• Today I am so proud of Rehan School on becoming the first High school again in the planet to give a hosted version of open claw to every single student for free so they can do their school tasks with it and learn Agentic Ai

    So so much more to come in coming weeks , super exciting times !

    While 99.99% of the workd doesn’t even know what I am talking about , these students will become best .0001 of the world

    Thank you team level 2 ! So so proud of you !

    I will release the public site to everyone this coming week, stay tuned !

    #openclaw #aiagents
    Today I am so proud of Rehan School on becoming the first High school again in the planet to give a hosted version of open claw to every single student for free so they can do their school tasks with it and learn Agentic Ai 🙂 So so much more to come in coming weeks , super exciting times ! While 99.99% of the workd doesn’t even know what I am talking about , these students will become best .0001 of the world 🌎 Thank you team level 2 ! So so proud of you ! I will release the public site to everyone this coming week, stay tuned ! #openclaw #aiagents
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 320 Visualizações
  • بتایا جا رہا ہے کہ یہ کوئی اسلام آباد کی مسجد ہے۔ جہاں کی بھی ہو ان کا عمل قابل تقلید ہے۔ اس تصویر پر میں کافی دیر ٹھہرا رہا اور یقین جانیے ایک کیفیت دل و دماغ میں پیدا ہو گئی ، شاید الفاظ میں اس کا احاطہ ممکن نہ ہو۔کیونکہ کبھی یوں ہوتا ہے کہ آدمی کسی بڑی بات سے نہیں، ایک بالکل سادہ سے منظر سے بھی متاثر ہو جاتا ہے۔ “قیلولہ کارنر” دیکھنے اور پڑھنے میں ایک سادہ سا منظر پیش کر رہا ہے مگر اس کے پیچھے جو احساس ہے کاش یہ احساس ہر امام مسجد یا مسجد کی انتظامیہ کے ذہن میں پیدا ہو جائے۔ اس مسجد کی انتظامیہ نے مسجد کو صرف ایک جگہ نہیں سمجھا، بلکہ انہوں نے انسان کی ضرورت کو محسوس کیا، اس کے تھکے وجود کو دیکھا، اور اس کے لیے جگہ بنا دی۔

    ہم جب سیرتِ طیبہ پر نظر ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ مسجد کبھی بھی محض چند عبادات تک محدود نہیں رہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد ایک جیتی جاگتی حقیقت تھی۔ لوگوں کے مسائل وہیں حل ہوتے تھے، ضرورت مند وہیں سہارا پاتے تھے، اور ایک عام آدمی کو یہ احساس ہوتا تھا کہ اس کا اس مرکز سے کوئی تعلق ہے۔ وہاں دین بھی تھا، دل بھی تھا، اور انسان بھی تھا۔ شاید ہم نے دین کو محفوظ رکھا، مگر اس کی حرارت اور وسعت کہیں پیچھے رہ گئی۔

    مدرسہ ڈاٹ پی کے کے سہ ماہی کورس میں جب ہم یہ بات کرتے ہیں کہ ایک عالمِ دین اپنی مسجد یا مدرسہ سے کسی خیر کے کام کا آغاز کرے، تو اس کا مطلب کوئی بہت بڑا منصوبہ نہیں ہوتا۔ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ دل میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ “میں اپنے ماحول کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟” جب یہ سوال سچائی کے ساتھ اٹھتا ہے تو پھر چھوٹے چھوٹے قدم بھی بڑی تبدیلیوں کا آغاز بن جاتے ہیں۔ مسئلہ وسائل کا کم اور سوچ کا زیادہ ہوتا ہے، اور جب سوچ بدلتی ہے تو راستے خود بنتے چلے جاتے ہیں۔

    آج ہماری مساجد کو شاید نئی عمارتوں سے زیادہ ایک نئی روح کی ضرورت ہے، ایسی روح جو لوگوں کو اپنے قریب کرے، جو ان کے دکھ درد کو سمجھے، جو خاموشی سے ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ اگر ایک چھوٹا سا خیال بھی کسی مسجد کے دروازے سے جنم لے لے، تو وہ محض ایک سہولت نہیں رہتا، بلکہ ایک پیغام بن جاتا ہے کہ یہ جگہ صرف آنے والوں کے لیے نہیں، بلکہ جینے والوں کے لیے بھی ہے۔

    دل چاہتا ہے کہ ہمارے علمائے کرام، ائمہ مساجد اور منتظمین ایک لمحہ ٹھہر کر اپنے اپنے حلقے میں یہ سوچیں کہ اگر آج سے ہم نے صرف ایک قدم بھی بڑھا لیا، تو کل یہی قدم کسی کے لیے سہارا بن سکتا ہے، کسی کے لیے آسانی، اور کسی کے لیے ہدایت کا ذریعہ۔ شاید یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے قیادت شروع ہوتی ہے خاموشی سے، اخلاص کے ساتھ، اور ایک سچے درد کے ساتھ۔

    ابرارحسین
    مدیر شعبہ تربیت
    مدرسہ ڈاٹ-پی-کے
    Via Abrar Hussain
    بتایا جا رہا ہے کہ یہ کوئی اسلام آباد کی مسجد ہے۔ جہاں کی بھی ہو ان کا عمل قابل تقلید ہے۔ اس تصویر پر میں کافی دیر ٹھہرا رہا اور یقین جانیے ایک کیفیت دل و دماغ میں پیدا ہو گئی ، شاید الفاظ میں اس کا احاطہ ممکن نہ ہو۔کیونکہ کبھی یوں ہوتا ہے کہ آدمی کسی بڑی بات سے نہیں، ایک بالکل سادہ سے منظر سے بھی متاثر ہو جاتا ہے۔ “قیلولہ کارنر” دیکھنے اور پڑھنے میں ایک سادہ سا منظر پیش کر رہا ہے مگر اس کے پیچھے جو احساس ہے کاش یہ احساس ہر امام مسجد یا مسجد کی انتظامیہ کے ذہن میں پیدا ہو جائے۔ اس مسجد کی انتظامیہ نے مسجد کو صرف ایک جگہ نہیں سمجھا، بلکہ انہوں نے انسان کی ضرورت کو محسوس کیا، اس کے تھکے وجود کو دیکھا، اور اس کے لیے جگہ بنا دی۔ ہم جب سیرتِ طیبہ پر نظر ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ مسجد کبھی بھی محض چند عبادات تک محدود نہیں رہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد ایک جیتی جاگتی حقیقت تھی۔ لوگوں کے مسائل وہیں حل ہوتے تھے، ضرورت مند وہیں سہارا پاتے تھے، اور ایک عام آدمی کو یہ احساس ہوتا تھا کہ اس کا اس مرکز سے کوئی تعلق ہے۔ وہاں دین بھی تھا، دل بھی تھا، اور انسان بھی تھا۔ شاید ہم نے دین کو محفوظ رکھا، مگر اس کی حرارت اور وسعت کہیں پیچھے رہ گئی۔ مدرسہ ڈاٹ پی کے کے سہ ماہی کورس میں جب ہم یہ بات کرتے ہیں کہ ایک عالمِ دین اپنی مسجد یا مدرسہ سے کسی خیر کے کام کا آغاز کرے، تو اس کا مطلب کوئی بہت بڑا منصوبہ نہیں ہوتا۔ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ دل میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ “میں اپنے ماحول کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟” جب یہ سوال سچائی کے ساتھ اٹھتا ہے تو پھر چھوٹے چھوٹے قدم بھی بڑی تبدیلیوں کا آغاز بن جاتے ہیں۔ مسئلہ وسائل کا کم اور سوچ کا زیادہ ہوتا ہے، اور جب سوچ بدلتی ہے تو راستے خود بنتے چلے جاتے ہیں۔ آج ہماری مساجد کو شاید نئی عمارتوں سے زیادہ ایک نئی روح کی ضرورت ہے، ایسی روح جو لوگوں کو اپنے قریب کرے، جو ان کے دکھ درد کو سمجھے، جو خاموشی سے ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ اگر ایک چھوٹا سا خیال بھی کسی مسجد کے دروازے سے جنم لے لے، تو وہ محض ایک سہولت نہیں رہتا، بلکہ ایک پیغام بن جاتا ہے کہ یہ جگہ صرف آنے والوں کے لیے نہیں، بلکہ جینے والوں کے لیے بھی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ ہمارے علمائے کرام، ائمہ مساجد اور منتظمین ایک لمحہ ٹھہر کر اپنے اپنے حلقے میں یہ سوچیں کہ اگر آج سے ہم نے صرف ایک قدم بھی بڑھا لیا، تو کل یہی قدم کسی کے لیے سہارا بن سکتا ہے، کسی کے لیے آسانی، اور کسی کے لیے ہدایت کا ذریعہ۔ شاید یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے قیادت شروع ہوتی ہے خاموشی سے، اخلاص کے ساتھ، اور ایک سچے درد کے ساتھ۔ ابرارحسین مدیر شعبہ تربیت مدرسہ ڈاٹ-پی-کے Via Abrar Hussain
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 9 Visualizações
  • Announcing the new incharge of Rehan Ai Emergency Workshop Mr Jai Parkash EducationWala !

    In last 18 months he has progressed from seat to seat so fast ! So proud of him !

    He along with his team of students are here to educate you on Ai emergency workshop daily 8 times a day ! If you have a school, college, university or madarsa please connect with him to get these workshops for free for your students also !

    His number is +92 301 3916826

    To join the workshop message on 03232145278
    Announcing the new incharge of Rehan Ai Emergency Workshop Mr Jai Parkash EducationWala ! In last 18 months he has progressed from seat to seat so fast ! So proud of him ! He along with his team of students are here to educate you on Ai emergency workshop daily 8 times a day ! If you have a school, college, university or madarsa please connect with him to get these workshops for free for your students also ! His number is +92 301 3916826 To join the workshop message on 03232145278
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 9 Visualizações
  • Where can we buy this in Pakistan ?
    Where can we buy this in Pakistan 🇵🇰 ?
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 9 Visualizações
  • 0 Comentários 0 Compartilhamentos 9 Visualizações
  • 0 Comentários 0 Compartilhamentos 9 Visualizações
  • 0 Comentários 0 Compartilhamentos 9 Visualizações
  • 0 Comentários 0 Compartilhamentos 9 Visualizações
  • 0 Comentários 0 Compartilhamentos 9 Visualizações
  • 0 Comentários 0 Compartilhamentos 9 Visualizações