• صدر اسلامک اسکول بارہ کہو، جناب عبداللہ اقبال صاحب سے ملاقات

    آج بارہ کہو میں ایک نہایت خوشگوار اور بامقصد ملاقات ہوئی اسلامک اسکول بارہ کہو کے صدر جناب عبداللہ اقبال صاحب سے۔

    یہ وہ لوگ ہیں جو خاموشی سے تعلیم کے میدان میں خدمت کر رہے ہیں اور علاقے کے بچوں کو بہتر مستقبل دینے کے لیے اپنی زندگی وقف کیے ہوئے ہیں۔

    ہماری گفتگو میں ایک اہم بات بار بار سامنے آئی:

    آنے والا زمانہ صرف کتابوں کا نہیں بلکہ AI، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور خود اعتمادی کا زمانہ ہے۔

    اسی مقصد کے تحت ہم نے بات کی کہ کیسے بارہ کہو کے بچوں کو ایسے ہنر دیے جائیں کہ وہ صرف نوکری تلاش نہ کریں بلکہ اپنے لیے مواقع پیدا کریں۔

    میں نے انہیں بتایا کہ Rehan School میں ہم بچوں کو صرف تعلیم نہیں دیتے بلکہ:

    • AI اور ٹیکنالوجی استعمال کرنا
    • دنیا بھر کے لوگوں سے سوشل میڈیا پر رابطہ کرنا
    • خود اعتمادی کے ساتھ بات کرنا
    • اور کم عمری میں ہی earning while learning شروع کرنا

    یہ سب سکھایا جاتا ہے۔

    میری ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ بارہ کہو جیسے علاقوں کے بچے بھی دنیا کے بہترین بچوں کے ساتھ مقابلہ کر سکیں۔

    اگر اس علاقے کے مزید اسکول، مدارس اور تعلیمی ادارے چاہیں تو وہ آ کر Rehan School Islamabad – Bara Kahu Campus میں ہمارے بچوں سے مل سکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ ہم کیسے بچوں کو AI، انٹرنیٹ اور خود اعتمادی کے ذریعے بااختیار بنا رہے ہیں۔

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عبداللہ اقبال صاحب کی کاوشوں میں برکت دے اور بارہ کہو کو ایک دن پاکستان کا بہترین تعلیمی شہر بنا دے۔

    تعلیم بدلتی ہے…
    لیکن صحیح تعلیم پورا معاشرہ بدل دیتی ہے۔

    In meeting also Waqas Ahmad, Mehboob Elahi and Hafiz Isamuddin

    — ریحان اللہ والا

    #RehanSchool
    #Barakahu
    #FutureOfEducation
    #AIeducation
    #LearnToEar
    صدر اسلامک اسکول بارہ کہو، جناب عبداللہ اقبال صاحب سے ملاقات آج بارہ کہو میں ایک نہایت خوشگوار اور بامقصد ملاقات ہوئی اسلامک اسکول بارہ کہو کے صدر جناب عبداللہ اقبال صاحب سے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خاموشی سے تعلیم کے میدان میں خدمت کر رہے ہیں اور علاقے کے بچوں کو بہتر مستقبل دینے کے لیے اپنی زندگی وقف کیے ہوئے ہیں۔ ہماری گفتگو میں ایک اہم بات بار بار سامنے آئی: آنے والا زمانہ صرف کتابوں کا نہیں بلکہ AI، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور خود اعتمادی کا زمانہ ہے۔ اسی مقصد کے تحت ہم نے بات کی کہ کیسے بارہ کہو کے بچوں کو ایسے ہنر دیے جائیں کہ وہ صرف نوکری تلاش نہ کریں بلکہ اپنے لیے مواقع پیدا کریں۔ میں نے انہیں بتایا کہ Rehan School میں ہم بچوں کو صرف تعلیم نہیں دیتے بلکہ: • AI اور ٹیکنالوجی استعمال کرنا • دنیا بھر کے لوگوں سے سوشل میڈیا پر رابطہ کرنا • خود اعتمادی کے ساتھ بات کرنا • اور کم عمری میں ہی earning while learning شروع کرنا یہ سب سکھایا جاتا ہے۔ میری ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ بارہ کہو جیسے علاقوں کے بچے بھی دنیا کے بہترین بچوں کے ساتھ مقابلہ کر سکیں۔ اگر اس علاقے کے مزید اسکول، مدارس اور تعلیمی ادارے چاہیں تو وہ آ کر Rehan School Islamabad – Bara Kahu Campus میں ہمارے بچوں سے مل سکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ ہم کیسے بچوں کو AI، انٹرنیٹ اور خود اعتمادی کے ذریعے بااختیار بنا رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عبداللہ اقبال صاحب کی کاوشوں میں برکت دے اور بارہ کہو کو ایک دن پاکستان کا بہترین تعلیمی شہر بنا دے۔ تعلیم بدلتی ہے… لیکن صحیح تعلیم پورا معاشرہ بدل دیتی ہے۔ In meeting also Waqas Ahmad, Mehboob Elahi and Hafiz Isamuddin — ریحان اللہ والا #RehanSchool #Barakahu #FutureOfEducation #AIeducation #LearnToEar
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 646 Visualizações 0
  • ملاقات: سابق ایم پی اے خیبر پختونخوا حافظ عصام الدین قریشی محسود سے

    آج مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ میری ملاقات حافظ عصام الدین قریشی محسود صاحب سے ہوئی — جو جنوبی وزیرستان کے ایک باوقار عالمِ دین، حدیث کے استاد، اسلامی علوم میں ایم فل اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے سابق رکن (MPA) رہ چکے ہیں۔

