• Faisal edhi met and interviewed Ahad FiverrWala and Aniyal Fiverrwala
    Faisal edhi met and interviewed Ahad FiverrWala and Aniyal Fiverrwala
    0 التعليقات 0 المشاركات 103 مشاهدة 0
  • Faisal edhi expiring or internal WhatsApp made by students of rehan school
    Faisal edhi expiring or internal WhatsApp made by students of rehan school
    0 التعليقات 0 المشاركات 95 مشاهدة 0
  • Growing the organization in paper first then in real
    Growing the organization in paper first then in real
    0 التعليقات 0 المشاركات 94 مشاهدة 0
  • یہ صرف ایک ویڈیو نہیں ہے۔
    یہ ایک گواہی ہے۔
    یہ ایک تصدیق ہے۔
    یہ ایک امید ہے۔

    جب فیصل ایدھی جیسے انسان—
    جو روز انسانیت کا اصل چہرہ دیکھتے ہیں،
    جو دکھ، درد، بھوک اور بے بسی کے بیچ جیتے ہیں—
    کسی ادارے کے بارے میں خود کھڑے ہو کر بولیں،
    تو وہ تعریف نہیں ہوتی…
    وہ وزن دار سچ ہوتا ہے۔

    انہوں نے ریحان اسکول میں آ کر یہ نہیں دیکھا کہ
    عمارت کتنی بڑی ہے،
    دیواریں کتنی نئی ہیں،
    یا کرسیاں کتنی مہنگی ہیں۔

    انہوں نے یہ دیکھا کہ
    یہاں بچے ڈرے ہوئے نہیں ہیں،
    یہاں بچے خاموش نہیں ہیں،
    یہاں بچے سوچ رہے ہیں، بول رہے ہیں، خواب دیکھ رہے ہیں۔

    یہ وہ اسکول ہے جہاں
    بچوں کو صرف نصاب نہیں پڑھایا جاتا،
    انہیں انسان بنایا جاتا ہے،
    انہیں ذمہ دار بنایا جاتا ہے،
    انہیں خدمت اور قیادت کا مطلب سمجھایا جاتا ہے۔

    ایدھی صاحب کی وراثت
    ایمبولینسوں تک محدود نہیں تھی،
    وہ انسانیت کی تیاری تھی۔

    اور اگر آج ان کے بیٹے کہہ رہے ہیں کہ
    یہ اسکول درست سمت میں ہے—
    تو یہ ہمارے لیے فخر بھی ہے
    اور ذمہ داری بھی۔

    کیونکہ اب یہ صرف ہمارا خواب نہیں رہا۔
    یہ ایک قومی امانت بن چکا ہے۔

    ریحان اسکول
    جہاں بچے نمبر نہیں…
    اثر (Impact) سیکھتے ہیں۔
    یہ صرف ایک ویڈیو نہیں ہے۔ یہ ایک گواہی ہے۔ یہ ایک تصدیق ہے۔ یہ ایک امید ہے۔ جب فیصل ایدھی جیسے انسان— جو روز انسانیت کا اصل چہرہ دیکھتے ہیں، جو دکھ، درد، بھوک اور بے بسی کے بیچ جیتے ہیں— کسی ادارے کے بارے میں خود کھڑے ہو کر بولیں، تو وہ تعریف نہیں ہوتی… وہ وزن دار سچ ہوتا ہے۔ انہوں نے ریحان اسکول میں آ کر یہ نہیں دیکھا کہ عمارت کتنی بڑی ہے، دیواریں کتنی نئی ہیں، یا کرسیاں کتنی مہنگی ہیں۔ انہوں نے یہ دیکھا کہ یہاں بچے ڈرے ہوئے نہیں ہیں، یہاں بچے خاموش نہیں ہیں، یہاں بچے سوچ رہے ہیں، بول رہے ہیں، خواب دیکھ رہے ہیں۔ یہ وہ اسکول ہے جہاں بچوں کو صرف نصاب نہیں پڑھایا جاتا، انہیں انسان بنایا جاتا ہے، انہیں ذمہ دار بنایا جاتا ہے، انہیں خدمت اور قیادت کا مطلب سمجھایا جاتا ہے۔ ایدھی صاحب کی وراثت ایمبولینسوں تک محدود نہیں تھی، وہ انسانیت کی تیاری تھی۔ اور اگر آج ان کے بیٹے کہہ رہے ہیں کہ یہ اسکول درست سمت میں ہے— تو یہ ہمارے لیے فخر بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ کیونکہ اب یہ صرف ہمارا خواب نہیں رہا۔ یہ ایک قومی امانت بن چکا ہے۔ ریحان اسکول جہاں بچے نمبر نہیں… اثر (Impact) سیکھتے ہیں۔
    0 التعليقات 0 المشاركات 114 مشاهدة 0
  • Sharia business alliance by Mufti Ihsan Hussaini
    Sharia business alliance by Mufti Ihsan Hussaini
    0 التعليقات 0 المشاركات 84 مشاهدة 0
  • What brand should you start
    What brand should you start
    0 التعليقات 0 المشاركات 82 مشاهدة 0
  • Meet Hakeem shaib
    Meet Hakeem shaib
    0 التعليقات 0 المشاركات 86 مشاهدة 0
  • Interview of Faisal Edhi by Manahil Remotejobwali
    Interview of Faisal Edhi by Manahil Remotejobwali
    0 التعليقات 0 المشاركات 81 مشاهدة 0
  • The future of education discussion with Chairman Edhi Foundation. faisal Edhi
    The future of education discussion with Chairman Edhi Foundation. faisal Edhi
    0 التعليقات 0 المشاركات 86 مشاهدة 0
  • یہ لمحہ صرف ایک تصویر نہیں…
    یہ دو دنیاؤں کے ملنے کی تصویر ہے۔

    ایک طرف
    وہ انسان جنہوں نے ایمبولینس، یتیم، لاوارث، لاش اور انسانیت کو سہارا دیا۔
    Faisal Edhi

    اور دوسری طرف
    ایک ایسا اوزار
    جو علم، رفتار، یادداشت اور فیصلہ سازی کو انسان کے ہاتھ میں دے رہا ہے — ChatGPT۔

    آج گفتگو یہ نہیں تھی کہ
    “AI کیا کر سکتا ہے؟”

    بلکہ یہ تھی کہ
    AI انسانیت کے لیے کیا کر سکتا ہے؟

    اگر ایدھی جیسی سوچ کو
    AI جیسی طاقت مل جائے
    تو سوچیں…
    کتنے یتیموں تک علم پہنچے گا
    کتنی ماؤں کو سہارا ملے گا
    کتنے نوجوان خود مختار ہوں گے۔

    یہ مستقبل کا آغاز ہے
    جہاں ٹیکنالوجی خدمت گزار ہے
    اور انسانیت مالک۔

    یہی وہ پاکستان ہے
    جس کا خواب دیکھا جا سکتا ہے۔
    یہ لمحہ صرف ایک تصویر نہیں… یہ دو دنیاؤں کے ملنے کی تصویر ہے۔ ایک طرف وہ انسان جنہوں نے ایمبولینس، یتیم، لاوارث، لاش اور انسانیت کو سہارا دیا۔ Faisal Edhi اور دوسری طرف ایک ایسا اوزار جو علم، رفتار، یادداشت اور فیصلہ سازی کو انسان کے ہاتھ میں دے رہا ہے — ChatGPT۔ آج گفتگو یہ نہیں تھی کہ “AI کیا کر سکتا ہے؟” بلکہ یہ تھی کہ AI انسانیت کے لیے کیا کر سکتا ہے؟ اگر ایدھی جیسی سوچ کو AI جیسی طاقت مل جائے تو سوچیں… کتنے یتیموں تک علم پہنچے گا کتنی ماؤں کو سہارا ملے گا کتنے نوجوان خود مختار ہوں گے۔ یہ مستقبل کا آغاز ہے جہاں ٹیکنالوجی خدمت گزار ہے اور انسانیت مالک۔ یہی وہ پاکستان ہے جس کا خواب دیکھا جا سکتا ہے۔
    0 التعليقات 0 المشاركات 97 مشاهدة 0