذ قلم اٹھائیں اور لکھیں کہ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ ایسا مقصد جو آپ کی ذات سے بڑا ہو اور انسانیت کے کام آئے۔ جب مقصد بڑا ہوتا ہے، تو دل کی دھڑکنوں میں جنون پیدا ہوتا ہے۔ ب: تنہائی اور خود شناسی (Self-Reflection) 🧘‍♂️ دن میں کم از کم 15 منٹ سوشل میڈیا کے شور سے دور ہو کر تنہائی میں بیٹھیں۔ اپنے آپ سے سوال کریں، اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں۔ یاد رکھیں، جو شخص خود کو نہیں پہچانتا، وہ کائنات کو کیا پہچانے گا؟ خودی کی بیداری کا راستہ آپ کے اپنے اندر سے شروع ہوتا ہے۔ ج: مطالعہ اور بلند خیالی (Elevate Your Thoughts) 📚 اپنی پستی سے نکلنے کے لیے اپنے آئیڈیلز بدلیں۔ سستی تفریح کے بجائے وہ علم حاصل کریں جو آپ کی سوچ کو وسعت دے۔ جب آپ کا علم بڑھے گا، تو آپ کو ستاروں کی پکار سنائی دینے لگے گی اور آپ چھوٹی باتوں پر وقت ضائع کرنا چھوڑ دیں گے۔ د: حرکت و عمل (Be Proactive) 🔥 اقبال کے نزدیک تڑپ کا مطلب صرف سوچنا نہیں بلکہ "عمل" ہے۔ جس کام کو کرنے کا ارادہ کریں، اسے پوری روح اور جنون کے ساتھ کریں۔ سستی اور ٹال مٹول (Procrastination) مردہ دلی کی سب سے بڑی علامت ہے۔ حرکت میں ہی برکت اور زندگی ہے۔ 📢 حاصلِ کلام: دوستو! دنیا آپ کو ایک "نمبر" یا "صارف" (User) سمجھتی ہے، لیکن اقبال آپ کو "شاہین" دیکھنا چاہتے ہیں۔ اپنے دل کو دوبارہ زندہ کریں، اپنے ضمیر کو بیدار کریں، اور یاد رکھیں کہ آپ کی منزل ستاروں سے بھی آگے ہے۔ "اٹھو! اپنے اندر کا چراغ روشن کرو، کیونکہ زندہ دل ہی تاریخ بدلتے ہیں۔" #AllamaIqbal #UrduPoetry #Motivation #Khudi #SelfDiscovery #Iqbaliyat #ZindaDil #SuccessMindset #Pakistan #ViralPost
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 2089 Views 0
  • پاکستان کو امیر بنانے کا ایک راز — فرنچائزنگ

    دنیا میں کچھ ایسے بزنس ماڈل ہیں جو ملکوں کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔
    ان میں سے ایک طاقتور ماڈل ہے Franchising۔

    امریکہ، برطانیہ، ترکی، ملائیشیا اور دبئی میں آپ جہاں بھی دیکھیں گے…
    ریسٹورنٹس، بیکریز، اسکولز، دکانیں، جم، کلینکس —
    ان میں سے ہزاروں فرنچائز سسٹم کے ذریعے بڑھے ہیں۔

    لیکن پاکستان میں ابھی بھی بہت کم لوگ سمجھتے ہیں کہ:

    فرنچائزنگ آخر ہوتی کیا ہے؟

    فرنچائزنگ کیا ہوتی ہے؟

    فرنچائزنگ کا مطلب ہے کہ
    ایک کامیاب بزنس اپنا برانڈ، سسٹم، تربیت اور طریقہ کار دوسرے لوگوں کو دیتا ہے تاکہ وہ بھی وہی بزنس اسی معیار کے ساتھ کھول سکیں۔

    یعنی:

    ایک کامیاب دکان ➜ 100 دکانیں
    ایک کامیاب بیکری ➜ 300 بیکریاں
    ایک کامیاب اسکول ➜ 1000 اسکول

    اور سب ایک ہی سسٹم کے تحت کام کرتے ہیں۔

    اس کا فائدہ کیا ہوتا ہے؟

    • بزنس تیزی سے بڑھتا ہے
    • نئے کاروباری لوگ آسانی سے بزنس شروع کر سکتے ہیں
    • ناکامی کا خطرہ کم ہو جاتا ہے
    • ہزاروں لوگوں کو روزگار ملتا ہے
    • پورا ملک معاشی طور پر تیزی سے آگے بڑھتا ہے

    پاکستان کی معیشت 10 گنا کیوں بڑھ سکتی ہے؟

    اگر پاکستان میں فرنچائز کلچر مضبوط ہو جائے تو:

    • لاکھوں نئی دکانیں کھل سکتی ہیں
    • لاکھوں نوجوان کاروباری بن سکتے ہیں
    • لاکھوں نئی نوکریاں پیدا ہو سکتی ہیں
    • معیار بہتر ہو سکتا ہے
    • سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے

    یعنی ایک کامیاب بزنس سینکڑوں کاروباروں میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ فرنچائزنگ کو دنیا میں
    Economic Multiplier Machine کہا جاتا ہے۔

    پاکستان کو اگر واقعی تیزی سے ترقی کرنی ہے تو ہمیں
    سسٹمز بنانے ہوں گے جو ہزاروں لوگ کاپی کر سکیں۔

    اور یہی فرنچائزنگ کا اصل فلسفہ ہے۔

    اسی وژن کے ساتھ آج میں آپ کو متعارف کرا رہا ہوں:

    Hesham Jamil — Franchisewala

    جو پاکستان میں فرنچائزنگ کلچر کو فروغ دینے اور بزنس سسٹمز کو سینکڑوں اور ہزاروں برانچز تک لے جانے کے مشن پر کام کر رہے ہیں۔

    کیونکہ جب ایک بزنس بڑھتا ہے تو ایک کمپنی کامیاب ہوتی ہے…

    لیکن جب سسٹم بڑھتا ہے تو پورا ملک امیر ہو جاتا ہے۔

    Introducing Hesham Jamil Franchisewala
    🇵🇰 پاکستان کو امیر بنانے کا ایک راز — فرنچائزنگ دنیا میں کچھ ایسے بزنس ماڈل ہیں جو ملکوں کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔ ان میں سے ایک طاقتور ماڈل ہے Franchising۔ امریکہ، برطانیہ، ترکی، ملائیشیا اور دبئی میں آپ جہاں بھی دیکھیں گے… ریسٹورنٹس، بیکریز، اسکولز، دکانیں، جم، کلینکس — ان میں سے ہزاروں فرنچائز سسٹم کے ذریعے بڑھے ہیں۔ لیکن پاکستان میں ابھی بھی بہت کم لوگ سمجھتے ہیں کہ: فرنچائزنگ آخر ہوتی کیا ہے؟ فرنچائزنگ کیا ہوتی ہے؟ فرنچائزنگ کا مطلب ہے کہ ایک کامیاب بزنس اپنا برانڈ، سسٹم، تربیت اور طریقہ کار دوسرے لوگوں کو دیتا ہے تاکہ وہ بھی وہی بزنس اسی معیار کے ساتھ کھول سکیں۔ یعنی: ایک کامیاب دکان ➜ 100 دکانیں ایک کامیاب بیکری ➜ 300 بیکریاں ایک کامیاب اسکول ➜ 1000 اسکول اور سب ایک ہی سسٹم کے تحت کام کرتے ہیں۔ اس کا فائدہ کیا ہوتا ہے؟ • بزنس تیزی سے بڑھتا ہے • نئے کاروباری لوگ آسانی سے بزنس شروع کر سکتے ہیں • ناکامی کا خطرہ کم ہو جاتا ہے • ہزاروں لوگوں کو روزگار ملتا ہے • پورا ملک معاشی طور پر تیزی سے آگے بڑھتا ہے پاکستان کی معیشت 10 گنا کیوں بڑھ سکتی ہے؟ اگر پاکستان میں فرنچائز کلچر مضبوط ہو جائے تو: • لاکھوں نئی دکانیں کھل سکتی ہیں • لاکھوں نوجوان کاروباری بن سکتے ہیں • لاکھوں نئی نوکریاں پیدا ہو سکتی ہیں • معیار بہتر ہو سکتا ہے • سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے یعنی ایک کامیاب بزنس سینکڑوں کاروباروں میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرنچائزنگ کو دنیا میں Economic Multiplier Machine کہا جاتا ہے۔ پاکستان کو اگر واقعی تیزی سے ترقی کرنی ہے تو ہمیں سسٹمز بنانے ہوں گے جو ہزاروں لوگ کاپی کر سکیں۔ اور یہی فرنچائزنگ کا اصل فلسفہ ہے۔ 🌟 اسی وژن کے ساتھ آج میں آپ کو متعارف کرا رہا ہوں: Hesham Jamil — Franchisewala جو پاکستان میں فرنچائزنگ کلچر کو فروغ دینے اور بزنس سسٹمز کو سینکڑوں اور ہزاروں برانچز تک لے جانے کے مشن پر کام کر رہے ہیں۔ کیونکہ جب ایک بزنس بڑھتا ہے تو ایک کمپنی کامیاب ہوتی ہے… لیکن جب سسٹم بڑھتا ہے تو پورا ملک امیر ہو جاتا ہے۔ 🇵🇰✨ Introducing Hesham Jamil Franchisewala
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 93 Views 0
  • Kapra banner marketing !

    +92 300 4996063
    Kapra banner marketing ! +92 300 4996063
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 89 Views 0
  • Air commodore choudery sahib wants Rehan School Islamabad Campus to open 6000 new schools !
    Air commodore choudery sahib wants Rehan School Islamabad Campus to open 6000 new schools !🏫
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 68 Views 0