• سوتا ہوا میتھی میاں

    ریحان اللہ والا کی بچوں کو سنائی گئی ایک کہانی

    ایک خوبصورت صبح میں، ریحان اللہ والا، ریحان اسکول کے بچوں کے ساتھ باغ میں بیٹھا تھا۔

    ننھی عائشہ نے ہاتھ میں میتھی دانہ پکڑ کر پوچھا:

    “سر! یہ اتنا سا دانہ آخر پودا کیسے بن جاتا ہے؟”

    میں مسکرایا اور بولا:

    “آج میں تمہیں میتھی میاں کی کہانی سناتا ہوں۔”



    بہت عرصہ پہلے…

    اچھا، سچ تو یہ ہے کہ کل ہی کی بات ہے…

    ایک ننھا سا میتھی دانہ تھا، جس کا نام تھا میتھی میاں۔

    میتھی میاں بہت گہری نیند سو رہے تھے۔

    انہوں نے بھورے رنگ کا ایک خوبصورت کوٹ پہن رکھا تھا اور میٹھی میٹھی خوابوں میں گم تھے۔

    ان کے اندر تین بہت قیمتی چیزیں موجود تھیں:

    * ایک ننھا سا بچہ پودا،
    * کھانے سے بھرا ہوا ایک لنچ باکس،
    * اور ایک مکمل نقشہ کہ بڑا ہو کر کیسے پودا بننا ہے۔

    لیکن ایک مسئلہ تھا۔

    میتھی میاں اتنی گہری نیند سو رہے تھے کہ انہیں کوئی جگا نہیں سکتا تھا۔

    نہ سورج کی روشنی،

    نہ پرندوں کی چہچہاہٹ،

    اور نہ ہی مرغے کی زور دار بانگ!



    ایک دن کسی نے میتھی میاں کو پانی کے ایک پیالے میں ڈال دیا۔

    اچانک…

    ٹھک! ٹھک!

    پانی نے آواز دی:

    “میتھی میاں! جاگ جاؤ! تمہارے بڑے ہونے کا وقت آ گیا ہے!”

    میتھی میاں نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔

    “ارے! کیا صبح ہو گئی؟”

    پانی ہنسا اور بولا:

    “ہاں! تم کئی مہینوں سے سو رہے تھے۔ اب کام شروع کرو!”



    جیسے جیسے پانی اندر داخل ہوا، میتھی میاں پھولنے لگے۔

    ان کے اندر لاکھوں ننھے کارکن جاگ گئے۔

    ان میں دو مشہور باورچی تھے:

    انزی بھائی اور زائم بھائی۔

    دونوں نے اپنی چھوٹی چھوٹی ٹوپیاں پہنیں اور بولے:

    “جلدی کرو! لنچ باکس کھولو!”

    انہوں نے محفوظ کھانے کو مزیدار توانائی میں تبدیل کرنا شروع کر دیا۔

    نشاستہ میٹھی شکر بن گیا۔

    پروٹین جسم بنانے والے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بدل گئی۔

    اور میتھی میاں کو طاقت ملنے لگی۔



    میتھی میاں نے اعلان کیا:

    “تعمیراتی ٹیم! کام شروع کرو!”

    فوراً لاکھوں ننھے مزدور حرکت میں آ گئے۔

    کچھ نے جڑیں بنانا شروع کیں۔

    کچھ نے تنا بنایا۔

    اور کچھ نے پتے تیار کرنے شروع کر دیے۔



    سب سے پہلے ایک ننھی سی سفید جڑ باہر نکلی۔

    “تم کون ہو؟”

    میتھی میاں نے پوچھا۔

    جڑ نے جواب دیا:

    “میرا نام روٹو ہے۔ میرا کام پانی پینا اور تمہیں مضبوطی سے تھامے رکھنا ہے۔”

    پھر ایک سبز کونپل اوپر کی طرف نکلی۔

    وہ خوشی سے بولی:

    “میرا نام شوٹو ہے! میں سورج کی روشنی لینے جا رہی ہوں!”



    چند دنوں بعد ننھے ننھے پتے نکل آئے۔

    وہ خوشی سے پھیل گئے۔

    “واہ!” انہوں نے کہا۔

    “اب ہم سورج کی روشنی سے اپنا کھانا خود بنا سکتے ہیں!”



    چند دن بعد بچوں نے دیکھا کہ میتھی میاں ایک خوبصورت سبز پودا بن چکے ہیں۔

    عائشہ حیران ہو کر بولی:

    “سر! یہ سب کچھ اس چھوٹے سے دانے کے اندر موجود تھا؟”

    میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:

    “ہاں بچوں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر بیج کے اندر ایک مکمل پودا چھپا کر رکھا ہے۔”

    پھر میں نے تمام بچوں سے کہا:

    “بچو! تم بھی میتھی میاں کی طرح ہو۔”

    “آج شاید لوگ تمہیں صرف ایک چھوٹا سا بچہ سمجھتے ہیں۔”

    “لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے اندر بڑے خواب، صلاحیتیں، خیالات اور خوبیاں چھپا رکھی ہیں۔”

    “تمہیں صرف تھوڑا سا علم، اچھی صحبت، محنت، صبر اور صحیح ماحول چاہیے۔”

    “پھر ایک دن تم بھی میتھی میاں کی طرح کھل اٹھو گے اور دنیا کے لیے فائدے کا سبب بنو گے۔”

    اسی وقت احمد نے ہاتھ کھڑا کیا اور بولا:

    “سر! مجھے لگتا ہے میں ابھی بھی سوتا ہوا بیج ہوں!”

    میں ہنس پڑا اور کہا:

    “کوئی بات نہیں احمد!”

    بس بیس سال تک مت سوتے رہنا!

    اور پھر سارے بچے زور زور سے ہنسنے لگے۔

    ختم شد
    سوتا ہوا میتھی میاں ریحان اللہ والا کی بچوں کو سنائی گئی ایک کہانی ایک خوبصورت صبح میں، ریحان اللہ والا، ریحان اسکول کے بچوں کے ساتھ باغ میں بیٹھا تھا۔ ننھی عائشہ نے ہاتھ میں میتھی دانہ پکڑ کر پوچھا: “سر! یہ اتنا سا دانہ آخر پودا کیسے بن جاتا ہے؟” میں مسکرایا اور بولا: “آج میں تمہیں میتھی میاں کی کہانی سناتا ہوں۔” ⸻ بہت عرصہ پہلے… اچھا، سچ تو یہ ہے کہ کل ہی کی بات ہے… ایک ننھا سا میتھی دانہ تھا، جس کا نام تھا میتھی میاں۔ میتھی میاں بہت گہری نیند سو رہے تھے۔ انہوں نے بھورے رنگ کا ایک خوبصورت کوٹ پہن رکھا تھا اور میٹھی میٹھی خوابوں میں گم تھے۔ ان کے اندر تین بہت قیمتی چیزیں موجود تھیں: * ایک ننھا سا بچہ پودا، * کھانے سے بھرا ہوا ایک لنچ باکس، * اور ایک مکمل نقشہ کہ بڑا ہو کر کیسے پودا بننا ہے۔ لیکن ایک مسئلہ تھا۔ میتھی میاں اتنی گہری نیند سو رہے تھے کہ انہیں کوئی جگا نہیں سکتا تھا۔ نہ سورج کی روشنی، نہ پرندوں کی چہچہاہٹ، اور نہ ہی مرغے کی زور دار بانگ! ⸻ ایک دن کسی نے میتھی میاں کو پانی کے ایک پیالے میں ڈال دیا۔ اچانک… ٹھک! ٹھک! پانی نے آواز دی: “میتھی میاں! جاگ جاؤ! تمہارے بڑے ہونے کا وقت آ گیا ہے!” میتھی میاں نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔ “ارے! کیا صبح ہو گئی؟” پانی ہنسا اور بولا: “ہاں! تم کئی مہینوں سے سو رہے تھے۔ اب کام شروع کرو!” ⸻ جیسے جیسے پانی اندر داخل ہوا، میتھی میاں پھولنے لگے۔ ان کے اندر لاکھوں ننھے کارکن جاگ گئے۔ ان میں دو مشہور باورچی تھے: انزی بھائی اور زائم بھائی۔ دونوں نے اپنی چھوٹی چھوٹی ٹوپیاں پہنیں اور بولے: “جلدی کرو! لنچ باکس کھولو!” انہوں نے محفوظ کھانے کو مزیدار توانائی میں تبدیل کرنا شروع کر دیا۔ نشاستہ میٹھی شکر بن گیا۔ پروٹین جسم بنانے والے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بدل گئی۔ اور میتھی میاں کو طاقت ملنے لگی۔ ⸻ میتھی میاں نے اعلان کیا: “تعمیراتی ٹیم! کام شروع کرو!” فوراً لاکھوں ننھے مزدور حرکت میں آ گئے۔ کچھ نے جڑیں بنانا شروع کیں۔ کچھ نے تنا بنایا۔ اور کچھ نے پتے تیار کرنے شروع کر دیے۔ ⸻ سب سے پہلے ایک ننھی سی سفید جڑ باہر نکلی۔ “تم کون ہو؟” میتھی میاں نے پوچھا۔ جڑ نے جواب دیا: “میرا نام روٹو ہے۔ میرا کام پانی پینا اور تمہیں مضبوطی سے تھامے رکھنا ہے۔” پھر ایک سبز کونپل اوپر کی طرف نکلی۔ وہ خوشی سے بولی: “میرا نام شوٹو ہے! میں سورج کی روشنی لینے جا رہی ہوں!” ⸻ چند دنوں بعد ننھے ننھے پتے نکل آئے۔ وہ خوشی سے پھیل گئے۔ “واہ!” انہوں نے کہا۔ “اب ہم سورج کی روشنی سے اپنا کھانا خود بنا سکتے ہیں!” ⸻ چند دن بعد بچوں نے دیکھا کہ میتھی میاں ایک خوبصورت سبز پودا بن چکے ہیں۔ عائشہ حیران ہو کر بولی: “سر! یہ سب کچھ اس چھوٹے سے دانے کے اندر موجود تھا؟” میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: “ہاں بچوں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر بیج کے اندر ایک مکمل پودا چھپا کر رکھا ہے۔” پھر میں نے تمام بچوں سے کہا: “بچو! تم بھی میتھی میاں کی طرح ہو۔” “آج شاید لوگ تمہیں صرف ایک چھوٹا سا بچہ سمجھتے ہیں۔” “لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے اندر بڑے خواب، صلاحیتیں، خیالات اور خوبیاں چھپا رکھی ہیں۔” “تمہیں صرف تھوڑا سا علم، اچھی صحبت، محنت، صبر اور صحیح ماحول چاہیے۔” “پھر ایک دن تم بھی میتھی میاں کی طرح کھل اٹھو گے اور دنیا کے لیے فائدے کا سبب بنو گے۔” اسی وقت احمد نے ہاتھ کھڑا کیا اور بولا: “سر! مجھے لگتا ہے میں ابھی بھی سوتا ہوا بیج ہوں!” میں ہنس پڑا اور کہا: “کوئی بات نہیں احمد!” بس بیس سال تک مت سوتے رہنا! اور پھر سارے بچے زور زور سے ہنسنے لگے۔ ختم شد 🌱
    0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • Thank you Muhammad Azim bhai for teaching personally

    خوشخبری!

    بخاری ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کورس کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے۔

    یہ گوجرانوالہ میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد کورس ہوگا، جس میں طلبہ کو جدید AI ٹیکنالوجی کی مکمل تربیت دی جائے گی۔

    کورس کے تین لیولز:
    Basic Level
    Standard Level
    Advanced Level

    اس کورس میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو شروع سے آخر تک آسان انداز میں سکھایا جائے گا۔

    کورس فیس: صرف 500 روپے

    کلاسز کا آغاز:
    Monday, 1-6-2026

    ٹائمنگ: شام 6 بجے سے 7:30 بجے تک

    یہ کورس بوائز اور گرلز دونوں کے لیے ہے۔

    محدود نشستیں! آج ہی رجسٹر کریں اور اپنے خوابوں کی طرف پہلا قدم بڑھائیں۔

    ایڈریس:
    بس اسٹاپ اور بختے والا محلہ کے قریب، بخاری چوک، شیخوپورہ روڈ، گوجرانوالہ

    0300-7889261
    0554-220127
    Thank you Muhammad Azim bhai for teaching personally خوشخبری! 🎉 بخاری ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کورس کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے۔ یہ گوجرانوالہ میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد کورس ہوگا، جس میں طلبہ کو جدید AI ٹیکنالوجی کی مکمل تربیت دی جائے گی۔ 📚 کورس کے تین لیولز: ✅ Basic Level ✅ Standard Level ✅ Advanced Level اس کورس میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو شروع سے آخر تک آسان انداز میں سکھایا جائے گا۔ 💰 کورس فیس: صرف 500 روپے 🗓️ کلاسز کا آغاز: Monday, 1-6-2026 🕕 ٹائمنگ: شام 6 بجے سے 7:30 بجے تک 👨‍🎓👩‍🎓 یہ کورس بوائز اور گرلز دونوں کے لیے ہے۔ 📢 محدود نشستیں! آج ہی رجسٹر کریں اور اپنے خوابوں کی طرف پہلا قدم بڑھائیں۔ 📍 ایڈریس: بس اسٹاپ اور بختے والا محلہ کے قریب، بخاری چوک، شیخوپورہ روڈ، گوجرانوالہ 📞 0300-7889261 📞 0554-220127
    0 Kommentare 0 Anteile 74 Ansichten
  • میں آج کراچی میں اپنے ایک نئے منصوبے کے سلسلے میں منظور کالونی گیا، جہاں ہم اپنی ٹیم کی تربیت کے لیے تین چھوٹے نئے کیمپس شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    وہاں میں نے عابد بھائی کو فون کیا۔ عابد پینٹر۔

    Abid Hussain

    +92 333 3029399

    باتوں باتوں میں انہوں نے مجھے ایک پرانی دنیا میں واپس پہنچا دیا۔ یاد آیا کہ جب میں شاید 14، 15 یا 16 سال کا تھا، سائیکل پر ان کے پاس جاتا تھا اور انہیں “انکل” کہہ کر پکارتا تھا۔ اس زمانے میں Brain Internet Services اور Fax Services کے لیے میرے بینرز، بورڈز اور ہورڈنگز عابد بھائی اپنے ہاتھ سے لکھا کرتے تھے۔ اُس دور میں کمپیوٹر سے پرنٹنگ عام نہیں تھی، محبت اور محنت سے حروف بنائے جاتے تھے۔

    پھر یاد آیا کہ جوانی کے دنوں میں میرے لیے ایک اہم اپارٹمنٹ دلوانے میں بھی عابد بھائی نے میری مدد کی تھی۔

    زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک فون کال کی دوری پر ہوتے ہیں۔

    آج بھی عابد بھائی وہی محبت، وہی خلوص اور وہی سادگی رکھتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب وہ جدید پین افیکٹس اور خوبصورت پینٹنگ کے کام کے ماہر ہیں۔

    اور اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیے…

    آج انہوں نے مجھے اپنا ہمسایہ بھی بنا لیا۔

    منظور کالونی، کراچی میں ہم نے ریحان اسکول کی نئی برانچ ان کے گھر کے بالکل قریب شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ اس علاقے کے کم آمدنی والے بچوں کو بہتر مواقع اور اے آئی کے دور کی تعلیم دی جا سکے۔

    میری دعا ہے کہ عابد بھائی کی تینوں بیٹیاں بھی ہمارے اسکول کا حصہ بنیں، مستقبل کی بہترین ٹیچرز، ایجوکیٹرز اور چینج میکرز بنیں اور دنیا میں خیر پھیلائیں۔

    اللہ میاں کا بے حد شکر ہے کہ اس نے میری زندگی میں ایسے خوبصورت انسان رکھے، جو صرف دوست نہیں بلکہ زندگی کے سفر کے ساتھی ہیں۔

    آمین

    #منظور_کالونی #Karachi #RehanSchool #دوستی #شکر #Education #ChangeMakers

    (عابد بھائی، آپ جیسے لوگ زندگی کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔)
    میں آج کراچی میں اپنے ایک نئے منصوبے کے سلسلے میں منظور کالونی گیا، جہاں ہم اپنی ٹیم کی تربیت کے لیے تین چھوٹے نئے کیمپس شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہاں میں نے عابد بھائی کو فون کیا۔ عابد پینٹر۔ Abid Hussain +92 333 3029399 باتوں باتوں میں انہوں نے مجھے ایک پرانی دنیا میں واپس پہنچا دیا۔ یاد آیا کہ جب میں شاید 14، 15 یا 16 سال کا تھا، سائیکل پر ان کے پاس جاتا تھا اور انہیں “انکل” کہہ کر پکارتا تھا۔ اس زمانے میں Brain Internet Services اور Fax Services کے لیے میرے بینرز، بورڈز اور ہورڈنگز عابد بھائی اپنے ہاتھ سے لکھا کرتے تھے۔ اُس دور میں کمپیوٹر سے پرنٹنگ عام نہیں تھی، محبت اور محنت سے حروف بنائے جاتے تھے۔ پھر یاد آیا کہ جوانی کے دنوں میں میرے لیے ایک اہم اپارٹمنٹ دلوانے میں بھی عابد بھائی نے میری مدد کی تھی۔ زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک فون کال کی دوری پر ہوتے ہیں۔ آج بھی عابد بھائی وہی محبت، وہی خلوص اور وہی سادگی رکھتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب وہ جدید پین افیکٹس اور خوبصورت پینٹنگ کے کام کے ماہر ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیے… آج انہوں نے مجھے اپنا ہمسایہ بھی بنا لیا۔ منظور کالونی، کراچی میں ہم نے ریحان اسکول کی نئی برانچ ان کے گھر کے بالکل قریب شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ اس علاقے کے کم آمدنی والے بچوں کو بہتر مواقع اور اے آئی کے دور کی تعلیم دی جا سکے۔ میری دعا ہے کہ عابد بھائی کی تینوں بیٹیاں بھی ہمارے اسکول کا حصہ بنیں، مستقبل کی بہترین ٹیچرز، ایجوکیٹرز اور چینج میکرز بنیں اور دنیا میں خیر پھیلائیں۔ اللہ میاں کا بے حد شکر ہے کہ اس نے میری زندگی میں ایسے خوبصورت انسان رکھے، جو صرف دوست نہیں بلکہ زندگی کے سفر کے ساتھی ہیں۔ آمین ❤️ #منظور_کالونی #Karachi #RehanSchool #دوستی #شکر #Education #ChangeMakers (عابد بھائی، آپ جیسے لوگ زندگی کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔) ❤️
    0 Kommentare 0 Anteile 123 Ansichten
  • Signup online or visit us

    https://rehanschool.com/summercamp
    Signup online or visit us https://rehanschool.com/summercamp
    0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • 0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • 0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • 0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • 0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • 0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • 0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten