• Meet my 3 Facebook friends from India with origins of Pakistan

    Surjit Anand from Chakwal
    Shivali Indiawali from Rawalpindi / Peshawar
    S. S. Dogra

    They all want to visit Pakistan and see the land where there parents used to be and want to make friends online !

    Do connect with them !
    Meet my 3 Facebook friends from India with origins of Pakistan 🇵🇰 Surjit Anand from Chakwal Shivali Indiawali from Rawalpindi / Peshawar S. S. Dogra They all want to visit Pakistan 🇵🇰 and see the land where there parents used to be and want to make friends online ! Do connect with them !
    0 Kommentare 0 Anteile 54 Ansichten
  • زندگی کے شاک ابزاربر — ہمارے خاموش محافظ

    جب کوئی گاڑی اُونچے نیچے راستے پر چلتی ہے تو وہ ہر جھٹکا یا دھچکا محسوس نہیں کرتی۔ اس کی وجہ ایک چھوٹا مگر طاقتور پرزہ ہوتا ہے جسے شاک ابزاربر (Shock Absorber) کہتے ہیں۔ یہ پرزہ سڑک کے جھٹکوں کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے تاکہ گاڑی متوازن رہے اور مسافروں کو جھٹکا نہ لگے۔ اگر یہ نہ ہو تو گاڑی کتنی ہی مہنگی کیوں نہ ہو، چند ہی دنوں میں ٹوٹ پھوٹ جائے۔

    اسی طرح ہماری زندگی بھی ایک سفر ہے، اور اس راستے پر بھی کئی جھٹکے آتے ہیں — دکھ، ناکامیاں، تناؤ، غم، اور اختلافات۔ مگر ہم چلتے رہتے ہیں کیونکہ ہمارے آس پاس کچھ لوگ ہوتے ہیں جو یہ جھٹکے خاموشی سے اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔ یہی لوگ ہماری زندگی کے حقیقی شاک ابزاربر ہیں۔



    1. خاندان میں شاک ابزاربر

    سب سے پہلے ہمارے والدین — ماں اور باپ — ہماری زندگی کے سب سے بڑے شاک ابزاربر ہوتے ہیں۔
    ماں اپنی اولاد کے غصے، ضد اور پریشانی کو برداشت کرتی ہے، اور محبت سے ہر طوفان کو ٹھنڈا کر دیتی ہے۔
    باپ جب مالی یا معاشرتی دباؤ میں ہوتا ہے، تب بھی چپ چاپ برداشت کرتا ہے تاکہ گھر کا سکون قائم رہے۔

    دادا، دادی، نانا، نانی بھی زندگی کے ان تجربہ کار شاک ابزاربرز میں شامل ہیں۔ وہ اپنے تجربے اور صبر سے گھر کے اختلافات کو ختم کرتے ہیں اور سب کو یاد دلاتے ہیں کہ مشکل وقت ہمیشہ کے لیے نہیں آتا۔
    بڑے بہن بھائی بھی اکثر اپنی خواہشات قربان کر کے گھر میں توازن پیدا کرتے ہیں۔ یہ سب لوگ ہمارے گھر کی بنیادوں کو ہلاکہ نہیں دیتے بلکہ سکون اور محبت کے ساتھ سنبھالتے ہیں۔



    2. دوستوں میں شاک ابزاربر

    ایک سچا دوست بھی زندگی کا اہم شاک ابزاربر ہوتا ہے۔
    وہ ہماری شکایتیں سنتا ہے، ہماری غلطیوں کو معاف کرتا ہے، اور ہماری تکلیفوں کو اپنے دل میں جذب کر لیتا ہے تاکہ ہم پرسکون رہ سکیں۔

    اکثر ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ ایک دوست نے ہماری کتنی باتوں کو برداشت کیا، کتنا وقت دیا، اور کتنے موقعوں پر ہمارے غم کو اپنا غم بنایا۔
    ایسے دوست ہماری زندگی کو نرم، پرسکون اور قابلِ برداشت بناتے ہیں۔



    3. اسکولوں اور دفاتر میں شاک ابزاربر

    ایک اچھا اُستاد وہ ہوتا ہے جو روزانہ سینکڑوں بچوں کے شور، سوالات، اور مسائل کے باوجود مسکراتا ہے۔ وہ برداشت کرتا ہے تاکہ بچے سیکھ سکیں۔

    اسی طرح دفاتر میں بھی کچھ لوگ ہوتے ہیں جو دباؤ برداشت کرتے ہیں — مثلاً مینیجر، سربراہ یا سینئر ساتھی۔ وہ حالات کے جھٹکوں کو برداشت کر کے نظام کو چلنے دیتے ہیں۔ اگر یہ لوگ نہ ہوں تو ہر ادارہ جھگڑوں، دباؤ اور بے چینی کا شکار ہو جائے۔

    یہی لوگ اصل میں ادارے کے خاموش محافظ ہوتے ہیں — جو شور نہیں مچاتے، لیکن نظام کو گرنے سے بچاتے ہیں۔



    4. معاشرے میں شاک ابزاربر

    ہمارا معاشرہ اُن لوگوں کی بدولت قائم ہے جو دوسروں کے دکھوں کو سہہ جاتے ہیں:
    • وہ ڈاکٹر جو مریض کے غصے کو برداشت کرتا ہے۔
    • وہ نرس جو دن رات خدمت میں رہتی ہے۔
    • وہ استاد جو بچوں کی کمزوریوں کے باوجود امید نہیں چھوڑتا۔
    • وہ پولیس والا یا سماجی کارکن جو دوسروں کے غصے کو سہہ کر بھی اپنا کام کرتا ہے۔

    یہ سب لوگ روزانہ کے تناؤ، غم، اور غصے کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں تاکہ معاشرہ بکھرنے کے بجائے جڑ سکے۔



    5. قیادت اور قوم سازی میں شاک ابزاربر

    ایک سچا رہنما یا قائد وہ ہوتا ہے جو قوم کے دکھوں اور دباؤ کو برداشت کرے۔
    جب لوگ گھبرا جاتے ہیں، وہ پُر سکون رہتا ہے۔
    جب لوگ الزام لگاتے ہیں، وہ تحمل سے سنتا ہے۔
    جب حالات بگڑتے ہیں، وہ اپنی سوچ اور حوصلے سے قوم کو جوڑے رکھتا ہے۔

    قیادت کا مطلب طاقت نہیں، بلکہ برداشت کی قوت ہے — یعنی دوسروں کے غصے، الجھنوں اور غلطیوں کو جذب کرنا تاکہ نظام قائم رہے۔



    6. شاک ابزاربر ہونا آسان نہیں

    جس طرح گاڑی کے شاک ابزاربر وقت کے ساتھ گھِس جاتے ہیں، اسی طرح انسان بھی تھک جاتے ہیں۔
    جو لوگ ہمیشہ دوسروں کے لیے صبر کا پہاڑ بنتے ہیں، وہ اندر سے ٹوٹ سکتے ہیں اگر انہیں پیار، شکرگزاری، یا آرام نہ دیا جائے۔

    اسی لیے ضروری ہے کہ ہم ایسے لوگوں کی قدر کریں۔ اُنہیں وقت دیں، شکریہ کہیں، اور یہ احساس دلائیں کہ اُن کی خاموش قربانیاں نظر انداز نہیں کی گئیں۔



    7. ہم خود کیسے بن سکتے ہیں؟

    ہر شخص میں یہ طاقت موجود ہے کہ وہ دوسروں کے لیے شاک ابزاربر بنے۔
    • غصے کے وقت خاموشی اختیار کریں۔
    • دوسروں کی بات پوری سنیں۔
    • تناؤ کے وقت حل تلاش کریں، الزام نہیں۔
    • اپنی توانائی کا خیال رکھیں تاکہ ہمیشہ متوازن رہ سکیں۔

