• 0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • 0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • 0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • 0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • 0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • 0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • 0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • 0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • آج میری ملاقات حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے مزار پر ایک 40 سالہ کسان سے ہوئی۔

    ان کی ایک بیوی اور دو بچے ہیں، اور وہ صرف 10,000 روپے ماہانہ کماتے ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ اپنی کچھ خوراک خود بھی اُگا لیتے ہوں، لیکن پھر بھی میرے لیے یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ کوئی انسان صرف 10,000 روپے میں اپنی زندگی کیسے گزارتا ہوگا۔

    ان سے بات کرتے ہوئے میرے ذہن میں ایک ہی سوال بار بار آتا رہا:

    جو شخص صبح سے شام تک صرف اپنے گھر کا چولہا جلانے کی فکر میں لگا ہو، اُسے نئی مہارتیں سیکھنے کا وقت اور موقع آخر کہاں سے ملے؟

    میں کچھ لمحے خاموش رہا، دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کو یاد کیا، اور سوچا کہ شاید اسی لیے اللہ نے ہم میں سے کچھ لوگوں کو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔

    اسی لیے میرا ایک خواب ہے۔

    ریحان ایجوکیشن سٹی، ٹھٹہ میں قائم ہمارے فارم پر میں ایسے ہی محنتی لوگوں کو روزگار دینا چاہتا ہوں۔ صرف نوکری دینا نہیں، بلکہ ان کے ساتھ مل کر ان کی زندگی بدلنا چاہتا ہوں۔

    وہ ہمارے ساتھ کام بھی کریں، اور ساتھ ساتھ نئی مہارتیں، جدید زراعت، اے آئی اور دیگر ضروری صلاحیتیں بھی سیکھیں، تاکہ چند سالوں میں ان کی ماہانہ آمدنی 10,000 روپے سے بڑھ کر 50,000 سے 200,000 روپے تک پہنچ سکے۔

    اگر آپ ٹھٹہ یا آس پاس کے علاقوں میں کسی ایسے محنتی، دیانت دار اور ضرورت مند شخص کو جانتے ہیں جو کام کرنا چاہتا ہو، تو براہِ کرم اسے مجھ سے ملوائیں۔

    اگر ہم ایک خاندان کی زندگی بدل دیں، تو وہی ایک خاندان آنے والی نسلوں کی تقدیر بھی بدل سکتا ہے۔
    آج میری ملاقات حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے مزار پر ایک 40 سالہ کسان سے ہوئی۔ ان کی ایک بیوی اور دو بچے ہیں، اور وہ صرف 10,000 روپے ماہانہ کماتے ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ اپنی کچھ خوراک خود بھی اُگا لیتے ہوں، لیکن پھر بھی میرے لیے یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ کوئی انسان صرف 10,000 روپے میں اپنی زندگی کیسے گزارتا ہوگا۔ ان سے بات کرتے ہوئے میرے ذہن میں ایک ہی سوال بار بار آتا رہا: جو شخص صبح سے شام تک صرف اپنے گھر کا چولہا جلانے کی فکر میں لگا ہو، اُسے نئی مہارتیں سیکھنے کا وقت اور موقع آخر کہاں سے ملے؟ میں کچھ لمحے خاموش رہا، دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کو یاد کیا، اور سوچا کہ شاید اسی لیے اللہ نے ہم میں سے کچھ لوگوں کو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔ اسی لیے میرا ایک خواب ہے۔ ریحان ایجوکیشن سٹی، ٹھٹہ میں قائم ہمارے فارم پر میں ایسے ہی محنتی لوگوں کو روزگار دینا چاہتا ہوں۔ صرف نوکری دینا نہیں، بلکہ ان کے ساتھ مل کر ان کی زندگی بدلنا چاہتا ہوں۔ وہ ہمارے ساتھ کام بھی کریں، اور ساتھ ساتھ نئی مہارتیں، جدید زراعت، اے آئی اور دیگر ضروری صلاحیتیں بھی سیکھیں، تاکہ چند سالوں میں ان کی ماہانہ آمدنی 10,000 روپے سے بڑھ کر 50,000 سے 200,000 روپے تک پہنچ سکے۔ اگر آپ ٹھٹہ یا آس پاس کے علاقوں میں کسی ایسے محنتی، دیانت دار اور ضرورت مند شخص کو جانتے ہیں جو کام کرنا چاہتا ہو، تو براہِ کرم اسے مجھ سے ملوائیں۔ اگر ہم ایک خاندان کی زندگی بدل دیں، تو وہی ایک خاندان آنے والی نسلوں کی تقدیر بھی بدل سکتا ہے۔
    0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • 0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views