• Want to sell solar inverters with warranty ? Meet Farhan Leaser
    Want to sell solar inverters with warranty ? Meet Farhan Leaser
    0 Комментарии 0 Поделились 13 Просмотры 0
  • بہارہ کہو میں ایک تاریخی ٹور — ریحان اسکول اسلام آباد

    کیا آپ چاہتے ہیں آپ کے اسکول یا مدرسہ کی فیس کم از کم 5000 روپے ہو…
    اور بچہ اپنی فیس خود کما کر ادا کرے؟

    آج کا دن عام نہیں تھا…
    یہ صرف ایک وزٹ نہیں تھا…
    یہ دو نظریات کا ملاپ تھا۔

    آج بہارہ کہو اسلام آباد میں
    ریحان اسکول ہائی اسکول کیمپس کا ٹور ہوا۔

    مولانا ضیاء صاحب آئے۔
    وہی مولانا ضیاء…
    جو شروع دن سے اس خواب کو جانتے تھے۔
    دور سے دیکھ رہے تھے
    کہ یہ مشن سچ بنے گا یا صرف باتوں تک رہے گا۔

    جب وہ کلاس رومز میں گئے،
    بچوں کو AI کے ساتھ کام کرتے دیکھا،
    یہ سنا کہ کچھ بچے چند ماہ میں کمائی شروع کر دیتے ہیں،
    یہ سمجھا کہ 5000 روپے فیس کوئی بوجھ نہیں…
    اگر بچہ خود سسٹم سیکھ کر کما رہا ہو…

    تو ان کی آنکھوں میں حیرت نہیں…
    خوشی تھی۔

    کیونکہ وہ جانتے تھے
    تعلیم کا مقصد صرف کتاب نہیں —
    قابل بنانا ہے۔

    اور آج ایک اور خوبصورت لمحہ ہوا —
    انہوں نے اپنا Facebook اکاؤنٹ بنایا۔

    یہ صرف اکاؤنٹ نہیں تھا۔
    یہ ایک نئے دور میں قدم تھا۔

    سوچیں…

    اگر مدرسہ اور اسکول
    ایسا سسٹم اپنا لیں
    جہاں بچہ
    قرآن بھی سیکھے
    اخلاق بھی سیکھے
    اور کمائی بھی سیکھے…

    تو والدین پر بوجھ کم ہوگا یا نہیں؟
    قوم بدلے گی یا نہیں؟

    5000 روپے فیس
    مسئلہ نہیں ہے…
    مسئلہ سسٹم کا ہے۔

    اور سسٹم بدل سکتا ہے۔

    بہارہ کہو گواہ ہے —
    ایک نیا ماڈل سامنے آ رہا ہے۔

    اگر آپ بھی چاہتے ہیں
    آپ کے اسکول یا مدرسہ میں
    بچے اپنی فیس خود کما سکیں…

    تو اب وقت ہے دیکھنے کا نہیں
    سیکھنے کا۔

    — ریحان اللہ والا

    Thank you Ziaur Rehman +92 300 5334329

    Rehan School - Islamabad - Bara Khau Branch Rehanschool.net Address on google maps: https://maps.app.goo.gl/L5u3BM7CmX3eM3qH6?g_st=ic Principal Asma EducationWali +92 344 5152745 Qasim +92 308 5511534 UAN 0304-1116044

