• Rehan College — اور ایک ممکنہ قومی شراکت داری کی شروعات

    آج کی ویڈیو میں میں نے وضاحت کی کہ Rehan College صرف ایک کالج نہیں — ایک ماڈل ہے۔

    ایسا ماڈل جہاں ہر طالب علم کو:

    ✔ AI اور ٹیکنالوجی
    ✔ آن لائن کمائی
    ✔ کمیونیکیشن اور لیڈرشپ

    کے ساتھ ساتھ 16 عملی ہنر (Hard Skills) بھی سکھائے جاتے ہیں:

    پلمبنگ
    الیکٹرک ورک
    میسنری
    ٹائلنگ
    سولر انسٹالیشن
    مکینیکل بیسکس
    اور دیگر عملی مہارتیں

    ہم ڈگری نہیں دیتے۔
    ہم طاقت دیتے ہیں۔

    ایسی طاقت جو طالب علم کو کم از کم ایک ہنر میں ماہر بنائے،
    AI میں مضبوط کرے،
    اور مالی طور پر خود مختار بنائے۔

    جب میں یہ ماڈل سمجھا رہا تھا،
    Gulmina Bilal Ahmad صاحبہ نے گہرائی سے سنا، سوال کیے، چیلنج کیا، اور ہر پہلو کو سمجھنے کی کوشش کی۔

    وہ اس بات سے متاثر ہوئیں کہ ایک نوجوان:

    AI بھی جانتا ہو
    ہاتھ کا ہنر بھی رکھتا ہو
    اور خود اپنی فیس کما سکے

    انہوں نے دلچسپی ظاہر کی کہ کیا National Vocational and Technical Training Commission (NAVTTC) اس ماڈل کے ساتھ کسی سطح پر شراکت داری کر سکتا ہے۔

    اور آخر میں…

    انہوں نے کہا کہ وہ کراچی آئیں گی،
    خود اسکول کا دورہ کریں گی،
    اور اس ماڈل کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گی۔

    یہ ایک جملہ نہیں تھا۔

    یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر ارادہ ہو —
    تو تعلیم، ہنر، اور AI کو ایک ساتھ لا کر
    پاکستان کا مستقبل بدلا جا سکتا ہے۔

    Rehan College کا وژن واضح ہے:

    ہر طالب علم
    ایک ہنر میں ماہر
    AI میں مضبوط
    اور مالی طور پر خود مختار۔

    انقلاب تقریروں سے نہیں آتا۔
    انقلاب ماڈل بنا کر دکھانے سے آتا ہے۔

    #RehanCollege #NAVTTC #SkillsRevolution #AIinEducation #Pakistan #EarnWhileYouLearn #EducationReform
    🔥 Rehan College — اور ایک ممکنہ قومی شراکت داری کی شروعات 🔥 آج کی ویڈیو میں میں نے وضاحت کی کہ Rehan College صرف ایک کالج نہیں — ایک ماڈل ہے۔ ایسا ماڈل جہاں ہر طالب علم کو: ✔ AI اور ٹیکنالوجی ✔ آن لائن کمائی ✔ کمیونیکیشن اور لیڈرشپ کے ساتھ ساتھ 16 عملی ہنر (Hard Skills) بھی سکھائے جاتے ہیں: 🔹 پلمبنگ 🔹 الیکٹرک ورک 🔹 میسنری 🔹 ٹائلنگ 🔹 سولر انسٹالیشن 🔹 مکینیکل بیسکس اور دیگر عملی مہارتیں ہم ڈگری نہیں دیتے۔ ہم طاقت دیتے ہیں۔ ایسی طاقت جو طالب علم کو کم از کم ایک ہنر میں ماہر بنائے، AI میں مضبوط کرے، اور مالی طور پر خود مختار بنائے۔ جب میں یہ ماڈل سمجھا رہا تھا، Gulmina Bilal Ahmad صاحبہ نے گہرائی سے سنا، سوال کیے، چیلنج کیا، اور ہر پہلو کو سمجھنے کی کوشش کی۔ وہ اس بات سے متاثر ہوئیں کہ ایک نوجوان: AI بھی جانتا ہو ہاتھ کا ہنر بھی رکھتا ہو اور خود اپنی فیس کما سکے انہوں نے دلچسپی ظاہر کی کہ کیا National Vocational and Technical Training Commission (NAVTTC) اس ماڈل کے ساتھ کسی سطح پر شراکت داری کر سکتا ہے۔ اور آخر میں… انہوں نے کہا کہ وہ کراچی آئیں گی، خود اسکول کا دورہ کریں گی، اور اس ماڈل کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گی۔ یہ ایک جملہ نہیں تھا۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر ارادہ ہو — تو تعلیم، ہنر، اور AI کو ایک ساتھ لا کر پاکستان کا مستقبل بدلا جا سکتا ہے۔ Rehan College کا وژن واضح ہے: ہر طالب علم ایک ہنر میں ماہر AI میں مضبوط اور مالی طور پر خود مختار۔ انقلاب تقریروں سے نہیں آتا۔ انقلاب ماڈل بنا کر دکھانے سے آتا ہے۔ #RehanCollege #NAVTTC #SkillsRevolution #AIinEducation #Pakistan #EarnWhileYouLearn #EducationReform
    0 Комментарии 0 Поделились 2706 Просмотры 0
  • علم کی محفل… اور خوبصورت سنگت

