• وہ شخص جو پاکستان کا وزیرِ صنعت ہونا چاہیے

    یہ کوئی نعرہ نہیں۔
    یہ کوئی تقریر نہیں۔
    یہ حقیقی فیکٹریاں، حقیقی ایکسپورٹس اور حقیقی نوکریاں ہیں۔

    یہ ہیں Jabran Niaz۔

    جب ہم پالیسیوں پر بحث کر رہے ہیں،
    یہ شخص انڈسٹری بنا رہا ہے — اسکیل پر۔



    جو یہ شخص پہلے ہی کر چکا ہے (وعدے نہیں، نتائج):

    • CEO — Utopia Deals / Utopia Industries
    • سالانہ آمدن 750 ملین ڈالر (تقریباً 210 ارب روپے)
    • امریکہ میں Amazon کا سب سے بڑا پرائیویٹ لیبل سیلر
    • پاکستان کا 16واں بڑا ایکسپورٹر
    • سالانہ 5,400 کنٹینرز ایکسپورٹ
    • پچھلے 5 سال میں 7 سے زائد فیکٹریاں
    • 15,000 سے زائد پاکستانیوں کو روزگار

    اور یہ صرف شروعات ہے۔



    جو اب بن رہا ہے:

    • اگلے 5 سال میں 1 لاکھ نوکریاں
    • کراچی کے باہر 250 ایکڑ پر انڈسٹریل سٹی
    • بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ
    • براہِ راست مقابلہ چین اور بھارت سے

    کوئی شور نہیں۔
    کوئی سبسڈی کا رونا نہیں۔
    صرف کام۔



    پاکستان کو اسے وزیرِ صنعت کیوں بنانا چاہیے؟

    • بزنس کو اسکیل کرنا جانتا ہے
    • ایکسپورٹس کتابوں سے نہیں، کنٹینرز سے سمجھتا ہے
    • غیر ملکی قرض نہیں، غیر ملکی خریدار لاتا ہے
    • تقریروں سے پہلے نوکریاں پیدا کرتا ہے

    اس کا وژن؟
    پاکستان میں 5 کروڑ باعزت، اچھی تنخواہ والی نوکریاں۔

    یہ سیاست نہیں۔
    یہ انڈسٹریل لیڈرشپ ہے۔



    پس منظر (صرف بزنس مین نہیں، ٹیکنیکل بھی):

    • Java Consultant — AXA Financial
    • Technical Manager — The Harry Fox Agency
    • VP Application Programming — Bank of America
    • BS & MS کمپیوٹر سائنس — FAST-NUCES

    کوڈ سے → فیکٹری تک → کنٹینر تک → روزگار تک۔



    پاکستان سے کیا ایکسپورٹ کر رہا ہے؟

    • بیڈنگ
    • نان اسٹک کوک ویئر
    • پرسنل کیئر پراڈکٹس

    پاکستان کی اصل طاقت استعمال کرتے ہوئے:
    محنتی لیبر، زمین، اور کم لاگت پروڈکشن۔



    یہ کامیابی ایک بات ثابت کرتی ہے:

    پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں
    کمی ہے تو ایسے لوگوں کو فیصلہ ساز بنانے کی

    Jabran Niaz وزیرِ صنعت؟
    اگر پاکستان واقعی ایکسپورٹس، روزگار اور عزت چاہتا ہے—
    تو جواب خود لکھا جا چکا ہے۔
    وہ شخص جو پاکستان 🇵🇰 کا وزیرِ صنعت ہونا چاہیے یہ کوئی نعرہ نہیں۔ یہ کوئی تقریر نہیں۔ یہ حقیقی فیکٹریاں، حقیقی ایکسپورٹس اور حقیقی نوکریاں ہیں۔ یہ ہیں Jabran Niaz۔ جب ہم پالیسیوں پر بحث کر رہے ہیں، یہ شخص انڈسٹری بنا رہا ہے — اسکیل پر۔ ⸻ جو یہ شخص پہلے ہی کر چکا ہے (وعدے نہیں، نتائج): • CEO — Utopia Deals / Utopia Industries • سالانہ آمدن 750 ملین ڈالر (تقریباً 210 ارب روپے) • امریکہ میں Amazon کا سب سے بڑا پرائیویٹ لیبل سیلر • پاکستان کا 16واں بڑا ایکسپورٹر • سالانہ 5,400 کنٹینرز ایکسپورٹ • پچھلے 5 سال میں 7 سے زائد فیکٹریاں • 15,000 سے زائد پاکستانیوں کو روزگار اور یہ صرف شروعات ہے۔ ⸻ جو اب بن رہا ہے: • اگلے 5 سال میں 1 لاکھ نوکریاں • کراچی کے باہر 250 ایکڑ پر انڈسٹریل سٹی • بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ • براہِ راست مقابلہ چین اور بھارت سے کوئی شور نہیں۔ کوئی سبسڈی کا رونا نہیں۔ صرف کام۔ ⸻ پاکستان کو اسے وزیرِ صنعت کیوں بنانا چاہیے؟ • بزنس کو اسکیل کرنا جانتا ہے • ایکسپورٹس کتابوں سے نہیں، کنٹینرز سے سمجھتا ہے • غیر ملکی قرض نہیں، غیر ملکی خریدار لاتا ہے • تقریروں سے پہلے نوکریاں پیدا کرتا ہے اس کا وژن؟ پاکستان میں 5 کروڑ باعزت، اچھی تنخواہ والی نوکریاں۔ یہ سیاست نہیں۔ یہ انڈسٹریل لیڈرشپ ہے۔ ⸻ پس منظر (صرف بزنس مین نہیں، ٹیکنیکل بھی): • Java Consultant — AXA Financial • Technical Manager — The Harry Fox Agency • VP Application Programming — Bank of America • BS & MS کمپیوٹر سائنس — FAST-NUCES کوڈ سے → فیکٹری تک → کنٹینر تک → روزگار تک۔ ⸻ پاکستان سے کیا ایکسپورٹ کر رہا ہے؟ • بیڈنگ • نان اسٹک کوک ویئر • پرسنل کیئر پراڈکٹس پاکستان کی اصل طاقت استعمال کرتے ہوئے: محنتی لیبر، زمین، اور کم لاگت پروڈکشن۔ ⸻ یہ کامیابی ایک بات ثابت کرتی ہے: 👉 پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں 👉 کمی ہے تو ایسے لوگوں کو فیصلہ ساز بنانے کی Jabran Niaz وزیرِ صنعت؟ اگر پاکستان واقعی ایکسپورٹس، روزگار اور عزت چاہتا ہے— تو جواب خود لکھا جا چکا ہے۔
    0 تبصرے 0 شیئرز 34 ویوز
  • ایک چھوٹے سے کام سے دنیا کے ٹاپ ایکسپورٹر تک — جبران نیاز کی اصل کہانی )

    Jabran Niaz کسی امیر گھرانے میں پیدا نہیں ہوئے۔
    نہ کوئی سیاسی سفارش، نہ خاندانی صنعت، نہ سرمایہ دار دوست۔

    ان کا سفر شروع ہوا کراچی کے ایک چھوٹے سے کام سے —
    جہاں وہ لیذر جیکٹس بنوا کر بیچتے تھے۔
    وہی چھوٹا سا کام، وہی لمبے دن، اور وہی سوال:

    کیا پاکستان سے بیٹھ کر دنیا کو کچھ بیچا جا سکتا ہے؟

    2011 — ایک فیصلہ جس نے سب بدل دیا
    جب پاکستان میں ایمازون کا نام بھی کم لوگ جانتے تھے،
    جبران نیاز نے فیصلہ کیا کہ وہ Amazon پر بیچیں گے۔

    اکاؤنٹ بنانا آسان نہیں تھا۔
    قوانین، رجسٹریشن، شپنگ، ریٹرنز — سب کچھ خود سیکھا۔
    شروع میں آرڈر خود پیک کیے،
    راتوں کو جاگ کر کسٹمر ریویوز پڑھے،
    اور ہر منفی ریویو کو سبق بنایا۔

    ایک پروڈکٹ نہیں، ایک سسٹم
    وہ کسی ایک چیز پر نہیں رکے۔
    جیکٹس سے آگے بڑھے، پھر:
    • بیڈ شیٹس
    • کمفرٹرز
    • تولیے
    • پردے
    • اسٹوریج باکس
    • کچن آئٹمز

    وہ چیزیں جو ہر گھر میں استعمال ہوتی ہیں۔
    انہوں نے سمجھ لیا تھا:

    برانڈ وہ نہیں جو شور مچائے، برانڈ وہ ہے جو روز استعمال ہو۔

    ایمازون کی دنیا میں دھماکہ
    رفتہ رفتہ ان کی کمپنی Utopia Brands
    ایمازون پر دنیا کی Top 5 Private Label Sellers میں آ گئی۔

    سالانہ سیلز سینکڑوں ملین ڈالرز تک پہنچ گئیں۔
    لاکھوں گھروں میں پاکستان میں بنی ہوئی چیزیں پہنچنے لگیں —
    وہ بھی بغیر کسی بڑے اشتہار کے۔

    پاکستان واپسی — اصل انقلاب
    اکثر لوگ یہاں رک جاتے ہیں۔
    جبران نیاز نے یہاں سے اصل کام شروع کیا۔

    انہوں نے Utopia Industries پاکستان میں بنائی۔
    مینوفیکچرنگ واپس پاکستان لائے۔
    وہ چیزیں بنانا شروع کیں جو پہلے کہا جاتا تھا:

    “یہ پاکستان سے ایکسپورٹ نہیں ہو سکتیں”

    آج:
    • پاکستان سے USA کو سب سے بڑا ایکسپورٹر
    • ہزاروں کنٹینرز سالانہ
    • 15,000 سے زائد لوگ براہِ راست اس نظام کا حصہ
    • کراچی کے قریب 250 ایکڑ کا انڈسٹریل پارک
    • ہزاروں نئی نوکریاں
    • پاکستان کی ایکسپورٹ میں کروڑوں ڈالرز کا اضافہ

    ایک آرڈر سے ہزاروں کنٹینرز تک
    یہ کہانی کسی شارٹ کٹ کی نہیں۔
    یہ کہانی ہے:
    • صبر کی
    • سسٹم کی
    • کوالٹی کی
    • اور عالمی سوچ کی

    جبران نیاز کی کہانی ہمیں کیا سکھاتی ہے؟
    1. چھوٹا آغاز مسئلہ نہیں، رک جانا مسئلہ ہے
    2. دنیا کو بیچنے کے لیے شور نہیں، معیار چاہیے
    3. ایمازون، انٹرنیٹ اور AI — پاکستان کے سب سے بڑے ہتھیار ہیں
    4. اصل کامیابی وہ ہے جو اپنے ملک میں نوکریاں پیدا کرے

    یہ صرف ایک بزنس اسٹوری نہیں۔
    یہ ثبوت ہے کہ
    اگر وژن صاف ہو اور سسٹم مضبوط ہو — تو پاکستان سے بھی دنیا فتح کی جا سکتی ہے۔
    • یا Entrepreneurship Case Study میں بھی بدل سکتا ہوں۔
    🔥 ایک چھوٹے سے کام سے دنیا کے ٹاپ ایکسپورٹر تک — جبران نیاز کی اصل کہانی ) Jabran Niaz کسی امیر گھرانے میں پیدا نہیں ہوئے۔ نہ کوئی سیاسی سفارش، نہ خاندانی صنعت، نہ سرمایہ دار دوست۔ ان کا سفر شروع ہوا کراچی کے ایک چھوٹے سے کام سے — جہاں وہ لیذر جیکٹس بنوا کر بیچتے تھے۔ وہی چھوٹا سا کام، وہی لمبے دن، اور وہی سوال: کیا پاکستان سے بیٹھ کر دنیا کو کچھ بیچا جا سکتا ہے؟ 🌍 2011 — ایک فیصلہ جس نے سب بدل دیا جب پاکستان میں ایمازون کا نام بھی کم لوگ جانتے تھے، جبران نیاز نے فیصلہ کیا کہ وہ Amazon پر بیچیں گے۔ اکاؤنٹ بنانا آسان نہیں تھا۔ قوانین، رجسٹریشن، شپنگ، ریٹرنز — سب کچھ خود سیکھا۔ شروع میں آرڈر خود پیک کیے، راتوں کو جاگ کر کسٹمر ریویوز پڑھے، اور ہر منفی ریویو کو سبق بنایا۔ 🧵 ایک پروڈکٹ نہیں، ایک سسٹم وہ کسی ایک چیز پر نہیں رکے۔ جیکٹس سے آگے بڑھے، پھر: • بیڈ شیٹس • کمفرٹرز • تولیے • پردے • اسٹوریج باکس • کچن آئٹمز وہ چیزیں جو ہر گھر میں استعمال ہوتی ہیں۔ انہوں نے سمجھ لیا تھا: برانڈ وہ نہیں جو شور مچائے، برانڈ وہ ہے جو روز استعمال ہو۔ 📈 ایمازون کی دنیا میں دھماکہ رفتہ رفتہ ان کی کمپنی Utopia Brands ایمازون پر دنیا کی Top 5 Private Label Sellers میں آ گئی۔ سالانہ سیلز سینکڑوں ملین ڈالرز تک پہنچ گئیں۔ لاکھوں گھروں میں پاکستان میں بنی ہوئی چیزیں پہنچنے لگیں — وہ بھی بغیر کسی بڑے اشتہار کے۔ 🇵🇰 پاکستان واپسی — اصل انقلاب اکثر لوگ یہاں رک جاتے ہیں۔ جبران نیاز نے یہاں سے اصل کام شروع کیا۔ انہوں نے Utopia Industries پاکستان میں بنائی۔ مینوفیکچرنگ واپس پاکستان لائے۔ وہ چیزیں بنانا شروع کیں جو پہلے کہا جاتا تھا: “یہ پاکستان سے ایکسپورٹ نہیں ہو سکتیں” آج: • پاکستان سے USA کو سب سے بڑا ایکسپورٹر • ہزاروں کنٹینرز سالانہ • 15,000 سے زائد لوگ براہِ راست اس نظام کا حصہ • کراچی کے قریب 250 ایکڑ کا انڈسٹریل پارک • ہزاروں نئی نوکریاں • پاکستان کی ایکسپورٹ میں کروڑوں ڈالرز کا اضافہ 📦 ایک آرڈر سے ہزاروں کنٹینرز تک یہ کہانی کسی شارٹ کٹ کی نہیں۔ یہ کہانی ہے: • صبر کی • سسٹم کی • کوالٹی کی • اور عالمی سوچ کی 🔥 جبران نیاز کی کہانی ہمیں کیا سکھاتی ہے؟ 1. چھوٹا آغاز مسئلہ نہیں، رک جانا مسئلہ ہے 2. دنیا کو بیچنے کے لیے شور نہیں، معیار چاہیے 3. ایمازون، انٹرنیٹ اور AI — پاکستان کے سب سے بڑے ہتھیار ہیں 4. اصل کامیابی وہ ہے جو اپنے ملک میں نوکریاں پیدا کرے یہ صرف ایک بزنس اسٹوری نہیں۔ یہ ثبوت ہے کہ اگر وژن صاف ہو اور سسٹم مضبوط ہو — تو پاکستان سے بھی دنیا فتح کی جا سکتی ہے۔ • یا Entrepreneurship Case Study میں بھی بدل سکتا ہوں۔
    0 تبصرے 0 شیئرز 56 ویوز
  • Go to ChatGPT and use this prompt:

    “Create a caricature of me and my job based on everything you know about me.”

    Share yours!
    Go to ChatGPT and use this prompt: “Create a caricature of me and my job based on everything you know about me.” Share yours!
    0 تبصرے 0 شیئرز 31 ویوز
  • یہ تصویر کارٹون نہیں ہے۔
    یہ ایک خواب کا اسنیپ شاٹ ہے۔

    ایک ایسا آدمی،
    جس نے اسکول اس دن بنانا شروع کیا
    جب لوگ اب بھی پوچھ رہے تھے:
    “AI سے بچوں کو کیا فائدہ؟”

    کلاس روم میں بچے ہیں،
    لیکن کاپی پنسل نہیں—
    لیپ ٹاپ، سوال، اور تجسس ہے۔

    روبوٹس ہیں،
    لیکن نوکریاں چھیننے کے لیے نہیں—
    سوچ کو آزاد کرنے کے لیے۔

    یہ استاد بلیک بورڈ پر لیکچر نہیں دیتا،
    یہ بچوں کے سامنے دنیا رکھ دیتا ہے
    اور کہتا ہے:
    “جاؤ، بناؤ، غلطی کرو، دوبارہ بناؤ۔”

    یہاں بچے رٹا نہیں لگاتے،
    یہاں بچے اثر (Impact) بنانا سیکھتے ہیں۔

    یہ وہ جگہ ہے
    جہاں تعلیم فیس کے لیے نہیں،
    زندگی کے لیے ہوتی ہے۔

    جہاں خواب امیر یا غریب نہیں دیکھتے،
    بس جرات دیکھتے ہیں۔

    اور بیچ میں کھڑا یہ شخص
    ہیرو بننے نہیں آیا—
    یہ بس یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ:

    اگر بچوں کو
    انٹرنیٹ، اعتماد، اور AI دے دی جائے
    تو وہ قوموں کا مستقبل بدل سکتے ہیں۔

    یہ تصویر
    ماضی کی یاد نہیں…
    یہ پاکستان کے مستقبل کا ٹریلر ہے۔

    — ریحان اللہ والا
    #RehanSchool
    #Style1
    #AIFirst
    #FutureLeaders
    یہ تصویر کارٹون نہیں ہے۔ یہ ایک خواب کا اسنیپ شاٹ ہے۔ ایک ایسا آدمی، جس نے اسکول اس دن بنانا شروع کیا جب لوگ اب بھی پوچھ رہے تھے: “AI سے بچوں کو کیا فائدہ؟” کلاس روم میں بچے ہیں، لیکن کاپی پنسل نہیں— لیپ ٹاپ، سوال، اور تجسس ہے۔ روبوٹس ہیں، لیکن نوکریاں چھیننے کے لیے نہیں— سوچ کو آزاد کرنے کے لیے۔ یہ استاد بلیک بورڈ پر لیکچر نہیں دیتا، یہ بچوں کے سامنے دنیا رکھ دیتا ہے اور کہتا ہے: “جاؤ، بناؤ، غلطی کرو، دوبارہ بناؤ۔” یہاں بچے رٹا نہیں لگاتے، یہاں بچے اثر (Impact) بنانا سیکھتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں تعلیم فیس کے لیے نہیں، زندگی کے لیے ہوتی ہے۔ جہاں خواب امیر یا غریب نہیں دیکھتے، بس جرات دیکھتے ہیں۔ اور بیچ میں کھڑا یہ شخص ہیرو بننے نہیں آیا— یہ بس یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ: اگر بچوں کو انٹرنیٹ، اعتماد، اور AI دے دی جائے تو وہ قوموں کا مستقبل بدل سکتے ہیں۔ یہ تصویر ماضی کی یاد نہیں… یہ پاکستان کے مستقبل کا ٹریلر ہے۔ — ریحان اللہ والا #RehanSchool #Style1 #AIFirst #FutureLeaders
    0 تبصرے 0 شیئرز 738 ویوز
  • I have spent more than 35 years in the IT industry.
    The majority of Pakistan’s IT ecosystem knows me — from the early days of computers and the internet, to email, software, and now AI.

    Today, I have a personal request and an open invitation for all IT companies in Pakistan.

    We have built the world’s first AI-first school system, currently operating in
    Karachi, Lahore, and Islamabad.

    My request is simple:
    • I invite IT company founders, CEOs, and leaders
    • Come and personally tour our school
    • See with your own eyes how children are being prepared with:
    • AI-first thinking
    • Technology confidence
    • Communication skills
    • Leadership mindset
    • Future-ready problem solving

    After the tour, if you genuinely feel:

    “Yes, this is the right environment for our team’s children”

    We want to extend a special offer exclusively for IT professionals.

    Why?
    Because IT parents:
    • Understand technology
    • Understand the future
    • Understand that children must become IT natives, not just traditional students

    I am especially requesting companies that have:
    • 100+ staff members

    Please give me time by choice, not obligation.
    I will personally give you the school tour myself.

    School Location for the Tour
    Rehan School – Shaheed e millat road
    Right opposite PAF Chapter City School

    This invitation is open to all IT companies —
    for group visits as well as individual tours.

    If you want to schedule a visit or explore this opportunity for your team,
    please contact me directly.

    This is not just a school.
    This is a future operating system for your children.

    — Rehan Allahwala
    I have spent more than 35 years in the IT industry. The majority of Pakistan’s IT ecosystem knows me — from the early days of computers and the internet, to email, software, and now AI. Today, I have a personal request and an open invitation for all IT companies in Pakistan. We have built the world’s first AI-first school system, currently operating in Karachi, Lahore, and Islamabad. My request is simple: • I invite IT company founders, CEOs, and leaders • Come and personally tour our school • See with your own eyes how children are being prepared with: • AI-first thinking • Technology confidence • Communication skills • Leadership mindset • Future-ready problem solving After the tour, if you genuinely feel: “Yes, this is the right environment for our team’s children” We want to extend a special offer exclusively for IT professionals. Why? Because IT parents: • Understand technology • Understand the future • Understand that children must become IT natives, not just traditional students I am especially requesting companies that have: • 100+ staff members Please give me time by choice, not obligation. I will personally give you the school tour myself. 📍 School Location for the Tour Rehan School – Shaheed e millat road Right opposite PAF Chapter City School This invitation is open to all IT companies — for group visits as well as individual tours. If you want to schedule a visit or explore this opportunity for your team, please contact me directly. This is not just a school. This is a future operating system for your children. — Rehan Allahwala
    0 تبصرے 0 شیئرز 33 ویوز
  • Hello Lahore !
    Hello Lahore !
    0 تبصرے 0 شیئرز 31 ویوز
  • Thank you Marc J. Lane
    Thank you Marc J. Lane
    0 تبصرے 0 شیئرز 32 ویوز
  • Journey of my life
    Journey of my life 😞
    0 تبصرے 0 شیئرز 33 ویوز
  • 0 تبصرے 0 شیئرز 32 ویوز
  • میری بہن رباب۔۔۔۔اپ وہ شخصیت ھیں جن سے میرا
    بسم اللہ کا رابطہ ھوا تھا پہلا رابطہ پرنسپل ٹریننگ کے حوالے سے۔۔۔۔۔

    وہ جو نیل آرمسٹرانگ نے چاند پر پہلا قدم رکھا تھا تو ایک جملہ بولا تھا۔۔۔۔
    یہ چاند پر انسان کا پہلا قدم نہیں بلکہ انسانیت کی تاریخ میں بہت بڑی چھلانگ ںے۔۔۔۔
    اور آج تو منور کمپس کے اندر اور باھر چاند اور وہ نظارہ جب محترم ریحان اللہ والا سائیں کو میں سی آف کر رھا تھا تو قسم سے چاند اور سر ریحان دونوں دلکش اور ساتھ ساتھ محسوس ھوئے۔۔۔۔

    یہ بالکل الکھ نگری دیکھی یہ ریحان اللہ والا اسکول کامنور کمپس نہیں وکھری ٹائپ کے لوگ دیکھے۔۔۔۔

    جسے دیکھو۔۔۔۔وہ دوسرے گولے کا لگتا ھے۔۔۔۔
    پتہ نہیں آپ لوگوں برتاؤ کا ایسا رنگ رچایا ھوا ھے۔۔۔۔

    کہ

    لالی میرے لال دی جتھ ویکھو تتھ لال
    لائی ویکھن میں گئی میں وی گوئی لال

    سب سے پہلے اسکول گارڈ جو عموماً درش مزاج ھوتے ھیں۔۔۔۔وہ خوشی سے ملے۔۔۔۔تمیز سے پوچھا سر کس سلسلے میں آپ ائے۔۔۔۔کہا بچوں کے ایڈمیشن کے سلسلے میں انفارمیشن لینا ھے۔۔۔۔رباب بہین سے بات ھو چکی ھے۔۔۔۔

    جوتا اتار کر اندر جانے کا ڈھب ریحان اللہ والا صاحب کی وڈیوز سے معلوم تھا ۔۔۔۔
    اندر ریسپشن پر ایک بیٹی ملی دعا ۔۔۔۔پر اعتماد ۔۔۔جب کہا بیٹی میں ڈی جی خان سے آیا ھوں انہوں نے کہا سوموار آپ تشریف لائیے گا۔۔۔۔آج پیرنٹس میٹنگ ڈے ھے میں نے کہا ٹھیک ھے بیٹی ۔۔۔۔
    بیٹی نے پوچھا سر پانی پئیں گے ۔۔۔پروقار انداز گفتگو۔۔۔۔
    بیٹی گئی پانی کا گلاس دیا نہیں بلکہ پیش کیا ۔۔۔۔

    کریم اللہ نے مجھے پانچ بیٹوں سے نوازا جب بھی کوئی
    طریقے۔۔۔۔سلیقے ۔۔۔۔بلکہ قرینے سے کام کرتی کوئی بیٹی نظر آئے تو دل سے دعا نکلتی تھی ۔۔۔۔۔

    آج وہ دعا سراپا سامنے تھی۔۔۔۔واہ
    Crytle clear communicatiin skills
    اور اس عمر میں کمال ھے۔۔۔۔صوفے پر ایک میڈم صاحبہ باری باری ھر باری جس کی باری ھوتی وہ نہایت سلیقہ مندی سے کچھ باتیں کر رھی تھیں ۔۔۔۔

    اس ادارے کے جس کونے ،جس در و دیوار کو دیکھا وہ ریحان اللہ والا کے ارادے محسوس ھوئے ۔۔۔۔

    دعا بیٹی نے نماز پڑھنے کے لئے وضو خانے اور نماز کے لئے گائیڈ کیا اس کے ساتھ ایک بیٹی بھی بیھٹی تھی سب بیٹے اور بیٹیاں ایک بات کے غماز سے وہ تھی ۔۔۔۔

    سلیقہ مندی۔۔۔۔۔
    اسی دوران پہلے ھلکی سر گوشی اور پھر آوازیں آنا شروع ھوئیں کہ سر ریحان ۔۔۔۔سر ۔۔۔۔سر۔۔۔۔۔ھیم۔۔۔۔واو۔۔۔

    سر پرائز ۔۔۔۔۔میں نماز کے بعد وہ جو واصف علی واصف رح فرماتے ھیں پہلے خود کو ایک دعا پر لے آؤ ۔۔۔۔

    آج ایک دعا تھی یا اللہ ریحان صاحب سے کسی طرح رابطہ ھو جائے۔۔۔۔جب میرے کون میں یہ سرگوشیاں ائیں۔۔۔۔تو
    جیا دھڑک دھڑک جیا دھڑک دھڑک جیا دھڑک دھڑک جائے۔۔۔۔۔

    میں تو نہ تین میں نہ تیرہ میں وہ جو والدین تھے وہ سب والہانہ محبت میں اس سمت متوجہ تھے۔۔۔اور کھڑے ھوتے گئے مس رباب ان کو بیٹھنے کا کہتیں ۔۔۔۔
    ھم تو ٹھہرے اجنبی۔۔۔۔

    عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب

    دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ھونے تک

    بس دل کے ھاتوں مجبور ۔۔۔۔
    دل اب ضد پہ آرا ھے کسی بچے کی طرح
    یا تو سب کچھ ھی مجھے چاھیے یا کچھ بھی نہیں

    اچھا وڈیو میں دیکھنا اور ھے ۔۔۔۔انکھوں دیکھنا اور ھے۔۔۔

    وہ بڑے گملے میں رکھے پودوں کو چھو رھے تھے جیسے سلام لے رھے ھوں۔۔۔۔اور جب میری پہلی نظر پڑی۔۔۔۔۔

    بچوں کی طرح بے گناہ سا چہرہ ،بچوں ھی کی طرح کی مسکراتی متحسن آنکھیں ،زبان پر مروت وانکساری ،زبان تفاخر سے یکسر عاری یہی حقیقی استادوں کا حسن عالمگیر ھے ۔۔۔۔۔۔کرنل محمد خان کی بیان کردہ یہ استاد کی شخصیت میرے سامنے تھی۔۔۔۔
    ریحان اللہ والا ۔۔۔۔۔۔۔(جاری ھے)

    Via Younis Chughtai
    میری بہن رباب۔۔۔۔اپ وہ شخصیت ھیں جن سے میرا بسم اللہ کا رابطہ ھوا تھا پہلا رابطہ پرنسپل ٹریننگ کے حوالے سے۔۔۔۔۔ وہ جو نیل آرمسٹرانگ نے چاند پر پہلا قدم رکھا تھا تو ایک جملہ بولا تھا۔۔۔۔ یہ چاند پر انسان کا پہلا قدم نہیں بلکہ انسانیت کی تاریخ میں بہت بڑی چھلانگ ںے۔۔۔۔ اور آج تو منور کمپس کے اندر اور باھر چاند اور وہ نظارہ جب محترم ریحان اللہ والا سائیں کو میں سی آف کر رھا تھا تو قسم سے چاند اور سر ریحان دونوں دلکش اور ساتھ ساتھ محسوس ھوئے۔۔۔۔ یہ بالکل الکھ نگری دیکھی یہ ریحان اللہ والا اسکول کامنور کمپس نہیں وکھری ٹائپ کے لوگ دیکھے۔۔۔۔ جسے دیکھو۔۔۔۔وہ دوسرے گولے کا لگتا ھے۔۔۔۔ پتہ نہیں آپ لوگوں برتاؤ کا ایسا رنگ رچایا ھوا ھے۔۔۔۔ کہ لالی میرے لال دی جتھ ویکھو تتھ لال لائی ویکھن میں گئی میں وی گوئی لال سب سے پہلے اسکول گارڈ جو عموماً درش مزاج ھوتے ھیں۔۔۔۔وہ خوشی سے ملے۔۔۔۔تمیز سے پوچھا سر کس سلسلے میں آپ ائے۔۔۔۔کہا بچوں کے ایڈمیشن کے سلسلے میں انفارمیشن لینا ھے۔۔۔۔رباب بہین سے بات ھو چکی ھے۔۔۔۔ جوتا اتار کر اندر جانے کا ڈھب ریحان اللہ والا صاحب کی وڈیوز سے معلوم تھا ۔۔۔۔ اندر ریسپشن پر ایک بیٹی ملی دعا ۔۔۔۔پر اعتماد ۔۔۔جب کہا بیٹی میں ڈی جی خان سے آیا ھوں انہوں نے کہا سوموار آپ تشریف لائیے گا۔۔۔۔آج پیرنٹس میٹنگ ڈے ھے میں نے کہا ٹھیک ھے بیٹی ۔۔۔۔ بیٹی نے پوچھا سر پانی پئیں گے ۔۔۔پروقار انداز گفتگو۔۔۔۔ بیٹی گئی پانی کا گلاس دیا نہیں بلکہ پیش کیا ۔۔۔۔ کریم اللہ نے مجھے پانچ بیٹوں سے نوازا جب بھی کوئی طریقے۔۔۔۔سلیقے ۔۔۔۔بلکہ قرینے سے کام کرتی کوئی بیٹی نظر آئے تو دل سے دعا نکلتی تھی ۔۔۔۔۔ آج وہ دعا سراپا سامنے تھی۔۔۔۔واہ Crytle clear communicatiin skills اور اس عمر میں کمال ھے۔۔۔۔صوفے پر ایک میڈم صاحبہ باری باری ھر باری جس کی باری ھوتی وہ نہایت سلیقہ مندی سے کچھ باتیں کر رھی تھیں ۔۔۔۔ اس ادارے کے جس کونے ،جس در و دیوار کو دیکھا وہ ریحان اللہ والا کے ارادے محسوس ھوئے ۔۔۔۔ دعا بیٹی نے نماز پڑھنے کے لئے وضو خانے اور نماز کے لئے گائیڈ کیا اس کے ساتھ ایک بیٹی بھی بیھٹی تھی سب بیٹے اور بیٹیاں ایک بات کے غماز سے وہ تھی ۔۔۔۔ سلیقہ مندی۔۔۔۔۔ اسی دوران پہلے ھلکی سر گوشی اور پھر آوازیں آنا شروع ھوئیں کہ سر ریحان ۔۔۔۔سر ۔۔۔۔سر۔۔۔۔۔ھیم۔۔۔۔واو۔۔۔ سر پرائز ۔۔۔۔۔میں نماز کے بعد وہ جو واصف علی واصف رح فرماتے ھیں پہلے خود کو ایک دعا پر لے آؤ ۔۔۔۔ آج ایک دعا تھی یا اللہ ریحان صاحب سے کسی طرح رابطہ ھو جائے۔۔۔۔جب میرے کون میں یہ سرگوشیاں ائیں۔۔۔۔تو جیا دھڑک دھڑک جیا دھڑک دھڑک جیا دھڑک دھڑک جائے۔۔۔۔۔ میں تو نہ تین میں نہ تیرہ میں وہ جو والدین تھے وہ سب والہانہ محبت میں اس سمت متوجہ تھے۔۔۔اور کھڑے ھوتے گئے مس رباب ان کو بیٹھنے کا کہتیں ۔۔۔۔ ھم تو ٹھہرے اجنبی۔۔۔۔ عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ھونے تک بس دل کے ھاتوں مجبور ۔۔۔۔ دل اب ضد پہ آرا ھے کسی بچے کی طرح یا تو سب کچھ ھی مجھے چاھیے یا کچھ بھی نہیں اچھا وڈیو میں دیکھنا اور ھے ۔۔۔۔انکھوں دیکھنا اور ھے۔۔۔ وہ بڑے گملے میں رکھے پودوں کو چھو رھے تھے جیسے سلام لے رھے ھوں۔۔۔۔اور جب میری پہلی نظر پڑی۔۔۔۔۔ بچوں کی طرح بے گناہ سا چہرہ ،بچوں ھی کی طرح کی مسکراتی متحسن آنکھیں ،زبان پر مروت وانکساری ،زبان تفاخر سے یکسر عاری یہی حقیقی استادوں کا حسن عالمگیر ھے ۔۔۔۔۔۔کرنل محمد خان کی بیان کردہ یہ استاد کی شخصیت میرے سامنے تھی۔۔۔۔ ریحان اللہ والا ۔۔۔۔۔۔۔(جاری ھے) Via Younis Chughtai
    0 تبصرے 0 شیئرز 38 ویوز