• AI for Education — ایک ایسا دن جو سوچ بدل گیا

    کل “AI for Education” سیمینار میں شرکت کا موقع ملا، جس کی قیادت کر رہے تھے
    Rehan Allahwala —
    ایک عالمی سطح پر جانے پہچانے، باوقار اور AI کے میدان کے لیجنڈری مینٹر۔

    یہ میرے اور میرے خاندان کے لیے ایک بھرپور سیکھنے کا تجربہ تھا۔
    پنجاب کے مختلف شہروں، حتیٰ کہ دور دراز علاقوں سے لوگ آئے ہوئے تھے۔
    ماحول متنوع، پُرجوش اور بامقصد تھا۔

    صرف رسمی لیکچر نہیں تھا —
    بلکہ:

    کھلی گفتگو
    سروسز اور بزنس تعارف
    آئیڈیاز کا تبادلہ
    سنجیدہ مگر دوستانہ ماحول

    سب سے خوبصورت بات یہ لگی کہ لوگ بغیر انا، بغیر جھجک، بغیر غیر ضروری رویے کے ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔ مختلف پس منظر رکھنے والے افراد ایک مہذب اور ہم آہنگ ماحول میں جُڑ رہے تھے۔

    اصل پیغام کیا تھا؟

    جدید دور تیزی سے بدل رہا ہے۔
    سسٹمز متروک ہو سکتے ہیں۔
    یہاں تک کہ AI بھی ہمیشہ کے لیے نہیں۔

    اصل ہدف یہ نہیں کہ کیا سیکھنا ہے
    بلکہ یہ کہ سیکھنا کیسے ہے۔

    یہ نقطہ میرے لیے سب سے طاقتور تھا۔
    یوں لگا جیسے فہم کی نئی پرتیں کھل گئیں ہوں۔

    ایک اور مشاہدہ

    کچھ شرکاء گہری بات کو مکمل طور پر سمجھ نہ سکے۔
    سوالات میں ابہام بھی تھا۔
    ایسے لمحات میں ریحان صاحب کا انداز سنجیدہ اور فکر مند محسوس ہوا۔

    ان کا نظم و ضبط سخت تھا۔
    دیر سے آنے والوں یا غیر رجسٹرڈ افراد کو شامل ہونے سے روکا گیا۔
    لہجہ بعض اوقات سخت بھی محسوس ہوا —
    مگر مقصد سنجیدگی اور معیار کو برقرار رکھنا تھا۔

    اور دلچسپ بات؟

    سیشن کے بعد وہ بالکل مختلف نظر آئے —
    پُرسکون، نرم، توجہ سے سننے والے، صبر سے سمجھانے والے،
    اور یہ کہنے والے کہ وہ خود بھی سیکھ رہے ہیں۔

