• یہ صرف ایک ویڈیو نہیں ہے۔
    یہ پاکستان کے مستقبل کا دروازہ ہے۔

    آج آپ جس انسان کو سن رہے ہیں، وہ Liaqat Ali صاحب ہیں —
    وہ شخص جو پاکستان میں 100 AI سینٹرز قائم کرنے کے مشن پر نکلا ہے۔

    نعرے بہت سنے ہیں۔
    اعلانات بہت دیکھے ہیں۔
    لیکن یہ ان چند لوگوں میں سے ہیں جو
    سلائیڈ نہیں، سسٹم بناتے ہیں۔

    مقصد بالکل واضح ہے:
    • نوجوانوں کو صرف ڈگری ہولڈر نہیں
    • بلکہ عالمی معیار کا AI ٹیلنٹ بنانا
    • جو پاکستان میں بیٹھ کر
    • دنیا کے لیے کام کرے، کمائے اور نام بنائے

    یہ وہی LA Consulting ہے
    جس کے بارے میں میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں —
    کیونکہ جو لوگ زمین پر کام کر رہے ہوں
    ان کا ذکر کرنا فرض بن جاتا ہے۔

    یہ ویڈیو آخر تک ضرور دیکھیں۔
    کیونکہ آخر میں:
    • رابطہ بھی ہے
    • راستہ بھی
    • اور موقع بھی

    اگر آپ:
    • ایک طالبعلم ہیں
    • ایک والدین ہیں
    • ایک استاد ہیں
    • یا کوئی ایسا شخص جو پاکستان میں AI کا مستقبل بنانا چاہتا ہے

    تو یہ ویڈیو کسی اور کو نہیں، آپ کو بلا رہی ہے۔

    نمبر اور ویب سائٹ ویڈیو کے آخر میں موجود ہیں —
    وہیں سے بات شروع کریں۔

    قومیں نعروں سے نہیں بنتیں،
    قومیں اُن لوگوں سے بنتی ہیں جو خاموشی سے کام کرتے ہیں۔

    #Pakistan #AIinPakistan #FutureSkills
    #LiaqatAli #LAConsulting
    #100AICenters #YouthOfPakistan
    #RehanAllahwala
    یہ صرف ایک ویڈیو نہیں ہے۔ یہ پاکستان کے مستقبل کا دروازہ ہے۔ آج آپ جس انسان کو سن رہے ہیں، وہ Liaqat Ali صاحب ہیں — وہ شخص جو پاکستان میں 100 AI سینٹرز قائم کرنے کے مشن پر نکلا ہے۔ نعرے بہت سنے ہیں۔ اعلانات بہت دیکھے ہیں۔ لیکن یہ ان چند لوگوں میں سے ہیں جو سلائیڈ نہیں، سسٹم بناتے ہیں۔ 🎯 مقصد بالکل واضح ہے: • نوجوانوں کو صرف ڈگری ہولڈر نہیں • بلکہ عالمی معیار کا AI ٹیلنٹ بنانا • جو پاکستان میں بیٹھ کر • دنیا کے لیے کام کرے، کمائے اور نام بنائے یہ وہی LA Consulting ہے جس کے بارے میں میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں — کیونکہ جو لوگ زمین پر کام کر رہے ہوں ان کا ذکر کرنا فرض بن جاتا ہے۔ یہ ویڈیو آخر تک ضرور دیکھیں۔ کیونکہ آخر میں: • رابطہ بھی ہے • راستہ بھی • اور موقع بھی اگر آپ: • ایک طالبعلم ہیں • ایک والدین ہیں • ایک استاد ہیں • یا کوئی ایسا شخص جو پاکستان میں AI کا مستقبل بنانا چاہتا ہے تو یہ ویڈیو کسی اور کو نہیں، آپ کو بلا رہی ہے۔ 📌 نمبر اور ویب سائٹ ویڈیو کے آخر میں موجود ہیں — وہیں سے بات شروع کریں۔ قومیں نعروں سے نہیں بنتیں، قومیں اُن لوگوں سے بنتی ہیں جو خاموشی سے کام کرتے ہیں۔ #Pakistan #AIinPakistan #FutureSkills #LiaqatAli #LAConsulting #100AICenters #YouthOfPakistan #RehanAllahwala
    0 Commenti 0 condivisioni 2216 Views 0
  • میں نے اپنی پوری زندگی میں کاروباری لوگوں کو ایک ہی شکایت کرتے سنا ہے:

    “ہمیں اچھا اسٹاف نہیں ملتا۔”

    ذرا رُک کر سوچیں۔

    یہ پاکستان ہے۔
    وہ ملک جہاں ہر سال لاکھوں نئے انسان پیدا ہوتے ہیں۔
    یعنی ہر سال دو نیوزی لینڈ یا دس آئس لینڈ کے برابر آبادی بڑھ رہی ہے۔

    پھر بھی ہم کہتے ہیں:
    “اچھے لوگ دستیاب نہیں ہیں۔”

    یہ جملہ دراصل اسٹاف کا مسئلہ نہیں۔
    یہ قیادت (Leadership) کا مسئلہ ہے۔

    سچ یہ ہے کہ:

    کاروباری لوگوں نے کبھی نصاب (Curriculum) ڈیزائن ہی نہیں کیا۔
    تو وہ تیار لوگ کیسے مانگ سکتے ہیں؟

    ہمارے کالجز سکھاتے ہیں:
    • امتحان پاس کرنا
    • رٹّا لگانا
    • نوکری کا انتظار کرنا

    لیکن کاروبار کو چاہیے:
    • مسئلہ حل کرنے والے لوگ
    • کام کر کے دکھانے والے
    • فیصلے لینے والے
    • بولنے، بیچنے، بنانے اور عمل کرنے والے انسان

    جو نظام کاروباری لوگوں نے بنایا ہی نہیں،
    وہ کاروبار کے لیے تیار انسان کیسے پیدا کرے گا؟

    یہ ممکن ہی نہیں۔

    حل بہت سادہ ہے — مگر طاقتور:

    اگر کاروباری لوگ
    اپنے کالجز خود بنائیں،
    اپنا نصاب خود ڈیزائن کریں،
    اپنی ڈگریاں اور ڈپلومے خود دیں،
    اور اپنے معیار خود طے کریں…

    تو انہیں کبھی “اچھے اسٹاف” کی کمی نہیں ہوگی۔

    کیونکہ وہ اجنبی لوگوں کو ہائر نہیں کریں گے،
    وہ اپنی ٹیم خود تیار کریں گے۔

    اگر آپ چاہتے ہیں:
    • 10 اچھے لوگ → غیر رسمی تربیت دیں
    • 50 سے زیادہ مضبوط اسٹاف → ایک چھوٹا پرائیویٹ کالج کھولیں
    • 100 مستقبل کے لیڈر اور پارٹنرز → تعلیم ڈیزائن کریں، اشتہار نہیں

    انہیں 2 سے 4 سال اپنے ساتھ تیار کریں۔
    انہیں اپنے سوچنے کا طریقہ سکھائیں۔
    انہیں محفوظ ماحول میں غلطی کرنے دیں۔
    انہیں اپنے ساتھ تعمیر کرنے دیں۔

    وہ صرف ملازم نہیں بنیں گے۔

    وہ بنیں گے:
    • وفادار ساتھی
    • آپ کی ثقافت کے امین
    • آپ کے ہی بزنس کے مستقبل کے CEO

    یہ سوال چھوڑ دیں:
    “اچھے لوگ کہاں ہیں؟”

    یہ سوال پوچھیں:
    “میں نے انہیں خود کیوں نہیں بنایا؟”

    پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔
    پاکستان میں نصاب کی ملکیت (Curriculum Ownership) کا بحران ہے۔