    آج ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس میں
    Saleem Akhter صاحب کی آمد ہمارے لیے خوشی کا باعث بنی۔

    انہوں نے نہ صرف AI for Education Seminar میں شرکت کی،
    بلکہ آخر تک بیٹھ کر گفتگو سنی، سوال کیے،
    اور پھر ہمارے ساتھ ڈنر میں بھی شامل ہوئے۔

    یہی وہ لوگ ہوتے ہیں
    جو صرف سننے نہیں آتے…
    سمجھنے آتے ہیں۔

    AI کیسے تعلیم کو بدل سکتا ہے؟
    بچے اپنی فیس خود کیسے کما سکتے ہیں؟
    روایتی اسکول سسٹم کیوں obsolete ہو رہا ہے؟

    ان تمام موضوعات پر سنجیدہ بات ہوئی۔

    ہم دل سے شکر گزار ہیں
    کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت دیا۔

    ایسے لوگ جب ساتھ کھڑے ہوتے ہیں
    تو مشن مضبوط ہوتا ہے۔

    ریحان اسکول، اسلام آباد
    rehanschool.com

    یہ صرف سیمینار نہیں تھا…
    یہ مستقبل کے پاکستان پر مکالمہ تھا۔
    🌟 علم کی محفل… اور خوبصورت سنگت 🌟 آج ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس میں Saleem Akhter صاحب کی آمد ہمارے لیے خوشی کا باعث بنی۔ انہوں نے نہ صرف AI for Education Seminar میں شرکت کی، بلکہ آخر تک بیٹھ کر گفتگو سنی، سوال کیے، اور پھر ہمارے ساتھ ڈنر میں بھی شامل ہوئے۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو صرف سننے نہیں آتے… سمجھنے آتے ہیں۔ AI کیسے تعلیم کو بدل سکتا ہے؟ بچے اپنی فیس خود کیسے کما سکتے ہیں؟ روایتی اسکول سسٹم کیوں obsolete ہو رہا ہے؟ ان تمام موضوعات پر سنجیدہ بات ہوئی۔ ہم دل سے شکر گزار ہیں کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت دیا۔ ایسے لوگ جب ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو مشن مضبوط ہوتا ہے۔ 📍 ریحان اسکول، اسلام آباد 🌐 rehanschool.com یہ صرف سیمینار نہیں تھا… یہ مستقبل کے پاکستان پر مکالمہ تھا۔
    0 Комментарии 0 Поделились 43 Просмотры 0
  • مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان سے علم کا قافلہ ریحان اسکول اسلام آباد پہنچ گیا

    آج ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس میں ایک خاص دن تھا۔

    مظفر گڑھ سے تشریف لائے
    عظیم استاد عبدالروف چودھری صاحب

    اور ڈیرہ غازی خان سے آئے معزز مہمان…

    یہ کوئی عام وزٹ نہیں تھا۔
    یہ دو شہروں کی امید کا اسلام آباد میں دستک دینا تھا۔

    جب انہوں نے کلاس رومز دیکھے…
    جب بچوں کو AI کے ساتھ سیکھتے دیکھا…
    جب یہ سنا کہ یہاں بچے صرف ڈگری نہیں،
    بلکہ مسئلہ حل کرنا، کمانا اور قیادت کرنا سیکھتے ہیں…

    تو ان کے چہرے پر حیرت بھی تھی، خوشی بھی… اور امید بھی۔

    انہوں نے فرمایا کہ:
    “اگر تعلیم کا مستقبل کہیں نظر آ رہا ہے تو وہ یہاں ہے۔”

    یہ الفاظ ہمارے لیے ایوارڈ سے کم نہیں۔

    آج مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان کے اساتذہ نے دیکھا کہ:
    • یہاں بچہ رٹہ نہیں لگاتا، سوال پوچھتا ہے۔
    • یہاں AI کتاب نہیں، استاد ہے۔
    • یہاں خواب صرف دیکھے نہیں جاتے، ان پر کام بھی ہوتا ہے۔

    ہم دعا کرتے ہیں کہ
    یہ روشنی مظفر گڑھ تک جائے،
    ڈیرہ غازی خان تک جائے،
    اور پھر پورے پاکستان تک پھیل جائے۔

    اگر آپ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ
    تعلیم 2026 میں کیسی ہونی چاہیے…

    تو دروازہ کھلا ہے۔
    آئیں، دیکھیں، سوال کریں… اور خود فیصلہ کریں۔

    ریحان اسکول، اسلام آباد
    rehanschool.com

    یہ صرف اسکول نہیں…
    یہ ایک سوچ ہے۔
    اور سوچ جب بدلتی ہے…
    تو شہر بدل جاتے ہیں۔
    🌟 مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان سے علم کا قافلہ ریحان اسکول اسلام آباد پہنچ گیا 🌟 آج ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس میں ایک خاص دن تھا۔ مظفر گڑھ سے تشریف لائے عظیم استاد عبدالروف چودھری صاحب اور ڈیرہ غازی خان سے آئے معزز مہمان… یہ کوئی عام وزٹ نہیں تھا۔ یہ دو شہروں کی امید کا اسلام آباد میں دستک دینا تھا۔ جب انہوں نے کلاس رومز دیکھے… جب بچوں کو AI کے ساتھ سیکھتے دیکھا… جب یہ سنا کہ یہاں بچے صرف ڈگری نہیں، بلکہ مسئلہ حل کرنا، کمانا اور قیادت کرنا سیکھتے ہیں… تو ان کے چہرے پر حیرت بھی تھی، خوشی بھی… اور امید بھی۔ انہوں نے فرمایا کہ: “اگر تعلیم کا مستقبل کہیں نظر آ رہا ہے تو وہ یہاں ہے۔” یہ الفاظ ہمارے لیے ایوارڈ سے کم نہیں۔ آج مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان کے اساتذہ نے دیکھا کہ: • یہاں بچہ رٹہ نہیں لگاتا، سوال پوچھتا ہے۔ • یہاں AI کتاب نہیں، استاد ہے۔ • یہاں خواب صرف دیکھے نہیں جاتے، ان پر کام بھی ہوتا ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ یہ روشنی مظفر گڑھ تک جائے، ڈیرہ غازی خان تک جائے، اور پھر پورے پاکستان تک پھیل جائے۔ اگر آپ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ تعلیم 2026 میں کیسی ہونی چاہیے… تو دروازہ کھلا ہے۔ آئیں، دیکھیں، سوال کریں… اور خود فیصلہ کریں۔ 📍 ریحان اسکول، اسلام آباد 🌐 rehanschool.com یہ صرف اسکول نہیں… یہ ایک سوچ ہے۔ اور سوچ جب بدلتی ہے… تو شہر بدل جاتے ہیں۔
    0 Комментарии 0 Поделились 1095 Просмотры 0
  • ایک ذمہ دار شہری… جو صرف بات نہیں، عمل کرتا ہے

    آج ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس میں
    @arshad dad صاحب کی آمد ہمارے لیے اعزاز تھی۔

    وہ سابق جنرل سیکریٹری PTI رہ چکے ہیں،
    مگر ان کی اصل پہچان سیاست نہیں… خدمت ہے۔

    وہ مالی طور پر The Citizens Foundation (TCF) کے دو اسکول سپورٹ کرتے ہیں،
    ایک اور تعلیمی ادارہ سپورٹ کر رہے ہیں،
    اور Hunar Foundation کے ایک کیمپس کی بھی سرپرستی کر رہے ہیں۔

    یعنی وہ صرف کامیاب بزنس مین نہیں،
    بلکہ تعلیم میں سرمایہ کاری کرنے والے انسان ہیں۔

    اسلام آباد اور پشاور میں ان کا مضبوط کنسٹرکشن بزنس ہے،
    لیکن آج انہوں نے وقت نکالا…
    تعلیم کے مستقبل کو دیکھنے کے لیے۔

    انہوں نے بچوں کو AI کے ساتھ سیکھتے دیکھا،
    ہماری earning-mindset approach کو سنا،
    اور تفصیل سے سوالات کیے۔

    ایسے لوگ معاشرے کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔
    جو کماتے بھی ہیں… اور واپس لگاتے بھی ہیں۔

    دل سے شکریہ @arshad dad صاحب۔
    آپ جیسے لوگ امید زندہ رکھتے ہیں۔

    اگر پاکستان کے 100 بزنس مین بھی تعلیم میں اسی طرح کھڑے ہو جائیں…
    تو نقشہ بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔

    ریحان اسکول اسلام آباد
    rehanschool.com

    یہ صرف ایک وزٹ نہیں تھا…
    یہ تعلیم اور قیادت کے مستقبل پر ایک سنجیدہ مکالمہ تھا۔

    Thank you so much @arshad dad sahib for visiting Rehan School Islamabad Campus today
    🌟 ایک ذمہ دار شہری… جو صرف بات نہیں، عمل کرتا ہے 🌟 آج ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس میں @arshad dad صاحب کی آمد ہمارے لیے اعزاز تھی۔ وہ سابق جنرل سیکریٹری PTI رہ چکے ہیں، مگر ان کی اصل پہچان سیاست نہیں… خدمت ہے۔ وہ مالی طور پر The Citizens Foundation (TCF) کے دو اسکول سپورٹ کرتے ہیں، ایک اور تعلیمی ادارہ سپورٹ کر رہے ہیں، اور Hunar Foundation کے ایک کیمپس کی بھی سرپرستی کر رہے ہیں۔ یعنی وہ صرف کامیاب بزنس مین نہیں، بلکہ تعلیم میں سرمایہ کاری کرنے والے انسان ہیں۔ اسلام آباد اور پشاور میں ان کا مضبوط کنسٹرکشن بزنس ہے، لیکن آج انہوں نے وقت نکالا… تعلیم کے مستقبل کو دیکھنے کے لیے۔ انہوں نے بچوں کو AI کے ساتھ سیکھتے دیکھا، ہماری earning-mindset approach کو سنا، اور تفصیل سے سوالات کیے۔ ایسے لوگ معاشرے کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔ جو کماتے بھی ہیں… اور واپس لگاتے بھی ہیں۔ دل سے شکریہ @arshad dad صاحب۔ آپ جیسے لوگ امید زندہ رکھتے ہیں۔ اگر پاکستان کے 100 بزنس مین بھی تعلیم میں اسی طرح کھڑے ہو جائیں… تو نقشہ بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ 📍 ریحان اسکول اسلام آباد 🌐 rehanschool.com یہ صرف ایک وزٹ نہیں تھا… یہ تعلیم اور قیادت کے مستقبل پر ایک سنجیدہ مکالمہ تھا۔ Thank you so much @arshad dad sahib for visiting Rehan School Islamabad Campus today
    0 Комментарии 0 Поделились 79 Просмотры 0
  • دس گھنٹے کا سفر… صرف تعلیم کے مستقبل کے لیے!

    آج ڈیرہ غازی خان سے مہمان آئے…

    ایسے مہمان جو صرف تصویر بنوانے نہیں آئے تھے۔
    وہ دس گھنٹے ڈرائیو کر کے آئے۔
    اور پھر دس گھنٹے واپس جانے کے لیے بھی تیار۔

    صرف اس لیے کہ وہ دیکھ سکیں…
    سمجھ سکیں…
    کہ AI تعلیم کو کیسے بدل رہا ہے۔

    انہوں نے ہمارے AI for Education Seminar میں شرکت کی۔
    سوال پوچھے۔
    نوٹس بنائے۔
    بچوں سے بات کی۔

    اور سب سے بڑی بات —
    انہوں نے وقت اور محنت کی قربانی دی۔

    آج کے دور میں لوگ پانچ منٹ کی ویڈیو پوری نہیں دیکھتے…
    اور یہ لوگ بیس گھنٹے کا سفر کر کے آئے۔

    یہی فرق ہے۔
    جو لوگ مستقبل بناتے ہیں، وہ آرام نہیں دیکھتے… راستہ دیکھتے ہیں۔

    ڈیرہ غازی خان سے آنے والے ان تمام مہمانوں کا دل سے شکریہ۔

    آپ نے ثابت کیا کہ
    تعلیم اگر سچی ہو…
    تو فاصلے چھوٹے ہو جاتے ہیں۔

    اگر آپ بھی صرف سننا نہیں،
    دیکھنا چاہتے ہیں کہ AI تعلیم کو کیسے بدل رہا ہے…

    تو rehanschool.com پر رجسٹر کریں۔

    مستقبل انتظار نہیں کرتا۔
    جو چل پڑتے ہیں… وہی اس تک پہنچتے ہیں۔
    🚗 دس گھنٹے کا سفر… صرف تعلیم کے مستقبل کے لیے! 🚗 آج ڈیرہ غازی خان سے مہمان آئے… ایسے مہمان جو صرف تصویر بنوانے نہیں آئے تھے۔ وہ دس گھنٹے ڈرائیو کر کے آئے۔ اور پھر دس گھنٹے واپس جانے کے لیے بھی تیار۔ صرف اس لیے کہ وہ دیکھ سکیں… سمجھ سکیں… کہ AI تعلیم کو کیسے بدل رہا ہے۔ انہوں نے ہمارے AI for Education Seminar میں شرکت کی۔ سوال پوچھے۔ نوٹس بنائے۔ بچوں سے بات کی۔ اور سب سے بڑی بات — انہوں نے وقت اور محنت کی قربانی دی۔ آج کے دور میں لوگ پانچ منٹ کی ویڈیو پوری نہیں دیکھتے… اور یہ لوگ بیس گھنٹے کا سفر کر کے آئے۔ یہی فرق ہے۔ جو لوگ مستقبل بناتے ہیں، وہ آرام نہیں دیکھتے… راستہ دیکھتے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان سے آنے والے ان تمام مہمانوں کا دل سے شکریہ۔ آپ نے ثابت کیا کہ تعلیم اگر سچی ہو… تو فاصلے چھوٹے ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ بھی صرف سننا نہیں، دیکھنا چاہتے ہیں کہ AI تعلیم کو کیسے بدل رہا ہے… تو rehanschool.com پر رجسٹر کریں۔ مستقبل انتظار نہیں کرتا۔ جو چل پڑتے ہیں… وہی اس تک پہنچتے ہیں۔
    0 Комментарии 0 Поделились 43 Просмотры 0
  • اسماء شاہین ایجوکیشن والی نے دو AI سیمینارز سے کیا سیکھا؟

    پرنسپل — ریحان اسکول اسلام آباد، بارہ کہو برانچ

    دو مسلسل AI for Education سیمینارز کرنا صرف ایونٹ مینجمنٹ نہیں تھا…
    یہ لیڈرشپ ٹریننگ تھی۔

    بطور پرنسپل، اسماء شاہین ایجوکیشن والی نے تین بڑی چیزیں سیکھیں:

    ⸻

    AI کو “ٹول” نہیں، “سسٹم” بنانا

    انہوں نے محسوس کیا کہ AI صرف پریزنٹیشن کا موضوع نہیں —
    بلکہ روزمرہ تدریس، اسائنمنٹس، اور پیرنٹس کمیونیکیشن کا حصہ بنانا ہوگا۔
    • ہر ٹیچر کو AI سے لیسن پلان بنوانا
    • ہر بچے کو AI کے ذریعے خود سوال بنانا سکھانا
    • ہر پیرنٹ میٹنگ میں AI-based learning دکھانا

    نتیجہ: AI ڈیمو سے نکل کر پریکٹس میں آیا۔

    ⸻

    لوگ متاثر تب ہوتے ہیں جب نمبر واضح ہوں

    سیمینار میں سب سے زیادہ توجہ اس بات پر ملی کہ:
    • 18 ماہ بعد بچہ اپنی فیس خود کما سکتا ہے
    • کلاس 6 تک آمدن کا ہدف
    • واضح KPIs اور ٹائم لائن

    انہوں نے سیکھا کہ وژن جذباتی ہو سکتا ہے،
    لیکن اعتماد ہمیشہ نمبرز سے آتا ہے۔

    ⸻

    پرنسپل صرف ایڈمن نہیں — مشن ایمبیسیڈر ہے

    دو سیمینارز کے بعد انہوں نے یہ محسوس کیا کہ:
    پرنسپل کا کردار صرف حاضری اور ڈسپلن نہیں…
    بلکہ مشن کو بیان کرنا، دفاع کرنا، اور پھیلانا ہے۔

    انہوں نے خود سوالات کے جواب دیے،
    اعتراضات سنے،
    اور ریحان اسکول کے ماڈل کو واضح انداز میں پیش کیا۔

    یہ ان کے لیے پبلک لیڈرشپ کا پریکٹیکل کورس تھا۔

    ⸻

    ریحان اسکول — اسلام آباد — بارہ کہو برانچ

    rehanschool.net
    گوگل میپس: https://maps.app.goo.gl/L5u3BM7CmX3eM3qH6?g_st=ic

    پرنسپل: اسماء ایجوکیشن والی
    +92 344 5152745

    قاسم: +92 308 5511534
    UAN: 0304-1116044

    ⸻

    دو سیمینارز نے ایک بات واضح کر دی:
    اگر پرنسپل خود سیکھ رہی ہو…
    تو اسکول رُکتا نہیں، بڑھتا ہے۔

    What did Asma Shaheen EducationWali learn by
    doing 2 ai seminars
    🌟 اسماء شاہین ایجوکیشن والی نے دو AI سیمینارز سے کیا سیکھا؟ پرنسپل — ریحان اسکول اسلام آباد، بارہ کہو برانچ دو مسلسل AI for Education سیمینارز کرنا صرف ایونٹ مینجمنٹ نہیں تھا… یہ لیڈرشپ ٹریننگ تھی۔ بطور پرنسپل، اسماء شاہین ایجوکیشن والی نے تین بڑی چیزیں سیکھیں: ⸻ 1️⃣ AI کو “ٹول” نہیں، “سسٹم” بنانا انہوں نے محسوس کیا کہ AI صرف پریزنٹیشن کا موضوع نہیں — بلکہ روزمرہ تدریس، اسائنمنٹس، اور پیرنٹس کمیونیکیشن کا حصہ بنانا ہوگا۔ • ہر ٹیچر کو AI سے لیسن پلان بنوانا • ہر بچے کو AI کے ذریعے خود سوال بنانا سکھانا • ہر پیرنٹ میٹنگ میں AI-based learning دکھانا نتیجہ: AI ڈیمو سے نکل کر پریکٹس میں آیا۔ ⸻ 2️⃣ لوگ متاثر تب ہوتے ہیں جب نمبر واضح ہوں سیمینار میں سب سے زیادہ توجہ اس بات پر ملی کہ: • 18 ماہ بعد بچہ اپنی فیس خود کما سکتا ہے • کلاس 6 تک آمدن کا ہدف • واضح KPIs اور ٹائم لائن انہوں نے سیکھا کہ وژن جذباتی ہو سکتا ہے، لیکن اعتماد ہمیشہ نمبرز سے آتا ہے۔ ⸻ 3️⃣ پرنسپل صرف ایڈمن نہیں — مشن ایمبیسیڈر ہے دو سیمینارز کے بعد انہوں نے یہ محسوس کیا کہ: پرنسپل کا کردار صرف حاضری اور ڈسپلن نہیں… بلکہ مشن کو بیان کرنا، دفاع کرنا، اور پھیلانا ہے۔ انہوں نے خود سوالات کے جواب دیے، اعتراضات سنے، اور ریحان اسکول کے ماڈل کو واضح انداز میں پیش کیا۔ یہ ان کے لیے پبلک لیڈرشپ کا پریکٹیکل کورس تھا۔ ⸻ 📍 ریحان اسکول — اسلام آباد — بارہ کہو برانچ 🌐 rehanschool.net 📌 گوگل میپس: https://maps.app.goo.gl/L5u3BM7CmX3eM3qH6?g_st=ic پرنسپل: اسماء ایجوکیشن والی 📞 +92 344 5152745 قاسم: +92 308 5511534 ☎️ UAN: 0304-1116044 ⸻ دو سیمینارز نے ایک بات واضح کر دی: اگر پرنسپل خود سیکھ رہی ہو… تو اسکول رُکتا نہیں، بڑھتا ہے۔ What did Asma Shaheen EducationWali learn by doing 2 ai seminars
    0 Комментарии 0 Поделились 500 Просмотры 0
  • Welcome to AgentR.net ! Your instant software creator !
    Website maker
    App maker
    Welcome to AgentR.net ! Your instant software creator ! Website maker App maker
    0 Комментарии 0 Поделились 191 Просмотры 0
  • Want to sell solar inverters with warranty ? Meet Farhan Leaser
    Want to sell solar inverters with warranty ? Meet Farhan Leaser
    0 Комментарии 0 Поделились 43 Просмотры 0
  • بہارہ کہو میں ایک تاریخی ٹور — ریحان اسکول اسلام آباد

    کیا آپ چاہتے ہیں آپ کے اسکول یا مدرسہ کی فیس کم از کم 5000 روپے ہو…
    اور بچہ اپنی فیس خود کما کر ادا کرے؟

    آج کا دن عام نہیں تھا…
    یہ صرف ایک وزٹ نہیں تھا…
    یہ دو نظریات کا ملاپ تھا۔

    آج بہارہ کہو اسلام آباد میں
    ریحان اسکول ہائی اسکول کیمپس کا ٹور ہوا۔

    مولانا ضیاء صاحب آئے۔
    وہی مولانا ضیاء…
    جو شروع دن سے اس خواب کو جانتے تھے۔
    دور سے دیکھ رہے تھے
    کہ یہ مشن سچ بنے گا یا صرف باتوں تک رہے گا۔

    جب وہ کلاس رومز میں گئے،
    بچوں کو AI کے ساتھ کام کرتے دیکھا،
    یہ سنا کہ کچھ بچے چند ماہ میں کمائی شروع کر دیتے ہیں،
    یہ سمجھا کہ 5000 روپے فیس کوئی بوجھ نہیں…
    اگر بچہ خود سسٹم سیکھ کر کما رہا ہو…

    تو ان کی آنکھوں میں حیرت نہیں…
    خوشی تھی۔

    کیونکہ وہ جانتے تھے
    تعلیم کا مقصد صرف کتاب نہیں —
    قابل بنانا ہے۔

    اور آج ایک اور خوبصورت لمحہ ہوا —
    انہوں نے اپنا Facebook اکاؤنٹ بنایا۔

    یہ صرف اکاؤنٹ نہیں تھا۔
    یہ ایک نئے دور میں قدم تھا۔

    سوچیں…

    اگر مدرسہ اور اسکول
    ایسا سسٹم اپنا لیں
    جہاں بچہ
    قرآن بھی سیکھے
    اخلاق بھی سیکھے
    اور کمائی بھی سیکھے…

    تو والدین پر بوجھ کم ہوگا یا نہیں؟
    قوم بدلے گی یا نہیں؟

    5000 روپے فیس
    مسئلہ نہیں ہے…
    مسئلہ سسٹم کا ہے۔

    اور سسٹم بدل سکتا ہے۔

    بہارہ کہو گواہ ہے —
    ایک نیا ماڈل سامنے آ رہا ہے۔

    اگر آپ بھی چاہتے ہیں
    آپ کے اسکول یا مدرسہ میں
    بچے اپنی فیس خود کما سکیں…

    تو اب وقت ہے دیکھنے کا نہیں
    سیکھنے کا۔

    — ریحان اللہ والا

    Thank you Ziaur Rehman +92 300 5334329

    Rehan School - Islamabad - Bara Khau Branch Rehanschool.net Address on google maps: https://maps.app.goo.gl/L5u3BM7CmX3eM3qH6?g_st=ic Principal Asma EducationWali +92 344 5152745 Qasim +92 308 5511534 UAN 0304-1116044

    Group for Barakhu school

    https://chat.whatsapp.com/DFnARqTmGnHFF65yvV9oxu?mode=gi_t
    بہارہ کہو میں ایک تاریخی ٹور — ریحان اسکول اسلام آباد کیا آپ چاہتے ہیں آپ کے اسکول یا مدرسہ کی فیس کم از کم 5000 روپے ہو… اور بچہ اپنی فیس خود کما کر ادا کرے؟ آج کا دن عام نہیں تھا… یہ صرف ایک وزٹ نہیں تھا… یہ دو نظریات کا ملاپ تھا۔ آج بہارہ کہو اسلام آباد میں ریحان اسکول ہائی اسکول کیمپس کا ٹور ہوا۔ مولانا ضیاء صاحب آئے۔ وہی مولانا ضیاء… جو شروع دن سے اس خواب کو جانتے تھے۔ دور سے دیکھ رہے تھے کہ یہ مشن سچ بنے گا یا صرف باتوں تک رہے گا۔ جب وہ کلاس رومز میں گئے، بچوں کو AI کے ساتھ کام کرتے دیکھا، یہ سنا کہ کچھ بچے چند ماہ میں کمائی شروع کر دیتے ہیں، یہ سمجھا کہ 5000 روپے فیس کوئی بوجھ نہیں… اگر بچہ خود سسٹم سیکھ کر کما رہا ہو… تو ان کی آنکھوں میں حیرت نہیں… خوشی تھی۔ کیونکہ وہ جانتے تھے تعلیم کا مقصد صرف کتاب نہیں — قابل بنانا ہے۔ اور آج ایک اور خوبصورت لمحہ ہوا — انہوں نے اپنا Facebook اکاؤنٹ بنایا۔ یہ صرف اکاؤنٹ نہیں تھا۔ یہ ایک نئے دور میں قدم تھا۔ سوچیں… اگر مدرسہ اور اسکول ایسا سسٹم اپنا لیں جہاں بچہ قرآن بھی سیکھے اخلاق بھی سیکھے اور کمائی بھی سیکھے… تو والدین پر بوجھ کم ہوگا یا نہیں؟ قوم بدلے گی یا نہیں؟ 5000 روپے فیس مسئلہ نہیں ہے… مسئلہ سسٹم کا ہے۔ اور سسٹم بدل سکتا ہے۔ بہارہ کہو گواہ ہے — ایک نیا ماڈل سامنے آ رہا ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں آپ کے اسکول یا مدرسہ میں بچے اپنی فیس خود کما سکیں… تو اب وقت ہے دیکھنے کا نہیں سیکھنے کا۔ — ریحان اللہ والا Thank you Ziaur Rehman +92 300 5334329 Rehan School - Islamabad - Bara Khau Branch Rehanschool.net Address on google maps: https://maps.app.goo.gl/L5u3BM7CmX3eM3qH6?g_st=ic Principal Asma EducationWali +92 344 5152745 Qasim +92 308 5511534 UAN 0304-1116044 Group for Barakhu school https://chat.whatsapp.com/DFnARqTmGnHFF65yvV9oxu?mode=gi_t
    0 Комментарии 0 Поделились 650 Просмотры 0
  • آج میں آپ کو ایک ایسے شخص کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں
    جس کے پاس نہ بڑی عمارت ہے…
    نہ بڑے بینرز…
    نہ سوشل میڈیا ٹیم…

    لیکن اس کے پاس ایک چیز ہے — نیت۔

    اور نیت جب صاف ہو…
    تو اللہ خود راستے کھول دیتا ہے۔

    میں بات کر رہا ہوں
    مولانا ضیاء صاحب کی۔

    بہارہ کہو کی گلیوں میں بیٹھ کر
    انہوں نے ایک خواب دیکھا…

    “یہ بچے جو موبائل اور سڑکوں کے درمیان بڑے ہو رہے ہیں
    ان کو قرآن سے جوڑنا ہے۔”

    انہوں نے انتظار نہیں کیا
    کہ کوئی حکومت آئے
    کوئی فنڈ آئے
    کوئی بڑی NGO آئے

    انہوں نے خود شروع کیا۔

    ایک مکتب…
    چند بچے…
    اور ایک عزم۔

    آج
    مکتب تعلیم القرآن ٹرسٹ
    دارالعلوم جامع مسجد سیدنا علی المرتضیٰ
    سینکڑوں بچوں کو
    قرآن، آداب، اخلاق اور دین کی بنیاد دے رہا ہے۔

    آپ کو شاید یہ عام لگے۔

    لیکن یاد رکھیں —
    جب ایک بچہ قرآن سیکھتا ہے
    تو صرف وہ نہیں بدلتا
    اس کا گھر بدلتا ہے
    اس کی نسل بدلتی ہے
    اس کا مستقبل بدلتا ہے۔

    مولانا ضیاء نے
    کسی سے پوچھا نہیں
    “یہ ممکن ہے یا نہیں؟”

    انہوں نے صرف یہ پوچھا
    “کیا یہ ضروری ہے؟”

    اور جب جواب آیا
    “ہاں، یہ ضروری ہے”
    تو انہوں نے کام شروع کر دیا۔

    آج ہمیں سوچنا ہے…

    کیا ہم ایسے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں؟
    کیا ہم ایسے خوابوں کو سپورٹ کرتے ہیں؟
    یا صرف بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں؟

    اگر آپ بہارہ کہو میں ہیں
    تو ایک بار جا کر دیکھیں۔
    بچوں کی آنکھوں میں نور دیکھیں۔

    رابطہ کریں:
    0334-0037157
    (مولانا عبد الرحمن – معاون)

    مقام:
    دارالعلوم جامع مسجد سیدنا علی المرتضیٰ
    نزد سروس چوک، بہارہ کہو، اسلام آباد

    اگر طاقت رکھتے ہیں تو تعاون کریں۔
    اگر وقت رکھتے ہیں تو وزٹ کریں۔
    اگر کچھ نہیں کر سکتے تو دعا کریں۔

    کیونکہ
    قومیں عمارتوں سے نہیں
    استادوں سے بنتی ہیں۔

    اور استاد وہی بڑا ہے
    جو خاموشی سے نسلیں بنا رہا ہو۔

    — ریحان اللہ والا

    Meet Ziaur Rehman
    آج میں آپ کو ایک ایسے شخص کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جس کے پاس نہ بڑی عمارت ہے… نہ بڑے بینرز… نہ سوشل میڈیا ٹیم… لیکن اس کے پاس ایک چیز ہے — نیت۔ اور نیت جب صاف ہو… تو اللہ خود راستے کھول دیتا ہے۔ میں بات کر رہا ہوں مولانا ضیاء صاحب کی۔ بہارہ کہو کی گلیوں میں بیٹھ کر انہوں نے ایک خواب دیکھا… “یہ بچے جو موبائل اور سڑکوں کے درمیان بڑے ہو رہے ہیں ان کو قرآن سے جوڑنا ہے۔” انہوں نے انتظار نہیں کیا کہ کوئی حکومت آئے کوئی فنڈ آئے کوئی بڑی NGO آئے انہوں نے خود شروع کیا۔ ایک مکتب… چند بچے… اور ایک عزم۔ آج مکتب تعلیم القرآن ٹرسٹ دارالعلوم جامع مسجد سیدنا علی المرتضیٰ سینکڑوں بچوں کو قرآن، آداب، اخلاق اور دین کی بنیاد دے رہا ہے۔ آپ کو شاید یہ عام لگے۔ لیکن یاد رکھیں — جب ایک بچہ قرآن سیکھتا ہے تو صرف وہ نہیں بدلتا اس کا گھر بدلتا ہے اس کی نسل بدلتی ہے اس کا مستقبل بدلتا ہے۔ مولانا ضیاء نے کسی سے پوچھا نہیں “یہ ممکن ہے یا نہیں؟” انہوں نے صرف یہ پوچھا “کیا یہ ضروری ہے؟” اور جب جواب آیا “ہاں، یہ ضروری ہے” تو انہوں نے کام شروع کر دیا۔ آج ہمیں سوچنا ہے… کیا ہم ایسے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں؟ کیا ہم ایسے خوابوں کو سپورٹ کرتے ہیں؟ یا صرف بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں؟ اگر آپ بہارہ کہو میں ہیں تو ایک بار جا کر دیکھیں۔ بچوں کی آنکھوں میں نور دیکھیں۔ 📞 رابطہ کریں: 0334-0037157 (مولانا عبد الرحمن – معاون) 📍 مقام: دارالعلوم جامع مسجد سیدنا علی المرتضیٰ نزد سروس چوک، بہارہ کہو، اسلام آباد اگر طاقت رکھتے ہیں تو تعاون کریں۔ اگر وقت رکھتے ہیں تو وزٹ کریں۔ اگر کچھ نہیں کر سکتے تو دعا کریں۔ کیونکہ قومیں عمارتوں سے نہیں استادوں سے بنتی ہیں۔ اور استاد وہی بڑا ہے جو خاموشی سے نسلیں بنا رہا ہو۔ — ریحان اللہ والا Meet Ziaur Rehman
    0 Комментарии 0 Поделились 43 Просмотры 0