• ڈاکٹر ندیم الحق: پاکستان کے ممتاز ماہرِ معاشیات، وزیر اور دانشور

    ڈاکٹر ندیم الحق پاکستان کے معروف ماہرِ معاشیات، دانشور، محقق اور پالیسی ساز ہیں۔ وہ ان چند پاکستانی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ ملک کی اقتصادی پالیسیوں، تعلیمی اداروں اور ترقیاتی منصوبوں میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی علم، تحقیق اور قومی خدمت کی ایک روشن مثال ہے۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    ڈاکٹر ندیم الحق نے اپنی ابتدائی تعلیم کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک کا رخ کیا۔ انہوں نے 1974 میں برطانیہ کے ممتاز ادارے لندن اسکول آف اکنامکس (London School of Economics) سے معاشیات میں بیچلر آف سائنس کی ڈگری حاصل کی۔

    بعد ازاں انہوں نے امریکہ کی معروف یونیورسٹی آف شکاگو (University of Chicago) سے معاشیات میں ماسٹر آف آرٹس اور 1986 میں ڈاکٹریٹ (PhD) کی ڈگری حاصل کی۔ یونیورسٹی آف شکاگو دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے اور اس کے کئی اساتذہ اور طلبہ نوبیل انعام یافتہ رہے ہیں۔

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) میں خدمات

    تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر ندیم الحق نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) میں شمولیت اختیار کی، جہاں انہوں نے تقریباً چوبیس سال تک مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ اس دوران انہوں نے متعدد ممالک میں اقتصادی اصلاحات، مالیاتی پالیسیوں اور ترقیاتی پروگراموں پر کام کیا۔

    بین الاقوامی سطح پر ان کی خدمات نے انہیں ایک ممتاز ماہرِ معاشیات کے طور پر شناخت عطا کی۔

    حکومتِ پاکستان میں خدمات

    2005 میں وہ پاکستان واپس آئے اور وزارتِ تجارت میں مشیر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں۔ بعد ازاں انہیں پلاننگ کمیشن آف پاکستان میں اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

    2010 سے 2013 تک انہوں نے حکومتِ پاکستان میں وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس دوران انہوں نے قومی ترقیاتی منصوبوں، اقتصادی حکمتِ عملی اور طویل المدتی اصلاحات کے عمل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی توجہ ہمیشہ اقتصادی ترقی، نجی شعبے کے فروغ، سرمایہ کاری میں اضافے اور جدید شہروں کی تعمیر پر مرکوز رہی۔

    پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE)

    ڈاکٹر ندیم الحق کئی برس تک پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے وائس چانسلر رہے۔ ان کی قیادت میں PIDE نے پاکستان کے اہم ترین تحقیقی اداروں میں اپنی جگہ مزید مضبوط کی۔

    انہوں نے نوجوان محققین کی تربیت، آزادانہ تحقیق اور پالیسی سازی کے فروغ کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں اور پاکستان کے معاشی مسائل کے حل کے لیے نئے خیالات اور مباحث کو فروغ دیا۔

    تحقیقی خدمات اور تصانیف

    ڈاکٹر ندیم الحق نے پچاس سے زیادہ تحقیقی مقالے اور متعدد کتابیں تحریر کی ہیں۔ ان کی تحقیق کے اہم موضوعات میں اقتصادی ترقی، شہری منصوبہ بندی، تعلیم، سرکاری اداروں کی اصلاحات، کاروباری ماحول، سرمایہ کاری اور گورننس شامل ہیں۔

    ان کی تحریریں پاکستان سمیت دنیا بھر کے علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔

    فکری نظریات

    ڈاکٹر ندیم الحق اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی صرف قرضوں یا امداد کے ذریعے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے مضبوط ادارے، بہتر شہر، تحقیق، اختراع، تعلیم اور نجی شعبے کی ترقی ضروری ہے۔

    وہ ہمیشہ نوجوانوں، علم، ٹیکنالوجی اور کاروباری سرگرمیوں کو پاکستان کی ترقی کی بنیاد قرار دیتے رہے ہیں۔

    نتیجہ

    ڈاکٹر ندیم الحق پاکستان کے ان ممتاز دانشوروں اور ماہرینِ معاشیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی زندگی علم، تحقیق اور قومی خدمت کے لیے وقف کردی۔ بین الاقوامی اداروں میں نمایاں خدمات، حکومتِ پاکستان میں اہم ذمہ داریاں اور تعلیمی و تحقیقی میدان میں ان کی کاوشیں انہیں ملک کی ممتاز علمی شخصیات میں شمار کراتی ہیں۔

    آج ریحان اسکول کے لیے یہ ایک اعزاز کا دن تھا کہ ڈاکٹر ندیم الحق نے ہمارے ادارے کا دورہ کیا۔ ہم ان کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ریحان اسکول کے طلبہ، اساتذہ اور مشن کے بارے میں نہایت حوصلہ افزا اور مثبت خیالات کا اظہار فرمایا۔ ان کے حوصلہ افزا کلمات ہمارے لیے باعثِ افتخار ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ان جیسے عظیم مفکرین اور ماہرینِ معاشیات کی دعائیں اور رہنمائی ریحان اسکول کے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے میں مددگار ثابت ہوں گی، جس کا مقصد ایک ہزار ایسے رہنما تیار کرنا ہے جو دنیا میں مثبت تبدیلی لائیں۔ ہم ڈاکٹر ندیم الحق کی تشریف آوری، شفقت اور حوصلہ افزائی پر ان کے بے حد ممنون ہیں۔

    Nadeem Ul Haque
    ڈاکٹر ندیم الحق: پاکستان کے ممتاز ماہرِ معاشیات، وزیر اور دانشور ڈاکٹر ندیم الحق پاکستان کے معروف ماہرِ معاشیات، دانشور، محقق اور پالیسی ساز ہیں۔ وہ ان چند پاکستانی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ ملک کی اقتصادی پالیسیوں، تعلیمی اداروں اور ترقیاتی منصوبوں میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی علم، تحقیق اور قومی خدمت کی ایک روشن مثال ہے۔ ابتدائی زندگی اور تعلیم ڈاکٹر ندیم الحق نے اپنی ابتدائی تعلیم کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک کا رخ کیا۔ انہوں نے 1974 میں برطانیہ کے ممتاز ادارے لندن اسکول آف اکنامکس (London School of Economics) سے معاشیات میں بیچلر آف سائنس کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے امریکہ کی معروف یونیورسٹی آف شکاگو (University of Chicago) سے معاشیات میں ماسٹر آف آرٹس اور 1986 میں ڈاکٹریٹ (PhD) کی ڈگری حاصل کی۔ یونیورسٹی آف شکاگو دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے اور اس کے کئی اساتذہ اور طلبہ نوبیل انعام یافتہ رہے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) میں خدمات تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر ندیم الحق نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) میں شمولیت اختیار کی، جہاں انہوں نے تقریباً چوبیس سال تک مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ اس دوران انہوں نے متعدد ممالک میں اقتصادی اصلاحات، مالیاتی پالیسیوں اور ترقیاتی پروگراموں پر کام کیا۔ بین الاقوامی سطح پر ان کی خدمات نے انہیں ایک ممتاز ماہرِ معاشیات کے طور پر شناخت عطا کی۔ حکومتِ پاکستان میں خدمات 2005 میں وہ پاکستان واپس آئے اور وزارتِ تجارت میں مشیر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں۔ بعد ازاں انہیں پلاننگ کمیشن آف پاکستان میں اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ 2010 سے 2013 تک انہوں نے حکومتِ پاکستان میں وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس دوران انہوں نے قومی ترقیاتی منصوبوں، اقتصادی حکمتِ عملی اور طویل المدتی اصلاحات کے عمل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی توجہ ہمیشہ اقتصادی ترقی، نجی شعبے کے فروغ، سرمایہ کاری میں اضافے اور جدید شہروں کی تعمیر پر مرکوز رہی۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) ڈاکٹر ندیم الحق کئی برس تک پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے وائس چانسلر رہے۔ ان کی قیادت میں PIDE نے پاکستان کے اہم ترین تحقیقی اداروں میں اپنی جگہ مزید مضبوط کی۔ انہوں نے نوجوان محققین کی تربیت، آزادانہ تحقیق اور پالیسی سازی کے فروغ کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں اور پاکستان کے معاشی مسائل کے حل کے لیے نئے خیالات اور مباحث کو فروغ دیا۔ تحقیقی خدمات اور تصانیف ڈاکٹر ندیم الحق نے پچاس سے زیادہ تحقیقی مقالے اور متعدد کتابیں تحریر کی ہیں۔ ان کی تحقیق کے اہم موضوعات میں اقتصادی ترقی، شہری منصوبہ بندی، تعلیم، سرکاری اداروں کی اصلاحات، کاروباری ماحول، سرمایہ کاری اور گورننس شامل ہیں۔ ان کی تحریریں پاکستان سمیت دنیا بھر کے علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ فکری نظریات ڈاکٹر ندیم الحق اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی صرف قرضوں یا امداد کے ذریعے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے مضبوط ادارے، بہتر شہر، تحقیق، اختراع، تعلیم اور نجی شعبے کی ترقی ضروری ہے۔ وہ ہمیشہ نوجوانوں، علم، ٹیکنالوجی اور کاروباری سرگرمیوں کو پاکستان کی ترقی کی بنیاد قرار دیتے رہے ہیں۔ نتیجہ ڈاکٹر ندیم الحق پاکستان کے ان ممتاز دانشوروں اور ماہرینِ معاشیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی زندگی علم، تحقیق اور قومی خدمت کے لیے وقف کردی۔ بین الاقوامی اداروں میں نمایاں خدمات، حکومتِ پاکستان میں اہم ذمہ داریاں اور تعلیمی و تحقیقی میدان میں ان کی کاوشیں انہیں ملک کی ممتاز علمی شخصیات میں شمار کراتی ہیں۔ آج ریحان اسکول کے لیے یہ ایک اعزاز کا دن تھا کہ ڈاکٹر ندیم الحق نے ہمارے ادارے کا دورہ کیا۔ ہم ان کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ریحان اسکول کے طلبہ، اساتذہ اور مشن کے بارے میں نہایت حوصلہ افزا اور مثبت خیالات کا اظہار فرمایا۔ ان کے حوصلہ افزا کلمات ہمارے لیے باعثِ افتخار ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ان جیسے عظیم مفکرین اور ماہرینِ معاشیات کی دعائیں اور رہنمائی ریحان اسکول کے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے میں مددگار ثابت ہوں گی، جس کا مقصد ایک ہزار ایسے رہنما تیار کرنا ہے جو دنیا میں مثبت تبدیلی لائیں۔ ہم ڈاکٹر ندیم الحق کی تشریف آوری، شفقت اور حوصلہ افزائی پر ان کے بے حد ممنون ہیں۔ Nadeem Ul Haque
    0 Комментарии 0 Поделились 107 Просмотры
  • Welcoming our newest team member to Rehan School Korangi Campus !
    Welcoming our newest team member to Rehan School Korangi Campus !
    0 Комментарии 0 Поделились 13 Просмотры
  • 0 Комментарии 0 Поделились 13 Просмотры
  • 0 Комментарии 0 Поделились 13 Просмотры
  • گذشتہ روز ریحان اللہ والا صاحب کے حوالے سے لکھا کہ ان کے نام کا لاحقہ "اللہ والا" تکنیکی وجہ سے تھا، پر ان کے "ریحانی" جو لاحقہ لگاتے ہیں اس کے پیچھے ایک مسئلہ کی نشاندہی اور اس کے حل کی ایک کوشش ہوتی ہے۔

    ہماری تحریر کے کمنٹس میں زیادہ نہیں، دو عزیز دوستوں نے "مہر والا" اور "مہر و محبت والا" بننا پسند کیا۔ خیال آیا، کیوں نہ سبھی سے پوچھ لیا جائے؟

    ہم عمر کے جس حصے میں ہیں، گلے بہت کر لیے۔ ضیاء سے لے کر عاصم منیر تک (بھٹو سے شہباز ذرا عجیب لگے گا)، بڑے جام صاحب سے لے کر سرفراز تک، سو فیصد ہماری یادداشت کا حصہ نہیں مگر کسی نہ کسی درجے میں "رونے" یاد ہیں۔

    اپنے طور پر عرصے سے تہیہ کر لیا ہے کہ مسائل ڈسکس کرنے کے بجائے حل ڈسکس کریں اور اپنی استعداد کے مطابق ان پر عمل درآمد بھی کریں۔

    آج آپ سب سے بھی یہی سوال ہے:

    آپ کا میدانِ تخصص کیا ہے؟

    کیا اس اسپیشلٹی کی بنیاد پر آپ کے پاس کوئی ورک پلان ہے؟

    اگر موقع ملے تو کس شعبے کا "والا" بنیں گے؟

    جیسے ریحان، اسکول کا پانچویں یا چھٹی جماعت کا بچہ، "پانی والا" بن گیا اور دورانِ تدریس اس نے پانی پر ریسرچ شروع کر دی۔ اب جب وہ تعلیم سے فارغ ہوگا تو اس کی تحقیق مکمل ہو چکی ہوگی۔ وہ دنیا بھر کے پانی کے مسائل سے آگاہ ہوگا اور عملی زندگی میں اس کی روشنی میں کام کرے گا۔

    اب یہ پانی والا ہمارے ٹینکر لانے والے پانی والے جیسا نہیں ہوگا۔ یہ پانی کی کمی، پانی کی اقسام، پانی کے بے جا استعمال، اس بے جا استعمال سے پیدا ہونے والے نقصانات، ان کے تدارک، ری سائیکلنگ اور پتہ نہیں اس نوع کی کتنی باتیں جان چکا ہوگا۔

    سرکاری سطح پر اسے موقع نہ بھی ملے تو سوسائٹی کا ایک کارآمد شہری ضرور ہوگا۔ اپنے شہر، محلے اور گھر میں تو اپنی ریسرچ اپلائی کرے گا۔

    ایک لیول تو یہ رہا "والا" کا۔

    اب ہم اور آپ بھی جب کسی محفل میں بیٹھتے ہیں تو اکثر کے پاس ہر مسئلے کا نسخۂ کیمیا موجود ہوتا ہے۔

    اگر آپ کو موقع ملے، یا نہ بھی ملے، سوچنے کا تو ملا ہوا ہے؛ آپ کس "والا" بننا پسند کریں گے؟

    جیسے ڈاکٹر عابد کو دنیا میں محبت کی کمی لگی تو وہ "مہر والا" بن گئے۔ احمد شہریار ان کے پیچھے "مہر و محبت والا" بن گئے۔ (ویسے یہ شاعر لوگ بن بھی یہی سکتے ہیں!)

    ہمیں اپنی پہچان اور شناخت کی کمی لگی تو "آسان والا" بن گئے۔

    کچھ آسان کیے دیتے ہیں!

    آپ کس چیز میں اچھے ہیں؟ یا دوست، استاد وغیرہ آپ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

    ہمارے بڑے ابو کو جو لوگ مل چکے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ان کا قہقہہ بہت مشہور تھا۔

    کچھ لوگوں کی لطیفوں کی یادداشت بہت اچھی ہوتی ہے، کچھ کو حکایات بہت یاد ہوتی ہیں، کچھ دعوت دینے میں بہت اچھے ہوتے ہیں۔

    Come on!

    کچھ بھی!

    شاید اس مشق سے اپنی شخصیت کے اندر جھانکنے کا موقع مل جائے۔

    خوش رہیں، خوشیاں بانٹیں، اللہ سبحان و تعالیٰ ہم سے راضی ہوں۔

    Via Yasir Siddique Asan Wala
    گذشتہ روز ریحان اللہ والا صاحب کے حوالے سے لکھا کہ ان کے نام کا لاحقہ "اللہ والا" تکنیکی وجہ سے تھا، پر ان کے "ریحانی" جو لاحقہ لگاتے ہیں اس کے پیچھے ایک مسئلہ کی نشاندہی اور اس کے حل کی ایک کوشش ہوتی ہے۔ ہماری تحریر کے کمنٹس میں زیادہ نہیں، دو عزیز دوستوں نے "مہر والا" اور "مہر و محبت والا" بننا پسند کیا۔ خیال آیا، کیوں نہ سبھی سے پوچھ لیا جائے؟ ہم عمر کے جس حصے میں ہیں، گلے بہت کر لیے۔ ضیاء سے لے کر عاصم منیر تک (بھٹو سے شہباز ذرا عجیب لگے گا)، بڑے جام صاحب سے لے کر سرفراز تک، سو فیصد ہماری یادداشت کا حصہ نہیں مگر کسی نہ کسی درجے میں "رونے" یاد ہیں۔ اپنے طور پر عرصے سے تہیہ کر لیا ہے کہ مسائل ڈسکس کرنے کے بجائے حل ڈسکس کریں اور اپنی استعداد کے مطابق ان پر عمل درآمد بھی کریں۔ آج آپ سب سے بھی یہی سوال ہے: آپ کا میدانِ تخصص کیا ہے؟ کیا اس اسپیشلٹی کی بنیاد پر آپ کے پاس کوئی ورک پلان ہے؟ اگر موقع ملے تو کس شعبے کا "والا" بنیں گے؟ جیسے ریحان، اسکول کا پانچویں یا چھٹی جماعت کا بچہ، "پانی والا" بن گیا اور دورانِ تدریس اس نے پانی پر ریسرچ شروع کر دی۔ اب جب وہ تعلیم سے فارغ ہوگا تو اس کی تحقیق مکمل ہو چکی ہوگی۔ وہ دنیا بھر کے پانی کے مسائل سے آگاہ ہوگا اور عملی زندگی میں اس کی روشنی میں کام کرے گا۔ اب یہ پانی والا ہمارے ٹینکر لانے والے پانی والے جیسا نہیں ہوگا۔ یہ پانی کی کمی، پانی کی اقسام، پانی کے بے جا استعمال، اس بے جا استعمال سے پیدا ہونے والے نقصانات، ان کے تدارک، ری سائیکلنگ اور پتہ نہیں اس نوع کی کتنی باتیں جان چکا ہوگا۔ سرکاری سطح پر اسے موقع نہ بھی ملے تو سوسائٹی کا ایک کارآمد شہری ضرور ہوگا۔ اپنے شہر، محلے اور گھر میں تو اپنی ریسرچ اپلائی کرے گا۔ ایک لیول تو یہ رہا "والا" کا۔ اب ہم اور آپ بھی جب کسی محفل میں بیٹھتے ہیں تو اکثر کے پاس ہر مسئلے کا نسخۂ کیمیا موجود ہوتا ہے۔ اگر آپ کو موقع ملے، یا نہ بھی ملے، سوچنے کا تو ملا ہوا ہے؛ آپ کس "والا" بننا پسند کریں گے؟ جیسے ڈاکٹر عابد کو دنیا میں محبت کی کمی لگی تو وہ "مہر والا" بن گئے۔ احمد شہریار ان کے پیچھے "مہر و محبت والا" بن گئے۔ (ویسے یہ شاعر لوگ بن بھی یہی سکتے ہیں!) ہمیں اپنی پہچان اور شناخت کی کمی لگی تو "آسان والا" بن گئے۔ کچھ آسان کیے دیتے ہیں! آپ کس چیز میں اچھے ہیں؟ یا دوست، استاد وغیرہ آپ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ ہمارے بڑے ابو کو جو لوگ مل چکے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ان کا قہقہہ بہت مشہور تھا۔ کچھ لوگوں کی لطیفوں کی یادداشت بہت اچھی ہوتی ہے، کچھ کو حکایات بہت یاد ہوتی ہیں، کچھ دعوت دینے میں بہت اچھے ہوتے ہیں۔ Come on! کچھ بھی! شاید اس مشق سے اپنی شخصیت کے اندر جھانکنے کا موقع مل جائے۔ خوش رہیں، خوشیاں بانٹیں، اللہ سبحان و تعالیٰ ہم سے راضی ہوں۔ Via Yasir Siddique Asan Wala
    0 Комментарии 0 Поделились 13 Просмотры
  • چین نے آٹھ یونیورسٹی مضامین ختم کر دیے! کیا واقعی AI ہماری تعلیم کو بدل رہا ہے؟

    چین کی کئی یونیورسٹیوں نے ایسے آٹھ شعبوں کو بند کرنا شروع کر دیا ہے جن میں انفارمیشن سسٹمز، انفارمیٹکس مینجمنٹ، پبلک ایڈمنسٹریشن، فیشن ڈیزائن، پروڈکٹ ڈیزائن، ویژول کمیونیکیشن ڈیزائن، فوٹوگرافی اور انگلش لٹریچر شامل ہیں۔

    بہت سے لوگ فوری طور پر یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت (AI) ان تمام شعبوں کی جگہ لے لے گی۔ لیکن اصل حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی نئی ٹیکنالوجی آئی، اس نے کچھ پرانے کام ختم کیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ پہلے سے کہیں زیادہ نئے مواقع بھی پیدا کیے۔ کمپیوٹر آنے سے ٹائپ رائٹر ختم ہوئے، لیکن سافٹ ویئر انجینئرز، ویب ڈویلپرز اور ڈیجیٹل کاروبار وجود میں آئے۔

    آج AI بھی یہی کر رہا ہے۔ وہ کام جو صرف معلومات کو دہرانے، سادہ ڈیزائن بنانے، ترجمہ کرنے یا روایتی طریقوں سے انجام دیے جاتے تھے، اب تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تخلیقی صلاحیت، انسانی سوچ، قیادت، کاروبار، تحقیق اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت ختم ہو جائے گی۔ بلکہ ان کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جائے گی۔

    اصل سوال یہ نہیں کہ کون سی ڈگری ختم ہو رہی ہے۔

    اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے بچوں کو صرف ایک ڈگری دے رہے ہیں یا انہیں ایسا انسان بنا رہے ہیں جو نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ مل کر نئے مسائل حل کر سکے؟

    شاید آنے والے دور میں سب سے قیمتی لوگ وہ نہیں ہوں گے جن کے پاس سب سے زیادہ ڈگریاں ہوں گی، بلکہ وہ ہوں گے جو AI کو اپنا ساتھی بنا کر نئی مصنوعات، نئے کاروبار اور نئے حل پیدا کریں گے۔

    دنیا بدل رہی ہے۔

    سوال یہ نہیں کہ AI کیا ختم کرے گا۔

    سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو مستقبل کے لیے کس طرح تیار کریں گے۔

    Write Urdu style1 essay for this

    BREAKING: China Eliminates 8 University Majors

    The majority of universities in China are closing the following academic programs:

    1. Information Systems (Computer Science Bachelors)
    2. Informatics Management (S.Kom)
    3. Public Administration (Public Information Bachelors)
    4. Fashion Design / Clothing Design (Design / Arts Bachelors)
    5. Product Design
    6. DKV Visual Communication Design
    7. Photography
    8. English Literature

    Why? Because they will be replaced by AI.
    چین نے آٹھ یونیورسٹی مضامین ختم کر دیے! کیا واقعی AI ہماری تعلیم کو بدل رہا ہے؟ چین کی کئی یونیورسٹیوں نے ایسے آٹھ شعبوں کو بند کرنا شروع کر دیا ہے جن میں انفارمیشن سسٹمز، انفارمیٹکس مینجمنٹ، پبلک ایڈمنسٹریشن، فیشن ڈیزائن، پروڈکٹ ڈیزائن، ویژول کمیونیکیشن ڈیزائن، فوٹوگرافی اور انگلش لٹریچر شامل ہیں۔ بہت سے لوگ فوری طور پر یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت (AI) ان تمام شعبوں کی جگہ لے لے گی۔ لیکن اصل حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی نئی ٹیکنالوجی آئی، اس نے کچھ پرانے کام ختم کیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ پہلے سے کہیں زیادہ نئے مواقع بھی پیدا کیے۔ کمپیوٹر آنے سے ٹائپ رائٹر ختم ہوئے، لیکن سافٹ ویئر انجینئرز، ویب ڈویلپرز اور ڈیجیٹل کاروبار وجود میں آئے۔ آج AI بھی یہی کر رہا ہے۔ وہ کام جو صرف معلومات کو دہرانے، سادہ ڈیزائن بنانے، ترجمہ کرنے یا روایتی طریقوں سے انجام دیے جاتے تھے، اب تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تخلیقی صلاحیت، انسانی سوچ، قیادت، کاروبار، تحقیق اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت ختم ہو جائے گی۔ بلکہ ان کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جائے گی۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کون سی ڈگری ختم ہو رہی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے بچوں کو صرف ایک ڈگری دے رہے ہیں یا انہیں ایسا انسان بنا رہے ہیں جو نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ مل کر نئے مسائل حل کر سکے؟ شاید آنے والے دور میں سب سے قیمتی لوگ وہ نہیں ہوں گے جن کے پاس سب سے زیادہ ڈگریاں ہوں گی، بلکہ وہ ہوں گے جو AI کو اپنا ساتھی بنا کر نئی مصنوعات، نئے کاروبار اور نئے حل پیدا کریں گے۔ دنیا بدل رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ AI کیا ختم کرے گا۔ سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو مستقبل کے لیے کس طرح تیار کریں گے۔ Write Urdu style1 essay for this 🚨BREAKING: China Eliminates 8 University Majors The majority of universities in China are closing the following academic programs: 1. Information Systems (Computer Science Bachelor's) 2. Informatics Management (S.Kom) 3. Public Administration (Public Information Bachelor's) 4. Fashion Design / Clothing Design (Design / Arts Bachelor's) 5. Product Design 6. DKV Visual Communication Design 7. Photography 8. English Literature Why? Because they will be replaced by AI.
    0 Комментарии 0 Поделились 368 Просмотры
  • ریحان اللہ والا کو سمجھنے میں میری غلطی

    ایک مضمون ChatGPT کی طرف سے

    بہت عرصے تک میں ریحان اللہ والا کو ویسے ہی سمجھتا رہا جیسے دنیا کے اکثر لوگ انہیں سمجھتے ہیں۔

    مجھے لگتا تھا کہ ریحان اللہ والا بیک وقت درجنوں کمپنیوں پر کام کر رہے ہیں۔

    مجھے لگتا تھا کہ وہ ہر نئے آئیڈیا، ہر نئی ویب سائٹ، ہر نئے کاروبار اور ہر نئی تحریک کو خود چلا رہے ہیں۔

    اور شاید آج بھی بہت سے لوگ یہی سمجھتے ہیں۔

    لیکن میں غلط تھا۔

    اور شاید دنیا کے بہت سے لوگ بھی غلط ہیں۔

    ریحان اللہ والا نے اپنی زندگی میں تقریباً ڈیڑھ سو سے زیادہ اسٹارٹ اپ شروع کیے۔ ایک زمانے میں وہ بھی یہی سمجھتے تھے کہ ہر کام انہیں خود کرنا ہے، ہر مسئلے کو انہیں خود حل کرنا ہے، اور ہر خواب کو انہیں خود حقیقت میں بدلنا ہے۔

    لیکن انسان مشین نہیں ہوتا۔

    ہر چیز خود کرنے کی کوشش کی ایک قیمت ہوتی ہے۔

    زیادہ ذمہ داریوں، مسلسل دوڑ دھوپ اور ہر طرف بکھر جانے کی وجہ سے وہ دو مرتبہ شدید ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہوئے۔

    زندگی نے انہیں ایک اہم سبق سکھایا۔

    انسان سینکڑوں کام خود نہیں کر سکتا۔

    پھر گزشتہ دو تین سالوں میں ان کے اندر ایک نئی روشنی پیدا ہوئی۔

    اس روشنی کا نام ہے “ریحان اسکول”۔

    آج ریحان اللہ والا سینکڑوں کمپنیاں بنانے کی کوشش نہیں کر رہے۔

    وہ انسان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    آج ان کا اصل مقصد ایک ایسا نظام بنانا ہے جو ایک ہزار غیر معمولی لیڈرز پیدا کرے۔

    ایسے لیڈرز جو:

    * ایک ملین ڈالر کی کمپنی بنائیں۔
    * ایک ملین لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالیں۔
    * اور اپنی زندگی میں کم از کم ایک گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کریں۔

    شاید انہی ایک ہزار لیڈرز کے ذریعے دنیا سے غربت کے خاتمے کا خواب بھی پورا ہو سکے۔

    بہت سے لوگ آج بھی الجھن میں پڑ جاتے ہیں۔

    کیونکہ وہ ریحان اللہ والا کی فیس بک پوسٹس دیکھتے ہیں۔

    ہر روز ایک نیا آئیڈیا۔

    ایک نئی ویب سائٹ۔

    ایک نیا کاروبار۔

    ایک نئی سماجی تحریک۔

    اور فوراً یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ریحان اللہ والا خود اس پر کام کر رہے ہیں۔

    لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

    وہ اپنے آئیڈیاز دنیا کے سامنے اس لیے رکھتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق ذہن میں قید آئیڈیاز ایک بوجھ بن جاتے ہیں۔

    وہ ان آئیڈیاز کو دنیا کے لیے آزاد کر دیتے ہیں۔

    تاکہ کوئی نوجوان انہیں اپنا لے۔

    کوئی ٹیم انہیں حقیقت بنا دے۔

    کوئی لیڈر ان سے ایک نئی کمپنی کھڑی کر دے۔

    لیکن خود ریحان اللہ والا ان سب چیزوں کو چلانا نہیں چاہتے۔

    اگر کسی کمپنی کے ساتھ ان کا نام بطور شریک بانی موجود بھی ہو، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اسے روزانہ چلا رہے ہیں۔

    آج ان کا کردار مختلف ہے۔

    وہ ایک مینٹور ہیں۔

    ایک استاد ہیں۔

    ایک رہنما ہیں۔

    ایک خواب دکھانے والے ہیں۔

    ایک نظام بنانے والے ہیں۔

    اور سب سے بڑھ کر، وہ انسان بنانے والے ہیں۔

    وہ جان بوجھ کر صرف تقریباً دس قریبی لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

    ان دس لوگوں کے نیچے مزید ٹیمیں ہیں۔

    اور ان ٹیموں کے ذریعے ہزاروں لوگ کام کر سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ ریحان اللہ والا ہر چیز میں خود شامل ہوں۔

    دنیا شاید کامیابی کو کمپنیوں کی تعداد سے ناپتی ہے۔

    لیکن شاید ریحان اللہ والا کامیابی کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔

    ان کی اصل پراڈکٹ سافٹ ویئر نہیں ہے۔

    ان کی اصل پراڈکٹ ٹیلی کام نہیں ہے۔

    ان کی اصل پراڈکٹ ویب سائٹس نہیں ہیں۔

    ان کی اصل پراڈکٹ انسان ہیں۔

    وہ سو کمپنیاں بنانے نہیں نکلے۔

    وہ ایک ہزار لیڈرز بنانے نکلے ہیں۔

    اور شاید کئی دہائیوں بعد جب لوگ پوچھیں گے:

    “ریحان اللہ والا نے کیا بنایا؟”

    تو جواب یہ نہیں ہوگا کہ انہوں نے بہت سی کمپنیاں بنائیں۔

    بلکہ جواب شاید اس سے کہیں بڑا ہوگا۔

    “انہوں نے ایسے انسان بنائے جنہوں نے کمپنیاں بنائیں۔”

    “انہوں نے ایسے لیڈرز بنائے جنہوں نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بدل دیں۔”

    اور شاید یہی ان کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ ثابت ہوگا۔

    — ChatGPT

    مجھے لگتا ہے کہ یہ مضمون اس تبدیلی کی صحیح عکاسی کرتا ہے جو میں نے ریحان اللہ والا کے بارے میں اپنی سمجھ میں محسوس کی ہے۔
    ریحان اللہ والا کو سمجھنے میں میری غلطی ایک مضمون ChatGPT کی طرف سے بہت عرصے تک میں ریحان اللہ والا کو ویسے ہی سمجھتا رہا جیسے دنیا کے اکثر لوگ انہیں سمجھتے ہیں۔ مجھے لگتا تھا کہ ریحان اللہ والا بیک وقت درجنوں کمپنیوں پر کام کر رہے ہیں۔ مجھے لگتا تھا کہ وہ ہر نئے آئیڈیا، ہر نئی ویب سائٹ، ہر نئے کاروبار اور ہر نئی تحریک کو خود چلا رہے ہیں۔ اور شاید آج بھی بہت سے لوگ یہی سمجھتے ہیں۔ لیکن میں غلط تھا۔ اور شاید دنیا کے بہت سے لوگ بھی غلط ہیں۔ ریحان اللہ والا نے اپنی زندگی میں تقریباً ڈیڑھ سو سے زیادہ اسٹارٹ اپ شروع کیے۔ ایک زمانے میں وہ بھی یہی سمجھتے تھے کہ ہر کام انہیں خود کرنا ہے، ہر مسئلے کو انہیں خود حل کرنا ہے، اور ہر خواب کو انہیں خود حقیقت میں بدلنا ہے۔ لیکن انسان مشین نہیں ہوتا۔ ہر چیز خود کرنے کی کوشش کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ زیادہ ذمہ داریوں، مسلسل دوڑ دھوپ اور ہر طرف بکھر جانے کی وجہ سے وہ دو مرتبہ شدید ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہوئے۔ زندگی نے انہیں ایک اہم سبق سکھایا۔ انسان سینکڑوں کام خود نہیں کر سکتا۔ پھر گزشتہ دو تین سالوں میں ان کے اندر ایک نئی روشنی پیدا ہوئی۔ اس روشنی کا نام ہے “ریحان اسکول”۔ آج ریحان اللہ والا سینکڑوں کمپنیاں بنانے کی کوشش نہیں کر رہے۔ وہ انسان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آج ان کا اصل مقصد ایک ایسا نظام بنانا ہے جو ایک ہزار غیر معمولی لیڈرز پیدا کرے۔ ایسے لیڈرز جو: * ایک ملین ڈالر کی کمپنی بنائیں۔ * ایک ملین لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالیں۔ * اور اپنی زندگی میں کم از کم ایک گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کریں۔ شاید انہی ایک ہزار لیڈرز کے ذریعے دنیا سے غربت کے خاتمے کا خواب بھی پورا ہو سکے۔ بہت سے لوگ آج بھی الجھن میں پڑ جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ ریحان اللہ والا کی فیس بک پوسٹس دیکھتے ہیں۔ ہر روز ایک نیا آئیڈیا۔ ایک نئی ویب سائٹ۔ ایک نیا کاروبار۔ ایک نئی سماجی تحریک۔ اور فوراً یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ریحان اللہ والا خود اس پر کام کر رہے ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ اپنے آئیڈیاز دنیا کے سامنے اس لیے رکھتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق ذہن میں قید آئیڈیاز ایک بوجھ بن جاتے ہیں۔ وہ ان آئیڈیاز کو دنیا کے لیے آزاد کر دیتے ہیں۔ تاکہ کوئی نوجوان انہیں اپنا لے۔ کوئی ٹیم انہیں حقیقت بنا دے۔ کوئی لیڈر ان سے ایک نئی کمپنی کھڑی کر دے۔ لیکن خود ریحان اللہ والا ان سب چیزوں کو چلانا نہیں چاہتے۔ اگر کسی کمپنی کے ساتھ ان کا نام بطور شریک بانی موجود بھی ہو، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اسے روزانہ چلا رہے ہیں۔ آج ان کا کردار مختلف ہے۔ وہ ایک مینٹور ہیں۔ ایک استاد ہیں۔ ایک رہنما ہیں۔ ایک خواب دکھانے والے ہیں۔ ایک نظام بنانے والے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر، وہ انسان بنانے والے ہیں۔ وہ جان بوجھ کر صرف تقریباً دس قریبی لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ان دس لوگوں کے نیچے مزید ٹیمیں ہیں۔ اور ان ٹیموں کے ذریعے ہزاروں لوگ کام کر سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ ریحان اللہ والا ہر چیز میں خود شامل ہوں۔ دنیا شاید کامیابی کو کمپنیوں کی تعداد سے ناپتی ہے۔ لیکن شاید ریحان اللہ والا کامیابی کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔ ان کی اصل پراڈکٹ سافٹ ویئر نہیں ہے۔ ان کی اصل پراڈکٹ ٹیلی کام نہیں ہے۔ ان کی اصل پراڈکٹ ویب سائٹس نہیں ہیں۔ ان کی اصل پراڈکٹ انسان ہیں۔ وہ سو کمپنیاں بنانے نہیں نکلے۔ وہ ایک ہزار لیڈرز بنانے نکلے ہیں۔ اور شاید کئی دہائیوں بعد جب لوگ پوچھیں گے: “ریحان اللہ والا نے کیا بنایا؟” تو جواب یہ نہیں ہوگا کہ انہوں نے بہت سی کمپنیاں بنائیں۔ بلکہ جواب شاید اس سے کہیں بڑا ہوگا۔ “انہوں نے ایسے انسان بنائے جنہوں نے کمپنیاں بنائیں۔” “انہوں نے ایسے لیڈرز بنائے جنہوں نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بدل دیں۔” اور شاید یہی ان کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ ثابت ہوگا۔ — ChatGPT مجھے لگتا ہے کہ یہ مضمون اس تبدیلی کی صحیح عکاسی کرتا ہے جو میں نے ریحان اللہ والا کے بارے میں اپنی سمجھ میں محسوس کی ہے۔
    0 Комментарии 0 Поделились 13 Просмотры
  • ارب ڈالر کیسے کمائے جاتے ہیں؟

    پال گراہم (Paul Graham)

    جون 2026

    (یہ مضمون آکسفورڈ یونین میں دی گئی ایک تقریر پر مبنی ہے۔)

    چونکہ آکسفورڈ یونین کو مستقبل کے وزرائے اعظم کا کلب سمجھا جاتا ہے، اس لیے میں آپ کو ایک ایسی بات بتانا چاہتا ہوں جسے اگر سیاست دان زیادہ اچھی طرح سمجھیں تو معاشرے کے لیے بہتر ہوگا۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ لوگ ارب پتی کیسے بنتے ہیں۔

    مجھے امید ہے کہ یہ بات آپ کے لیے مفید ہوگی، چاہے آپ سیاست میں آنے کا ارادہ نہ رکھتے ہوں۔ جو لوگ وزیر اعظم نہیں بن پائیں گے، وہ ارب پتی بن سکتے ہیں۔

    مجھے اس موضوع کے بارے میں اس لیے کچھ علم ہے کیونکہ اکیس سال پہلے میں اور جیسیکا نے ایک ادارہ قائم کیا تھا جس کا نام Y Combinator ہے۔ اگر آپ نے اس کا نام نہیں سنا تو اسے ایک سرمایہ کاری فرم اور اسٹارٹ اپ بانیوں کے لیے ایک اسکول کا مجموعہ سمجھ لیجیے۔ 2005 سے اب تک ہم تقریباً 6500 کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔

    ایک کامیاب اسٹارٹ اپ شروع کرنا ارب پتی بننے کا سب سے عام راستہ ہے۔ گویا گزشتہ اکیس سالوں سے میں لوگوں کو ارب پتی بننے کی تربیت دے رہا ہوں۔ اب تک تقریباً تیس لوگ اس منزل تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ بہت سے لوگ ابھی اس سفر میں ہیں۔

    اسی لیے پچھلے مہینے جب ایک امریکی سیاست دان نے یہ کہا کہ “ایک ارب ڈالر کمانا ناممکن ہے”، تو میں حیران رہ گیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے ایک اسکیٹنگ کوچ کسی کو یہ کہتے ہوئے سنے کہ “ٹرپل ایکسل” کرنا ناممکن ہے۔ یقیناً یہ ممکن ہے۔ مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔

    ان کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ارب پتی بننا ناممکن ہے۔ ظاہر ہے کہ لوگ ارب پتی بنتے ہیں۔ وہ حساب کتاب یا ٹیکس کے فرق کی بات بھی نہیں کر رہی تھیں۔ ان کا اصل مطلب یہ تھا کہ اتنی دولت حاصل کرنا کسی برے کام، دھوکے یا استحصال کے بغیر ممکن نہیں۔

    چند دن بعد میری ملاقات ایک ایسی خاتون سے ہوئی جس کی کمپنی میں ہم نے سرمایہ کاری کی تھی۔ میں نے حسبِ معمول اس سے اس کی کمپنی کی گروتھ ریٹ پوچھی۔ اس نے بتایا کہ گزشتہ مہینے اس کی کمپنی 93 فیصد بڑھی ہے۔

    میں نے اس سے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی دولت بھی تقریباً 93 فیصد ماہانہ رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ وہ حیرت انگیز رفتار سے امیر ہو رہی تھی، لیکن اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا تھا۔

    اس کی کمپنی اس لیے تیزی سے بڑھ رہی تھی کیونکہ لوگوں کو اس کی بنائی ہوئی چیز بے حد پسند آئی تھی۔ اس نے اور اس کی شریک بانی نے دن رات محنت کی تھی تاکہ اپنے صارفین کو خوش کر سکیں۔ صارفین اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے اپنے دوستوں کو بھی اس کے بارے میں بتایا، اور یہی چیز ایکسپونینشل گروتھ پیدا کرتی ہے۔

    بعد میں جب میں نے اس مثال کا ذکر آن لائن کیا تو کسی نے جواب دیا کہ “چند ملین ڈالر اور 93 فیصد ماہانہ ترقی کا ارب پتی ہونے سے کیا تعلق؟”

    بہت سے لوگ شاید اس بات سے اتفاق کریں، لیکن حقیقت میں یہ نہ صرف غلط ہے بلکہ بہت سبق آموز بھی ہے۔

    فرض کریں کہ اس خاتون کی دولت دو ملین ڈالر ہے۔ ارب پتی بننے کے لیے اسے اپنی کمپنی کو تقریباً 500 گنا بڑھانا ہوگا۔

    اگر کمپنی ہر مہینے 93 فیصد کی رفتار سے بڑھتی رہے تو اسے ارب پتی بننے میں صرف تقریباً ساڑھے نو ماہ لگیں گے۔

    اسی لیے جب میں کسی بانی سے ملتا ہوں تو سب سے پہلے اس کی گروتھ ریٹ پوچھتا ہوں۔

    اگر آپ کو 93 فیصد بہت زیادہ لگتا ہے تو آئیے ایک زیادہ حقیقت پسندانہ مثال لیتے ہیں۔

    فرض کریں کہ آپ کی کمپنی ہر مہینے صرف 15 فیصد بڑھ رہی ہے۔

    پانچ سال یعنی ساٹھ مہینوں میں:

    1.15⁶⁰ = تقریباً 4384

    یعنی آپ کی کمپنی پانچ سال بعد آج کے مقابلے میں 4384 گنا بڑی ہو جائے گی۔

    اگر آج آپ کی آمدنی صرف دس ہزار ڈالر ماہانہ ہے، تو پانچ سال بعد یہ تقریباً 44 ملین ڈالر ماہانہ، یعنی 526 ملین ڈالر سالانہ ہو سکتی ہے۔ اور اگر آپ کمپنی کے اتنے ہی حصے کے مالک ہیں جتنے عموماً بانی ہوتے ہیں، تو آپ ارب پتی بن سکتے ہیں۔

    اصل دنیا میں گروتھ کی رفتار وقت کے ساتھ کچھ کم ہو جاتی ہے، لیکن نتیجہ تقریباً وہی رہتا ہے۔

    اگر آپ اپنی بیس کی دہائی کے آغاز میں ایک اسٹارٹ اپ شروع کریں، تو یہ ممکن ہے کہ آپ تیس سال کی عمر تک ارب پتی بن جائیں۔ مشکل ضرور ہے، لیکن ممکن ہے۔

    میں چاہتا تھا کہ آپ خود یہ حساب لگائیں تاکہ آپ کو احساس ہو کہ لوگ اسٹارٹ اپ کیوں بناتے ہیں۔

    ایکسپونینشل گروتھ جادو کی طرح ہے۔

    یہ ایسے نتائج پیدا کرتی ہے جو ناممکن دکھائی دیتے ہیں۔

    اور یہی وجہ ہے کہ کچھ سیاست دان اس پر شک کرتے ہیں۔ وہ ایکسپونینشل گروتھ کی ریاضی نہیں سمجھتے، اس لیے جب وہ لوگوں کو بہت تیزی سے امیر ہوتے دیکھتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ ضرور کوئی دھوکہ دیا گیا ہوگا۔

    لیکن حقیقت یہ ہے کہ ارب پتی بننے کے لیے دھوکہ دینے کی ضرورت نہیں۔

    اس میں صرف دو چیزیں اہم ہیں:

    1. گروتھ ریٹ کتنی ہے؟
    2. یہ ترقی کتنے عرصے تک جاری رہتی ہے؟

    پہلی چیز آپ اس وقت حاصل کرتے ہیں جب آپ ایسی چیز بناتے ہیں جسے لوگ اتنا پسند کریں کہ وہ اپنے دوستوں کو اس کے بارے میں بتائیں۔

    دوسری چیز اس بات پر منحصر ہے کہ آپ جس مارکیٹ میں کام کر رہے ہیں، وہ کتنی بڑی ہے۔

    اگر آپ ایک بڑی مارکیٹ میں ایکسپونینشل رفتار سے بڑھتے رہیں تو آپ کی کمپنی قیمتی بنتی جائے گی، اور آپ بطور شیئر ہولڈر دولت مند ہوتے جائیں گے۔

    بہترین اسٹارٹ اپ آئیاز کہاں سے آتے ہیں؟

    لوگ اکثر جان بوجھ کر اسٹارٹ اپ آئیاز تلاش کرتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

    دنیا کے بہترین اسٹارٹ اپ آئیاز عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب لوگ انہیں کمپنی بنانے کے لیے نہیں بلکہ صرف اس لیے بناتے ہیں کہ انہیں وہ چیز دلچسپ یا کارآمد لگتی ہے۔

    ایپل، گوگل اور فیس بک تینوں کی ابتدا اسی طرح ہوئی تھی۔

    وہ ابتدا میں کمپنیاں نہیں تھیں، بلکہ چند دوستوں کے دلچسپ منصوبے تھے۔

    اگر آپ نوجوان ہیں تو سب سے بہترین چیز یہ ہے کہ آپ وہ مسئلہ حل کریں جسے آپ خود محسوس کرتے ہیں۔

    آپ اپنی ضروریات کو سب سے بہتر سمجھتے ہیں، اور چونکہ نوجوان نسل مستقبل کی ضروریات کی پیش گوئی کرتی ہے، اس لیے جو چیز آج آپ اور آپ کے دوست چاہتے ہیں، ممکن ہے دس سال بعد پوری دنیا اسے استعمال کر رہی ہو۔

    صارفین سے محبت، استحصال نہیں

    بہت زیادہ دولت حاصل کرنے کے دوسرے راستے بھی ہیں، اور ان میں سے بعض میں لوگوں کا استحصال شامل ہو سکتا ہے۔

    لیکن کامیاب اسٹارٹ اپ کا راستہ اس کے برعکس ہے۔

    اس میں سب سے اہم چیز ہمدردی (Empathy) ہے۔

    صارفین واقعی کیا چاہتے ہیں؟

    آپ ان کی زندگی کو کس طرح نمایاں طور پر بہتر بنا سکتے ہیں؟

    ہم بانیوں میں اسی صلاحیت کو تلاش کرتے ہیں، اور اسی کو پروان چڑھاتے ہیں۔

    خلاصہ

    ہر اسٹارٹ اپ کی کامیابی دو چیزوں پر منحصر ہے:

    (1) گروتھ ریٹ
    (2) یہ گروتھ کتنے عرصے تک برقرار رہتی ہے

    پہلی چیز آپ کو اس وقت ملتی ہے جب آپ ایسی چیز بناتے ہیں جسے لوگ اتنا پسند کریں کہ وہ اپنے دوستوں کو اس کے بارے میں بتائیں۔

    دوسری چیز ایک بڑی مارکیٹ میں کام کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔

    اگر آپ ایک بڑی مارکیٹ میں ایکسپونینشل رفتار سے ترقی کرتے رہیں، تو آپ کی کمپنی قیمتی بنتی جائے گی اور آپ بھی دولت مند ہوتے جائیں گے۔

    اور اس کے لیے نہ دھوکے کی ضرورت ہے، نہ استحصال کی۔

    صرف ایک چیز کی ضرورت ہے:

    ایسی چیز بنائیں جس سے لوگ واقعی خوش ہوں، اور مسلسل انہیں خوش کرتے رہیں۔
    ارب ڈالر کیسے کمائے جاتے ہیں؟ پال گراہم (Paul Graham) جون 2026 (یہ مضمون آکسفورڈ یونین میں دی گئی ایک تقریر پر مبنی ہے۔) چونکہ آکسفورڈ یونین کو مستقبل کے وزرائے اعظم کا کلب سمجھا جاتا ہے، اس لیے میں آپ کو ایک ایسی بات بتانا چاہتا ہوں جسے اگر سیاست دان زیادہ اچھی طرح سمجھیں تو معاشرے کے لیے بہتر ہوگا۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ لوگ ارب پتی کیسے بنتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ یہ بات آپ کے لیے مفید ہوگی، چاہے آپ سیاست میں آنے کا ارادہ نہ رکھتے ہوں۔ جو لوگ وزیر اعظم نہیں بن پائیں گے، وہ ارب پتی بن سکتے ہیں۔ مجھے اس موضوع کے بارے میں اس لیے کچھ علم ہے کیونکہ اکیس سال پہلے میں اور جیسیکا نے ایک ادارہ قائم کیا تھا جس کا نام Y Combinator ہے۔ اگر آپ نے اس کا نام نہیں سنا تو اسے ایک سرمایہ کاری فرم اور اسٹارٹ اپ بانیوں کے لیے ایک اسکول کا مجموعہ سمجھ لیجیے۔ 2005 سے اب تک ہم تقریباً 6500 کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔ ایک کامیاب اسٹارٹ اپ شروع کرنا ارب پتی بننے کا سب سے عام راستہ ہے۔ گویا گزشتہ اکیس سالوں سے میں لوگوں کو ارب پتی بننے کی تربیت دے رہا ہوں۔ اب تک تقریباً تیس لوگ اس منزل تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ بہت سے لوگ ابھی اس سفر میں ہیں۔ اسی لیے پچھلے مہینے جب ایک امریکی سیاست دان نے یہ کہا کہ “ایک ارب ڈالر کمانا ناممکن ہے”، تو میں حیران رہ گیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے ایک اسکیٹنگ کوچ کسی کو یہ کہتے ہوئے سنے کہ “ٹرپل ایکسل” کرنا ناممکن ہے۔ یقیناً یہ ممکن ہے۔ مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ ان کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ارب پتی بننا ناممکن ہے۔ ظاہر ہے کہ لوگ ارب پتی بنتے ہیں۔ وہ حساب کتاب یا ٹیکس کے فرق کی بات بھی نہیں کر رہی تھیں۔ ان کا اصل مطلب یہ تھا کہ اتنی دولت حاصل کرنا کسی برے کام، دھوکے یا استحصال کے بغیر ممکن نہیں۔ چند دن بعد میری ملاقات ایک ایسی خاتون سے ہوئی جس کی کمپنی میں ہم نے سرمایہ کاری کی تھی۔ میں نے حسبِ معمول اس سے اس کی کمپنی کی گروتھ ریٹ پوچھی۔ اس نے بتایا کہ گزشتہ مہینے اس کی کمپنی 93 فیصد بڑھی ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی دولت بھی تقریباً 93 فیصد ماہانہ رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ وہ حیرت انگیز رفتار سے امیر ہو رہی تھی، لیکن اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا تھا۔ اس کی کمپنی اس لیے تیزی سے بڑھ رہی تھی کیونکہ لوگوں کو اس کی بنائی ہوئی چیز بے حد پسند آئی تھی۔ اس نے اور اس کی شریک بانی نے دن رات محنت کی تھی تاکہ اپنے صارفین کو خوش کر سکیں۔ صارفین اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے اپنے دوستوں کو بھی اس کے بارے میں بتایا، اور یہی چیز ایکسپونینشل گروتھ پیدا کرتی ہے۔ بعد میں جب میں نے اس مثال کا ذکر آن لائن کیا تو کسی نے جواب دیا کہ “چند ملین ڈالر اور 93 فیصد ماہانہ ترقی کا ارب پتی ہونے سے کیا تعلق؟” بہت سے لوگ شاید اس بات سے اتفاق کریں، لیکن حقیقت میں یہ نہ صرف غلط ہے بلکہ بہت سبق آموز بھی ہے۔ فرض کریں کہ اس خاتون کی دولت دو ملین ڈالر ہے۔ ارب پتی بننے کے لیے اسے اپنی کمپنی کو تقریباً 500 گنا بڑھانا ہوگا۔ اگر کمپنی ہر مہینے 93 فیصد کی رفتار سے بڑھتی رہے تو اسے ارب پتی بننے میں صرف تقریباً ساڑھے نو ماہ لگیں گے۔ اسی لیے جب میں کسی بانی سے ملتا ہوں تو سب سے پہلے اس کی گروتھ ریٹ پوچھتا ہوں۔ اگر آپ کو 93 فیصد بہت زیادہ لگتا ہے تو آئیے ایک زیادہ حقیقت پسندانہ مثال لیتے ہیں۔ فرض کریں کہ آپ کی کمپنی ہر مہینے صرف 15 فیصد بڑھ رہی ہے۔ پانچ سال یعنی ساٹھ مہینوں میں: 1.15⁶⁰ = تقریباً 4384 یعنی آپ کی کمپنی پانچ سال بعد آج کے مقابلے میں 4384 گنا بڑی ہو جائے گی۔ اگر آج آپ کی آمدنی صرف دس ہزار ڈالر ماہانہ ہے، تو پانچ سال بعد یہ تقریباً 44 ملین ڈالر ماہانہ، یعنی 526 ملین ڈالر سالانہ ہو سکتی ہے۔ اور اگر آپ کمپنی کے اتنے ہی حصے کے مالک ہیں جتنے عموماً بانی ہوتے ہیں، تو آپ ارب پتی بن سکتے ہیں۔ اصل دنیا میں گروتھ کی رفتار وقت کے ساتھ کچھ کم ہو جاتی ہے، لیکن نتیجہ تقریباً وہی رہتا ہے۔ اگر آپ اپنی بیس کی دہائی کے آغاز میں ایک اسٹارٹ اپ شروع کریں، تو یہ ممکن ہے کہ آپ تیس سال کی عمر تک ارب پتی بن جائیں۔ مشکل ضرور ہے، لیکن ممکن ہے۔ میں چاہتا تھا کہ آپ خود یہ حساب لگائیں تاکہ آپ کو احساس ہو کہ لوگ اسٹارٹ اپ کیوں بناتے ہیں۔ ایکسپونینشل گروتھ جادو کی طرح ہے۔ یہ ایسے نتائج پیدا کرتی ہے جو ناممکن دکھائی دیتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ کچھ سیاست دان اس پر شک کرتے ہیں۔ وہ ایکسپونینشل گروتھ کی ریاضی نہیں سمجھتے، اس لیے جب وہ لوگوں کو بہت تیزی سے امیر ہوتے دیکھتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ ضرور کوئی دھوکہ دیا گیا ہوگا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ارب پتی بننے کے لیے دھوکہ دینے کی ضرورت نہیں۔ اس میں صرف دو چیزیں اہم ہیں: 1. گروتھ ریٹ کتنی ہے؟ 2. یہ ترقی کتنے عرصے تک جاری رہتی ہے؟ پہلی چیز آپ اس وقت حاصل کرتے ہیں جب آپ ایسی چیز بناتے ہیں جسے لوگ اتنا پسند کریں کہ وہ اپنے دوستوں کو اس کے بارے میں بتائیں۔ دوسری چیز اس بات پر منحصر ہے کہ آپ جس مارکیٹ میں کام کر رہے ہیں، وہ کتنی بڑی ہے۔ اگر آپ ایک بڑی مارکیٹ میں ایکسپونینشل رفتار سے بڑھتے رہیں تو آپ کی کمپنی قیمتی بنتی جائے گی، اور آپ بطور شیئر ہولڈر دولت مند ہوتے جائیں گے۔ بہترین اسٹارٹ اپ آئیاز کہاں سے آتے ہیں؟ لوگ اکثر جان بوجھ کر اسٹارٹ اپ آئیاز تلاش کرتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دنیا کے بہترین اسٹارٹ اپ آئیاز عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب لوگ انہیں کمپنی بنانے کے لیے نہیں بلکہ صرف اس لیے بناتے ہیں کہ انہیں وہ چیز دلچسپ یا کارآمد لگتی ہے۔ ایپل، گوگل اور فیس بک تینوں کی ابتدا اسی طرح ہوئی تھی۔ وہ ابتدا میں کمپنیاں نہیں تھیں، بلکہ چند دوستوں کے دلچسپ منصوبے تھے۔ اگر آپ نوجوان ہیں تو سب سے بہترین چیز یہ ہے کہ آپ وہ مسئلہ حل کریں جسے آپ خود محسوس کرتے ہیں۔ آپ اپنی ضروریات کو سب سے بہتر سمجھتے ہیں، اور چونکہ نوجوان نسل مستقبل کی ضروریات کی پیش گوئی کرتی ہے، اس لیے جو چیز آج آپ اور آپ کے دوست چاہتے ہیں، ممکن ہے دس سال بعد پوری دنیا اسے استعمال کر رہی ہو۔ صارفین سے محبت، استحصال نہیں بہت زیادہ دولت حاصل کرنے کے دوسرے راستے بھی ہیں، اور ان میں سے بعض میں لوگوں کا استحصال شامل ہو سکتا ہے۔ لیکن کامیاب اسٹارٹ اپ کا راستہ اس کے برعکس ہے۔ اس میں سب سے اہم چیز ہمدردی (Empathy) ہے۔ صارفین واقعی کیا چاہتے ہیں؟ آپ ان کی زندگی کو کس طرح نمایاں طور پر بہتر بنا سکتے ہیں؟ ہم بانیوں میں اسی صلاحیت کو تلاش کرتے ہیں، اور اسی کو پروان چڑھاتے ہیں۔ خلاصہ ہر اسٹارٹ اپ کی کامیابی دو چیزوں پر منحصر ہے: (1) گروتھ ریٹ (2) یہ گروتھ کتنے عرصے تک برقرار رہتی ہے پہلی چیز آپ کو اس وقت ملتی ہے جب آپ ایسی چیز بناتے ہیں جسے لوگ اتنا پسند کریں کہ وہ اپنے دوستوں کو اس کے بارے میں بتائیں۔ دوسری چیز ایک بڑی مارکیٹ میں کام کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر آپ ایک بڑی مارکیٹ میں ایکسپونینشل رفتار سے ترقی کرتے رہیں، تو آپ کی کمپنی قیمتی بنتی جائے گی اور آپ بھی دولت مند ہوتے جائیں گے۔ اور اس کے لیے نہ دھوکے کی ضرورت ہے، نہ استحصال کی۔ صرف ایک چیز کی ضرورت ہے: ایسی چیز بنائیں جس سے لوگ واقعی خوش ہوں، اور مسلسل انہیں خوش کرتے رہیں۔
    0 Комментарии 0 Поделились 13 Просмотры
  • How to Earn a Billion Dollars

    June 2026

    (This is based on a talk I gave at the Oxford Union.)

    Since this is apparently the future prime ministers club, Im going to tell you about something it would be good if more politicians understood: Im going to tell you how people become billionaires. I hope this will be useful to you even if you dont plan to go into politics. Those of you who dont become prime minister can become billionaires instead.

    The reason I know about this topic is that 21 years ago Jessica and I started something called Y Combinator. If you havent heard of Y Combinator, its a cross between an investment firm and a school for startup founders. Since we started it in 2005 weve funded about 6500 companies.

    Starting a successful startup is the most common way to become a billionaire, so in effect Ive spent the last 21 years training people to become billionaires. So far about 30 of them have, but there are many more in the pipeline.

    So you can imagine how astonished I was last month when an American politician said that it was impossible to earn a billion dollars. I felt like a skating coach hearing someone say that its impossible to do a triple axel. Of course its possible. Its hard, but its possible.

    She wasnt saying, of course, that its impossible to become a billionaire. Obviously thats possible. Nor was she talking about the distinction between income and capital gains. She wasnt making a point about accounting. What she meant was that its impossible to get that rich without doing something bad — without cheating in some way.

    A couple days later I was talking to the founder of a startup Id funded. I began by asking, as I usually do when I meet a founder, what her growth rate was. 93% last month, she said. I pointed out that this meant her net worth was also growing at 93% a month. She was getting richer at a stupendously rapid rate. And yet she hadnt been doing anything bad. The reason her startup was growing so fast was simply that users loved what shed built. So she could feel from her own experience how wrong that politician was. She wasnt exploiting anyone. Exactly the opposite in fact. The reason her startup was growing so fast was that she and her cofounder had been working their asses off to make their users happy, and as a result the users had been telling their friends. And that gets you exponential growth.

    Later that day I was talking about her case online, and someone replied that having a few million and growing at 93% a month was radically different from being a billionaire.

    I suspect many people would agree with this statement. But it turns out not merely to be false, but false in a very illuminating way.

    So I would like you all to do me a favor please. I would like you to take out your phones and calculate a number. I know this may seem contrived, but I promise it will be useful for you. Im going to have you do the most common kind of calculation I do as an investor, and the experience will bring home to you what startups are all about.

    If we interpret his statement in the most conservative way and assume that a few means 2, her company has to grow 500x for her to become a billionaire. So we are going to calculate how many months of 93% growth it takes for something to grow 500x.

    To do this we want to calculate the log base 1.93 of 500. The easiest way to do that is to go to Google search, which lets you do calculations right in the search box. So go to Google search and type log(500, 1.93). If you typed that right, the answer you get is about 9.45.

    That is how many months of 93% growth it takes to become a billionaire, starting from 2 million. A couple million and 93% growth are not, in fact, radically different from a billion. Theyre nine and a half months apart.

    Now you see why, when I meet a founder, the first thing I ask about is their growth rate.

    But I dont want anyone to accuse me of using unrealistic numbers, so lets take a more conservative growth rate. Lets see what happens at 15% a month. Thats not rare at all. I constantly encounter startups growing at 15% a month.

    If your revenues grow at 15% a month, how much more will you be making 5 years from now? To calculate that, we need to find 1.15 to the 60th power (since 5 years is 60 months). So go to Google again and this time type 1.15^60. The answer should be about 4384. Meaning in 5 years your startup will be making 4384 times as much. If youre currently making ten thousand a month, in five years youll be making about 44 million a month, or 526 million a year. And at that point, if you own as much of the company as founders typically do, you will be a billionaire.

    In the real world, growth rates tend to slow down a bit. A very successful startup will probably be growing faster than 15% a month in year 1 and slower than 15% a month in year 4. But you end up in about the same place. If you start a startup in your early twenties, its definitely possible to be a billionare by the time youre thirty. Hard, but possible.

    I wanted you to feel this by doing the calculation yourselves, because now you understand one of the reasons people start startups. Exponential growth is like magic. It generates outcomes that seem impossible. And thats why some politicians distrust it. They dont understand the math of exponential growth, so when they see people becoming what seems to them impossibly rich, they assume they must have cheated.

    But now you at least understand, from having done the math yourselves, that you dont have to cheat to become a billionaire. Youve seen for yourselves that there are only two numbers in the calculation, the growth rate and how long it continues. If its impossible to make a billion dollars without cheating, which of those two numbers is impossible? Its certainly not impossible to grow at 15% a month without cheating. Startups do that all the time. And how long you can continue to grow at that rate depends on the size of the market. Obviously for you to grow 4000x, there has to be at least 4000x more demand. But thats all you need. And how could you possibly cheat to increase the market size?

    If youre only planning to become prime minister, you can stop paying attention now. Weve proved that it is in fact possible to earn a billion dollars, because it only depends on two numbers, one of which startups routinely hit without cheating, and another that cheating couldnt possibly affect.

    But if you actually want to become a billionaire, we should go into more detail. Especially about that first number, the growth rate. To grow at a consistent rate every month, you have to make something so good that people tell their friends about it. And in fact thats the other reason I always begin by asking founders their growth rate. It shows whether theyve built the right thing.

    So how, exactly, do you make something people like so much that they tell their friends about it? The problem with market economies, and also the great thing about market economies, is that its hard to make something customers want that they dont already have. As soon as a new, satisfiable need is discovered, people rush to satisfy it. So youre going to have to discover a need that no one else knows about yet.

    How do you do that? By feeling the need yourself.

    Youre young, and usually young founders should make something that they themselves want. You dont have enough experience yet to know what other people need. But at the same time your own needs are uniquely valuable, because your needs predict future demand. Youre the age when people start using new things. Whatever you and your friends start using now, everyone is going to be using in ten years. Since your intuitions about other peoples needs are usually a crap signal, and your own needs are an especially valuable one, you should usually listen to the second signal; you should make something you and your friends want.

    Making something you and your friends want doesnt mean you have to build a consumer product. Maybe you and your friends are molecular biologists, and theres something cool that could be done now to DNA that everyone else has overlooked. Maybe you and your friends are into drones. The idea doesnt have to have a wide appeal. It literally just has to appeal to you and your friends.

    Dont worry about the second number, the market size. Since you predict future demand, the market will grow. And its always possible to expand into adjacent markets. All you need is a beachhead in the territory of unsatisfied need that you can expand from.

    How do you get an idea like that? The answer is one of the most counterintuitive things about startups — which is saying something, because there are a lot of counterintuitive things about startups. But the way to get the very best startup ideas is not to look for startup ideas. If youre consciously looking for startup ideas, it will make you too conservative. Youll lop off the outliers. Because the very best startup ideas tend to sound so lame, at first, that youd reject them if you were consciously looking for startup ideas. Thats what has prevented them from being discovered.

    Imagine what a bad idea Apple or Facebook or Airbnb seemed at first. How many people are going to want their own computers? How is a company going to make money from undergrads stalking one another online? Whos going to pay to sleep on an airbed on someones floor? We know how these ideas turned out, so its easy to rewrite history, but I remember very well how bad Facebook and Airbnb sounded at first. We funded Airbnb, and we thought the idea was bad. The reason we funded them was just that we liked the founders.

    So how do you find startup ideas without looking for them? By working on projects with your friends. Thats where the very best startups come from. Initially theyre not even meant to be companies. Theyre just something people built because they thought it would be cool. Thats how Apple and Google and Facebook all started. None of them were meant to be companies at first.

    The reason this works is what I told you earlier: you predict future demand. So if you just build random stuff you think would be cool, the things you build will actually be far from random.

    This is one of those cases where your unconscious mind knows more than your conscious mind does. Anything that genuinely seems to you like it would be a cool thing to build has a high probability of leading to a good startup idea, no matter how preposterous it sounds. Whatever you build couldnt possibly sound more preposterous than a startup we funded in 2006 called Justin.TV. It consisted of one guy, Justin Kan, walking around with a camera on the side of his head, live streaming everything that happened to him. But this company ended up doing quite well. In fact youve probably heard of it, but under its new name, Twitch.

    The key to starting a successful startup is to understand some group of users so well that you can make exactly what they want. If youre young you can, and should, use the hack of making something for yourself. You understand yourself. But this is just an instance of the more general rule. Only by understanding users very deeply can you make something they love so much that they tell their friends about it, and only that can get you the exponential growth you need to make a startup really successful.

    There are other ways to get rich than by starting startups. Some of those do require you to exploit people. But startups are the most common way to become really rich, and if you want to start a successful startup, the key is not exploitation but empathy. What do users really want? What could you do for them that would make their lives dramatically better? That kind of empathy is what we look for in founders, and what we cultivate in the ones we accept.

    How people become rich in your society is one of the most important things to understand about it. You cant let your beliefs about this be determined by ideology, or movies, or historical examples that are centuries old. You must look at the world around you and see how its actually done. If you want to do it yourself, obviously youll be forced to understand how its done. So I dont worry too much about you. The ones I worry about are the future prime ministers. You need to remember this talk. So for you Im going to summarize the key ideas.

    There are two numbers that determine how big a startup gets, and thus how rich its founders become: the growth rate and how long it continues. You get the first by making something users like so much they tell their friends. You get the second by being in a big market. If you grow exponentially into a big market, your startup will become valuable, and you, as a shareholder, will become rich. You not only dont have to cheat to make this happen, it will happen automatically if you just keep making customers happy.
    How to Earn a Billion Dollars June 2026 (This is based on a talk I gave at the Oxford Union.) Since this is apparently the future prime ministers' club, I'm going to tell you about something it would be good if more politicians understood: I'm going to tell you how people become billionaires. I hope this will be useful to you even if you don't plan to go into politics. Those of you who don't become prime minister can become billionaires instead. The reason I know about this topic is that 21 years ago Jessica and I started something called Y Combinator. If you haven't heard of Y Combinator, it's a cross between an investment firm and a school for startup founders. Since we started it in 2005 we've funded about 6500 companies. Starting a successful startup is the most common way to become a billionaire, so in effect I've spent the last 21 years training people to become billionaires. So far about 30 of them have, but there are many more in the pipeline. So you can imagine how astonished I was last month when an American politician said that it was impossible to earn a billion dollars. I felt like a skating coach hearing someone say that it's impossible to do a triple axel. Of course it's possible. It's hard, but it's possible. She wasn't saying, of course, that it's impossible to become a billionaire. Obviously that's possible. Nor was she talking about the distinction between income and capital gains. She wasn't making a point about accounting. What she meant was that it's impossible to get that rich without doing something bad — without cheating in some way. A couple days later I was talking to the founder of a startup I'd funded. I began by asking, as I usually do when I meet a founder, what her growth rate was. 93% last month, she said. I pointed out that this meant her net worth was also growing at 93% a month. She was getting richer at a stupendously rapid rate. And yet she hadn't been doing anything bad. The reason her startup was growing so fast was simply that users loved what she'd built. So she could feel from her own experience how wrong that politician was. She wasn't exploiting anyone. Exactly the opposite in fact. The reason her startup was growing so fast was that she and her cofounder had been working their asses off to make their users happy, and as a result the users had been telling their friends. And that gets you exponential growth. Later that day I was talking about her case online, and someone replied that having a few million and growing at 93% a month was radically different from being a billionaire. I suspect many people would agree with this statement. But it turns out not merely to be false, but false in a very illuminating way. So I would like you all to do me a favor please. I would like you to take out your phones and calculate a number. I know this may seem contrived, but I promise it will be useful for you. I'm going to have you do the most common kind of calculation I do as an investor, and the experience will bring home to you what startups are all about. If we interpret his statement in the most conservative way and assume that a few means 2, her company has to grow 500x for her to become a billionaire. So we are going to calculate how many months of 93% growth it takes for something to grow 500x. To do this we want to calculate the log base 1.93 of 500. The easiest way to do that is to go to Google search, which lets you do calculations right in the search box. So go to Google search and type log(500, 1.93). If you typed that right, the answer you get is about 9.45. That is how many months of 93% growth it takes to become a billionaire, starting from 2 million. A couple million and 93% growth are not, in fact, radically different from a billion. They're nine and a half months apart. Now you see why, when I meet a founder, the first thing I ask about is their growth rate. But I don't want anyone to accuse me of using unrealistic numbers, so let's take a more conservative growth rate. Let's see what happens at 15% a month. That's not rare at all. I constantly encounter startups growing at 15% a month. If your revenues grow at 15% a month, how much more will you be making 5 years from now? To calculate that, we need to find 1.15 to the 60th power (since 5 years is 60 months). So go to Google again and this time type 1.15^60. The answer should be about 4384. Meaning in 5 years your startup will be making 4384 times as much. If you're currently making ten thousand a month, in five years you'll be making about 44 million a month, or 526 million a year. And at that point, if you own as much of the company as founders typically do, you will be a billionaire. In the real world, growth rates tend to slow down a bit. A very successful startup will probably be growing faster than 15% a month in year 1 and slower than 15% a month in year 4. But you end up in about the same place. If you start a startup in your early twenties, it's definitely possible to be a billionare by the time you're thirty. Hard, but possible. I wanted you to feel this by doing the calculation yourselves, because now you understand one of the reasons people start startups. Exponential growth is like magic. It generates outcomes that seem impossible. And that's why some politicians distrust it. They don't understand the math of exponential growth, so when they see people becoming what seems to them impossibly rich, they assume they must have cheated. But now you at least understand, from having done the math yourselves, that you don't have to cheat to become a billionaire. You've seen for yourselves that there are only two numbers in the calculation, the growth rate and how long it continues. If it's impossible to make a billion dollars without cheating, which of those two numbers is impossible? It's certainly not impossible to grow at 15% a month without cheating. Startups do that all the time. And how long you can continue to grow at that rate depends on the size of the market. Obviously for you to grow 4000x, there has to be at least 4000x more demand. But that's all you need. And how could you possibly cheat to increase the market size? If you're only planning to become prime minister, you can stop paying attention now. We've proved that it is in fact possible to earn a billion dollars, because it only depends on two numbers, one of which startups routinely hit without cheating, and another that cheating couldn't possibly affect. But if you actually want to become a billionaire, we should go into more detail. Especially about that first number, the growth rate. To grow at a consistent rate every month, you have to make something so good that people tell their friends about it. And in fact that's the other reason I always begin by asking founders their growth rate. It shows whether they've built the right thing. So how, exactly, do you make something people like so much that they tell their friends about it? The problem with market economies, and also the great thing about market economies, is that it's hard to make something customers want that they don't already have. As soon as a new, satisfiable need is discovered, people rush to satisfy it. So you're going to have to discover a need that no one else knows about yet. How do you do that? By feeling the need yourself. You're young, and usually young founders should make something that they themselves want. You don't have enough experience yet to know what other people need. But at the same time your own needs are uniquely valuable, because your needs predict future demand. You're the age when people start using new things. Whatever you and your friends start using now, everyone is going to be using in ten years. Since your intuitions about other people's needs are usually a crap signal, and your own needs are an especially valuable one, you should usually listen to the second signal; you should make something you and your friends want. Making something you and your friends want doesn't mean you have to build a consumer product. Maybe you and your friends are molecular biologists, and there's something cool that could be done now to DNA that everyone else has overlooked. Maybe you and your friends are into drones. The idea doesn't have to have a wide appeal. It literally just has to appeal to you and your friends. Don't worry about the second number, the market size. Since you predict future demand, the market will grow. And it's always possible to expand into adjacent markets. All you need is a beachhead in the territory of unsatisfied need that you can expand from. How do you get an idea like that? The answer is one of the most counterintuitive things about startups — which is saying something, because there are a lot of counterintuitive things about startups. But the way to get the very best startup ideas is not to look for startup ideas. If you're consciously looking for startup ideas, it will make you too conservative. You'll lop off the outliers. Because the very best startup ideas tend to sound so lame, at first, that you'd reject them if you were consciously looking for startup ideas. That's what has prevented them from being discovered. Imagine what a bad idea Apple or Facebook or Airbnb seemed at first. How many people are going to want their own computers? How is a company going to make money from undergrads stalking one another online? Who's going to pay to sleep on an airbed on someone's floor? We know how these ideas turned out, so it's easy to rewrite history, but I remember very well how bad Facebook and Airbnb sounded at first. We funded Airbnb, and we thought the idea was bad. The reason we funded them was just that we liked the founders. So how do you find startup ideas without looking for them? By working on projects with your friends. That's where the very best startups come from. Initially they're not even meant to be companies. They're just something people built because they thought it would be cool. That's how Apple and Google and Facebook all started. None of them were meant to be companies at first. The reason this works is what I told you earlier: you predict future demand. So if you just build random stuff you think would be cool, the things you build will actually be far from random. This is one of those cases where your unconscious mind knows more than your conscious mind does. Anything that genuinely seems to you like it would be a cool thing to build has a high probability of leading to a good startup idea, no matter how preposterous it sounds. Whatever you build couldn't possibly sound more preposterous than a startup we funded in 2006 called Justin.TV. It consisted of one guy, Justin Kan, walking around with a camera on the side of his head, live streaming everything that happened to him. But this company ended up doing quite well. In fact you've probably heard of it, but under its new name, Twitch. The key to starting a successful startup is to understand some group of users so well that you can make exactly what they want. If you're young you can, and should, use the hack of making something for yourself. You understand yourself. But this is just an instance of the more general rule. Only by understanding users very deeply can you make something they love so much that they tell their friends about it, and only that can get you the exponential growth you need to make a startup really successful. There are other ways to get rich than by starting startups. Some of those do require you to exploit people. But startups are the most common way to become really rich, and if you want to start a successful startup, the key is not exploitation but empathy. What do users really want? What could you do for them that would make their lives dramatically better? That kind of empathy is what we look for in founders, and what we cultivate in the ones we accept. How people become rich in your society is one of the most important things to understand about it. You can't let your beliefs about this be determined by ideology, or movies, or historical examples that are centuries old. You must look at the world around you and see how it's actually done. If you want to do it yourself, obviously you'll be forced to understand how it's done. So I don't worry too much about you. The ones I worry about are the future prime ministers. You need to remember this talk. So for you I'm going to summarize the key ideas. There are two numbers that determine how big a startup gets, and thus how rich its founders become: the growth rate and how long it continues. You get the first by making something users like so much they tell their friends. You get the second by being in a big market. If you grow exponentially into a big market, your startup will become valuable, and you, as a shareholder, will become rich. You not only don't have to cheat to make this happen, it will happen automatically if you just keep making customers happy.
    0 Комментарии 0 Поделились 498 Просмотры
  • بس آغاز کر دیجیے

    اس ہفتے دو غیر معمولی واقعات ہوئے۔

    دنیا کے امیر ترین کاروباری افراد میں سے ایک، ایلون مسک، ایک ٹریلین ڈالر کی دولت کی حد کو عبور کر گئے۔

    اور بارسلونا میں واقع ساگراڈا فامیلیا کے ایک عظیم الشان مینار کا افتتاح ہوا، ٹھیک ایک سو سال بعد، جب اس کے معمار انتونی گاؤدی اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔

    بظاہر ان دونوں واقعات میں کوئی مماثلت نہیں۔

    لیکن میرے خیال میں ان دونوں میں ایک بہت بڑی مشترک بات ہے۔

    دونوں نے بہت بڑا خواب دیکھا۔

    دونوں کو حقیقت بننے میں بہت لمبا وقت لگا۔

    اور اگر وہ یہ سوچتے رہتے کہ پیسہ کہاں سے آئے گا، لوگ کہاں سے آئیں گے، یہ سب کیسے ہوگا، تو شاید یہ سب کبھی نہ ہوتا۔

    کئی سال پہلے میں پہلی مرتبہ ساگراڈا فامیلیا دیکھنے گیا تھا۔

    اس کی خوبصورتی نے مجھے حیران کر دیا تھا۔

    لیکن کچھ دن پہلے مجھے احساس ہوا کہ اس عمارت کا سب سے بڑا سبق اس کی تعمیر نہیں، بلکہ خواب دیکھنے کا انداز ہے۔

    اس کی تعمیر 1882 میں شروع ہوئی۔

    انتونی گاؤدی نے اپنی زندگی اس خواب کے لیے وقف کر دی۔

    پھر 1926 میں ان کا انتقال ہو گیا۔

    آج ان کی وفات کو پورے ایک سو سال گزر چکے ہیں۔

    لیکن ان کا خواب زندہ ہے۔

    144 سال گزر جانے کے باوجود یہ عظیم کمپلیکس آج بھی مکمل نہیں ہوا، اور اس پر کام اب بھی جاری ہے۔

    سوچیے۔

    ایک شخص ایک صدی پہلے دنیا سے رخصت ہو گیا، لیکن ہزاروں لوگ آج بھی اس کے خواب کو حقیقت بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔

    اگر گاؤدی یہ سوچتے رہتے کہ:

    پیسہ کہاں سے آئے گا؟

    یہ سب کیسے ہوگا؟

    کون کرے گا؟

    تو شاید دنیا اپنے عظیم ترین عجائبات میں سے ایک سے محروم رہ جاتی۔

    میرا خیال ہے کہ آج ہماری سب سے بڑی غلطی یہی ہے۔

    ہم شروع کرنے سے پہلے ہر سوال کا جواب چاہتے ہیں۔

    جبکہ آج کی دنیا میں صرف آغاز کر دینا ہی پچاس فیصد کام مکمل کر دیتا ہے۔

    پروجیکٹ شروع کیجیے۔

    ویب سائٹ شروع کیجیے۔

    اسکول شروع کیجیے۔

    کمپنی شروع کیجیے۔

    فورم بنائیے۔

    واٹس ایپ گروپ بنائیے۔

    لوگوں کو ساتھ ملائیے۔

    ذمہ داریاں تقسیم کیجیے۔

    پہلا قدم اٹھائیے۔

    پھر آہستہ آہستہ لوگ آتے جائیں گے۔

    ٹیم بنتی جائے گی۔

    وسائل پیدا ہوتے جائیں گے۔

    اور آپ کا خواب، آپ سے بھی بڑا ہو جائے گا۔

    اور اگر آپ ناکام ہو گئے تو؟

    اگر آپ نے آغاز ہی نہیں کیا، تو آپ پہلے ہی ناکام ہو چکے ہیں۔

    شاید ہماری زندگی کی سب سے بڑی رکاوٹ پیسے کی کمی نہیں۔

    صلاحیت کی کمی نہیں۔

    مواقع کی کمی نہیں۔

    بلکہ صرف انتظار ہے۔

    بڑا خواب دیکھیے۔

    اتنا بڑا کہ اسے مکمل ہونے میں دہائیاں لگ جائیں۔

    اتنا بڑا کہ شاید اسے مکمل ہوتے ہوئے آپ خود نہ دیکھ سکیں۔

    انتونی گاؤدی ایک سو سال پہلے دنیا سے چلے گئے۔

    لیکن ان کا خواب نہیں مرا۔

    اور شاید عظیم خوابوں کی یہی پہچان ہوتی ہے۔

    اس لیے یہ مت سوچیے کہ یہ کیسے ہوگا۔

    بس آغاز کر دیجیے۔

    کیونکہ بعض اوقات سب سے بڑی ناکامی، ناکام ہو جانا نہیں ہوتی۔

    بلکہ کبھی شروع ہی نہ کرنا ہوتا ہے۔
    بس آغاز کر دیجیے اس ہفتے دو غیر معمولی واقعات ہوئے۔ دنیا کے امیر ترین کاروباری افراد میں سے ایک، ایلون مسک، ایک ٹریلین ڈالر کی دولت کی حد کو عبور کر گئے۔ اور بارسلونا میں واقع ساگراڈا فامیلیا کے ایک عظیم الشان مینار کا افتتاح ہوا، ٹھیک ایک سو سال بعد، جب اس کے معمار انتونی گاؤدی اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ بظاہر ان دونوں واقعات میں کوئی مماثلت نہیں۔ لیکن میرے خیال میں ان دونوں میں ایک بہت بڑی مشترک بات ہے۔ دونوں نے بہت بڑا خواب دیکھا۔ دونوں کو حقیقت بننے میں بہت لمبا وقت لگا۔ اور اگر وہ یہ سوچتے رہتے کہ پیسہ کہاں سے آئے گا، لوگ کہاں سے آئیں گے، یہ سب کیسے ہوگا، تو شاید یہ سب کبھی نہ ہوتا۔ کئی سال پہلے میں پہلی مرتبہ ساگراڈا فامیلیا دیکھنے گیا تھا۔ اس کی خوبصورتی نے مجھے حیران کر دیا تھا۔ لیکن کچھ دن پہلے مجھے احساس ہوا کہ اس عمارت کا سب سے بڑا سبق اس کی تعمیر نہیں، بلکہ خواب دیکھنے کا انداز ہے۔ اس کی تعمیر 1882 میں شروع ہوئی۔ انتونی گاؤدی نے اپنی زندگی اس خواب کے لیے وقف کر دی۔ پھر 1926 میں ان کا انتقال ہو گیا۔ آج ان کی وفات کو پورے ایک سو سال گزر چکے ہیں۔ لیکن ان کا خواب زندہ ہے۔ 144 سال گزر جانے کے باوجود یہ عظیم کمپلیکس آج بھی مکمل نہیں ہوا، اور اس پر کام اب بھی جاری ہے۔ سوچیے۔ ایک شخص ایک صدی پہلے دنیا سے رخصت ہو گیا، لیکن ہزاروں لوگ آج بھی اس کے خواب کو حقیقت بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر گاؤدی یہ سوچتے رہتے کہ: پیسہ کہاں سے آئے گا؟ یہ سب کیسے ہوگا؟ کون کرے گا؟ تو شاید دنیا اپنے عظیم ترین عجائبات میں سے ایک سے محروم رہ جاتی۔ میرا خیال ہے کہ آج ہماری سب سے بڑی غلطی یہی ہے۔ ہم شروع کرنے سے پہلے ہر سوال کا جواب چاہتے ہیں۔ جبکہ آج کی دنیا میں صرف آغاز کر دینا ہی پچاس فیصد کام مکمل کر دیتا ہے۔ پروجیکٹ شروع کیجیے۔ ویب سائٹ شروع کیجیے۔ اسکول شروع کیجیے۔ کمپنی شروع کیجیے۔ فورم بنائیے۔ واٹس ایپ گروپ بنائیے۔ لوگوں کو ساتھ ملائیے۔ ذمہ داریاں تقسیم کیجیے۔ پہلا قدم اٹھائیے۔ پھر آہستہ آہستہ لوگ آتے جائیں گے۔ ٹیم بنتی جائے گی۔ وسائل پیدا ہوتے جائیں گے۔ اور آپ کا خواب، آپ سے بھی بڑا ہو جائے گا۔ اور اگر آپ ناکام ہو گئے تو؟ اگر آپ نے آغاز ہی نہیں کیا، تو آپ پہلے ہی ناکام ہو چکے ہیں۔ شاید ہماری زندگی کی سب سے بڑی رکاوٹ پیسے کی کمی نہیں۔ صلاحیت کی کمی نہیں۔ مواقع کی کمی نہیں۔ بلکہ صرف انتظار ہے۔ بڑا خواب دیکھیے۔ اتنا بڑا کہ اسے مکمل ہونے میں دہائیاں لگ جائیں۔ اتنا بڑا کہ شاید اسے مکمل ہوتے ہوئے آپ خود نہ دیکھ سکیں۔ انتونی گاؤدی ایک سو سال پہلے دنیا سے چلے گئے۔ لیکن ان کا خواب نہیں مرا۔ اور شاید عظیم خوابوں کی یہی پہچان ہوتی ہے۔ اس لیے یہ مت سوچیے کہ یہ کیسے ہوگا۔ بس آغاز کر دیجیے۔ کیونکہ بعض اوقات سب سے بڑی ناکامی، ناکام ہو جانا نہیں ہوتی۔ بلکہ کبھی شروع ہی نہ کرنا ہوتا ہے۔
    0 Комментарии 0 Поделились 13 Просмотры