• Come to Rehan School Munawwar Campus
    Come to Rehan School Munawwar Campus
    0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • 0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • کراچی کی چھتیں صرف پانی کی ٹینکیاں رکھنے کے لیے نہیں بنی تھیں…
    یہ ہزاروں چھوٹے باغات بھی بن سکتی ہیں۔

    سوچئے…

    اگر کراچی کے صرف 1 لاکھ گھروں کی چھتوں پر:

    * پودے
    * سبزیاں
    * نرسری
    * پھول
    * چھوٹے درخت

    اگنا شروع ہو جائیں…

    تو:

    گرمی کم ہو سکتی ہے
    بجلی کا خرچ کم ہو سکتا ہے
    ہوا بہتر ہو سکتی ہے
    ہزاروں لوگ گھر بیٹھے کمائی کر سکتے ہیں

    اور یہی اب ایک نیا بزنس موقع بن رہا ہے۔



    کراچی کی Rooftop Nursery Revolution

    کراچی میں ہزاروں چھتیں خالی پڑی ہیں۔

    وہ صرف:

    * دھوپ کھا رہی ہیں
    * گرمی جذب کر رہی ہیں
    * AC کا خرچ بڑھا رہی ہیں

    لیکن یہی چھتیں:

    * Mini Nursery
    * Kitchen Garden
    * Plant Business
    * Organic Farming Space

    بن سکتی ہیں۔



    ایک چھت سے کتنی کمائی ہو سکتی ہے؟

    صرف 500 اسکوائر فٹ کی چھت پر:

    Snake Plant
    Aloe Vera
    Money Plant
    Succulents
    Lemon Grass
    Mint
    Indoor Plants
    Hanging Plants

    اگائے جا سکتے ہیں۔

    اور آج کراچی میں لوگ:

    * گھروں
    * دفاتر
    * کیفیز
    * ریسٹورنٹس
    * اپارٹمنٹس

    کے لیے پودے خرید رہے ہیں۔

    بہت سے لوگ:

    20,000 سے 200,000 روپے ماہانہ

    صرف پودوں کے کاروبار سے کما رہے ہیں۔



    سب سے بڑی بات؟

    یہ کاروبار:

    کم پیسوں سے شروع ہو سکتا ہے
    گھر سے شروع ہو سکتا ہے
    خواتین بھی کر سکتی ہیں
    نوجوان بھی کر سکتے ہیں
    AI اور سوشل میڈیا سے بہت تیزی سے grow ہو سکتا ہے



    Plant.pk Nursery Institute کیا سکھائے گا؟

    لوگ سمجھتے ہیں:

    “پودے لگانا آسان ہے۔”

    نہیں۔

    اصل skill یہ ہے:

    کون سا پودا کراچی کی گرمی میں survive کرے گا
    پانی کتنا دینا ہے
    rooftop heat کیسے کم کرنی ہے
    nursery setup کیسے کرنا ہے
    Instagram اور WhatsApp پر plants کیسے بیچنے ہیں
    کم جگہ میں زیادہ پیداوار کیسے لینی ہے
    imported plants کیسے propagate کرنے ہیں
    green walls اور rooftop cooling کیسے بنانی ہے



    مستقبل کا کاروبار

    دنیا “Green Economy” کی طرف جا رہی ہے۔

    آنے والے وقت میں:

    Green Buildings
    Rooftop Farming
    Urban Forests
    Heat Reduction Systems
    Vertical Gardens

    اربوں ڈالر کی industry بننے والی ہیں۔

    اور کراچی؟

    یہ دنیا کے سب سے بڑے rooftop nursery شہروں میں تبدیل ہو سکتا ہے۔



    اصل سوال

    ہم اپنی چھتوں پر:

    صرف پانی کی ٹینکیاں رکھیں گے؟

    یا مستقبل اُگائیں گے؟



    Learn How To Start A Rooftop Nursery Business In Karachi

    Learn from Plant.pk Nursery Institute
    Grow Trees & Plants on Rooftops
    Reduce Heat Naturally
    Start Your Own Green Business
    Help Make Karachi Cooler Again

