0 Commentarii
0 Distribuiri
5 Views
Director
Descoperă oameni noi, creează noi conexiuni și faceti-va noi prieteni
- Vă rugăm să vă autentificați pentru a vă dori, partaja și comenta!
- پاکستان نے دنیا کو ایک اور عظیم ذہن دیا ہے…
اور افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے زیادہ تر لوگ ان کا نام تک نہیں جانتے۔
ان کا نام ہے امیر حسین۔
@amir Husain
https://www.facebook.com/share/1ceWbZDiKj/?mibextid=wwXIfr
لاہور میں پیدا ہونے والے امیر حسین نے کم عمری میں ہی کمپیوٹر پروگرامنگ شروع کر دی تھی۔ بعد میں وہ امریکہ گئے اور وہاں انہوں نے SparkCognition نامی ایک ایسی کمپنی قائم کی جو آج دنیا کی معروف مصنوعی ذہانت (AI) کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
ان کی کمپنی کے ساتھ بوئنگ، ہنی ویل، ویریزون اور دنیا کی کئی بڑی کمپنیاں کام کر چکی ہیں۔
لیکن یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ امیر حسین نے IBM Watson کے مشاورتی بورڈ (Board of Advisors) میں بھی خدمات انجام دیں۔ IBM Watson وہی مشہور AI سسٹم ہے جس نے مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کی۔
امیر حسین صرف ایک کاروباری شخصیت نہیں بلکہ ایک مصنف بھی ہیں۔
The Sentient Machine: The Coming Age of Artificial Intelligence
یہ کتاب انہوں نے اس وقت لکھی تھی جب ChatGPT اور AI کا انقلاب ابھی عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھا۔
بعد میں انہوں نے ایک اور اہم کتاب لکھی:
Hyperwar: Conflict and Competition in the AI Century
جس میں انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت آنے والے دور میں دنیا، معیشت اور جنگوں کی نوعیت کو کس طرح بدل دے گی۔
اور اگر آپ واقعی امیر حسین کے خیالات کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ان کی بنائی ہوئی ڈاکیومنٹری ضرور دیکھیں:
“Infinite Potential”
یہ صرف ایک فلم نہیں، بلکہ مستقبل، مصنوعی ذہانت اور انسانیت کے اگلے سفر کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دینے والی ایک کاوش ہے۔
ڈاکیومنٹری یہاں دیکھی جا سکتی ہے:
https://youtu.be/usXTYN4n4mI?si=Jlo5dBC1ii0WgVsT
آج ان کے نام پر درجنوں پیٹنٹس ہیں، وہ عالمی اداروں کے مشیر رہ چکے ہیں، اور دنیا بھر میں AI کے مستقبل پر ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔
مجھے سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ…
ہم اپنے سائنسدانوں، موجدوں اور ٹیکنالوجی کے ہیروز کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں۔
قومیں صرف سیاست دانوں اور اداکاروں سے نہیں بنتیں۔
قومیں ان لوگوں سے بنتی ہیں جو نئی دنیا تخلیق کرتے ہیں۔
شاید پاکستان کے کسی چھوٹے سے شہر، کسی گاؤں، یا کسی عام سے سکول میں اس وقت ایک اور امیر حسین بیٹھا ہو…
جسے صرف ایک جملہ سننے کی ضرورت ہے:
“خواب بڑے دیکھو، دنیا تمہارا انتظار کر رہی ہے۔”
کیا آپ نے آج سے پہلے امیر حسین کا نام سنا تھا؟
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو اپنے سائنسدانوں، انجینئروں اور ٹیکنالوجی کے ہیروز کو زیادہ عزت دینی چاہیے تو کمنٹ میں “AI” ضرور لکھیں۔
— ریحان اللہ والا🇵🇰 پاکستان نے دنیا کو ایک اور عظیم ذہن دیا ہے… اور افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے زیادہ تر لوگ ان کا نام تک نہیں جانتے۔ ان کا نام ہے امیر حسین۔ @amir Husain https://www.facebook.com/share/1ceWbZDiKj/?mibextid=wwXIfr لاہور میں پیدا ہونے والے امیر حسین نے کم عمری میں ہی کمپیوٹر پروگرامنگ شروع کر دی تھی۔ بعد میں وہ امریکہ گئے اور وہاں انہوں نے SparkCognition نامی ایک ایسی کمپنی قائم کی جو آج دنیا کی معروف مصنوعی ذہانت (AI) کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ ان کی کمپنی کے ساتھ بوئنگ، ہنی ویل، ویریزون اور دنیا کی کئی بڑی کمپنیاں کام کر چکی ہیں۔ لیکن یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ امیر حسین نے IBM Watson کے مشاورتی بورڈ (Board of Advisors) میں بھی خدمات انجام دیں۔ IBM Watson وہی مشہور AI سسٹم ہے جس نے مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کی۔ امیر حسین صرف ایک کاروباری شخصیت نہیں بلکہ ایک مصنف بھی ہیں۔ 📖 The Sentient Machine: The Coming Age of Artificial Intelligence یہ کتاب انہوں نے اس وقت لکھی تھی جب ChatGPT اور AI کا انقلاب ابھی عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھا۔ بعد میں انہوں نے ایک اور اہم کتاب لکھی: 📖 Hyperwar: Conflict and Competition in the AI Century جس میں انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت آنے والے دور میں دنیا، معیشت اور جنگوں کی نوعیت کو کس طرح بدل دے گی۔ اور اگر آپ واقعی امیر حسین کے خیالات کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ان کی بنائی ہوئی ڈاکیومنٹری ضرور دیکھیں: 🎬 “Infinite Potential” یہ صرف ایک فلم نہیں، بلکہ مستقبل، مصنوعی ذہانت اور انسانیت کے اگلے سفر کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دینے والی ایک کاوش ہے۔ ▶️ ڈاکیومنٹری یہاں دیکھی جا سکتی ہے: https://youtu.be/usXTYN4n4mI?si=Jlo5dBC1ii0WgVsT آج ان کے نام پر درجنوں پیٹنٹس ہیں، وہ عالمی اداروں کے مشیر رہ چکے ہیں، اور دنیا بھر میں AI کے مستقبل پر ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ مجھے سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ… ہم اپنے سائنسدانوں، موجدوں اور ٹیکنالوجی کے ہیروز کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں۔ قومیں صرف سیاست دانوں اور اداکاروں سے نہیں بنتیں۔ قومیں ان لوگوں سے بنتی ہیں جو نئی دنیا تخلیق کرتے ہیں۔ شاید پاکستان کے کسی چھوٹے سے شہر، کسی گاؤں، یا کسی عام سے سکول میں اس وقت ایک اور امیر حسین بیٹھا ہو… جسے صرف ایک جملہ سننے کی ضرورت ہے: “خواب بڑے دیکھو، دنیا تمہارا انتظار کر رہی ہے۔” کیا آپ نے آج سے پہلے امیر حسین کا نام سنا تھا؟ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو اپنے سائنسدانوں، انجینئروں اور ٹیکنالوجی کے ہیروز کو زیادہ عزت دینی چاہیے تو کمنٹ میں “AI” ضرور لکھیں۔ — ریحان اللہ والا0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views - Hiring Principal & Teachers
Send cv to
+92 301 7671935 or 03058887388
info@pakistanstaff.com
Group
https://chat.whatsapp.com/INe0yi3u0J5F5BzvRWW5Im?s=cl&p=i&ilr=2&amv=1Hiring Principal & Teachers Send cv to +92 301 7671935 or 03058887388 info@pakistanstaff.com Group https://chat.whatsapp.com/INe0yi3u0J5F5BzvRWW5Im?s=cl&p=i&ilr=2&amv=10 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views - Join from anywhere in the world !
Connect with Iman Leadershipwali
+92 323 2147000Join from anywhere in the world ! Connect with Iman Leadershipwali +92 323 21470000 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views - GENIUS ACADEMY SUMMER CAMP
Welcome to the newest 4-star learning facility by Rehan Allahwala, designed to provide children with a modern, comfortable, and inspiring environment for learning and growth.
Latest state-of-the-art campus
Air-conditioned classrooms and premium facilities
Small batches with only 15 students per class for maximum individual attention
Four batches daily, making it easy for parents to choose a convenient time
Just 2 hours a day
Focused, productive, and enjoyable learning experience
Safe and friendly environment
Shaheed-e-Millat Road, Behind Naheed Super Market, Karachi
4 Batches Daily
* Batch 1: 9:00 AM – 11:00 AM
* Batch 2: 11:30 AM – 1:30 PM
* Batch 3: 3:00 PM – 5:00 PM
* Batch 4: 5:30 PM – 7:30 PM
Only 15 students per batch. Limited seats available.
For information and admissions:
+92 333 2177275
+92 323 2145559
Rubab EducationWali
Genius Academy Summer Camp
A premium learning experience by Rehan Allahwala.GENIUS ACADEMY SUMMER CAMP Welcome to the newest 4-star learning facility by Rehan Allahwala, designed to provide children with a modern, comfortable, and inspiring environment for learning and growth. ⭐ Latest state-of-the-art campus ⭐ Air-conditioned classrooms and premium facilities ⭐ Small batches with only 15 students per class for maximum individual attention ⭐ Four batches daily, making it easy for parents to choose a convenient time ⭐ Just 2 hours a day ⭐ Focused, productive, and enjoyable learning experience ⭐ Safe and friendly environment 📍 Shaheed-e-Millat Road, Behind Naheed Super Market, Karachi ⏰ 4 Batches Daily * Batch 1: 9:00 AM – 11:00 AM * Batch 2: 11:30 AM – 1:30 PM * Batch 3: 3:00 PM – 5:00 PM * Batch 4: 5:30 PM – 7:30 PM 👨🎓 Only 15 students per batch. Limited seats available. 📞 For information and admissions: +92 333 2177275 +92 323 2145559 Rubab EducationWali Genius Academy Summer Camp A premium learning experience by Rehan Allahwala.0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views - کچھ خواب انسان اپنے لیے دیکھتا ہے…
اور کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جو انسان دوسروں کے لیے دیکھتا ہے۔
آج میں آپ کے ساتھ اپنی والدہ، محترمہ منور اخلاص کا ایک خواب شیئر کر رہا ہوں۔
وہ ایک ایسی جگہ بنانا چاہتی ہیں جس کا نام “گوشۂ سکون” ہو۔
ایک ایسا گھر…
جہاں وہ خواتین جن کا دنیا میں کوئی نہیں، انہیں محبت، عزت، کھانا، تحفظ اور اپنا پن ملے۔
اور اسی کے ساتھ ایک ایسا خوبصورت اور باوقار رہائشی مرکز، جہاں وہ مائیں، بہنیں اور خواتین رہ سکیں جو اکیلی ہیں، جن کے بچے بیرونِ ملک ہیں یا جو زندگی کے کسی موڑ پر تنہا ہو گئی ہیں۔
یہ کوئی اولڈ ہوم نہیں ہوگا۔
یہ ایک خاندان ہوگا۔
یہاں ایک چھوٹا کلینک ہوگا، فارمیسی ہوگی، صاف پانی کا انتظام ہوگا، چھوٹی دکانیں ہوں گی، اور سب سے بڑھ کر انسانوں کے درمیان محبت اور ایک دوسرے کا سہارا ہوگا۔
ان شاء اللہ۔
اگر اللہ نے چاہا تو ہم اس خواب کو حقیقت بنانے کی کوشش شروع کر رہے ہیں۔
اگر آپ اس سفر کا حصہ بننا چاہتے ہیں، تو براہ کرم مجھے ان باکس میں لکھیں کہ آپ کس حیثیت سے شامل ہونا چاہتے ہیں۔
مثلاً:
زمین یا بلڈنگ کے سلسلے میں مدد
فنڈ ریزنگ
آرکیٹیکچر اور ڈیزائن
ڈاکٹر یا میڈیکل سروسز
قانونی معاملات
میڈیا اور سوشل میڈیا
رضاکارانہ خدمات
ماہانہ اسپانسرشپ
خواتین کی تربیت اور مینٹورنگ
یا کسی اور صلاحیت میں
اور اگر آپ صرف اس خواب کے گواہ بننا چاہتے ہیں، تو ہمارے واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو جائیں۔
شاید اللہ تعالیٰ ہمیں کسی ایسی خاتون کے لیے سکون کا ذریعہ بنا دے جس کے پاس آج کوئی نہیں۔
کیونکہ کبھی کبھی ایک عمارت نہیں، ایک خاندان بنایا جاتا ہے۔
— ریحان اللہ والا
#گوشہ_سکون
#GoshaESukoon
#ServingHumanity
#Pakistan
#WomenWithDignity
#منور_اخ
https://chat.whatsapp.com/Gxi8YproBHR3ovOTp4QcPu?mode=gi_tکچھ خواب انسان اپنے لیے دیکھتا ہے… اور کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جو انسان دوسروں کے لیے دیکھتا ہے۔ آج میں آپ کے ساتھ اپنی والدہ، محترمہ منور اخلاص کا ایک خواب شیئر کر رہا ہوں۔ وہ ایک ایسی جگہ بنانا چاہتی ہیں جس کا نام “گوشۂ سکون” ہو۔ ایک ایسا گھر… جہاں وہ خواتین جن کا دنیا میں کوئی نہیں، انہیں محبت، عزت، کھانا، تحفظ اور اپنا پن ملے۔ اور اسی کے ساتھ ایک ایسا خوبصورت اور باوقار رہائشی مرکز، جہاں وہ مائیں، بہنیں اور خواتین رہ سکیں جو اکیلی ہیں، جن کے بچے بیرونِ ملک ہیں یا جو زندگی کے کسی موڑ پر تنہا ہو گئی ہیں۔ یہ کوئی اولڈ ہوم نہیں ہوگا۔ یہ ایک خاندان ہوگا۔ یہاں ایک چھوٹا کلینک ہوگا، فارمیسی ہوگی، صاف پانی کا انتظام ہوگا، چھوٹی دکانیں ہوں گی، اور سب سے بڑھ کر انسانوں کے درمیان محبت اور ایک دوسرے کا سہارا ہوگا۔ ان شاء اللہ۔ اگر اللہ نے چاہا تو ہم اس خواب کو حقیقت بنانے کی کوشش شروع کر رہے ہیں۔ اگر آپ اس سفر کا حصہ بننا چاہتے ہیں، تو براہ کرم مجھے ان باکس میں لکھیں کہ آپ کس حیثیت سے شامل ہونا چاہتے ہیں۔ مثلاً: ✅ زمین یا بلڈنگ کے سلسلے میں مدد ✅ فنڈ ریزنگ ✅ آرکیٹیکچر اور ڈیزائن ✅ ڈاکٹر یا میڈیکل سروسز ✅ قانونی معاملات ✅ میڈیا اور سوشل میڈیا ✅ رضاکارانہ خدمات ✅ ماہانہ اسپانسرشپ ✅ خواتین کی تربیت اور مینٹورنگ ✅ یا کسی اور صلاحیت میں اور اگر آپ صرف اس خواب کے گواہ بننا چاہتے ہیں، تو ہمارے واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو جائیں۔ شاید اللہ تعالیٰ ہمیں کسی ایسی خاتون کے لیے سکون کا ذریعہ بنا دے جس کے پاس آج کوئی نہیں۔ کیونکہ کبھی کبھی ایک عمارت نہیں، ایک خاندان بنایا جاتا ہے۔ ❤️ — ریحان اللہ والا #گوشہ_سکون #GoshaESukoon #ServingHumanity #Pakistan #WomenWithDignity #منور_اخ https://chat.whatsapp.com/Gxi8YproBHR3ovOTp4QcPu?mode=gi_t0 Commentarii 0 Distribuiri 412 Views - پاکستان کے ان چند لوگوں میں سے ایک، جنہوں نے امریکہ میں کامیابی حاصل کی، پھر واپس آ کر پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کے لیے لڑائی لڑی۔
ڈاکٹر جاوید لغاری سندھ کے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے الیکٹریکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں امریکہ کی یونیورسٹیوں میں پروفیسر بن گئے۔ وہاں انہوں نے ناسا اور دیگر اداروں کے ساتھ تحقیق کی، سینکڑوں تحقیقی مقالے لکھے اور بین الاقوامی سطح پر اپنا نام بنایا۔
لیکن ان کی کہانی صرف یہاں ختم نہیں ہوتی۔
سن 2009 میں جب انہیں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کا چیئرمین بنایا گیا تو انہوں نے پاکستان کی یونیورسٹیوں اور تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ اس دوران کئی مشکلات اور دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن انہوں نے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر پاکستان کو ترقی کرنی ہے تو اس کے لیے مضبوط یونیورسٹیاں، سائنس اور تحقیق ناگزیر ہیں۔
ڈاکٹر جاوید لغاری پاکستان کے سینیٹر بھی رہے اور انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا۔
انہوں نے 650 سے زیادہ تحقیقی مقالے اور متعدد کتابیں تحریر کیں، اور ہزاروں طلبہ اور محققین کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالا۔
آج اگر آپ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور یونیورسٹیوں کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچتے ہیں، تو ڈاکٹر جاوید لغاری ان شخصیات میں شامل ہیں جن کا نام ضرور لیا جاتا ہے۔
بعض لوگ کاروبار بناتے ہیں، بعض لوگ عمارتیں بناتے ہیں، لیکن کچھ لوگ ایسی بنیادیں تعمیر کرتے ہیں جن پر آنے والی نسلیں کھڑی ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر جاوید لغاری انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔
Meet Javaid Laghariپاکستان کے ان چند لوگوں میں سے ایک، جنہوں نے امریکہ میں کامیابی حاصل کی، پھر واپس آ کر پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کے لیے لڑائی لڑی۔ ڈاکٹر جاوید لغاری سندھ کے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے الیکٹریکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں امریکہ کی یونیورسٹیوں میں پروفیسر بن گئے۔ وہاں انہوں نے ناسا اور دیگر اداروں کے ساتھ تحقیق کی، سینکڑوں تحقیقی مقالے لکھے اور بین الاقوامی سطح پر اپنا نام بنایا۔ لیکن ان کی کہانی صرف یہاں ختم نہیں ہوتی۔ سن 2009 میں جب انہیں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کا چیئرمین بنایا گیا تو انہوں نے پاکستان کی یونیورسٹیوں اور تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ اس دوران کئی مشکلات اور دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن انہوں نے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر پاکستان کو ترقی کرنی ہے تو اس کے لیے مضبوط یونیورسٹیاں، سائنس اور تحقیق ناگزیر ہیں۔ ڈاکٹر جاوید لغاری پاکستان کے سینیٹر بھی رہے اور انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ انہوں نے 650 سے زیادہ تحقیقی مقالے اور متعدد کتابیں تحریر کیں، اور ہزاروں طلبہ اور محققین کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالا۔ آج اگر آپ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور یونیورسٹیوں کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچتے ہیں، تو ڈاکٹر جاوید لغاری ان شخصیات میں شامل ہیں جن کا نام ضرور لیا جاتا ہے۔ بعض لوگ کاروبار بناتے ہیں، بعض لوگ عمارتیں بناتے ہیں، لیکن کچھ لوگ ایسی بنیادیں تعمیر کرتے ہیں جن پر آنے والی نسلیں کھڑی ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر جاوید لغاری انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔ Meet Javaid Laghari0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views - کیا آپ کے گھر کی چھت پر تھوڑی سی جگہ اور محدود پانی موجود ہے؟
اگر ہاں، تو شاید آپ کے پاس ہر ماہ 50,000 روپے تک اضافی آمدنی کمانے کا ایک دلچسپ موقع موجود ہے۔
ملیے مستنصر بھائی سے، جنہوں نے کیکٹس اور دیگر کم پانی استعمال کرنے والے پودوں کی نرسری کے ذریعے ایک منفرد راستہ اختیار کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ چھوٹی چھت، کم سرمایہ اور محدود پانی بھی روزگار کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ وہ یہ علم دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں اور بالکل مفت سکھانے کے لیے تیار ہیں کہ:
کیکٹس کی نرسری کیسے شروع کی جائے
کم جگہ میں زیادہ پودے کیسے اگائے جائیں
کم پانی میں پودوں کی دیکھ بھال کیسے کی جائے
شوق کو آمدنی میں کیسے تبدیل کیا جائے
اپنے گھر کی چھت کو ایک چھوٹے کاروبار میں کیسے بدلا جائے
آج جب بہت سے لوگ روزگار کے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں، ایسے میں شاید ایک چھوٹی سی چھت آپ کی زندگی میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔
اگر آپ سیکھنا چاہتے ہیں تو مستنصر بھائی سے رابطہ کریں:
0304-7132037
Mustansir Mehboob
شاید آپ کے گھر کی چھت پر اگنے والا ایک چھوٹا سا کیکٹس، آپ کی آمدنی کا نیا ذریعہ بن جائے۔کیا آپ کے گھر کی چھت پر تھوڑی سی جگہ اور محدود پانی موجود ہے؟ اگر ہاں، تو شاید آپ کے پاس ہر ماہ 50,000 روپے تک اضافی آمدنی کمانے کا ایک دلچسپ موقع موجود ہے۔ ملیے مستنصر بھائی سے، جنہوں نے کیکٹس اور دیگر کم پانی استعمال کرنے والے پودوں کی نرسری کے ذریعے ایک منفرد راستہ اختیار کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ چھوٹی چھت، کم سرمایہ اور محدود پانی بھی روزگار کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ وہ یہ علم دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں اور بالکل مفت سکھانے کے لیے تیار ہیں کہ: 🌵 کیکٹس کی نرسری کیسے شروع کی جائے 🌵 کم جگہ میں زیادہ پودے کیسے اگائے جائیں 🌵 کم پانی میں پودوں کی دیکھ بھال کیسے کی جائے 🌵 شوق کو آمدنی میں کیسے تبدیل کیا جائے 🌵 اپنے گھر کی چھت کو ایک چھوٹے کاروبار میں کیسے بدلا جائے آج جب بہت سے لوگ روزگار کے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں، ایسے میں شاید ایک چھوٹی سی چھت آپ کی زندگی میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔ اگر آپ سیکھنا چاہتے ہیں تو مستنصر بھائی سے رابطہ کریں: 📞 0304-7132037 Mustansir Mehboob شاید آپ کے گھر کی چھت پر اگنے والا ایک چھوٹا سا کیکٹس، آپ کی آمدنی کا نیا ذریعہ بن جائے۔ 🌵❤️0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views - کیا آپ کے گھر کی چھت پر تھوڑی سی جگہ اور محدود پانی موجود ہے؟
اگر ہاں، تو شاید آپ کے پاس ہر ماہ 50,000 روپے تک اضافی آمدنی کمانے کا ایک دلچسپ موقع موجود ہے۔
ملیے مستنصر بھائی سے، جنہوں نے کیکٹس اور دیگر کم پانی استعمال کرنے والے پودوں کی نرسری کے ذریعے ایک منفرد راستہ اختیار کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ چھوٹی چھت، کم سرمایہ اور محدود پانی بھی روزگار کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ وہ یہ علم دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں اور بالکل مفت سکھانے کے لیے تیار ہیں کہ:
کیکٹس کی نرسری کیسے شروع کی جائے
کم جگہ میں زیادہ پودے کیسے اگائے جائیں
کم پانی میں پودوں کی دیکھ بھال کیسے کی جائے
شوق کو آمدنی میں کیسے تبدیل کیا جائے
اپنے گھر کی چھت کو ایک چھوٹے کاروبار میں کیسے بدلا جائے
آج جب بہت سے لوگ روزگار کے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں، ایسے میں شاید ایک چھوٹی سی چھت آپ کی زندگی میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔
اگر آپ سیکھنا چاہتے ہیں تو مستنصر بھائی سے رابطہ کریں:
0304-7132037
Mustansir Mehboob
شاید آپ کے گھر کی چھت پر اگنے والا ایک چھوٹا سا کیکٹس، آپ کی آمدنی کا نیا ذریعہ بن جائے۔
His first video
https://youtu.be/A6ABZHX0DsY?si=vHurlly6yhfqex6rکیا آپ کے گھر کی چھت پر تھوڑی سی جگہ اور محدود پانی موجود ہے؟ اگر ہاں، تو شاید آپ کے پاس ہر ماہ 50,000 روپے تک اضافی آمدنی کمانے کا ایک دلچسپ موقع موجود ہے۔ ملیے مستنصر بھائی سے، جنہوں نے کیکٹس اور دیگر کم پانی استعمال کرنے والے پودوں کی نرسری کے ذریعے ایک منفرد راستہ اختیار کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ چھوٹی چھت، کم سرمایہ اور محدود پانی بھی روزگار کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ وہ یہ علم دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں اور بالکل مفت سکھانے کے لیے تیار ہیں کہ: 🌵 کیکٹس کی نرسری کیسے شروع کی جائے 🌵 کم جگہ میں زیادہ پودے کیسے اگائے جائیں 🌵 کم پانی میں پودوں کی دیکھ بھال کیسے کی جائے 🌵 شوق کو آمدنی میں کیسے تبدیل کیا جائے 🌵 اپنے گھر کی چھت کو ایک چھوٹے کاروبار میں کیسے بدلا جائے آج جب بہت سے لوگ روزگار کے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں، ایسے میں شاید ایک چھوٹی سی چھت آپ کی زندگی میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔ اگر آپ سیکھنا چاہتے ہیں تو مستنصر بھائی سے رابطہ کریں: 📞 0304-7132037 Mustansir Mehboob شاید آپ کے گھر کی چھت پر اگنے والا ایک چھوٹا سا کیکٹس، آپ کی آمدنی کا نیا ذریعہ بن جائے۔ 🌵❤️ His first video https://youtu.be/A6ABZHX0DsY?si=vHurlly6yhfqex6r0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views - I have always loved these giants beautiful creature 🙂 https://www.youtube.com/watch?v=DblRdRKVW3U0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views