    یہی صبر اور برداشت انسان کو وہ طاقت دیتا ہے جو دنیا بدل سکتی ہے۔



    اختتامیہ

    زندگی کے شاک ابزاربر وہ لوگ ہیں جو خاموش رہ کر سب کچھ سہہ جاتے ہیں تاکہ دوسروں کا سفر آسان ہو جائے۔
    وہ نہ نام چاہتے ہیں نہ تعریف — مگر اُنہی کی وجہ سے دنیا چل رہی ہے۔

    اگلی بار جب آپ کی زندگی آسان لگے، تو ذرا رک کر سوچیں — کہیں کوئی شخص آپ کے لیے اندرونی طوفان برداشت کر رہا ہے۔
    ایسے انسانوں کا شکریہ ادا کریں، اور اگر موقع ملے تو خود بھی کسی کے لیے زندگی کا شاک ابزاربر بن جائیں۔

    کیونکہ اصل طاقت اُس میں نہیں جو دنیا کو ہلا دے —
    بلکہ اُس میں ہے جو دنیا کے جھٹکوں کو خاموشی سے جذب کر کے سکون پھیلا دے۔

    زندگی کے شاک ابزاربر — ہمارے خاموش محافظ جب کوئی گاڑی اُونچے نیچے راستے پر چلتی ہے تو وہ ہر جھٹکا یا دھچکا محسوس نہیں کرتی۔ اس کی وجہ ایک چھوٹا مگر طاقتور پرزہ ہوتا ہے جسے شاک ابزاربر (Shock Absorber) کہتے ہیں۔ یہ پرزہ سڑک کے جھٹکوں کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے تاکہ گاڑی متوازن رہے اور مسافروں کو جھٹکا نہ لگے۔ اگر یہ نہ ہو تو گاڑی کتنی ہی مہنگی کیوں نہ ہو، چند ہی دنوں میں ٹوٹ پھوٹ جائے۔ اسی طرح ہماری زندگی بھی ایک سفر ہے، اور اس راستے پر بھی کئی جھٹکے آتے ہیں — دکھ، ناکامیاں، تناؤ، غم، اور اختلافات۔ مگر ہم چلتے رہتے ہیں کیونکہ ہمارے آس پاس کچھ لوگ ہوتے ہیں جو یہ جھٹکے خاموشی سے اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔ یہی لوگ ہماری زندگی کے حقیقی شاک ابزاربر ہیں۔ ⸻ 1. خاندان میں شاک ابزاربر سب سے پہلے ہمارے والدین — ماں اور باپ — ہماری زندگی کے سب سے بڑے شاک ابزاربر ہوتے ہیں۔ ماں اپنی اولاد کے غصے، ضد اور پریشانی کو برداشت کرتی ہے، اور محبت سے ہر طوفان کو ٹھنڈا کر دیتی ہے۔ باپ جب مالی یا معاشرتی دباؤ میں ہوتا ہے، تب بھی چپ چاپ برداشت کرتا ہے تاکہ گھر کا سکون قائم رہے۔ دادا، دادی، نانا، نانی بھی زندگی کے ان تجربہ کار شاک ابزاربرز میں شامل ہیں۔ وہ اپنے تجربے اور صبر سے گھر کے اختلافات کو ختم کرتے ہیں اور سب کو یاد دلاتے ہیں کہ مشکل وقت ہمیشہ کے لیے نہیں آتا۔ بڑے بہن بھائی بھی اکثر اپنی خواہشات قربان کر کے گھر میں توازن پیدا کرتے ہیں۔ یہ سب لوگ ہمارے گھر کی بنیادوں کو ہلاکہ نہیں دیتے بلکہ سکون اور محبت کے ساتھ سنبھالتے ہیں۔ ⸻ 2. دوستوں میں شاک ابزاربر ایک سچا دوست بھی زندگی کا اہم شاک ابزاربر ہوتا ہے۔ وہ ہماری شکایتیں سنتا ہے، ہماری غلطیوں کو معاف کرتا ہے، اور ہماری تکلیفوں کو اپنے دل میں جذب کر لیتا ہے تاکہ ہم پرسکون رہ سکیں۔ اکثر ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ ایک دوست نے ہماری کتنی باتوں کو برداشت کیا، کتنا وقت دیا، اور کتنے موقعوں پر ہمارے غم کو اپنا غم بنایا۔ ایسے دوست ہماری زندگی کو نرم، پرسکون اور قابلِ برداشت بناتے ہیں۔ ⸻ 3. اسکولوں اور دفاتر میں شاک ابزاربر ایک اچھا اُستاد وہ ہوتا ہے جو روزانہ سینکڑوں بچوں کے شور، سوالات، اور مسائل کے باوجود مسکراتا ہے۔ وہ برداشت کرتا ہے تاکہ بچے سیکھ سکیں۔ اسی طرح دفاتر میں بھی کچھ لوگ ہوتے ہیں جو دباؤ برداشت کرتے ہیں — مثلاً مینیجر، سربراہ یا سینئر ساتھی۔ وہ حالات کے جھٹکوں کو برداشت کر کے نظام کو چلنے دیتے ہیں۔ اگر یہ لوگ نہ ہوں تو ہر ادارہ جھگڑوں، دباؤ اور بے چینی کا شکار ہو جائے۔ یہی لوگ اصل میں ادارے کے خاموش محافظ ہوتے ہیں — جو شور نہیں مچاتے، لیکن نظام کو گرنے سے بچاتے ہیں۔ ⸻ 4. معاشرے میں شاک ابزاربر ہمارا معاشرہ اُن لوگوں کی بدولت قائم ہے جو دوسروں کے دکھوں کو سہہ جاتے ہیں: • وہ ڈاکٹر جو مریض کے غصے کو برداشت کرتا ہے۔ • وہ نرس جو دن رات خدمت میں رہتی ہے۔ • وہ استاد جو بچوں کی کمزوریوں کے باوجود امید نہیں چھوڑتا۔ • وہ پولیس والا یا سماجی کارکن جو دوسروں کے غصے کو سہہ کر بھی اپنا کام کرتا ہے۔ یہ سب لوگ روزانہ کے تناؤ، غم، اور غصے کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں تاکہ معاشرہ بکھرنے کے بجائے جڑ سکے۔ ⸻ 5. قیادت اور قوم سازی میں شاک ابزاربر ایک سچا رہنما یا قائد وہ ہوتا ہے جو قوم کے دکھوں اور دباؤ کو برداشت کرے۔ جب لوگ گھبرا جاتے ہیں، وہ پُر سکون رہتا ہے۔ جب لوگ الزام لگاتے ہیں، وہ تحمل سے سنتا ہے۔ جب حالات بگڑتے ہیں، وہ اپنی سوچ اور حوصلے سے قوم کو جوڑے رکھتا ہے۔ قیادت کا مطلب طاقت نہیں، بلکہ برداشت کی قوت ہے — یعنی دوسروں کے غصے، الجھنوں اور غلطیوں کو جذب کرنا تاکہ نظام قائم رہے۔ ⸻ 6. شاک ابزاربر ہونا آسان نہیں جس طرح گاڑی کے شاک ابزاربر وقت کے ساتھ گھِس جاتے ہیں، اسی طرح انسان بھی تھک جاتے ہیں۔ جو لوگ ہمیشہ دوسروں کے لیے صبر کا پہاڑ بنتے ہیں، وہ اندر سے ٹوٹ سکتے ہیں اگر انہیں پیار، شکرگزاری، یا آرام نہ دیا جائے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم ایسے لوگوں کی قدر کریں۔ اُنہیں وقت دیں، شکریہ کہیں، اور یہ احساس دلائیں کہ اُن کی خاموش قربانیاں نظر انداز نہیں کی گئیں۔ ⸻ 7. ہم خود کیسے بن سکتے ہیں؟ ہر شخص میں یہ طاقت موجود ہے کہ وہ دوسروں کے لیے شاک ابزاربر بنے۔ • غصے کے وقت خاموشی اختیار کریں۔ • دوسروں کی بات پوری سنیں۔ • تناؤ کے وقت حل تلاش کریں، الزام نہیں۔ • اپنی توانائی کا خیال رکھیں تاکہ ہمیشہ متوازن رہ سکیں۔ یہی صبر اور برداشت انسان کو وہ طاقت دیتا ہے جو دنیا بدل سکتی ہے۔ ⸻ اختتامیہ زندگی کے شاک ابزاربر وہ لوگ ہیں جو خاموش رہ کر سب کچھ سہہ جاتے ہیں تاکہ دوسروں کا سفر آسان ہو جائے۔ وہ نہ نام چاہتے ہیں نہ تعریف — مگر اُنہی کی وجہ سے دنیا چل رہی ہے۔ اگلی بار جب آپ کی زندگی آسان لگے، تو ذرا رک کر سوچیں — کہیں کوئی شخص آپ کے لیے اندرونی طوفان برداشت کر رہا ہے۔ ایسے انسانوں کا شکریہ ادا کریں، اور اگر موقع ملے تو خود بھی کسی کے لیے زندگی کا شاک ابزاربر بن جائیں۔ کیونکہ اصل طاقت اُس میں نہیں جو دنیا کو ہلا دے — بلکہ اُس میں ہے جو دنیا کے جھٹکوں کو خاموشی سے جذب کر کے سکون پھیلا دے۔ ⸻
    0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • Shock Absorbers in Our Lives – The Hidden Pillars of Stability
    By Rehan Allahwala

    If you have ever sat in a car driving on a rough road, you know that it doesn’t shake violently every time it hits a bump. The reason is a small but powerful invention called the shock absorber. Its role is to absorb the shocks that come from the uneven road, keeping the car stable and the passengers comfortable. Without it, even a luxury car would become unbearable to ride in.

    In the same way, life too is full of bumps — disappointments, losses, conflicts, and daily stress. Yet, most of us are able to move forward because someone around us silently absorbs those shocks for us. These people — parents, mentors, friends, and even co-workers — act as the shock absorbers of life. They protect us from emotional collisions, stabilize our hearts, and make our journey smoother.



    1. In the Family: The First Shock Absorbers

    The first and most important shock absorbers in everyone’s life are their parents.

    When we are children and cry endlessly over small problems, our mother absorbs the chaos with love and patience. When the father faces financial struggles, he often hides his pain to keep the family’s confidence intact. Mothers and fathers together carry the emotional weight of the entire household.

    Grandparents, too, play a silent stabilizing role. Their wisdom and calm remind everyone that no storm lasts forever. They absorb the tension between parents and children, between tradition and modernity, and restore peace in the family.

    Even siblings often become shock absorbers. The elder brother who silently compromises so the younger can study further, or the sister who mediates between angry parents and children — they all keep the household stable, just like good suspension keeps a car balanced on a rough path.



    2. In Friendships: The Shoulders That Carry Our Pain

    A true friend is one of life’s most reliable shock absorbers.

    They listen to our frustrations when no one else will. They tolerate our bad moods, forgive our mistakes, and often carry our emotional burden without expecting anything in return. A real friend does not always fix our problems — they simply make them lighter to bear.

    We may not notice it, but a good friend often sacrifices their own comfort just to prevent us from falling apart. When we say “thank you” casually, we rarely realize that they have quietly absorbed our anger, anxiety, and confusion many times before.



    3. In Schools and Workplaces: The Unsung Stabilizers

    In a school, the teacher who remains calm even when students misbehave is a shock absorber. They face the noise, confusion, and challenges daily but respond with patience. They prevent chaos and shape discipline — not by shouting, but by absorbing the stress that comes from managing so many young minds.

    In workplaces, shock absorbers are the employees or leaders who take pressure without passing it down. For example, a project manager who gets yelled at by a client but still protects their team from that anger; a principal who faces community criticism but keeps the teachers motivated; or a senior colleague who helps juniors correct mistakes privately instead of humiliating them publicly.

    Every healthy organization has such people. They are the reason the workplace doesn’t collapse under tension. Without them, every conflict would explode.



    4. In Society: Those Who Carry Others’ Burdens

    Our society functions because of countless silent shock absorbers we often overlook:
    • The doctor who stays calm during emergencies.
    • The nurse who consoles patients’ families even after working long hours.
    • The teacher who continues to believe in her students despite poor results.
    • The social worker, policeman, or religious leader who faces people’s anger or grief daily but doesn’t let it destroy his empathy.

    Even small gestures — a bus driver who smiles when passengers are rude, or a shopkeeper who stays polite despite a tough day — are forms of emotional shock absorption. They don’t just make our lives easier; they make society livable.



    5. In Leadership and Nation-Building

    On a larger scale, leaders are meant to be the ultimate shock absorbers of a community or nation.

    When citizens panic, leaders must remain calm. When conflicts arise, they must absorb pressure from all sides without letting the country break apart. True leaders do not react with anger or blame — they stabilize emotions and focus on solutions.

    In an organization like Rehan School, for example, there are individuals who often play this stabilizing role. Even if they are imperfect, their presence absorbs emotional shocks — from crises, disagreements, or system failures — and helps the mission stay on track. They are like buffers between chaos and collapse.



    6. The Cost of Being a Shock Absorber

    However, being a shock absorber is not easy. Just like mechanical ones wear out over time, emotional shock absorbers can burn out too. They may grow tired of always being the calm one, or start feeling invisible because others take their stability for granted.

    That’s why these people deserve care and appreciation. Every now and then, we must check on them, thank them, and give them time to recharge. If we don’t, the system — the family, the organization, the friendship — will lose its stability.



    7. Becoming One Yourself

    You don’t have to be a parent or a leader to be a shock absorber. You can start right now:
    • Pause before reacting. Take a breath before answering in anger.
    • Listen more than you speak. People calm down when they feel heard.
    • Stay centered in chaos. Your peace becomes others’ peace.
    • Don’t carry everything alone. Even shock absorbers need rest and maintenance.

    The goal isn’t to suppress emotions — it’s to manage them wisely so you can protect others from unnecessary pain.



    Conclusion: The Hidden Heroes

    Shock absorbers are the hidden heroes of every journey. They don’t seek credit, applause, or recognition. But without them, our world would be far noisier, harsher, and more unstable.

    So the next time your life feels smoother than expected — when your home feels peaceful, your workplace runs calmly, or your friendships stay strong despite problems — look around and notice who’s been silently absorbing the shocks.