    جس دن کاروباری لوگ
    تعلیم کو آؤٹ سورس کرنا چھوڑ دیں گے،
    اس دن اسٹاف کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔

    اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ حقیقت میں کیسا نظر آتا ہے
    تو آ کر Rehan College of Mass Education دیکھیں۔
    خود دیکھیں کہ ہم کس طرح اسٹاف نہیں، لیڈر بنا رہے ہیں۔

    اور اگر آپ اپنے بزنس کے لیے
    ایسا ہی کالج، ایسا ہی سسٹم، ایسا ہی نصاب بنانا چاہتے ہیں —
    تو آپ ہماری ٹیم کو ہائر کر سکتے ہیں۔
    ہم آپ کے لیے یہ پورا نظام ڈیزائن بھی کریں گے، سیٹ اپ بھی، اور چلانا بھی سکھائیں گے۔

    یہ صرف ایک خیال نہیں۔
    یہ ایک کام کرتا ہوا ماڈل ہے۔

    اگر آپ سنجیدہ ہیں — کمنٹ کریں یا شیئر کریں۔
    کیونکہ پاکستان کو نوکری ڈھونڈنے والے نہیں،
    سسٹم بنانے والے لوگ چاہییں۔
    میں نے اپنی پوری زندگی میں کاروباری لوگوں کو ایک ہی شکایت کرتے سنا ہے: “ہمیں اچھا اسٹاف نہیں ملتا۔” ذرا رُک کر سوچیں۔ یہ پاکستان ہے۔ وہ ملک جہاں ہر سال لاکھوں نئے انسان پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی ہر سال دو نیوزی لینڈ یا دس آئس لینڈ کے برابر آبادی بڑھ رہی ہے۔ پھر بھی ہم کہتے ہیں: “اچھے لوگ دستیاب نہیں ہیں۔” یہ جملہ دراصل اسٹاف کا مسئلہ نہیں۔ یہ قیادت (Leadership) کا مسئلہ ہے۔ سچ یہ ہے کہ: کاروباری لوگوں نے کبھی نصاب (Curriculum) ڈیزائن ہی نہیں کیا۔ تو وہ تیار لوگ کیسے مانگ سکتے ہیں؟ ہمارے کالجز سکھاتے ہیں: • امتحان پاس کرنا • رٹّا لگانا • نوکری کا انتظار کرنا لیکن کاروبار کو چاہیے: • مسئلہ حل کرنے والے لوگ • کام کر کے دکھانے والے • فیصلے لینے والے • بولنے، بیچنے، بنانے اور عمل کرنے والے انسان جو نظام کاروباری لوگوں نے بنایا ہی نہیں، وہ کاروبار کے لیے تیار انسان کیسے پیدا کرے گا؟ یہ ممکن ہی نہیں۔ حل بہت سادہ ہے — مگر طاقتور: اگر کاروباری لوگ اپنے کالجز خود بنائیں، اپنا نصاب خود ڈیزائن کریں، اپنی ڈگریاں اور ڈپلومے خود دیں، اور اپنے معیار خود طے کریں… تو انہیں کبھی “اچھے اسٹاف” کی کمی نہیں ہوگی۔ کیونکہ وہ اجنبی لوگوں کو ہائر نہیں کریں گے، وہ اپنی ٹیم خود تیار کریں گے۔ اگر آپ چاہتے ہیں: • 10 اچھے لوگ → غیر رسمی تربیت دیں • 50 سے زیادہ مضبوط اسٹاف → ایک چھوٹا پرائیویٹ کالج کھولیں • 100 مستقبل کے لیڈر اور پارٹنرز → تعلیم ڈیزائن کریں، اشتہار نہیں انہیں 2 سے 4 سال اپنے ساتھ تیار کریں۔ انہیں اپنے سوچنے کا طریقہ سکھائیں۔ انہیں محفوظ ماحول میں غلطی کرنے دیں۔ انہیں اپنے ساتھ تعمیر کرنے دیں۔ وہ صرف ملازم نہیں بنیں گے۔ وہ بنیں گے: • وفادار ساتھی • آپ کی ثقافت کے امین • آپ کے ہی بزنس کے مستقبل کے CEO یہ سوال چھوڑ دیں: “اچھے لوگ کہاں ہیں؟” یہ سوال پوچھیں: “میں نے انہیں خود کیوں نہیں بنایا؟” پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ پاکستان میں نصاب کی ملکیت (Curriculum Ownership) کا بحران ہے۔ جس دن کاروباری لوگ تعلیم کو آؤٹ سورس کرنا چھوڑ دیں گے، اس دن اسٹاف کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ 👇 اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ حقیقت میں کیسا نظر آتا ہے تو آ کر Rehan College of Mass Education دیکھیں۔ خود دیکھیں کہ ہم کس طرح اسٹاف نہیں، لیڈر بنا رہے ہیں۔ اور اگر آپ اپنے بزنس کے لیے ایسا ہی کالج، ایسا ہی سسٹم، ایسا ہی نصاب بنانا چاہتے ہیں — تو آپ ہماری ٹیم کو ہائر کر سکتے ہیں۔ ہم آپ کے لیے یہ پورا نظام ڈیزائن بھی کریں گے، سیٹ اپ بھی، اور چلانا بھی سکھائیں گے۔ یہ صرف ایک خیال نہیں۔ یہ ایک کام کرتا ہوا ماڈل ہے۔ اگر آپ سنجیدہ ہیں — کمنٹ کریں یا شیئر کریں۔ کیونکہ پاکستان کو نوکری ڈھونڈنے والے نہیں، سسٹم بنانے والے لوگ چاہییں۔
    0 Commenti 0 condivisioni 40 Views 0
  • میں نے اپنی پوری زندگی میں کاروباری لوگوں کو ایک ہی شکایت کرتے سنا ہے:

    “ہمیں اچھا اسٹاف نہیں ملتا۔”

    ذرا رُک کر سوچیں۔

    یہ پاکستان ہے۔
    وہ ملک جہاں ہر سال لاکھوں نئے انسان پیدا ہوتے ہیں۔
    یعنی ہر سال دو نیوزی لینڈ یا دس آئس لینڈ کے برابر آبادی بڑھ رہی ہے۔

    پھر بھی ہم کہتے ہیں:
    “اچھے لوگ دستیاب نہیں ہیں۔”

    یہ جملہ دراصل اسٹاف کا مسئلہ نہیں۔
    یہ قیادت (Leadership) کا مسئلہ ہے۔

    سچ یہ ہے کہ:

    کاروباری لوگوں نے کبھی نصاب (Curriculum) ڈیزائن ہی نہیں کیا۔
    تو وہ تیار لوگ کیسے مانگ سکتے ہیں؟

    ہمارے کالجز سکھاتے ہیں:
    • امتحان پاس کرنا
    • رٹّا لگانا
    • نوکری کا انتظار کرنا

    لیکن کاروبار کو چاہیے:
    • مسئلہ حل کرنے والے لوگ
    • کام کر کے دکھانے والے
    • فیصلے لینے والے
    • بولنے، بیچنے، بنانے اور عمل کرنے والے انسان

    جو نظام کاروباری لوگوں نے بنایا ہی نہیں،
    وہ کاروبار کے لیے تیار انسان کیسے پیدا کرے گا؟

    یہ ممکن ہی نہیں۔

    حل بہت سادہ ہے — مگر طاقتور:

    اگر کاروباری لوگ
    اپنے کالجز خود بنائیں،
    اپنا نصاب خود ڈیزائن کریں،
    اپنی ڈگریاں اور ڈپلومے خود دیں،
    اور اپنے معیار خود طے کریں…