    یہ تضاد نہیں تھا —
    یہ لیڈرشپ کی دو جہتیں تھیں۔

    خصوصی شکریہ
    Asma EducationWali
    جنہوں نے اس مفید سیمینار کا اہتمام کیا۔

    یہ میرا مختصر اور دیانتدارانہ تاثر ہے۔

    — Education by Sobia

    Yesterday, I was honored to attend the seminar “AI for Education” by the globally known, pleasant personality and legendary mentor in AI, Rehan Allahwala.
    It was a truly enriching learning experience for me and my family.
    People had come from across Punjab, many of them from remote areas. The environment was vibrant and diverse. We all learned a great deal and absorbed many subtle yet meaningful insights. Beyond the formal session, there was healthy socialization, exchange of ideas, services, business introductions, and thoughtful conversations. What I appreciated most was that people interacted openly — without social anxiety, ego, or unnecessary attitude. Individuals from different backgrounds connected in a congenial and respectful atmosphere.
    Listening to Rehan Sahib was, of course, the most inspiring part. His dedication, selflessness, hard work, clarity of explanation, and persuasive articulation of ideas were impactful. He spoke about the rapidly evolving modern era — how the world is changing, how systems may become obsolete, and how even AI itself may not remain permanent. He described this as a strange and uncertain time, especially for visionary and future-oriented thinkers, because we are still largely unclear about what the future truly holds.
    The core message I understood was that we are trying to teach people how to learn rather than simply what to learn. Personally, after listening carefully, I felt that new shades of understanding were added to my perspective.
    At the same time, it seemed that only a limited number of participants fully grasped the deeper principles being discussed. Some questions reflected confusion, and at moments Rehan Sir appeared thoughtful and slightly concerned while addressing them.
    During the session, his management style felt quite strict and firm. Late arrivals, casual approaches, or unregistered participants were directly asked not to join. His tone at times was intense and corrective. While it may have appeared harsh to some, it seemed intended to maintain seriousness and discipline in the session.
    Interestingly, after the session, his personality appeared entirely different — calm, approachable, caring, and generous with his time. He listened attentively, explained patiently, and even expressed that he continues to learn from others. That contrast was meaningful to observe.
    Thank you to Asma Education Wali for arranging this valuable seminar.
    This is my short and honest review of the experience.

    Educationby Sobia
    🌟 AI for Education — ایک ایسا دن جو سوچ بدل گیا 🌟 کل “AI for Education” سیمینار میں شرکت کا موقع ملا، جس کی قیادت کر رہے تھے Rehan Allahwala — ایک عالمی سطح پر جانے پہچانے، باوقار اور AI کے میدان کے لیجنڈری مینٹر۔ یہ میرے اور میرے خاندان کے لیے ایک بھرپور سیکھنے کا تجربہ تھا۔ پنجاب کے مختلف شہروں، حتیٰ کہ دور دراز علاقوں سے لوگ آئے ہوئے تھے۔ ماحول متنوع، پُرجوش اور بامقصد تھا۔ صرف رسمی لیکچر نہیں تھا — بلکہ: 🤝 کھلی گفتگو 💼 سروسز اور بزنس تعارف 💡 آئیڈیاز کا تبادلہ 🧠 سنجیدہ مگر دوستانہ ماحول سب سے خوبصورت بات یہ لگی کہ لوگ بغیر انا، بغیر جھجک، بغیر غیر ضروری رویے کے ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔ مختلف پس منظر رکھنے والے افراد ایک مہذب اور ہم آہنگ ماحول میں جُڑ رہے تھے۔ اصل پیغام کیا تھا؟ جدید دور تیزی سے بدل رہا ہے۔ سسٹمز متروک ہو سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ AI بھی ہمیشہ کے لیے نہیں۔ اصل ہدف یہ نہیں کہ کیا سیکھنا ہے بلکہ یہ کہ سیکھنا کیسے ہے۔ یہ نقطہ میرے لیے سب سے طاقتور تھا۔ یوں لگا جیسے فہم کی نئی پرتیں کھل گئیں ہوں۔ ایک اور مشاہدہ کچھ شرکاء گہری بات کو مکمل طور پر سمجھ نہ سکے۔ سوالات میں ابہام بھی تھا۔ ایسے لمحات میں ریحان صاحب کا انداز سنجیدہ اور فکر مند محسوس ہوا۔ ان کا نظم و ضبط سخت تھا۔ دیر سے آنے والوں یا غیر رجسٹرڈ افراد کو شامل ہونے سے روکا گیا۔ لہجہ بعض اوقات سخت بھی محسوس ہوا — مگر مقصد سنجیدگی اور معیار کو برقرار رکھنا تھا۔ اور دلچسپ بات؟ سیشن کے بعد وہ بالکل مختلف نظر آئے — پُرسکون، نرم، توجہ سے سننے والے، صبر سے سمجھانے والے، اور یہ کہنے والے کہ وہ خود بھی سیکھ رہے ہیں۔ یہ تضاد نہیں تھا — یہ لیڈرشپ کی دو جہتیں تھیں۔ خصوصی شکریہ Asma EducationWali جنہوں نے اس مفید سیمینار کا اہتمام کیا۔ یہ میرا مختصر اور دیانتدارانہ تاثر ہے۔ — Education by Sobia Yesterday, I was honored to attend the seminar “AI for Education” by the globally known, pleasant personality and legendary mentor in AI, Rehan Allahwala. It was a truly enriching learning experience for me and my family. People had come from across Punjab, many of them from remote areas. The environment was vibrant and diverse. We all learned a great deal and absorbed many subtle yet meaningful insights. Beyond the formal session, there was healthy socialization, exchange of ideas, services, business introductions, and thoughtful conversations. What I appreciated most was that people interacted openly — without social anxiety, ego, or unnecessary attitude. Individuals from different backgrounds connected in a congenial and respectful atmosphere. Listening to Rehan Sahib was, of course, the most inspiring part. His dedication, selflessness, hard work, clarity of explanation, and persuasive articulation of ideas were impactful. He spoke about the rapidly evolving modern era — how the world is changing, how systems may become obsolete, and how even AI itself may not remain permanent. He described this as a strange and uncertain time, especially for visionary and future-oriented thinkers, because we are still largely unclear about what the future truly holds. The core message I understood was that we are trying to teach people how to learn rather than simply what to learn. Personally, after listening carefully, I felt that new shades of understanding were added to my perspective. At the same time, it seemed that only a limited number of participants fully grasped the deeper principles being discussed. Some questions reflected confusion, and at moments Rehan Sir appeared thoughtful and slightly concerned while addressing them. During the session, his management style felt quite strict and firm. Late arrivals, casual approaches, or unregistered participants were directly asked not to join. His tone at times was intense and corrective. While it may have appeared harsh to some, it seemed intended to maintain seriousness and discipline in the session. Interestingly, after the session, his personality appeared entirely different — calm, approachable, caring, and generous with his time. He listened attentively, explained patiently, and even expressed that he continues to learn from others. That contrast was meaningful to observe. Thank you to Asma Education Wali for arranging this valuable seminar. This is my short and honest review of the experience. Educationby Sobia
    0 Commenti 0 condivisioni 216 Views
  • آج ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس میں قیادت کا ایک خوبصورت منظر دیکھا گیا

    پرنسپل سیمینار کے بعد تمام معزز مہمانوں نے ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس کا دورہ کیا۔
    کلاس رومز دیکھے… بچوں کا سیکھنے کا انداز دیکھا… اور وہ ماحول محسوس کیا جہاں AI صرف ایک ٹول نہیں بلکہ ایک رہنما ہے۔

    سر ریحان اور پرنسپل محترمہ اسماء ایجوکیشن والی کے ساتھ ایک بامقصد نشست ہوئی۔
    بات صرف اسکول کی نہیں ہوئی…
    بات ہوئی وژن کی۔
    بات ہوئی اگلے 10 سال کی۔
    بات ہوئی اس خواب کی کہ پاکستان کا بچہ صرف ڈگری نہ لے… بلکہ مسئلہ حل کرے، کمائے، اور لیڈر بنے۔

    یہ ایک عام میٹنگ نہیں تھی۔
    یہ سوچوں کا ملاپ تھا۔
    یہ قیادتوں کا کنکشن تھا۔
    یہ اُس مستقبل کی تیاری تھی جہاں تعلیم رٹہ نہیں، طاقت بنے گی۔

    جو لوگ ابھی تک نہیں آئے…
    آئیں، خود دیکھیں۔
    کیونکہ تبدیلی پوسٹ سے نہیں، وزٹ سے سمجھ آتی ہے۔

    #RehanSchool
    #IslamabadCampus
    #PrincipalSeminar
    #LeadershipMeetup
    ✨ آج ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس میں قیادت کا ایک خوبصورت منظر دیکھا گیا ✨ پرنسپل سیمینار کے بعد تمام معزز مہمانوں نے ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس کا دورہ کیا۔ کلاس رومز دیکھے… بچوں کا سیکھنے کا انداز دیکھا… اور وہ ماحول محسوس کیا جہاں AI صرف ایک ٹول نہیں بلکہ ایک رہنما ہے۔ 🏫📚 سر ریحان اور پرنسپل محترمہ اسماء ایجوکیشن والی کے ساتھ ایک بامقصد نشست ہوئی۔ بات صرف اسکول کی نہیں ہوئی… بات ہوئی وژن کی۔ بات ہوئی اگلے 10 سال کی۔ بات ہوئی اس خواب کی کہ پاکستان کا بچہ صرف ڈگری نہ لے… بلکہ مسئلہ حل کرے، کمائے، اور لیڈر بنے۔ 🎤🤝 یہ ایک عام میٹنگ نہیں تھی۔ یہ سوچوں کا ملاپ تھا۔ یہ قیادتوں کا کنکشن تھا۔ یہ اُس مستقبل کی تیاری تھی جہاں تعلیم رٹہ نہیں، طاقت بنے گی۔ 🌟 جو لوگ ابھی تک نہیں آئے… آئیں، خود دیکھیں۔ کیونکہ تبدیلی پوسٹ سے نہیں، وزٹ سے سمجھ آتی ہے۔ #RehanSchool #IslamabadCampus #PrincipalSeminar #LeadershipMeetup
    0 Commenti 0 condivisioni 1148 Views
  • ملکاند سے اسلام آباد تک… ایک فکری سفر!

    آج ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس میں ہماری ملاقات ہوئی

    Hizb Ullah ڈاکٹر حزب اللہ صاحب سے

    PhD Scholar
    MPH
    M.Ed
    بوعلی سینا پبلشر
    ڈائریکٹر: SECOMS Institute بدرگہ، مالاکنڈ

    جب ایک ڈائریکٹر، ایک محقق، ایک تعلیمی رہنما خود آ کر دیکھے کہ
    “ریحان اسکول آخر مختلف کیا کر رہا ہے؟”
    تو یہ عام وزٹ نہیں ہوتا…
    یہ سوچ کی تبدیلی کی ابتدا ہوتی ہے۔

    ہم نے انہیں پورا سسٹم دکھایا —
    کیسے AI استاد بنتا ہے۔
    کیسے بچہ صرف رٹتا نہیں، سوچتا ہے۔
    کیسے 18 ماہ میں طالب علم اپنی فیس خود کمانے کی سمت آ جاتا ہے۔
    کیسے اعتماد، لیڈرشپ اور کمیونیکیشن ایک ساتھ پروان چڑھتے ہیں۔

    آج سوال صرف ایک ہے:
    کیا ہم پرانے نظام سے چمٹے رہیں گے؟
    یا اپنے بچوں کو اُس مستقبل میں لے جائیں گے جہاں AI ان کا ساتھی ہے؟

    دروازہ کھلا ہے۔
    آئیں، خود دیکھیں۔ خود فیصلہ کریں۔

    Rehan School – Islamabad – Bara Kahu Branch
    Rehanschool.net
    Google Maps Address:
    https://maps.app.goo.gl/L5u3BM7CmX3eM3qH6?g_st=ic

    Principal Asma EducationWali: +92 344 5152745
    Qasim: +92 308 5511534
    UAN: 0304-1116044

    مستقبل اُن کا ہے جو خود چل کر دیکھنے آتے ہیں۔
    ملکاند سے اسلام آباد تک… ایک فکری سفر! آج ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس میں ہماری ملاقات ہوئی Hizb Ullah ڈاکٹر حزب اللہ صاحب سے 🎓 PhD Scholar 🎓 MPH 🎓 M.Ed 📚 بوعلی سینا پبلشر 🏫 ڈائریکٹر: SECOMS Institute بدرگہ، مالاکنڈ جب ایک ڈائریکٹر، ایک محقق، ایک تعلیمی رہنما خود آ کر دیکھے کہ “ریحان اسکول آخر مختلف کیا کر رہا ہے؟” تو یہ عام وزٹ نہیں ہوتا… یہ سوچ کی تبدیلی کی ابتدا ہوتی ہے۔ ہم نے انہیں پورا سسٹم دکھایا — کیسے AI استاد بنتا ہے۔ کیسے بچہ صرف رٹتا نہیں، سوچتا ہے۔ کیسے 18 ماہ میں طالب علم اپنی فیس خود کمانے کی سمت آ جاتا ہے۔ کیسے اعتماد، لیڈرشپ اور کمیونیکیشن ایک ساتھ پروان چڑھتے ہیں۔ آج سوال صرف ایک ہے: کیا ہم پرانے نظام سے چمٹے رہیں گے؟ یا اپنے بچوں کو اُس مستقبل میں لے جائیں گے جہاں AI ان کا ساتھی ہے؟ دروازہ کھلا ہے۔ آئیں، خود دیکھیں۔ خود فیصلہ کریں۔ 📍 Rehan School – Islamabad – Bara Kahu Branch 🌐 Rehanschool.net 📌 Google Maps Address: https://maps.app.goo.gl/L5u3BM7CmX3eM3qH6?g_st=ic 📞 Principal Asma EducationWali: +92 344 5152745 📞 Qasim: +92 308 5511534 ☎️ UAN: 0304-1116044 مستقبل اُن کا ہے جو خود چل کر دیکھنے آتے ہیں۔
    0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • کتاب سے آگے کا جہاں
    جب سے میری فراغت ہوئی میں ایک بے چینی اور اضطرابی کیفیت میں مبتلا رہا اور اکثروبیشتر رفقاء کے ساتھ معاشی چینلجز کے موضوع پر گھنٹوں مکالمے رہتے کہ کیسے اپنے سماج اور اپنے ہم مشرب لوگوں کے معاشی مستقبل کو سنوارا جائے
    اور کوئی ایسا منظم طرز تعلیم یا سسٹم تشکیل دیا جائے
    کہ ہمارا دوست ہمارا بھائی ہمارا شاگرد جب سند فراغت حاصل کرے تو معاشی استحکام نہ سہی کم از کم اتنا ہو کہ وہ گھریلو اخراجات کے بابت خود کفیل ہو جائے
    مگر یہ سب ایک خواب قصہ کہانی ہی محسوس ہوتا تھا
    مگر ریحان سکول میں جاکر چشم کشا حالات سامنے آئے
    اور یہ انکشاف ہوا کہ اگر نظام تشکیل دیا جائے تو اس نظام سے نکلنے والا تھوڑے عرصے میں ہی خود کفیل ہو سکتا ہے
    بس کیا تھا وہی بیٹھے بیٹھے جناب مہتمم صاحب کی موجودگی میں اس عزم کا اظہار کیا کہ جلد تعلیمی کمیٹی کی مشاورت سے ہم ایک تخصص یا کورس الغرض کسی بھی شکل میں اپنے طبقے کی اس مشکل کو آسان کرنے کی اپنے تئی ہر ممکن کوشش کریں گے
    تاکہ جن مسائل سے ہم نکلے ہمارا آنے والا مستقبل ان مسائل کا شکار نہ ہو اور وہ خود کفیل عالم خطیب مدرس مبلغ اور مفتی بن کر معاشرے کی دینی ضرورتوں کو پورا کر سکے
    ان شاءاللہ اللہ سے دعا ہے جلد از جلد اس مبارک عزم کو عملی شکل میں لایا جائے
    اس کے ساتھ ساتھ جناب Rehan Allahwala
    کا بھرپور شکریہ اور نیک تمنائیں کہ کتنے خوبصورتی اور نیک نیتی سے آپ اپنی ذات میں انجمن بن کر معاشرے ملک و ملت کی خدمت میں مصروف عمل ہیں اللہ آپ کی تائید و نصرت فرما کر معاشرے کو آپکی تخلیقی صلاحیتوں سے خوب استفادے کی توفیقات سے نوازے
    بلا شبہ آپ دوسروں کو خود کفیل بنانے کی محنت کرکے
    جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنت کو زندہ کر رہے ہیں
    اور اگر میں یوں کہوں تو شائد غلط نہیں ہوں گا
    کہ آپ مِٹی ہوئی سنت کو زندہ کر رہے ہیں
    اللہ آپ کا نگہبان ہو
    خیر اندیش عثمان طاہر

    Moulana Usman Tahir
    Cc Parvez Abbasi
    کتاب سے آگے کا جہاں جب سے میری فراغت ہوئی میں ایک بے چینی اور اضطرابی کیفیت میں مبتلا رہا اور اکثروبیشتر رفقاء کے ساتھ معاشی چینلجز کے موضوع پر گھنٹوں مکالمے رہتے کہ کیسے اپنے سماج اور اپنے ہم مشرب لوگوں کے معاشی مستقبل کو سنوارا جائے اور کوئی ایسا منظم طرز تعلیم یا سسٹم تشکیل دیا جائے کہ ہمارا دوست ہمارا بھائی ہمارا شاگرد جب سند فراغت حاصل کرے تو معاشی استحکام نہ سہی کم از کم اتنا ہو کہ وہ گھریلو اخراجات کے بابت خود کفیل ہو جائے مگر یہ سب ایک خواب قصہ کہانی ہی محسوس ہوتا تھا مگر ریحان سکول میں جاکر چشم کشا حالات سامنے آئے اور یہ انکشاف ہوا کہ اگر نظام تشکیل دیا جائے تو اس نظام سے نکلنے والا تھوڑے عرصے میں ہی خود کفیل ہو سکتا ہے بس کیا تھا وہی بیٹھے بیٹھے جناب مہتمم صاحب کی موجودگی میں اس عزم کا اظہار کیا کہ جلد تعلیمی کمیٹی کی مشاورت سے ہم ایک تخصص یا کورس الغرض کسی بھی شکل میں اپنے طبقے کی اس مشکل کو آسان کرنے کی اپنے تئی ہر ممکن کوشش کریں گے تاکہ جن مسائل سے ہم نکلے ہمارا آنے والا مستقبل ان مسائل کا شکار نہ ہو اور وہ خود کفیل عالم خطیب مدرس مبلغ اور مفتی بن کر معاشرے کی دینی ضرورتوں کو پورا کر سکے ان شاءاللہ اللہ سے دعا ہے جلد از جلد اس مبارک عزم کو عملی شکل میں لایا جائے اس کے ساتھ ساتھ جناب Rehan Allahwala کا بھرپور شکریہ اور نیک تمنائیں کہ کتنے خوبصورتی اور نیک نیتی سے آپ اپنی ذات میں انجمن بن کر معاشرے ملک و ملت کی خدمت میں مصروف عمل ہیں اللہ آپ کی تائید و نصرت فرما کر معاشرے کو آپکی تخلیقی صلاحیتوں سے خوب استفادے کی توفیقات سے نوازے بلا شبہ آپ دوسروں کو خود کفیل بنانے کی محنت کرکے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنت کو زندہ کر رہے ہیں اور اگر میں یوں کہوں تو شائد غلط نہیں ہوں گا کہ آپ مِٹی ہوئی سنت کو زندہ کر رہے ہیں اللہ آپ کا نگہبان ہو خیر اندیش عثمان طاہر ✍️ Moulana Usman Tahir Cc Parvez Abbasi
    0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • 0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • 0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • 0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • مدرسہ اب خود کفیل بنے گا… طلبہ اپنی فیس خود کمائیں گے

    آج بارہ کہو میں ایک تاریخی لمحہ ہوا۔

    مولانا عثمان طاہر صاحب اور مولانا ضیاء الرحمٰن صاحب نے ریحان اسکول کا مکمل سسٹم دیکھا…
    اور پھر ایک بڑا فیصلہ کیا۔

    انہوں نے کہا:
    “ہم یہ سسٹم اپنے مدرسے میں لگانا چاہتے ہیں… تاکہ ہمارے طلبہ 18 مہینے بعد اپنی 5,000 روپے ماہانہ فیس خود کما سکیں۔”

    سوچیں…

    مدرسہ + AI
    دین + ڈیجیٹل اسکل
    حفظ و درس + کمائی کی مہارت

    اب بچہ صرف تعلیم نہیں لے گا…
    وہ ذمہ داری بھی لے گا۔

    18 مہینے میں:
    • انگریزی میں اعتماد
    • AI کا استعمال
    • آن لائن کمائی کی اسکل
    • اور کم از کم 5,000 روپے ماہانہ خود کمانا

    یہ خیرات کا ماڈل نہیں…
    یہ عزت کا ماڈل ہے۔

    یہ وہ دن ہے جب مدرسہ صرف خرچ نہیں کرے گا…
    بلکہ اپنے طلبہ کو خود کفیل بنائے گا۔

    اگر ایک مولانا صاحب یہ قدم اٹھا سکتے ہیں
    تو باقی مدارس اور اسکول کیوں نہیں؟

    پاکستان میں لاکھوں طلبہ ہیں
    جو صرف موقع چاہتے ہیں۔

    دروازہ کھلا ہے۔
    سسٹم تیار ہے۔
    فیصلہ آپ کا ہے۔

    ریحان اسکول اسلام آباد – بارہ کہو
    rehanschool.com

    یہ ویڈیو صرف دیکھیں نہیں…
    مدرسوں کے گروپس میں شیئر کریں۔
    علماء تک پہنچائیں۔
    ہر اس شخص تک پہنچائیں جو چاہتا ہے کہ بچے باعزت خود کفیل بنیں۔

    ایک مدرسہ بدلے گا…
    پھر سینکڑوں بدلیں گے۔
    پھر پاکستان بدلے گا۔
    مدرسہ اب خود کفیل بنے گا… طلبہ اپنی فیس خود کمائیں گے 💡 آج بارہ کہو میں ایک تاریخی لمحہ ہوا۔ مولانا عثمان طاہر صاحب اور مولانا ضیاء الرحمٰن صاحب نے ریحان اسکول کا مکمل سسٹم دیکھا… اور پھر ایک بڑا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا: “ہم یہ سسٹم اپنے مدرسے میں لگانا چاہتے ہیں… تاکہ ہمارے طلبہ 18 مہینے بعد اپنی 5,000 روپے ماہانہ فیس خود کما سکیں۔” سوچیں… مدرسہ + AI دین + ڈیجیٹل اسکل حفظ و درس + کمائی کی مہارت اب بچہ صرف تعلیم نہیں لے گا… وہ ذمہ داری بھی لے گا۔ 18 مہینے میں: • انگریزی میں اعتماد • AI کا استعمال • آن لائن کمائی کی اسکل • اور کم از کم 5,000 روپے ماہانہ خود کمانا یہ خیرات کا ماڈل نہیں… یہ عزت کا ماڈل ہے۔ یہ وہ دن ہے جب مدرسہ صرف خرچ نہیں کرے گا… بلکہ اپنے طلبہ کو خود کفیل بنائے گا۔ اگر ایک مولانا صاحب یہ قدم اٹھا سکتے ہیں تو باقی مدارس اور اسکول کیوں نہیں؟ پاکستان میں لاکھوں طلبہ ہیں جو صرف موقع چاہتے ہیں۔ دروازہ کھلا ہے۔ سسٹم تیار ہے۔ فیصلہ آپ کا ہے۔ 📍 ریحان اسکول اسلام آباد – بارہ کہو 🌐 rehanschool.com یہ ویڈیو صرف دیکھیں نہیں… مدرسوں کے گروپس میں شیئر کریں۔ علماء تک پہنچائیں۔ ہر اس شخص تک پہنچائیں جو چاہتا ہے کہ بچے باعزت خود کفیل بنیں۔ ایک مدرسہ بدلے گا… پھر سینکڑوں بدلیں گے۔ پھر پاکستان بدلے گا۔
    0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • Come Karachi Come ! Change yourself !
    Come Karachi Come ! Change yourself !
    0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • آج ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس، بارہ کہو میں ایک خوبصورت اور باوقار ملاقات ہوئی۔