    And if you find none — then it’s time to become one yourself.
    Because real strength is not in making noise when the road is rough,
    but in staying steady so that others can keep moving forward.
    Shock Absorbers in Our Lives – The Hidden Pillars of Stability By Rehan Allahwala If you have ever sat in a car driving on a rough road, you know that it doesn’t shake violently every time it hits a bump. The reason is a small but powerful invention called the shock absorber. Its role is to absorb the shocks that come from the uneven road, keeping the car stable and the passengers comfortable. Without it, even a luxury car would become unbearable to ride in. In the same way, life too is full of bumps — disappointments, losses, conflicts, and daily stress. Yet, most of us are able to move forward because someone around us silently absorbs those shocks for us. These people — parents, mentors, friends, and even co-workers — act as the shock absorbers of life. They protect us from emotional collisions, stabilize our hearts, and make our journey smoother. ⸻ 1. In the Family: The First Shock Absorbers The first and most important shock absorbers in everyone’s life are their parents. When we are children and cry endlessly over small problems, our mother absorbs the chaos with love and patience. When the father faces financial struggles, he often hides his pain to keep the family’s confidence intact. Mothers and fathers together carry the emotional weight of the entire household. Grandparents, too, play a silent stabilizing role. Their wisdom and calm remind everyone that no storm lasts forever. They absorb the tension between parents and children, between tradition and modernity, and restore peace in the family. Even siblings often become shock absorbers. The elder brother who silently compromises so the younger can study further, or the sister who mediates between angry parents and children — they all keep the household stable, just like good suspension keeps a car balanced on a rough path. ⸻ 2. In Friendships: The Shoulders That Carry Our Pain A true friend is one of life’s most reliable shock absorbers. They listen to our frustrations when no one else will. They tolerate our bad moods, forgive our mistakes, and often carry our emotional burden without expecting anything in return. A real friend does not always fix our problems — they simply make them lighter to bear. We may not notice it, but a good friend often sacrifices their own comfort just to prevent us from falling apart. When we say “thank you” casually, we rarely realize that they have quietly absorbed our anger, anxiety, and confusion many times before. ⸻ 3. In Schools and Workplaces: The Unsung Stabilizers In a school, the teacher who remains calm even when students misbehave is a shock absorber. They face the noise, confusion, and challenges daily but respond with patience. They prevent chaos and shape discipline — not by shouting, but by absorbing the stress that comes from managing so many young minds. In workplaces, shock absorbers are the employees or leaders who take pressure without passing it down. For example, a project manager who gets yelled at by a client but still protects their team from that anger; a principal who faces community criticism but keeps the teachers motivated; or a senior colleague who helps juniors correct mistakes privately instead of humiliating them publicly. Every healthy organization has such people. They are the reason the workplace doesn’t collapse under tension. Without them, every conflict would explode. ⸻ 4. In Society: Those Who Carry Others’ Burdens Our society functions because of countless silent shock absorbers we often overlook: • The doctor who stays calm during emergencies. • The nurse who consoles patients’ families even after working long hours. • The teacher who continues to believe in her students despite poor results. • The social worker, policeman, or religious leader who faces people’s anger or grief daily but doesn’t let it destroy his empathy. Even small gestures — a bus driver who smiles when passengers are rude, or a shopkeeper who stays polite despite a tough day — are forms of emotional shock absorption. They don’t just make our lives easier; they make society livable. ⸻ 5. In Leadership and Nation-Building On a larger scale, leaders are meant to be the ultimate shock absorbers of a community or nation. When citizens panic, leaders must remain calm. When conflicts arise, they must absorb pressure from all sides without letting the country break apart. True leaders do not react with anger or blame — they stabilize emotions and focus on solutions. In an organization like Rehan School, for example, there are individuals who often play this stabilizing role. Even if they are imperfect, their presence absorbs emotional shocks — from crises, disagreements, or system failures — and helps the mission stay on track. They are like buffers between chaos and collapse. ⸻ 6. The Cost of Being a Shock Absorber However, being a shock absorber is not easy. Just like mechanical ones wear out over time, emotional shock absorbers can burn out too. They may grow tired of always being the calm one, or start feeling invisible because others take their stability for granted. That’s why these people deserve care and appreciation. Every now and then, we must check on them, thank them, and give them time to recharge. If we don’t, the system — the family, the organization, the friendship — will lose its stability. ⸻ 7. Becoming One Yourself You don’t have to be a parent or a leader to be a shock absorber. You can start right now: • Pause before reacting. Take a breath before answering in anger. • Listen more than you speak. People calm down when they feel heard. • Stay centered in chaos. Your peace becomes others’ peace. • Don’t carry everything alone. Even shock absorbers need rest and maintenance. The goal isn’t to suppress emotions — it’s to manage them wisely so you can protect others from unnecessary pain. ⸻ Conclusion: The Hidden Heroes Shock absorbers are the hidden heroes of every journey. They don’t seek credit, applause, or recognition. But without them, our world would be far noisier, harsher, and more unstable. So the next time your life feels smoother than expected — when your home feels peaceful, your workplace runs calmly, or your friendships stay strong despite problems — look around and notice who’s been silently absorbing the shocks. And if you find none — then it’s time to become one yourself. Because real strength is not in making noise when the road is rough, but in staying steady so that others can keep moving forward.
    0 Kommentare 0 Anteile 134 Ansichten
  • Qaisar Roonjha is a one man army teaching URDU AI to Urdu Speakers !

    Join his group and movement and learn for free
    Qaisar Roonjha is a one man army teaching URDU AI to Urdu Speakers ! Join his group and movement and learn for free 🆓
    0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • Congratulations to my friend Ammar Jaffri on completing one more round around the sun !