    پاکستان کو صرف مزید عمارتیں نہیں چاہئیں…
    پاکستان کو دوبارہ سبز ہونا ہے۔

    Join

    https://chat.whatsapp.com/D056YmgckPrEVgXKPeSHpj?s=cl&p=i&ilr=2&amv=1

    Call Shamraiz Mehar

    +92 345 6873367
    کراچی کی چھتیں صرف پانی کی ٹینکیاں رکھنے کے لیے نہیں بنی تھیں… یہ ہزاروں چھوٹے باغات بھی بن سکتی ہیں۔ 🌿 سوچئے… اگر کراچی کے صرف 1 لاکھ گھروں کی چھتوں پر: * پودے * سبزیاں * نرسری * پھول * چھوٹے درخت اگنا شروع ہو جائیں… تو: ✅ گرمی کم ہو سکتی ہے ✅ بجلی کا خرچ کم ہو سکتا ہے ✅ ہوا بہتر ہو سکتی ہے ✅ ہزاروں لوگ گھر بیٹھے کمائی کر سکتے ہیں اور یہی اب ایک نیا بزنس موقع بن رہا ہے۔ 💰🌱 ⸻ کراچی کی Rooftop Nursery Revolution کراچی میں ہزاروں چھتیں خالی پڑی ہیں۔ وہ صرف: * دھوپ کھا رہی ہیں * گرمی جذب کر رہی ہیں * AC کا خرچ بڑھا رہی ہیں لیکن یہی چھتیں: * Mini Nursery * Kitchen Garden * Plant Business * Organic Farming Space بن سکتی ہیں۔ ⸻ ایک چھت سے کتنی کمائی ہو سکتی ہے؟ صرف 500 اسکوائر فٹ کی چھت پر: ✅ Snake Plant ✅ Aloe Vera ✅ Money Plant ✅ Succulents ✅ Lemon Grass ✅ Mint ✅ Indoor Plants ✅ Hanging Plants اگائے جا سکتے ہیں۔ اور آج کراچی میں لوگ: * گھروں * دفاتر * کیفیز * ریسٹورنٹس * اپارٹمنٹس کے لیے پودے خرید رہے ہیں۔ بہت سے لوگ: 20,000 سے 200,000 روپے ماہانہ صرف پودوں کے کاروبار سے کما رہے ہیں۔ ⸻ سب سے بڑی بات؟ یہ کاروبار: ✅ کم پیسوں سے شروع ہو سکتا ہے ✅ گھر سے شروع ہو سکتا ہے ✅ خواتین بھی کر سکتی ہیں ✅ نوجوان بھی کر سکتے ہیں ✅ AI اور سوشل میڈیا سے بہت تیزی سے grow ہو سکتا ہے ⸻ Plant.pk Nursery Institute کیا سکھائے گا؟ 🌿 لوگ سمجھتے ہیں: “پودے لگانا آسان ہے۔” نہیں۔ اصل skill یہ ہے: ✅ کون سا پودا کراچی کی گرمی میں survive کرے گا ✅ پانی کتنا دینا ہے ✅ rooftop heat کیسے کم کرنی ہے ✅ nursery setup کیسے کرنا ہے ✅ Instagram اور WhatsApp پر plants کیسے بیچنے ہیں ✅ کم جگہ میں زیادہ پیداوار کیسے لینی ہے ✅ imported plants کیسے propagate کرنے ہیں ✅ green walls اور rooftop cooling کیسے بنانی ہے ⸻ مستقبل کا کاروبار دنیا “Green Economy” کی طرف جا رہی ہے۔ آنے والے وقت میں: 🌿 Green Buildings 🌿 Rooftop Farming 🌿 Urban Forests 🌿 Heat Reduction Systems 🌿 Vertical Gardens اربوں ڈالر کی industry بننے والی ہیں۔ اور کراچی؟ یہ دنیا کے سب سے بڑے rooftop nursery شہروں میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ⸻ اصل سوال ہم اپنی چھتوں پر: صرف پانی کی ٹینکیاں رکھیں گے؟ یا مستقبل اُگائیں گے؟ 🌱 ⸻ Learn How To Start A Rooftop Nursery Business In Karachi 🌿 Learn from Plant.pk Nursery Institute 🌿 Grow Trees & Plants on Rooftops 🌿 Reduce Heat Naturally 🌿 Start Your Own Green Business 🌿 Help Make Karachi Cooler Again پاکستان کو صرف مزید عمارتیں نہیں چاہئیں… پاکستان کو دوبارہ سبز ہونا ہے۔ 🌳 Join https://chat.whatsapp.com/D056YmgckPrEVgXKPeSHpj?s=cl&p=i&ilr=2&amv=1 Call Shamraiz Mehar +92 345 6873367
    0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • پاکستان کے 20 سب سے زیادہ استعمال ہونے والے ایپس ہمیں کیا بتاتے ہیں؟

    اگر آپ کسی ملک کے لوگوں کے خواب، عادتیں اور ترجیحات سمجھنا چاہتے ہیں تو صرف خبریں یا سیاست دیکھنے کی ضرورت نہیں۔

    لوگ اپنے موبائل میں کون سی ایپس استعمال کرتے ہیں، اس سے بھی بہت کچھ سمجھ آ جاتا ہے۔

    آج پاکستان میں 15 کروڑ سے زیادہ براڈ بینڈ صارفین موجود ہیں۔ کروڑوں پاکستانیوں کے لیے موبائل فون صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہی ان کا اسکول، دفتر، بینک، بازار اور تفریح کا مرکز بن چکا ہے۔

    پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ایپ فیس بک ہے، جس کے تقریباً 7 کروڑ صارفین ہیں۔

    دوسرے نمبر پر ٹک ٹاک ہے، جس کے تقریباً 6 کروڑ 70 لاکھ صارفین ہیں۔ ہزاروں پاکستانی صرف ٹک ٹاک کی مدد سے روزگار کما رہے ہیں۔

    تیسرے نمبر پر یوٹیوب ہے، جسے تقریباً 5 کروڑ 60 لاکھ لوگ استعمال کرتے ہیں۔

    آج یوٹیوب دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی بن چکی ہے۔

    کوئی کھانا پکانا سیکھ رہا ہے، کوئی انگریزی، کوئی پروگرامنگ، کوئی کاروبار، اور کوئی مصنوعی ذہانت۔

    میسنجر اور واٹس ایپ پاکستان کے کروڑوں لوگوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔

    شاید آپ کو حیرت ہو، لیکن آج پاکستان میں بہت سے کاروبار صرف واٹس ایپ کے ذریعے چل رہے ہیں۔

    آرڈر واٹس ایپ پر۔
    رسید واٹس ایپ پر۔
    اسکول کا ہوم ورک واٹس ایپ پر۔
    میٹنگز واٹس ایپ پر۔

    یعنی واٹس ایپ پاکستان کی غیر سرکاری ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بن چکی ہے۔

    اسنیپ چیٹ کے تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ صارفین ہیں جبکہ انسٹاگرام کے ڈھائی کروڑ سے زیادہ صارفین موجود ہیں۔

    لنکڈ اِن کے ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ صارفین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستانی نوجوان اب صرف نوکری نہیں بلکہ دنیا سے رابطے اور مواقع بھی تلاش کر رہے ہیں۔

    سب سے دلچسپ تبدیلی ڈیجیٹل بینکنگ میں آئی ہے۔

    ایزی پیسہ کے تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ ماہانہ فعال صارفین ہیں جبکہ جاز کیش کروڑوں پاکستانیوں کو مالی سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔

    اس کے علاوہ ایک اور خاموش انقلاب شروع ہو چکا ہے۔

    مصنوعی ذہانت کا انقلاب۔

    چیٹ جی پی ٹی اور جیمنی جیسی ایپس پاکستان میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔

    چند سال پہلے لوگ صرف ویڈیوز دیکھتے تھے۔

    آج لوگ مصنوعی ذہانت سے سوال پوچھ رہے ہیں۔

    کل یہی لوگ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کاروبار بنائیں گے۔

    جب ہم پاکستان کی 20 سب سے مقبول ایپس کو دیکھتے ہیں تو ایک دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔

    پاکستانی لوگ اپنا زیادہ وقت صرف پانچ چیزوں پر خرچ کرتے ہیں:

    رابطے بنانے پر۔

    ویڈیوز اور تفریح پر۔

    سیکھنے پر۔

    پیسے کے لین دین پر۔

    اور مواد تخلیق کرنے پر۔

    یہ ایک بہت بڑی خبر ہے۔

    کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا ملک نہیں بن رہا۔

    بلکہ آہستہ آہستہ ایک Creator Economy میں تبدیل ہو رہا ہے۔

    ایک ایسا ملک جہاں عام لوگ موبائل فون کی مدد سے سیکھ سکتے ہیں، دنیا سے جڑ سکتے ہیں، اپنا کاروبار بنا سکتے ہیں اور گھر بیٹھے آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔

    اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ بچے موبائل کیوں استعمال کرتے ہیں۔

    اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم انہیں موبائل کو صرف تفریح کے لیے استعمال کرنا سکھا رہے ہیں؟

    یا پھر ہم انہیں سکھا رہے ہیں کہ یہی موبائل ان کا استاد، ان کا دفتر، ان کا بینک اور ان کا مستقبل بھی بن سکتا ہے؟

    پاکستان کی 20 سب سے مقبول ایپس دراصل صرف ایپس نہیں۔

    یہ پاکستان کے مستقبل کی ایک جھلک ہیں۔

    اور آنے والا وقت انہی لوگوں کا ہوگا جو مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور رابطوں کی طاقت کو استعمال کرنا سیکھ جائی

