• Binance CEO @_RichardTeng met with the Prime Minister of Pakistan Mian Shehbaz Sharif and the Chief of Defence Forces & Chief of Army Staff, Field Marshal Syed Asim Munir, along with Minister Bilal Bin Saqib

    Big moves for Pakistan’s digital economy
    Binance CEO @_RichardTeng met with the Prime Minister of Pakistan Mian Shehbaz Sharif and the Chief of Defence Forces & Chief of Army Staff, Field Marshal Syed Asim Munir, along with Minister Bilal Bin Saqib Big moves for Pakistan’s digital economy 🇵🇰
    0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • Rehan School had its first demo day with each student heading a live product solving some problem for a million people !

    Soon you will see these products becoming a household name and them doing their million dollar exits !

    The power of ai coding is allowing us to create products I never imagined we could !

    Thank you Rubab EducationWali
    Rehan School had its first demo day with each student heading a live product solving some problem for a million people ! Soon you will see these products becoming a household name and them doing their million dollar exits ! The power of ai coding is allowing us to create products I never imagined we could ! Thank you Rubab EducationWali
    0 Commenti 0 condivisioni 4 Views
  • AgentR.net - a new online ide developed by Rehan School Online Academy to create problems into web apps and soon android apps !

    It codes, hosts, create databases like #replit and works on any browser in the world

    Pretty awesome platform for people to unleash their creativity !

    It’s in alpha 0.03 version right now we plan to launch it in a month and do a hackathon with it to build apps around problems you face !
    AgentR.net - a new online ide developed by Rehan School Online Academy to create problems into web apps and soon android apps ! It codes, hosts, create databases like #replit and works on any browser in the world 🌎 Pretty awesome platform for people to unleash their creativity ! It’s in alpha 0.03 version right now we plan to launch it in a month and do a hackathon with it to build apps around problems you face !
    0 Commenti 0 condivisioni 1605 Views
  • Teffel.com is a new operating system for getting work done with help of ai !

    Hijab Upworkwali has been handling it for Rehan Foundation for last 3 months ! She is 15 and a student of level 2 in Rehan School Online Academy

    This software allows you to do accounts, task management , hr management , payroll and more will be added as and when we need them !

    3 beta customers are welcome to try it if you are interested in trying it out !
    Teffel.com is a new operating system for getting work done with help of ai ! Hijab Upworkwali has been handling it for Rehan Foundation for last 3 months ! She is 15 and a student of level 2 in Rehan School Online Academy This software allows you to do accounts, task management , hr management , payroll and more will be added as and when we need them ! 3 beta customers are welcome to try it if you are interested in trying it out !
    0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • Thank you Anwar Khan bhai for visiting our micro model school in Lahore, and I hope it will inspire you to open one like this for us in Dhaka !
    Thank you Anwar Khan bhai for visiting our micro model school in Lahore, and I hope it will inspire you to open one like this for us in Dhaka !
    0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • Trying Rehan Biryani for the first time !

    I would rate it 8/10 !

    Good job team #rehanbiryani
    Trying Rehan Biryani for the first time ! I would rate it 8/10 ! Good job team #rehanbiryani
    0 Commenti 0 condivisioni 788 Views
  • کیوں پاکستان میں اعلیٰ معیار کا ڈی ہائیڈریٹڈ پپیتا بنانا ضروری ہے؟

    (وہی معیار یا تھائی لینڈ سے بہتر)



    بنیادی منطق

    ایک 220 گرام کا پیکٹ، جو آپ کے ہاتھ میں ہے، دنیا میں 7 سے 12 ڈالر میں بکتا ہے
    یعنی تقریباً 2,000 سے 3,400 روپے۔

    اسی قیمت کے حساب سے 1 کلوگرام ڈی ہائیڈریٹڈ پپیتا 30 سے 45 ڈالر میں فروخت ہوتا ہے
    یعنی تقریباً 8,500 سے 13,000 روپے۔

    لیکن پاکستان میں خام پپیتا کی قیمت:
    • 40 سے 100 روپے فی کلوگرام

    یعنی کسان کو تقریباً کچھ بھی نہیں ملتا، صرف سیزن کے 2–3 مہینوں میں۔

    جب 7 کلوگرام تازہ پپیتا → 1 کلوگرام خشک پپیتا بنتا ہے
    تو قیمت 80 گنا سے 120 گنا بڑھ جاتی ہے۔

    یہی ویلیو ایڈیشن کی اصل تعریف ہے۔



    سادہ حساب (کسان کی آمدنی میں تبدیلی)

    ➤ آج کی آمدنی

    ایک پاکستانی کسان کے پاس 1 ایکڑ ہو:

    سالانہ پیداوار:
    • 6,000 سے 12,000 کلوگرام پپیتا

    خام پھل بیچنے پر آمدنی:
    • 4,80,000 سے 12,00,000 روپے

    لاگت کم کرنے کے بعد منافع:
    • 2,00,000 سے 5,00,000 روپے سالانہ

    یعنی کراچی کے ایک ریسیپشنسٹ کی تنخواہ سے بھی کم۔



    اگر خشک پپیتا بنایا جائے (تھائی ماڈل)

    اگر صرف 30٪ فصل ڈرائی کی جائے:

    مثال:
    3,000 کلوگرام → 400 کلوگرام خشک پپیتا
    فروخت قیمت (کم سے کم): 8,500 روپے فی کلو
    کل آمدنی: 34,00,000 روپے

    تمام اخراجات کے بعد بھی 600٪ سے 1,000٪ زیادہ منافع۔

    اور باقی 70٪ تازہ پیسے میں فروخت۔

    یعنی ایک ایکڑ سے 2.2 سے 4 ملین روپے سالانہ منافع،
    جو پہلے 2–5 لاکھ تھا۔



    یہ پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟

    سال بھر آمدنی

    تازہ پپیتا سیزنل ہوتا ہے۔
    خشک پپیتا سال کے 12 مہینے فروخت ہوتا ہے۔

    کسان مزدور نہیں، بزنس مین بنتا ہے۔



    زیرو ویسٹ

    پاکستان میں 40٪ پپیتا ضائع ہو جاتا ہے:
    • خراب ہونے سے
    • ٹرانسپورٹ میں
    • دیر سے توڑنے پر
    • گرمی میں خراب ہو کر

    خشک کرنے سے ضائع چیز نفع میں بدل جاتی ہے۔



    قیمت گرنے سے بچاؤ

    سیزن میں قیمت 35 روپے فی کلو تک آ جاتی ہے۔
    خشک پروڈکٹ میں قیمت کبھی نہیں گرتی۔



    ایکسپورٹ مارکیٹ بہت بڑی ہے

    تھائی لینڈ 1.2 بلین ڈالر کا خشک ٹراپیکل فروٹ ایکسپورٹ کرتا ہے۔
    پاکستان 5 ملین ڈالر سے بھی کم۔

    یعنی 250 گنا فرق۔

    ملک ویسا ہی ہے، سورج ویسا ہی، زمین ویسی ہی—
    فرق صرف سوچ کا۔



    کولڈ چین کی ضرورت نہیں

    خشک پپیتا کے لیے:
    • فریج نہیں
    • کولڈ ٹرک نہیں
    • ائیرپورٹ کولڈ روم نہیں

    گاؤں میں فیکٹری ہو سکتی ہے—
    اور دبئی، سعودی، ترکی میں آسانی سے بھیجا جا سکتا ہے۔



    برانڈنگ منافع کو 10 گنا کرتی ہے

    خام پپیتا کموڈیٹی ہے۔
    خشک پپیتا برانڈ ہے۔

    برانڈ کا منافع کسان سے 10 گنا ہوتا ہے۔



    اعلیٰ معیار کیوں ضروری ہے؟

    اگر آپ چائنا اسٹائل سستا خشک پپیتا بنائیں:
    • سفید چینی
    • تیز سلفر ڈائی آکسائیڈ سمیل
    • مدھم رنگ
    • کوئی کہانی نہیں
    • کوئی برانڈ نہیں

    تو قیمت 6 ڈالر فی کلو سے اوپر نہیں جا سکتی۔

    جبکہ تھائی لینڈ 30–45 ڈالر فی کلو میں بیچ رہا ہے۔

    کوالٹی ہی مارکیٹ ہے۔

    پریمیم پروڈکٹ کہاں جاتی ہے:
    • ائیرپورٹ ڈیوٹی فری
    • جاپانی سپر مارکیٹ
    • دبئی آرگینک اسٹور
    • قطر ہوٹلز

    سستا مال:
    • تھوک مارکیٹ
    • چائے ہوٹل
    • زیرو منافع



    لاگت:

    آپ نے صحیح کہا:

    ایک بہترین فیکٹری کی قیمت = ایک نئی کرولا کی قیمت سے کم

    پاکستان میں لاگت:
    • سادہ لوکل ڈرائیر: 8 لاکھ سے 10 لاکھ
    • فوڈ گریڈ ڈرائیر: 25 لاکھ سے 40 لاکھ
    • ’’ائرپورٹ کوالٹی‘‘ مکمل یونٹ: 60 لاکھ سے 1 کروڑ

    ایک نئی کرولا: 85 لاکھ سے 1 کروڑ۔

    یعنی
    ایک کرولا = ایک فیکٹری
    جو:
    • 50–150 کسانوں کو جوڑ سکتی ہے
    • 20 نوکریاں پیدا کر سکتی ہے
    • سالانہ 3 سے 8 کروڑ روپے ایکسپورٹ کر سکتی ہے
    • سرمایہ صرف 5 سے 12 ماہ میں واپس آ جاتا ہے۔



    ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ کیوں ضروری ہے؟

    زرِ مبادلہ پاکستان میں رہے گا

    ہم تھائی پروڈکٹ خریدنے کے بجائے
    اپنی پروڈکٹ دنیا کو بیچیں گے۔



    کسان کاروباری بنتے ہیں

    وہ ’’سپلائر‘‘ نہیں
    شراکت دار بنتے ہیں۔



    علم مقامی ہو جاتا ہے

    ایک گاؤں اگر سیکھ گیا:
    • صحیح وقت پر توڑنا
    • خشک کرنا
    • کم شوگر فارمولا
    • پیکنگ
    • ایکسپورٹ سرٹیفیکیٹ

    تو 10 اور گاؤں یہ کام شروع کر دیتے ہیں۔

    یہی تھائی لینڈ 1998 → 2015 کا ماڈل ہے۔



    ہر پھل خشک کیا جا سکتا ہے

    ایک بار مشین لگ گئی:
    • پپیتا
    • آم
    • کیلا
    • چیکو
    • امرود
    • انناس
    • جامن
    • تربوز
    • مالٹے کا چھلکا

    15 سے زائد پروڈکٹس۔

    مشین ایک
    پروڈکٹ بارہ مہینے۔



    یہ کام کون کرے؟

    یہ حکومت کا کام نہیں۔
    یہ پرائیویٹ انٹرپرینیورشپ ہے۔

    بہترین ماڈل:

    “1 فیکٹری + 100 کسان”
    • کانٹریکٹ فارمنگ
    • گارنٹیڈ خریداری
    • ریونیو شیئر
    • برانڈ کی ملکیت
    • کسان کو پریمیئم قیمت



    کوالٹی اور برانڈنگ کیوں جیتتی ہے؟

    آپ کے ہاتھ میں پیکٹ دیکھیں:
    • King Power Selection
    • Low Sugar
    • خوبصورت پیکنگ
    • پیچھے کہانی
    • ائیرپورٹ برانڈنگ
    • حلال لوگو
    • الرجی انفارمیشن
    • نیوٹریشن ٹیبل

    انہوں نے پپیتا نہیں بیچا
    انہوں نے تجربہ بیچا۔

    پاکستان عام طور پر:
    • پلاسٹک بیگ + خشک ٹکڑے
    = صفر کہانی، صفر برانڈ

    منافع 90٪ ’’کہانی‘‘ کا ہوتا ہے۔



    پاکستان کی عالمی پوزیشن

    پپیتا بہترین اگتا ہے:
    • کراچی
    • ٹھٹھہ
    • گوادر
    • سکھر بیلٹ
    • جنوبی پنجاب
    • ساحلی بلوچستان

    یہ وہی موسم ہے جو تھائی لینڈ کے مرکزی زون کا ہے۔

    ہم گلف مارکیٹ میں لائیو لڑ سکتے ہیں:
    • دبئی
    • سعودی عرب
    • قطر
    • بحرین
    • کویت

    فاصلہ: 500–800 کلومیٹر
    تھائی لینڈ: 4,500 کلومیٹر

    ٹرانسپورٹ: 1/5 قیمت



    آخری خلاصہ (ایک پیراگراف)

    پاکستان کو پریمیئم ڈی ہائیڈریٹڈ پپیتا بنانا چاہیے کیونکہ یہ 40 روپے کے خام پھل کو 8,500 روپے فی کلو کے ایکسپورٹ پروڈکٹ میں بدلتا ہے، کسان کو 12 مہینے آمدنی دیتا ہے، سیزن کی قیمت گرنے کو ختم کرتا ہے، ویسٹ کو منافع میں بدلتا ہے، ایک فیکٹری کی قیمت ایک نئی کرولا سے کم ہے، اور ایک فیکٹری سالانہ 3–8 کروڑ روپے کی ایکسپورٹ کر سکتی ہے۔ اس سے کسان کی آمدنی 600٪ سے 1,000٪ تک بڑھ جاتی ہے، اور یہ ماڈل آم، کیلے، چیکو سمیت 15 پروڈکٹس پر لاگو ہو سکتا ہے۔
    🍊 کیوں پاکستان میں اعلیٰ معیار کا ڈی ہائیڈریٹڈ پپیتا بنانا ضروری ہے؟ (وہی معیار یا تھائی لینڈ سے بہتر) ⸻ 🎯 بنیادی منطق ایک 220 گرام کا پیکٹ، جو آپ کے ہاتھ میں ہے، دنیا میں 7 سے 12 ڈالر میں بکتا ہے یعنی تقریباً 2,000 سے 3,400 روپے۔ اسی قیمت کے حساب سے 1 کلوگرام ڈی ہائیڈریٹڈ پپیتا 30 سے 45 ڈالر میں فروخت ہوتا ہے یعنی تقریباً 8,500 سے 13,000 روپے۔ لیکن پاکستان میں خام پپیتا کی قیمت: • 40 سے 100 روپے فی کلوگرام یعنی کسان کو تقریباً کچھ بھی نہیں ملتا، صرف سیزن کے 2–3 مہینوں میں۔ جب 7 کلوگرام تازہ پپیتا → 1 کلوگرام خشک پپیتا بنتا ہے تو قیمت 80 گنا سے 120 گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہی ویلیو ایڈیشن کی اصل تعریف ہے۔ ⸻ 💰 سادہ حساب (کسان کی آمدنی میں تبدیلی) ➤ آج کی آمدنی ایک پاکستانی کسان کے پاس 1 ایکڑ ہو: سالانہ پیداوار: • 6,000 سے 12,000 کلوگرام پپیتا خام پھل بیچنے پر آمدنی: • 4,80,000 سے 12,00,000 روپے لاگت کم کرنے کے بعد منافع: • 2,00,000 سے 5,00,000 روپے سالانہ یعنی کراچی کے ایک ریسیپشنسٹ کی تنخواہ سے بھی کم۔ ⸻ 🔥 اگر خشک پپیتا بنایا جائے (تھائی ماڈل) اگر صرف 30٪ فصل ڈرائی کی جائے: مثال: 3,000 کلوگرام → 400 کلوگرام خشک پپیتا فروخت قیمت (کم سے کم): 8,500 روپے فی کلو کل آمدنی: 34,00,000 روپے تمام اخراجات کے بعد بھی 600٪ سے 1,000٪ زیادہ منافع۔ اور باقی 70٪ تازہ پیسے میں فروخت۔ یعنی ایک ایکڑ سے 2.2 سے 4 ملین روپے سالانہ منافع، جو پہلے 2–5 لاکھ تھا۔ ⸻ 🌱 یہ پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟ 1️⃣ سال بھر آمدنی تازہ پپیتا سیزنل ہوتا ہے۔ خشک پپیتا سال کے 12 مہینے فروخت ہوتا ہے۔ کسان مزدور نہیں، بزنس مین بنتا ہے۔ ⸻ 2️⃣ زیرو ویسٹ پاکستان میں 40٪ پپیتا ضائع ہو جاتا ہے: • خراب ہونے سے • ٹرانسپورٹ میں • دیر سے توڑنے پر • گرمی میں خراب ہو کر خشک کرنے سے ضائع چیز نفع میں بدل جاتی ہے۔ ⸻ 3️⃣ قیمت گرنے سے بچاؤ سیزن میں قیمت 35 روپے فی کلو تک آ جاتی ہے۔ خشک پروڈکٹ میں قیمت کبھی نہیں گرتی۔ ⸻ 4️⃣ ایکسپورٹ مارکیٹ بہت بڑی ہے تھائی لینڈ 1.2 بلین ڈالر کا خشک ٹراپیکل فروٹ ایکسپورٹ کرتا ہے۔ پاکستان 5 ملین ڈالر سے بھی کم۔ یعنی 250 گنا فرق۔ ملک ویسا ہی ہے، سورج ویسا ہی، زمین ویسی ہی— فرق صرف سوچ کا۔ ⸻ 5️⃣ کولڈ چین کی ضرورت نہیں خشک پپیتا کے لیے: • فریج نہیں • کولڈ ٹرک نہیں • ائیرپورٹ کولڈ روم نہیں گاؤں میں فیکٹری ہو سکتی ہے— اور دبئی، سعودی، ترکی میں آسانی سے بھیجا جا سکتا ہے۔ ⸻ 6️⃣ برانڈنگ منافع کو 10 گنا کرتی ہے خام پپیتا کموڈیٹی ہے۔ خشک پپیتا برانڈ ہے۔ برانڈ کا منافع کسان سے 10 گنا ہوتا ہے۔ ⸻ 🏭 اعلیٰ معیار کیوں ضروری ہے؟ اگر آپ چائنا اسٹائل سستا خشک پپیتا بنائیں: • سفید چینی • تیز سلفر ڈائی آکسائیڈ سمیل • مدھم رنگ • کوئی کہانی نہیں • کوئی برانڈ نہیں تو قیمت 6 ڈالر فی کلو سے اوپر نہیں جا سکتی۔ جبکہ تھائی لینڈ 30–45 ڈالر فی کلو میں بیچ رہا ہے۔ کوالٹی ہی مارکیٹ ہے۔ پریمیم پروڈکٹ کہاں جاتی ہے: • ائیرپورٹ ڈیوٹی فری • جاپانی سپر مارکیٹ • دبئی آرگینک اسٹور • قطر ہوٹلز سستا مال: • تھوک مارکیٹ • چائے ہوٹل • زیرو منافع ⸻ 🚗 لاگت: آپ نے صحیح کہا: ایک بہترین فیکٹری کی قیمت = ایک نئی کرولا کی قیمت سے کم پاکستان میں لاگت: • سادہ لوکل ڈرائیر: 8 لاکھ سے 10 لاکھ • فوڈ گریڈ ڈرائیر: 25 لاکھ سے 40 لاکھ • ’’ائرپورٹ کوالٹی‘‘ مکمل یونٹ: 60 لاکھ سے 1 کروڑ ایک نئی کرولا: 85 لاکھ سے 1 کروڑ۔ یعنی ایک کرولا = ایک فیکٹری جو: • 50–150 کسانوں کو جوڑ سکتی ہے • 20 نوکریاں پیدا کر سکتی ہے • سالانہ 3 سے 8 کروڑ روپے ایکسپورٹ کر سکتی ہے • سرمایہ صرف 5 سے 12 ماہ میں واپس آ جاتا ہے۔ ⸻ 🌍 ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ کیوں ضروری ہے؟ 1️⃣ زرِ مبادلہ پاکستان میں رہے گا ہم تھائی پروڈکٹ خریدنے کے بجائے اپنی پروڈکٹ دنیا کو بیچیں گے۔ ⸻ 2️⃣ کسان کاروباری بنتے ہیں وہ ’’سپلائر‘‘ نہیں شراکت دار بنتے ہیں۔ ⸻ 3️⃣ علم مقامی ہو جاتا ہے ایک گاؤں اگر سیکھ گیا: • صحیح وقت پر توڑنا • خشک کرنا • کم شوگر فارمولا • پیکنگ • ایکسپورٹ سرٹیفیکیٹ تو 10 اور گاؤں یہ کام شروع کر دیتے ہیں۔ یہی تھائی لینڈ 1998 → 2015 کا ماڈل ہے۔ ⸻ 4️⃣ ہر پھل خشک کیا جا سکتا ہے ایک بار مشین لگ گئی: • پپیتا • آم • کیلا • چیکو • امرود • انناس • جامن • تربوز • مالٹے کا چھلکا 15 سے زائد پروڈکٹس۔ مشین ایک پروڈکٹ بارہ مہینے۔ ⸻ 📌 یہ کام کون کرے؟ یہ حکومت کا کام نہیں۔ یہ پرائیویٹ انٹرپرینیورشپ ہے۔ بہترین ماڈل: “1 فیکٹری + 100 کسان” • کانٹریکٹ فارمنگ • گارنٹیڈ خریداری • ریونیو شیئر • برانڈ کی ملکیت • کسان کو پریمیئم قیمت ⸻ 🧠 کوالٹی اور برانڈنگ کیوں جیتتی ہے؟ آپ کے ہاتھ میں پیکٹ دیکھیں: • King Power Selection • Low Sugar • خوبصورت پیکنگ • پیچھے کہانی • ائیرپورٹ برانڈنگ • حلال لوگو • الرجی انفارمیشن • نیوٹریشن ٹیبل انہوں نے پپیتا نہیں بیچا انہوں نے تجربہ بیچا۔ پاکستان عام طور پر: • پلاسٹک بیگ + خشک ٹکڑے = صفر کہانی، صفر برانڈ منافع 90٪ ’’کہانی‘‘ کا ہوتا ہے۔ ⸻ 💎 پاکستان کی عالمی پوزیشن پپیتا بہترین اگتا ہے: • کراچی • ٹھٹھہ • گوادر • سکھر بیلٹ • جنوبی پنجاب • ساحلی بلوچستان یہ وہی موسم ہے جو تھائی لینڈ کے مرکزی زون کا ہے۔ ہم گلف مارکیٹ میں لائیو لڑ سکتے ہیں: • دبئی • سعودی عرب • قطر • بحرین • کویت فاصلہ: 500–800 کلومیٹر تھائی لینڈ: 4,500 کلومیٹر ٹرانسپورٹ: 1/5 قیمت ⸻ 🏁 آخری خلاصہ (ایک پیراگراف) پاکستان کو پریمیئم ڈی ہائیڈریٹڈ پپیتا بنانا چاہیے کیونکہ یہ 40 روپے کے خام پھل کو 8,500 روپے فی کلو کے ایکسپورٹ پروڈکٹ میں بدلتا ہے، کسان کو 12 مہینے آمدنی دیتا ہے، سیزن کی قیمت گرنے کو ختم کرتا ہے، ویسٹ کو منافع میں بدلتا ہے، ایک فیکٹری کی قیمت ایک نئی کرولا سے کم ہے، اور ایک فیکٹری سالانہ 3–8 کروڑ روپے کی ایکسپورٹ کر سکتی ہے۔ اس سے کسان کی آمدنی 600٪ سے 1,000٪ تک بڑھ جاتی ہے، اور یہ ماڈل آم، کیلے، چیکو سمیت 15 پروڈکٹس پر لاگو ہو سکتا ہے۔
    0 Commenti 0 condivisioni 429 Views
  • غربت کی 15 حیران کرنے والی وجوہات۔

    ہمارے معاشرے کے گریبان میں جھانکتی ہوئی ۱۵ بے رحم وجوہات، جو بتاتی ہیں کہ یہاں کا عام آدمی غربت کے دلدل سے کیوں نہیں نکل پاتا۔ یہ میٹھی باتیں نہیں، کڑوی گولیاں ہیں۔اس کو پڑھنے سے پہلے دل پر ہاتھ رکھ لیں۔

    ۱۔ "سرکاری نوکری" کا نشہ
    پاکستانی نوجوان کی جوانی کے بہترین ۱۰ سال "سرکاری نوکری" کے انتظار میں گل سڑ جاتے ہیں۔ وہ پچیس ہزار کی پرائیویٹ نوکری یا چھوٹا کاروبار کرنے کو توہین سمجھتے ہیں اور ۳۰ سال کی عمر تک والدین کے ٹکڑوں پر پلتے ہیں۔ نتیجہ؟ جب ہوش آتا ہے تب تک وقت اور عمر دونوں ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں۔

    ۲۔ دکھاوے کی شادیاں (امیروں کی نقل)
    جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں، مگر شادی پر ۱۰ لاکھ کا کھانا اور ۵ لاکھ کا جہیز دینا "ناک" کا مسئلہ ہے۔ یہ قوم اپنی زندگی کی کل جمع پونجی صرف ۴ گھنٹے کی تقریب میں لوگوں کو کھانا کھلا کر برباد کر دیتی ہے، اور پھر اگلے ۵ سال قرضہ اتارتی رہتی ہے۔

    ۳۔ ڈگری زدہ جاہل
    ہاتھ میں ماسٹرز کی ڈگری ہے مگر ایک پروفیشنل ای میل لکھنی نہیں آتی۔ ہمارے تعلیمی نظام نے صرف "نوکر" پیدا کیے ہیں، ہنر مند نہیں۔ ڈگری کو قابلیت سمجھنا سب سے بڑی بیوقوفی ہے، کیونکہ مارکیٹ ڈگری کو نہیں، "سکل" (Skill) کو پیسے دیتی ہے۔

    ۴۔ ایک کمائے، دس کھائیں
    مشترکہ خاندانی نظام (Joint Family) کی یہ کڑوی سچائی ہے کہ اگر ایک بھائی کمانے لگ جائے تو باقی سب "پیر پسار" کر لیٹ جاتے ہیں۔ یہاں "Parasite" (مفت خورے) بننے کا رواج ہے، جس کی وجہ سے کمانے والا بھی کبھی امیر نہیں ہو پاتا کیونکہ اس کا پیسہ سرمایہ کاری میں نہیں، دوسروں کا پیٹ بھرنے میں لگ جاتا ہے۔

    ۵۔ کمیٹی کلچر (مردہ پیسہ)
    پاکستانیوں کو انویسٹمنٹ سے ڈر لگتا ہے مگر "کمیٹی" ڈالنے کا شوق ہے۔ کمیٹی "مردہ پیسہ" (Dead Money) ہے۔ دو سال بعد جو ایک لاکھ ملے گا، مہنگائی کی وجہ سے اس کی قدر ۶۰ ہزار رہ چکی ہوگی۔ یہ بچت نہیں، اپنے پیسے کی قدر گرانے کا طریقہ ہے۔

    ۶۔ انا کا بت (میں یہ کام کروں گا؟)
    "میں چوہدری کا بیٹا ہوں، میں ریڑھی لگاؤں گا؟"
    اس جھوٹی انا نے لاکھوں گھر اجاڑ دیے۔ یہاں لوگ بھوکے مر جائیں گے لیکن کوئی چھوٹا کام شروع کرنے میں شرم محسوس کریں گے۔ یاد رکھیں، کام چھوٹا نہیں ہوتا، بندے کی سوچ چھوٹی ہوتی ہے۔

    ۷۔ صحت کی تباہی (خودکشی)
    ہم وہ قوم ہیں جو ۴۰ سال کی عمر تک تیل اور چینی ٹھونس کر اپنا جسم برباد کرتے ہیں اور پھر ۵۰ سال کی عمر کے بعد اپنی ساری کمائی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو دے دیتے ہیں۔ صحت کو نظر انداز کرنا غربت کا سیدھا راستہ ہے۔

    ۸۔ شارٹ کٹ کی تلاش
    ہمیں امیر بننا ہے، لیکن محنت کے بغیر۔ کبھی ڈبل شاہ، کبھی کرپٹو کے فراڈ اور کبھی لاٹری۔ پاکستانی قوم پروسیس (Process) پر یقین نہیں رکھتی، اسے "معجزہ" چاہیے۔ اور معجزے کے انتظار میں نسلیں غریب رہ جاتی ہیں۔

    ۹۔ الزام تراشی (Victim Mentality)
    "حکومت خراب ہے، نواز شریف کھا گیا، عمران خان نے کیا کر لیا، فوج نہیں چھوڑتی۔۔۔"
    یہ وہ چُورن ہے جو ناکام لوگ روز بیچتے ہیں۔ یہ ماننے کے بجائے کہ "میں نالائق ہوں"، وہ اپنی ناکامی کا ملبہ سسٹم پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔

    ۱۰۔ ادھار پر عیاشی
    ہم وہ لوگ ہیں جو "آئی فون" قسطوں پر لیتے ہیں تاکہ ان لوگوں کو متاثر کر سکیں جو ہمیں پسند بھی نہیں کرتے۔ غیر ضروری چیزوں (Liabilities) کے لیے قرض لینا مالی خودکشی ہے، جو یہاں کا ہر دوسرا بندہ کر رہا ہے۔

    ۱۱۔ سیکھنا بند (The Know-it-all)
    ڈگری ملتے ہی کتاب بند۔ پاکستانی اوسطاً سال میں ایک کتاب بھی نہیں پڑھتا۔ جب آپ اپنے دماغ پر انویسٹ کرنا بند کر دیتے ہیں، تو آپ کی جیب خود بخود خالی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

    ۱۲۔ اولاد بطور انشورنس پالیسی
    غربت کی ایک بڑی وجہ "بے تحاشا بچے" ہیں۔ غریب آدمی بچے اس لیے پیدا کرتا ہے کہ "یہ بڑے ہو کر کمائیں گے"۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ وسائل کے بغیر پلنے والے بچے "سرمایہ" نہیں، معاشرے اور والدین پر "بوجھ" بنتے ہیں۔

    ۱۳۔ رسک فوبیا (Risk Aversion)
    "پیسہ ڈوب نہ جائے"۔ اس ڈر سے لوگ پیسہ بینک میں سڑنے دیتے ہیں یا پلاٹ لے کر چھوڑ دیتے ہیں۔ کاروبار کرنے کا، رسک لینے کا حوصلہ ہی نہیں ہے۔ اور جو رسک نہیں لیتا، وہ کبھی ترقی نہیں کرتا۔

    ۱۴۔ حاسدانہ رویہ
    امیر آدمی کو دیکھ کر یہ سیکھنے کے بجائے کہ "یہ کیسے امیر ہوا؟"، ہم کہتے ہیں "ضرور حرام کا کمایا ہوگا۔" امیروں سے نفرت کر کے آپ کبھی امیر نہیں بن سکتے، کیونکہ لاشعوری طور پر آپ وہ بننا ہی نہیں چاہتے جسے آپ برا سمجھتے ہیں۔

    ۱۵۔ وقت کا قتلِ عام
    چائے کے ڈھابوں پر گھنٹوں سیاست پر بحث، ٹک ٹاک پر اسکرولنگ اور فضول محفلیں۔ غریب آدمی کے پاس پیسے کے علاوہ سب سے قیمتی چیز "وقت" ہوتی ہے، اور وہ اسی کو سب سے زیادہ بے دردی سے ضائع کرتا ہے۔

    اپنی بدحالی کا ملبہ حکومت یا تقدیر پر ڈالنا بند کریں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی جیب خالی نہیں بلکہ آپ کا دماغ بنجر ہے۔ جب تک آپ اپنی ”جھوٹی انا“ اور ”سستی“ کا جنازہ نہیں نکالیں گے، غربت آپ کی نسلوں کو اسی طرح چاٹتی رہے گی۔

    Via Khawar Hafeez Paracha
    غربت کی 15 حیران کرنے والی وجوہات۔ ہمارے معاشرے کے گریبان میں جھانکتی ہوئی ۱۵ بے رحم وجوہات، جو بتاتی ہیں کہ یہاں کا عام آدمی غربت کے دلدل سے کیوں نہیں نکل پاتا۔ یہ میٹھی باتیں نہیں، کڑوی گولیاں ہیں۔اس کو پڑھنے سے پہلے دل پر ہاتھ رکھ لیں۔ ۱۔ "سرکاری نوکری" کا نشہ پاکستانی نوجوان کی جوانی کے بہترین ۱۰ سال "سرکاری نوکری" کے انتظار میں گل سڑ جاتے ہیں۔ وہ پچیس ہزار کی پرائیویٹ نوکری یا چھوٹا کاروبار کرنے کو توہین سمجھتے ہیں اور ۳۰ سال کی عمر تک والدین کے ٹکڑوں پر پلتے ہیں۔ نتیجہ؟ جب ہوش آتا ہے تب تک وقت اور عمر دونوں ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں۔ ۲۔ دکھاوے کی شادیاں (امیروں کی نقل) جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں، مگر شادی پر ۱۰ لاکھ کا کھانا اور ۵ لاکھ کا جہیز دینا "ناک" کا مسئلہ ہے۔ یہ قوم اپنی زندگی کی کل جمع پونجی صرف ۴ گھنٹے کی تقریب میں لوگوں کو کھانا کھلا کر برباد کر دیتی ہے، اور پھر اگلے ۵ سال قرضہ اتارتی رہتی ہے۔ ۳۔ ڈگری زدہ جاہل ہاتھ میں ماسٹرز کی ڈگری ہے مگر ایک پروفیشنل ای میل لکھنی نہیں آتی۔ ہمارے تعلیمی نظام نے صرف "نوکر" پیدا کیے ہیں، ہنر مند نہیں۔ ڈگری کو قابلیت سمجھنا سب سے بڑی بیوقوفی ہے، کیونکہ مارکیٹ ڈگری کو نہیں، "سکل" (Skill) کو پیسے دیتی ہے۔ ۴۔ ایک کمائے، دس کھائیں مشترکہ خاندانی نظام (Joint Family) کی یہ کڑوی سچائی ہے کہ اگر ایک بھائی کمانے لگ جائے تو باقی سب "پیر پسار" کر لیٹ جاتے ہیں۔ یہاں "Parasite" (مفت خورے) بننے کا رواج ہے، جس کی وجہ سے کمانے والا بھی کبھی امیر نہیں ہو پاتا کیونکہ اس کا پیسہ سرمایہ کاری میں نہیں، دوسروں کا پیٹ بھرنے میں لگ جاتا ہے۔ ۵۔ کمیٹی کلچر (مردہ پیسہ) پاکستانیوں کو انویسٹمنٹ سے ڈر لگتا ہے مگر "کمیٹی" ڈالنے کا شوق ہے۔ کمیٹی "مردہ پیسہ" (Dead Money) ہے۔ دو سال بعد جو ایک لاکھ ملے گا، مہنگائی کی وجہ سے اس کی قدر ۶۰ ہزار رہ چکی ہوگی۔ یہ بچت نہیں، اپنے پیسے کی قدر گرانے کا طریقہ ہے۔ ۶۔ انا کا بت (میں یہ کام کروں گا؟) "میں چوہدری کا بیٹا ہوں، میں ریڑھی لگاؤں گا؟" اس جھوٹی انا نے لاکھوں گھر اجاڑ دیے۔ یہاں لوگ بھوکے مر جائیں گے لیکن کوئی چھوٹا کام شروع کرنے میں شرم محسوس کریں گے۔ یاد رکھیں، کام چھوٹا نہیں ہوتا، بندے کی سوچ چھوٹی ہوتی ہے۔ ۷۔ صحت کی تباہی (خودکشی) ہم وہ قوم ہیں جو ۴۰ سال کی عمر تک تیل اور چینی ٹھونس کر اپنا جسم برباد کرتے ہیں اور پھر ۵۰ سال کی عمر کے بعد اپنی ساری کمائی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو دے دیتے ہیں۔ صحت کو نظر انداز کرنا غربت کا سیدھا راستہ ہے۔ ۸۔ شارٹ کٹ کی تلاش ہمیں امیر بننا ہے، لیکن محنت کے بغیر۔ کبھی ڈبل شاہ، کبھی کرپٹو کے فراڈ اور کبھی لاٹری۔ پاکستانی قوم پروسیس (Process) پر یقین نہیں رکھتی، اسے "معجزہ" چاہیے۔ اور معجزے کے انتظار میں نسلیں غریب رہ جاتی ہیں۔ ۹۔ الزام تراشی (Victim Mentality) "حکومت خراب ہے، نواز شریف کھا گیا، عمران خان نے کیا کر لیا، فوج نہیں چھوڑتی۔۔۔" یہ وہ چُورن ہے جو ناکام لوگ روز بیچتے ہیں۔ یہ ماننے کے بجائے کہ "میں نالائق ہوں"، وہ اپنی ناکامی کا ملبہ سسٹم پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ ۱۰۔ ادھار پر عیاشی ہم وہ لوگ ہیں جو "آئی فون" قسطوں پر لیتے ہیں تاکہ ان لوگوں کو متاثر کر سکیں جو ہمیں پسند بھی نہیں کرتے۔ غیر ضروری چیزوں (Liabilities) کے لیے قرض لینا مالی خودکشی ہے، جو یہاں کا ہر دوسرا بندہ کر رہا ہے۔ ۱۱۔ سیکھنا بند (The Know-it-all) ڈگری ملتے ہی کتاب بند۔ پاکستانی اوسطاً سال میں ایک کتاب بھی نہیں پڑھتا۔ جب آپ اپنے دماغ پر انویسٹ کرنا بند کر دیتے ہیں، تو آپ کی جیب خود بخود خالی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ۱۲۔ اولاد بطور انشورنس پالیسی غربت کی ایک بڑی وجہ "بے تحاشا بچے" ہیں۔ غریب آدمی بچے اس لیے پیدا کرتا ہے کہ "یہ بڑے ہو کر کمائیں گے"۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ وسائل کے بغیر پلنے والے بچے "سرمایہ" نہیں، معاشرے اور والدین پر "بوجھ" بنتے ہیں۔ ۱۳۔ رسک فوبیا (Risk Aversion) "پیسہ ڈوب نہ جائے"۔ اس ڈر سے لوگ پیسہ بینک میں سڑنے دیتے ہیں یا پلاٹ لے کر چھوڑ دیتے ہیں۔ کاروبار کرنے کا، رسک لینے کا حوصلہ ہی نہیں ہے۔ اور جو رسک نہیں لیتا، وہ کبھی ترقی نہیں کرتا۔ ۱۴۔ حاسدانہ رویہ امیر آدمی کو دیکھ کر یہ سیکھنے کے بجائے کہ "یہ کیسے امیر ہوا؟"، ہم کہتے ہیں "ضرور حرام کا کمایا ہوگا۔" امیروں سے نفرت کر کے آپ کبھی امیر نہیں بن سکتے، کیونکہ لاشعوری طور پر آپ وہ بننا ہی نہیں چاہتے جسے آپ برا سمجھتے ہیں۔ ۱۵۔ وقت کا قتلِ عام چائے کے ڈھابوں پر گھنٹوں سیاست پر بحث، ٹک ٹاک پر اسکرولنگ اور فضول محفلیں۔ غریب آدمی کے پاس پیسے کے علاوہ سب سے قیمتی چیز "وقت" ہوتی ہے، اور وہ اسی کو سب سے زیادہ بے دردی سے ضائع کرتا ہے۔ اپنی بدحالی کا ملبہ حکومت یا تقدیر پر ڈالنا بند کریں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی جیب خالی نہیں بلکہ آپ کا دماغ بنجر ہے۔ جب تک آپ اپنی ”جھوٹی انا“ اور ”سستی“ کا جنازہ نہیں نکالیں گے، غربت آپ کی نسلوں کو اسی طرح چاٹتی رہے گی۔ Via Khawar Hafeez Paracha
    0 Commenti 0 condivisioni 15 Views
  • Thank you Salwa Leadershipwali
    Thank you Salwa Leadershipwali
    0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • Thank you so very much for Coming today to our first ever demo day Rehearsal at Rehan School Munawwar Campus where our students are making online tools and services targeted to solving problems faced by over 10 million people of the world and Pakistan
    Thank you so very much for Coming today to our first ever demo day Rehearsal at Rehan School Munawwar Campus where our students are making online tools and services targeted to solving problems faced by over 10 million people of the world and Pakistan 🇵🇰
    0 Commenti 0 condivisioni 3 Views