    وہ جمعیت علماء اسلام (JUI) سے وابستہ رہے ہیں اور اپنے علاقے میں ایک بااثر مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
    ان کی شخصیت کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ وہ صرف سیاست یا تدریس تک محدود نہیں بلکہ مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

    وزیرستان کی زمین کی خالص نعمتوں کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے وہ یہ مصنوعات فروغ دے رہے ہیں:

    خالص زیتون کا تیل
    اصل شہد
    دیسی گھی

    یہ سب وہ نعمتیں ہیں جو وزیرستان کی زمین سے نکلتی ہیں اور پاکستان کے لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔

    ملاقات کے دوران ہم نے ایک بہت اہم موضوع پر گفتگو کی…

    آج دنیا تیزی سے Artificial Intelligence، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔
    لیکن ایک سوال ہے:

    کیا وزیرستان، فاٹا اور پاکستان کے دینی مدارس کے طلبہ بھی اس نئی دنیا کا حصہ بن سکتے ہیں؟

    میرا جواب تھا: جی ہاں، بالکل بن سکتے ہیں۔

    میں نے انہیں بتایا کہ Rehan School میں ہم ایک ایسا نظام بنا رہے ہیں جہاں بچے:

    انٹرنیٹ اور کمپیوٹر مہارتیں سیکھتے ہیں
    AI کے ساتھ کام کرنا سیکھتے ہیں
    اعتماد اور مضبوط گفتگو کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں
    سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کو سمجھتے ہیں

    اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ:

    ہمارے کئی طلبہ 6 سے 18 مہینے کے اندر اپنی اسکول فیس خود کمانا شروع کر دیتے ہیں۔

    ذرا تصور کریں…

    اگر یہی نظام وزیرستان کے نوجوانوں تک پہنچ جائے تو کیا ہو سکتا ہے؟

    وہ نوجوان جو آج صرف نوکری ڈھونڈتے ہیں،
    کل دنیا بھر کے ساتھ کام کرنے والے فری لانسر، کاروباری افراد اور لیڈر بن سکتے ہیں۔

    اور پھر…

    وزیرستان صرف خبروں میں نہیں
    بلکہ دنیا کے نقشے پر علم، کردار اور معیشت کی ایک نئی مثال بن سکتا ہے۔

    جب علمِ دین، سیاسی تجربہ اور جدید ٹیکنالوجی ایک ساتھ آ جائیں تو معاشرے بدل جاتے ہیں۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ پاکستان کے ہر علاقے — خاص طور پر وزیرستان — کے نوجوانوں کو
    علم، AI، انٹرنیٹ اور روزگار کے نئے راستوں سے جوڑ سکیں۔

    رابطہ:

    +92 305 9736377
    Facebook: Hafiz Isamuddin Qureshi Mehsood

    — ریحان اللہ والا
    🔥 ملاقات: سابق ایم پی اے خیبر پختونخوا حافظ عصام الدین قریشی محسود سے آج مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ میری ملاقات حافظ عصام الدین قریشی محسود صاحب سے ہوئی — جو جنوبی وزیرستان کے ایک باوقار عالمِ دین، حدیث کے استاد، اسلامی علوم میں ایم فل اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے سابق رکن (MPA) رہ چکے ہیں۔ وہ جمعیت علماء اسلام (JUI) سے وابستہ رہے ہیں اور اپنے علاقے میں ایک بااثر مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ وہ صرف سیاست یا تدریس تک محدود نہیں بلکہ مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ وزیرستان کی زمین کی خالص نعمتوں کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے وہ یہ مصنوعات فروغ دے رہے ہیں: 🌿 خالص زیتون کا تیل 🍯 اصل شہد 🧈 دیسی گھی یہ سب وہ نعمتیں ہیں جو وزیرستان کی زمین سے نکلتی ہیں اور پاکستان کے لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔ ملاقات کے دوران ہم نے ایک بہت اہم موضوع پر گفتگو کی… آج دنیا تیزی سے Artificial Intelligence، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ لیکن ایک سوال ہے: ❓ کیا وزیرستان، فاٹا اور پاکستان کے دینی مدارس کے طلبہ بھی اس نئی دنیا کا حصہ بن سکتے ہیں؟ میرا جواب تھا: جی ہاں، بالکل بن سکتے ہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ Rehan School میں ہم ایک ایسا نظام بنا رہے ہیں جہاں بچے: 💻 انٹرنیٹ اور کمپیوٹر مہارتیں سیکھتے ہیں 🤖 AI کے ساتھ کام کرنا سیکھتے ہیں 🎤 اعتماد اور مضبوط گفتگو کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں 📱 سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کو سمجھتے ہیں اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ: 💰 ہمارے کئی طلبہ 6 سے 18 مہینے کے اندر اپنی اسکول فیس خود کمانا شروع کر دیتے ہیں۔ ذرا تصور کریں… اگر یہی نظام وزیرستان کے نوجوانوں تک پہنچ جائے تو کیا ہو سکتا ہے؟ وہ نوجوان جو آج صرف نوکری ڈھونڈتے ہیں، کل دنیا بھر کے ساتھ کام کرنے والے فری لانسر، کاروباری افراد اور لیڈر بن سکتے ہیں۔ اور پھر… 🌍 وزیرستان صرف خبروں میں نہیں بلکہ دنیا کے نقشے پر علم، کردار اور معیشت کی ایک نئی مثال بن سکتا ہے۔ جب علمِ دین، سیاسی تجربہ اور جدید ٹیکنالوجی ایک ساتھ آ جائیں تو معاشرے بدل جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ پاکستان کے ہر علاقے — خاص طور پر وزیرستان — کے نوجوانوں کو علم، AI، انٹرنیٹ اور روزگار کے نئے راستوں سے جوڑ سکیں۔ 📞 رابطہ: +92 305 9736377 📘 Facebook: Hafiz Isamuddin Qureshi Mehsood — ریحان اللہ والا
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 85 Visualizações 0
  • ملاقات: سابق ایم پی اے خیبر پختونخوا حافظ عصام الدین قریشی محسود سے

    آج مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ میری ملاقات حافظ عصام الدین قریشی محسود صاحب سے ہوئی — جو جنوبی وزیرستان کے ایک باوقار عالمِ دین، حدیث کے استاد، اسلامی علوم میں ایم فل اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے سابق رکن (MPA) رہ چکے ہیں۔

    وہ جمعیت علماء اسلام (JUI) سے وابستہ رہے ہیں اور اپنے علاقے میں ایک بااثر مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
    ان کی شخصیت کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ وہ صرف سیاست یا تدریس تک محدود نہیں بلکہ مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

    وزیرستان کی زمین کی خالص نعمتوں کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے وہ یہ مصنوعات فروغ دے رہے ہیں:

    خالص زیتون کا تیل
    اصل شہد
    دیسی گھی

    یہ سب وہ نعمتیں ہیں جو وزیرستان کی زمین سے نکلتی ہیں اور پاکستان کے لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔

    ملاقات کے دوران ہم نے ایک بہت اہم موضوع پر گفتگو کی…

    آج دنیا تیزی سے Artificial Intelligence، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔
    لیکن ایک سوال ہے:

    کیا وزیرستان، فاٹا اور پاکستان کے دینی مدارس کے طلبہ بھی اس نئی دنیا کا حصہ بن سکتے ہیں؟

    میرا جواب تھا: جی ہاں، بالکل بن سکتے ہیں۔

    میں نے انہیں بتایا کہ Rehan School میں ہم ایک ایسا نظام بنا رہے ہیں جہاں بچے:

    انٹرنیٹ اور کمپیوٹر مہارتیں سیکھتے ہیں
    AI کے ساتھ کام کرنا سیکھتے ہیں
    اعتماد اور مضبوط گفتگو کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں
    سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کو سمجھتے ہیں

    اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ:

    ہمارے کئی طلبہ 6 سے 18 مہینے کے اندر اپنی اسکول فیس خود کمانا شروع کر دیتے ہیں۔

    ذرا تصور کریں…

    اگر یہی نظام وزیرستان کے نوجوانوں تک پہنچ جائے تو کیا ہو سکتا ہے؟

    وہ نوجوان جو آج صرف نوکری ڈھونڈتے ہیں،
    کل دنیا بھر کے ساتھ کام کرنے والے فری لانسر، کاروباری افراد اور لیڈر بن سکتے ہیں۔

    اور پھر…

    وزیرستان صرف خبروں میں نہیں
    بلکہ دنیا کے نقشے پر علم، کردار اور معیشت کی ایک نئی مثال بن سکتا ہے۔

    جب علمِ دین، سیاسی تجربہ اور جدید ٹیکنالوجی ایک ساتھ آ جائیں تو معاشرے بدل جاتے ہیں۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ پاکستان کے ہر علاقے — خاص طور پر وزیرستان — کے نوجوانوں کو
    علم، AI، انٹرنیٹ اور روزگار کے نئے راستوں سے جوڑ سکیں۔

    رابطہ:

    +92 305 9736377
    Facebook: Hafiz Isamuddin Qureshi Mehsood

    — ریحان اللہ والا
    🔥 ملاقات: سابق ایم پی اے خیبر پختونخوا حافظ عصام الدین قریشی محسود سے آج مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ میری ملاقات حافظ عصام الدین قریشی محسود صاحب سے ہوئی — جو جنوبی وزیرستان کے ایک باوقار عالمِ دین، حدیث کے استاد، اسلامی علوم میں ایم فل اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے سابق رکن (MPA) رہ چکے ہیں۔ وہ جمعیت علماء اسلام (JUI) سے وابستہ رہے ہیں اور اپنے علاقے میں ایک بااثر مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ وہ صرف سیاست یا تدریس تک محدود نہیں بلکہ مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ وزیرستان کی زمین کی خالص نعمتوں کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے وہ یہ مصنوعات فروغ دے رہے ہیں: 🌿 خالص زیتون کا تیل 🍯 اصل شہد 🧈 دیسی گھی یہ سب وہ نعمتیں ہیں جو وزیرستان کی زمین سے نکلتی ہیں اور پاکستان کے لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔ ملاقات کے دوران ہم نے ایک بہت اہم موضوع پر گفتگو کی… آج دنیا تیزی سے Artificial Intelligence، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ لیکن ایک سوال ہے: ❓ کیا وزیرستان، فاٹا اور پاکستان کے دینی مدارس کے طلبہ بھی اس نئی دنیا کا حصہ بن سکتے ہیں؟ میرا جواب تھا: جی ہاں، بالکل بن سکتے ہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ Rehan School میں ہم ایک ایسا نظام بنا رہے ہیں جہاں بچے: 💻 انٹرنیٹ اور کمپیوٹر مہارتیں سیکھتے ہیں 🤖 AI کے ساتھ کام کرنا سیکھتے ہیں 🎤 اعتماد اور مضبوط گفتگو کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں 📱 سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کو سمجھتے ہیں اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ: 💰 ہمارے کئی طلبہ 6 سے 18 مہینے کے اندر اپنی اسکول فیس خود کمانا شروع کر دیتے ہیں۔ ذرا تصور کریں… اگر یہی نظام وزیرستان کے نوجوانوں تک پہنچ جائے تو کیا ہو سکتا ہے؟ وہ نوجوان جو آج صرف نوکری ڈھونڈتے ہیں، کل دنیا بھر کے ساتھ کام کرنے والے فری لانسر، کاروباری افراد اور لیڈر بن سکتے ہیں۔ اور پھر… 🌍 وزیرستان صرف خبروں میں نہیں بلکہ دنیا کے نقشے پر علم، کردار اور معیشت کی ایک نئی مثال بن سکتا ہے۔ جب علمِ دین، سیاسی تجربہ اور جدید ٹیکنالوجی ایک ساتھ آ جائیں تو معاشرے بدل جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ پاکستان کے ہر علاقے — خاص طور پر وزیرستان — کے نوجوانوں کو علم، AI، انٹرنیٹ اور روزگار کے نئے راستوں سے جوڑ سکیں۔ 📞 رابطہ: +92 305 9736377 📘 Facebook: Hafiz Isamuddin Qureshi Mehsood — ریحان اللہ والا
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 50 Visualizações 0
  • Rehan School Franchise !

    https://rehanschool.com/franchise/

    https://chat.whatsapp.com/DQgrvRy3a3yBVRABUhcB5T?mode=hq2tcli
    Rehan School Franchise ! https://rehanschool.com/franchise/ https://chat.whatsapp.com/DQgrvRy3a3yBVRABUhcB5T?mode=hq2tcli
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 63 Visualizações 0
  • Podcast with Hafiz Mehboob Elahi sahib
    Podcast with Hafiz Mehboob Elahi sahib
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 68 Visualizações 0
  • Facebook Video
    Facebook Video
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 81 Visualizações 0
  • ازولا: ایک چھوٹا سا پودا جو ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے

    کبھی کبھی اللہ تعالیٰ کسی بڑی نعمت کو بہت چھوٹی شکل میں بھیج دیتا ہے۔
    ایسا ہی ایک تحفہ ہے ازولا (Azolla)۔

    یہ ایک چھوٹا سا تیرتا ہوا آبی پودا ہے جو پانی کی سطح پر اگتا ہے۔ پہلی نظر میں یہ صرف سبز کائی یا گھاس جیسا لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ قدرت کا سپر فوڈ اور سپر فرٹیلائزر ہے۔

    آج دنیا کے بہت سے ممالک جیسے چین، ویتنام اور بھارت اس پودے کو بڑے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں۔ اگر ہم اپنے ملک میں اسے عام کر دیں تو یہ خوراک، ماحول اور معیشت تینوں میں انقلاب لا سکتا ہے۔



    ازولا کیا ہے؟

    ازولا ایک پانی میں اگنے والا چھوٹا سا پودا ہے جو تالاب، کھیت یا چھوٹے ٹینک میں بھی آسانی سے اگ جاتا ہے۔

    یہ دنیا کے تیز ترین بڑھنے والے پودوں میں سے ایک ہے۔
    صحیح حالات میں یہ ہر 3 سے 5 دن میں اپنی مقدار دوگنی کر دیتا ہے۔

    اس کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس کے اندر ایک خاص قسم کے بیکٹیریا رہتے ہیں جو ہوا سے نائٹروجن پکڑ کر زمین کے لیے کھاد بنا دیتے ہیں۔

    یعنی ازولا قدرتی کھاد بنانے والی زندہ فیکٹری ہے۔



    ازولا کیوں ضروری ہے؟

    اگر ہم آج سے اپنے ملک میں ہر گاؤں، ہر اسکول اور ہر فارم میں ازولا اگانا شروع کر دیں تو کئی بڑے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

    جانوروں کے لیے سستا سپر فوڈ

    ازولا میں
    • 20–30٪ پروٹین
    • وٹامن A، B12
    • کیلشیم اور آئرن

    بڑی مقدار میں ہوتے ہیں۔

    اسے
    • گائے
    • بھینس
    • مرغی
    • مچھلی
    • بکری

    کو کھلایا جا سکتا ہے۔

    نتیجہ؟

    دودھ کی پیداوار بڑھ جاتی ہے
    مرغیوں کے انڈے زیادہ ہو جاتے ہیں
    مچھلی تیزی سے بڑھتی ہے

    اور سب سے اہم بات:
    چارہ خریدنے کا خرچ بہت کم ہو جاتا ہے۔



    قدرتی کھاد

    ازولا کھیتوں کے لیے بہترین نامیاتی کھاد ہے۔

    خاص طور پر چاول کے کھیتوں میں اسے ڈالنے سے:

    زمین کی زرخیزی بڑھتی ہے
    کیمیکل کھاد کی ضرورت کم ہو جاتی ہے
    پیداوار بہتر ہوتی ہے

    چین میں ہزاروں سال سے کسان اسے استعمال کر رہے ہیں۔



    ماحول کی حفاظت

    ازولا کا ایک اور حیران کن فائدہ ہے۔

    یہ پانی سے
    • کاربن
    • نائٹروجن
    • آلودگی

    کو جذب کر لیتا ہے۔

    یعنی یہ پانی کو صاف کرنے والا قدرتی فلٹر بھی ہے۔



    ہمیں ابھی ازولا کیوں شروع کرنا چاہیے؟

    ہمارے ملک میں تین بڑے مسائل ہیں:

    مہنگا چارہ
    مہنگی کھاد
    آلودگی

    ازولا ان تینوں کا حل بن سکتا ہے۔

    سوچیں اگر:
    • ہر اسکول میں ایک چھوٹا سا ازولا ٹینک ہو
    • ہر گاؤں میں ازولا فارم ہو
    • ہر ڈیری فارم میں ازولا اگایا جائے

    تو لاکھوں روپے کا چارہ بچ سکتا ہے۔



    ایک چھوٹا سا تجربہ، ایک بڑا انقلاب

    ازولا اگانے کے لیے صرف یہ چاہیے:

    ✔ تھوڑا سا پانی
    ✔ ایک چھوٹا ٹینک یا تالاب
    ✔ تھوڑی سی مٹی
    ✔ اور ازولا کا اسٹارٹر

    پھر یہ خود ہی تیزی سے بڑھتا رہتا ہے۔

    یعنی قدرت کی ایک ایسی فیکٹری جو بجلی کے بغیر چلتی ہے۔



    میرا خواب

    میرا خواب ہے کہ:
    • ہر Rehan School میں ازولا ہو
    • ہر طالب علم اسے اگانا سیکھے
    • ہر گاؤں میں خوراک اور کھاد خود پیدا ہو

    تب ہم واقعی ایک خود کفیل اور صاف ستھرا ملک بنا سکتے ہیں۔

    کبھی کبھی انقلاب بڑی مشینوں سے نہیں،
    بلکہ ایک چھوٹے سے سبز پودے سے شروع ہوتا ہے۔

    اور وہ پودا ہو سکتا ہے…
    ازولا۔

    Contact Yaseen +92 341 4260608 to buy seed
    🌿 ازولا: ایک چھوٹا سا پودا جو ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے کبھی کبھی اللہ تعالیٰ کسی بڑی نعمت کو بہت چھوٹی شکل میں بھیج دیتا ہے۔ ایسا ہی ایک تحفہ ہے ازولا (Azolla)۔ یہ ایک چھوٹا سا تیرتا ہوا آبی پودا ہے جو پانی کی سطح پر اگتا ہے۔ پہلی نظر میں یہ صرف سبز کائی یا گھاس جیسا لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ قدرت کا سپر فوڈ اور سپر فرٹیلائزر ہے۔ آج دنیا کے بہت سے ممالک جیسے چین، ویتنام اور بھارت اس پودے کو بڑے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں۔ اگر ہم اپنے ملک میں اسے عام کر دیں تو یہ خوراک، ماحول اور معیشت تینوں میں انقلاب لا سکتا ہے۔ ⸻ 🌱 ازولا کیا ہے؟ ازولا ایک پانی میں اگنے والا چھوٹا سا پودا ہے جو تالاب، کھیت یا چھوٹے ٹینک میں بھی آسانی سے اگ جاتا ہے۔ یہ دنیا کے تیز ترین بڑھنے والے پودوں میں سے ایک ہے۔ صحیح حالات میں یہ ہر 3 سے 5 دن میں اپنی مقدار دوگنی کر دیتا ہے۔ اس کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس کے اندر ایک خاص قسم کے بیکٹیریا رہتے ہیں جو ہوا سے نائٹروجن پکڑ کر زمین کے لیے کھاد بنا دیتے ہیں۔ یعنی ازولا قدرتی کھاد بنانے والی زندہ فیکٹری ہے۔ ⸻ 🐄 ازولا کیوں ضروری ہے؟ اگر ہم آج سے اپنے ملک میں ہر گاؤں، ہر اسکول اور ہر فارم میں ازولا اگانا شروع کر دیں تو کئی بڑے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ 1️⃣ جانوروں کے لیے سستا سپر فوڈ ازولا میں • 20–30٪ پروٹین • وٹامن A، B12 • کیلشیم اور آئرن بڑی مقدار میں ہوتے ہیں۔ اسے • گائے • بھینس • مرغی • مچھلی • بکری کو کھلایا جا سکتا ہے۔ نتیجہ؟ 🐄 دودھ کی پیداوار بڑھ جاتی ہے 🐓 مرغیوں کے انڈے زیادہ ہو جاتے ہیں 🐟 مچھلی تیزی سے بڑھتی ہے اور سب سے اہم بات: چارہ خریدنے کا خرچ بہت کم ہو جاتا ہے۔ ⸻ 2️⃣ قدرتی کھاد ازولا کھیتوں کے لیے بہترین نامیاتی کھاد ہے۔ خاص طور پر چاول کے کھیتوں میں اسے ڈالنے سے: 🌾 زمین کی زرخیزی بڑھتی ہے 🌾 کیمیکل کھاد کی ضرورت کم ہو جاتی ہے 🌾 پیداوار بہتر ہوتی ہے چین میں ہزاروں سال سے کسان اسے استعمال کر رہے ہیں۔ ⸻ 3️⃣ ماحول کی حفاظت ازولا کا ایک اور حیران کن فائدہ ہے۔ یہ پانی سے • کاربن • نائٹروجن • آلودگی کو جذب کر لیتا ہے۔ یعنی یہ پانی کو صاف کرنے والا قدرتی فلٹر بھی ہے۔ ⸻ 🇵🇰 ہمیں ابھی ازولا کیوں شروع کرنا چاہیے؟ ہمارے ملک میں تین بڑے مسائل ہیں: 1️⃣ مہنگا چارہ 2️⃣ مہنگی کھاد 3️⃣ آلودگی ازولا ان تینوں کا حل بن سکتا ہے۔ سوچیں اگر: • ہر اسکول میں ایک چھوٹا سا ازولا ٹینک ہو • ہر گاؤں میں ازولا فارم ہو • ہر ڈیری فارم میں ازولا اگایا جائے تو لاکھوں روپے کا چارہ بچ سکتا ہے۔ ⸻ 🌍 ایک چھوٹا سا تجربہ، ایک بڑا انقلاب ازولا اگانے کے لیے صرف یہ چاہیے: ✔ تھوڑا سا پانی ✔ ایک چھوٹا ٹینک یا تالاب ✔ تھوڑی سی مٹی ✔ اور ازولا کا اسٹارٹر پھر یہ خود ہی تیزی سے بڑھتا رہتا ہے۔ یعنی قدرت کی ایک ایسی فیکٹری جو بجلی کے بغیر چلتی ہے۔ ⸻ ✨ میرا خواب میرا خواب ہے کہ: • ہر Rehan School میں ازولا ہو • ہر طالب علم اسے اگانا سیکھے • ہر گاؤں میں خوراک اور کھاد خود پیدا ہو تب ہم واقعی ایک خود کفیل اور صاف ستھرا ملک بنا سکتے ہیں۔ کبھی کبھی انقلاب بڑی مشینوں سے نہیں، بلکہ ایک چھوٹے سے سبز پودے سے شروع ہوتا ہے۔ اور وہ پودا ہو سکتا ہے… ازولا۔ 🌿 Contact Yaseen +92 341 4260608 to buy seed
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 158 Visualizações 0
  • آج ریحان اسکول اسلام آباد – بارہ کہو کیمپس میں ایک خاص ملاقات ہوئی!

    آج ہمیں خوشی ہوئی کہ امیر نواز صاحب (Head – Public Aid Committee, جماعت اسلامی اسلام آباد) نے ریحان اسکول اسلام آباد بارہ کہو کیمپس کا دورہ کیا۔
    اس موقع پر ان کے ساتھ ایک مختصر ویڈیو بھی ریکارڈ کی گئی جس میں انہوں نے پبلک ایڈ کمیٹی کے کام اور اس کے مقصد کے بارے میں بات کی۔

    بہت سے لوگ پوچھتے ہیں:

    پبلک ایڈ کمیٹی کیا ہے؟

    پبلک ایڈ کمیٹی دراصل عوام کی مدد کے لیے بنایا گیا ایک عوامی خدمت کا نظام ہے جسے جماعت اسلامی کے رضاکار چلاتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ عام شہری کو اگر کسی سرکاری ادارے، بل، پانی، گیس، بجلی یا کسی اور مسئلے میں مشکل پیش آئے تو وہ اکیلا نہ ہو۔

    یہ کمیٹی عوام اور اداروں کے درمیان پل (Bridge) کا کام کرتی ہے۔

    پبلک ایڈ کمیٹی کیا کرتی ہے؟

    لوگوں کے بجلی کے غلط بل اور اوور بلنگ کے مسائل حل کروانے میں مدد
    پانی، گیس اور دیگر شہری سہولتوں کے مسائل متعلقہ اداروں تک پہنچانا
    عام شہری کو شکایت درج کروانے اور فالو اپ میں مدد دینا
    غریب اور مجبور لوگوں کی رہنمائی اور فوری مدد کرنا
    شہریوں کی آواز کو حکام تک پہنچانا

    یعنی اگر کسی کو سرکاری نظام میں سمجھ نہ آئے کہ کہاں جانا ہے اور کیا کرنا ہے تو پبلک ایڈ کمیٹی اس کی رہنمائی کرتی ہے۔

    آج امیر نواز صاحب نے ریحان اسکول کے طلبہ سے بھی ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ معاشرے کی خدمت اور لوگوں کی مدد کرنا بھی ایک بڑی تعلیم ہے۔

    ہم ان کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے وقت نکالا اور ہمارے طلبہ کو بتایا کہ کس طرح ایک فرد بھی عوام کے لیے امید بن سکتا ہے۔

    Aamir Nawaz

    امیر نواز صاحب
    Head – Public Aid Committee, Islamabad
    +92 333 2282226

    Rehan School – Islamabad – Bara Kahu Branch
    rehanschool.com

    آئیے ویڈیو دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ پبلک ایڈ کمیٹی کس طرح عوام کی خدمت کر رہی ہے۔

    #RehanSchool
    #BaraKahu
    #PublicAidCommittee
    #JamaatIslami
    #Islamabad
    #Khidmat
    #LeadershipByDesign
    🚨 آج ریحان اسکول اسلام آباد – بارہ کہو کیمپس میں ایک خاص ملاقات ہوئی! آج ہمیں خوشی ہوئی کہ امیر نواز صاحب (Head – Public Aid Committee, جماعت اسلامی اسلام آباد) نے ریحان اسکول اسلام آباد بارہ کہو کیمپس کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ان کے ساتھ ایک مختصر ویڈیو بھی ریکارڈ کی گئی جس میں انہوں نے پبلک ایڈ کمیٹی کے کام اور اس کے مقصد کے بارے میں بات کی۔ بہت سے لوگ پوچھتے ہیں: ❓ پبلک ایڈ کمیٹی کیا ہے؟ پبلک ایڈ کمیٹی دراصل عوام کی مدد کے لیے بنایا گیا ایک عوامی خدمت کا نظام ہے جسے جماعت اسلامی کے رضاکار چلاتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ عام شہری کو اگر کسی سرکاری ادارے، بل، پانی، گیس، بجلی یا کسی اور مسئلے میں مشکل پیش آئے تو وہ اکیلا نہ ہو۔ یہ کمیٹی عوام اور اداروں کے درمیان پل (Bridge) کا کام کرتی ہے۔ پبلک ایڈ کمیٹی کیا کرتی ہے؟ 📌 لوگوں کے بجلی کے غلط بل اور اوور بلنگ کے مسائل حل کروانے میں مدد 📌 پانی، گیس اور دیگر شہری سہولتوں کے مسائل متعلقہ اداروں تک پہنچانا 📌 عام شہری کو شکایت درج کروانے اور فالو اپ میں مدد دینا 📌 غریب اور مجبور لوگوں کی رہنمائی اور فوری مدد کرنا 📌 شہریوں کی آواز کو حکام تک پہنچانا یعنی اگر کسی کو سرکاری نظام میں سمجھ نہ آئے کہ کہاں جانا ہے اور کیا کرنا ہے تو پبلک ایڈ کمیٹی اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ آج امیر نواز صاحب نے ریحان اسکول کے طلبہ سے بھی ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ معاشرے کی خدمت اور لوگوں کی مدد کرنا بھی ایک بڑی تعلیم ہے۔ ہم ان کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے وقت نکالا اور ہمارے طلبہ کو بتایا کہ کس طرح ایک فرد بھی عوام کے لیے امید بن سکتا ہے۔ Aamir Nawaz 📞 امیر نواز صاحب Head – Public Aid Committee, Islamabad +92 333 2282226 📍 Rehan School – Islamabad – Bara Kahu Branch 🌐 rehanschool.com آئیے ویڈیو دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ پبلک ایڈ کمیٹی کس طرح عوام کی خدمت کر رہی ہے۔ #RehanSchool #BaraKahu #PublicAidCommittee #JamaatIslami #Islamabad #Khidmat #LeadershipByDesign
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 906 Visualizações 0
  • Podcast with Asma Shaheen EducationWali after long time
    Podcast with Asma Shaheen EducationWali after long time
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 80 Visualizações 0
  • اس ویڈیو میں ریحان اللہ والا نے ہشام سرور کو بتایا کہ ریحان اسکول کیسے کام کرتا ہے

    کبھی کبھی دو ایسے لوگ ایک جگہ ملتے ہیں
    جنہوں نے ہزاروں نوجوانوں کی زندگیوں کو بدلنے میں کردار ادا کیا ہو…

    اور جب وہ تعلیم کے مستقبل پر بات کرتے ہیں
    تو گفتگو صرف الفاظ نہیں رہتی…
    وہ ایک وژن بن جاتی ہے۔

    کل پاکستان کے معروف فری لانسنگ ٹرینر اور ہزاروں نوجوانوں کو آن لائن کمائی سکھانے والے ہشام سرور ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس آئے۔

    اسی دوران ایک دلچسپ لمحہ آیا جب ریحان اللہ والا نے انہیں کیمرے پر بتایا کہ ریحان اسکول کا نظام اصل میں کیسے کام کرتا ہے۔

    یہ عام اسکول نہیں ہے۔

    یہاں صرف کتابیں یاد نہیں کروائی جاتیں
    یہاں صرف امتحان پاس کرنا مقصد نہیں
    یہاں صرف ڈگری لینا کامیابی نہیں

    بلکہ یہاں ایک مختلف فلسفہ ہے۔

    ریحان اللہ والا نے ہشام سرور کو بتایا کہ:

    ریحان اسکول دنیا کا پہلا AI-First Leadership School بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    جہاں بچوں کو صرف نصاب نہیں پڑھایا جاتا
    بلکہ انہیں زندگی جینے کی صلاحیتیں دی جاتی ہیں۔

    یہاں بچوں کو سکھایا جاتا ہے:

    انٹرنیٹ اور AI کا صحیح استعمال
    اعتماد کے ساتھ بات کرنا
    سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ
    ویڈیوز اور پوڈکاسٹ بنانا
    لوگوں سے جڑنا اور سیکھنا
    مسئلے تلاش کرنا اور ان کا حل نکالنا

    ریحان اللہ والا نے ہشام سرور کو بتایا کہ:

    یہاں بچے صرف طالبعلم نہیں ہوتے…
    یہاں بچے چھوٹے انٹرپرینیور بننا شروع ہو جاتے ہیں۔

    اسی لیے ریحان اسکول میں ایک بہت منفرد ہدف رکھا گیا ہے:

    ہر بچے کو اپنی اسکول فیس خود کمانے کی تربیت دی جاتی ہے۔

    بہت سے بچے
    صرف 6 سے 18 مہینوں کے اندر
    آن لائن کام شروع کر دیتے ہیں۔

    کوئی
    گرافک ڈیزائن کرتا ہے

    کوئی
    ویڈیو ایڈیٹنگ کرتا ہے

    کوئی
    آن لائن انٹرن شپ کرتا ہے

    اور کچھ بچے تو
    اپنے گھر کے اخراجات میں بھی حصہ ڈالنا شروع کر دیتے ہیں۔

    ریحان اللہ والا نے ہشام سرور کو بتایا کہ
    ہم بچوں کو صرف پڑھانا نہیں چاہتے…

    ہم چاہتے ہیں کہ وہ:

    خود سوچنے والے انسان بنیں
    خود پیسے کمانے والے بنیں
    اور دنیا میں مثبت تبدیلی لانے والے لیڈر بنیں

    اسی لیے ریحان اسکول کا خواب بھی بڑا ہے۔

    یہاں ہر بچے کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ:

    زندگی میں کم از کم 10 لاکھ لوگوں پر مثبت اثر ڈالنے کی کوشش کرو
    اور کم از کم ایک ملین ڈالر کمانے کی کوشش کرو

    کیونکہ اگر ہم بچوں کو صرف نوکری کے لیے تیار کریں گے
    تو وہ نوکریاں ڈھونڈتے رہیں گے…

    لیکن اگر ہم انہیں لیڈر اور مسئلہ حل کرنے والا انسان بنائیں گے
    تو وہ دنیا بدلنے والے بن جائیں گے۔

    یہی وژن ریحان اللہ والا نے
    اس ویڈیو میں ہشام سرور کو سمجھایا۔

    اور جب انہوں نے بچوں کو دیکھا
    ان کا اعتماد دیکھا
    اور ان کا کام دیکھا

    تو وہ واقعی متاثر ہوئے۔

    آئیے دیکھتے ہیں
    اس ویڈیو میں ریحان اللہ والا نے ہشام سرور کو ریحان اسکول کے بارے میں کیا بتایا۔

    ویڈیو دیکھیں اور اپنی رائے ضرور دیں۔

    #RehanSchool
    #RehanAllahwala
    #HishamSarwar
    #AIeducation
    #LearnToEarn
    #LeadershipByDesign

    Explaining Hisham Sarwar how Rehan School works
    🔥 اس ویڈیو میں ریحان اللہ والا نے ہشام سرور کو بتایا کہ ریحان اسکول کیسے کام کرتا ہے کبھی کبھی دو ایسے لوگ ایک جگہ ملتے ہیں جنہوں نے ہزاروں نوجوانوں کی زندگیوں کو بدلنے میں کردار ادا کیا ہو… اور جب وہ تعلیم کے مستقبل پر بات کرتے ہیں تو گفتگو صرف الفاظ نہیں رہتی… وہ ایک وژن بن جاتی ہے۔ کل پاکستان کے معروف فری لانسنگ ٹرینر اور ہزاروں نوجوانوں کو آن لائن کمائی سکھانے والے ہشام سرور ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس آئے۔ اسی دوران ایک دلچسپ لمحہ آیا جب ریحان اللہ والا نے انہیں کیمرے پر بتایا کہ ریحان اسکول کا نظام اصل میں کیسے کام کرتا ہے۔ یہ عام اسکول نہیں ہے۔ ❌ یہاں صرف کتابیں یاد نہیں کروائی جاتیں ❌ یہاں صرف امتحان پاس کرنا مقصد نہیں ❌ یہاں صرف ڈگری لینا کامیابی نہیں بلکہ یہاں ایک مختلف فلسفہ ہے۔ ریحان اللہ والا نے ہشام سرور کو بتایا کہ: 🌍 ریحان اسکول دنیا کا پہلا AI-First Leadership School بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جہاں بچوں کو صرف نصاب نہیں پڑھایا جاتا بلکہ انہیں زندگی جینے کی صلاحیتیں دی جاتی ہیں۔ یہاں بچوں کو سکھایا جاتا ہے: 💻 انٹرنیٹ اور AI کا صحیح استعمال 🎤 اعتماد کے ساتھ بات کرنا 📱 سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ 🎬 ویڈیوز اور پوڈکاسٹ بنانا 🤝 لوگوں سے جڑنا اور سیکھنا 💡 مسئلے تلاش کرنا اور ان کا حل نکالنا ریحان اللہ والا نے ہشام سرور کو بتایا کہ: یہاں بچے صرف طالبعلم نہیں ہوتے… یہاں بچے چھوٹے انٹرپرینیور بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے ریحان اسکول میں ایک بہت منفرد ہدف رکھا گیا ہے: 💰 ہر بچے کو اپنی اسکول فیس خود کمانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ بہت سے بچے صرف 6 سے 18 مہینوں کے اندر آن لائن کام شروع کر دیتے ہیں۔ کوئی 🎨 گرافک ڈیزائن کرتا ہے کوئی 🎬 ویڈیو ایڈیٹنگ کرتا ہے کوئی 💻 آن لائن انٹرن شپ کرتا ہے اور کچھ بچے تو اپنے گھر کے اخراجات میں بھی حصہ ڈالنا شروع کر دیتے ہیں۔ ریحان اللہ والا نے ہشام سرور کو بتایا کہ ہم بچوں کو صرف پڑھانا نہیں چاہتے… ہم چاہتے ہیں کہ وہ: 🌟 خود سوچنے والے انسان بنیں 🌟 خود پیسے کمانے والے بنیں 🌟 اور دنیا میں مثبت تبدیلی لانے والے لیڈر بنیں اسی لیے ریحان اسکول کا خواب بھی بڑا ہے۔ 🎯 یہاں ہر بچے کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ: 👉 زندگی میں کم از کم 10 لاکھ لوگوں پر مثبت اثر ڈالنے کی کوشش کرو 👉 اور کم از کم ایک ملین ڈالر کمانے کی کوشش کرو کیونکہ اگر ہم بچوں کو صرف نوکری کے لیے تیار کریں گے تو وہ نوکریاں ڈھونڈتے رہیں گے… لیکن اگر ہم انہیں لیڈر اور مسئلہ حل کرنے والا انسان بنائیں گے تو وہ دنیا بدلنے والے بن جائیں گے۔ یہی وژن ریحان اللہ والا نے اس ویڈیو میں ہشام سرور کو سمجھایا۔ اور جب انہوں نے بچوں کو دیکھا ان کا اعتماد دیکھا اور ان کا کام دیکھا تو وہ واقعی متاثر ہوئے۔ 🎥 آئیے دیکھتے ہیں اس ویڈیو میں ریحان اللہ والا نے ہشام سرور کو ریحان اسکول کے بارے میں کیا بتایا۔ 👇 ویڈیو دیکھیں اور اپنی رائے ضرور دیں۔ #RehanSchool #RehanAllahwala #HishamSarwar #AIeducation #LearnToEarn #LeadershipByDesign Explaining Hisham Sarwar how Rehan School works
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 1080 Visualizações 0