    مولانا عثمان طاہر صاحب
    (پرویز عباسی صاحب کے سیکنڈ کزن)

    اور مولانا ضیاء الرحمٰن صاحب تشریف لائے…

    وہ صرف دیکھنے نہیں آئے تھے…
    وہ محسوس کرنے آئے تھے۔
    وہ سمجھنے آئے تھے کہ یہ “AI والا اسکول” آخر ہے کیا؟

    ہم نے انہیں کلاس روم دکھائے…
    بچوں کی آنکھوں کی چمک دکھائی…
    وہ خواب دکھائے جو کتابوں کے باہر بھی سانس لیتے ہیں۔

    یہ عمارت نہیں…
    یہ سوچ کی تبدیلی ہے۔
    یہ پرانے انداز سے نئے زمانے کی طرف سفر ہے۔

    جب علم اور ٹیکنالوجی ساتھ چلتے ہیں
    تو انقلاب خاموشی سے پیدا ہوتا ہے…

    ہم شکر گزار ہیں کہ آپ تشریف لائے،
    وقت دیا، سوال کیے، غور کیا۔

    ایسی ملاقاتیں صرف تصویریں نہیں ہوتیں…
    یہ مستقبل کے دروازے کھولتی ہیں۔

    بارہ کہو سے ایک نئی کہانی لکھ رہی ہے…
    آپ بھی آ کر دیکھیں۔

    شکریہ مولانا عثمان طاہر صاحب
    شکریہ مولانا ضیاء الرحمٰن صاحب

    دروازہ کھلا ہے۔
    سوچ بھی کھلی رکھیں۔

    Honored to meet today Moulana Usman Tahir 2nd cousin of Parvez Abbasi with Moulana Ziaur Rehman who came to see Rehan School Islamabad Campus in Barakahu

    Thank you for coming
    آج ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس، بارہ کہو میں ایک خوبصورت اور باوقار ملاقات ہوئی۔ مولانا عثمان طاہر صاحب (پرویز عباسی صاحب کے سیکنڈ کزن) اور مولانا ضیاء الرحمٰن صاحب تشریف لائے… وہ صرف دیکھنے نہیں آئے تھے… وہ محسوس کرنے آئے تھے۔ وہ سمجھنے آئے تھے کہ یہ “AI والا اسکول” آخر ہے کیا؟ ہم نے انہیں کلاس روم دکھائے… بچوں کی آنکھوں کی چمک دکھائی… وہ خواب دکھائے جو کتابوں کے باہر بھی سانس لیتے ہیں۔ یہ عمارت نہیں… یہ سوچ کی تبدیلی ہے۔ یہ پرانے انداز سے نئے زمانے کی طرف سفر ہے۔ جب علم اور ٹیکنالوجی ساتھ چلتے ہیں تو انقلاب خاموشی سے پیدا ہوتا ہے… ہم شکر گزار ہیں کہ آپ تشریف لائے، وقت دیا، سوال کیے، غور کیا۔ ایسی ملاقاتیں صرف تصویریں نہیں ہوتیں… یہ مستقبل کے دروازے کھولتی ہیں۔ بارہ کہو سے ایک نئی کہانی لکھ رہی ہے… آپ بھی آ کر دیکھیں۔ شکریہ مولانا عثمان طاہر صاحب شکریہ مولانا ضیاء الرحمٰن صاحب دروازہ کھلا ہے۔ سوچ بھی کھلی رکھیں۔ Honored to meet today Moulana Usman Tahir 2nd cousin of Parvez Abbasi with Moulana Ziaur Rehman who came to see Rehan School Islamabad Campus in Barakahu Thank you for coming
    0 Commenti 0 condivisioni 524 Views