    تو انہیں کبھی “اچھے اسٹاف” کی کمی نہیں ہوگی۔

    کیونکہ وہ اجنبی لوگوں کو ہائر نہیں کریں گے،
    وہ اپنی ٹیم خود تیار کریں گے۔

    اگر آپ چاہتے ہیں:
    • 10 اچھے لوگ → غیر رسمی تربیت دیں
    • 50 سے زیادہ مضبوط اسٹاف → ایک چھوٹا پرائیویٹ کالج کھولیں
    • 100 مستقبل کے لیڈر اور پارٹنرز → تعلیم ڈیزائن کریں، اشتہار نہیں

    انہیں 2 سے 4 سال اپنے ساتھ تیار کریں۔
    انہیں اپنے سوچنے کا طریقہ سکھائیں۔
    انہیں محفوظ ماحول میں غلطی کرنے دیں۔
    انہیں اپنے ساتھ تعمیر کرنے دیں۔

    وہ صرف ملازم نہیں بنیں گے۔

    وہ بنیں گے:
    • وفادار ساتھی
    • آپ کی ثقافت کے امین
    • آپ کے ہی بزنس کے مستقبل کے CEO

    یہ سوال چھوڑ دیں:
    “اچھے لوگ کہاں ہیں؟”

    یہ سوال پوچھیں:
    “میں نے انہیں خود کیوں نہیں بنایا؟”

    پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔
    پاکستان میں نصاب کی ملکیت (Curriculum Ownership) کا بحران ہے۔

    جس دن کاروباری لوگ
    تعلیم کو آؤٹ سورس کرنا چھوڑ دیں گے،
    اس دن اسٹاف کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔

    اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ حقیقت میں کیسا نظر آتا ہے
    تو آ کر Rehan College of Mass Education دیکھیں۔
    خود دیکھیں کہ ہم کس طرح اسٹاف نہیں، لیڈر بنا رہے ہیں۔

    اور اگر آپ اپنے بزنس کے لیے
    ایسا ہی کالج، ایسا ہی سسٹم، ایسا ہی نصاب بنانا چاہتے ہیں —
    تو آپ ہماری ٹیم کو ہائر کر سکتے ہیں۔
    ہم آپ کے لیے یہ پورا نظام ڈیزائن بھی کریں گے، سیٹ اپ بھی، اور چلانا بھی سکھائیں گے۔

    یہ صرف ایک خیال نہیں۔
    یہ ایک کام کرتا ہوا ماڈل ہے۔

    اگر آپ سنجیدہ ہیں — کمنٹ کریں یا شیئر کریں۔
    کیونکہ پاکستان کو نوکری ڈھونڈنے والے نہیں،
    سسٹم بنانے والے لوگ چاہییں۔
    میں نے اپنی پوری زندگی میں کاروباری لوگوں کو ایک ہی شکایت کرتے سنا ہے: “ہمیں اچھا اسٹاف نہیں ملتا۔” ذرا رُک کر سوچیں۔ یہ پاکستان ہے۔ وہ ملک جہاں ہر سال لاکھوں نئے انسان پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی ہر سال دو نیوزی لینڈ یا دس آئس لینڈ کے برابر آبادی بڑھ رہی ہے۔ پھر بھی ہم کہتے ہیں: “اچھے لوگ دستیاب نہیں ہیں۔” یہ جملہ دراصل اسٹاف کا مسئلہ نہیں۔ یہ قیادت (Leadership) کا مسئلہ ہے۔ سچ یہ ہے کہ: کاروباری لوگوں نے کبھی نصاب (Curriculum) ڈیزائن ہی نہیں کیا۔ تو وہ تیار لوگ کیسے مانگ سکتے ہیں؟ ہمارے کالجز سکھاتے ہیں: • امتحان پاس کرنا • رٹّا لگانا • نوکری کا انتظار کرنا لیکن کاروبار کو چاہیے: • مسئلہ حل کرنے والے لوگ • کام کر کے دکھانے والے • فیصلے لینے والے • بولنے، بیچنے، بنانے اور عمل کرنے والے انسان جو نظام کاروباری لوگوں نے بنایا ہی نہیں، وہ کاروبار کے لیے تیار انسان کیسے پیدا کرے گا؟ یہ ممکن ہی نہیں۔ حل بہت سادہ ہے — مگر طاقتور: اگر کاروباری لوگ اپنے کالجز خود بنائیں، اپنا نصاب خود ڈیزائن کریں، اپنی ڈگریاں اور ڈپلومے خود دیں، اور اپنے معیار خود طے کریں… تو انہیں کبھی “اچھے اسٹاف” کی کمی نہیں ہوگی۔ کیونکہ وہ اجنبی لوگوں کو ہائر نہیں کریں گے، وہ اپنی ٹیم خود تیار کریں گے۔ اگر آپ چاہتے ہیں: • 10 اچھے لوگ → غیر رسمی تربیت دیں • 50 سے زیادہ مضبوط اسٹاف → ایک چھوٹا پرائیویٹ کالج کھولیں • 100 مستقبل کے لیڈر اور پارٹنرز → تعلیم ڈیزائن کریں، اشتہار نہیں انہیں 2 سے 4 سال اپنے ساتھ تیار کریں۔ انہیں اپنے سوچنے کا طریقہ سکھائیں۔ انہیں محفوظ ماحول میں غلطی کرنے دیں۔ انہیں اپنے ساتھ تعمیر کرنے دیں۔ وہ صرف ملازم نہیں بنیں گے۔ وہ بنیں گے: • وفادار ساتھی • آپ کی ثقافت کے امین • آپ کے ہی بزنس کے مستقبل کے CEO یہ سوال چھوڑ دیں: “اچھے لوگ کہاں ہیں؟” یہ سوال پوچھیں: “میں نے انہیں خود کیوں نہیں بنایا؟” پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ پاکستان میں نصاب کی ملکیت (Curriculum Ownership) کا بحران ہے۔ جس دن کاروباری لوگ تعلیم کو آؤٹ سورس کرنا چھوڑ دیں گے، اس دن اسٹاف کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ 👇 اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ حقیقت میں کیسا نظر آتا ہے تو آ کر Rehan College of Mass Education دیکھیں۔ خود دیکھیں کہ ہم کس طرح اسٹاف نہیں، لیڈر بنا رہے ہیں۔ اور اگر آپ اپنے بزنس کے لیے ایسا ہی کالج، ایسا ہی سسٹم، ایسا ہی نصاب بنانا چاہتے ہیں — تو آپ ہماری ٹیم کو ہائر کر سکتے ہیں۔ ہم آپ کے لیے یہ پورا نظام ڈیزائن بھی کریں گے، سیٹ اپ بھی، اور چلانا بھی سکھائیں گے۔ یہ صرف ایک خیال نہیں۔ یہ ایک کام کرتا ہوا ماڈل ہے۔ اگر آپ سنجیدہ ہیں — کمنٹ کریں یا شیئر کریں۔ کیونکہ پاکستان کو نوکری ڈھونڈنے والے نہیں، سسٹم بنانے والے لوگ چاہییں۔
    0 Commenti 0 condivisioni 40 Views 0
  • Today with Mna Syed Hafeezuddin I visited this degree college in Orangi on request of @atiq ahmed khan sahib

    He says that it has 100 vacant class rooms and he has never seen anyone there in 20 years so please convert it to an it park or center of Ai education !

    I suggest that Saylani Mass I.T. Training , Bano Qabil Pakistan by Farooq Kamlani or JDC Foundation Pakistan by Syed Zafar Abbas Jafri should take over and make it into a it training center !

    Maybe Zia Khan college of mass education ?
    Today with Mna Syed Hafeezuddin I visited this degree college in Orangi on request of @atiq ahmed khan sahib He says that it has 100 vacant class rooms and he has never seen anyone there in 20 years so please convert it to an it park or center of Ai education ! I suggest that Saylani Mass I.T. Training , Bano Qabil Pakistan by Farooq Kamlani or JDC Foundation Pakistan by Syed Zafar Abbas Jafri should take over and make it into a it training center ! Maybe Zia Khan college of mass education ?
    0 Commenti 0 condivisioni 40 Views 0
  • آج کا دن میرے لیے صرف ایک ملاقات نہیں تھا…
    یہ امید، اعتراف اور اعتماد کا دن تھا۔

    آج ہمیں یہ اعزاز حاصل ہوا کہ ہم پاکستان کے وفاقی وزیرِ تعلیم اور MQM کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی صاحب سے اُن کی رہائش گاہ پر ملے—
    اور یہ ملاقات اُنہی کی درخواست پر ہوئی۔

    یہ کوئی رسمی ملاقات نہیں تھی۔
    یہ اُس سفر کی توثیق تھی جو ہم برسوں سے خاموشی کے ساتھ طے کر رہے ہیں۔

    میں دل کی گہرائی سے اُن کا شکر گزار ہوں کہ
    انہوں نے گزشتہ ہفتے اپنے معزز مشیروں کو ریحان اسکول بھیجا
    تاکہ وہ خود آ کر دیکھیں، سمجھیں، سوال کریں—
    کہ ہم آخر کر کیا رہے ہیں؟

    انہوں نے دیکھا کہ:
    • ہم بچوں کو رٹا نہیں لگواتے
    • ہم اساتذہ کو صرف استاد نہیں، لیڈر بناتے ہیں
    • ہم تعلیم کو ڈگری سے نکال کر زندگی اور روزگار سے جوڑتے ہیں
    • اور ہم AI کو خوف نہیں، طاقت بناتے ہیں

    آج کی ملاقات کا حاصل صرف باتیں نہیں تھیں—
    فیصلہ تھا۔

    الحمدللہ، ملاقات کے اختتام پر یہ طے پایا کہ:
    • MQM کے تحت چلنے والے 100 نان فارمل اسکولز میں
    Rehan AI Teacher Institute کے ذریعے
    ٹیچر ٹریننگ کا پائلٹ پروگرام شروع کیا جائے گا
    • اور ہماری ACCL کتاب کو
    ان اسکولوں میں متعارف کروانے کے امکانات پر بھی کام ہوگا

    یہ صرف ریحان اسکول کی کامیابی نہیں۔
    یہ اُن لاکھوں بچوں کے لیے امید ہے
    جو اسکول تو جاتے ہیں، مگر مستقبل تک نہیں پہنچ پاتے۔

    یہ لمحہ مجھے یاد دلاتا ہے کہ:
    جب نیت صاف ہو
    جب کام سچا ہو
    اور جب مقصد قوم ہو
    تو دروازے خود کھلتے ہیں۔

    دعا کریں کہ یہ پائلٹ
    ایک ماڈل بنے
    اور یہ ماڈل
    پاکستان کے ہر کونے تک پہنچے۔

    کیونکہ تعلیم اگر ٹھیک ہو جائے
    تو پاکستان خود ٹھیک ہو جاتا ہے۔

    — ریحان اللہ والا
    #RehanSchool
    #RehanAITeacherInstitute
    #EducationRevolution
    #ACCL
    #PakistanFuture
    آج کا دن میرے لیے صرف ایک ملاقات نہیں تھا… یہ امید، اعتراف اور اعتماد کا دن تھا۔ آج ہمیں یہ اعزاز حاصل ہوا کہ ہم پاکستان کے وفاقی وزیرِ تعلیم اور MQM کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی صاحب سے اُن کی رہائش گاہ پر ملے— اور یہ ملاقات اُنہی کی درخواست پر ہوئی۔ یہ کوئی رسمی ملاقات نہیں تھی۔ یہ اُس سفر کی توثیق تھی جو ہم برسوں سے خاموشی کے ساتھ طے کر رہے ہیں۔ میں دل کی گہرائی سے اُن کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے اپنے معزز مشیروں کو ریحان اسکول بھیجا تاکہ وہ خود آ کر دیکھیں، سمجھیں، سوال کریں— کہ ہم آخر کر کیا رہے ہیں؟ انہوں نے دیکھا کہ: • ہم بچوں کو رٹا نہیں لگواتے • ہم اساتذہ کو صرف استاد نہیں، لیڈر بناتے ہیں • ہم تعلیم کو ڈگری سے نکال کر زندگی اور روزگار سے جوڑتے ہیں • اور ہم AI کو خوف نہیں، طاقت بناتے ہیں آج کی ملاقات کا حاصل صرف باتیں نہیں تھیں— فیصلہ تھا۔ الحمدللہ، ملاقات کے اختتام پر یہ طے پایا کہ: • MQM کے تحت چلنے والے 100 نان فارمل اسکولز میں Rehan AI Teacher Institute کے ذریعے ٹیچر ٹریننگ کا پائلٹ پروگرام شروع کیا جائے گا • اور ہماری ACCL کتاب کو ان اسکولوں میں متعارف کروانے کے امکانات پر بھی کام ہوگا یہ صرف ریحان اسکول کی کامیابی نہیں۔ یہ اُن لاکھوں بچوں کے لیے امید ہے جو اسکول تو جاتے ہیں، مگر مستقبل تک نہیں پہنچ پاتے۔ یہ لمحہ مجھے یاد دلاتا ہے کہ: جب نیت صاف ہو جب کام سچا ہو اور جب مقصد قوم ہو تو دروازے خود کھلتے ہیں۔ دعا کریں کہ یہ پائلٹ ایک ماڈل بنے اور یہ ماڈل پاکستان کے ہر کونے تک پہنچے۔ کیونکہ تعلیم اگر ٹھیک ہو جائے تو پاکستان خود ٹھیک ہو جاتا ہے۔ — ریحان اللہ والا #RehanSchool #RehanAITeacherInstitute #EducationRevolution #ACCL #PakistanFuture
    0 Commenti 0 condivisioni 1164 Views 0
  • یہ صرف ایک پوسٹ نہیں…
    یہ خاموش تاریخ ہے جو آج بول رہی ہے۔

    آج Rehan School Online Academy کو 2 سال مکمل ہو گئے۔

    دو سال پہلے
    نہ عمارت تھی
    نہ بجٹ
    نہ شور
    نہ سپورٹ

    بس ایک یقین تھا:

    اگر ایک بچہ بھی گھر بیٹھے سیکھ سکتا ہے، بدل سکتا ہے، کما سکتا ہے—تو یہ نظام بننا چاہیے۔

    آج، دو سال بعد
    وہی آن لائن اکیڈمی
    سینکڑوں گھروں تک پہنچی
    ان بچوں تک پہنچی
    جو اسکول نہیں جا سکتے تھے
    ان ماؤں تک پہنچی
    جو سیکھنا چاہتی تھیں
    ان اساتذہ تک پہنچی
    جو خود کو بے کار سمجھنے لگے تھے

    یہ انقلاب خاموش تھا
    لیکن اثر گہرا تھا۔

    آج اسی موقع پر
    میں آپ کے ساتھ ایک خاص انٹرویو شیئر کر رہا ہوں
    ہماری آن لائن اکیڈمی کی پرنسپل
    دولت ٹیلر والا کے ساتھ۔

    یہ انٹرویو نہیں
    یہ گواہی ہے
    کہ محدود وسائل کے باوجود
    اگر نیت، سسٹم اور ہمت ہو
    تو تعلیم سرحدیں نہیں مانتی۔


    ویڈیو ضرور دیکھیں
    خاص طور پر اگر آپ:
    • تعلیم سے مایوس ہو چکے ہیں
    • سمجھتے ہیں آن لائن سیکھنا ممکن نہیں
    • یا کسی بچے کا مستقبل بہتر دیکھنا چاہتے ہیں

    اگر یہ ویڈیو آپ کے دل کو چھو جائے
    تو شیئر ضرور کریں
    کیونکہ شاید
    یہ کسی اور کے گھر
    روشنی لے جائے۔

    2 سال مکمل—
    لیکن یہ تو ابھی آغاز ہے۔

    — ریحان اللہ والا
    #RehanSchool
    #RehanSchoolOnline
    #EducationReimagined
    #SilentRevolution
    یہ صرف ایک پوسٹ نہیں… یہ خاموش تاریخ ہے جو آج بول رہی ہے۔ آج Rehan School Online Academy کو 2 سال مکمل ہو گئے۔ دو سال پہلے نہ عمارت تھی نہ بجٹ نہ شور نہ سپورٹ بس ایک یقین تھا: اگر ایک بچہ بھی گھر بیٹھے سیکھ سکتا ہے، بدل سکتا ہے، کما سکتا ہے—تو یہ نظام بننا چاہیے۔ آج، دو سال بعد وہی آن لائن اکیڈمی سینکڑوں گھروں تک پہنچی ان بچوں تک پہنچی جو اسکول نہیں جا سکتے تھے ان ماؤں تک پہنچی جو سیکھنا چاہتی تھیں ان اساتذہ تک پہنچی جو خود کو بے کار سمجھنے لگے تھے یہ انقلاب خاموش تھا لیکن اثر گہرا تھا۔ آج اسی موقع پر میں آپ کے ساتھ ایک خاص انٹرویو شیئر کر رہا ہوں ہماری آن لائن اکیڈمی کی پرنسپل دولت ٹیلر والا کے ساتھ۔ یہ انٹرویو نہیں یہ گواہی ہے کہ محدود وسائل کے باوجود اگر نیت، سسٹم اور ہمت ہو تو تعلیم سرحدیں نہیں مانتی۔ 👇 ویڈیو ضرور دیکھیں خاص طور پر اگر آپ: • تعلیم سے مایوس ہو چکے ہیں • سمجھتے ہیں آن لائن سیکھنا ممکن نہیں • یا کسی بچے کا مستقبل بہتر دیکھنا چاہتے ہیں اگر یہ ویڈیو آپ کے دل کو چھو جائے تو شیئر ضرور کریں کیونکہ شاید یہ کسی اور کے گھر روشنی لے جائے۔ 2 سال مکمل— لیکن یہ تو ابھی آغاز ہے۔ — ریحان اللہ والا #RehanSchool #RehanSchoolOnline #EducationReimagined #SilentRevolution
    0 Commenti 0 condivisioni 1109 Views 0
  • میں نے اپنی پوری زندگی میں کاروباری لوگوں کو ایک ہی شکایت کرتے سنا ہے:

    “ہمیں اچھا اسٹاف نہیں ملتا۔”

    ذرا رُک کر سوچیں۔

    یہ پاکستان ہے۔
    وہ ملک جہاں ہر سال لاکھوں نئے انسان پیدا ہوتے ہیں۔
    یعنی ہر سال دو نیوزی لینڈ یا دس آئس لینڈ کے برابر آبادی بڑھ رہی ہے۔

    پھر بھی ہم کہتے ہیں:
    “اچھے لوگ دستیاب نہیں ہیں۔”

    یہ جملہ دراصل اسٹاف کا مسئلہ نہیں۔
    یہ قیادت (Leadership) کا مسئلہ ہے۔

    سچ یہ ہے کہ:

    کاروباری لوگوں نے کبھی نصاب (Curriculum) ڈیزائن ہی نہیں کیا۔
    تو وہ تیار لوگ کیسے مانگ سکتے ہیں؟

    ہمارے کالجز سکھاتے ہیں:
    • امتحان پاس کرنا
    • رٹّا لگانا
    • نوکری کا انتظار کرنا

    لیکن کاروبار کو چاہیے:
    • مسئلہ حل کرنے والے لوگ
    • کام کر کے دکھانے والے
    • فیصلے لینے والے
    • بولنے، بیچنے، بنانے اور عمل کرنے والے انسان

    جو نظام کاروباری لوگوں نے بنایا ہی نہیں،
    وہ کاروبار کے لیے تیار انسان کیسے پیدا کرے گا؟

    یہ ممکن ہی نہیں۔

    حل بہت سادہ ہے — مگر طاقتور:

    اگر کاروباری لوگ
    اپنے کالجز خود بنائیں،
    اپنا نصاب خود ڈیزائن کریں،
    اپنی ڈگریاں اور ڈپلومے خود دیں،
    اور اپنے معیار خود طے کریں…

    تو انہیں کبھی “اچھے اسٹاف” کی کمی نہیں ہوگی۔

    کیونکہ وہ اجنبی لوگوں کو ہائر نہیں کریں گے،
    وہ اپنی ٹیم خود تیار کریں گے۔

    اگر آپ چاہتے ہیں:
    • 10 اچھے لوگ → غیر رسمی تربیت دیں
    • 50 سے زیادہ مضبوط اسٹاف → ایک چھوٹا پرائیویٹ کالج کھولیں
    • 100 مستقبل کے لیڈر اور پارٹنرز → تعلیم ڈیزائن کریں، اشتہار نہیں

    انہیں 2 سے 4 سال اپنے ساتھ تیار کریں۔
    انہیں اپنے سوچنے کا طریقہ سکھائیں۔
    انہیں محفوظ ماحول میں غلطی کرنے دیں۔
    انہیں اپنے ساتھ تعمیر کرنے دیں۔

    وہ صرف ملازم نہیں بنیں گے۔

    وہ بنیں گے:
    • وفادار ساتھی
    • آپ کی ثقافت کے امین
    • آپ کے ہی بزنس کے مستقبل کے CEO

    یہ سوال چھوڑ دیں:
    “اچھے لوگ کہاں ہیں؟”

    یہ سوال پوچھیں:
    “میں نے انہیں خود کیوں نہیں بنایا؟”

    پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔
    پاکستان میں نصاب کی ملکیت (Curriculum Ownership) کا بحران ہے۔

    جس دن کاروباری لوگ
    تعلیم کو آؤٹ سورس کرنا چھوڑ دیں گے،
    اس دن اسٹاف کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔

    اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ حقیقت میں کیسا نظر آتا ہے
    تو آ کر Rehan College of Mass Education دیکھیں۔
    خود دیکھیں کہ ہم کس طرح اسٹاف نہیں، لیڈر بنا رہے ہیں۔

    اور اگر آپ اپنے بزنس کے لیے
    ایسا ہی کالج، ایسا ہی سسٹم، ایسا ہی نصاب بنانا چاہتے ہیں —
    تو آپ ہماری ٹیم کو ہائر کر سکتے ہیں۔
    ہم آپ کے لیے یہ پورا نظام ڈیزائن بھی کریں گے، سیٹ اپ بھی، اور چلانا بھی سکھائیں گے۔

    یہ صرف ایک خیال نہیں۔
    یہ ایک کام کرتا ہوا ماڈل ہے۔

    اگر آپ سنجیدہ ہیں — کمنٹ کریں یا شیئر کریں۔
    کیونکہ پاکستان کو نوکری ڈھونڈنے والے نہیں،
    سسٹم بنانے والے لوگ چاہییں۔

    This process can allow any organization to create the correct staff they need to grow !

    We are using this to grow Rehan AI Teachers Institute
    میں نے اپنی پوری زندگی میں کاروباری لوگوں کو ایک ہی شکایت کرتے سنا ہے: “ہمیں اچھا اسٹاف نہیں ملتا۔” ذرا رُک کر سوچیں۔ یہ پاکستان ہے۔ وہ ملک جہاں ہر سال لاکھوں نئے انسان پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی ہر سال دو نیوزی لینڈ یا دس آئس لینڈ کے برابر آبادی بڑھ رہی ہے۔ پھر بھی ہم کہتے ہیں: “اچھے لوگ دستیاب نہیں ہیں۔” یہ جملہ دراصل اسٹاف کا مسئلہ نہیں۔ یہ قیادت (Leadership) کا مسئلہ ہے۔ سچ یہ ہے کہ: کاروباری لوگوں نے کبھی نصاب (Curriculum) ڈیزائن ہی نہیں کیا۔ تو وہ تیار لوگ کیسے مانگ سکتے ہیں؟ ہمارے کالجز سکھاتے ہیں: • امتحان پاس کرنا • رٹّا لگانا • نوکری کا انتظار کرنا لیکن کاروبار کو چاہیے: • مسئلہ حل کرنے والے لوگ • کام کر کے دکھانے والے • فیصلے لینے والے • بولنے، بیچنے، بنانے اور عمل کرنے والے انسان جو نظام کاروباری لوگوں نے بنایا ہی نہیں، وہ کاروبار کے لیے تیار انسان کیسے پیدا کرے گا؟ یہ ممکن ہی نہیں۔ حل بہت سادہ ہے — مگر طاقتور: اگر کاروباری لوگ اپنے کالجز خود بنائیں، اپنا نصاب خود ڈیزائن کریں، اپنی ڈگریاں اور ڈپلومے خود دیں، اور اپنے معیار خود طے کریں… تو انہیں کبھی “اچھے اسٹاف” کی کمی نہیں ہوگی۔ کیونکہ وہ اجنبی لوگوں کو ہائر نہیں کریں گے، وہ اپنی ٹیم خود تیار کریں گے۔ اگر آپ چاہتے ہیں: • 10 اچھے لوگ → غیر رسمی تربیت دیں • 50 سے زیادہ مضبوط اسٹاف → ایک چھوٹا پرائیویٹ کالج کھولیں • 100 مستقبل کے لیڈر اور پارٹنرز → تعلیم ڈیزائن کریں، اشتہار نہیں انہیں 2 سے 4 سال اپنے ساتھ تیار کریں۔ انہیں اپنے سوچنے کا طریقہ سکھائیں۔ انہیں محفوظ ماحول میں غلطی کرنے دیں۔ انہیں اپنے ساتھ تعمیر کرنے دیں۔ وہ صرف ملازم نہیں بنیں گے۔ وہ بنیں گے: • وفادار ساتھی • آپ کی ثقافت کے امین • آپ کے ہی بزنس کے مستقبل کے CEO یہ سوال چھوڑ دیں: “اچھے لوگ کہاں ہیں؟” یہ سوال پوچھیں: “میں نے انہیں خود کیوں نہیں بنایا؟” پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ پاکستان میں نصاب کی ملکیت (Curriculum Ownership) کا بحران ہے۔ جس دن کاروباری لوگ تعلیم کو آؤٹ سورس کرنا چھوڑ دیں گے، اس دن اسٹاف کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ 👇 اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ حقیقت میں کیسا نظر آتا ہے تو آ کر Rehan College of Mass Education دیکھیں۔ خود دیکھیں کہ ہم کس طرح اسٹاف نہیں، لیڈر بنا رہے ہیں۔ اور اگر آپ اپنے بزنس کے لیے ایسا ہی کالج، ایسا ہی سسٹم، ایسا ہی نصاب بنانا چاہتے ہیں — تو آپ ہماری ٹیم کو ہائر کر سکتے ہیں۔ ہم آپ کے لیے یہ پورا نظام ڈیزائن بھی کریں گے، سیٹ اپ بھی، اور چلانا بھی سکھائیں گے۔ یہ صرف ایک خیال نہیں۔ یہ ایک کام کرتا ہوا ماڈل ہے۔ اگر آپ سنجیدہ ہیں — کمنٹ کریں یا شیئر کریں۔ کیونکہ پاکستان کو نوکری ڈھونڈنے والے نہیں، سسٹم بنانے والے لوگ چاہییں۔ This process can allow any organization to create the correct staff they need to grow ! We are using this to grow Rehan AI Teachers Institute
    0 Commenti 0 condivisioni 56 Views 0
  • آج ایک فون کال نے سندھ کے مستقبل کی سمت بدل دی۔

    آج میری بات علی دادا والا سے ہوئی —
    اور بات صرف گفتگو تک محدود نہیں رہی…
    بات فیصلے پر ختم ہوئی۔

    دادو
    سندھ کے گاؤں
    وہ علاقے جہاں بچے ٹیلنٹ رکھتے ہیں
    لیکن نظام اُن تک نہیں پہنچتا

    علی دادا والا نے فیصلہ کیا ہے کہ:

    کراچی میں جو ریحان اسکول اور ریحان کالج ہم نے بنا کر دکھایا ہے،
    وہی سسٹم اب دادو میں بنایا جائے گا۔

    اسی نام سے:
    Ali Dadawala School of Change

    یہ کوئی عام اسکول نہیں ہوگا۔

    یہاں:
    • نوکری ڈھونڈنے والے نہیں، چینج میکرز بنیں گے
    • رٹّا نہیں، سوچنا سکھایا جائے گا
    • خوف نہیں، اعتماد پیدا کیا جائے گا
    • گاؤں کے بچے بھی لیڈر، ایجوکیٹر اور مسئلہ حل کرنے والے بنیں گے

    سب سے اہم بات
    علی دادا والا پہلے ہی رجسٹرڈ نان پرافٹ ہیں۔
    نیت صاف ہے۔
    ارادہ پکا ہے۔
    اور عمل شروع کرنے کو تیار ہیں۔

    اگر آپ واقعی:
    • سندھ میں تبدیلی چاہتے ہیں
    • گاؤں کے بچوں کو وہی موقع دینا چاہتے ہیں جو شہروں کو ملتا ہے
    • صرف باتیں نہیں، نتائج دیکھنا چاہتے ہیں

    تو آپ براہِ راست علی دادا والا سے رابطہ کریں
    اور براہِ راست عطیہ دیں۔

    کوئی درمیانی آدمی نہیں
    کوئی فیس نہیں
    کوئی دکھاوا نہیں

    آپ کا پیسہ:
    • کلاس روم بنائے گا
    • ٹیچرز تیار کرے گا
    • انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی لائے گا
    • اور سندھ کے گاؤں سے لیڈر پیدا کرے گا

    کراچی نے ثابت کیا:

    یہ سسٹم کام کرتا ہے۔

    اب دادو ثابت کرے گا:

    یہ سسٹم پورے سندھ میں پھیل سکتا ہے۔

    تحریکیں نعروں سے نہیں بنتیں۔
    تحریکیں سنجیدہ انسانوں سے بنتی ہیں۔

    اگر آپ اُن میں سے ہیں —
    تو یہ پوسٹ آپ کے لیے ہے۔

    براہِ راست رابطہ:
    علی دادا والا: +92 333 7071615

    واٹس ایپ گروپ (اپڈیٹس، وزٹ، شمولیت):
    https://chat.whatsapp.com/BqVFYIiuf6mJghn9SBBsKD?mode=gi_t


    اسے شیئر کریں۔
    لوگوں تک پہنچائیں۔
    کیونکہ شاید کوئی ایک انسان…
    کسی ایک بچے کی زندگی بدل دے۔
    آج ایک فون کال نے سندھ کے مستقبل کی سمت بدل دی۔ آج میری بات علی دادا والا سے ہوئی — اور بات صرف گفتگو تک محدود نہیں رہی… بات فیصلے پر ختم ہوئی۔ 📍 دادو 📍 سندھ کے گاؤں 📍 وہ علاقے جہاں بچے ٹیلنٹ رکھتے ہیں لیکن نظام اُن تک نہیں پہنچتا علی دادا والا نے فیصلہ کیا ہے کہ: کراچی میں جو ریحان اسکول اور ریحان کالج ہم نے بنا کر دکھایا ہے، وہی سسٹم اب دادو میں بنایا جائے گا۔ اسی نام سے: Ali Dadawala School of Change یہ کوئی عام اسکول نہیں ہوگا۔ یہاں: • نوکری ڈھونڈنے والے نہیں، چینج میکرز بنیں گے • رٹّا نہیں، سوچنا سکھایا جائے گا • خوف نہیں، اعتماد پیدا کیا جائے گا • گاؤں کے بچے بھی لیڈر، ایجوکیٹر اور مسئلہ حل کرنے والے بنیں گے سب سے اہم بات👇 علی دادا والا پہلے ہی رجسٹرڈ نان پرافٹ ہیں۔ نیت صاف ہے۔ ارادہ پکا ہے۔ اور عمل شروع کرنے کو تیار ہیں۔ اگر آپ واقعی: • سندھ میں تبدیلی چاہتے ہیں • گاؤں کے بچوں کو وہی موقع دینا چاہتے ہیں جو شہروں کو ملتا ہے • صرف باتیں نہیں، نتائج دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ براہِ راست علی دادا والا سے رابطہ کریں اور براہِ راست عطیہ دیں۔ ❌ کوئی درمیانی آدمی نہیں ❌ کوئی فیس نہیں ❌ کوئی دکھاوا نہیں آپ کا پیسہ: • کلاس روم بنائے گا • ٹیچرز تیار کرے گا • انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی لائے گا • اور سندھ کے گاؤں سے لیڈر پیدا کرے گا کراچی نے ثابت کیا: یہ سسٹم کام کرتا ہے۔ اب دادو ثابت کرے گا: یہ سسٹم پورے سندھ میں پھیل سکتا ہے۔ تحریکیں نعروں سے نہیں بنتیں۔ تحریکیں سنجیدہ انسانوں سے بنتی ہیں۔ اگر آپ اُن میں سے ہیں — تو یہ پوسٹ آپ کے لیے ہے۔ 📞 براہِ راست رابطہ: علی دادا والا: +92 333 7071615 👥 واٹس ایپ گروپ (اپڈیٹس، وزٹ، شمولیت): https://chat.whatsapp.com/BqVFYIiuf6mJghn9SBBsKD?mode=gi_t 👇 اسے شیئر کریں۔ لوگوں تک پہنچائیں۔ کیونکہ شاید کوئی ایک انسان… کسی ایک بچے کی زندگی بدل دے۔
    0 Commenti 0 condivisioni 131 Views 0
  • آج ایک فون کال نے سندھ کے مستقبل کی سمت بدل دی۔

    آج میری بات علی دادا والا سے ہوئی —
    اور بات صرف گفتگو تک محدود نہیں رہی…
    بات فیصلے پر ختم ہوئی۔

    دادو
    سندھ کے گاؤں
    وہ علاقے جہاں بچے ٹیلنٹ رکھتے ہیں
    لیکن نظام اُن تک نہیں پہنچتا

    علی دادا والا نے فیصلہ کیا ہے کہ:

    کراچی میں جو ریحان اسکول اور ریحان کالج ہم نے بنا کر دکھایا ہے،
    وہی سسٹم اب دادو میں بنایا جائے گا۔

    اسی نام سے:
    Ali Daduwala School of Change

    یہ کوئی عام اسکول نہیں ہوگا۔

    یہاں:
    • نوکری ڈھونڈنے والے نہیں، چینج میکرز بنیں گے
    • رٹّا نہیں، سوچنا سکھایا جائے گا
    • خوف نہیں، اعتماد پیدا کیا جائے گا
    • گاؤں کے بچے بھی لیڈر، ایجوکیٹر اور مسئلہ حل کرنے والے بنیں گے

    سب سے اہم بات
    علی دادا والا پہلے ہی رجسٹرڈ نان پرافٹ ہیں۔
    نیت صاف ہے۔
    ارادہ پکا ہے۔
    اور عمل شروع کرنے کو تیار ہیں۔

    اگر آپ واقعی:
    • سندھ میں تبدیلی چاہتے ہیں
    • گاؤں کے بچوں کو وہی موقع دینا چاہتے ہیں جو شہروں کو ملتا ہے
    • صرف باتیں نہیں، نتائج دیکھنا چاہتے ہیں

    تو آپ براہِ راست علی دادا والا سے رابطہ کریں
    اور براہِ راست عطیہ دیں۔

    کوئی درمیانی آدمی نہیں
    کوئی فیس نہیں
    کوئی دکھاوا نہیں

    آپ کا پیسہ:
    • کلاس روم بنائے گا
    • ٹیچرز تیار کرے گا
    • انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی لائے گا
    • اور سندھ کے گاؤں سے لیڈر پیدا کرے گا

    کراچی نے ثابت کیا:

    یہ سسٹم کام کرتا ہے۔

    اب دادو ثابت کرے گا:

    یہ سسٹم پورے سندھ میں پھیل سکتا ہے۔

    تحریکیں نعروں سے نہیں بنتیں۔
    تحریکیں سنجیدہ انسانوں سے بنتی ہیں۔

    اگر آپ اُن میں سے ہیں —
    تو یہ پوسٹ آپ کے لیے ہے۔

    براہِ راست رابطہ:

    Ali +92 333 7071615

    واٹس ایپ گروپ (اپڈیٹس، وزٹ، شمولیت):
    https://chat.whatsapp.com/BqVFYIiuf6mJghn9SBBsKD?mode=gi_t


    اسے شیئر کریں۔
    لوگوں تک پہنچائیں۔
    کیونکہ شاید کوئی ایک انسان…
    کسی ایک بچے کی زندگی بدل دے۔
    آج ایک فون کال نے سندھ کے مستقبل کی سمت بدل دی۔ آج میری بات علی دادا والا سے ہوئی — اور بات صرف گفتگو تک محدود نہیں رہی… بات فیصلے پر ختم ہوئی۔ 📍 دادو 📍 سندھ کے گاؤں 📍 وہ علاقے جہاں بچے ٹیلنٹ رکھتے ہیں لیکن نظام اُن تک نہیں پہنچتا علی دادا والا نے فیصلہ کیا ہے کہ: کراچی میں جو ریحان اسکول اور ریحان کالج ہم نے بنا کر دکھایا ہے، وہی سسٹم اب دادو میں بنایا جائے گا۔ اسی نام سے: Ali Daduwala School of Change یہ کوئی عام اسکول نہیں ہوگا۔ یہاں: • نوکری ڈھونڈنے والے نہیں، چینج میکرز بنیں گے • رٹّا نہیں، سوچنا سکھایا جائے گا • خوف نہیں، اعتماد پیدا کیا جائے گا • گاؤں کے بچے بھی لیڈر، ایجوکیٹر اور مسئلہ حل کرنے والے بنیں گے سب سے اہم بات👇 علی دادا والا پہلے ہی رجسٹرڈ نان پرافٹ ہیں۔ نیت صاف ہے۔ ارادہ پکا ہے۔ اور عمل شروع کرنے کو تیار ہیں۔ اگر آپ واقعی: • سندھ میں تبدیلی چاہتے ہیں • گاؤں کے بچوں کو وہی موقع دینا چاہتے ہیں جو شہروں کو ملتا ہے • صرف باتیں نہیں، نتائج دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ براہِ راست علی دادا والا سے رابطہ کریں اور براہِ راست عطیہ دیں۔ ❌ کوئی درمیانی آدمی نہیں ❌ کوئی فیس نہیں ❌ کوئی دکھاوا نہیں آپ کا پیسہ: • کلاس روم بنائے گا • ٹیچرز تیار کرے گا • انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی لائے گا • اور سندھ کے گاؤں سے لیڈر پیدا کرے گا کراچی نے ثابت کیا: یہ سسٹم کام کرتا ہے۔ اب دادو ثابت کرے گا: یہ سسٹم پورے سندھ میں پھیل سکتا ہے۔ تحریکیں نعروں سے نہیں بنتیں۔ تحریکیں سنجیدہ انسانوں سے بنتی ہیں۔ اگر آپ اُن میں سے ہیں — تو یہ پوسٹ آپ کے لیے ہے۔ 📞 براہِ راست رابطہ: Ali +92 333 7071615 👥 واٹس ایپ گروپ (اپڈیٹس، وزٹ، شمولیت): https://chat.whatsapp.com/BqVFYIiuf6mJghn9SBBsKD?mode=gi_t 👇 اسے شیئر کریں۔ لوگوں تک پہنچائیں۔ کیونکہ شاید کوئی ایک انسان… کسی ایک بچے کی زندگی بدل دے۔
    0 Commenti 0 condivisioni 123 Views 0
  • میں یہ الفاظ کسی وضاحت کے لیے نہیں لکھ رہا…
    میں یہ الفاظ دل سے لکھ رہا ہوں۔

    دو دن پہلے میں نے ایک ویڈیو بنائی۔
    وہ ویڈیو کسی اسکول کے خلاف نہیں تھی۔
    کسی استاد کے خلاف نہیں تھی۔
    کسی اسکول کے مالک کے خلاف نہیں تھی۔

    لیکن…
    اگر کسی کے دل کو چوٹ لگی،
    اگر کسی کو لگا کہ اس پر انگلی اٹھی،
    اگر کسی نے خود کو نشانے پر محسوس کیا —

    تو یہ میری نیت نہیں تھی
    اور اس پر میں دل سے معذرت خواہ ہوں۔

    میں تعلیم والوں کو اپنا دشمن نہیں سمجھتا۔
    میں تو انہیں اپنا قبیلہ سمجھتا ہوں۔
    اپنا ساتھی۔
    اپنا ہم سفر۔

    میں خود اسی سسٹم سے نکلا ہوں۔
    میں نے اسی نظام میں پڑھا ہے۔
    میں نے اسی نظام میں پڑھایا ہے۔
    اور آج بھی میں اسی نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔

    میری بات لوگوں پر نہیں تھی
    میری بات نیت پر نہیں تھی
    میری بات قربانی دینے والے اساتذہ پر نہیں تھی

    میری بات صرف ایک چیز پر تھی:

    جو تعلیمی پروڈکٹ ہم بچوں کو دے رہے ہیں
    جو علم ہم آج بھی 30–40 سال پرانے سانچوں میں ڈال رہے ہیں

    دنیا بدل گئی ہے۔
    بچے بدل گئے ہیں۔
    وقت بدل گیا ہے۔

    اگر ہم سوال نہیں کریں گے تو
    ہم خود اپنے بچوں سے ناانصافی کریں گے۔

    یہ ویڈیو:
    حملہ نہیں
    نفرت نہیں
    تضحیک نہیں

    یہ ویڈیو:
    فکر ہے
    درد ہے
    ذمہ داری ہے

    اور ہاں…
    اگر پھر بھی کسی کو لگا کہ یہ بات اس پر تھی
    تو میں آج کھلے عام کہتا ہوں:

    میں آپ کا مخالف نہیں ہوں۔
    میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں۔

    براہِ کرم یہ ویڈیو آخر تک دیکھیں۔
    صرف سننے کے لیے نہیں — سمجھنے کے لیے۔

    اگر آپ ایجوکیٹر ہیں،
    اگر آپ اسکول چلاتے ہیں،
    اگر آپ بچوں کے مستقبل کی فکر کرتے ہیں —

    تو یہ ویڈیو آپ کے خلاف نہیں، آپ کے لیے ہے۔

    اور اگر اس مکالمے سے ہم میں سے ایک بھی شخص
    اپنے سسٹم میں ایک چھوٹی سی بہتری لے آئے…

    تو یہ ویڈیو اپنا مقصد پورا کر چکی ہوگی۔

    براہِ کرم اس ویڈیو کو دیکھیں۔
    اگر دل گواہی دے تو شیئر کریں۔
    تاکہ میں اکیلا نہ رہوں،
    اور یہ بات ایک فرد کی نہیں
    ایک قوم کی گفتگو بن جائے۔

    — ریحان اللہ والا
    (ایک طالب علم، ایک استاد، ایک ہم سفر)
    میں یہ الفاظ کسی وضاحت کے لیے نہیں لکھ رہا… میں یہ الفاظ دل سے لکھ رہا ہوں۔ دو دن پہلے میں نے ایک ویڈیو بنائی۔ وہ ویڈیو کسی اسکول کے خلاف نہیں تھی۔ کسی استاد کے خلاف نہیں تھی۔ کسی اسکول کے مالک کے خلاف نہیں تھی۔ لیکن… اگر کسی کے دل کو چوٹ لگی، اگر کسی کو لگا کہ اس پر انگلی اٹھی، اگر کسی نے خود کو نشانے پر محسوس کیا — تو یہ میری نیت نہیں تھی اور اس پر میں دل سے معذرت خواہ ہوں۔ میں تعلیم والوں کو اپنا دشمن نہیں سمجھتا۔ میں تو انہیں اپنا قبیلہ سمجھتا ہوں۔ اپنا ساتھی۔ اپنا ہم سفر۔ میں خود اسی سسٹم سے نکلا ہوں۔ میں نے اسی نظام میں پڑھا ہے۔ میں نے اسی نظام میں پڑھایا ہے۔ اور آج بھی میں اسی نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میری بات لوگوں پر نہیں تھی میری بات نیت پر نہیں تھی میری بات قربانی دینے والے اساتذہ پر نہیں تھی میری بات صرف ایک چیز پر تھی: 👉 جو تعلیمی پروڈکٹ ہم بچوں کو دے رہے ہیں 👉 جو علم ہم آج بھی 30–40 سال پرانے سانچوں میں ڈال رہے ہیں دنیا بدل گئی ہے۔ بچے بدل گئے ہیں۔ وقت بدل گیا ہے۔ اگر ہم سوال نہیں کریں گے تو ہم خود اپنے بچوں سے ناانصافی کریں گے۔ یہ ویڈیو: ❌ حملہ نہیں ❌ نفرت نہیں ❌ تضحیک نہیں یہ ویڈیو: ✔️ فکر ہے ✔️ درد ہے ✔️ ذمہ داری ہے اور ہاں… اگر پھر بھی کسی کو لگا کہ یہ بات اس پر تھی تو میں آج کھلے عام کہتا ہوں: میں آپ کا مخالف نہیں ہوں۔ میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں۔ براہِ کرم یہ ویڈیو آخر تک دیکھیں۔ صرف سننے کے لیے نہیں — سمجھنے کے لیے۔ اگر آپ ایجوکیٹر ہیں، اگر آپ اسکول چلاتے ہیں، اگر آپ بچوں کے مستقبل کی فکر کرتے ہیں — تو یہ ویڈیو آپ کے خلاف نہیں، آپ کے لیے ہے۔ اور اگر اس مکالمے سے ہم میں سے ایک بھی شخص اپنے سسٹم میں ایک چھوٹی سی بہتری لے آئے… تو یہ ویڈیو اپنا مقصد پورا کر چکی ہوگی۔ براہِ کرم اس ویڈیو کو دیکھیں۔ اگر دل گواہی دے تو شیئر کریں۔ تاکہ میں اکیلا نہ رہوں، اور یہ بات ایک فرد کی نہیں ایک قوم کی گفتگو بن جائے۔ — ریحان اللہ والا (ایک طالب علم، ایک استاد، ایک ہم سفر)
    0 Commenti 0 condivisioni 80 Views 0