میں نے اپنی پوری زندگی میں کاروباری لوگوں کو ایک ہی شکایت کرتے سنا ہے:

“ہمیں اچھا اسٹاف نہیں ملتا۔”

ذرا رُک کر سوچیں۔

یہ پاکستان ہے۔
وہ ملک جہاں ہر سال لاکھوں نئے انسان پیدا ہوتے ہیں۔
یعنی ہر سال دو نیوزی لینڈ یا دس آئس لینڈ کے برابر آبادی بڑھ رہی ہے۔

پھر بھی ہم کہتے ہیں:
“اچھے لوگ دستیاب نہیں ہیں۔”

یہ جملہ دراصل اسٹاف کا مسئلہ نہیں۔
یہ قیادت (Leadership) کا مسئلہ ہے۔

سچ یہ ہے کہ:

کاروباری لوگوں نے کبھی نصاب (Curriculum) ڈیزائن ہی نہیں کیا۔
تو وہ تیار لوگ کیسے مانگ سکتے ہیں؟

ہمارے کالجز سکھاتے ہیں:
• امتحان پاس کرنا
• رٹّا لگانا
• نوکری کا انتظار کرنا

لیکن کاروبار کو چاہیے:
• مسئلہ حل کرنے والے لوگ
• کام کر کے دکھانے والے
• فیصلے لینے والے
• بولنے، بیچنے، بنانے اور عمل کرنے والے انسان

جو نظام کاروباری لوگوں نے بنایا ہی نہیں،
وہ کاروبار کے لیے تیار انسان کیسے پیدا کرے گا؟

یہ ممکن ہی نہیں۔

حل بہت سادہ ہے — مگر طاقتور:

اگر کاروباری لوگ
اپنے کالجز خود بنائیں،
اپنا نصاب خود ڈیزائن کریں،
اپنی ڈگریاں اور ڈپلومے خود دیں،
اور اپنے معیار خود طے کریں…

تو انہیں کبھی “اچھے اسٹاف” کی کمی نہیں ہوگی۔

کیونکہ وہ اجنبی لوگوں کو ہائر نہیں کریں گے،
وہ اپنی ٹیم خود تیار کریں گے۔

اگر آپ چاہتے ہیں:
• 10 اچھے لوگ → غیر رسمی تربیت دیں
• 50 سے زیادہ مضبوط اسٹاف → ایک چھوٹا پرائیویٹ کالج کھولیں
• 100 مستقبل کے لیڈر اور پارٹنرز → تعلیم ڈیزائن کریں، اشتہار نہیں

انہیں 2 سے 4 سال اپنے ساتھ تیار کریں۔
انہیں اپنے سوچنے کا طریقہ سکھائیں۔
انہیں محفوظ ماحول میں غلطی کرنے دیں۔
انہیں اپنے ساتھ تعمیر کرنے دیں۔

وہ صرف ملازم نہیں بنیں گے۔

وہ بنیں گے:
• وفادار ساتھی
• آپ کی ثقافت کے امین
• آپ کے ہی بزنس کے مستقبل کے CEO

یہ سوال چھوڑ دیں:
“اچھے لوگ کہاں ہیں؟”

یہ سوال پوچھیں:
“میں نے انہیں خود کیوں نہیں بنایا؟”

پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔
پاکستان میں نصاب کی ملکیت (Curriculum Ownership) کا بحران ہے۔

جس دن کاروباری لوگ
تعلیم کو آؤٹ سورس کرنا چھوڑ دیں گے،
اس دن اسٹاف کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔

اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ حقیقت میں کیسا نظر آتا ہے
تو آ کر Rehan College of Mass Education دیکھیں۔
خود دیکھیں کہ ہم کس طرح اسٹاف نہیں، لیڈر بنا رہے ہیں۔

اور اگر آپ اپنے بزنس کے لیے
ایسا ہی کالج، ایسا ہی سسٹم، ایسا ہی نصاب بنانا چاہتے ہیں —
تو آپ ہماری ٹیم کو ہائر کر سکتے ہیں۔
ہم آپ کے لیے یہ پورا نظام ڈیزائن بھی کریں گے، سیٹ اپ بھی، اور چلانا بھی سکھائیں گے۔

یہ صرف ایک خیال نہیں۔
یہ ایک کام کرتا ہوا ماڈل ہے۔

اگر آپ سنجیدہ ہیں — کمنٹ کریں یا شیئر کریں۔
کیونکہ پاکستان کو نوکری ڈھونڈنے والے نہیں،
سسٹم بنانے والے لوگ چاہییں۔

This process can allow any organization to create the correct staff they need to grow !

We are using this to grow Rehan AI Teachers Institute
میں نے اپنی پوری زندگی میں کاروباری لوگوں کو ایک ہی شکایت کرتے سنا ہے: “ہمیں اچھا اسٹاف نہیں ملتا۔” ذرا رُک کر سوچیں۔ یہ پاکستان ہے۔ وہ ملک جہاں ہر سال لاکھوں نئے انسان پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی ہر سال دو نیوزی لینڈ یا دس آئس لینڈ کے برابر آبادی بڑھ رہی ہے۔ پھر بھی ہم کہتے ہیں: “اچھے لوگ دستیاب نہیں ہیں۔” یہ جملہ دراصل اسٹاف کا مسئلہ نہیں۔ یہ قیادت (Leadership) کا مسئلہ ہے۔ سچ یہ ہے کہ: کاروباری لوگوں نے کبھی نصاب (Curriculum) ڈیزائن ہی نہیں کیا۔ تو وہ تیار لوگ کیسے مانگ سکتے ہیں؟ ہمارے کالجز سکھاتے ہیں: • امتحان پاس کرنا • رٹّا لگانا • نوکری کا انتظار کرنا لیکن کاروبار کو چاہیے: • مسئلہ حل کرنے والے لوگ • کام کر کے دکھانے والے • فیصلے لینے والے • بولنے، بیچنے، بنانے اور عمل کرنے والے انسان جو نظام کاروباری لوگوں نے بنایا ہی نہیں، وہ کاروبار کے لیے تیار انسان کیسے پیدا کرے گا؟ یہ ممکن ہی نہیں۔ حل بہت سادہ ہے — مگر طاقتور: اگر کاروباری لوگ اپنے کالجز خود بنائیں، اپنا نصاب خود ڈیزائن کریں، اپنی ڈگریاں اور ڈپلومے خود دیں، اور اپنے معیار خود طے کریں… تو انہیں کبھی “اچھے اسٹاف” کی کمی نہیں ہوگی۔ کیونکہ وہ اجنبی لوگوں کو ہائر نہیں کریں گے، وہ اپنی ٹیم خود تیار کریں گے۔ اگر آپ چاہتے ہیں: • 10 اچھے لوگ → غیر رسمی تربیت دیں • 50 سے زیادہ مضبوط اسٹاف → ایک چھوٹا پرائیویٹ کالج کھولیں • 100 مستقبل کے لیڈر اور پارٹنرز → تعلیم ڈیزائن کریں، اشتہار نہیں انہیں 2 سے 4 سال اپنے ساتھ تیار کریں۔ انہیں اپنے سوچنے کا طریقہ سکھائیں۔ انہیں محفوظ ماحول میں غلطی کرنے دیں۔ انہیں اپنے ساتھ تعمیر کرنے دیں۔ وہ صرف ملازم نہیں بنیں گے۔ وہ بنیں گے: • وفادار ساتھی • آپ کی ثقافت کے امین • آپ کے ہی بزنس کے مستقبل کے CEO یہ سوال چھوڑ دیں: “اچھے لوگ کہاں ہیں؟” یہ سوال پوچھیں: “میں نے انہیں خود کیوں نہیں بنایا؟” پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ پاکستان میں نصاب کی ملکیت (Curriculum Ownership) کا بحران ہے۔ جس دن کاروباری لوگ تعلیم کو آؤٹ سورس کرنا چھوڑ دیں گے، اس دن اسٹاف کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ 👇 اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ حقیقت میں کیسا نظر آتا ہے تو آ کر Rehan College of Mass Education دیکھیں۔ خود دیکھیں کہ ہم کس طرح اسٹاف نہیں، لیڈر بنا رہے ہیں۔ اور اگر آپ اپنے بزنس کے لیے ایسا ہی کالج، ایسا ہی سسٹم، ایسا ہی نصاب بنانا چاہتے ہیں — تو آپ ہماری ٹیم کو ہائر کر سکتے ہیں۔ ہم آپ کے لیے یہ پورا نظام ڈیزائن بھی کریں گے، سیٹ اپ بھی، اور چلانا بھی سکھائیں گے۔ یہ صرف ایک خیال نہیں۔ یہ ایک کام کرتا ہوا ماڈل ہے۔ اگر آپ سنجیدہ ہیں — کمنٹ کریں یا شیئر کریں۔ کیونکہ پاکستان کو نوکری ڈھونڈنے والے نہیں، سسٹم بنانے والے لوگ چاہییں۔ This process can allow any organization to create the correct staff they need to grow ! We are using this to grow Rehan AI Teachers Institute
0 Comments 0 Shares 59 Views 0