• یہ اصلاح نہیں… دن دہاڑے ڈکیتی ہے۔

    ریاست کہتی ہے:
    تم ہم سے بجلی 40 روپے فی یونٹ میں خریدو
    اور جو بجلی تم خود بنا کر ہمیں دو، وہ ہم 11 روپے میں لیں گے
    پھر 40 روپے پر 18٪ ٹیکس بھی ہم لیں گے
    اور حیرت یہ کہ… وہی ٹیکس 11 روپے میں سے کاٹیں گے

    یہ معاشی پالیسی نہیں۔
    یہ انصاف نہیں۔
    یہ عوام کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔



    Net Metering کیا ہے؟ (سادہ زبان میں)

    Net Metering ایک سادہ، سیدھا اصول تھا:
    • آپ اپنے گھر پر سولر لگاتے ہیں
    • دن میں اضافی بجلی پیدا ہوتی ہے
    • وہ بجلی قومی گرڈ کو دے دیتے ہیں
    • رات یا ضرورت کے وقت وہی بجلی واپس لیتے ہیں
    • آخر میں صرف فرق کا بل بنتا ہے

    یعنی:

    آپ بجلی کے پارٹنر تھے،
    مجرم نہیں۔

    یہ پالیسی:
    • عوام کو سولر کی طرف لائی
    • گرڈ پر بوجھ کم کیا
    • ڈالر کی بچت کی
    • آلودگی کم کی



    اب کیا کر دیا گیا؟

    اب آپ:
    • بجلی مہنگی خریدیں گے
    • سستی بیچیں گے
    • اور دونوں طرف ٹیکس بھی دیں گے

    یعنی:

    محنت تمہاری
    سرمایہ تمہارا
    نقصان بھی تمہارا

    اور فائدہ؟
    کچھ مخصوص اداروں اور ناکام نظام کا۔



    یہ صرف سولر والوں کا مسئلہ نہیں

    آج سولر
    کل:
    • پانی
    • گیس
    • انٹرنیٹ
    • تعلیم

    جو بھی عوام خود بہتر کرنے کی کوشش کرے گا،
    اس پر ٹیکس اور پابندی لگے گی۔



    اب خاموش رہنا جرم ہوگا

    یہ معاملہ:
    • آئین کے خلاف ہے
    • معاشی انصاف کے خلاف ہے
    • ماحولیاتی پالیسی کے خلاف ہے

    یہ معاملہ عدالت میں جانا چاہیے۔
    • بار ایسوسی ایشنز
    • سولر صارفین
    • انجینئرز
    • ماحولیاتی وکلاء
    • اور عام شہری

    سب کو:
    مشترکہ پٹیشن دائر کرنی چاہیے
    اس نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنا چاہیے

    کیونکہ:

    جب پالیسی عوام کے خلاف ہو،
    تو عدالت ہی آخری امید ہوتی ہے۔



    یہ بجلی کا بل نہیں…
    یہ مستقبل پر ٹیکس ہے۔

    اگر آج آواز نہ اٹھی،
    تو کل اختیار بھی نہیں بچے گا۔

    اب بولیں
    اب عدالت جائیں
    اب یہ معاملہ دبنے نہ دیں

    #AwaamPakistan
    #NetMetering
    #SolarRights
    #Nepra
    #TaxInjustice
    #Pakistan
    #PolicyOrLoot

    تو ابھی اس WhatsApp گروپ میں شامل ہوں
    (یہ گروپ صرف اسی مقصد کے لیے ہے)

