• 0 Comments 0 Shares 15 Views
  • 0 Comments 0 Shares 15 Views
  • آج لیاری ندی کے کنارے سے گزرتے ہوئے ایک خیال بار بار ذہن میں آیا۔

    اتنی چوڑی ندی…
    مگر زیادہ تر سال خشک۔

    اور پھر میں نے خود سے سوال کیا…

    کیا ہم ہر سال بارشوں اور سیلاب کا اربوں گیلن پانی سیدھا سمندر میں بہا دیتے ہیں، جبکہ کراچی پانی کی شدید قلت کا شکار ہے؟

    جب بھی میں یورپ جاتا ہوں، چھوٹے چھوٹے شہروں میں بھی ایسے ڈیم اور آبی ذخائر دیکھتا ہوں جو بارش کا پانی محفوظ کرتے ہیں۔

    تو کیا لیاری ندی کے کسی حصے کو ایک بڑے موسمی آبی ذخیرے (Reservoir) میں تبدیل کیا جا سکتا ہے؟

    * بارش کا پانی محفوظ ہو۔
    * کراچی کو پینے اور دیگر ضروریات کے لیے اضافی پانی ملے۔
    * زیرِ زمین پانی دوبارہ ری چارج ہو۔
    * اور اگر بڑا سیلاب آئے تو جدید اسپِل ویز اور گیٹس کے ذریعے اضافی پانی محفوظ طریقے سے سمندر کی طرف چھوڑ دیا جائے۔

    میں انجینئر نہیں ہوں، اس لیے یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ یہی حل ہے۔

    میں صرف ایک سوال پوچھ رہا ہوں: کیا یہ ممکن ہے؟

    اگر کوئی ہائیڈرولوجسٹ، سول انجینئر، ڈیم ایکسپرٹ، اربن پلانر یا متعلقہ سرکاری ادارے کا فرد یہ پوسٹ دیکھ رہا ہے تو براہِ کرم اپنی رائے ضرور دیں۔

    ہو سکتا ہے ایک سوال، کراچی کے پانی کے مستقبل کی نئی سمت بن جائے۔

    اگر آپ کسی ماہر یا متعلقہ ادارے کو جانتے ہیں تو یہ پوسسٹ اُن تک ضرور پہنچائیں۔
    آج لیاری ندی کے کنارے سے گزرتے ہوئے ایک خیال بار بار ذہن میں آیا۔ اتنی چوڑی ندی… مگر زیادہ تر سال خشک۔ اور پھر میں نے خود سے سوال کیا… کیا ہم ہر سال بارشوں اور سیلاب کا اربوں گیلن پانی سیدھا سمندر میں بہا دیتے ہیں، جبکہ کراچی پانی کی شدید قلت کا شکار ہے؟ جب بھی میں یورپ جاتا ہوں، چھوٹے چھوٹے شہروں میں بھی ایسے ڈیم اور آبی ذخائر دیکھتا ہوں جو بارش کا پانی محفوظ کرتے ہیں۔ تو کیا لیاری ندی کے کسی حصے کو ایک بڑے موسمی آبی ذخیرے (Reservoir) میں تبدیل کیا جا سکتا ہے؟ * بارش کا پانی محفوظ ہو۔ * کراچی کو پینے اور دیگر ضروریات کے لیے اضافی پانی ملے۔ * زیرِ زمین پانی دوبارہ ری چارج ہو۔ * اور اگر بڑا سیلاب آئے تو جدید اسپِل ویز اور گیٹس کے ذریعے اضافی پانی محفوظ طریقے سے سمندر کی طرف چھوڑ دیا جائے۔ میں انجینئر نہیں ہوں، اس لیے یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ یہی حل ہے۔ میں صرف ایک سوال پوچھ رہا ہوں: کیا یہ ممکن ہے؟ اگر کوئی ہائیڈرولوجسٹ، سول انجینئر، ڈیم ایکسپرٹ، اربن پلانر یا متعلقہ سرکاری ادارے کا فرد یہ پوسٹ دیکھ رہا ہے تو براہِ کرم اپنی رائے ضرور دیں۔ ہو سکتا ہے ایک سوال، کراچی کے پانی کے مستقبل کی نئی سمت بن جائے۔ اگر آپ کسی ماہر یا متعلقہ ادارے کو جانتے ہیں تو یہ پوسسٹ اُن تک ضرور پہنچائیں۔
    0 Comments 0 Shares 15 Views
  • آج شہیدِ بھٹو ایکسپریس وے پر سفر کرتے ہوئے، دریائے ملیر کے ساتھ ساتھ کئی میل تک خشک دریا دیکھتا رہا۔

    اور پھر ایک سوال نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا…

    کیا ہم ہر سال آنے والا بارشوں اور سیلاب کا کروڑوں گیلن پانی سمندر میں ضائع کر دیتے ہیں، جبکہ کراچی پانی کے لیے ترس رہا ہے؟

    یورپ کے چھوٹے چھوٹے شہروں میں بھی میں نے ایسے ڈیم اور آبی ذخائر دیکھے ہیں جو بارش کا پانی محفوظ کرتے ہیں۔

    تو کیا دریائے ملیر کے کسی حصے کو ایک بڑے موسمی آبی ذخیرے (Reservoir) میں تبدیل کیا جا سکتا ہے؟

    بارش کا پانی محفوظ ہو۔
    کراچی کو پانی ملے۔
    اور اگر بڑا سیلاب آئے تو جدید نظام کے ذریعے اضافی پانی محفوظ طریقے سے چھوڑ دیا جائے۔

    میں انجینئر نہیں ہوں، اس لیے یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ یہی حل ہے۔

    میں صرف یہ سوال پوچھ رہا ہوں: کیا یہ ممکن ہے؟

    اگر آپ کسی ہائیڈرولوجسٹ، سول انجینئر، ڈیم ایکسپرٹ، اربن پلانر یا سرکاری ادارے کے ذمہ دار کو جانتے ہیں تو براہِ کرم یہ پوسٹ اُن تک پہنچائیں۔

    ہو سکتا ہے ایک سوال، کراچی کا مستقبل بدل دے۔
    آج شہیدِ بھٹو ایکسپریس وے پر سفر کرتے ہوئے، دریائے ملیر کے ساتھ ساتھ کئی میل تک خشک دریا دیکھتا رہا۔ اور پھر ایک سوال نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا… کیا ہم ہر سال آنے والا بارشوں اور سیلاب کا کروڑوں گیلن پانی سمندر میں ضائع کر دیتے ہیں، جبکہ کراچی پانی کے لیے ترس رہا ہے؟ یورپ کے چھوٹے چھوٹے شہروں میں بھی میں نے ایسے ڈیم اور آبی ذخائر دیکھے ہیں جو بارش کا پانی محفوظ کرتے ہیں۔ تو کیا دریائے ملیر کے کسی حصے کو ایک بڑے موسمی آبی ذخیرے (Reservoir) میں تبدیل کیا جا سکتا ہے؟ بارش کا پانی محفوظ ہو۔ کراچی کو پانی ملے۔ اور اگر بڑا سیلاب آئے تو جدید نظام کے ذریعے اضافی پانی محفوظ طریقے سے چھوڑ دیا جائے۔ میں انجینئر نہیں ہوں، اس لیے یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ یہی حل ہے۔ میں صرف یہ سوال پوچھ رہا ہوں: کیا یہ ممکن ہے؟ اگر آپ کسی ہائیڈرولوجسٹ، سول انجینئر، ڈیم ایکسپرٹ، اربن پلانر یا سرکاری ادارے کے ذمہ دار کو جانتے ہیں تو براہِ کرم یہ پوسٹ اُن تک پہنچائیں۔ ہو سکتا ہے ایک سوال، کراچی کا مستقبل بدل دے۔
    0 Comments 0 Shares 15 Views
  • ذیل میں اسی مضمون کا جذباتی مگر حقائق پر مبنی اردو ورژن ہے، جو فیس بک وال پر شیئر کرنے کے لیے موزوں ہے۔

    پاکستان کا آخری ادھورا راستہ

    ذرا تصور کیجیے…

    کراچی بندرگاہ سے ایک ٹرک روانہ ہوتا ہے۔

    اس میں فیصل آباد کے کپڑے ہیں، سیالکوٹ کے سرجیکل آلات ہیں، سندھ کا چاول ہے، پنجاب کی صنعت کی مصنوعات ہیں، اور وہ سامان جو دنیا کے مختلف ممالک کو جانا ہے۔

    ٹرک کراچی سے حیدرآباد تک جدید موٹروے پر تیزی اور حفاظت کے ساتھ سفر کرتا ہے۔

    پھر اچانک…

    موٹروے ختم ہو جاتی ہے۔

    اس کے بعد اسے پرانی نیشنل ہائی وے (N-5) پر آنا پڑتا ہے، جہاں ٹریفک، سگنل، آبادی، آہستہ چلنے والی گاڑیاں اور حادثات کا خطرہ اس کا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔

    سکھر پہنچ کر وہ دوبارہ موٹروے پر آ جاتا ہے، جو ملتان، لاہور، اسلام آباد اور پشاور تک مسلسل جاری رہتی ہے۔

    آج پاکستان نے ہزاروں کلومیٹر موٹرویز تعمیر کر لی ہیں۔

    صرف ایک بڑا خلا باقی ہے۔

    حیدرآباد سے سکھر تک 306 کلومیٹر طویل M-6 موٹروے۔

    یہ صرف سندھ کا منصوبہ نہیں۔

    یہ پورے پاکستان کا منصوبہ ہے۔

    کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے۔ ملک کی زیادہ تر درآمدات اور برآمدات اسی شہر کی بندرگاہوں سے ہوتی ہیں۔ جب یہی راستہ سست، غیر محفوظ اور ادھورا ہو تو اس کی قیمت صرف سندھ نہیں بلکہ پورا پاکستان ادا کرتا ہے۔

    ہر اضافی گھنٹہ جو ایک ٹرک پرانی شاہراہ پر گزارتا ہے، اس کا مطلب ہے:

    * ایندھن زیادہ خرچ ہونا۔
    * سامان مہنگا ہونا۔
    * حادثات کا زیادہ خطرہ۔
    * کسان کی پیداوار دیر سے پہنچنا۔
    * صنعت کی لاگت بڑھ جانا۔
    * برآمدات مہنگی ہو جانا۔

    M-6 موٹروے صرف ایک سڑک نہیں۔

    یہ پاکستان کی معیشت، تجارت، روزگار اور قومی رابطے کی آخری کڑی ہے۔

    اس کے مکمل ہونے سے کراچی سے پشاور تک ایک مسلسل موٹروے بن جائے گی، جس کا فائدہ سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت پورے پاکستان کو ہوگا۔

    ہم عام شہری کیا کر سکتے ہیں؟

    ہمیں احتجاج سے پہلے شعور پیدا کرنا ہوگا۔

    ہمیں سیاست سے پہلے حقائق کی بات کرنی ہوگی۔

    ہمیں صرف ایک مطالبہ کرنا چاہیے:

    “ہمیں وعدے نہیں، پیش رفت دکھائیں۔”

    ہم اپنے منتخب نمائندوں سے یہ سوال پوچھ سکتے ہیں:

    * زمین کے حصول کا کتنا کام مکمل ہو چکا ہے؟
    * فنڈنگ مکمل ہوئی یا نہیں؟
    * کن کمپنیوں کو کنٹریکٹ دیا گیا؟
    * ہر حصے کی تعمیر کب شروع ہوگی؟
    * ہر تین ماہ بعد عوام کو پیش رفت کی رپورٹ کیوں نہ دی جائے؟

    ہم وفاقی اور متعلقہ اداروں سے معلومات مانگ سکتے ہیں، صنعتکاروں، ٹرانسپورٹرز، جامعات اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر اس منصوبے کی نگرانی کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔

    یہ کسی ایک جماعت، ایک حکومت یا ایک صوبے کا مسئلہ نہیں۔

    یہ پاکستان کی ترقی کا مسئلہ ہے۔

    ایک دن ایسا آئے گا جب ایک بچہ کراچی سے پشاور تک مسلسل موٹروے پر سفر کرے گا، اور اسے شاید یہ بھی معلوم نہ ہو کہ کبھی پاکستان کی اس شاہراہ میں 306 کلومیٹر کا ایک خلا ہوا کرتا تھا۔

    آئیے، ہم سب مل کر صرف ایک بات کریں۔

    “پاکستان کا آخری موٹروے لنک مکمل کریں۔”

    کیونکہ مضبوط سڑکیں صرف شہروں کو نہیں، قوموں کو بھی جوڑتی ہیں۔
    ذیل میں اسی مضمون کا جذباتی مگر حقائق پر مبنی اردو ورژن ہے، جو فیس بک وال پر شیئر کرنے کے لیے موزوں ہے۔ پاکستان کا آخری ادھورا راستہ ذرا تصور کیجیے… کراچی بندرگاہ سے ایک ٹرک روانہ ہوتا ہے۔ اس میں فیصل آباد کے کپڑے ہیں، سیالکوٹ کے سرجیکل آلات ہیں، سندھ کا چاول ہے، پنجاب کی صنعت کی مصنوعات ہیں، اور وہ سامان جو دنیا کے مختلف ممالک کو جانا ہے۔ ٹرک کراچی سے حیدرآباد تک جدید موٹروے پر تیزی اور حفاظت کے ساتھ سفر کرتا ہے۔ پھر اچانک… موٹروے ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اسے پرانی نیشنل ہائی وے (N-5) پر آنا پڑتا ہے، جہاں ٹریفک، سگنل، آبادی، آہستہ چلنے والی گاڑیاں اور حادثات کا خطرہ اس کا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔ سکھر پہنچ کر وہ دوبارہ موٹروے پر آ جاتا ہے، جو ملتان، لاہور، اسلام آباد اور پشاور تک مسلسل جاری رہتی ہے۔ آج پاکستان نے ہزاروں کلومیٹر موٹرویز تعمیر کر لی ہیں۔ صرف ایک بڑا خلا باقی ہے۔ حیدرآباد سے سکھر تک 306 کلومیٹر طویل M-6 موٹروے۔ یہ صرف سندھ کا منصوبہ نہیں۔ یہ پورے پاکستان کا منصوبہ ہے۔ کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے۔ ملک کی زیادہ تر درآمدات اور برآمدات اسی شہر کی بندرگاہوں سے ہوتی ہیں۔ جب یہی راستہ سست، غیر محفوظ اور ادھورا ہو تو اس کی قیمت صرف سندھ نہیں بلکہ پورا پاکستان ادا کرتا ہے۔ ہر اضافی گھنٹہ جو ایک ٹرک پرانی شاہراہ پر گزارتا ہے، اس کا مطلب ہے: * ایندھن زیادہ خرچ ہونا۔ * سامان مہنگا ہونا۔ * حادثات کا زیادہ خطرہ۔ * کسان کی پیداوار دیر سے پہنچنا۔ * صنعت کی لاگت بڑھ جانا۔ * برآمدات مہنگی ہو جانا۔ M-6 موٹروے صرف ایک سڑک نہیں۔ یہ پاکستان کی معیشت، تجارت، روزگار اور قومی رابطے کی آخری کڑی ہے۔ اس کے مکمل ہونے سے کراچی سے پشاور تک ایک مسلسل موٹروے بن جائے گی، جس کا فائدہ سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت پورے پاکستان کو ہوگا۔ ہم عام شہری کیا کر سکتے ہیں؟ ہمیں احتجاج سے پہلے شعور پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں سیاست سے پہلے حقائق کی بات کرنی ہوگی۔ ہمیں صرف ایک مطالبہ کرنا چاہیے: “ہمیں وعدے نہیں، پیش رفت دکھائیں۔” ہم اپنے منتخب نمائندوں سے یہ سوال پوچھ سکتے ہیں: * زمین کے حصول کا کتنا کام مکمل ہو چکا ہے؟ * فنڈنگ مکمل ہوئی یا نہیں؟ * کن کمپنیوں کو کنٹریکٹ دیا گیا؟ * ہر حصے کی تعمیر کب شروع ہوگی؟ * ہر تین ماہ بعد عوام کو پیش رفت کی رپورٹ کیوں نہ دی جائے؟ ہم وفاقی اور متعلقہ اداروں سے معلومات مانگ سکتے ہیں، صنعتکاروں، ٹرانسپورٹرز، جامعات اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر اس منصوبے کی نگرانی کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ یہ کسی ایک جماعت، ایک حکومت یا ایک صوبے کا مسئلہ نہیں۔ یہ پاکستان کی ترقی کا مسئلہ ہے۔ ایک دن ایسا آئے گا جب ایک بچہ کراچی سے پشاور تک مسلسل موٹروے پر سفر کرے گا، اور اسے شاید یہ بھی معلوم نہ ہو کہ کبھی پاکستان کی اس شاہراہ میں 306 کلومیٹر کا ایک خلا ہوا کرتا تھا۔ آئیے، ہم سب مل کر صرف ایک بات کریں۔ “پاکستان کا آخری موٹروے لنک مکمل کریں۔” کیونکہ مضبوط سڑکیں صرف شہروں کو نہیں، قوموں کو بھی جوڑتی ہیں۔
    0 Comments 0 Shares 242 Views
  • Monday June 29, 2026

    Hello Mirpurkhas area educators ! Great opportunity to meet and understand what kind of education system rehan school is building
    Monday June 29, 2026 Hello Mirpurkhas area educators ! Great opportunity to meet and understand what kind of education system rehan school is building
    0 Comments 0 Shares 74 Views
  • 0 Comments 0 Shares 15 Views
  • 0 Comments 0 Shares 15 Views
  • 0 Comments 0 Shares 15 Views
  • 0 Comments 0 Shares 15 Views