    Group for Barakhu school

    https://chat.whatsapp.com/DFnARqTmGnHFF65yvV9oxu?mode=gi_t
    بہارہ کہو میں ایک تاریخی ٹور — ریحان اسکول اسلام آباد کیا آپ چاہتے ہیں آپ کے اسکول یا مدرسہ کی فیس کم از کم 5000 روپے ہو… اور بچہ اپنی فیس خود کما کر ادا کرے؟ آج کا دن عام نہیں تھا… یہ صرف ایک وزٹ نہیں تھا… یہ دو نظریات کا ملاپ تھا۔ آج بہارہ کہو اسلام آباد میں ریحان اسکول ہائی اسکول کیمپس کا ٹور ہوا۔ مولانا ضیاء صاحب آئے۔ وہی مولانا ضیاء… جو شروع دن سے اس خواب کو جانتے تھے۔ دور سے دیکھ رہے تھے کہ یہ مشن سچ بنے گا یا صرف باتوں تک رہے گا۔ جب وہ کلاس رومز میں گئے، بچوں کو AI کے ساتھ کام کرتے دیکھا، یہ سنا کہ کچھ بچے چند ماہ میں کمائی شروع کر دیتے ہیں، یہ سمجھا کہ 5000 روپے فیس کوئی بوجھ نہیں… اگر بچہ خود سسٹم سیکھ کر کما رہا ہو… تو ان کی آنکھوں میں حیرت نہیں… خوشی تھی۔ کیونکہ وہ جانتے تھے تعلیم کا مقصد صرف کتاب نہیں — قابل بنانا ہے۔ اور آج ایک اور خوبصورت لمحہ ہوا — انہوں نے اپنا Facebook اکاؤنٹ بنایا۔ یہ صرف اکاؤنٹ نہیں تھا۔ یہ ایک نئے دور میں قدم تھا۔ سوچیں… اگر مدرسہ اور اسکول ایسا سسٹم اپنا لیں جہاں بچہ قرآن بھی سیکھے اخلاق بھی سیکھے اور کمائی بھی سیکھے… تو والدین پر بوجھ کم ہوگا یا نہیں؟ قوم بدلے گی یا نہیں؟ 5000 روپے فیس مسئلہ نہیں ہے… مسئلہ سسٹم کا ہے۔ اور سسٹم بدل سکتا ہے۔ بہارہ کہو گواہ ہے — ایک نیا ماڈل سامنے آ رہا ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں آپ کے اسکول یا مدرسہ میں بچے اپنی فیس خود کما سکیں… تو اب وقت ہے دیکھنے کا نہیں سیکھنے کا۔ — ریحان اللہ والا Thank you Ziaur Rehman +92 300 5334329 Rehan School - Islamabad - Bara Khau Branch Rehanschool.net Address on google maps: https://maps.app.goo.gl/L5u3BM7CmX3eM3qH6?g_st=ic Principal Asma EducationWali +92 344 5152745 Qasim +92 308 5511534 UAN 0304-1116044 Group for Barakhu school https://chat.whatsapp.com/DFnARqTmGnHFF65yvV9oxu?mode=gi_t
    0 Комментарии 0 Поделились 340 Просмотры 0
  • آج میں آپ کو ایک ایسے شخص کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں
    جس کے پاس نہ بڑی عمارت ہے…
    نہ بڑے بینرز…
    نہ سوشل میڈیا ٹیم…

    لیکن اس کے پاس ایک چیز ہے — نیت۔

    اور نیت جب صاف ہو…
    تو اللہ خود راستے کھول دیتا ہے۔

    میں بات کر رہا ہوں
    مولانا ضیاء صاحب کی۔

    بہارہ کہو کی گلیوں میں بیٹھ کر
    انہوں نے ایک خواب دیکھا…

    “یہ بچے جو موبائل اور سڑکوں کے درمیان بڑے ہو رہے ہیں
    ان کو قرآن سے جوڑنا ہے۔”

    انہوں نے انتظار نہیں کیا
    کہ کوئی حکومت آئے
    کوئی فنڈ آئے
    کوئی بڑی NGO آئے

    انہوں نے خود شروع کیا۔

    ایک مکتب…
    چند بچے…
    اور ایک عزم۔

    آج
    مکتب تعلیم القرآن ٹرسٹ
    دارالعلوم جامع مسجد سیدنا علی المرتضیٰ
    سینکڑوں بچوں کو
    قرآن، آداب، اخلاق اور دین کی بنیاد دے رہا ہے۔

    آپ کو شاید یہ عام لگے۔

    لیکن یاد رکھیں —
    جب ایک بچہ قرآن سیکھتا ہے
    تو صرف وہ نہیں بدلتا
    اس کا گھر بدلتا ہے
    اس کی نسل بدلتی ہے
    اس کا مستقبل بدلتا ہے۔

    مولانا ضیاء نے
    کسی سے پوچھا نہیں
    “یہ ممکن ہے یا نہیں؟”

    انہوں نے صرف یہ پوچھا
    “کیا یہ ضروری ہے؟”

    اور جب جواب آیا
    “ہاں، یہ ضروری ہے”
    تو انہوں نے کام شروع کر دیا۔

    آج ہمیں سوچنا ہے…

    کیا ہم ایسے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں؟
    کیا ہم ایسے خوابوں کو سپورٹ کرتے ہیں؟
    یا صرف بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں؟

    اگر آپ بہارہ کہو میں ہیں
    تو ایک بار جا کر دیکھیں۔
    بچوں کی آنکھوں میں نور دیکھیں۔

    رابطہ کریں:
    0334-0037157
    (مولانا عبد الرحمن – معاون)

    مقام:
    دارالعلوم جامع مسجد سیدنا علی المرتضیٰ
    نزد سروس چوک، بہارہ کہو، اسلام آباد

    اگر طاقت رکھتے ہیں تو تعاون کریں۔
    اگر وقت رکھتے ہیں تو وزٹ کریں۔
    اگر کچھ نہیں کر سکتے تو دعا کریں۔

    کیونکہ
    قومیں عمارتوں سے نہیں
    استادوں سے بنتی ہیں۔

    اور استاد وہی بڑا ہے
    جو خاموشی سے نسلیں بنا رہا ہو۔

    — ریحان اللہ والا

    Meet Ziaur Rehman
    آج میں آپ کو ایک ایسے شخص کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جس کے پاس نہ بڑی عمارت ہے… نہ بڑے بینرز… نہ سوشل میڈیا ٹیم… لیکن اس کے پاس ایک چیز ہے — نیت۔ اور نیت جب صاف ہو… تو اللہ خود راستے کھول دیتا ہے۔ میں بات کر رہا ہوں مولانا ضیاء صاحب کی۔ بہارہ کہو کی گلیوں میں بیٹھ کر انہوں نے ایک خواب دیکھا… “یہ بچے جو موبائل اور سڑکوں کے درمیان بڑے ہو رہے ہیں ان کو قرآن سے جوڑنا ہے۔” انہوں نے انتظار نہیں کیا کہ کوئی حکومت آئے کوئی فنڈ آئے کوئی بڑی NGO آئے انہوں نے خود شروع کیا۔ ایک مکتب… چند بچے… اور ایک عزم۔ آج مکتب تعلیم القرآن ٹرسٹ دارالعلوم جامع مسجد سیدنا علی المرتضیٰ سینکڑوں بچوں کو قرآن، آداب، اخلاق اور دین کی بنیاد دے رہا ہے۔ آپ کو شاید یہ عام لگے۔ لیکن یاد رکھیں — جب ایک بچہ قرآن سیکھتا ہے تو صرف وہ نہیں بدلتا اس کا گھر بدلتا ہے اس کی نسل بدلتی ہے اس کا مستقبل بدلتا ہے۔ مولانا ضیاء نے کسی سے پوچھا نہیں “یہ ممکن ہے یا نہیں؟” انہوں نے صرف یہ پوچھا “کیا یہ ضروری ہے؟” اور جب جواب آیا “ہاں، یہ ضروری ہے” تو انہوں نے کام شروع کر دیا۔ آج ہمیں سوچنا ہے… کیا ہم ایسے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں؟ کیا ہم ایسے خوابوں کو سپورٹ کرتے ہیں؟ یا صرف بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں؟ اگر آپ بہارہ کہو میں ہیں تو ایک بار جا کر دیکھیں۔ بچوں کی آنکھوں میں نور دیکھیں۔ 📞 رابطہ کریں: 0334-0037157 (مولانا عبد الرحمن – معاون) 📍 مقام: دارالعلوم جامع مسجد سیدنا علی المرتضیٰ نزد سروس چوک، بہارہ کہو، اسلام آباد اگر طاقت رکھتے ہیں تو تعاون کریں۔ اگر وقت رکھتے ہیں تو وزٹ کریں۔ اگر کچھ نہیں کر سکتے تو دعا کریں۔ کیونکہ قومیں عمارتوں سے نہیں استادوں سے بنتی ہیں۔ اور استاد وہی بڑا ہے جو خاموشی سے نسلیں بنا رہا ہو۔ — ریحان اللہ والا Meet Ziaur Rehman
    0 Комментарии 0 Поделились 13 Просмотры 0
  • First Rehan College student in Islamabad !

    Rehan School - Islamabad - Bara Khau Branch Rehanschool.net Address on google maps: https://maps.app.goo.gl/L5u3BM7CmX3eM3qH6?g_st=ic Principal Asma EducationWali +92 344 5152745 Qasim +92 308 5511534 UAN 0304-1116044
    First Rehan College student in Islamabad ! Rehan School - Islamabad - Bara Khau Branch Rehanschool.net Address on google maps: https://maps.app.goo.gl/L5u3BM7CmX3eM3qH6?g_st=ic Principal Asma EducationWali +92 344 5152745 Qasim +92 308 5511534 UAN 0304-1116044
    0 Комментарии 0 Поделились 15 Просмотры 0
  • وہ لیّہ سے چلے تھے…
    صرف شہر بدلنے کے لیے نہیں…
    اپنی نسل کی تقدیر بدلنے کے لیے۔

    ایک ماں نے کہا:
    “اگر مجھے اپنا گھر چھوڑنا پڑے، رشتہ دار چھوڑنے پڑیں، آرام چھوڑنا پڑے…
    لیکن میرے بچے کو وہ تعلیم ملے جو اس کو خوددار، بااعتماد اور کمائی کرنے والا بنا دے…
    تو یہ سودا مہنگا نہیں ہے۔”

    اور آج وہ خاندان اسلام آباد میں ہے۔
    ریحان اسکول کے ساتھ۔
    ایک خواب کے ساتھ۔

    یہ صرف ایڈمیشن نہیں۔
    یہ ہجرت ہے۔
    جہالت سے علم کی طرف۔
    ڈگری سے صلاحیت کی طرف۔
    رٹا سسٹم سے AI سسٹم کی طرف۔

    لوگ پوچھتے ہیں:
    “اتنا بڑا قدم کیوں؟”

    کیونکہ وہ جانتے ہیں —
    آج کا بچہ اگر AI نہیں سیکھے گا
    تو کل وہ صرف نوکری ڈھونڈے گا۔

    اور اگر سیکھ لے گا؟
    تو وہ نوکری دے گا۔

    لیّہ سے اسلام آباد تک کا سفر
    کل ان کے بچوں کو پاکستان سے دنیا تک لے جائے گا۔

    ایسے والدین کو سلام۔
    جو صرف باتیں نہیں کرتے…
    فیصلہ کرتے ہیں۔

    اگر آپ بھی اپنے بچے کے لیے بڑا خواب دیکھتے ہیں
    تو صرف پوسٹ شیئر نہ کریں —
    فیصلہ کریں۔

    ریحان اسکول اسلام آباد
    rehanschool.com

    تقدیر بدلنے والے لوگ
    کبھی آرام سے نہیں بیٹھتے۔
    وہ لیّہ سے چلے تھے… صرف شہر بدلنے کے لیے نہیں… اپنی نسل کی تقدیر بدلنے کے لیے۔ ایک ماں نے کہا: “اگر مجھے اپنا گھر چھوڑنا پڑے، رشتہ دار چھوڑنے پڑیں، آرام چھوڑنا پڑے… لیکن میرے بچے کو وہ تعلیم ملے جو اس کو خوددار، بااعتماد اور کمائی کرنے والا بنا دے… تو یہ سودا مہنگا نہیں ہے۔” اور آج وہ خاندان اسلام آباد میں ہے۔ ریحان اسکول کے ساتھ۔ ایک خواب کے ساتھ۔ یہ صرف ایڈمیشن نہیں۔ یہ ہجرت ہے۔ جہالت سے علم کی طرف۔ ڈگری سے صلاحیت کی طرف۔ رٹا سسٹم سے AI سسٹم کی طرف۔ لوگ پوچھتے ہیں: “اتنا بڑا قدم کیوں؟” کیونکہ وہ جانتے ہیں — آج کا بچہ اگر AI نہیں سیکھے گا تو کل وہ صرف نوکری ڈھونڈے گا۔ اور اگر سیکھ لے گا؟ تو وہ نوکری دے گا۔ لیّہ سے اسلام آباد تک کا سفر کل ان کے بچوں کو پاکستان سے دنیا تک لے جائے گا۔ ایسے والدین کو سلام۔ جو صرف باتیں نہیں کرتے… فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر آپ بھی اپنے بچے کے لیے بڑا خواب دیکھتے ہیں تو صرف پوسٹ شیئر نہ کریں — فیصلہ کریں۔ 📍 ریحان اسکول اسلام آباد 🌐 rehanschool.com تقدیر بدلنے والے لوگ کبھی آرام سے نہیں بیٹھتے۔
    0 Комментарии 0 Поделились 13 Просмотры 0
  • کیا راولپنڈی کیمپس ریحان اسکول بند ہو گیا ہے؟

    والدین میٹ اپ میں مجھ سے سیدھا سوال پوچھا گیا۔
    اور میں نے سیدھا جواب دیا۔

    ہم نے ایک چلتا ہوا یتیم اسکول سنبھالا تھا۔
    ایک غریب علاقے میں۔

    کیوں؟

    کیونکہ ہمارا مشن صرف فیس لینے والے بچوں تک محدود نہیں۔
    ہم وہاں جانا چاہتے ہیں
    جہاں سسٹم نہیں جاتا۔

    ہم نے کہا:
    ہم اس یتیم اسکول کو AI، انٹرنیٹ، لیڈرشپ اور کمائی کی سوچ دیں گے۔
    ہم اسے بااختیار بنائیں گے۔

    لیکن…

    ہمیں دھوکہ دیا گیا۔

    اور ایک دن پتا چلا —
    طلبہ غائب۔

    جی ہاں۔
    بچے غائب۔

    یہ ہمارے لیے صرف مالی نقصان نہیں تھا۔
    یہ جذباتی دھچکا تھا۔

    تو کیا راولپنڈی کیمپس بند ہو گیا؟

    نہیں۔

    مشن بند نہیں ہوتا۔
    ماڈل بدلتا ہے۔

    ہم نے فیصلہ کیا:
    ہم صرف وہاں کام کریں گے
    جہاں سسٹم شفاف ہو۔
    جہاں والدین ذمہ دار ہوں۔
    جہاں ٹیم جواب دہ ہو۔

    ہم ہار کر نہیں بیٹھے۔
    ہم نے سبق سیکھا۔

    اور جو لوگ سمجھتے ہیں کہ
    ایک دھوکے سے خواب ختم ہو جاتے ہیں —

    انہیں معلوم ہونا چاہیے:
    ہم اسکول نہیں بنا رہے۔
    ہم ایک نیا تعلیمی نظام بنا رہے ہیں۔

    اور نظام دھوکے سے نہیں رکتا۔
    وہ مضبوط ہوتا ہے۔

    اگر آپ ہمارے ساتھ ہیں
    تو سوال پوچھیں۔
    تحقیق کریں۔
    آئیں، دیکھیں۔

    لیکن افواہوں پر یقین نہ کریں۔

    rehanschool.com

    سچ کبھی کمزور نہیں ہوتا۔
    وہ صرف وقتی طور پر خاموش ہوتا ہے۔
    ❓ کیا راولپنڈی کیمپس ریحان اسکول بند ہو گیا ہے؟ والدین میٹ اپ میں مجھ سے سیدھا سوال پوچھا گیا۔ اور میں نے سیدھا جواب دیا۔ ہم نے ایک چلتا ہوا یتیم اسکول سنبھالا تھا۔ ایک غریب علاقے میں۔ کیوں؟ کیونکہ ہمارا مشن صرف فیس لینے والے بچوں تک محدود نہیں۔ ہم وہاں جانا چاہتے ہیں جہاں سسٹم نہیں جاتا۔ ہم نے کہا: ہم اس یتیم اسکول کو AI، انٹرنیٹ، لیڈرشپ اور کمائی کی سوچ دیں گے۔ ہم اسے بااختیار بنائیں گے۔ لیکن… ہمیں دھوکہ دیا گیا۔ اور ایک دن پتا چلا — طلبہ غائب۔ جی ہاں۔ بچے غائب۔ یہ ہمارے لیے صرف مالی نقصان نہیں تھا۔ یہ جذباتی دھچکا تھا۔ تو کیا راولپنڈی کیمپس بند ہو گیا؟ نہیں۔ مشن بند نہیں ہوتا۔ ماڈل بدلتا ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا: ہم صرف وہاں کام کریں گے جہاں سسٹم شفاف ہو۔ جہاں والدین ذمہ دار ہوں۔ جہاں ٹیم جواب دہ ہو۔ ہم ہار کر نہیں بیٹھے۔ ہم نے سبق سیکھا۔ اور جو لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک دھوکے سے خواب ختم ہو جاتے ہیں — انہیں معلوم ہونا چاہیے: ہم اسکول نہیں بنا رہے۔ ہم ایک نیا تعلیمی نظام بنا رہے ہیں۔ اور نظام دھوکے سے نہیں رکتا۔ وہ مضبوط ہوتا ہے۔ اگر آپ ہمارے ساتھ ہیں تو سوال پوچھیں۔ تحقیق کریں۔ آئیں، دیکھیں۔ لیکن افواہوں پر یقین نہ کریں۔ 🌐 rehanschool.com سچ کبھی کمزور نہیں ہوتا۔ وہ صرف وقتی طور پر خاموش ہوتا ہے۔
    0 Комментарии 0 Поделились 28 Просмотры 0
  • How I have trained 2200 plus humans in my life in my companies !
    How I have trained 2200 plus humans in my life in my companies !
    0 Комментарии 0 Поделились 13 Просмотры 0
  • Father of Mehtab AmanWala explaining his sons journey
    Father of Mehtab AmanWala explaining his sons journey
    0 Комментарии 0 Поделились 13 Просмотры 0
  • Beautiful talk form zero to hero by Umair Jaliawala where he explained about his new farming and sustainable food project
    Beautiful talk form zero to hero by Umair Jaliawala where he explained about his new farming and sustainable food project
    0 Комментарии 0 Поделились 13 Просмотры 0
  • دو پی ایچ ڈی ڈاکٹرز…
    جی ہاں… پی ایچ ڈی۔

    جنہوں نے ساری زندگی کتابوں میں گزار دی…
    ڈگریاں لیں…
    تحقیق کی…
    سسٹم کو اندر سے دیکھا…

    اور پھر ایک دن انہوں نے ایک فیصلہ کیا۔

    انہوں نے اپنی بیٹی کو
    Army Public School
    سے نکال لیا۔

    کیوں؟

    کیا وہاں عمارت نہیں تھی؟
    کیا وہاں یونیفارم نہیں تھی؟
    کیا وہاں ڈسپلن نہیں تھا؟

    سب تھا۔

    لیکن ایک چیز نہیں تھی…
    مستقبل۔

    انہوں نے کہا:
    “ہم نے ڈگریاں لے لیں…
    لیکن ہم نہیں چاہتے کہ ہماری بیٹی صرف ڈگری لے۔
    ہم چاہتے ہیں وہ سیکھے… کمائے… سوچے… لیڈ کرے۔”

    آج ان کی بیٹی راولپنڈی سے
    آن لائن پڑھ رہی ہے
    ریحان اسکول کے ساتھ۔

    نہ روزانہ بس کا خرچہ۔
    نہ صبح کی لائنیں۔
    نہ رٹا۔

    صرف:
    AI
    انٹرنیٹ
    کمیونیکیشن
    کانفیڈنس
    اور کمائی کی سوچ۔

    سوچیں…
    جب پی ایچ ڈی ڈاکٹرز خود سسٹم پر سوال اٹھا دیں…
    تو عام والدین کو کتنی دیر لگنی چاہیے؟

    یہ کسی اسکول کے خلاف نہیں۔
    یہ وقت کے حق میں فیصلہ ہے۔

    کل یہی بچی
    صرف امتحان پاس نہیں کرے گی —
    وہ اپنے اخراجات خود اٹھانے کے قابل ہوگی۔

    اور یہی فرق ہے۔

    ڈگری یا ڈائریکشن؟
    رٹا یا ریونیو؟
    یونیفارم یا یونیورس؟

    فیصلہ آپ کا ہے۔

    rehanschool.com

    اگر آپ مستقبل دیکھ سکتے ہیں
    تو صرف تالیاں نہ بجائیں…
    اقدام کریں۔

    Thank you Zainab CodingWali
    دو پی ایچ ڈی ڈاکٹرز… جی ہاں… پی ایچ ڈی۔ جنہوں نے ساری زندگی کتابوں میں گزار دی… ڈگریاں لیں… تحقیق کی… سسٹم کو اندر سے دیکھا… اور پھر ایک دن انہوں نے ایک فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنی بیٹی کو Army Public School سے نکال لیا۔ کیوں؟ کیا وہاں عمارت نہیں تھی؟ کیا وہاں یونیفارم نہیں تھی؟ کیا وہاں ڈسپلن نہیں تھا؟ سب تھا۔ لیکن ایک چیز نہیں تھی… مستقبل۔ انہوں نے کہا: “ہم نے ڈگریاں لے لیں… لیکن ہم نہیں چاہتے کہ ہماری بیٹی صرف ڈگری لے۔ ہم چاہتے ہیں وہ سیکھے… کمائے… سوچے… لیڈ کرے۔” آج ان کی بیٹی راولپنڈی سے آن لائن پڑھ رہی ہے ریحان اسکول کے ساتھ۔ نہ روزانہ بس کا خرچہ۔ نہ صبح کی لائنیں۔ نہ رٹا۔ صرف: AI انٹرنیٹ کمیونیکیشن کانفیڈنس اور کمائی کی سوچ۔ سوچیں… جب پی ایچ ڈی ڈاکٹرز خود سسٹم پر سوال اٹھا دیں… تو عام والدین کو کتنی دیر لگنی چاہیے؟ یہ کسی اسکول کے خلاف نہیں۔ یہ وقت کے حق میں فیصلہ ہے۔ کل یہی بچی صرف امتحان پاس نہیں کرے گی — وہ اپنے اخراجات خود اٹھانے کے قابل ہوگی۔ اور یہی فرق ہے۔ ڈگری یا ڈائریکشن؟ رٹا یا ریونیو؟ یونیفارم یا یونیورس؟ فیصلہ آپ کا ہے۔ 🌐 rehanschool.com اگر آپ مستقبل دیکھ سکتے ہیں تو صرف تالیاں نہ بجائیں… اقدام کریں۔ Thank you Zainab CodingWali
    0 Комментарии 0 Поделились 203 Просмотры 0