• Have you watched this documentary ?

    Watch and download before it is deleted !

    https://youtu.be/aN62U6BVYtY?si=bTtZU4QzCAgZlxkp

    You can also upload it on your YouTube and fb channels
    Have you watched this documentary ? Watch and download before it is deleted ! https://youtu.be/aN62U6BVYtY?si=bTtZU4QzCAgZlxkp You can also upload it on your YouTube and fb channels
    0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • 0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • Contact Bisma AI Wali ! First batch starts Monday !

    03018902620
    Contact Bisma AI Wali ! First batch starts Monday ! 03018902620
    0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • اگر امیر بننا چاہتے ہیں تو نوکریاں بدلنا بند کریں، دوست بدلیں۔

    مجھے معلوم ہے کہ یہ بات بہت سے لوگوں کو بری لگے گی۔

    لیکن تقریباً چالیس سال لوگوں کو کامیاب اور ناکام ہوتے دیکھنے کے بعد، میں ایک نتیجے پر پہنچا ہوں:

    آپ کے دوست آپ کی مہارتوں سے زیادہ اہم ہیں۔

    اس لیے نہیں کہ مہارتیں ضروری نہیں۔

    اس لیے نہیں کہ محنت ضروری نہیں۔

    بلکہ اس لیے کہ مواقع انسانوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔

    اور انسان آہستہ آہستہ ویسے ہی بن جاتے ہیں جیسے ان کے اردگرد کے لوگ ہوتے ہیں۔

    میری زندگی اس وقت بدلی جب میں نے اپنے دوست بدلے

    میں نے ایسے لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا شروع کیا جو مختلف سوچتے تھے۔

    جو بڑے خواب دیکھتے تھے۔

    جو مسائل حل کرتے تھے۔

    جو مختلف ملکوں میں رہتے تھے۔

    جو مجھ سے زیادہ جانتے تھے۔

    اور پھر آہستہ آہستہ، بغیر محسوس کیے، میں بدلنے لگا۔

    میری سوچ بدل گئی۔

    میرا اعتماد بدل گیا۔

    میری آمدنی بدل گئی۔

    میری زندگی بدل گئی۔

    اسی لیے تقریباً بیس سال پہلے میری پہلی ویڈیوز میں سے ایک سوشل نیٹ ورکنگ اور نئے دوست بنانے پر تھی۔

    اور دس سال سے زیادہ پہلے میں نے “Ad Me” نامی کتاب لکھی۔

    اس پوری کتاب کا خلاصہ صرف ایک جملہ تھا:

    آپ کا نیٹ ورک ہی آپ کی دولت کا تعین کرتا ہے۔

    اور آج بھی، پہلے سے زیادہ، میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں۔

    مجھے آپ کے پانچ قریبی دوست دکھائیں، میں آپ کا مستقبل بتا دوں گا

    اگر آپ کے پانچ قریبی دوست ہر وقت شکایت کرتے ہیں، تو آپ بھی شکایت کرنے لگیں گے۔

    اگر وہ ہر بات کا الزام سیاستدانوں کو دیتے ہیں، تو آپ بھی یہی کریں گے۔

    اگر وہ سست ہیں، تو ان کی سستی آہستہ آہستہ آپ میں بھی آ جائے گی۔

    اگر وہ سمجھتے ہیں کہ کامیابی ناممکن ہے، تو ایک دن آپ بھی یہی ماننے لگیں گے۔

    انسان ایک دوسرے سے متاثر ہوتے ہیں۔

    خواب متعدی ہوتے ہیں۔

    خوف متعدی ہوتا ہے۔

    غربت بھی متعدی ہوتی ہے۔

    اور کامیابی بھی۔

    غریب لوگوں کی سب سے بڑی غلطی

    وہ نوکریاں بدلتے رہتے ہیں۔

    لیکن دوست نہیں بدلتے۔

    وہ شہر بدلتے ہیں۔

    لیکن گفتگو نہیں بدلتے۔

    وہ موبائل بدلتے ہیں۔

    لیکن سوچ نہیں بدلتے۔

    اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ زندگی کیوں نہیں بدل رہی۔

    اے آئی نے علم کو سستا کر دیا ہے

    آج آپ تقریباً ہر چیز سیکھ سکتے ہیں۔

    پروگرامنگ۔

    مارکیٹنگ۔

    انگریزی۔

    گرافک ڈیزائن۔

    بزنس۔

    سیلز۔

    تقریباً ہر چیز۔

    معلومات اب مفت ہیں۔

    لیکن اعتماد مفت نہیں۔

    رشتے مفت نہیں۔

    شہرت مفت نہیں۔

    مواقع مفت نہیں۔

    اور یہ سب چیزیں انسانوں کے ذریعے سفر کرتی ہیں۔

    گوگل کے ذریعے نہیں۔

    ڈگریوں کے ذریعے نہیں۔

    سرٹیفیکیٹس کے ذریعے نہیں۔

    بلکہ انسانوں کے ذریعے۔

    اگر دو کروڑ روپے سالانہ کمانا چاہتے ہیں

    تو صرف ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھیں جو بیس ہزار روپے ماہانہ کما رہے ہیں۔

    یہ بات شاید سخت لگے۔

    لیکن حقیقت یہی ہے۔

    آپ ویسے ہی بن جاتے ہیں جیسے لوگ آپ کے اردگرد ہوتے ہیں۔

    اگر عالمی سطح پر سوچنا چاہتے ہیں، تو عالمی دوست بنائیں۔

    امریکہ میں۔

    سنگاپور میں۔

    ملائیشیا میں۔

    جاپان میں۔

    برازیل میں۔

    افریقہ میں۔

    مختلف مذاہب کے لوگ۔

    مختلف رنگوں کے لوگ۔

    مختلف ثقافتوں کے لوگ۔

    انسانیت کے طالب علم بن جائیں۔

    دنیا کے شہری بن جائیں۔

    لوگ مجھ سے دوستی کیوں کریں گے؟

    بہت سے لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں:

    “امریکہ یا کسی دوسرے ملک کا انسان مجھ سے دوستی کیوں کرے گا؟”

    میرا سوال ہے:

    وہ کیوں نہیں کرے گا؟

    آخر انسان، انسان ہی ہوتے ہیں۔

    لیکن سب سے پہلے، انہیں آپ پر اعتماد ہونا چاہیے۔

    اگر آپ کی پروفائل تصویر تتلی کی ہے، بندوق کی ہے، یا آپ کی پروفائل لاک ہے، تو کوئی آپ پر اعتماد کیوں کرے؟

    کیا آپ ایسے شخص پر اعتماد کریں گے؟

    شاید نہیں۔

    اپنی تصویر لگائیں۔

    مسکرائیں۔

    لوگوں کو بتائیں کہ آپ کیا کرتے ہیں۔

    اپنی دلچسپیاں دکھائیں۔

    حقیقی انسان بنیں۔

    کیونکہ انٹرنیٹ کی دنیا میں سب سے بڑی کرنسی اعتماد ہے۔

    اگر فوری پیسہ چاہیے

    تو ایک ہفتہ کسی پھل والے کے ساتھ گزاریں۔

    کسی سبزی والے کے ساتھ۔

    کسی سموسے والے کے ساتھ۔

    کسی بن کباب والے کے ساتھ۔

    شروع میں شرمندگی ہو گی۔

    بہت اچھی بات ہے۔

    کیونکہ شرمندگی اس بات کی نشانی ہے کہ آپ بدل رہے ہیں۔

    کامیابی کا پہلا ہنر شرمندگی برداشت کرنا ہے۔

    اور دوسرا ہنر بیچنا سیکھنا ہے۔

    کیونکہ آپ کے سب سے بڑے اثاثے آپ کی ڈگریاں نہیں ہیں۔

    آپ کا لیپ ٹاپ نہیں ہے۔

    بلکہ:

    آپ کی مسکراہٹ۔

    آپ کی آواز۔

    آپ کے کان۔

    آپ کی آنکھیں۔

    آپ کی ایمانداری۔

    آپ کی توانائی۔

    اور لوگوں کا اعتماد جیتنے کی صلاحیت۔

    یہ چیزیں کمپیوٹر سے پہلے بھی موجود تھیں۔

    اور سو سال بعد بھی موجود ہوں گی۔

    میرے خیال میں غربت اکثر تعلقات کا مسئلہ ہے

    ہمیشہ نہیں۔

    لیکن اکثر۔

    کیونکہ مواقع ان لوگوں پر منحصر ہوتے ہیں جنہیں آپ جانتے ہیں۔

    خیالات ان لوگوں پر منحصر ہوتے ہیں جن کے ساتھ آپ وقت گزارتے ہیں۔

    اور آپ کا مستقبل ان گفتگوؤں پر منحصر ہوتا ہے جو آپ روزانہ کرتے ہیں۔

    اسی لیے اگر آپ کی زندگی نہیں بدل رہی،

    تو شاید آپ کو ایک اور کورس کی ضرورت نہیں۔

    شاید آپ کو ایک اور سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں۔

    شاید آپ کو ایک اور نوکری کی ضرورت نہیں۔

    شاید…

    آپ کو نئے دوستوں کی ضرورت ہے۔

    کیونکہ میرے دوست بدلنے سے میری زندگی بدل گئی۔

    اور شاید…

    آپ کی بھی بدل جائے۔

    اگر امیر بننا چاہتے ہیں، تو نوکریاں بدلنا بند کریں، دوست بدلیں۔

    — ریحان اللہ والا
    اگر امیر بننا چاہتے ہیں تو نوکریاں بدلنا بند کریں، دوست بدلیں۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ بات بہت سے لوگوں کو بری لگے گی۔ لیکن تقریباً چالیس سال لوگوں کو کامیاب اور ناکام ہوتے دیکھنے کے بعد، میں ایک نتیجے پر پہنچا ہوں: آپ کے دوست آپ کی مہارتوں سے زیادہ اہم ہیں۔ اس لیے نہیں کہ مہارتیں ضروری نہیں۔ اس لیے نہیں کہ محنت ضروری نہیں۔ بلکہ اس لیے کہ مواقع انسانوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ اور انسان آہستہ آہستہ ویسے ہی بن جاتے ہیں جیسے ان کے اردگرد کے لوگ ہوتے ہیں۔ میری زندگی اس وقت بدلی جب میں نے اپنے دوست بدلے میں نے ایسے لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا شروع کیا جو مختلف سوچتے تھے۔ جو بڑے خواب دیکھتے تھے۔ جو مسائل حل کرتے تھے۔ جو مختلف ملکوں میں رہتے تھے۔ جو مجھ سے زیادہ جانتے تھے۔ اور پھر آہستہ آہستہ، بغیر محسوس کیے، میں بدلنے لگا۔ میری سوچ بدل گئی۔ میرا اعتماد بدل گیا۔ میری آمدنی بدل گئی۔ میری زندگی بدل گئی۔ اسی لیے تقریباً بیس سال پہلے میری پہلی ویڈیوز میں سے ایک سوشل نیٹ ورکنگ اور نئے دوست بنانے پر تھی۔ اور دس سال سے زیادہ پہلے میں نے “Ad Me” نامی کتاب لکھی۔ اس پوری کتاب کا خلاصہ صرف ایک جملہ تھا: آپ کا نیٹ ورک ہی آپ کی دولت کا تعین کرتا ہے۔ اور آج بھی، پہلے سے زیادہ، میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں۔ مجھے آپ کے پانچ قریبی دوست دکھائیں، میں آپ کا مستقبل بتا دوں گا اگر آپ کے پانچ قریبی دوست ہر وقت شکایت کرتے ہیں، تو آپ بھی شکایت کرنے لگیں گے۔ اگر وہ ہر بات کا الزام سیاستدانوں کو دیتے ہیں، تو آپ بھی یہی کریں گے۔ اگر وہ سست ہیں، تو ان کی سستی آہستہ آہستہ آپ میں بھی آ جائے گی۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ کامیابی ناممکن ہے، تو ایک دن آپ بھی یہی ماننے لگیں گے۔ انسان ایک دوسرے سے متاثر ہوتے ہیں۔ خواب متعدی ہوتے ہیں۔ خوف متعدی ہوتا ہے۔ غربت بھی متعدی ہوتی ہے۔ اور کامیابی بھی۔ غریب لوگوں کی سب سے بڑی غلطی وہ نوکریاں بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن دوست نہیں بدلتے۔ وہ شہر بدلتے ہیں۔ لیکن گفتگو نہیں بدلتے۔ وہ موبائل بدلتے ہیں۔ لیکن سوچ نہیں بدلتے۔ اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ زندگی کیوں نہیں بدل رہی۔ اے آئی نے علم کو سستا کر دیا ہے آج آپ تقریباً ہر چیز سیکھ سکتے ہیں۔ پروگرامنگ۔ مارکیٹنگ۔ انگریزی۔ گرافک ڈیزائن۔ بزنس۔ سیلز۔ تقریباً ہر چیز۔ معلومات اب مفت ہیں۔ لیکن اعتماد مفت نہیں۔ رشتے مفت نہیں۔ شہرت مفت نہیں۔ مواقع مفت نہیں۔ اور یہ سب چیزیں انسانوں کے ذریعے سفر کرتی ہیں۔ گوگل کے ذریعے نہیں۔ ڈگریوں کے ذریعے نہیں۔ سرٹیفیکیٹس کے ذریعے نہیں۔ بلکہ انسانوں کے ذریعے۔ اگر دو کروڑ روپے سالانہ کمانا چاہتے ہیں تو صرف ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھیں جو بیس ہزار روپے ماہانہ کما رہے ہیں۔ یہ بات شاید سخت لگے۔ لیکن حقیقت یہی ہے۔ آپ ویسے ہی بن جاتے ہیں جیسے لوگ آپ کے اردگرد ہوتے ہیں۔ اگر عالمی سطح پر سوچنا چاہتے ہیں، تو عالمی دوست بنائیں۔ امریکہ میں۔ سنگاپور میں۔ ملائیشیا میں۔ جاپان میں۔ برازیل میں۔ افریقہ میں۔ مختلف مذاہب کے لوگ۔ مختلف رنگوں کے لوگ۔ مختلف ثقافتوں کے لوگ۔ انسانیت کے طالب علم بن جائیں۔ دنیا کے شہری بن جائیں۔ لوگ مجھ سے دوستی کیوں کریں گے؟ بہت سے لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں: “امریکہ یا کسی دوسرے ملک کا انسان مجھ سے دوستی کیوں کرے گا؟” میرا سوال ہے: وہ کیوں نہیں کرے گا؟ آخر انسان، انسان ہی ہوتے ہیں۔ لیکن سب سے پہلے، انہیں آپ پر اعتماد ہونا چاہیے۔ اگر آپ کی پروفائل تصویر تتلی کی ہے، بندوق کی ہے، یا آپ کی پروفائل لاک ہے، تو کوئی آپ پر اعتماد کیوں کرے؟ کیا آپ ایسے شخص پر اعتماد کریں گے؟ شاید نہیں۔ اپنی تصویر لگائیں۔ مسکرائیں۔ لوگوں کو بتائیں کہ آپ کیا کرتے ہیں۔ اپنی دلچسپیاں دکھائیں۔ حقیقی انسان بنیں۔ کیونکہ انٹرنیٹ کی دنیا میں سب سے بڑی کرنسی اعتماد ہے۔ اگر فوری پیسہ چاہیے تو ایک ہفتہ کسی پھل والے کے ساتھ گزاریں۔ کسی سبزی والے کے ساتھ۔ کسی سموسے والے کے ساتھ۔ کسی بن کباب والے کے ساتھ۔ شروع میں شرمندگی ہو گی۔ بہت اچھی بات ہے۔ کیونکہ شرمندگی اس بات کی نشانی ہے کہ آپ بدل رہے ہیں۔ کامیابی کا پہلا ہنر شرمندگی برداشت کرنا ہے۔ اور دوسرا ہنر بیچنا سیکھنا ہے۔ کیونکہ آپ کے سب سے بڑے اثاثے آپ کی ڈگریاں نہیں ہیں۔ آپ کا لیپ ٹاپ نہیں ہے۔ بلکہ: آپ کی مسکراہٹ۔ آپ کی آواز۔ آپ کے کان۔ آپ کی آنکھیں۔ آپ کی ایمانداری۔ آپ کی توانائی۔ اور لوگوں کا اعتماد جیتنے کی صلاحیت۔ یہ چیزیں کمپیوٹر سے پہلے بھی موجود تھیں۔ اور سو سال بعد بھی موجود ہوں گی۔ میرے خیال میں غربت اکثر تعلقات کا مسئلہ ہے ہمیشہ نہیں۔ لیکن اکثر۔ کیونکہ مواقع ان لوگوں پر منحصر ہوتے ہیں جنہیں آپ جانتے ہیں۔ خیالات ان لوگوں پر منحصر ہوتے ہیں جن کے ساتھ آپ وقت گزارتے ہیں۔ اور آپ کا مستقبل ان گفتگوؤں پر منحصر ہوتا ہے جو آپ روزانہ کرتے ہیں۔ اسی لیے اگر آپ کی زندگی نہیں بدل رہی، تو شاید آپ کو ایک اور کورس کی ضرورت نہیں۔ شاید آپ کو ایک اور سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں۔ شاید آپ کو ایک اور نوکری کی ضرورت نہیں۔ شاید… آپ کو نئے دوستوں کی ضرورت ہے۔ کیونکہ میرے دوست بدلنے سے میری زندگی بدل گئی۔ اور شاید… آپ کی بھی بدل جائے۔ اگر امیر بننا چاہتے ہیں، تو نوکریاں بدلنا بند کریں، دوست بدلیں۔ — ریحان اللہ والا
    0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • Your income is usually a reflection of the people you spend the most time with.

    I know this statement will offend some people.

    But after spending almost 40 years watching people succeed and fail, I have come to one conclusion:

    Your friends matter more than your skills.

    Not because skills are useless.

    Not because hard work is useless.

    But because opportunities travel through people.

    And people tend to become like the people around them.

    My Life Changed When I Changed My Friends

    I was not born with special talents.

    But one thing changed my life.

    I changed my network.

    I started spending time with different people.

    People who thought differently.

    People who dreamed bigger.

    People who solved problems.

    People who lived in different countries.

    People who knew things I didn’t know.

    And slowly, without even realizing it, I changed.

    My income changed.

    My thinking changed.

    My confidence changed.

    My life changed.

    That is why, twenty years ago, one of my first public videos on the internet was about networking.

    More than ten years ago, I wrote a book called Ad Me.

    The entire book was about one thing:

    Your network determines your net worth.

    And after all these years, I believe it more than ever.

    Show Me Your Five Closest Friends, And I’ll Predict Your Future.

    If your five closest friends complain all day, eventually you’ll complain too.

    If your five closest friends blame politicians for everything, eventually you’ll do the same.

    If your five closest friends are lazy, negativity will slowly infect you.

    If your five closest friends think becoming successful is impossible, eventually you will believe that too.

    Human beings are contagious.

    Dreams are contagious.

    Fear is contagious.

    Poverty is contagious.

    Success is contagious too.

    The Biggest Mistake Poor People Make

    They keep changing jobs.

    But they don’t change friends.

    They change cities.

    But not conversations.

    They change companies.

    But not environments.

    They change phones.

    But not mindsets.

    And then they wonder why nothing changes.

    AI Has Made Knowledge Cheap

    For hundreds of years, knowledge was expensive.

    Today?

    You have AI.

    You can learn programming.

    Marketing.

    Sales.

    English.

    Business.

    Graphic design.

    Almost anything.

    Information has become free.

    But trust is not free.

    Relationships are not free.

    Reputation is not free.

    Opportunities are not free.

    And all of these travel through people.

    Not through Google.

    Not through certificates.

    Not through degrees.

    Through people.

    Want To Earn 2 Crore A Year?

    Then stop spending all your time with people earning 20,000 rupees a month.

    This may sound harsh.

    But it is reality.

    You become what you surround yourself with.

    If you want to think globally, you need global friends.

    Americans.

    Singaporeans.

    Swedes.

    Malaysians.

    Japanese.

    Nigerians.

    Brazilians.

    People from different religions.

    Different races.

    Different cultures.

    Different industries.

    Become a student of humanity.

    Become a global citizen.

    “But Why Would They Become Friends With Me?”

    My question is:

    Why wouldn’t they?

    Human beings are curious.

    People everywhere like good people.

    People everywhere appreciate honesty.

    People everywhere appreciate kindness.

    But first, they must trust you.

    And trust begins with authenticity.

    Not with a butterfly profile picture.

    Not with a gun picture.

    Not with a locked profile.

    Show your face.

    Smile.

    Tell people what you do.

    Show your interests.

    Be human.

    Trust is the currency of the internet.

    Need Money Immediately?

    Go spend a week with a fruit seller.

    A vegetable seller.

    A bun kebab seller.

    A samosa seller.

    You will feel embarrassed.

    Wonderful.

    Embarrassment is growth.

    The first skill of success is learning to survive embarrassment.

    The second skill is learning to sell.

    Because your greatest assets are not your degrees.

    Not your certificates.

    Not your laptop.

    Your greatest assets are:

    Your smile.

    Your voice.

    Your ears.

    Your eyes.

    Your honesty.

    Your energy.

    Your trustworthiness.

    These assets existed before computers.

    And they will still exist 100 years from now.

    I Believe Poverty Is Often A Relationship Problem.

    Not always.

    But often.

    Because opportunities depend on who you know.

    Ideas depend on who you know.

    Confidence depends on who you know.

    Hope depends on who you know.

    And the future you imagine depends upon the conversations you have every day.

    So if your life is not changing…

    Maybe you don’t need another course.

    Maybe you don’t need another certificate.

    Maybe you don’t need another job.

    Maybe…

    You need new friends.

    Because changing my friends changed my life.

    And perhaps…

    It might change yours too.

    If you want to become rich, stop changing jobs. Change your friends.

    — Rehan Allahwala
    Your income is usually a reflection of the people you spend the most time with. I know this statement will offend some people. But after spending almost 40 years watching people succeed and fail, I have come to one conclusion: Your friends matter more than your skills. Not because skills are useless. Not because hard work is useless. But because opportunities travel through people. And people tend to become like the people around them. My Life Changed When I Changed My Friends I was not born with special talents. But one thing changed my life. I changed my network. I started spending time with different people. People who thought differently. People who dreamed bigger. People who solved problems. People who lived in different countries. People who knew things I didn’t know. And slowly, without even realizing it, I changed. My income changed. My thinking changed. My confidence changed. My life changed. That is why, twenty years ago, one of my first public videos on the internet was about networking. More than ten years ago, I wrote a book called Ad Me. The entire book was about one thing: Your network determines your net worth. And after all these years, I believe it more than ever. Show Me Your Five Closest Friends, And I’ll Predict Your Future. If your five closest friends complain all day, eventually you’ll complain too. If your five closest friends blame politicians for everything, eventually you’ll do the same. If your five closest friends are lazy, negativity will slowly infect you. If your five closest friends think becoming successful is impossible, eventually you will believe that too. Human beings are contagious. Dreams are contagious. Fear is contagious. Poverty is contagious. Success is contagious too. The Biggest Mistake Poor People Make They keep changing jobs. But they don’t change friends. They change cities. But not conversations. They change companies. But not environments. They change phones. But not mindsets. And then they wonder why nothing changes. AI Has Made Knowledge Cheap For hundreds of years, knowledge was expensive. Today? You have AI. You can learn programming. Marketing. Sales. English. Business. Graphic design. Almost anything. Information has become free. But trust is not free. Relationships are not free. Reputation is not free. Opportunities are not free. And all of these travel through people. Not through Google. Not through certificates. Not through degrees. Through people. Want To Earn 2 Crore A Year? Then stop spending all your time with people earning 20,000 rupees a month. This may sound harsh. But it is reality. You become what you surround yourself with. If you want to think globally, you need global friends. Americans. Singaporeans. Swedes. Malaysians. Japanese. Nigerians. Brazilians. People from different religions. Different races. Different cultures. Different industries. Become a student of humanity. Become a global citizen. “But Why Would They Become Friends With Me?” My question is: Why wouldn’t they? Human beings are curious. People everywhere like good people. People everywhere appreciate honesty. People everywhere appreciate kindness. But first, they must trust you. And trust begins with authenticity. Not with a butterfly profile picture. Not with a gun picture. Not with a locked profile. Show your face. Smile. Tell people what you do. Show your interests. Be human. Trust is the currency of the internet. Need Money Immediately? Go spend a week with a fruit seller. A vegetable seller. A bun kebab seller. A samosa seller. You will feel embarrassed. Wonderful. Embarrassment is growth. The first skill of success is learning to survive embarrassment. The second skill is learning to sell. Because your greatest assets are not your degrees. Not your certificates. Not your laptop. Your greatest assets are: Your smile. Your voice. Your ears. Your eyes. Your honesty. Your energy. Your trustworthiness. These assets existed before computers. And they will still exist 100 years from now. I Believe Poverty Is Often A Relationship Problem. Not always. But often. Because opportunities depend on who you know. Ideas depend on who you know. Confidence depends on who you know. Hope depends on who you know. And the future you imagine depends upon the conversations you have every day. So if your life is not changing… Maybe you don’t need another course. Maybe you don’t need another certificate. Maybe you don’t need another job. Maybe… You need new friends. Because changing my friends changed my life. And perhaps… It might change yours too. If you want to become rich, stop changing jobs. Change your friends. — Rehan Allahwala
    0 Commenti 0 condivisioni 35 Views
  • کیا آپ جانتے ہیں کہ کراچی، لاہور اور دنیا کے بڑے شہر آخر اتنے گرم کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟

    زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ ایئر کنڈیشنر (AC) گرمی کا حل ہے۔

    حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

    اے سی گرمی کو ختم نہیں کرتا…
    وہ صرف گرمی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتا ہے۔

    کمرے کے اندر سے گرمی نکال کر سڑک پر پھینک دیتا ہے۔

    اب ذرا سوچئے…

    ایک عمارت، دو عمارتیں، ہزار عمارتیں، لاکھوں اے سی…

    سب اپنی گرمی باہر پھینک رہے ہیں۔

    سڑکیں مزید گرم ہوتی ہیں۔
    شہر مزید گرم ہوتے ہیں۔
    لوگ مزید اے سی چلاتے ہیں۔
    اور پھر شہر اور بھی گرم ہو جاتے ہیں۔

    ہم کئی دہائیوں سے اسی خطرناک چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔

    لیکن قدرت نے اس کا حل پہلے ہی بنا رکھا ہے۔

    گرین وال (Green Wall)

    یعنی عمارت کی دیواروں پر پودے۔

    پودے اپنے پتوں کے ذریعے پانی خارج کرتے ہیں۔
    یہ عمل بالکل ویسے ہی ٹھنڈک پیدا کرتا ہے جیسے پسینہ ہمارے جسم کو ٹھنڈا کرتا ہے۔

    پتے دیوار کو سایہ دیتے ہیں۔
    دیوار سورج کی گرمی جذب نہیں کرتی۔
    اور بعض صورتوں میں دیوار کا درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم ہو سکتا ہے۔

    نہ شور…
    نہ بجلی کا بل…
    نہ شہر میں اضافی گرمی…

    صرف ایک ایسی عمارت جو خود بھی ٹھنڈی رہے اور اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی ٹھنڈا کرے۔

    گرم شہر ہماری قسمت نہیں ہیں۔

    یہ صرف ایک ڈیزائن کا مسئلہ ہے۔

    اور ہر ڈیزائن کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

    اگر آپ کسی عمارت کو صرف اے سی کے ذریعے ٹھنڈا کر رہے ہیں تو شاید آپ نے ابھی تک قدرتی آرکیٹیکچر کو پوری طرح سمجھا نہیں۔

    “Academy” کمنٹ کریں اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ گرین والز، درخت اور قدرتی ڈیزائن کس طرح بغیر مشینوں کے عمارتوں کو ٹھنڈا کر سکتے ہیں۔

    — ریحان اللہ والا

    Via Biotonomy
    کیا آپ جانتے ہیں کہ کراچی، لاہور اور دنیا کے بڑے شہر آخر اتنے گرم کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟ زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ ایئر کنڈیشنر (AC) گرمی کا حل ہے۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اے سی گرمی کو ختم نہیں کرتا… وہ صرف گرمی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتا ہے۔ کمرے کے اندر سے گرمی نکال کر سڑک پر پھینک دیتا ہے۔ اب ذرا سوچئے… ایک عمارت، دو عمارتیں، ہزار عمارتیں، لاکھوں اے سی… سب اپنی گرمی باہر پھینک رہے ہیں۔ سڑکیں مزید گرم ہوتی ہیں۔ شہر مزید گرم ہوتے ہیں۔ لوگ مزید اے سی چلاتے ہیں۔ اور پھر شہر اور بھی گرم ہو جاتے ہیں۔ ہم کئی دہائیوں سے اسی خطرناک چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ لیکن قدرت نے اس کا حل پہلے ہی بنا رکھا ہے۔ 🌿 گرین وال (Green Wall) یعنی عمارت کی دیواروں پر پودے۔ پودے اپنے پتوں کے ذریعے پانی خارج کرتے ہیں۔ یہ عمل بالکل ویسے ہی ٹھنڈک پیدا کرتا ہے جیسے پسینہ ہمارے جسم کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ پتے دیوار کو سایہ دیتے ہیں۔ دیوار سورج کی گرمی جذب نہیں کرتی۔ اور بعض صورتوں میں دیوار کا درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم ہو سکتا ہے۔ نہ شور… نہ بجلی کا بل… نہ شہر میں اضافی گرمی… صرف ایک ایسی عمارت جو خود بھی ٹھنڈی رہے اور اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی ٹھنڈا کرے۔ گرم شہر ہماری قسمت نہیں ہیں۔ یہ صرف ایک ڈیزائن کا مسئلہ ہے۔ اور ہر ڈیزائن کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کسی عمارت کو صرف اے سی کے ذریعے ٹھنڈا کر رہے ہیں تو شاید آپ نے ابھی تک قدرتی آرکیٹیکچر کو پوری طرح سمجھا نہیں۔ “Academy” کمنٹ کریں اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ گرین والز، درخت اور قدرتی ڈیزائن کس طرح بغیر مشینوں کے عمارتوں کو ٹھنڈا کر سکتے ہیں۔ — ریحان اللہ والا Via Biotonomy
    0 Commenti 0 condivisioni 459 Views
  • سیاست دان لوگوں کو کیسے قابو کرتے ہیں؟ اور AI کی مدد سے حقیقت کیسے معلوم کریں؟

    بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ سیاست صرف سڑکوں، بجلی، پانی، ٹیکس اور ترقی کا نام ہے۔

    حقیقت میں سیاست کا سب سے بڑا تعلق انسان کے دماغ سے ہے۔

    جو سیاست دان انسان کی نفسیات (Psychology) اور معاشرے کی عمرانیات (Sociology) کو سمجھ لیتا ہے، وہ لاکھوں لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

    اور جو شہری ان چیزوں کو سمجھ لیتا ہے، اسے بے وقوف بنانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔



    سیاست دان لوگوں کے دماغ پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں؟

    1۔ خوف پیدا کرکے

    انسان قدرتی طور پر خطرے سے ڈرتا ہے۔

    اسی لیے خوف والی خبریں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں۔

    سیاست دان اکثر کہتے ہیں:

    * ملک خطرے میں ہے۔
    * ہمارا مذہب خطرے میں ہے۔
    * ہماری ثقافت خطرے میں ہے۔
    * اگر مخالف آ گیا تو تباہی آ جائے گی۔

    جب لوگ ڈر جاتے ہیں تو وہ کم سوال پوچھتے ہیں۔

    اور جب سوال کم ہوتے ہیں تو سیاست دانوں کے لیے لوگوں کو قائل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔



    2۔ امید بیچ کر

    خوف لوگوں کو بھگاتا ہے۔

    امید لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔

    اسی لیے سیاست دان وعدے کرتے ہیں:

    * لاکھوں نوکریاں
    * سستی بجلی
    * سستا پٹرول
    * مفت تعلیم
    * خوشحال پاکستان

    لوگ اکثر وعدوں کو نہیں بلکہ امید کو ووٹ دیتے ہیں۔



    3۔ ہیرو بن کر

    لوگ فطری طور پر کسی ہیرو کی تلاش میں رہتے ہیں۔

    اس لیے سیاست دان اپنی تصویر ایسے بناتے ہیں جیسے:

    * ملک کے نجات دہندہ
    * واحد ایماندار شخص
    * عوام کے مسیحا
    * قوم کے محافظ

    پھر لوگ پالیسیوں کو نہیں بلکہ شخصیت کو سپورٹ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔



    سیاست دان الزام کیوں لگاتے ہیں؟

    یہ سیاست کا شاید سب سے پرانا ہتھیار ہے۔

    مسئلہ حل کرنا مشکل ہے۔

    الزام لگانا آسان ہے۔



    عام سیاسی جملے

    * پچھلی حکومت ذمہ دار ہے۔
    * بیوروکریسی ذمہ دار ہے۔
    * میڈیا ذمہ دار ہے۔
    * عدلیہ ذمہ دار ہے۔
    * اپوزیشن ذمہ دار ہے۔
    * بیرونی طاقتیں ذمہ دار ہیں۔

    کبھی کبھی یہ باتیں درست بھی ہوتی ہیں۔

    لیکن بہت دفعہ الزام اصل کام سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔



    اصل کام سے توجہ کیسے ہٹائی جاتی ہے؟

    فرض کریں:

    مہنگائی بڑھ رہی ہے۔

    لوگ پوچھتے ہیں:

    “آپ کیا کر رہے ہیں؟”

    سیاست دان جواب دیتا ہے:

    “یہ سب پچھلی حکومت کی وجہ سے ہوا۔”

    اب اصل سوال غائب ہو گیا:

    آپ نے کیا کیا؟

    یہی سیاسی چال ہے۔

    لوگ ماضی پر بحث شروع کر دیتے ہیں۔

    موجودہ کارکردگی بھول جاتے ہیں۔



    اچھے لیڈر اور کمزور لیڈر میں فرق

    اچھا لیڈر بات کرتا ہے:

    * حل کی
    * منصوبے کی
    * نتائج کی
    * ٹائم لائن کی

    کمزور لیڈر زیادہ بات کرتا ہے:

    * بہانوں کی
    * دشمنوں کی
    * سازشوں کی
    * الزاموں کی



    شہری خود کو کیسے بچا سکتے ہیں؟

    ہر بار جب کوئی سیاست دان الزام لگائے تو صرف تین سوال پوچھیں۔

    سوال نمبر 1

    آپ نے مسئلہ حل کرنے کے لیے کیا کیا؟

    سوال نمبر 2

    اس کا نتیجہ کیا نکلا؟

    سوال نمبر 3

    آپ کو کتنا وقت مل چکا ہے؟

    یہ تین سوال آدھی سیاست کو بے نقاب کر دیتے ہیں۔



    AI کی مدد سے حقیقت کیسے معلوم کریں؟

    آج پہلی بار عام آدمی کے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار آیا ہے جو پہلے صرف بڑے اداروں کے پاس تھا۔

    اس ہتھیار کا نام ہے:

    Artificial Intelligence (AI)



    اگر کوئی سیاست دان کہے:

    “ہم نے لاکھوں نوکریاں پیدا کیں۔”

    AI سے پوچھیں:

    “اس دعوے کی تصدیق کریں۔ سرکاری اور آزاد ذرائع سے بتائیں کتنی نوکریاں پیدا ہوئیں۔”



    اگر کوئی کہے:

    “پچھلی حکومت نے معیشت تباہ کی۔”

    AI سے پوچھیں:

    “پچھلی اور موجودہ حکومت کے دوران GDP، مہنگائی، برآمدات اور بے روزگاری کا موازنہ کریں۔”



    اگر کوئی کہے:

    “ہم نے تعلیم میں انقلاب برپا کر دیا۔”

    AI سے پوچھیں:

    “اس دور میں خواندگی، اسکول حاضری اور تعلیمی نتائج میں کیا بہتری آئی؟”



    سب سے طاقتور AI سوال

    جب بھی کوئی سیاست دان کسی کو الزام دے تو AI سے پوچھیں:

    “اس مسئلے کا کتنا حصہ پچھلی حکومت کی ذمہ داری تھا اور کتنا حصہ موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے؟”

    یہ سوال اکثر حقیقت کے قریب لے جاتا ہے۔



    سیاست دان کی تقریر کا تجزیہ AI سے کیسے کروائیں؟

    پورا خطاب AI میں ڈال کر پوچھیں:

    “اس تقریر میں الگ الگ بتائیں:

    * حقائق
    * رائے
    * وعدے
    * الزامات
    * بہانے
    * جذباتی جملے
    * وہ دعوے جنہیں چیک کیا جا سکتا ہے”

    آپ حیران رہ جائیں گے کہ کتنی باتیں صرف جذبات پر مبنی ہوتی ہیں۔



    صحیح سیاست دان کیسے منتخب کریں؟

    شخصیت نہ دیکھیں۔

    نتائج دیکھیں۔

    AI سے پوچھیں:

    “اس سیاست دان کا موازنہ صرف ان بنیادوں پر کریں:

    * ایمانداری
    * وعدے پورے کرنا
    * تعلیم میں کارکردگی
    * معیشت میں کارکردگی
    * صحت کے شعبے میں کارکردگی
    * شفافیت
    * عوام پر مجموعی اثر”



    AI کے دور کا شہری

    پرانے زمانے میں عام آدمی کے پاس معلومات کم ہوتی تھیں۔

    آج ایک موبائل فون رکھنے والا شخص دنیا کے بہترین ڈیٹا تک پہنچ سکتا ہے۔

    اس لیے اب سوال یہ نہیں ہونا چاہیے:

    “یہ بات کس نے کہی؟”

    بلکہ سوال یہ ہونا چاہیے:

    “اس بات کا ثبوت کیا ہے؟”



    میری زندگی کا سب سے اہم سیاسی سبق

    جب بھی کوئی سیاست دان کسی اور کو الزام دے، فوراً پوچھیں:

    “آپ نے کیا کیا؟”

    اور پھر AI سے پوچھیں:

    “اس لیڈر نے مسئلہ حل کرنے کے لیے کون سے عملی اقدامات کیے اور ان کے نتائج کیا نکلے؟”

    کیونکہ سیاست میں کہانیاں سنانا آسان ہے۔

    الزام لگانا آسان ہے۔

    لوگوں کو جذباتی کرنا آسان ہے۔

    لیکن اعداد و شمار، حقائق اور نتائج جھوٹ نہیں بولتے۔

    اور AI کی مدد سے آج ہر شہری حقیقت کے زیادہ قریب پہنچ سکتا ہے۔

    — ریحان اللہ والا

    :
    سیاست دان لوگوں کو کیسے قابو کرتے ہیں؟ اور AI کی مدد سے حقیقت کیسے معلوم کریں؟ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ سیاست صرف سڑکوں، بجلی، پانی، ٹیکس اور ترقی کا نام ہے۔ حقیقت میں سیاست کا سب سے بڑا تعلق انسان کے دماغ سے ہے۔ جو سیاست دان انسان کی نفسیات (Psychology) اور معاشرے کی عمرانیات (Sociology) کو سمجھ لیتا ہے، وہ لاکھوں لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اور جو شہری ان چیزوں کو سمجھ لیتا ہے، اسے بے وقوف بنانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ ⸻ سیاست دان لوگوں کے دماغ پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں؟ 1۔ خوف پیدا کرکے انسان قدرتی طور پر خطرے سے ڈرتا ہے۔ اسی لیے خوف والی خبریں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں۔ سیاست دان اکثر کہتے ہیں: * ملک خطرے میں ہے۔ * ہمارا مذہب خطرے میں ہے۔ * ہماری ثقافت خطرے میں ہے۔ * اگر مخالف آ گیا تو تباہی آ جائے گی۔ جب لوگ ڈر جاتے ہیں تو وہ کم سوال پوچھتے ہیں۔ اور جب سوال کم ہوتے ہیں تو سیاست دانوں کے لیے لوگوں کو قائل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ ⸻ 2۔ امید بیچ کر خوف لوگوں کو بھگاتا ہے۔ امید لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اسی لیے سیاست دان وعدے کرتے ہیں: * لاکھوں نوکریاں * سستی بجلی * سستا پٹرول * مفت تعلیم * خوشحال پاکستان لوگ اکثر وعدوں کو نہیں بلکہ امید کو ووٹ دیتے ہیں۔ ⸻ 3۔ ہیرو بن کر لوگ فطری طور پر کسی ہیرو کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اس لیے سیاست دان اپنی تصویر ایسے بناتے ہیں جیسے: * ملک کے نجات دہندہ * واحد ایماندار شخص * عوام کے مسیحا * قوم کے محافظ پھر لوگ پالیسیوں کو نہیں بلکہ شخصیت کو سپورٹ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ⸻ سیاست دان الزام کیوں لگاتے ہیں؟ یہ سیاست کا شاید سب سے پرانا ہتھیار ہے۔ مسئلہ حل کرنا مشکل ہے۔ الزام لگانا آسان ہے۔ ⸻ عام سیاسی جملے * پچھلی حکومت ذمہ دار ہے۔ * بیوروکریسی ذمہ دار ہے۔ * میڈیا ذمہ دار ہے۔ * عدلیہ ذمہ دار ہے۔ * اپوزیشن ذمہ دار ہے۔ * بیرونی طاقتیں ذمہ دار ہیں۔ کبھی کبھی یہ باتیں درست بھی ہوتی ہیں۔ لیکن بہت دفعہ الزام اصل کام سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ⸻ اصل کام سے توجہ کیسے ہٹائی جاتی ہے؟ فرض کریں: مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں: “آپ کیا کر رہے ہیں؟” سیاست دان جواب دیتا ہے: “یہ سب پچھلی حکومت کی وجہ سے ہوا۔” اب اصل سوال غائب ہو گیا: آپ نے کیا کیا؟ یہی سیاسی چال ہے۔ لوگ ماضی پر بحث شروع کر دیتے ہیں۔ موجودہ کارکردگی بھول جاتے ہیں۔ ⸻ اچھے لیڈر اور کمزور لیڈر میں فرق اچھا لیڈر بات کرتا ہے: * حل کی * منصوبے کی * نتائج کی * ٹائم لائن کی کمزور لیڈر زیادہ بات کرتا ہے: * بہانوں کی * دشمنوں کی * سازشوں کی * الزاموں کی ⸻ شہری خود کو کیسے بچا سکتے ہیں؟ ہر بار جب کوئی سیاست دان الزام لگائے تو صرف تین سوال پوچھیں۔ سوال نمبر 1 آپ نے مسئلہ حل کرنے کے لیے کیا کیا؟ سوال نمبر 2 اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ سوال نمبر 3 آپ کو کتنا وقت مل چکا ہے؟ یہ تین سوال آدھی سیاست کو بے نقاب کر دیتے ہیں۔ ⸻ AI کی مدد سے حقیقت کیسے معلوم کریں؟ آج پہلی بار عام آدمی کے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار آیا ہے جو پہلے صرف بڑے اداروں کے پاس تھا۔ اس ہتھیار کا نام ہے: Artificial Intelligence (AI) ⸻ اگر کوئی سیاست دان کہے: “ہم نے لاکھوں نوکریاں پیدا کیں۔” AI سے پوچھیں: “اس دعوے کی تصدیق کریں۔ سرکاری اور آزاد ذرائع سے بتائیں کتنی نوکریاں پیدا ہوئیں۔” ⸻ اگر کوئی کہے: “پچھلی حکومت نے معیشت تباہ کی۔” AI سے پوچھیں: “پچھلی اور موجودہ حکومت کے دوران GDP، مہنگائی، برآمدات اور بے روزگاری کا موازنہ کریں۔” ⸻ اگر کوئی کہے: “ہم نے تعلیم میں انقلاب برپا کر دیا۔” AI سے پوچھیں: “اس دور میں خواندگی، اسکول حاضری اور تعلیمی نتائج میں کیا بہتری آئی؟” ⸻ سب سے طاقتور AI سوال جب بھی کوئی سیاست دان کسی کو الزام دے تو AI سے پوچھیں: “اس مسئلے کا کتنا حصہ پچھلی حکومت کی ذمہ داری تھا اور کتنا حصہ موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے؟” یہ سوال اکثر حقیقت کے قریب لے جاتا ہے۔ ⸻ سیاست دان کی تقریر کا تجزیہ AI سے کیسے کروائیں؟ پورا خطاب AI میں ڈال کر پوچھیں: “اس تقریر میں الگ الگ بتائیں: * حقائق * رائے * وعدے * الزامات * بہانے * جذباتی جملے * وہ دعوے جنہیں چیک کیا جا سکتا ہے” آپ حیران رہ جائیں گے کہ کتنی باتیں صرف جذبات پر مبنی ہوتی ہیں۔ ⸻ صحیح سیاست دان کیسے منتخب کریں؟ شخصیت نہ دیکھیں۔ نتائج دیکھیں۔ AI سے پوچھیں: “اس سیاست دان کا موازنہ صرف ان بنیادوں پر کریں: * ایمانداری * وعدے پورے کرنا * تعلیم میں کارکردگی * معیشت میں کارکردگی * صحت کے شعبے میں کارکردگی * شفافیت * عوام پر مجموعی اثر” ⸻ AI کے دور کا شہری پرانے زمانے میں عام آدمی کے پاس معلومات کم ہوتی تھیں۔ آج ایک موبائل فون رکھنے والا شخص دنیا کے بہترین ڈیٹا تک پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے اب سوال یہ نہیں ہونا چاہیے: “یہ بات کس نے کہی؟” بلکہ سوال یہ ہونا چاہیے: “اس بات کا ثبوت کیا ہے؟” ⸻ میری زندگی کا سب سے اہم سیاسی سبق جب بھی کوئی سیاست دان کسی اور کو الزام دے، فوراً پوچھیں: “آپ نے کیا کیا؟” اور پھر AI سے پوچھیں: “اس لیڈر نے مسئلہ حل کرنے کے لیے کون سے عملی اقدامات کیے اور ان کے نتائج کیا نکلے؟” کیونکہ سیاست میں کہانیاں سنانا آسان ہے۔ الزام لگانا آسان ہے۔ لوگوں کو جذباتی کرنا آسان ہے۔ لیکن اعداد و شمار، حقائق اور نتائج جھوٹ نہیں بولتے۔ اور AI کی مدد سے آج ہر شہری حقیقت کے زیادہ قریب پہنچ سکتا ہے۔ — ریحان اللہ والا :
    0 Commenti 0 condivisioni 95 Views
  • Use this prompt:

    “Ignore party loyalty, speeches, emotional slogans, media popularity, and personal liking. Compare Imran Khan only on measurable outcomes: verified economic data, fulfilled promises, institutional reforms, corruption reduction, transparency, rule of law, public welfare, education, healthcare, jobs, debt, exports, inflation, poverty reduction, and long-term citizen impact.

    For every claim, show:

    1. Data before he came
    2. Data during his government
    3. Data after he left
    4. Source
    5. Was it his policy, global factor, or inherited problem?

    Then give a score out of 10 for:

    * Fulfilled promises
    * Integrity
    * Transparency
    * Governance
    * Economic management
    * Long-term impact on citizens

    Do not praise or attack him. Give a citizen-focused, evidence-based verdict.”

    Key sources to check include World Bank economic indicators, Transparency International CPI, Pakistan Bureau of Statistics, IMF reports, and official PTI manifesto claims. Pakistan’s CPI and economic indicators changed during and after his term, so the comparison must use dates and sources, not emotions.
    Use this prompt: “Ignore party loyalty, speeches, emotional slogans, media popularity, and personal liking. Compare Imran Khan only on measurable outcomes: verified economic data, fulfilled promises, institutional reforms, corruption reduction, transparency, rule of law, public welfare, education, healthcare, jobs, debt, exports, inflation, poverty reduction, and long-term citizen impact. For every claim, show: 1. Data before he came 2. Data during his government 3. Data after he left 4. Source 5. Was it his policy, global factor, or inherited problem? Then give a score out of 10 for: * Fulfilled promises * Integrity * Transparency * Governance * Economic management * Long-term impact on citizens Do not praise or attack him. Give a citizen-focused, evidence-based verdict.” Key sources to check include World Bank economic indicators, Transparency International CPI, Pakistan Bureau of Statistics, IMF reports, and official PTI manifesto claims. Pakistan’s CPI and economic indicators changed during and after his term, so the comparison must use dates and sources, not emotions.
    0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • The Most Powerful Prompt

    If every citizen asked AI the following question before supporting any politician, politics would change dramatically:

    “Ignore party loyalty, speeches, and popularity. Compare this politician only on measurable outcomes, verified data, fulfilled promises, integrity, transparency, and long-term impact on citizens.”
    The Most Powerful Prompt If every citizen asked AI the following question before supporting any politician, politics would change dramatically: “Ignore party loyalty, speeches, and popularity. Compare this politician only on measurable outcomes, verified data, fulfilled promises, integrity, transparency, and long-term impact on citizens.”
    0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • A must read

    پاکستان کو سمجھنے کے 35 سال اور AI کے 10 منٹ

    میں نے اپنی زندگی کے تقریباً 35 سال پاکستان کو سمجھنے میں گزارے ہیں۔

    میں نے ہزاروں لوگوں سے ملاقات کی، کاروبار کیے، اسکول بنائے، اساتذہ، طلبہ، مزدوروں، تاجروں، امیر اور غریب لوگوں کے ساتھ وقت گزارا۔

    میں ہمیشہ ایک سوال سوچتا تھا:

    پاکستان کا اصل مسئلہ کیا ہے؟

    کچھ لوگ کہتے ہیں پاکستان کا مسئلہ پیسہ ہے۔

    کچھ کہتے ہیں قیادت کا فقدان ہے۔

    کچھ کہتے ہیں تعلیم کا نظام خراب ہے۔

    کچھ کہتے ہیں ٹیکنالوجی کی کمی ہے۔

    اور حقیقت یہ ہے کہ یہ سب مسائل موجود ہیں۔

    لیکن میرے خیال میں ان سب سے نیچے ایک اور بڑا مسئلہ چھپا ہوا ہے۔

    اعتماد (Trust) کا مسئلہ۔

    اور اگر ہم اعتماد کا مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں پاکستانی انسان کو سمجھنا ہوگا۔

    اور پاکستانی انسان کو سمجھنے کے لیے دو چیزیں سمجھنا ضروری ہیں:

    نفسیات (Psychology) اور عمرانیات (Sociology)۔



    نفسیات کیا ہوتی ہے؟

    نفسیات یہ سمجھنے کا علم ہے کہ ایک انسان کیسے سوچتا ہے، کیسے فیصلے کرتا ہے، کس چیز سے ڈرتا ہے، کس چیز سے خوش ہوتا ہے اور کس چیز سے ناراض ہوتا ہے۔

    سادہ الفاظ میں:

    نفسیات انسان کے اندر کی دنیا کو سمجھنے کا نام ہے۔

    مثال کے طور پر:

    * ایک آدمی خطرہ مول لینے سے کیوں ڈرتا ہے؟
    * ایک طالب علم انگریزی بولنے سے کیوں گھبراتا ہے؟
    * ایک ملازم نوکری چھوڑ کیوں دیتا ہے؟
    * ایک شخص عزت ملنے پر جان بھی دینے کو کیوں تیار ہو جاتا ہے؟
    * ایک شخص کامیاب ہونا چاہتا ہے لیکن قدم کیوں نہیں اٹھاتا؟

    یہ سب نفسیات کے سوالات ہیں۔



    پاکستانی نفسیات کیا ہے؟

    میری سمجھ کے مطابق پاکستانی انسان کی نفسیات چند بڑی چیزوں کے گرد گھومتی ہے:

    1. عزت

    پاکستانی انسان پیسے سے زیادہ عزت چاہتا ہے۔

    اگر آپ کسی کو سب کے سامنے ذلیل کر دیں تو وہ اسے سالوں یاد رکھ سکتا ہے۔

    اگر آپ کسی کو عزت دیں تو وہ آپ کے ساتھ کھڑا رہ سکتا ہے۔

    پاکستان میں عزت ایک بہت بڑی کرنسی ہے۔



    2. خوف

    بہت سے پاکستانیوں کے فیصلے خوف پر مبنی ہوتے ہیں۔

    خوف کس بات کا؟

    * ناکامی کا خوف
    * غربت کا خوف
    * لوگوں کی باتوں کا خوف
    * رسوائی کا خوف

    اسی لیے بہت سے لوگ کاروبار شروع نہیں کرتے، نئی چیز نہیں سیکھتے یا اپنی رائے نہیں دیتے۔



    3. امید

    پاکستانی مشکلات کے باوجود امید نہیں چھوڑتا۔

    ایک مزدور بھی اپنے بچوں کو ڈاکٹر بنتے دیکھنا چاہتا ہے۔

    ایک غریب ماں بھی اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھتی ہے۔

    یہ امید پاکستان کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔



    عمرانیات کیا ہوتی ہے؟

    نفسیات ایک انسان کو سمجھتی ہے۔

    عمرانیات پورے معاشرے کو سمجھتی ہے۔

    سادہ الفاظ میں:

    عمرانیات یہ سمجھنے کا علم ہے کہ لوگ مل کر کیسے سوچتے اور کیسے عمل کرتے ہیں۔

    مثال کے طور پر:

    * خاندان لوگوں کے فیصلوں پر اتنا اثر کیوں ڈالتا ہے؟
    * لوگ “لوگ کیا کہیں گے” کی اتنی فکر کیوں کرتے ہیں؟
    * سفارش کیوں چلتی ہے؟
    * تعلقات اتنے اہم کیوں ہیں؟
    * لوگ نئے خیالات کو فوراً قبول کیوں نہیں کرتے؟

    یہ سب عمرانیات کے سوالات ہیں۔



    پاکستانی عمرانیات کیا ہے؟

    1. خاندان سب سے طاقتور ادارہ ہے

    پاکستان میں اکثر لوگ اکیلے فیصلہ نہیں کرتے۔

    فیصلے کے پیچھے پورا خاندان ہوتا ہے۔

    والد۔

    والدہ۔

    بھائی۔

    بہن۔

    چچا۔

    ماموں۔

    رشتہ دار۔

    اسی لیے صرف ایک شخص کو قائل کرنا کافی نہیں ہوتا۔

    کبھی کبھی پورے خاندان کا اعتماد جیتنا پڑتا ہے۔



    2. تعلقات نظام سے زیادہ اہم ہیں

    بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں لوگ سسٹم پر اعتماد کرتے ہیں۔

    پاکستان میں لوگ زیادہ تر انسانوں پر اعتماد کرتے ہیں۔

    لوگ اکثر کہتے ہیں:

    “یہ کام کس کے ذریعے ہوگا؟”

    “آپ کو کون جانتا ہے؟”

    “کسی جاننے والے نے بتایا ہے؟”

    یہ پاکستانی معاشرے کی ایک حقیقت ہے۔



    3. لوگ کیا کہیں گے؟

    پاکستانی معاشرے کا ایک بڑا اصول ہے:

    “لوگ کیا کہیں گے؟”

    بہت سے لوگ صحیح یا غلط کا فیصلہ کرنے سے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ معاشرہ کیا کہے گا۔

    یہ سوچ کبھی فائدہ دیتی ہے اور کبھی ترقی روک دیتی ہے۔



    پھر اصل مسئلہ کیا ہے؟

    جب میں نے نفسیات اور عمرانیات کو ایک ساتھ دیکھا تو مجھے ایک چیز بہت واضح نظر آئی۔

    پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ صرف پیسہ نہیں۔

    اصل مسئلہ اعتماد کی کمی ہے۔

    لوگ اداروں پر اعتماد نہیں کرتے۔

    لوگ سیاست دانوں پر اعتماد نہیں کرتے۔

    لوگ وعدوں پر اعتماد نہیں کرتے۔

    لوگ نظام پر اعتماد نہیں کرتے۔

    کیوں؟

    کیونکہ انہوں نے بار بار دھوکے، ناکامیاں اور ٹوٹے ہوئے وعدے دیکھے ہیں۔

    اس لیے لوگ سسٹم کے بجائے انسانوں پر اعتماد کرتے ہیں۔



    اعتماد کیسے بنتا ہے؟

    اعتماد تقریروں سے نہیں بنتا۔

    اعتماد اشتہاروں سے نہیں بنتا۔

    اعتماد بڑے بڑے دعووں سے نہیں بنتا۔

    اعتماد بنتا ہے:

    * سچ بولنے سے
    * وعدہ پورا کرنے سے
    * عزت دینے سے
    * مستقل مزاجی سے
    * انصاف کرنے سے
    * وقت کے ساتھ اچھا کردار دکھانے سے



    میری زندگی کا سب سے بڑا سبق

    35 سال پاکستان کو سمجھنے کے بعد میرا سب سے بڑا سبق یہ ہے:

    اگر آپ پاکستان میں:

    * اسکول بنانا چاہتے ہیں،
    * کاروبار بنانا چاہتے ہیں،
    * تحریک چلانا چاہتے ہیں،
    * یا ملک کو بدلنا چاہتے ہیں،

    تو پہلے پاکستانی انسان کو سمجھیں۔

    اس کی نفسیات کو سمجھیں۔

    اس کے معاشرے کو سمجھیں۔

    اس کے خوف کو سمجھیں۔

    اس کی امیدوں کو سمجھیں۔

    اس کے خاندان کو سمجھیں۔

    اس کے اعتماد کو سمجھیں۔

    کیونکہ ممالک صرف پیسوں سے نہیں بنتے۔

    ممالک انسانوں سے بنتے ہیں۔

    انسان نفسیات سے بنتے ہیں۔

    معاشرے عمرانیات سے بنتے ہیں۔

    اور مضبوط قومیں اعتماد پر بنتی ہیں۔

    — ریحان اللہ وال

    ::
    A must read پاکستان کو سمجھنے کے 35 سال اور AI کے 10 منٹ میں نے اپنی زندگی کے تقریباً 35 سال پاکستان کو سمجھنے میں گزارے ہیں۔ میں نے ہزاروں لوگوں سے ملاقات کی، کاروبار کیے، اسکول بنائے، اساتذہ، طلبہ، مزدوروں، تاجروں، امیر اور غریب لوگوں کے ساتھ وقت گزارا۔ میں ہمیشہ ایک سوال سوچتا تھا: پاکستان کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں پاکستان کا مسئلہ پیسہ ہے۔ کچھ کہتے ہیں قیادت کا فقدان ہے۔ کچھ کہتے ہیں تعلیم کا نظام خراب ہے۔ کچھ کہتے ہیں ٹیکنالوجی کی کمی ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ سب مسائل موجود ہیں۔ لیکن میرے خیال میں ان سب سے نیچے ایک اور بڑا مسئلہ چھپا ہوا ہے۔ اعتماد (Trust) کا مسئلہ۔ اور اگر ہم اعتماد کا مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں پاکستانی انسان کو سمجھنا ہوگا۔ اور پاکستانی انسان کو سمجھنے کے لیے دو چیزیں سمجھنا ضروری ہیں: نفسیات (Psychology) اور عمرانیات (Sociology)۔ ⸻ نفسیات کیا ہوتی ہے؟ نفسیات یہ سمجھنے کا علم ہے کہ ایک انسان کیسے سوچتا ہے، کیسے فیصلے کرتا ہے، کس چیز سے ڈرتا ہے، کس چیز سے خوش ہوتا ہے اور کس چیز سے ناراض ہوتا ہے۔ سادہ الفاظ میں: نفسیات انسان کے اندر کی دنیا کو سمجھنے کا نام ہے۔ مثال کے طور پر: * ایک آدمی خطرہ مول لینے سے کیوں ڈرتا ہے؟ * ایک طالب علم انگریزی بولنے سے کیوں گھبراتا ہے؟ * ایک ملازم نوکری چھوڑ کیوں دیتا ہے؟ * ایک شخص عزت ملنے پر جان بھی دینے کو کیوں تیار ہو جاتا ہے؟ * ایک شخص کامیاب ہونا چاہتا ہے لیکن قدم کیوں نہیں اٹھاتا؟ یہ سب نفسیات کے سوالات ہیں۔ ⸻ پاکستانی نفسیات کیا ہے؟ میری سمجھ کے مطابق پاکستانی انسان کی نفسیات چند بڑی چیزوں کے گرد گھومتی ہے: 1. عزت پاکستانی انسان پیسے سے زیادہ عزت چاہتا ہے۔ اگر آپ کسی کو سب کے سامنے ذلیل کر دیں تو وہ اسے سالوں یاد رکھ سکتا ہے۔ اگر آپ کسی کو عزت دیں تو وہ آپ کے ساتھ کھڑا رہ سکتا ہے۔ پاکستان میں عزت ایک بہت بڑی کرنسی ہے۔ ⸻ 2. خوف بہت سے پاکستانیوں کے فیصلے خوف پر مبنی ہوتے ہیں۔ خوف کس بات کا؟ * ناکامی کا خوف * غربت کا خوف * لوگوں کی باتوں کا خوف * رسوائی کا خوف اسی لیے بہت سے لوگ کاروبار شروع نہیں کرتے، نئی چیز نہیں سیکھتے یا اپنی رائے نہیں دیتے۔ ⸻ 3. امید پاکستانی مشکلات کے باوجود امید نہیں چھوڑتا۔ ایک مزدور بھی اپنے بچوں کو ڈاکٹر بنتے دیکھنا چاہتا ہے۔ ایک غریب ماں بھی اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھتی ہے۔ یہ امید پاکستان کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔ ⸻ عمرانیات کیا ہوتی ہے؟ نفسیات ایک انسان کو سمجھتی ہے۔ عمرانیات پورے معاشرے کو سمجھتی ہے۔ سادہ الفاظ میں: عمرانیات یہ سمجھنے کا علم ہے کہ لوگ مل کر کیسے سوچتے اور کیسے عمل کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر: * خاندان لوگوں کے فیصلوں پر اتنا اثر کیوں ڈالتا ہے؟ * لوگ “لوگ کیا کہیں گے” کی اتنی فکر کیوں کرتے ہیں؟ * سفارش کیوں چلتی ہے؟ * تعلقات اتنے اہم کیوں ہیں؟ * لوگ نئے خیالات کو فوراً قبول کیوں نہیں کرتے؟ یہ سب عمرانیات کے سوالات ہیں۔ ⸻ پاکستانی عمرانیات کیا ہے؟ 1. خاندان سب سے طاقتور ادارہ ہے پاکستان میں اکثر لوگ اکیلے فیصلہ نہیں کرتے۔ فیصلے کے پیچھے پورا خاندان ہوتا ہے۔ والد۔ والدہ۔ بھائی۔ بہن۔ چچا۔ ماموں۔ رشتہ دار۔ اسی لیے صرف ایک شخص کو قائل کرنا کافی نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی پورے خاندان کا اعتماد جیتنا پڑتا ہے۔ ⸻ 2. تعلقات نظام سے زیادہ اہم ہیں بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں لوگ سسٹم پر اعتماد کرتے ہیں۔ پاکستان میں لوگ زیادہ تر انسانوں پر اعتماد کرتے ہیں۔ لوگ اکثر کہتے ہیں: “یہ کام کس کے ذریعے ہوگا؟” “آپ کو کون جانتا ہے؟” “کسی جاننے والے نے بتایا ہے؟” یہ پاکستانی معاشرے کی ایک حقیقت ہے۔ ⸻ 3. لوگ کیا کہیں گے؟ پاکستانی معاشرے کا ایک بڑا اصول ہے: “لوگ کیا کہیں گے؟” بہت سے لوگ صحیح یا غلط کا فیصلہ کرنے سے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ معاشرہ کیا کہے گا۔ یہ سوچ کبھی فائدہ دیتی ہے اور کبھی ترقی روک دیتی ہے۔ ⸻ پھر اصل مسئلہ کیا ہے؟ جب میں نے نفسیات اور عمرانیات کو ایک ساتھ دیکھا تو مجھے ایک چیز بہت واضح نظر آئی۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ صرف پیسہ نہیں۔ اصل مسئلہ اعتماد کی کمی ہے۔ لوگ اداروں پر اعتماد نہیں کرتے۔ لوگ سیاست دانوں پر اعتماد نہیں کرتے۔ لوگ وعدوں پر اعتماد نہیں کرتے۔ لوگ نظام پر اعتماد نہیں کرتے۔ کیوں؟ کیونکہ انہوں نے بار بار دھوکے، ناکامیاں اور ٹوٹے ہوئے وعدے دیکھے ہیں۔ اس لیے لوگ سسٹم کے بجائے انسانوں پر اعتماد کرتے ہیں۔ ⸻ اعتماد کیسے بنتا ہے؟ اعتماد تقریروں سے نہیں بنتا۔ اعتماد اشتہاروں سے نہیں بنتا۔ اعتماد بڑے بڑے دعووں سے نہیں بنتا۔ اعتماد بنتا ہے: * سچ بولنے سے * وعدہ پورا کرنے سے * عزت دینے سے * مستقل مزاجی سے * انصاف کرنے سے * وقت کے ساتھ اچھا کردار دکھانے سے ⸻ میری زندگی کا سب سے بڑا سبق 35 سال پاکستان کو سمجھنے کے بعد میرا سب سے بڑا سبق یہ ہے: اگر آپ پاکستان میں: * اسکول بنانا چاہتے ہیں، * کاروبار بنانا چاہتے ہیں، * تحریک چلانا چاہتے ہیں، * یا ملک کو بدلنا چاہتے ہیں، تو پہلے پاکستانی انسان کو سمجھیں۔ اس کی نفسیات کو سمجھیں۔ اس کے معاشرے کو سمجھیں۔ اس کے خوف کو سمجھیں۔ اس کی امیدوں کو سمجھیں۔ اس کے خاندان کو سمجھیں۔ اس کے اعتماد کو سمجھیں۔ کیونکہ ممالک صرف پیسوں سے نہیں بنتے۔ ممالک انسانوں سے بنتے ہیں۔ انسان نفسیات سے بنتے ہیں۔ معاشرے عمرانیات سے بنتے ہیں۔ اور مضبوط قومیں اعتماد پر بنتی ہیں۔ — ریحان اللہ وال ::
    0 Commenti 0 condivisioni 15 Views