• 0 Reacties 0 aandelen 14 Views
  • 0 Reacties 0 aandelen 14 Views
  • 0 Reacties 0 aandelen 14 Views
  • 0 Reacties 0 aandelen 14 Views
  • کبھی کبھی دنیا کے دوسرے کنارے پر بیٹھے ہوئے لوگ بھی آپ کے مشن کا حصہ بن جاتے ہیں۔

    چند دن پہلے میری ملاقات کینیڈا سے تعلق رکھنے والی ایک غیر معمولی خاتون، اسٹیفنی رِکر (Stephine Ricker) سے ہوئی۔

    اسٹیفنی گزشتہ 9 سال سے عالمی کانفرنسز، فنڈ ریزنگ پروگرامز، بین الاقوامی تقریبات اور بڑے ایونٹس کو کامیابی سے منظم کر رہی ہیں۔ انہوں نے سرکاری سطح کے کانفرنسز، عالمی ورچوئل ایونٹس، اور یہاں تک کہ ایک Guinness World Record™ ایونٹ کی کامیاب تکمیل میں بھی کردار ادا کیا ہے۔

    آج وہ Event Operations Playbook™ Community اور Wellness, Mindfulness & Prevention Summit™ جیسے منصوبوں کے ذریعے دنیا بھر میں لوگوں اور اداروں کو جوڑنے کا کام کر رہی ہیں۔

    مجھے ہمیشہ خوشی ہوتی ہے جب ایسے لوگ ملتے ہیں جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ:

    “بامعنی تعلقات، بامعنی مواقع پیدا کرتے ہیں۔”

    پاکستان اور کینیڈا کے درمیان علم، دوستی اور تعاون کے نئے دروازے کھلتے دیکھنا میرے لیے باعثِ خوشی ہے۔

    شاید آنے والے دنوں میں ہمارے نوجوانوں کو عالمی سطح کے ایونٹس، مارکیٹنگ، پارٹنرشپس اور کمیونٹی بلڈنگ سیکھنے کے ایسے مواقع ملیں جن کا وہ آج صرف خواب دیکھتے ہیں۔

    ایک تعارف…

    ایک گفتگو…

    اور شاید کئی نوجوانوں کے مستقبل کا ایک نیا راستہ۔

    دنیا واقعی چھوٹی ہوتی جا رہی ہے۔

    اسٹیفنی رِکر، پاکستان میں آپ کو خوش آمدید!

    — ریحان اللہ والا
    کبھی کبھی دنیا کے دوسرے کنارے پر بیٹھے ہوئے لوگ بھی آپ کے مشن کا حصہ بن جاتے ہیں۔ 🌎 چند دن پہلے میری ملاقات کینیڈا 🇨🇦 سے تعلق رکھنے والی ایک غیر معمولی خاتون، اسٹیفنی رِکر (Stephine Ricker) سے ہوئی۔ اسٹیفنی گزشتہ 9 سال سے عالمی کانفرنسز، فنڈ ریزنگ پروگرامز، بین الاقوامی تقریبات اور بڑے ایونٹس کو کامیابی سے منظم کر رہی ہیں۔ انہوں نے سرکاری سطح کے کانفرنسز، عالمی ورچوئل ایونٹس، اور یہاں تک کہ ایک Guinness World Record™ ایونٹ کی کامیاب تکمیل میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ آج وہ Event Operations Playbook™ Community اور Wellness, Mindfulness & Prevention Summit™ جیسے منصوبوں کے ذریعے دنیا بھر میں لوگوں اور اداروں کو جوڑنے کا کام کر رہی ہیں۔ مجھے ہمیشہ خوشی ہوتی ہے جب ایسے لوگ ملتے ہیں جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ: “بامعنی تعلقات، بامعنی مواقع پیدا کرتے ہیں۔” پاکستان 🇵🇰 اور کینیڈا 🇨🇦 کے درمیان علم، دوستی اور تعاون کے نئے دروازے کھلتے دیکھنا میرے لیے باعثِ خوشی ہے۔ شاید آنے والے دنوں میں ہمارے نوجوانوں کو عالمی سطح کے ایونٹس، مارکیٹنگ، پارٹنرشپس اور کمیونٹی بلڈنگ سیکھنے کے ایسے مواقع ملیں جن کا وہ آج صرف خواب دیکھتے ہیں۔ ایک تعارف… ایک گفتگو… اور شاید کئی نوجوانوں کے مستقبل کا ایک نیا راستہ۔ دنیا واقعی چھوٹی ہوتی جا رہی ہے۔ ❤️ اسٹیفنی رِکر، پاکستان میں آپ کو خوش آمدید! — ریحان اللہ والا
    0 Reacties 0 aandelen 55 Views
  • Move forward every day !
    Move forward every day !
    0 Reacties 0 aandelen 14 Views
  • Join the journey ! Add value to yourself
    Join the journey ! Add value to yourself
    0 Reacties 0 aandelen 14 Views
  • 0 Reacties 0 aandelen 14 Views
  • 0 Reacties 0 aandelen 14 Views
  • دو پنکھوں کی کہانی — پرانے موٹر اور بی ایل ڈی سی موٹر کی دلچسپ کہانی

    ایک دن 12 سالہ علی اپنے دادا جان کے گھر گیا۔

    دادا جان کے کمرے میں ایک پرانا پنکھا لگا ہوا تھا۔

    وہ چلتے وقت زور زور سے آواز کرتا تھا:

    “ہوںںںںںں…”

    جبکہ علی کے گھر کا نیا پنکھا بہت خاموش تھا اور بجلی بھی کم استعمال کرتا تھا۔

    علی نے حیرت سے پوچھا:

    “انکل ریحان! دونوں پنکھے تو ایک ہی کام کرتے ہیں، پھر ایک اتنا شور کیوں کرتا ہے اور دوسرا اتنا خاموش کیوں ہے؟”

    انکل ریحان مسکرائے اور بولے:

    “آؤ، میں تمہیں دو موٹروں کی کہانی سناتا ہوں۔”



    بوڑھے موٹر صاحب

    دادا جان کے پنکھے کے اندر ایک بوڑھے موٹر صاحب رہتے تھے۔

    ان کے پاس دو چھوٹے چھوٹے دوست تھے جنہیں برش کہتے تھے۔

    یہ برش ہر وقت گھومتے ہوئے حصوں سے ٹکراتے اور رگڑ کھاتے رہتے تھے۔

    اسی رگڑ کی وجہ سے:

    * شور پیدا ہوتا تھا۔
    * گرمی پیدا ہوتی تھی۔
    * بجلی زیادہ خرچ ہوتی تھی۔
    * اور وقت کے ساتھ ساتھ پرزے گھس جاتے تھے۔

    انکل ریحان بولے:

    “یہ ایسے ہے جیسے کوئی سائیکل چلاتے ہوئے ہر وقت ٹائر کے ساتھ اپنا ہاتھ بھی رگڑتا رہے۔ سائیکل تو چلے گی، لیکن طاقت ضائع ہوگی۔”



    نئے زمانے کے مسٹر بی ایل ڈی سی

    اب علی کے گھر کے پنکھے میں رہتے تھے مسٹر بی ایل ڈی سی۔

    ان کے پاس کوئی برش نہیں تھا۔

    کوئی چیز ایک دوسرے سے رگڑ نہیں کھاتی تھی۔

    اس کے بجائے ایک ننھا سا الیکٹرانک دماغ، جسے کنٹرولر کہتے ہیں، بجلی کو مختلف کوائلوں میں باری باری بھیجتا تھا۔

    ہر کوائل تھوڑی دیر کے لیے مقناطیس بن جاتی تھی۔

    ان مقناطیسوں کی وجہ سے درمیان میں موجود مستقل مقناطیس (روٹر) ان کی طرف کھنچتا اور گھومتا رہتا۔

    یہ سب کچھ ایک سیکنڈ میں ہزاروں مرتبہ ہوتا تھا۔

    اور یوں پنکھا خاموشی سے چلتا رہتا تھا۔



    پنکھے کی مثال

    فرض کرو پنکھا روز 12 گھنٹے چلتا ہے۔

    پرانا پنکھا

    تقریباً 80 واٹ بجلی استعمال کرتا ہے۔

    بی ایل ڈی سی پنکھا

    صرف 28 واٹ کے قریب بجلی استعمال کرتا ہے۔

    یعنی بی ایل ڈی سی پنکھا تقریباً 65 فیصد کم بجلی استعمال کرتا ہے۔

    اسی لیے آج کل لوگ اپنے گھروں میں بی ایل ڈی سی پنکھے لگا رہے ہیں۔



    دوسری مثال: سائیکل اور الیکٹرک سائیکل

    علی نے پوچھا:

    “کیا سائیکل میں بھی بی ایل ڈی سی موٹر ہوتی ہے؟”

    انکل ریحان ہنس کر بولے:

    “عام سائیکل میں نہیں، لیکن الیکٹرک سائیکل میں ضرور ہوتی ہے۔”

    عام سائیکل میں تمہارے پاؤں طاقت دیتے ہیں۔

    لیکن الیکٹرک سائیکل میں ایک بیٹری اور ایک بی ایل ڈی سی موٹر ہوتی ہے۔

    جب بجلی موٹر تک پہنچتی ہے تو:

    * کنٹرولر مختلف کوائلوں کو باری باری چلاتا ہے۔
    * مقناطیسی میدان بنتا ہے۔
    * روٹر اس کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔
    * اور پہیہ گھومنے لگتا ہے۔

    اسی لیے الیکٹرک سائیکل کم محنت میں زیادہ فاصلہ طے کر لیتی ہے۔



    اصل سائنس کیا ہے؟

    انکل ریحان نے علی سے پوچھا:

    “تمہیں معلوم ہے مقناطیس کیا کرتے ہیں؟”

    علی بولا:

    “وہ ایک دوسرے کو کھینچتے اور دھکیلتے ہیں!”

    “بالکل!” انکل ریحان بولے۔

    جب بجلی تاروں میں بہتی ہے تو وہ تاریں عارضی مقناطیس بن جاتی ہیں۔

    پھر کنٹرولر ان مقناطیسوں کو مسلسل بدلتا رہتا ہے۔

    بیچ میں موجود روٹر ان کے پیچھے پیچھے گھومتا رہتا ہے۔

    اور یہی گھومنا پنکھے، ڈرون، الیکٹرک سائیکل اور الیکٹرک گاڑیوں کو چلاتا ہے۔



    پرانی موٹر اور بی ایل ڈی سی موٹر میں فرق

    پرانی موٹر بی ایل ڈی سی موٹر
    برش ہوتے ہیں برش نہیں ہوتے
    شور زیادہ بہت خاموش
    گرمی زیادہ گرمی کم
    بجلی زیادہ خرچ بجلی کم خرچ
    جلد خراب ہوتی ہے لمبی عمر
    زیادہ مرمت چاہیے بہت کم مرمت
    کارکردگی کم کارکردگی زیادہ



    آخر میں انکل ریحان بولے:

    “بیٹا، پرانی موٹر ایسے ہے جیسے گھوڑا گاڑی۔

    اور بی ایل ڈی سی موٹر ایسے ہے جیسے جدید الیکٹرک کار۔

    دونوں منزل تک پہنچاتے ہیں، لیکن نئی ٹیکنالوجی کم طاقت ضائع کرتی ہے، زیادہ خاموش ہوتی ہے، اور زیادہ دیر تک ساتھ نبھاتی ہے۔”

    علی مسکرایا اور بولا:

    “تو اصل میں موٹر گھومتی نہیں، بلکہ نظر نہ آنے والے مقناطیسی ہاتھ اسے گھماتے ہیں!”

    انکل ریحان ہنس پڑے۔

    “بالکل! اور یہی نظر نہ آنے والی طاقت آج دنیا کے کروڑوں پنکھوں، ڈرونوں، سائیکلوں اور گاڑیوں کو چلا رہی ہے۔”

    #bldc by Muhammad Azim
    دو پنکھوں کی کہانی — پرانے موٹر اور بی ایل ڈی سی موٹر کی دلچسپ کہانی ایک دن 12 سالہ علی اپنے دادا جان کے گھر گیا۔ دادا جان کے کمرے میں ایک پرانا پنکھا لگا ہوا تھا۔ وہ چلتے وقت زور زور سے آواز کرتا تھا: “ہوںںںںںں…” جبکہ علی کے گھر کا نیا پنکھا بہت خاموش تھا اور بجلی بھی کم استعمال کرتا تھا۔ علی نے حیرت سے پوچھا: “انکل ریحان! دونوں پنکھے تو ایک ہی کام کرتے ہیں، پھر ایک اتنا شور کیوں کرتا ہے اور دوسرا اتنا خاموش کیوں ہے؟” انکل ریحان مسکرائے اور بولے: “آؤ، میں تمہیں دو موٹروں کی کہانی سناتا ہوں۔” ⸻ بوڑھے موٹر صاحب دادا جان کے پنکھے کے اندر ایک بوڑھے موٹر صاحب رہتے تھے۔ ان کے پاس دو چھوٹے چھوٹے دوست تھے جنہیں برش کہتے تھے۔ یہ برش ہر وقت گھومتے ہوئے حصوں سے ٹکراتے اور رگڑ کھاتے رہتے تھے۔ اسی رگڑ کی وجہ سے: * شور پیدا ہوتا تھا۔ * گرمی پیدا ہوتی تھی۔ * بجلی زیادہ خرچ ہوتی تھی۔ * اور وقت کے ساتھ ساتھ پرزے گھس جاتے تھے۔ انکل ریحان بولے: “یہ ایسے ہے جیسے کوئی سائیکل چلاتے ہوئے ہر وقت ٹائر کے ساتھ اپنا ہاتھ بھی رگڑتا رہے۔ سائیکل تو چلے گی، لیکن طاقت ضائع ہوگی۔” ⸻ نئے زمانے کے مسٹر بی ایل ڈی سی اب علی کے گھر کے پنکھے میں رہتے تھے مسٹر بی ایل ڈی سی۔ ان کے پاس کوئی برش نہیں تھا۔ کوئی چیز ایک دوسرے سے رگڑ نہیں کھاتی تھی۔ اس کے بجائے ایک ننھا سا الیکٹرانک دماغ، جسے کنٹرولر کہتے ہیں، بجلی کو مختلف کوائلوں میں باری باری بھیجتا تھا۔ ہر کوائل تھوڑی دیر کے لیے مقناطیس بن جاتی تھی۔ ان مقناطیسوں کی وجہ سے درمیان میں موجود مستقل مقناطیس (روٹر) ان کی طرف کھنچتا اور گھومتا رہتا۔ یہ سب کچھ ایک سیکنڈ میں ہزاروں مرتبہ ہوتا تھا۔ اور یوں پنکھا خاموشی سے چلتا رہتا تھا۔ ⸻ پنکھے کی مثال فرض کرو پنکھا روز 12 گھنٹے چلتا ہے۔ پرانا پنکھا تقریباً 80 واٹ بجلی استعمال کرتا ہے۔ بی ایل ڈی سی پنکھا صرف 28 واٹ کے قریب بجلی استعمال کرتا ہے۔ یعنی بی ایل ڈی سی پنکھا تقریباً 65 فیصد کم بجلی استعمال کرتا ہے۔ اسی لیے آج کل لوگ اپنے گھروں میں بی ایل ڈی سی پنکھے لگا رہے ہیں۔ ⸻ دوسری مثال: سائیکل اور الیکٹرک سائیکل علی نے پوچھا: “کیا سائیکل میں بھی بی ایل ڈی سی موٹر ہوتی ہے؟” انکل ریحان ہنس کر بولے: “عام سائیکل میں نہیں، لیکن الیکٹرک سائیکل میں ضرور ہوتی ہے۔” عام سائیکل میں تمہارے پاؤں طاقت دیتے ہیں۔ لیکن الیکٹرک سائیکل میں ایک بیٹری اور ایک بی ایل ڈی سی موٹر ہوتی ہے۔ جب بجلی موٹر تک پہنچتی ہے تو: * کنٹرولر مختلف کوائلوں کو باری باری چلاتا ہے۔ * مقناطیسی میدان بنتا ہے۔ * روٹر اس کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ * اور پہیہ گھومنے لگتا ہے۔ اسی لیے الیکٹرک سائیکل کم محنت میں زیادہ فاصلہ طے کر لیتی ہے۔ ⸻ اصل سائنس کیا ہے؟ انکل ریحان نے علی سے پوچھا: “تمہیں معلوم ہے مقناطیس کیا کرتے ہیں؟” علی بولا: “وہ ایک دوسرے کو کھینچتے اور دھکیلتے ہیں!” “بالکل!” انکل ریحان بولے۔ جب بجلی تاروں میں بہتی ہے تو وہ تاریں عارضی مقناطیس بن جاتی ہیں۔ پھر کنٹرولر ان مقناطیسوں کو مسلسل بدلتا رہتا ہے۔ بیچ میں موجود روٹر ان کے پیچھے پیچھے گھومتا رہتا ہے۔ اور یہی گھومنا پنکھے، ڈرون، الیکٹرک سائیکل اور الیکٹرک گاڑیوں کو چلاتا ہے۔ ⸻ پرانی موٹر اور بی ایل ڈی سی موٹر میں فرق پرانی موٹر بی ایل ڈی سی موٹر برش ہوتے ہیں برش نہیں ہوتے شور زیادہ بہت خاموش گرمی زیادہ گرمی کم بجلی زیادہ خرچ بجلی کم خرچ جلد خراب ہوتی ہے لمبی عمر زیادہ مرمت چاہیے بہت کم مرمت کارکردگی کم کارکردگی زیادہ ⸻ آخر میں انکل ریحان بولے: “بیٹا، پرانی موٹر ایسے ہے جیسے گھوڑا گاڑی۔ اور بی ایل ڈی سی موٹر ایسے ہے جیسے جدید الیکٹرک کار۔ دونوں منزل تک پہنچاتے ہیں، لیکن نئی ٹیکنالوجی کم طاقت ضائع کرتی ہے، زیادہ خاموش ہوتی ہے، اور زیادہ دیر تک ساتھ نبھاتی ہے۔” علی مسکرایا اور بولا: “تو اصل میں موٹر گھومتی نہیں، بلکہ نظر نہ آنے والے مقناطیسی ہاتھ اسے گھماتے ہیں!” انکل ریحان ہنس پڑے۔ “بالکل! اور یہی نظر نہ آنے والی طاقت آج دنیا کے کروڑوں پنکھوں، ڈرونوں، سائیکلوں اور گاڑیوں کو چلا رہی ہے۔” ⚡🧲🔄🌍 #bldc by Muhammad Azim
    0 Reacties 0 aandelen 15 Views