    Join here:
    https://chat.whatsapp.com/Ith3fsAzicW5zYXSSr6txE?mode=gi_t

    Thank you Miftah Ismail
    یہ اصلاح نہیں… دن دہاڑے ڈکیتی ہے۔ ریاست کہتی ہے: ⚡ تم ہم سے بجلی 40 روپے فی یونٹ میں خریدو ☀️ اور جو بجلی تم خود بنا کر ہمیں دو، وہ ہم 11 روپے میں لیں گے 💸 پھر 40 روپے پر 18٪ ٹیکس بھی ہم لیں گے اور حیرت یہ کہ… وہی ٹیکس 11 روپے میں سے کاٹیں گے یہ معاشی پالیسی نہیں۔ یہ انصاف نہیں۔ یہ عوام کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔ ⸻ Net Metering کیا ہے؟ (سادہ زبان میں) Net Metering ایک سادہ، سیدھا اصول تھا: • آپ اپنے گھر پر سولر لگاتے ہیں • دن میں اضافی بجلی پیدا ہوتی ہے • وہ بجلی قومی گرڈ کو دے دیتے ہیں • رات یا ضرورت کے وقت وہی بجلی واپس لیتے ہیں • آخر میں صرف فرق کا بل بنتا ہے یعنی: آپ بجلی کے پارٹنر تھے، مجرم نہیں۔ یہ پالیسی: • عوام کو سولر کی طرف لائی • گرڈ پر بوجھ کم کیا • ڈالر کی بچت کی • آلودگی کم کی ⸻ اب کیا کر دیا گیا؟ اب آپ: • بجلی مہنگی خریدیں گے • سستی بیچیں گے • اور دونوں طرف ٹیکس بھی دیں گے یعنی: محنت تمہاری سرمایہ تمہارا نقصان بھی تمہارا اور فائدہ؟ کچھ مخصوص اداروں اور ناکام نظام کا۔ ⸻ یہ صرف سولر والوں کا مسئلہ نہیں آج سولر کل: • پانی • گیس • انٹرنیٹ • تعلیم جو بھی عوام خود بہتر کرنے کی کوشش کرے گا، اس پر ٹیکس اور پابندی لگے گی۔ ⸻ اب خاموش رہنا جرم ہوگا یہ معاملہ: • آئین کے خلاف ہے • معاشی انصاف کے خلاف ہے • ماحولیاتی پالیسی کے خلاف ہے 📢 یہ معاملہ عدالت میں جانا چاہیے۔ • بار ایسوسی ایشنز • سولر صارفین • انجینئرز • ماحولیاتی وکلاء • اور عام شہری سب کو: 👉 مشترکہ پٹیشن دائر کرنی چاہیے 👉 اس نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنا چاہیے کیونکہ: جب پالیسی عوام کے خلاف ہو، تو عدالت ہی آخری امید ہوتی ہے۔ ⸻ یہ بجلی کا بل نہیں… یہ مستقبل پر ٹیکس ہے۔ اگر آج آواز نہ اٹھی، تو کل اختیار بھی نہیں بچے گا۔ ✊ اب بولیں ⚖️ اب عدالت جائیں 📣 اب یہ معاملہ دبنے نہ دیں #AwaamPakistan #NetMetering #SolarRights #Nepra #TaxInjustice #Pakistan #PolicyOrLoot تو ابھی اس WhatsApp گروپ میں شامل ہوں 👇 (یہ گروپ صرف اسی مقصد کے لیے ہے) 🔗 Join here: https://chat.whatsapp.com/Ith3fsAzicW5zYXSSr6txE?mode=gi_t Thank you Miftah Ismail
    0 Kommentare 0 Anteile 8 Ansichten
  • 0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • 0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • آج میں نے سائمہ Saima Happinesswali کا انٹرویو لیا۔

    وہ ایک سال پہلے ہمارے ساتھ جُڑی تھیں۔
    خاموش۔ نظرانداز۔ خود سے ناواقف۔

    اور آج انہوں نے ایک جملہ کہا جو دل میں اُتر گیا:

    “اس اسکول سے پہلے مجھے یہ بھی نہیں پتا تھا کہ میں بھی کوئی ہوں۔”

    یہ جملہ صرف ایک کہانی نہیں —
    یہ ہمارے تعلیمی نظام پر ایک خاموش الزام ہے۔

    مسئلہ یہ نہیں کہ بچوں کو ہنر نہیں سکھائے جاتے،
    مسئلہ یہ ہے کہ انہیں اپنی پہچان نہیں دی جاتی۔

