• Interview by Saeed Akhtar Povertywala principal of Rehan School Rawalpindi Campus of Rehan Allahwala
    Interview by Saeed Akhtar Povertywala principal of Rehan School Rawalpindi Campus of Rehan Allahwala
    0 Kommentare 0 Anteile 77 Ansichten 0
  • Introduction to team about Rehan College of Mass Ai Education
    Introduction to team about Rehan College of Mass Ai Education
    0 Kommentare 0 Anteile 90 Ansichten 0
  • Meet Mufti Mohtasham Ali Qadri from Rehan School Quetta Campus

    I explained in detail what we are trying to do and why about Rehan School
    Meet Mufti Mohtasham Ali Qadri from Rehan School Quetta Campus I explained in detail what we are trying to do and why about Rehan School
    0 Kommentare 0 Anteile 79 Ansichten 0
  • Do you know a darzi who can make these clothes for my students ?
    Do you know a darzi who can make these clothes for my students ?
    0 Kommentare 0 Anteile 93 Ansichten 0
  • Interview with Kessar EducationWali
    Interview with Kessar EducationWali
    0 Kommentare 0 Anteile 69 Ansichten 0
  • “آئینِ نو سے ڈرنا، طرزِ کہن پہ اَڑنا
    منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں”
    — علامہ محمد اقبال

    یہ شعر بظاہر سادہ ہے، مگر اس کے اندر پوری قوموں کی کامیابی اور ناکامی کا راز چھپا ہوا ہے۔ اقبال یہاں کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ قوموں کی ذہنی بیماری کی بات کر رہے ہیں۔



    آئینِ نو سے ڈرنا کیا ہے؟

    آئینِ نو کا مطلب ہے:
    نیا نظام، نئی سوچ، نئی ٹیکنالوجی، نیا طریقۂ تعلیم، نیا طریقۂ کاروبار، اور بدلتی ہوئی دنیا کے مطابق خود کو ڈھالنا۔

    آئینِ نو سے ڈرنا یعنی:
    • نئی چیز دیکھ کر خوف محسوس کرنا
    • یہ کہنا کہ “یہ ہمارے بس کا نہیں”
    • یہ سوچنا کہ “ہم تو ایسے ہی کرتے آئے ہیں”
    • تبدیلی کو خطرہ سمجھنا

    یہ وہ خوف ہے جو سوچ میں تالہ لگا دیتا ہے۔



    طرزِ کہن پہ اَڑنا کیا ہے؟

    طرزِ کہن سے مراد ہے:
    • پرانے طریقے
    • پرانی سوچ
    • پرانے نظام
    • وہ کام جو کبھی فائدہ مند تھے مگر اب دنیا بدل چکی ہے

    اَڑنا یعنی:
    • ضد کرنا
    • کسی نئی بات کو سننے سے انکار
    • یہ ماننے سے انکار کہ وقت بدل چکا ہے

    یہ وہ حالت ہے جب انسان یا قوم کہتی ہے:

    “ہمیں کچھ نیا سیکھنے کی ضرورت نہیں”



    اقبال اصل میں کیا کہہ رہے ہیں؟

    اقبال یہ نہیں کہہ رہے کہ نئی چیزیں آسان ہوتی ہیں۔
    وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ:

    قوموں کی زندگی کی سب سے مشکل منزل یہی ہوتی ہے کہ وہ تبدیلی کو قبول کریں۔

    جو قوم:
    • نئی سوچ سے ڈرتی ہے
    • پرانے نظام سے چمٹی رہتی ہے
    • وقت کے ساتھ قدم نہیں ملاتی

    وہ پیچھے رہ جاتی ہے، چاہے اس کے پاس تاریخ ہو، وسائل ہوں یا ذہین لوگ ہوں۔



    قومیں کیوں پیچھے رہ جاتی ہیں؟

    کیونکہ:
    • وہ سوال پوچھنا چھوڑ دیتی ہیں
    • وہ سیکھنے کو بے عزتی سمجھتی ہیں
    • وہ تجربہ کرنے سے گھبراتی ہیں
    • وہ غلطی سے ڈرتی ہیں

    حالانکہ ترقی غلطیوں سے ہو کر آتی ہے، خوف سے نہیں۔



    آج کے دور میں اس شعر کی مثال
    • دنیا AI، انٹرنیٹ، اور نئی معیشت کی طرف جا رہی ہے
    • کچھ قومیں سیکھ رہی ہیں، خود کو بدل رہی ہیں
    • اور کچھ کہہ رہی ہیں: “یہ سب فتنہ ہے، خطرہ ہے”

    نتیجہ؟
    • سیکھنے والی قومیں آگے
    • ڈرنے والی قومیں پیچھے



    فرد پر یہ شعر کیسے لاگو ہوتا ہے؟

    یہ شعر صرف قوموں کے لیے نہیں، ہر انسان کے لیے ہے۔

    اگر آپ:
    • نیا ہنر سیکھنے سے ڈرتے ہیں
    • نئی ذمہ داری لینے سے گھبراتے ہیں
    • نئی سوچ سن کر فوراً رد کر دیتے ہیں

    تو آپ بھی اسی “کٹھن منزل” میں کھڑے ہیں جس کا ذکر اقبال نے کیا ہے۔



    اقبال کا پیغام

    اقبال ہمیں ڈرا نہیں رہے، جھنجھوڑ رہے ہیں۔

    وہ کہہ رہے ہیں:
    • بدلنے سے مت ڈرو
    • سیکھنے سے مت گھبراؤ
    • پرانی عزت کو نئے علم سے خطرہ نہیں ہوتا

    اصل خطرہ یہ ہے کہ:

    دنیا آگے نکل جائے، اور ہم پرانی سوچ میں اَڑے رہیں۔



    نتیجہ

    یہ شعر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ:
    • ترقی کا راستہ آسان نہیں
    • مگر رک جانا اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے
    • جو قومیں خود کو وقت کے مطابق بدل لیتی ہیں، وہی زندہ رہتی ہیں

    اقبال کا پیغام واضح ہے:

    ڈر چھوڑو، سیکھو، بدلو — ورنہ تاریخ تمہیں چھوڑ دے گی۔

    Thank you Rahila Firdous
    Thank you Sohail Aziz
    “آئینِ نو سے ڈرنا، طرزِ کہن پہ اَڑنا منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں” — علامہ محمد اقبال یہ شعر بظاہر سادہ ہے، مگر اس کے اندر پوری قوموں کی کامیابی اور ناکامی کا راز چھپا ہوا ہے۔ اقبال یہاں کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ قوموں کی ذہنی بیماری کی بات کر رہے ہیں۔ ⸻ آئینِ نو سے ڈرنا کیا ہے؟ آئینِ نو کا مطلب ہے: نیا نظام، نئی سوچ، نئی ٹیکنالوجی، نیا طریقۂ تعلیم، نیا طریقۂ کاروبار، اور بدلتی ہوئی دنیا کے مطابق خود کو ڈھالنا۔ آئینِ نو سے ڈرنا یعنی: • نئی چیز دیکھ کر خوف محسوس کرنا • یہ کہنا کہ “یہ ہمارے بس کا نہیں” • یہ سوچنا کہ “ہم تو ایسے ہی کرتے آئے ہیں” • تبدیلی کو خطرہ سمجھنا یہ وہ خوف ہے جو سوچ میں تالہ لگا دیتا ہے۔ ⸻ طرزِ کہن پہ اَڑنا کیا ہے؟ طرزِ کہن سے مراد ہے: • پرانے طریقے • پرانی سوچ • پرانے نظام • وہ کام جو کبھی فائدہ مند تھے مگر اب دنیا بدل چکی ہے اَڑنا یعنی: • ضد کرنا • کسی نئی بات کو سننے سے انکار • یہ ماننے سے انکار کہ وقت بدل چکا ہے یہ وہ حالت ہے جب انسان یا قوم کہتی ہے: “ہمیں کچھ نیا سیکھنے کی ضرورت نہیں” ⸻ اقبال اصل میں کیا کہہ رہے ہیں؟ اقبال یہ نہیں کہہ رہے کہ نئی چیزیں آسان ہوتی ہیں۔ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ: قوموں کی زندگی کی سب سے مشکل منزل یہی ہوتی ہے کہ وہ تبدیلی کو قبول کریں۔ جو قوم: • نئی سوچ سے ڈرتی ہے • پرانے نظام سے چمٹی رہتی ہے • وقت کے ساتھ قدم نہیں ملاتی وہ پیچھے رہ جاتی ہے، چاہے اس کے پاس تاریخ ہو، وسائل ہوں یا ذہین لوگ ہوں۔ ⸻ قومیں کیوں پیچھے رہ جاتی ہیں؟ کیونکہ: • وہ سوال پوچھنا چھوڑ دیتی ہیں • وہ سیکھنے کو بے عزتی سمجھتی ہیں • وہ تجربہ کرنے سے گھبراتی ہیں • وہ غلطی سے ڈرتی ہیں حالانکہ ترقی غلطیوں سے ہو کر آتی ہے، خوف سے نہیں۔ ⸻ آج کے دور میں اس شعر کی مثال • دنیا AI، انٹرنیٹ، اور نئی معیشت کی طرف جا رہی ہے • کچھ قومیں سیکھ رہی ہیں، خود کو بدل رہی ہیں • اور کچھ کہہ رہی ہیں: “یہ سب فتنہ ہے، خطرہ ہے” نتیجہ؟ • سیکھنے والی قومیں آگے • ڈرنے والی قومیں پیچھے ⸻ فرد پر یہ شعر کیسے لاگو ہوتا ہے؟ یہ شعر صرف قوموں کے لیے نہیں، ہر انسان کے لیے ہے۔ اگر آپ: • نیا ہنر سیکھنے سے ڈرتے ہیں • نئی ذمہ داری لینے سے گھبراتے ہیں • نئی سوچ سن کر فوراً رد کر دیتے ہیں تو آپ بھی اسی “کٹھن منزل” میں کھڑے ہیں جس کا ذکر اقبال نے کیا ہے۔ ⸻ اقبال کا پیغام اقبال ہمیں ڈرا نہیں رہے، جھنجھوڑ رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں: • بدلنے سے مت ڈرو • سیکھنے سے مت گھبراؤ • پرانی عزت کو نئے علم سے خطرہ نہیں ہوتا اصل خطرہ یہ ہے کہ: دنیا آگے نکل جائے، اور ہم پرانی سوچ میں اَڑے رہیں۔ ⸻ نتیجہ یہ شعر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ: • ترقی کا راستہ آسان نہیں • مگر رک جانا اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے • جو قومیں خود کو وقت کے مطابق بدل لیتی ہیں، وہی زندہ رہتی ہیں اقبال کا پیغام واضح ہے: ڈر چھوڑو، سیکھو، بدلو — ورنہ تاریخ تمہیں چھوڑ دے گی۔ Thank you Rahila Firdous Thank you Sohail Aziz
    0 Kommentare 0 Anteile 86 Ansichten 0
  • ایک خبRehan School Korangi Campusی بدل دے!

    کیا آپ کسی ایسے یNoor Abundance Waliں جس کے پاس خواب تو ہیں،
    مگر سہارا نہیں؟
    جس کے اندر صلاحیت ہے،
    مگر موقع نہیں؟

    کراچی میں اب یہ مسئلہ ختم ہو رہا ہے۔



    Rehan School + Hostel

    اب ایک ہی جگہ، ایک ہی مکمل نظام کے ساتھ

    Noor Abundance Wali کے تعاون سے

    یہ صرف اسکول نہیں،
    یہ زندگی دوبارہ شروع کرنے کا موقع ہے۔



    ہم کن بچوں کو خوش آمدید کہتے ہیں؟

    یتیم بچے
    عمر: 8 سے 12 سال

    وہ بچے جن کے لیے
    کوئی پلان نہیں بناتا…
    اب ان کے لیے ہم نے پورا پلان بنا دیا ہے۔



    ہم کیا ذمہ داری لیتے ہیں؟

    ✔ معیاری تعلیم (Rehan School System)
    ✔ محفوظ رہائش (Hostel)
    ✔ کھانا، دیکھ بھال، نظم و ضبط
    ✔ اخلاق، اعتماد اور خودداری
    ✔ مستقبل کی تیاری — صرف نصاب نہیں، زندگی کی تربیت

    آپ صرف بچے ہمارے حوالے کریں،
    باقی سب ہماری ذمہ داری۔



    مقام

    Mariam Ismail Madarsa & Academy by Rehan School
    موچ گوٹھ، نزد بلدیہ ٹاؤن، کراچی

    Google Maps:
    https://maps.app.goo.gl/mtpKvQDmTPkGfA58A



    رابطہ

    پرنسپل: نور جہاں Povertywali
    0302-2914451

    اسسٹنٹ:
    0311-3022789



    اگر آپ:
    • کسی یتیم بچے کو جانتے ہیں
    • کسی بے سہارا خاندان سے واقف ہیں
    • یا واقعی کسی کی زندگی بدلنا چاہتے ہیں

    تو یہ پوسٹ ضرور شیئر کریں۔

    کبھی کبھی ایک شیئر،
    ایک بچے کی پوری زندگی بدل دیتا ہے۔

    — ریحان اللہ والا
    🔥 ایک خبRehan School Korangi Campusی بدل دے! 🔥 کیا آپ کسی ایسے یNoor Abundance Waliں جس کے پاس خواب تو ہیں، مگر سہارا نہیں؟ جس کے اندر صلاحیت ہے، مگر موقع نہیں؟ کراچی میں اب یہ مسئلہ ختم ہو رہا ہے۔ ⸻ 🏫 Rehan School + 🏠 Hostel اب ایک ہی جگہ، ایک ہی مکمل نظام کے ساتھ ✨ Noor Abundance Wali کے تعاون سے یہ صرف اسکول نہیں، یہ زندگی دوبارہ شروع کرنے کا موقع ہے۔ ⸻ 🌱 ہم کن بچوں کو خوش آمدید کہتے ہیں؟ 👦👧 یتیم بچے 🎂 عمر: 8 سے 12 سال وہ بچے جن کے لیے کوئی پلان نہیں بناتا… اب ان کے لیے ہم نے پورا پلان بنا دیا ہے۔ ⸻ 🤲 ہم کیا ذمہ داری لیتے ہیں؟ ✔ معیاری تعلیم (Rehan School System) ✔ محفوظ رہائش (Hostel) ✔ کھانا، دیکھ بھال، نظم و ضبط ✔ اخلاق، اعتماد اور خودداری ✔ مستقبل کی تیاری — صرف نصاب نہیں، زندگی کی تربیت آپ صرف بچے ہمارے حوالے کریں، باقی سب ہماری ذمہ داری۔ ⸻ 📍 مقام Mariam Ismail Madarsa & Academy by Rehan School موچ گوٹھ، نزد بلدیہ ٹاؤن، کراچی 🗺️ Google Maps: https://maps.app.goo.gl/mtpKvQDmTPkGfA58A ⸻ 📞 رابطہ 👩‍🏫 پرنسپل: نور جہاں Povertywali 📱 0302-2914451 👤 اسسٹنٹ: 📱 0311-3022789 ⸻ اگر آپ: • کسی یتیم بچے کو جانتے ہیں • کسی بے سہارا خاندان سے واقف ہیں • یا واقعی کسی کی زندگی بدلنا چاہتے ہیں تو یہ پوسٹ ضرور شیئر کریں۔ 🌍 کبھی کبھی ایک شیئر، ایک بچے کی پوری زندگی بدل دیتا ہے۔ — ریحان اللہ والا
    0 Kommentare 0 Anteile 197 Ansichten 0
  • Soon Rehan School software will make all students do pushups and squats a day even if they are in our Rehan School Online Academy any where in the world :

    It will deduct their marks if they don’t do it
    Soon Rehan School software will make all students do pushups and squats a day even if they are in our Rehan School Online Academy any where in the world :🌎 It will deduct their marks if they don’t do it
    0 Kommentare 0 Anteile 78 Ansichten 0
  • Thank you Caiyad Phahad for your kind words about Rehan School system !
    Thank you Caiyad Phahad for your kind words about Rehan School system !
    0 Kommentare 0 Anteile 89 Ansichten 0
  • The wonderful young man already paying part of his school fee via his own earnings in Rehan School Islamabad Campus from Chakwal
    The wonderful young man already paying part of his school fee via his own earnings in Rehan School Islamabad Campus from Chakwal
    0 Kommentare 0 Anteile 125 Ansichten 0