    ے۔
    پاکستان کے 20 سب سے زیادہ استعمال ہونے والے ایپس ہمیں کیا بتاتے ہیں؟ اگر آپ کسی ملک کے لوگوں کے خواب، عادتیں اور ترجیحات سمجھنا چاہتے ہیں تو صرف خبریں یا سیاست دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ لوگ اپنے موبائل میں کون سی ایپس استعمال کرتے ہیں، اس سے بھی بہت کچھ سمجھ آ جاتا ہے۔ آج پاکستان میں 15 کروڑ سے زیادہ براڈ بینڈ صارفین موجود ہیں۔ کروڑوں پاکستانیوں کے لیے موبائل فون صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہی ان کا اسکول، دفتر، بینک، بازار اور تفریح کا مرکز بن چکا ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ایپ فیس بک ہے، جس کے تقریباً 7 کروڑ صارفین ہیں۔ دوسرے نمبر پر ٹک ٹاک ہے، جس کے تقریباً 6 کروڑ 70 لاکھ صارفین ہیں۔ ہزاروں پاکستانی صرف ٹک ٹاک کی مدد سے روزگار کما رہے ہیں۔ تیسرے نمبر پر یوٹیوب ہے، جسے تقریباً 5 کروڑ 60 لاکھ لوگ استعمال کرتے ہیں۔ آج یوٹیوب دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی بن چکی ہے۔ کوئی کھانا پکانا سیکھ رہا ہے، کوئی انگریزی، کوئی پروگرامنگ، کوئی کاروبار، اور کوئی مصنوعی ذہانت۔ میسنجر اور واٹس ایپ پاکستان کے کروڑوں لوگوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔ شاید آپ کو حیرت ہو، لیکن آج پاکستان میں بہت سے کاروبار صرف واٹس ایپ کے ذریعے چل رہے ہیں۔ آرڈر واٹس ایپ پر۔ رسید واٹس ایپ پر۔ اسکول کا ہوم ورک واٹس ایپ پر۔ میٹنگز واٹس ایپ پر۔ یعنی واٹس ایپ پاکستان کی غیر سرکاری ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بن چکی ہے۔ اسنیپ چیٹ کے تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ صارفین ہیں جبکہ انسٹاگرام کے ڈھائی کروڑ سے زیادہ صارفین موجود ہیں۔ لنکڈ اِن کے ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ صارفین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستانی نوجوان اب صرف نوکری نہیں بلکہ دنیا سے رابطے اور مواقع بھی تلاش کر رہے ہیں۔ سب سے دلچسپ تبدیلی ڈیجیٹل بینکنگ میں آئی ہے۔ ایزی پیسہ کے تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ ماہانہ فعال صارفین ہیں جبکہ جاز کیش کروڑوں پاکستانیوں کو مالی سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور خاموش انقلاب شروع ہو چکا ہے۔ مصنوعی ذہانت کا انقلاب۔ چیٹ جی پی ٹی اور جیمنی جیسی ایپس پاکستان میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ چند سال پہلے لوگ صرف ویڈیوز دیکھتے تھے۔ آج لوگ مصنوعی ذہانت سے سوال پوچھ رہے ہیں۔ کل یہی لوگ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کاروبار بنائیں گے۔ جب ہم پاکستان کی 20 سب سے مقبول ایپس کو دیکھتے ہیں تو ایک دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔ پاکستانی لوگ اپنا زیادہ وقت صرف پانچ چیزوں پر خرچ کرتے ہیں: رابطے بنانے پر۔ ویڈیوز اور تفریح پر۔ سیکھنے پر۔ پیسے کے لین دین پر۔ اور مواد تخلیق کرنے پر۔ یہ ایک بہت بڑی خبر ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا ملک نہیں بن رہا۔ بلکہ آہستہ آہستہ ایک Creator Economy میں تبدیل ہو رہا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں عام لوگ موبائل فون کی مدد سے سیکھ سکتے ہیں، دنیا سے جڑ سکتے ہیں، اپنا کاروبار بنا سکتے ہیں اور گھر بیٹھے آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ بچے موبائل کیوں استعمال کرتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم انہیں موبائل کو صرف تفریح کے لیے استعمال کرنا سکھا رہے ہیں؟ یا پھر ہم انہیں سکھا رہے ہیں کہ یہی موبائل ان کا استاد، ان کا دفتر، ان کا بینک اور ان کا مستقبل بھی بن سکتا ہے؟ پاکستان کی 20 سب سے مقبول ایپس دراصل صرف ایپس نہیں۔ یہ پاکستان کے مستقبل کی ایک جھلک ہیں۔ اور آنے والا وقت انہی لوگوں کا ہوگا جو مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور رابطوں کی طاقت کو استعمال کرنا سیکھ جائی ے۔
    0 Kommentare 0 Anteile 16 Ansichten
  • کبھی آسمان کی طرف دیکھ کر سوچا ہے کہ ہم واقعی کتنے اکیلے ہیں؟

    ہماری قریبی بڑی کہکشاں “اینڈرومیڈا” میں اندازاً ایک کھرب (1 ٹریلین) ستارے موجود ہیں۔

    اگر صرف ایک فیصد ستاروں کے گرد ایسے سیارے ہوں جہاں زندگی ممکن ہو، تو صرف ایک کہکشاں میں تقریباً 10 ارب دنیاؤں کا امکان بنتا ہے…

    جی ہاں، 10 ارب!

    اور یہ کوئی دور کی خیالی بات نہیں۔

    اینڈرومیڈا ہماری قریب ترین بڑی پڑوسی کہکشاں ہے، جو ہم سے تقریباً 25 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے۔

    جب صرف ایک کہکشاں میں اتنی ممکنہ دنیاؤں کا تصور کیا جائے، تو ایک سوال انسان کے ذہن میں لازماً ابھرتا ہے:

    کیا واقعی ہم اس کائنات میں اکیلے ہیں؟

    یا کہیں کسی اور دنیا میں بھی کوئی مخلوق آسمان کی طرف دیکھ کر یہی سوال پوچھ رہی ہے؟

    ہر نیا سیارہ جو دریافت ہوتا ہے…
    ہر نئی تصویر جو جیمز ویب اور ہبل دوربین ہمیں بھیجتی ہیں…
    انسانیت کو اس عظیم سوال کے جواب کے ایک قدم اور قریب لے جاتی ہے۔

    جتنا ہم کائنات کو سمجھتے جا رہے ہیں…
    اتنا ہی ہمیں اپنی چھوٹی سی زمین، اپنی زندگی، اور اپنے وجود پر حیرت ہونے لگتی ہے۔

    شاید سب سے بڑا معجزہ یہ نہیں کہ کائنات کتنی وسیع ہے…

    بلکہ یہ ہے کہ اس وسیع کائنات میں ایک ننھی سی زمین پر بیٹھا انسان اس کے راز جاننے کی کوشش کر رہا ہے۔

    #Andromeda
    #Galaxy
    #Universe
    #Space
    #Astronomy
    #Cosmos
    #Exoplanets
    #LifeInTheUniverse
    #Astrobiology
    #Science
    #DeepSpace
    #MilkyWay
    #AlienLife
    #NASA
    #JamesWebb
    #HubbleSpaceTelescope
    #SpaceExplor

    on
    :::

    تبصرے میں لکھیں:
    “کیا ہم واقعی اکیلے ہیں؟”
    کبھی آسمان کی طرف دیکھ کر سوچا ہے کہ ہم واقعی کتنے اکیلے ہیں؟ ہماری قریبی بڑی کہکشاں “اینڈرومیڈا” میں اندازاً ایک کھرب (1 ٹریلین) ستارے موجود ہیں۔ اگر صرف ایک فیصد ستاروں کے گرد ایسے سیارے ہوں جہاں زندگی ممکن ہو، تو صرف ایک کہکشاں میں تقریباً 10 ارب دنیاؤں کا امکان بنتا ہے… جی ہاں، 10 ارب! اور یہ کوئی دور کی خیالی بات نہیں۔ اینڈرومیڈا ہماری قریب ترین بڑی پڑوسی کہکشاں ہے، جو ہم سے تقریباً 25 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے۔ جب صرف ایک کہکشاں میں اتنی ممکنہ دنیاؤں کا تصور کیا جائے، تو ایک سوال انسان کے ذہن میں لازماً ابھرتا ہے: کیا واقعی ہم اس کائنات میں اکیلے ہیں؟ یا کہیں کسی اور دنیا میں بھی کوئی مخلوق آسمان کی طرف دیکھ کر یہی سوال پوچھ رہی ہے؟ ہر نیا سیارہ جو دریافت ہوتا ہے… ہر نئی تصویر جو جیمز ویب اور ہبل دوربین ہمیں بھیجتی ہیں… انسانیت کو اس عظیم سوال کے جواب کے ایک قدم اور قریب لے جاتی ہے۔ جتنا ہم کائنات کو سمجھتے جا رہے ہیں… اتنا ہی ہمیں اپنی چھوٹی سی زمین، اپنی زندگی، اور اپنے وجود پر حیرت ہونے لگتی ہے۔ شاید سب سے بڑا معجزہ یہ نہیں کہ کائنات کتنی وسیع ہے… بلکہ یہ ہے کہ اس وسیع کائنات میں ایک ننھی سی زمین پر بیٹھا انسان اس کے راز جاننے کی کوشش کر رہا ہے۔ 🌌✨ #Andromeda #Galaxy #Universe #Space #Astronomy #Cosmos #Exoplanets #LifeInTheUniverse #Astrobiology #Science #DeepSpace #MilkyWay #AlienLife #NASA #JamesWebb #HubbleSpaceTelescope #SpaceExplor on ::: تبصرے میں لکھیں: “کیا ہم واقعی اکیلے ہیں؟” 👇🌌
    0 Kommentare 0 Anteile 3588 Ansichten
  • گرمیوں کی چھٹیاں ضائع نہ کریں… پاکستان کے بچوں کو AI کے انقلاب سے جوڑیں!

    اگر آپ ٹیچر، پرنسپل یا اسکول کے مالک ہیں، اور آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے آنے والے دور کے لیے تیار ہوں، تو Rehan School کے ساتھ ہمارا AI Teacher Bootcamp جوائن کیجئے۔

    روزانہ صرف 2 گھنٹے
    مدت: 2 ماہ
    آج جو سیکھیں، کل اپنے بچوں کو خود پڑھائیں
    AI، ChatGPT اور جدید ٹولز کا عملی استعمال
    ہمارے 6 لیولز ہیں، پہلے لیول سے آغاز کیجئے

    فیس کی تجویز: 10,000 روپے ماہانہ

    لیکن اگر آپ کے لیے یہ فیس مشکل ہے تو جتنی آپ استطاعت رکھتے ہیں اتنی ادا کر دیں۔

    باقی خرچہ ریحان اللہ والا اپنی جیب سے برداشت کر لیں گے۔

    بس خدا کے واسطے پاکستان کے بچوں کو AI کے اس انقلاب سے محروم نہ کریں۔

    ایڈمیشن اور معلومات کے لیے:
    0323-2147000

    واٹس ایپ گروپ جوائن کریں:
    https://chat.whatsapp.com/JDGZ7I6XMn84vif8mgKB6B?mode=gi_t

    Signup online on www.rehan.education

    اگر آپ دلچسپی رکھتے ہیں تو کمنٹس میں صرف “AI” لکھیں، ہم آپ سے رابطہ کریں گے۔

    آج جو بچے AI سیکھیں گے، کل وہی دنیا کی قیادت کریں گے۔
    — ریحان اللہ والا

    Contact Iman Leadershipwali
    Maryam Zulfiqar TrainingWali
    Soulat CanvaWali
    Sohail Saeed Khan

    0333 2177275
    گرمیوں کی چھٹیاں ضائع نہ کریں… پاکستان کے بچوں کو AI کے انقلاب سے جوڑیں! اگر آپ ٹیچر، پرنسپل یا اسکول کے مالک ہیں، اور آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے آنے والے دور کے لیے تیار ہوں، تو Rehan School کے ساتھ ہمارا AI Teacher Bootcamp جوائن کیجئے۔ ✅ روزانہ صرف 2 گھنٹے ✅ مدت: 2 ماہ ✅ آج جو سیکھیں، کل اپنے بچوں کو خود پڑھائیں ✅ AI، ChatGPT اور جدید ٹولز کا عملی استعمال ✅ ہمارے 6 لیولز ہیں، پہلے لیول سے آغاز کیجئے فیس کی تجویز: 10,000 روپے ماہانہ لیکن اگر آپ کے لیے یہ فیس مشکل ہے تو جتنی آپ استطاعت رکھتے ہیں اتنی ادا کر دیں۔ باقی خرچہ ریحان اللہ والا اپنی جیب سے برداشت کر لیں گے۔ بس خدا کے واسطے پاکستان کے بچوں کو AI کے اس انقلاب سے محروم نہ کریں۔ 📞 ایڈمیشن اور معلومات کے لیے: 0323-2147000 📌 واٹس ایپ گروپ جوائن کریں: https://chat.whatsapp.com/JDGZ7I6XMn84vif8mgKB6B?mode=gi_t Signup online on www.rehan.education اگر آپ دلچسپی رکھتے ہیں تو کمنٹس میں صرف “AI” لکھیں، ہم آپ سے رابطہ کریں گے۔ آج جو بچے AI سیکھیں گے، کل وہی دنیا کی قیادت کریں گے۔ — ریحان اللہ والا Contact Iman Leadershipwali Maryam Zulfiqar TrainingWali Soulat CanvaWali Sohail Saeed Khan 0333 2177275
    0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • 150 ممالک گھومنے والا پاکستانی!

    آج ایک ایسے شخص سے ملاقات ہوئی جس نے مجھے حیران بھی کیا، خوش بھی کیا، اور سوچنے پر بھی مجبور کر دیا۔

    ان کا نام شوکت جیلانی صاحب ہے۔

    150 سے زیادہ ممالک کی سیر کر چکے ہیں۔

    25 سال ہالینڈ میں رہے۔

    ایک سال امریکہ میں گزارا۔

    کئی سال لیدر کے کاروبار سے وابستہ رہے۔

    آج پاکستان میں مصنوعی (Fake) لیدر کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔

    ایف پی سی سی آئی (FPCCI) کے سرگرم رکن ہیں۔

    اور سب سے بڑھ کر…

    لوگوں سے جڑنے، دوست بنانے اور دنیا بھر میں تعلقات قائم کرنے کا ایک غیر معمولی ہنر رکھتے ہیں۔

    میں نے اپنی زندگی میں پاکستان میں شاید ہی کسی ایسے شخص سے ملاقات کی ہو جس نے 150 سے زیادہ ممالک دیکھے ہوں۔

    ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ یونیورسٹی کی ڈگری ہی تعلیم ہے۔

    لیکن کچھ لوگ خود ایک چلتی پھرتی یونیورسٹی ہوتے ہیں۔

    ان کی کہانیاں…

    ان کے تجربات…

    ان کی ناکامیاں…

    ان کی کامیابیاں…

    اور مختلف تہذیبوں اور لوگوں سے ملنے کا سفر…

    یہ سب ایسی دولت ہے جو کتابوں میں نہیں ملتی۔

    اگر آپ پوڈکاسٹ کرتے ہیں، کاروبار سے دلچسپی رکھتے ہیں، یا صرف دنیا کو سمجھنا چاہتے ہیں، تو میری درخواست ہے کہ شوکت جیلانی صاحب کو اپنے پوڈکاسٹ پر ضرور مدعو کریں۔

    مجھے یقین ہے کہ 150 ممالک کی کہانیوں میں ایسی حکمت چھپی ہوگی جو شاید کئی کتابوں میں بھی نہ ملے۔

    کبھی کبھی ایک انسان…

    ایک پوری لائبریری سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔



    شکریہ شوکت جیلانی صاحب!

    آپ سے ملاقات نے ایک بار پھر یاد دلایا کہ دنیا میں اصل دولت صرف پیسہ نہیں…

    بلکہ تجربات، تعلقات اور کہانیاں بھی ہوتی ہیں۔

    — ریحان اللہ والا

    Shaukat Ali Jillani
    Rubab EducationWali
    150 ممالک گھومنے والا پاکستانی! آج ایک ایسے شخص سے ملاقات ہوئی جس نے مجھے حیران بھی کیا، خوش بھی کیا، اور سوچنے پر بھی مجبور کر دیا۔ ان کا نام شوکت جیلانی صاحب ہے۔ ✈️ 150 سے زیادہ ممالک کی سیر کر چکے ہیں۔ 🇳🇱 25 سال ہالینڈ میں رہے۔ 🇺🇸 ایک سال امریکہ میں گزارا۔ 👜 کئی سال لیدر کے کاروبار سے وابستہ رہے۔ ♻️ آج پاکستان میں مصنوعی (Fake) لیدر کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ 🤝 ایف پی سی سی آئی (FPCCI) کے سرگرم رکن ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر… لوگوں سے جڑنے، دوست بنانے اور دنیا بھر میں تعلقات قائم کرنے کا ایک غیر معمولی ہنر رکھتے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں پاکستان میں شاید ہی کسی ایسے شخص سے ملاقات کی ہو جس نے 150 سے زیادہ ممالک دیکھے ہوں۔ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ یونیورسٹی کی ڈگری ہی تعلیم ہے۔ لیکن کچھ لوگ خود ایک چلتی پھرتی یونیورسٹی ہوتے ہیں۔ ان کی کہانیاں… ان کے تجربات… ان کی ناکامیاں… ان کی کامیابیاں… اور مختلف تہذیبوں اور لوگوں سے ملنے کا سفر… یہ سب ایسی دولت ہے جو کتابوں میں نہیں ملتی۔ اگر آپ پوڈکاسٹ کرتے ہیں، کاروبار سے دلچسپی رکھتے ہیں، یا صرف دنیا کو سمجھنا چاہتے ہیں، تو میری درخواست ہے کہ شوکت جیلانی صاحب کو اپنے پوڈکاسٹ پر ضرور مدعو کریں۔ مجھے یقین ہے کہ 150 ممالک کی کہانیوں میں ایسی حکمت چھپی ہوگی جو شاید کئی کتابوں میں بھی نہ ملے۔ کبھی کبھی ایک انسان… ایک پوری لائبریری سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ ❤️ شکریہ شوکت جیلانی صاحب! آپ سے ملاقات نے ایک بار پھر یاد دلایا کہ دنیا میں اصل دولت صرف پیسہ نہیں… بلکہ تجربات، تعلقات اور کہانیاں بھی ہوتی ہیں۔ — ریحان اللہ والا Shaukat Ali Jillani Rubab EducationWali
    0 Kommentare 0 Anteile 47 Ansichten
  • In Ramadan I visited Pakistan Sweet Home and I saw their discipline and system , which I loved !

    In order to become anything great you need Discipline, when I asked our students to get their hair cut they don’t do it so we are implementing entire new uniform and hair cut so they learn to follow discipline!

    Doing something for 26 million out of school students can’t happen without discipline !
    In Ramadan I visited Pakistan Sweet Home and I saw their discipline and system , which I loved ! In order to become anything great you need Discipline, when I asked our students to get their hair cut they don’t do it so we are implementing entire new uniform and hair cut 💇‍♀️so they learn to follow discipline! Doing something for 26 million out of school students can’t happen without discipline !
    0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • 0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • شکریہ عاطف احمد صاحب۔ شکریہ۔

    آج کل ایک عجیب زمانہ ہے۔

    لوگ کامیابی تو دکھاتے ہیں، لیکن اس کے پیچھے کا راستہ چھپا لیتے ہیں۔

    لوگ چاہتے ہیں کہ ان کی کمپنی تو بڑی ہو، لیکن ان جیسی مزید کمپنیاں پیدا نہ ہوں۔

    لیکن کچھ لوگ مختلف ہوتے ہیں۔

    شنگریلا فوڈز کے بانی اور ڈائریکٹر، جناب عاطف احمد صاحب، ان لوگوں میں سے ہیں۔

    Atif Ahmed

    پاکستان کے لاکھوں گھروں تک پہنچنے والا برانڈ۔

    ہزاروں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ۔

    اربوں روپے کے کاروبار کی ایک کامیاب کہانی۔

    اور اس سب کے باوجود…

    بار بار ریحان اسکول آنا۔

    بچوں سے ملنا۔

    پوڈکاسٹ کرنا۔

    اور سب سے بڑھ کر…

    اپنے تجربات، اپنی غلطیاں، اپنے سسٹمز، اور اپنی کامیابیوں کو کھلے دل سے دوسروں کے لیے بیان کرنا۔

    کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ علم چھپانے سے قومیں امیر نہیں بنتیں۔

    علم بانٹنے سے بنتی ہیں۔

    شاید اگر پاکستان کے 100 کامیاب کاروباری لوگ بھی عاطف احمد صاحب کی طرح اپنی زندگی کے تجربات، کاروباری راز، اور سیکھے ہوئے سبق نوجوانوں کے لیے اوپن سورس کر دیں…

    تو اگلے 20 سال میں پاکستان میں 100 نئی شنگریلا فوڈز پیدا ہو سکتی ہیں۔

    اور شاید یہی وہ چیز ہے جس کی پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

    مزید تنخواہ لینے والے نہیں…

    بلکہ مزید روزگار پیدا کرنے والے لوگ۔

    مزید صنعتیں۔

    مزید برانڈز۔

    مزید خواب۔

    اور مزید ایسے لوگ…

    جو کامیابی کو صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے بھی آسان بنا دیں۔

    دل کی گہرائیوں سے شکریہ عاطف احمد صاحب۔

    آپ نے صرف ایک پوڈکاسٹ نہیں کیا۔

    آپ نے شاید سینکڑوں نوجوانوں کے ذہنوں میں ایک نیا خواب بو دیا ہے۔

    اور بعض اوقات…

    ایک خواب…

    ہزار فیکٹریوں سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔



    — ریحان اللہ والا
    ریحان اسکول

    “کامیابی کی سب سے خوبصورت شکل وہ ہے، جو دوسروں کے لیے راستہ چھوڑ کر جائے۔”
    شکریہ عاطف احمد صاحب۔ شکریہ۔ آج کل ایک عجیب زمانہ ہے۔ لوگ کامیابی تو دکھاتے ہیں، لیکن اس کے پیچھے کا راستہ چھپا لیتے ہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کی کمپنی تو بڑی ہو، لیکن ان جیسی مزید کمپنیاں پیدا نہ ہوں۔ لیکن کچھ لوگ مختلف ہوتے ہیں۔ شنگریلا فوڈز کے بانی اور ڈائریکٹر، جناب عاطف احمد صاحب، ان لوگوں میں سے ہیں۔ Atif Ahmed پاکستان کے لاکھوں گھروں تک پہنچنے والا برانڈ۔ ہزاروں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ۔ اربوں روپے کے کاروبار کی ایک کامیاب کہانی۔ اور اس سب کے باوجود… بار بار ریحان اسکول آنا۔ بچوں سے ملنا۔ پوڈکاسٹ کرنا۔ اور سب سے بڑھ کر… اپنے تجربات، اپنی غلطیاں، اپنے سسٹمز، اور اپنی کامیابیوں کو کھلے دل سے دوسروں کے لیے بیان کرنا۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ علم چھپانے سے قومیں امیر نہیں بنتیں۔ علم بانٹنے سے بنتی ہیں۔ شاید اگر پاکستان کے 100 کامیاب کاروباری لوگ بھی عاطف احمد صاحب کی طرح اپنی زندگی کے تجربات، کاروباری راز، اور سیکھے ہوئے سبق نوجوانوں کے لیے اوپن سورس کر دیں… تو اگلے 20 سال میں پاکستان میں 100 نئی شنگریلا فوڈز پیدا ہو سکتی ہیں۔ اور شاید یہی وہ چیز ہے جس کی پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ مزید تنخواہ لینے والے نہیں… بلکہ مزید روزگار پیدا کرنے والے لوگ۔ مزید صنعتیں۔ مزید برانڈز۔ مزید خواب۔ اور مزید ایسے لوگ… جو کامیابی کو صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے بھی آسان بنا دیں۔ دل کی گہرائیوں سے شکریہ عاطف احمد صاحب۔ آپ نے صرف ایک پوڈکاسٹ نہیں کیا۔ آپ نے شاید سینکڑوں نوجوانوں کے ذہنوں میں ایک نیا خواب بو دیا ہے۔ اور بعض اوقات… ایک خواب… ہزار فیکٹریوں سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ ❤️ — ریحان اللہ والا ریحان اسکول “کامیابی کی سب سے خوبصورت شکل وہ ہے، جو دوسروں کے لیے راستہ چھوڑ کر جائے۔”
    0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten