0 Reacties
0 aandelen
14 Views
Bedrijvengids
Ontdek nieuwe mensen, nieuwe verbindingen te maken en nieuwe vrienden maken
- Please log in to like, share and comment!
-
- Meet Nilesh !
He help entrepreneurs and coaches grow their authority, credibility, and audience using the Power of Interview Podcast.
I host interview show named "The Entrepreneur Warriors Show" and host interviews with 8–10-figure entrepreneurs, including CEOs, International Speakers, Entrepreneurs, International best-selling Authors, etc.
He recorded 95+ podcasts until now.
And he’s also running a paid community called Podcasters Elite Hub, and his students are doing great with their podcast.Meet Nilesh ! He help entrepreneurs and coaches grow their authority, credibility, and audience using the Power of Interview Podcast. I host interview show named "The Entrepreneur Warriors Show" and host interviews with 8–10-figure entrepreneurs, including CEOs, International Speakers, Entrepreneurs, International best-selling Authors, etc. He recorded 95+ podcasts until now. And he’s also running a paid community called Podcaster's Elite Hub, and his students are doing great with their podcast.0 Reacties 0 aandelen 19 Views - “انسان جتنا عقلمند اور مہربان ہوتا ہے، اسے لوگوں میں اچھائیاں نظر آتی ہیں، اور جتنا بیوقوف اور شریر ہوتا ہے، اسے ان کے عیب اور خامیاں نظر آتی ہیں۔”
اچھا انسان دوسروں میں اچھائی تلاش کرتا ہے
لیو ٹالسٹائی کا یہ قول انسان کے کردار کو سمجھنے کا بہت خوبصورت معیار دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان جتنا عقلمند اور مہربان ہوتا ہے، اسے لوگوں میں اچھائیاں نظر آتی ہیں، اور جتنا بیوقوف اور شریر ہوتا ہے، اسے لوگوں کے عیب اور خامیاں نظر آتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری نظر صرف دوسروں کو نہیں دکھاتی، ہماری اپنی اندرونی کیفیت بھی ظاہر کرتی ہے۔ جو انسان خود نرم دل، سمجھدار اور مثبت سوچ رکھنے والا ہوتا ہے، وہ دوسروں کے اندر چھپی ہوئی خوبیاں دیکھ لیتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان مکمل نہیں ہوتا، ہر کسی سے غلطی ہو سکتی ہے، لیکن ہر انسان میں کوئی نہ کوئی اچھائی ضرور موجود ہوتی ہے۔
دوسری طرف جو انسان ہر وقت دوسروں کی خامیاں، غلطیاں اور کمزوریاں تلاش کرتا رہتا ہے، وہ دراصل اپنی سوچ کی تنگی ظاہر کر رہا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اکثر تعریف کم کرتے ہیں، تنقید زیادہ کرتے ہیں۔ وہ انسان کو اس کی ایک غلطی سے جج کر لیتے ہیں، مگر اس کی دس اچھائیاں نہیں دیکھتے۔
ایک استاد اگر بچے میں صرف کمزوری دیکھے گا تو بچہ ڈر جائے گا، لیکن اگر وہ اس میں چھپی ہوئی صلاحیت دیکھے گا تو بچہ آگے بڑھ جائے گا۔ ایک لیڈر اگر اپنی ٹیم میں صرف غلطیاں تلاش کرے گا تو ٹیم کمزور ہو جائے گی، لیکن اگر وہ ہر شخص کی خوبی پہچانے گا تو پوری ٹیم طاقتور بن جائے گی۔
اس لیے ہمیں اپنی نظر کو تربیت دینی چاہیے۔ ہر انسان سے پہلے یہ پوچھیں: اس میں کون سی اچھائی ہے؟ یہ کس کام میں بہتر ہے؟ اس کی کون سی خوبی کو بڑھایا جا سکتا ہے؟
معاشرہ تب بہتر ہوتا ہے جب لوگ ایک دوسرے کے عیب گننے کے بجائے ایک دوسرے کی خوبیاں پہچاننا شروع کرتے ہیں۔ کیونکہ خامی دیکھنا آسان ہے، خوبی تلاش کرنا عقل، دل اور کردار کا کام ہے۔
سبق: دوسروں میں اچھائی دیکھنا کمزوری نہیں، اعلیٰ ظرفی ہے۔“انسان جتنا عقلمند اور مہربان ہوتا ہے، اسے لوگوں میں اچھائیاں نظر آتی ہیں، اور جتنا بیوقوف اور شریر ہوتا ہے، اسے ان کے عیب اور خامیاں نظر آتی ہیں۔” اچھا انسان دوسروں میں اچھائی تلاش کرتا ہے لیو ٹالسٹائی کا یہ قول انسان کے کردار کو سمجھنے کا بہت خوبصورت معیار دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان جتنا عقلمند اور مہربان ہوتا ہے، اسے لوگوں میں اچھائیاں نظر آتی ہیں، اور جتنا بیوقوف اور شریر ہوتا ہے، اسے لوگوں کے عیب اور خامیاں نظر آتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری نظر صرف دوسروں کو نہیں دکھاتی، ہماری اپنی اندرونی کیفیت بھی ظاہر کرتی ہے۔ جو انسان خود نرم دل، سمجھدار اور مثبت سوچ رکھنے والا ہوتا ہے، وہ دوسروں کے اندر چھپی ہوئی خوبیاں دیکھ لیتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان مکمل نہیں ہوتا، ہر کسی سے غلطی ہو سکتی ہے، لیکن ہر انسان میں کوئی نہ کوئی اچھائی ضرور موجود ہوتی ہے۔ دوسری طرف جو انسان ہر وقت دوسروں کی خامیاں، غلطیاں اور کمزوریاں تلاش کرتا رہتا ہے، وہ دراصل اپنی سوچ کی تنگی ظاہر کر رہا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اکثر تعریف کم کرتے ہیں، تنقید زیادہ کرتے ہیں۔ وہ انسان کو اس کی ایک غلطی سے جج کر لیتے ہیں، مگر اس کی دس اچھائیاں نہیں دیکھتے۔ ایک استاد اگر بچے میں صرف کمزوری دیکھے گا تو بچہ ڈر جائے گا، لیکن اگر وہ اس میں چھپی ہوئی صلاحیت دیکھے گا تو بچہ آگے بڑھ جائے گا۔ ایک لیڈر اگر اپنی ٹیم میں صرف غلطیاں تلاش کرے گا تو ٹیم کمزور ہو جائے گی، لیکن اگر وہ ہر شخص کی خوبی پہچانے گا تو پوری ٹیم طاقتور بن جائے گی۔ اس لیے ہمیں اپنی نظر کو تربیت دینی چاہیے۔ ہر انسان سے پہلے یہ پوچھیں: اس میں کون سی اچھائی ہے؟ یہ کس کام میں بہتر ہے؟ اس کی کون سی خوبی کو بڑھایا جا سکتا ہے؟ معاشرہ تب بہتر ہوتا ہے جب لوگ ایک دوسرے کے عیب گننے کے بجائے ایک دوسرے کی خوبیاں پہچاننا شروع کرتے ہیں۔ کیونکہ خامی دیکھنا آسان ہے، خوبی تلاش کرنا عقل، دل اور کردار کا کام ہے۔ سبق: دوسروں میں اچھائی دیکھنا کمزوری نہیں، اعلیٰ ظرفی ہے۔0 Reacties 0 aandelen 55 Views - شکر گزاری (Gratitude) نہ صرف آپ کے خیالات کو مثبت بناتی ہے بلکہ یہ آپ کے دماغ اور دل کے کام کرنے کے انداز کو بھی جسمانی طور پر بہتر بناتی ہے۔
امریکہ کی University of California, Berkeley کی ایک اہم fMRI تحقیق کے مطابق، شکر گزاری کا اظہار کرنا، مثلاً کسی کو شکریہ کا خط لکھنا، دماغی سرگرمی میں دیرپا مثبت تبدیلیاں پیدا کرتا ہے۔
محققین نے دریافت کیا کہ جو لوگ باقاعدگی سے شکر گزاری کی مشق کرتے ہیں، ان کے دماغ کے ایک اہم حصے میڈیل پری فرنٹل کارٹیکس (Medial Prefrontal Cortex) میں زیادہ سرگرمی دیکھی گئی۔ یہ حصہ سیکھنے، ہمدردی، فیصلے کرنے اور سماجی رویوں میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
حیرت انگیز طور پر، یہ مثبت تبدیلیاں اس وقت بھی نمایاں تھیں جب شکر گزاری کی مشق ختم ہوئے تین ماہ گزر چکے تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شکر گزاری کی مستقل عادت دماغ کو وقت کے ساتھ بے چینی (Anxiety) اور ڈپریشن کے اثرات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور لچکدار بنا سکتی ہے۔
جہاں دماغ ان طویل مدتی تبدیلیوں کو سنبھالتا ہے، وہیں دل جسم میں مثبت جذبات کا ایک طاقتور مرکز بن جاتا ہے۔ HeartMath Institute کی تحقیق کے مطابق، جب انسان شکر گزاری اور قدردانی محسوس کرتا ہے تو دل کی دھڑکنوں میں ایک خاص ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے جسے فزیولوجیکل کوہیرنس (Physiological Coherence) کہا جاتا ہے۔
روزمرہ کے دباؤ اور پریشانی کے دوران دل کی دھڑکنوں کا انداز بے ترتیب اور انتشار کا شکار ہو جاتا ہے، جبکہ شکر گزاری کے احساسات دل کی دھڑکنوں کو ایک نرم، متوازن اور موجوں جیسی ترتیب میں لے آتے ہیں۔ یہ ترتیب ایک ایسا برقی مقناطیسی میدان پیدا کرتی ہے جو اعصابی نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔
دل درحقیقت دماغ کو اتنے ہی نہیں بلکہ بعض صورتوں میں اس سے زیادہ اعصابی اور حیاتی کیمیائی سگنلز بھیجتا ہے جتنے وہ وصول کرتا ہے۔ اسی لیے دل اور دماغ کے درمیان یہ ہم آہنگی ذہنی کارکردگی بہتر بناتی ہے، جذباتی ردعمل کو متوازن کرتی ہے اور انسان کو گہری ذہنی وضاحت (Mental Clarity) فراہم کرتی ہے۔
مختصراً، روزانہ صرف چند منٹ شکر گزاری کی مشق کرنا آپ کے دماغ کو مضبوط، دل کو متوازن اور زندگی کو زیادہ پُرسکون بنا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ماہرین نفسیات اور اعصابی سائنسدان شکر گزاری کو ایک سادہ مگر انتہائی طاقتور ذہنی ورزش قرار دیتے ہیں۔
ماخذ:
Kini, P., Wong, J., McInnis, S., Gabana, N., & Brown, J. (2016). The Effects of Gratitude Expression on Neural Activity. NeuroImage.شکر گزاری (Gratitude) نہ صرف آپ کے خیالات کو مثبت بناتی ہے بلکہ یہ آپ کے دماغ اور دل کے کام کرنے کے انداز کو بھی جسمانی طور پر بہتر بناتی ہے۔ امریکہ کی University of California, Berkeley کی ایک اہم fMRI تحقیق کے مطابق، شکر گزاری کا اظہار کرنا، مثلاً کسی کو شکریہ کا خط لکھنا، دماغی سرگرمی میں دیرپا مثبت تبدیلیاں پیدا کرتا ہے۔ محققین نے دریافت کیا کہ جو لوگ باقاعدگی سے شکر گزاری کی مشق کرتے ہیں، ان کے دماغ کے ایک اہم حصے میڈیل پری فرنٹل کارٹیکس (Medial Prefrontal Cortex) میں زیادہ سرگرمی دیکھی گئی۔ یہ حصہ سیکھنے، ہمدردی، فیصلے کرنے اور سماجی رویوں میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر، یہ مثبت تبدیلیاں اس وقت بھی نمایاں تھیں جب شکر گزاری کی مشق ختم ہوئے تین ماہ گزر چکے تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شکر گزاری کی مستقل عادت دماغ کو وقت کے ساتھ بے چینی (Anxiety) اور ڈپریشن کے اثرات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور لچکدار بنا سکتی ہے۔ جہاں دماغ ان طویل مدتی تبدیلیوں کو سنبھالتا ہے، وہیں دل جسم میں مثبت جذبات کا ایک طاقتور مرکز بن جاتا ہے۔ HeartMath Institute کی تحقیق کے مطابق، جب انسان شکر گزاری اور قدردانی محسوس کرتا ہے تو دل کی دھڑکنوں میں ایک خاص ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے جسے فزیولوجیکل کوہیرنس (Physiological Coherence) کہا جاتا ہے۔ روزمرہ کے دباؤ اور پریشانی کے دوران دل کی دھڑکنوں کا انداز بے ترتیب اور انتشار کا شکار ہو جاتا ہے، جبکہ شکر گزاری کے احساسات دل کی دھڑکنوں کو ایک نرم، متوازن اور موجوں جیسی ترتیب میں لے آتے ہیں۔ یہ ترتیب ایک ایسا برقی مقناطیسی میدان پیدا کرتی ہے جو اعصابی نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ دل درحقیقت دماغ کو اتنے ہی نہیں بلکہ بعض صورتوں میں اس سے زیادہ اعصابی اور حیاتی کیمیائی سگنلز بھیجتا ہے جتنے وہ وصول کرتا ہے۔ اسی لیے دل اور دماغ کے درمیان یہ ہم آہنگی ذہنی کارکردگی بہتر بناتی ہے، جذباتی ردعمل کو متوازن کرتی ہے اور انسان کو گہری ذہنی وضاحت (Mental Clarity) فراہم کرتی ہے۔ مختصراً، روزانہ صرف چند منٹ شکر گزاری کی مشق کرنا آپ کے دماغ کو مضبوط، دل کو متوازن اور زندگی کو زیادہ پُرسکون بنا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ماہرین نفسیات اور اعصابی سائنسدان شکر گزاری کو ایک سادہ مگر انتہائی طاقتور ذہنی ورزش قرار دیتے ہیں۔ ماخذ: Kini, P., Wong, J., McInnis, S., Gabana, N., & Brown, J. (2016). The Effects of Gratitude Expression on Neural Activity. NeuroImage.0 Reacties 0 aandelen 97 Views - I’ve always found it fascinating how worried people become if they miss a single meal…. Personally, I completed a 21-day water fast when I first embarked on my own healing journey & since then I’ve regularly practiced extended fasting including watermelon fasting and various other fasting protocols…
From my experience & understanding, fasting is not starvation; fasting is healing!! The modern concept of eating 3 meals a day (or more) is largely a cultural habit rather than a biological necessity! To survive and thrive the body primarily requires proper nutrients, cellular hydration & the right internal environment.. In many ways, the less burden we place on the digestive system the more energy the body can allocate toward repair, regeneration & healing. This is also why fasting has been practiced by prophets, sages & traditional cultures throughout history. Prophet Muhammad ﷺ beautifully guided humanity towards living in harmony with our natural design and fitrah. As referenced in Surah Ar-Rum, Allah created mankind upon a natural disposition (fitrah) that should not be altered.. yet many fail to understand it.
Over the years, I’ve witnessed countless people improve and even reverse serious chronic illnesses through Natural Body Intelligence(NBI) and regenerative health protocols centered around detoxification, fasting, proper nourishment & lifestyle correction. Some of the most remarkable transformations I’ve seen involved conditions that many considered irreversible.
One area I would also encourage people to explore is the reality of parasites and their impact on human health, energy levels, cravings, and disease processes.
The human body is far more intelligent than we give it credit for. Sometimes healing begins not by adding more, but by giving the body a chance to rest, cleanse, and do what it was designed to do naturally.
Stop Managing & Start Healing
-
Dr. Adnan Kudiya
Regenerative Health & Detoxification Specialist
Holistic Health/Fitness/Weight-loss & Detox Coach
Natural Body Intelligence(NBI) & Biohacking SpecialistI’ve always found it fascinating how worried people become if they miss a single meal…. Personally, I completed a 21-day water fast when I first embarked on my own healing journey & since then I’ve regularly practiced extended fasting including watermelon fasting and various other fasting protocols… From my experience & understanding, fasting is not starvation; fasting is healing!! The modern concept of eating 3 meals a day (or more) is largely a cultural habit rather than a biological necessity! To survive and thrive the body primarily requires proper nutrients, cellular hydration & the right internal environment.. In many ways, the less burden we place on the digestive system the more energy the body can allocate toward repair, regeneration & healing. This is also why fasting has been practiced by prophets, sages & traditional cultures throughout history. Prophet Muhammad ﷺ beautifully guided humanity towards living in harmony with our natural design and fitrah. As referenced in Surah Ar-Rum, Allah created mankind upon a natural disposition (fitrah) that should not be altered.. yet many fail to understand it. Over the years, I’ve witnessed countless people improve and even reverse serious chronic illnesses through Natural Body Intelligence(NBI) and regenerative health protocols centered around detoxification, fasting, proper nourishment & lifestyle correction. Some of the most remarkable transformations I’ve seen involved conditions that many considered irreversible. One area I would also encourage people to explore is the reality of parasites and their impact on human health, energy levels, cravings, and disease processes. The human body is far more intelligent than we give it credit for. Sometimes healing begins not by adding more, but by giving the body a chance to rest, cleanse, and do what it was designed to do naturally. 🙏 Stop Managing & Start Healing ❤️🩹 - Dr. Adnan Kudiya Regenerative Health & Detoxification Specialist Holistic Health/Fitness/Weight-loss & Detox Coach Natural Body Intelligence(NBI) & Biohacking Specialist0 Reacties 0 aandelen 776 Views -
- Open Letter to Mr. Amir Ibrahim, CEO of Jazz Pakistan
Subject: Please Bring Smartphone Installments to Daraz Through JazzCash
Dear Mr. Amir Ibrahim,
Assalam-o-Alaikum.
Today, while browsing Daraz, I noticed that customers can purchase phones on installments through several banks. However, I was surprised to see that there is no option for millions of JazzCash users to buy these phones through their Jazz accounts.
This means that a person who has a credit card can easily buy a phone, but a hardworking laborer, driver, student, teacher, farmer, or housewife who uses JazzCash every day is left behind simply because they do not have a bank account.
I humbly request you to have discussions with Daraz and mobile manufacturers to introduce JazzCash Smartphone Installments.
Imagine the impact if a Pakistani could buy a Rs. 20,000–40,000 smartphone by simply paying Rs. 1,000 to Rs. 1,500 every month through his or her JazzCash account.
Such a service would:
* Enable millions of Pakistanis to access AI and digital education.
* Help students learn online.
* Create opportunities for freelancing and remote jobs.
* Increase financial inclusion.
* Expand the JazzCash ecosystem.
* Accelerate Pakistan’s digital transformation.
Most importantly, this program would include the millions of Pakistanis who do not have credit cards or traditional bank accounts.
Today, high markups of 50% to 70% on long-term installment plans make smartphones unnecessarily expensive. I believe Jazz can create a simpler, fairer, and more inclusive model for ordinary Pakistanis.
Just as Jazz transformed digital payments through JazzCash, I believe it can now transform digital access by making smartphones affordable for everyone.
A monthly installment of Rs. 1,000 or Rs. 1,500 is manageable for most families. What they need is not charity; they need access.
I sincerely hope Jazz will consider launching a “Smartphone for Every Pakistani” initiative in partnership with Daraz, handset manufacturers, and the Government of Pakistan.
Because in the age of Artificial Intelligence, a smartphone is not a luxury.
It is a school.
It is a bank.
It is a library.
It is an office.
And for millions of Pakistanis, it is a pathway out of poverty.
With respect and hope,
Rehan Allahwala
Founder, Rehan School
“Every Pakistani deserves access to the world’s knowledge through a smartphone.”Open Letter to Mr. Amir Ibrahim, CEO of Jazz Pakistan Subject: Please Bring Smartphone Installments to Daraz Through JazzCash Dear Mr. Amir Ibrahim, Assalam-o-Alaikum. Today, while browsing Daraz, I noticed that customers can purchase phones on installments through several banks. However, I was surprised to see that there is no option for millions of JazzCash users to buy these phones through their Jazz accounts. This means that a person who has a credit card can easily buy a phone, but a hardworking laborer, driver, student, teacher, farmer, or housewife who uses JazzCash every day is left behind simply because they do not have a bank account. I humbly request you to have discussions with Daraz and mobile manufacturers to introduce JazzCash Smartphone Installments. Imagine the impact if a Pakistani could buy a Rs. 20,000–40,000 smartphone by simply paying Rs. 1,000 to Rs. 1,500 every month through his or her JazzCash account. Such a service would: * Enable millions of Pakistanis to access AI and digital education. * Help students learn online. * Create opportunities for freelancing and remote jobs. * Increase financial inclusion. * Expand the JazzCash ecosystem. * Accelerate Pakistan’s digital transformation. Most importantly, this program would include the millions of Pakistanis who do not have credit cards or traditional bank accounts. Today, high markups of 50% to 70% on long-term installment plans make smartphones unnecessarily expensive. I believe Jazz can create a simpler, fairer, and more inclusive model for ordinary Pakistanis. Just as Jazz transformed digital payments through JazzCash, I believe it can now transform digital access by making smartphones affordable for everyone. A monthly installment of Rs. 1,000 or Rs. 1,500 is manageable for most families. What they need is not charity; they need access. I sincerely hope Jazz will consider launching a “Smartphone for Every Pakistani” initiative in partnership with Daraz, handset manufacturers, and the Government of Pakistan. Because in the age of Artificial Intelligence, a smartphone is not a luxury. It is a school. It is a bank. It is a library. It is an office. And for millions of Pakistanis, it is a pathway out of poverty. With respect and hope, Rehan Allahwala Founder, Rehan School “Every Pakistani deserves access to the world’s knowledge through a smartphone.”0 Reacties 0 aandelen 14 Views - ہر پاکستانی کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہونا چاہیے
آج کے دور میں اسمارٹ فون صرف ایک فون نہیں رہا بلکہ یہ تعلیم، روزگار، کاروبار، بینکنگ، صحت، اور مصنوعی ذہانت (AI) تک رسائی کا دروازہ بن چکا ہے۔ جس طرح ایک زمانے میں خواندگی ضروری سمجھی جاتی تھی، اسی طرح آج ڈیجیٹل خواندگی اور اسمارٹ فون ہر پاکستانی کی بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔
پاکستان میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جو روزانہ محنت کرتے ہیں، لیکن ایک ساتھ 20,000، 30,000 یا 40,000 روپے خرچ کرکے اسمارٹ فون خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ دوسری طرف، اگر یہی فون آسان اقساط پر صرف 1,000 سے 1,500 روپے ماہانہ میں دستیاب ہو تو تقریباً ہر خاندان اسے حاصل کرسکتا ہے۔
بدقسمتی سے موجودہ مارکیٹ میں طویل مدت کی اقساط پر 50 فیصد سے 70 فیصد تک اضافی رقم وصول کی جاتی ہے، جبکہ لاکھوں پاکستانیوں کے پاس بینک اکاؤنٹ یا کریڈٹ کارڈ بھی موجود نہیں ہیں۔ نتیجتاً وہ جدید تعلیم، AI، آن لائن روزگار، اور ڈیجیٹل معیشت سے باہر رہ جاتے ہیں۔
میں حکومت پاکستان، وزارت آئی ٹی، وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک، اور فلاحی اداروں جیسے الخدمت فاؤنڈیشن، GTC اور دیگر سماجی تنظیموں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایک قومی “ہر پاکستانی کے لیے اسمارٹ فون” پروگرام شروع کریں۔
اس پروگرام کے تحت:
* 10,000 سے 30,000 روپے کے اسمارٹ فون آسان اقساط پر فراہم کیے جائیں۔
* ماہانہ قسط 1,000 سے 1,500 روپے رکھی جائے۔
* EasyPaisa، JazzCash، UBL Omni اور دیگر ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ادائیگی کی سہولت دی جائے۔
* کریڈٹ کارڈ یا بینک اکاؤنٹ کی شرط ختم کی جائے۔
* طلبہ، مزدوروں، خواتین، کسانوں اور کم آمدنی والے خاندانوں کو ترجیح دی جائے۔
* مقامی موبائل مینوفیکچررز اور مائیکروفنانس اداروں کے ساتھ شراکت داری کی جائے۔
* سود یا انتہائی زیادہ منافع کے بجائے کم لاگت یا سماجی سرمایہ کاری کے ماڈل اپنائے جائیں۔
اگر ایک پاکستانی کے ہاتھ میں اسمارٹ فون آجاتا ہے تو وہ:
* AI سے سیکھ سکتا ہے۔
* آن لائن ہنر حاصل کرسکتا ہے۔
* فری لانسنگ اور ریموٹ جابز کرسکتا ہے۔
* اپنا چھوٹا کاروبار شروع کرسکتا ہے۔
* سرکاری خدمات اور ڈیجیٹل بینکنگ سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
* دنیا بھر کے علم تک فوری رسائی حاصل کرسکتا ہے۔
ہمیں سڑکوں، پلوں اور عمارتوں کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری کرنا ہوگی، کیونکہ آنے والے زمانے میں سب سے بڑی طاقت معلومات، علم اور مصنوعی ذہانت ہوگی۔
جس دن ہر پاکستانی کے ہاتھ میں ایک اسمارٹ فون اور AI اسسٹنٹ ہوگا، اس دن غربت کے خلاف سب سے بڑی جنگ جیتی جاسکے گی۔
میری حکومت پاکستان، وزارت آئی ٹی، الخدمت فاؤنڈیشن، GTC، ٹیلی کام کمپنیوں، بینکوں اور مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ مل کر ایک قومی مشن شروع کریں:
“ہر پاکستانی کے ہاتھ میں ایک اسمارٹ فون”
کیونکہ جب معلومات ہر انسان کے ہاتھ میں آجاتی ہیں، تو لوگ اپنے مسائل خود حل کرنا شروع کردیتے ہیں، اور یہی ایک خوشحال اور طاقتور پاکستان کی بنیاد ہے۔
— ریحان اللہ والاہر پاکستانی کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہونا چاہیے آج کے دور میں اسمارٹ فون صرف ایک فون نہیں رہا بلکہ یہ تعلیم، روزگار، کاروبار، بینکنگ، صحت، اور مصنوعی ذہانت (AI) تک رسائی کا دروازہ بن چکا ہے۔ جس طرح ایک زمانے میں خواندگی ضروری سمجھی جاتی تھی، اسی طرح آج ڈیجیٹل خواندگی اور اسمارٹ فون ہر پاکستانی کی بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔ پاکستان میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جو روزانہ محنت کرتے ہیں، لیکن ایک ساتھ 20,000، 30,000 یا 40,000 روپے خرچ کرکے اسمارٹ فون خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ دوسری طرف، اگر یہی فون آسان اقساط پر صرف 1,000 سے 1,500 روپے ماہانہ میں دستیاب ہو تو تقریباً ہر خاندان اسے حاصل کرسکتا ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ مارکیٹ میں طویل مدت کی اقساط پر 50 فیصد سے 70 فیصد تک اضافی رقم وصول کی جاتی ہے، جبکہ لاکھوں پاکستانیوں کے پاس بینک اکاؤنٹ یا کریڈٹ کارڈ بھی موجود نہیں ہیں۔ نتیجتاً وہ جدید تعلیم، AI، آن لائن روزگار، اور ڈیجیٹل معیشت سے باہر رہ جاتے ہیں۔ میں حکومت پاکستان، وزارت آئی ٹی، وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک، اور فلاحی اداروں جیسے الخدمت فاؤنڈیشن، GTC اور دیگر سماجی تنظیموں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایک قومی “ہر پاکستانی کے لیے اسمارٹ فون” پروگرام شروع کریں۔ اس پروگرام کے تحت: * 10,000 سے 30,000 روپے کے اسمارٹ فون آسان اقساط پر فراہم کیے جائیں۔ * ماہانہ قسط 1,000 سے 1,500 روپے رکھی جائے۔ * EasyPaisa، JazzCash، UBL Omni اور دیگر ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ادائیگی کی سہولت دی جائے۔ * کریڈٹ کارڈ یا بینک اکاؤنٹ کی شرط ختم کی جائے۔ * طلبہ، مزدوروں، خواتین، کسانوں اور کم آمدنی والے خاندانوں کو ترجیح دی جائے۔ * مقامی موبائل مینوفیکچررز اور مائیکروفنانس اداروں کے ساتھ شراکت داری کی جائے۔ * سود یا انتہائی زیادہ منافع کے بجائے کم لاگت یا سماجی سرمایہ کاری کے ماڈل اپنائے جائیں۔ اگر ایک پاکستانی کے ہاتھ میں اسمارٹ فون آجاتا ہے تو وہ: * AI سے سیکھ سکتا ہے۔ * آن لائن ہنر حاصل کرسکتا ہے۔ * فری لانسنگ اور ریموٹ جابز کرسکتا ہے۔ * اپنا چھوٹا کاروبار شروع کرسکتا ہے۔ * سرکاری خدمات اور ڈیجیٹل بینکنگ سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ * دنیا بھر کے علم تک فوری رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ ہمیں سڑکوں، پلوں اور عمارتوں کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری کرنا ہوگی، کیونکہ آنے والے زمانے میں سب سے بڑی طاقت معلومات، علم اور مصنوعی ذہانت ہوگی۔ جس دن ہر پاکستانی کے ہاتھ میں ایک اسمارٹ فون اور AI اسسٹنٹ ہوگا، اس دن غربت کے خلاف سب سے بڑی جنگ جیتی جاسکے گی۔ میری حکومت پاکستان، وزارت آئی ٹی، الخدمت فاؤنڈیشن، GTC، ٹیلی کام کمپنیوں، بینکوں اور مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ مل کر ایک قومی مشن شروع کریں: “ہر پاکستانی کے ہاتھ میں ایک اسمارٹ فون” کیونکہ جب معلومات ہر انسان کے ہاتھ میں آجاتی ہیں، تو لوگ اپنے مسائل خود حل کرنا شروع کردیتے ہیں، اور یہی ایک خوشحال اور طاقتور پاکستان کی بنیاد ہے۔ — ریحان اللہ والا0 Reacties 0 aandelen 14 Views - Why our halal ngo like saylani, alkhidmat, Jdc, allahwalay and organizations not offer phones on 1500 a month ?Why our halal ngo like saylani, alkhidmat, Jdc, allahwalay and organizations not offer phones on 1500 a month ?0 Reacties 0 aandelen 14 Views