    ایک سال میں سائمہ نے صرف کچھ نہیں سیکھا،
    انہوں نے خود کو پایا۔

    انہوں نے سیکھا:
    • بولنا
    • نظر آنا
    • اپنی موجودگی کو اہم سمجھنا
    • یہ ماننا کہ وہ معنی رکھتی ہیں

    یہی اصل تبدیلی ہے۔

    ہم نمبر بنانے والے نہیں بناتے،
    ہم انسان جگاتے ہیں۔

    کیونکہ جس دن کوئی انسان یہ جان لے کہ
    “میں بھی کوئی ہوں”
    اس دن کے بعد اسے کوئی روک نہیں سکتا۔
    آج میں نے سائمہ Saima Happinesswali کا انٹرویو لیا۔ وہ ایک سال پہلے ہمارے ساتھ جُڑی تھیں۔ خاموش۔ نظرانداز۔ خود سے ناواقف۔ اور آج انہوں نے ایک جملہ کہا جو دل میں اُتر گیا: “اس اسکول سے پہلے مجھے یہ بھی نہیں پتا تھا کہ میں بھی کوئی ہوں۔” یہ جملہ صرف ایک کہانی نہیں — یہ ہمارے تعلیمی نظام پر ایک خاموش الزام ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ بچوں کو ہنر نہیں سکھائے جاتے، مسئلہ یہ ہے کہ انہیں اپنی پہچان نہیں دی جاتی۔ ایک سال میں سائمہ نے صرف کچھ نہیں سیکھا، انہوں نے خود کو پایا۔ انہوں نے سیکھا: • بولنا • نظر آنا • اپنی موجودگی کو اہم سمجھنا • یہ ماننا کہ وہ معنی رکھتی ہیں یہی اصل تبدیلی ہے۔ ہم نمبر بنانے والے نہیں بناتے، ہم انسان جگاتے ہیں۔ کیونکہ جس دن کوئی انسان یہ جان لے کہ “میں بھی کوئی ہوں” اس دن کے بعد اسے کوئی روک نہیں سکتا۔
    0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • انڈس اے آئی ویک — ایک تصویر… ایک سوال… ایک خواب!

    آج میری ایک مختصر ملاقات ہوئی
    پاکستان کی وزیرِ آئی ٹی و پلاننگ سے
    انڈس اے آئی ویک میں — صرف ایک تصویر کے لیے۔

    وہ مجھے ذاتی طور پر نہیں جانتیں…
    لیکن ہمارے کچھ طلبہ سے مل چکی ہیں۔

    اور احسن اقبال بھائی —
    گزشتہ 10 سال میں کئی بار ملاقات ہوئی…
    لیکن آج تک شاید یہ پوری طرح نہیں جانتے
    کہ ہم کر کیا رہے ہیں۔

    مجھے خواہش ہے…
    وہ دونوں ایک دن ریحان اسکول آئیں۔
    ایک گھنٹہ ہمارے بچوں کے ساتھ بیٹھیں۔
    AI کو “پاورپوائنٹ” میں نہیں…
    زمین پر چلتے ہوئے دیکھیں۔

    وہ پہلے سے بہت کچھ جانتے ہیں —
    لیکن مسئلہ علم کا نہیں…
    رفتار کا ہے۔

    آج پاکستان کا عام آدمی
    نہیں جانتا کہ AI اس کے لیے کیا کر سکتا ہے۔
    ایک رکشہ ڈرائیور، ایک درزی، ایک استاد،
    ایک 15 سالہ بچہ —
    کوئی نہیں جانتا کہ وہ AI سے
    اپنی آمدنی دوگنی، تین گنی کیسے کر سکتا ہے۔

    ہم ابھی بھی
    “خواہ مخواہ کے بھکاری” بنے ہوئے ہیں…
    جبکہ ہمارے ہاتھ میں وہ ٹیکنالوجی ہے
    جو ہمیں دینے والا بنا سکتی ہے۔

    یہ شکایت نہیں ہے۔
    یہ دعوت ہے۔

    آئیے…
    ایک قومی AI آگاہی مہم شروع کریں۔
    ہر گاؤں، ہر مدرسہ، ہر اسکول،
    ہر کالج میں۔

    AI کو صرف سرکاری فائلوں میں نہیں —
    عام انسان کے موبائل میں لے جائیں۔

    اگر ایک 10 سالہ بچہ
    20 مہینے میں AI سے کوڈنگ سیکھ سکتا ہے…
    اپنی انگریزی بہتر کر سکتا ہے…
    اور کمائی کی راہ پر آ سکتا ہے…

    تو 25 کروڑ لوگ کیوں نہیں؟

    پاکستان غریب نہیں ہے۔
    پاکستان کو بس صحیح ٹول نہیں دیا گیا۔

    وزیر صاحبہ، احسن اقبال بھائی —
    ہم تیار ہیں۔
    آپ بھی تیار ہو جائیں۔

    آئیں…
    دیکھیں…
    سمجھیں…
    اور مل کر ایک ایسا پاکستان بنائیں
    جو لینے والا نہیں —
    دینے والا ہو۔

    #AIForPakistan
    #RehanSchool
    #TechnologyForCommonMan
    #NoMoreBeggingNation
    🔥 انڈس اے آئی ویک — ایک تصویر… ایک سوال… ایک خواب! 🇵🇰 آج میری ایک مختصر ملاقات ہوئی پاکستان کی وزیرِ آئی ٹی و پلاننگ سے انڈس اے آئی ویک میں — صرف ایک تصویر کے لیے۔ وہ مجھے ذاتی طور پر نہیں جانتیں… لیکن ہمارے کچھ طلبہ سے مل چکی ہیں۔ اور احسن اقبال بھائی — گزشتہ 10 سال میں کئی بار ملاقات ہوئی… لیکن آج تک شاید یہ پوری طرح نہیں جانتے کہ ہم کر کیا رہے ہیں۔ 💭 مجھے خواہش ہے… وہ دونوں ایک دن ریحان اسکول آئیں۔ ایک گھنٹہ ہمارے بچوں کے ساتھ بیٹھیں۔ AI کو “پاورپوائنٹ” میں نہیں… زمین پر چلتے ہوئے دیکھیں۔ وہ پہلے سے بہت کچھ جانتے ہیں — لیکن مسئلہ علم کا نہیں… رفتار کا ہے۔ 🚨 آج پاکستان کا عام آدمی نہیں جانتا کہ AI اس کے لیے کیا کر سکتا ہے۔ ایک رکشہ ڈرائیور، ایک درزی، ایک استاد، ایک 15 سالہ بچہ — کوئی نہیں جانتا کہ وہ AI سے اپنی آمدنی دوگنی، تین گنی کیسے کر سکتا ہے۔ ہم ابھی بھی “خواہ مخواہ کے بھکاری” بنے ہوئے ہیں… جبکہ ہمارے ہاتھ میں وہ ٹیکنالوجی ہے جو ہمیں دینے والا بنا سکتی ہے۔ یہ شکایت نہیں ہے۔ یہ دعوت ہے۔ 📢 آئیے… ایک قومی AI آگاہی مہم شروع کریں۔ ہر گاؤں، ہر مدرسہ، ہر اسکول، ہر کالج میں۔ AI کو صرف سرکاری فائلوں میں نہیں — عام انسان کے موبائل میں لے جائیں۔ اگر ایک 10 سالہ بچہ 20 مہینے میں AI سے کوڈنگ سیکھ سکتا ہے… اپنی انگریزی بہتر کر سکتا ہے… اور کمائی کی راہ پر آ سکتا ہے… تو 25 کروڑ لوگ کیوں نہیں؟ پاکستان غریب نہیں ہے۔ پاکستان کو بس صحیح ٹول نہیں دیا گیا۔ 🙏 وزیر صاحبہ، احسن اقبال بھائی — ہم تیار ہیں۔ آپ بھی تیار ہو جائیں۔ آئیں… دیکھیں… سمجھیں… اور مل کر ایک ایسا پاکستان بنائیں جو لینے والا نہیں — دینے والا ہو۔ #AIForPakistan #RehanSchool #TechnologyForCommonMan #NoMoreBeggingNation
    0 Kommentare 0 Anteile 1555 Ansichten
  • آج ہم ریحان اسکول اسلام آباد کے طلبہ کو
    Indus AI Week – اسلام آباد لے کر گئے۔

    یہ صرف ایک وزٹ نہیں تھا۔
    یہ ایک اعلان تھا۔

    کیونکہ ریحان اسکول دنیا کا پہلا AI-First اسکول ہے —
    جہاں بچے AI ایسے استعمال کرتے ہیں
    جیسے بجلی
    روز۔ لازمی۔ قدرتی۔

    یہ بچے AI کے بارے میں لیکچر سننے نہیں آئے تھے،
    یہ AI کے ساتھ کھڑے تھے۔
    اسے چھو رہے تھے۔
    اسے جیتے تھے۔

    Indus AI Week پاکستان کا وہ پلیٹ فارم ہے
    جہاں حکومت، صنعت، اسٹارٹ اپس، یونیورسٹیز اور نوجوان
    مل کر یہ سوال پوچھ رہے ہیں:

    پاکستان AI کے دور میں کہاں کھڑا ہوگا؟

    اور آج ہمارا جواب تصویروں میں موجود تھا۔

    یہ گروپ فوٹو کوئی عام تصویر نہیں —
    یہ مستقبل کی کلاس ہے۔

    اگر آپ خود دیکھنا چاہتے ہیں کہ
    AI کے ساتھ پلنے والی نسل کیسی ہوتی ہے:

    کل
    دوپہر 12 سے رات 8 بجے تک
    اسلام آباد اسپورٹس کمپلیکس

    وہاں پیلی شرٹس میں یہ بچے آپ کو ملیں گے۔

    آئیے۔
    ملیے۔
    بات کیجیے۔

    کیونکہ یہ بچے مستقبل کے منتظر نہیں —
    یہی مستقبل ہیں۔

    Rehan School Islamabad Campus students at #Indusaiweek
    آج ہم ریحان اسکول اسلام آباد کے طلبہ کو Indus AI Week – اسلام آباد لے کر گئے۔ یہ صرف ایک وزٹ نہیں تھا۔ یہ ایک اعلان تھا۔ کیونکہ ریحان اسکول دنیا کا پہلا AI-First اسکول ہے — جہاں بچے AI ایسے استعمال کرتے ہیں جیسے بجلی ⚡ روز۔ لازمی۔ قدرتی۔ یہ بچے AI کے بارے میں لیکچر سننے نہیں آئے تھے، یہ AI کے ساتھ کھڑے تھے۔ اسے چھو رہے تھے۔ اسے جیتے تھے۔ Indus AI Week پاکستان کا وہ پلیٹ فارم ہے جہاں حکومت، صنعت، اسٹارٹ اپس، یونیورسٹیز اور نوجوان مل کر یہ سوال پوچھ رہے ہیں: 👉 پاکستان AI کے دور میں کہاں کھڑا ہوگا؟ اور آج ہمارا جواب تصویروں میں موجود تھا۔ یہ گروپ فوٹو کوئی عام تصویر نہیں — یہ مستقبل کی کلاس ہے۔ 🟡 اگر آپ خود دیکھنا چاہتے ہیں کہ AI کے ساتھ پلنے والی نسل کیسی ہوتی ہے: 📅 کل 🕛 دوپہر 12 سے رات 8 بجے تک 📍 اسلام آباد اسپورٹس کمپلیکس وہاں پیلی شرٹس میں یہ بچے آپ کو ملیں گے۔ آئیے۔ ملیے۔ بات کیجیے۔ کیونکہ یہ بچے مستقبل کے منتظر نہیں — یہی مستقبل ہیں۔ Rehan School Islamabad Campus students at #Indusaiweek
    0 Kommentare 0 Anteile 335 Ansichten
  • 0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • 0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • 0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • 0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten