• 0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • 0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • こんにちは、先生。
    お元気ですか?
    カラチへようこそ!
    お会いできて嬉しいです。
    パキスタンで素晴らしい時間を過ごしてください。

    (Hello Sir, how are you? Welcome to Karachi! I am happy to meet you. Please have a wonderful time in Pakistan.)

    Konnichiwa Sensei. Ogenki desu ka? Karachi e youkoso! Oai dekite ureshii desu. Pakistan de subarashii jikan wo sugoshite kudasai.

    Thank you Junsei Terasawa for coming to Pakistan
    こんにちは、先生。 お元気ですか?😊 カラチへようこそ! お会いできて嬉しいです。 パキスタンで素晴らしい時間を過ごしてください。🇵🇰✨ (Hello Sir, how are you? Welcome to Karachi! I am happy to meet you. Please have a wonderful time in Pakistan.) Konnichiwa Sensei. Ogenki desu ka? Karachi e youkoso! Oai dekite ureshii desu. Pakistan de subarashii jikan wo sugoshite kudasai. Thank you Junsei Terasawa for coming to Pakistan 🇵🇰
    0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • こんにちは、先生。
    お元気ですか?
    カラチへようこそ!
    お会いできて嬉しいです。
    パキスタンで素晴らしい時間を過ごしてください。

    (Hello Sir, how are you? Welcome to Karachi! I am happy to meet you. Please have a wonderful time in Pakistan.)

    Konnichiwa Sensei. Ogenki desu ka? Karachi e youkoso! Oai dekite ureshii desu. Pakistan de subarashii jikan wo sugoshite kudasai.

    Thank you Junsei Terasawa for coming to Pakistan and meeting me today !
    こんにちは、先生。 お元気ですか?😊 カラチへようこそ! お会いできて嬉しいです。 パキスタンで素晴らしい時間を過ごしてください。🇵🇰✨ (Hello Sir, how are you? Welcome to Karachi! I am happy to meet you. Please have a wonderful time in Pakistan.) Konnichiwa Sensei. Ogenki desu ka? Karachi e youkoso! Oai dekite ureshii desu. Pakistan de subarashii jikan wo sugoshite kudasai. Thank you Junsei Terasawa for coming to Pakistan and meeting me today ! 🇵🇰
    0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • شک کی قیمت

    کراچی کی ایک شام تھی۔

    ایک نوجوان نے اپنے دوست سے پوچھا،

    “تم روز ریحان اللہ والا کی ویڈیوز کیوں دیکھتے ہو؟”

    دوست مسکرایا اور بولا،

    “کیونکہ ہر روز کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے۔”

    پہلا نوجوان ہنس پڑا۔

    “میں تو انہیں پندرہ بیس سال سے دیکھ رہا ہوں۔ ہر روز کوئی نیا آئیڈیا، کوئی نئی بات، کوئی نیا خواب…”

    “لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس سے کچھ ہوتا ہے۔”

    دونوں خاموش ہوگئے۔

    چائے والا دو کپ چائے رکھ گیا۔

    اتنے میں ایک تیسرا شخص ان کے پاس آیا۔

    وہ کبھی ریحان اللہ والا کی ایک ورکشاپ میں شریک ہوا تھا۔

    پھر اس نے انٹرویو دینا سیکھا۔

    انگریزی بولنا سیکھی۔

    پہلا آن لائن کام کیا۔

    اپنا چھوٹا کاروبار شروع کیا۔

    آج وہ کئی لوگوں کو روزگار دے رہا تھا۔

    اس نے دونوں کو سلام کیا اور آگے بڑھ گیا۔

    پہلے نوجوان نے حیرت سے پوچھا،

    “یہ کون تھا؟”

    دوست نے جواب دیا،

    “یہ اُن لوگوں میں سے ایک ہے جنہوں نے صرف ویڈیوز نہیں دیکھیں… عمل بھی کیا۔”

    پھر وہ بولا،

    “تم جانتے ہو سب سے حیران کن بات کیا ہے؟”

    “برسوں سے ریحان اللہ والا ہر روز سکھا رہے ہیں۔ پہلے کلاس روم میں، پھر یوٹیوب پر، پھر فیس بک پر، اور اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے بھی۔”

    “سینکڑوں لوگوں نے ان کی باتوں پر عمل کیا، اپنی زندگی بدلی، اپنے کیریئر بنائے، اپنے کاروبار شروع کیے۔”

    “لیکن اس کے باوجود بہت سے لوگ آج بھی صرف ایک ہی جملہ کہتے ہیں…”

    ‘پتہ نہیں… شاید یہ کام نہ کرے۔’

    دوست نے چائے کا آخری گھونٹ لیا اور کہا،

    “عجیب بات ہے۔”

    “ہم ایک نئے موبائل پر فوراً یقین کر لیتے ہیں۔”

    “ایک نئے ریسٹورنٹ کو آزما لیتے ہیں۔”

    “ایک نئے ڈرامے پر گھنٹوں لگا دیتے ہیں۔”

    “لیکن جب کوئی برسوں سے مسلسل علم بانٹ رہا ہو، تو ہم کہتے ہیں…”

    ‘دیکھتے ہیں… کبھی بعد میں۔’

    زندگی میں ہر انسان کو دو استاد ملتے ہیں۔

    ایک علم…

    اور دوسرا وقت۔

    جو علم سے نہیں سیکھتا، وقت اسے زیادہ مہنگا سبق سکھاتا ہے۔

    اس لیے سوال یہ نہیں کہ کوئی استاد کامل ہے یا نہیں۔

    سوال یہ ہے کہ…

    کیا ہم اتنی عاجزی رکھتے ہیں کہ کسی اچھی بات پر عمل کر سکیں؟

    کیونکہ بعض اوقات کامیابی اور ناکامی کے درمیان فرق صرف صلاحیت کا نہیں ہوتا…

    فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ ایک شخص نے سیکھ کر عمل کیا، اور دوسرے نے صرف شک کیا۔
    شک کی قیمت کراچی کی ایک شام تھی۔ ایک نوجوان نے اپنے دوست سے پوچھا، “تم روز ریحان اللہ والا کی ویڈیوز کیوں دیکھتے ہو؟” دوست مسکرایا اور بولا، “کیونکہ ہر روز کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے۔” پہلا نوجوان ہنس پڑا۔ “میں تو انہیں پندرہ بیس سال سے دیکھ رہا ہوں۔ ہر روز کوئی نیا آئیڈیا، کوئی نئی بات، کوئی نیا خواب…” “لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس سے کچھ ہوتا ہے۔” دونوں خاموش ہوگئے۔ چائے والا دو کپ چائے رکھ گیا۔ اتنے میں ایک تیسرا شخص ان کے پاس آیا۔ وہ کبھی ریحان اللہ والا کی ایک ورکشاپ میں شریک ہوا تھا۔ پھر اس نے انٹرویو دینا سیکھا۔ انگریزی بولنا سیکھی۔ پہلا آن لائن کام کیا۔ اپنا چھوٹا کاروبار شروع کیا۔ آج وہ کئی لوگوں کو روزگار دے رہا تھا۔ اس نے دونوں کو سلام کیا اور آگے بڑھ گیا۔ پہلے نوجوان نے حیرت سے پوچھا، “یہ کون تھا؟” دوست نے جواب دیا، “یہ اُن لوگوں میں سے ایک ہے جنہوں نے صرف ویڈیوز نہیں دیکھیں… عمل بھی کیا۔” پھر وہ بولا، “تم جانتے ہو سب سے حیران کن بات کیا ہے؟” “برسوں سے ریحان اللہ والا ہر روز سکھا رہے ہیں۔ پہلے کلاس روم میں، پھر یوٹیوب پر، پھر فیس بک پر، اور اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے بھی۔” “سینکڑوں لوگوں نے ان کی باتوں پر عمل کیا، اپنی زندگی بدلی، اپنے کیریئر بنائے، اپنے کاروبار شروع کیے۔” “لیکن اس کے باوجود بہت سے لوگ آج بھی صرف ایک ہی جملہ کہتے ہیں…” ‘پتہ نہیں… شاید یہ کام نہ کرے۔’ دوست نے چائے کا آخری گھونٹ لیا اور کہا، “عجیب بات ہے۔” “ہم ایک نئے موبائل پر فوراً یقین کر لیتے ہیں۔” “ایک نئے ریسٹورنٹ کو آزما لیتے ہیں۔” “ایک نئے ڈرامے پر گھنٹوں لگا دیتے ہیں۔” “لیکن جب کوئی برسوں سے مسلسل علم بانٹ رہا ہو، تو ہم کہتے ہیں…” ‘دیکھتے ہیں… کبھی بعد میں۔’ زندگی میں ہر انسان کو دو استاد ملتے ہیں۔ ایک علم… اور دوسرا وقت۔ جو علم سے نہیں سیکھتا، وقت اسے زیادہ مہنگا سبق سکھاتا ہے۔ اس لیے سوال یہ نہیں کہ کوئی استاد کامل ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ… کیا ہم اتنی عاجزی رکھتے ہیں کہ کسی اچھی بات پر عمل کر سکیں؟ کیونکہ بعض اوقات کامیابی اور ناکامی کے درمیان فرق صرف صلاحیت کا نہیں ہوتا… فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ ایک شخص نے سیکھ کر عمل کیا، اور دوسرے نے صرف شک کیا۔
    0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • پہلا کاروبار کیوں ضروری ہے؟

    کراچی کا ایک نوجوان تھا، حارث۔

    اس کا خواب تھا کہ وہ اپنا کاروبار کرے۔

    اس نے اپنی پہلی آن لائن دکان بنائی۔

    تین مہینے گزر گئے۔

    ایک بھی آرڈر نہ آیا۔

    اس نے ویب سائٹ بند کر دی اور مایوسی کے عالم میں اپنے استاد کے پاس پہنچ گیا۔

    “استاد جی، شاید کاروبار کرنا میرے نصیب میں نہیں۔”

    استاد مسکرائے۔

    انہوں نے اپنا موبائل نکالا اور حارث سے پوچھا،

    “تم نے یہ ویب سائٹ کتنی بار تبدیل کی؟”

    حارث نے جواب دیا،

    “ایک بار بھی نہیں۔”

    استاد نے پھر پوچھا،

    “تم نے قیمتیں بدل کر دیکھیں؟”

    “نہیں۔”

    “مختلف تصویریں آزمائیں؟”

    “نہیں۔”

    “اشتہار کا طریقہ بدلا؟”

    “نہیں۔”

    “مختلف گاہکوں سے بات کی؟”

    “نہیں۔”

    استاد خاموش ہوگئے۔

    پھر بولے،

    “تو ناکام کاروبار نہیں ہوا…”

    “صرف پہلا تجربہ ختم ہوا ہے۔”

    انہوں نے اپنی جیب سے ایک نوٹ بک نکالی۔

    اس میں درجنوں کاروباری آئیڈیاز لکھے تھے۔

    کچھ کے سامنے لکھا تھا: ناکام

    کچھ کے سامنے: صرف 10 گاہک

    کچھ کے سامنے: کوئی منافع نہیں

    اور چند کے سامنے لکھا تھا: کامیاب

    حارث نے حیران ہو کر پوچھا،

    “استاد جی، آپ نے اتنی ناکامیاں کیوں برداشت کیں؟”

    استاد ہنس پڑے۔

    “بیٹا، میں کاروبار نہیں بنا رہا تھا…”

    “میں خود کو بنا رہا تھا۔”

    “پہلے کاروبار نے مجھے گاہک سمجھنا سکھایا۔”

    “دوسرے نے قیمت لگانا سکھایا۔”

    “تیسرے نے مارکیٹنگ سکھائی۔”

    “چوتھے نے ٹیم بنانا سکھایا۔”

    “پانچویں نے مجھے کامیاب بنا دیا۔”

    پھر استاد نے ایک ایسی بات کہی جو حارث کبھی نہ بھولا۔

    “ہر ناکام کاروبار دراصل اگلے کامیاب کاروبار کی فیس ہوتا ہے۔”

    اس دن کے بعد حارث نے اپنی ناکامی کو ختم نہیں سمجھا، بلکہ اسے ایک رپورٹ سمجھا جس میں لکھا تھا:

    یہ طریقہ کام نہیں کرتا، دوسرا آزما کر دیکھو۔

    چند سال بعد اس کا کاروبار کامیاب ہوگیا۔

    لوگوں نے کہا،

    “تم بہت خوش قسمت ہو۔”

    وہ مسکرا کر بولا،

    “یہ خوش قسمتی نہیں… یہ ان تمام تجربات کا نتیجہ ہے جنہیں لوگ ناکامی کہتے ہیں۔”

    آج بہت سے نوجوان اپنی پہلی کوشش میں کامیابی چاہتے ہیں۔

    لیکن حقیقت یہ ہے کہ پہلی کوشش کا مقصد کامیاب ہونا نہیں ہوتا۔

    پہلی کوشش کا مقصد سیکھنا ہوتا ہے۔

    اور جو شخص ہر تجربے سے سیکھتا جاتا ہے، ایک دن لوگ اسی کو “اوورنائٹ سکسیس” کہتے ہیں۔
    پہلا کاروبار کیوں ضروری ہے؟ کراچی کا ایک نوجوان تھا، حارث۔ اس کا خواب تھا کہ وہ اپنا کاروبار کرے۔ اس نے اپنی پہلی آن لائن دکان بنائی۔ تین مہینے گزر گئے۔ ایک بھی آرڈر نہ آیا۔ اس نے ویب سائٹ بند کر دی اور مایوسی کے عالم میں اپنے استاد کے پاس پہنچ گیا۔ “استاد جی، شاید کاروبار کرنا میرے نصیب میں نہیں۔” استاد مسکرائے۔ انہوں نے اپنا موبائل نکالا اور حارث سے پوچھا، “تم نے یہ ویب سائٹ کتنی بار تبدیل کی؟” حارث نے جواب دیا، “ایک بار بھی نہیں۔” استاد نے پھر پوچھا، “تم نے قیمتیں بدل کر دیکھیں؟” “نہیں۔” “مختلف تصویریں آزمائیں؟” “نہیں۔” “اشتہار کا طریقہ بدلا؟” “نہیں۔” “مختلف گاہکوں سے بات کی؟” “نہیں۔” استاد خاموش ہوگئے۔ پھر بولے، “تو ناکام کاروبار نہیں ہوا…” “صرف پہلا تجربہ ختم ہوا ہے۔” انہوں نے اپنی جیب سے ایک نوٹ بک نکالی۔ اس میں درجنوں کاروباری آئیڈیاز لکھے تھے۔ کچھ کے سامنے لکھا تھا: ناکام کچھ کے سامنے: صرف 10 گاہک کچھ کے سامنے: کوئی منافع نہیں اور چند کے سامنے لکھا تھا: کامیاب حارث نے حیران ہو کر پوچھا، “استاد جی، آپ نے اتنی ناکامیاں کیوں برداشت کیں؟” استاد ہنس پڑے۔ “بیٹا، میں کاروبار نہیں بنا رہا تھا…” “میں خود کو بنا رہا تھا۔” “پہلے کاروبار نے مجھے گاہک سمجھنا سکھایا۔” “دوسرے نے قیمت لگانا سکھایا۔” “تیسرے نے مارکیٹنگ سکھائی۔” “چوتھے نے ٹیم بنانا سکھایا۔” “پانچویں نے مجھے کامیاب بنا دیا۔” پھر استاد نے ایک ایسی بات کہی جو حارث کبھی نہ بھولا۔ “ہر ناکام کاروبار دراصل اگلے کامیاب کاروبار کی فیس ہوتا ہے۔” اس دن کے بعد حارث نے اپنی ناکامی کو ختم نہیں سمجھا، بلکہ اسے ایک رپورٹ سمجھا جس میں لکھا تھا: یہ طریقہ کام نہیں کرتا، دوسرا آزما کر دیکھو۔ چند سال بعد اس کا کاروبار کامیاب ہوگیا۔ لوگوں نے کہا، “تم بہت خوش قسمت ہو۔” وہ مسکرا کر بولا، “یہ خوش قسمتی نہیں… یہ ان تمام تجربات کا نتیجہ ہے جنہیں لوگ ناکامی کہتے ہیں۔” آج بہت سے نوجوان اپنی پہلی کوشش میں کامیابی چاہتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پہلی کوشش کا مقصد کامیاب ہونا نہیں ہوتا۔ پہلی کوشش کا مقصد سیکھنا ہوتا ہے۔ اور جو شخص ہر تجربے سے سیکھتا جاتا ہے، ایک دن لوگ اسی کو “اوورنائٹ سکسیس” کہتے ہیں۔
    0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • تیر جو نشانے سے چوک گیا

    کہتے ہیں ایک نوجوان برسوں سے تیر اندازی سیکھ رہا تھا۔

    وہ چاہتا تھا کہ ایک دن وہ اپنے زمانے کا بہترین تیر انداز بن جائے۔

    وہ ہر روز مشق کرتا، مگر جب بھی کوئی تیر نشانے سے چوک جاتا، وہ غصے سے کمان زمین پر پھینک دیتا۔

    ایک دن وہ اپنے استاد کے پاس گیا اور بولا،

    “استاد جی، شاید میں اس قابل ہی نہیں ہوں۔ ہر بار غلطی ہو جاتی ہے۔”

    استاد اسے میدان میں لے گئے۔

    دور ایک لکڑی کا نشانہ لگا ہوا تھا۔

    استاد نے کمان اٹھائی، سانس لی، نشانہ باندھا اور تیر چھوڑا۔

    تیر نشانے سے کئی انچ دور جا لگا۔

    نوجوان حیران رہ گیا۔

    “استاد جی! آپ سے بھی غلطی ہو گئی؟”

    استاد مسکرائے۔

    انہوں نے دوسرا تیر نکالا، پھر نشانہ لیا، اور اس بار تیر سیدھا نشانے کے درمیان جا لگا۔

    نوجوان نے پوچھا،

    “آپ کو پہلے تیر پر غصہ نہیں آیا؟”

    استاد نے جواب دیا،

    “کیوں آتا؟”

    “پہلا تیر مجھے یہ بتانے آیا تھا کہ میں نے کیا غلط کیا۔”

    “اگر میں غصے میں کمان توڑ دیتا، تو دوسرا تیر کبھی نشانے تک نہ پہنچتا۔”

    پھر استاد نے نوجوان کی طرف دیکھا اور کہا،

    “یاد رکھو…”

    “ناکامی تمہاری دشمن نہیں، تمہاری استاد ہے۔”

    “ہر غلطی تمہیں وہ سبق سکھاتی ہے جو کامیابی کبھی نہیں سکھا سکتی۔”

    “صرف وہ لوگ کبھی ناکام نہیں ہوتے جو کبھی کوشش ہی نہیں کرتے۔”

    نوجوان خاموش ہوگیا۔

    اس نے پہلی بار اپنی ناکامیوں کو دشمن نہیں، بلکہ استاد کی نظر سے دیکھا۔

    اس دن کے بعد جب بھی اس کا تیر نشانے سے چوک جاتا، وہ خود سے صرف ایک سوال پوچھتا،

    “اس تیر نے مجھے کیا سکھایا؟”

    اور ہر جواب اسے پہلے سے بہتر بنا دیتا۔

    آج ہم بھی زندگی میں بے شمار تیر چلاتے ہیں۔

    کوئی کاروبار ناکام ہو جاتا ہے۔

    کوئی امتحان اچھا نہیں ہوتا۔

    کوئی نوکری نہیں ملتی۔

    کوئی خواب ٹوٹ جاتا ہے۔

    مگر اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارا تیر نشانے پر لگا یا نہیں۔

    اصل سوال یہ ہے…

    کیا ہم نے اگلا تیر چلانے کی ہمت رکھی؟

    کیونکہ…

    ناکامی کامیابی کی مخالف نہیں، بلکہ کامیابی تک پہنچنے کے سفر کا لازمی حصہ ہے۔

    ہر وہ تیر جو نشانے سے چوک جاتا ہے، اگر آپ اس سے سیکھ لیں، تو وہی آپ کو اگلے نشانے کے قریب لے جاتا ہے۔
    تیر جو نشانے سے چوک گیا کہتے ہیں ایک نوجوان برسوں سے تیر اندازی سیکھ رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ ایک دن وہ اپنے زمانے کا بہترین تیر انداز بن جائے۔ وہ ہر روز مشق کرتا، مگر جب بھی کوئی تیر نشانے سے چوک جاتا، وہ غصے سے کمان زمین پر پھینک دیتا۔ ایک دن وہ اپنے استاد کے پاس گیا اور بولا، “استاد جی، شاید میں اس قابل ہی نہیں ہوں۔ ہر بار غلطی ہو جاتی ہے۔” استاد اسے میدان میں لے گئے۔ دور ایک لکڑی کا نشانہ لگا ہوا تھا۔ استاد نے کمان اٹھائی، سانس لی، نشانہ باندھا اور تیر چھوڑا۔ تیر نشانے سے کئی انچ دور جا لگا۔ نوجوان حیران رہ گیا۔ “استاد جی! آپ سے بھی غلطی ہو گئی؟” استاد مسکرائے۔ انہوں نے دوسرا تیر نکالا، پھر نشانہ لیا، اور اس بار تیر سیدھا نشانے کے درمیان جا لگا۔ نوجوان نے پوچھا، “آپ کو پہلے تیر پر غصہ نہیں آیا؟” استاد نے جواب دیا، “کیوں آتا؟” “پہلا تیر مجھے یہ بتانے آیا تھا کہ میں نے کیا غلط کیا۔” “اگر میں غصے میں کمان توڑ دیتا، تو دوسرا تیر کبھی نشانے تک نہ پہنچتا۔” پھر استاد نے نوجوان کی طرف دیکھا اور کہا، “یاد رکھو…” “ناکامی تمہاری دشمن نہیں، تمہاری استاد ہے۔” “ہر غلطی تمہیں وہ سبق سکھاتی ہے جو کامیابی کبھی نہیں سکھا سکتی۔” “صرف وہ لوگ کبھی ناکام نہیں ہوتے جو کبھی کوشش ہی نہیں کرتے۔” نوجوان خاموش ہوگیا۔ اس نے پہلی بار اپنی ناکامیوں کو دشمن نہیں، بلکہ استاد کی نظر سے دیکھا۔ اس دن کے بعد جب بھی اس کا تیر نشانے سے چوک جاتا، وہ خود سے صرف ایک سوال پوچھتا، “اس تیر نے مجھے کیا سکھایا؟” اور ہر جواب اسے پہلے سے بہتر بنا دیتا۔ آج ہم بھی زندگی میں بے شمار تیر چلاتے ہیں۔ کوئی کاروبار ناکام ہو جاتا ہے۔ کوئی امتحان اچھا نہیں ہوتا۔ کوئی نوکری نہیں ملتی۔ کوئی خواب ٹوٹ جاتا ہے۔ مگر اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارا تیر نشانے پر لگا یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے… کیا ہم نے اگلا تیر چلانے کی ہمت رکھی؟ کیونکہ… ناکامی کامیابی کی مخالف نہیں، بلکہ کامیابی تک پہنچنے کے سفر کا لازمی حصہ ہے۔ ہر وہ تیر جو نشانے سے چوک جاتا ہے، اگر آپ اس سے سیکھ لیں، تو وہی آپ کو اگلے نشانے کے قریب لے جاتا ہے۔
    0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • گدھا اور کتابوں کا بوجھ

    کہتے ہیں ایک بزرگ عالم کے پاس ایک گدھا تھا۔

    ہر صبح وہ اس گدھے کی پیٹھ پر قیمتی کتابوں سے بھرے ہوئے تھیلے لادتا اور اسے ایک شہر سے دوسرے شہر لے جاتا، جہاں طالب علم ان کتابوں سے علم حاصل کرتے تھے۔

    گدھا روزانہ سینکڑوں کتابیں اپنی پیٹھ پر اٹھاتا۔

    قرآن، حدیث، فلسفہ، طب، ریاضی، شاعری، تاریخ…

    دن بھر چلتا، پہاڑ عبور کرتا، ندیوں سے گزرتا اور شام تک منزل پر پہنچ جاتا۔

    ایک دن راستے میں ایک گھوڑے نے گدھے سے پوچھا،

    “تمہاری پیٹھ پر کیا ہے؟”

    گدھے نے فخر سے جواب دیا،

    “دنیا کی سب سے قیمتی چیزیں… علم سے بھری کتابیں!”

    گھوڑے نے پوچھا،

    “تو پھر تم یقیناً بہت بڑے عالم ہوگے؟”

    گدھا حیران ہوا۔

    “عالم؟ میں؟”

    گھوڑا مسکرایا اور بولا،

    “اگر تم برسوں سے علم اٹھائے پھر رہے ہو تو تمہیں سب کچھ معلوم ہونا چاہیے۔”

    گدھا خاموش ہوگیا۔

    اسے احساس ہوا کہ اس نے ہزاروں کتابیں اٹھائیں، لیکن کبھی ایک حرف بھی نہ پڑھا، نہ سمجھا، نہ اس پر عمل کیا۔

    وہ صرف وزن اٹھاتا رہا…

    علم نہیں۔

    یہ سب سن کر بزرگ مسکرائے اور اپنے شاگردوں سے کہا،

    “یاد رکھو، کتابیں اٹھانے سے انسان عالم نہیں بنتا، جیسے لکڑی اٹھانے سے کوئی بڑھئی نہیں بنتا، یا دوائیں اٹھانے سے کوئی ڈاکٹر نہیں بن جاتا۔”

    “علم صرف سر میں جمع ہونے والی معلومات کا نام نہیں۔ علم وہ ہے جو انسان کے کردار، فیصلوں اور زندگی میں نظر آئے۔”

    آج ہمارے ہاتھوں میں ہزاروں کتابیں، لاکھوں ویڈیوز، کروڑوں مضامین اور مصنوعی ذہانت موجود ہے۔

    ہم ہر روز نئی نئی معلومات حاصل کرتے ہیں۔

    لیکن سوال یہ ہے…

    کیا ہم صرف علم کا بوجھ اٹھا رہے ہیں؟

    یا علم ہمیں بدل بھی رہا ہے؟

    اگر غصہ پہلے جیسا ہے…

    تکبر پہلے جیسا ہے…

    سستی پہلے جیسی ہے…

    اور عمل پہلے جیسا ہی کمزور ہے…

    تو شاید ہم بھی اس گدھے کی طرح صرف کتابوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

    حقیقی علم وہ نہیں جو صرف دماغ میں داخل ہو، بلکہ وہ ہے جو انسان کی زندگی بدل دے۔
    گدھا اور کتابوں کا بوجھ کہتے ہیں ایک بزرگ عالم کے پاس ایک گدھا تھا۔ ہر صبح وہ اس گدھے کی پیٹھ پر قیمتی کتابوں سے بھرے ہوئے تھیلے لادتا اور اسے ایک شہر سے دوسرے شہر لے جاتا، جہاں طالب علم ان کتابوں سے علم حاصل کرتے تھے۔ گدھا روزانہ سینکڑوں کتابیں اپنی پیٹھ پر اٹھاتا۔ قرآن، حدیث، فلسفہ، طب، ریاضی، شاعری، تاریخ… دن بھر چلتا، پہاڑ عبور کرتا، ندیوں سے گزرتا اور شام تک منزل پر پہنچ جاتا۔ ایک دن راستے میں ایک گھوڑے نے گدھے سے پوچھا، “تمہاری پیٹھ پر کیا ہے؟” گدھے نے فخر سے جواب دیا، “دنیا کی سب سے قیمتی چیزیں… علم سے بھری کتابیں!” گھوڑے نے پوچھا، “تو پھر تم یقیناً بہت بڑے عالم ہوگے؟” گدھا حیران ہوا۔ “عالم؟ میں؟” گھوڑا مسکرایا اور بولا، “اگر تم برسوں سے علم اٹھائے پھر رہے ہو تو تمہیں سب کچھ معلوم ہونا چاہیے۔” گدھا خاموش ہوگیا۔ اسے احساس ہوا کہ اس نے ہزاروں کتابیں اٹھائیں، لیکن کبھی ایک حرف بھی نہ پڑھا، نہ سمجھا، نہ اس پر عمل کیا۔ وہ صرف وزن اٹھاتا رہا… علم نہیں۔ یہ سب سن کر بزرگ مسکرائے اور اپنے شاگردوں سے کہا، “یاد رکھو، کتابیں اٹھانے سے انسان عالم نہیں بنتا، جیسے لکڑی اٹھانے سے کوئی بڑھئی نہیں بنتا، یا دوائیں اٹھانے سے کوئی ڈاکٹر نہیں بن جاتا۔” “علم صرف سر میں جمع ہونے والی معلومات کا نام نہیں۔ علم وہ ہے جو انسان کے کردار، فیصلوں اور زندگی میں نظر آئے۔” آج ہمارے ہاتھوں میں ہزاروں کتابیں، لاکھوں ویڈیوز، کروڑوں مضامین اور مصنوعی ذہانت موجود ہے۔ ہم ہر روز نئی نئی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے… کیا ہم صرف علم کا بوجھ اٹھا رہے ہیں؟ یا علم ہمیں بدل بھی رہا ہے؟ اگر غصہ پہلے جیسا ہے… تکبر پہلے جیسا ہے… سستی پہلے جیسی ہے… اور عمل پہلے جیسا ہی کمزور ہے… تو شاید ہم بھی اس گدھے کی طرح صرف کتابوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ حقیقی علم وہ نہیں جو صرف دماغ میں داخل ہو، بلکہ وہ ہے جو انسان کی زندگی بدل دے۔
    0 Commentarii 0 Distribuiri 10 Views
  • بھرا ہوا کپ

    کہتے ہیں لاہور کی ایک مشہور یونیورسٹی کے پروفیسر نے سنا کہ پنجاب کے ایک گاؤں میں ایک بزرگ رہتے ہیں جن کے پاس لوگ زندگی کے مسائل کا حل لینے آتے ہیں۔

    پروفیسر نے سوچا،

    “میں نے دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی ہے، سیکڑوں کتابیں لکھی ہیں، ہزاروں لیکچر دیے ہیں۔ دیکھتے ہیں اس بزرگ کے پاس ایسا کیا علم ہے جو میرے پاس نہیں۔”

    چند دن بعد وہ گاؤں پہنچ گیا۔

    بزرگ ایک سادہ سے کچے گھر کے باہر چارپائی پر بیٹھے تھے۔

    انہوں نے پروفیسر کا احترام سے استقبال کیا اور کہا،

    “آئیے، پہلے ایک کپ چائے پی لیتے ہیں، پھر بات کریں گے۔”

    پروفیسر نے بیٹھتے ہی اپنی بات شروع کر دی۔

    “میں نے نفسیات پڑھی ہے…”

    “میں نے فلسفہ پڑھا ہے…”

    “میں نے قرآن کی تفاسیر بھی پڑھی ہیں…”

    “میں مصنوعی ذہانت پر تحقیق بھی کر رہا ہوں…”

    “میں یہ سمجھتا ہوں…”

    “میری رائے میں…”

    وہ مسلسل بولتا رہا۔

    بزرگ خاموشی سے سنتے رہے۔

    چائے تیار ہوئی۔

    بزرگ نے پروفیسر کے سامنے کپ رکھا اور چائے ڈالنا شروع کی۔

    کپ بھر گیا۔

    لیکن بزرگ نے چائے ڈالنا بند نہ کی۔

    چائے کپ سے باہر نکلنے لگی۔

    تشتری بھر گئی۔

    پھر چائے میز پر گرنے لگی۔

    پروفیسر گھبرا کر بولا،

    “حضور! کپ بھر چکا ہے، اب اس میں مزید چائے نہیں آ سکتی!”

    بزرگ نے پہلی مرتبہ مسکرا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا،

    “بالکل ایسے ہی تمہارا ذہن بھی بھرا ہوا ہے۔”

    “تم یہاں سیکھنے نہیں آئے…”

    “تم یہاں اپنی معلومات دکھانے آئے ہو۔”

    “جب تک کپ خالی نہیں ہوگا، اس میں نئی چائے نہیں ڈالی جا سکتی۔”

    “اور جب تک انسان اپنے ذہن کو ‘مجھے سب معلوم ہے’ سے خالی نہیں کرتا، تب تک اس میں نئی حکمت داخل نہیں ہو سکتی۔”

    پروفیسر خاموش ہوگیا۔

    اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ پورے وقت صرف بولتا رہا تھا۔

    اس نے ایک بھی سوال نہیں پوچھا تھا۔

    اس نے جواب سننے سے پہلے ہی اپنے جواب تیار کر رکھے تھے۔

    اس نے آہستہ سے کپ اٹھایا، ایک گھونٹ چائے پیا، اور کہا،

    “آج میں پہلی مرتبہ واقعی سیکھنے آیا ہوں۔”

    بزرگ مسکرائے اور بولے،

    “بیٹا، تعلیم انسان کو معلومات دیتی ہے، لیکن عاجزی اسے حکمت دیتی ہے۔”

    آج ہمارے پاس گوگل ہے، یوٹیوب ہے، چیٹ جی پی ٹی ہے، لاکھوں کتابیں ہیں، اور چند سیکنڈ میں ہر سوال کا جواب مل جاتا ہے۔

    لیکن ایک سوال ہر انسان کو خود سے پوچھنا چاہیے:

    کیا میرا دماغ علم سے بھرا ہوا ہے… یا تکبر سے؟

    کیونکہ…

    جو کپ پہلے ہی بھرا ہو، اس میں دنیا کی بہترین چائے بھی نہیں ڈالی جا سکتی۔
    بھرا ہوا کپ کہتے ہیں لاہور کی ایک مشہور یونیورسٹی کے پروفیسر نے سنا کہ پنجاب کے ایک گاؤں میں ایک بزرگ رہتے ہیں جن کے پاس لوگ زندگی کے مسائل کا حل لینے آتے ہیں۔ پروفیسر نے سوچا، “میں نے دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی ہے، سیکڑوں کتابیں لکھی ہیں، ہزاروں لیکچر دیے ہیں۔ دیکھتے ہیں اس بزرگ کے پاس ایسا کیا علم ہے جو میرے پاس نہیں۔” چند دن بعد وہ گاؤں پہنچ گیا۔ بزرگ ایک سادہ سے کچے گھر کے باہر چارپائی پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے پروفیسر کا احترام سے استقبال کیا اور کہا، “آئیے، پہلے ایک کپ چائے پی لیتے ہیں، پھر بات کریں گے۔” پروفیسر نے بیٹھتے ہی اپنی بات شروع کر دی۔ “میں نے نفسیات پڑھی ہے…” “میں نے فلسفہ پڑھا ہے…” “میں نے قرآن کی تفاسیر بھی پڑھی ہیں…” “میں مصنوعی ذہانت پر تحقیق بھی کر رہا ہوں…” “میں یہ سمجھتا ہوں…” “میری رائے میں…” وہ مسلسل بولتا رہا۔ بزرگ خاموشی سے سنتے رہے۔ چائے تیار ہوئی۔ بزرگ نے پروفیسر کے سامنے کپ رکھا اور چائے ڈالنا شروع کی۔ کپ بھر گیا۔ لیکن بزرگ نے چائے ڈالنا بند نہ کی۔ چائے کپ سے باہر نکلنے لگی۔ تشتری بھر گئی۔ پھر چائے میز پر گرنے لگی۔ پروفیسر گھبرا کر بولا، “حضور! کپ بھر چکا ہے، اب اس میں مزید چائے نہیں آ سکتی!” بزرگ نے پہلی مرتبہ مسکرا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا، “بالکل ایسے ہی تمہارا ذہن بھی بھرا ہوا ہے۔” “تم یہاں سیکھنے نہیں آئے…” “تم یہاں اپنی معلومات دکھانے آئے ہو۔” “جب تک کپ خالی نہیں ہوگا، اس میں نئی چائے نہیں ڈالی جا سکتی۔” “اور جب تک انسان اپنے ذہن کو ‘مجھے سب معلوم ہے’ سے خالی نہیں کرتا، تب تک اس میں نئی حکمت داخل نہیں ہو سکتی۔” پروفیسر خاموش ہوگیا۔ اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ پورے وقت صرف بولتا رہا تھا۔ اس نے ایک بھی سوال نہیں پوچھا تھا۔ اس نے جواب سننے سے پہلے ہی اپنے جواب تیار کر رکھے تھے۔ اس نے آہستہ سے کپ اٹھایا، ایک گھونٹ چائے پیا، اور کہا، “آج میں پہلی مرتبہ واقعی سیکھنے آیا ہوں۔” بزرگ مسکرائے اور بولے، “بیٹا، تعلیم انسان کو معلومات دیتی ہے، لیکن عاجزی اسے حکمت دیتی ہے۔” آج ہمارے پاس گوگل ہے، یوٹیوب ہے، چیٹ جی پی ٹی ہے، لاکھوں کتابیں ہیں، اور چند سیکنڈ میں ہر سوال کا جواب مل جاتا ہے۔ لیکن ایک سوال ہر انسان کو خود سے پوچھنا چاہیے: کیا میرا دماغ علم سے بھرا ہوا ہے… یا تکبر سے؟ کیونکہ… جو کپ پہلے ہی بھرا ہو، اس میں دنیا کی بہترین چائے بھی نہیں ڈالی جا سکتی۔
    0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • وہ شخص جو اپنی پیٹھ پر پتھروں کا بوجھ اٹھائے پھرتا تھا

    کہتے ہیں ایک بزرگ ایک لمبے سفر پر جا رہے تھے۔ راستے میں انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنی پیٹھ پر ایک بہت بڑی بوری اٹھائے بمشکل چل رہا تھا۔

    اس کی کمر جھکی ہوئی تھی، چہرے سے پسینہ بہہ رہا تھا، اور ہر چند قدم بعد وہ رک جاتا، گہرا سانس لیتا اور پھر دوبارہ چل پڑتا۔

    بزرگ نے قریب جا کر پوچھا،

    “بیٹے! تم اتنے تھکے ہوئے کیوں ہو؟”

    اس نے بے بسی سے جواب دیا،

    “میری زندگی بہت مشکل ہے۔ ہر دن پہلے سے زیادہ بھاری محسوس ہوتا ہے۔”

    بزرگ نے پوچھا،

    “اس بوری میں کیا ہے؟”

    وہ بولا،

    “یہ میری زندگی کے بوجھ ہیں۔”

    بزرگ نے کہا،

    “کیا میں دیکھ سکتا ہوں؟”

    اس نے بوری زمین پر رکھ دی۔

    جب بوری کھولی گئی تو اس میں صرف عام سے پتھر تھے۔

    بزرگ نے ایک پتھر ہاتھ میں لیا اور پوچھا،

    “یہ کس چیز کا بوجھ ہے؟”

    وہ بولا،

    “بیس سال پہلے ایک شخص نے میری بے عزتی کی تھی۔ میں آج تک اسے نہیں بھولا۔”

    بزرگ نے دوسرا پتھر اٹھایا۔

    “اور یہ؟”

    “ناکام ہونے کا خوف۔”

    تیسرا پتھر…

    “یہ اُن مواقع کا پچھتاوا ہے جو میں نے اپنی زندگی میں کھو دیے۔”

    ایک پتھر اپنے ماضی کی غلطیوں کی شرمندگی تھا۔

    ایک دوسروں کی باتوں کا دکھ۔

    ایک لوگوں کی رائے کا خوف۔

    ایک مستقبل کی بے جا فکر۔

    ہر پتھر کا ایک نام تھا۔

    بزرگ نے خاموشی سے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا،

    “یہ سارے پتھر تمہیں کس نے اٹھانے کو دیے تھے؟”

    وہ شخص خاموش ہوگیا۔

    کافی دیر بعد آہستہ سے بولا،

    “کسی نے نہیں…”

    بزرگ مسکرائے اور بولے،

    “پھر تم انہیں اتنے سالوں سے کیوں اٹھائے پھر رہے ہو؟”

    اس شخص کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

    وہ بولا،

    “میں نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ میں انہیں نیچے بھی رکھ سکتا ہوں۔”

    بزرگ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا،

    “زندگی ہمیں تجربات دیتی ہے، تاکہ ہم ان سے سیکھیں، نہ کہ انہیں ہمیشہ اپنی پیٹھ پر لاد کر چلتے رہیں۔ ماضی سے سبق ضرور لو، مگر اسے اپنی قسمت مت بنا لو۔ معاف کر سکتے ہو تو معاف کر دو، انصاف مانگ سکتے ہو تو مانگو، لیکن اپنے دل کو ان پتھروں کا قبرستان مت بناؤ۔”

    اس شخص نے ایک ایک کر کے تمام پتھر زمین پر رکھ دیے۔

    ہر پتھر کے ساتھ اس کی کمر کچھ سیدھی ہوتی گئی۔

    جب آخری پتھر بھی نیچے رکھ دیا تو اس نے خالی بوری ایک ہاتھ سے اٹھائی، آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔

    برسوں بعد اسے محسوس ہوا کہ راستہ اتنا مشکل نہیں تھا… بوجھ ہی بہت زیادہ تھا۔

    آج ہم میں سے ہر شخص اپنی پیٹھ پر کچھ نہ کچھ پتھر اٹھائے ہوئے ہے۔

    کسی کے پاس ماضی کا دکھ ہے۔

    کسی کے پاس ناکامی کا خوف۔

    کسی کے پاس لوگوں کی باتوں کا بوجھ۔

    کسی کے پاس پچھتاوے، حسرتیں اور خود کو معاف نہ کر پانے کا درد۔

    یاد رکھیے…

    زندگی کا سب سے بھاری بوجھ وہ نہیں جو دنیا ہمارے کندھوں پر رکھتی ہے، بلکہ وہ ہے جسے ہم خود برسوں تک اٹھائے رکھتے ہیں۔

    شاید ایک بہتر زندگی کی شروعات صرف ایک پتھر نیچے رکھنے سے ہو۔
    وہ شخص جو اپنی پیٹھ پر پتھروں کا بوجھ اٹھائے پھرتا تھا کہتے ہیں ایک بزرگ ایک لمبے سفر پر جا رہے تھے۔ راستے میں انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنی پیٹھ پر ایک بہت بڑی بوری اٹھائے بمشکل چل رہا تھا۔ اس کی کمر جھکی ہوئی تھی، چہرے سے پسینہ بہہ رہا تھا، اور ہر چند قدم بعد وہ رک جاتا، گہرا سانس لیتا اور پھر دوبارہ چل پڑتا۔ بزرگ نے قریب جا کر پوچھا، “بیٹے! تم اتنے تھکے ہوئے کیوں ہو؟” اس نے بے بسی سے جواب دیا، “میری زندگی بہت مشکل ہے۔ ہر دن پہلے سے زیادہ بھاری محسوس ہوتا ہے۔” بزرگ نے پوچھا، “اس بوری میں کیا ہے؟” وہ بولا، “یہ میری زندگی کے بوجھ ہیں۔” بزرگ نے کہا، “کیا میں دیکھ سکتا ہوں؟” اس نے بوری زمین پر رکھ دی۔ جب بوری کھولی گئی تو اس میں صرف عام سے پتھر تھے۔ بزرگ نے ایک پتھر ہاتھ میں لیا اور پوچھا، “یہ کس چیز کا بوجھ ہے؟” وہ بولا، “بیس سال پہلے ایک شخص نے میری بے عزتی کی تھی۔ میں آج تک اسے نہیں بھولا۔” بزرگ نے دوسرا پتھر اٹھایا۔ “اور یہ؟” “ناکام ہونے کا خوف۔” تیسرا پتھر… “یہ اُن مواقع کا پچھتاوا ہے جو میں نے اپنی زندگی میں کھو دیے۔” ایک پتھر اپنے ماضی کی غلطیوں کی شرمندگی تھا۔ ایک دوسروں کی باتوں کا دکھ۔ ایک لوگوں کی رائے کا خوف۔ ایک مستقبل کی بے جا فکر۔ ہر پتھر کا ایک نام تھا۔ بزرگ نے خاموشی سے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا، “یہ سارے پتھر تمہیں کس نے اٹھانے کو دیے تھے؟” وہ شخص خاموش ہوگیا۔ کافی دیر بعد آہستہ سے بولا، “کسی نے نہیں…” بزرگ مسکرائے اور بولے، “پھر تم انہیں اتنے سالوں سے کیوں اٹھائے پھر رہے ہو؟” اس شخص کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ بولا، “میں نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ میں انہیں نیچے بھی رکھ سکتا ہوں۔” بزرگ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، “زندگی ہمیں تجربات دیتی ہے، تاکہ ہم ان سے سیکھیں، نہ کہ انہیں ہمیشہ اپنی پیٹھ پر لاد کر چلتے رہیں۔ ماضی سے سبق ضرور لو، مگر اسے اپنی قسمت مت بنا لو۔ معاف کر سکتے ہو تو معاف کر دو، انصاف مانگ سکتے ہو تو مانگو، لیکن اپنے دل کو ان پتھروں کا قبرستان مت بناؤ۔” اس شخص نے ایک ایک کر کے تمام پتھر زمین پر رکھ دیے۔ ہر پتھر کے ساتھ اس کی کمر کچھ سیدھی ہوتی گئی۔ جب آخری پتھر بھی نیچے رکھ دیا تو اس نے خالی بوری ایک ہاتھ سے اٹھائی، آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔ برسوں بعد اسے محسوس ہوا کہ راستہ اتنا مشکل نہیں تھا… بوجھ ہی بہت زیادہ تھا۔ آج ہم میں سے ہر شخص اپنی پیٹھ پر کچھ نہ کچھ پتھر اٹھائے ہوئے ہے۔ کسی کے پاس ماضی کا دکھ ہے۔ کسی کے پاس ناکامی کا خوف۔ کسی کے پاس لوگوں کی باتوں کا بوجھ۔ کسی کے پاس پچھتاوے، حسرتیں اور خود کو معاف نہ کر پانے کا درد۔ یاد رکھیے… زندگی کا سب سے بھاری بوجھ وہ نہیں جو دنیا ہمارے کندھوں پر رکھتی ہے، بلکہ وہ ہے جسے ہم خود برسوں تک اٹھائے رکھتے ہیں۔ شاید ایک بہتر زندگی کی شروعات صرف ایک پتھر نیچے رکھنے سے ہو۔
    0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views