    Happy Birthday to you !
    Congratulations to my friend Ammar Jaffri on completing one more round around the sun ! Happy Birthday to you !
    0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • Great suggestion !
    Great suggestion !
    0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • اصل مستقل مزاجی – The Real Consistency

    انسانی کامیابی کی بنیاد صرف محنت نہیں بلکہ مستقل مزاجی ہے۔ اوپر دی گئی تصویر ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ اصل مستقل مزاجی یہ نہیں کہ ہم ہر دن ایک ہی سطح پر بہترین کارکردگی دکھائیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ہر دن کچھ نہ کچھ کریں، چاہے کم ہی سہی۔

    پہلی قطار میں سب گلاس برابر بھرے ہوئے ہیں۔ یہ دکھاتا ہے کہ انسان شروع میں پرجوش ہو کر ہر دن ایک ہی سطح پر کام کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر جلد ہی تھک جاتا ہے اور چھوڑ دیتا ہے۔ ایسی مستقل مزاجی وقتی جوش پر مبنی ہوتی ہے، دیرپا نہیں۔

    دوسری قطار میں ہر گلاس میں مختلف مقدار میں مشروب ہے۔ یہ اصل مستقل مزاجی ہے — یعنی کچھ دن زیادہ کام، کچھ دن کم، مگر ہر دن کچھ نہ کچھ ضرور کرنا۔ کامیاب لوگ یہی اصول اپناتے ہیں۔

    مثلاً:
    • اگر کوئی طالب علم روزانہ صرف 15 منٹ بھی پڑھتا ہے، تو وہ ایک سال میں تقریباً 91 گھنٹے پڑھائی مکمل کر لیتا ہے — جو ایک بڑی کامیابی ہے۔
    • اگر کوئی شخص روز صرف 10 منٹ ورزش کرے، تو ایک سال میں وہ 61 گھنٹے اپنے جسم کے لیے وقف کر دیتا ہے۔
    • اگر کوئی شخص روز 10 منٹ مطالعہ کرے، تو وہ بھی 61 گھنٹے سالانہ علم حاصل کرتا ہے۔
    • اور اگر کوئی روز صرف ایک TEDx ویڈیو دیکھے جو اوسطاً 18 منٹ کی ہو، تو وہ ایک سال میں 109 گھنٹے اپنی زندگی کے مقصد کے بارے میں سیکھنے میں لگا دیتا ہے۔

    اصل مستقل مزاجی کامل ہونے کا نام نہیں، تسلسل برقرار رکھنے کا نام ہے۔ کبھی زیادہ، کبھی کم — مگر کبھی رکے بغیر۔

    لہٰذا، مستقل مزاجی کا مطلب روزانہ ایک جیسا نتیجہ پیدا کرنا نہیں، بلکہ ہر دن کچھ نہ کچھ قدم اپنے مقصد کی طرف بڑھانا ہے۔ یہی فرق عام انسان اور کامیاب انسان میں ہوتا ہے۔

    جو شخص چھوٹی چھوٹی عادتوں کو روز دہراتا ہے، وہی بڑا انقلاب لاتا ہے۔
    یہی ہے — اصل مستقل مزاجی۔
    (By Rehan Allahwala —)
    اصل مستقل مزاجی – The Real Consistency انسانی کامیابی کی بنیاد صرف محنت نہیں بلکہ مستقل مزاجی ہے۔ اوپر دی گئی تصویر ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ اصل مستقل مزاجی یہ نہیں کہ ہم ہر دن ایک ہی سطح پر بہترین کارکردگی دکھائیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ہر دن کچھ نہ کچھ کریں، چاہے کم ہی سہی۔ پہلی قطار میں سب گلاس برابر بھرے ہوئے ہیں۔ یہ دکھاتا ہے کہ انسان شروع میں پرجوش ہو کر ہر دن ایک ہی سطح پر کام کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر جلد ہی تھک جاتا ہے اور چھوڑ دیتا ہے۔ ایسی مستقل مزاجی وقتی جوش پر مبنی ہوتی ہے، دیرپا نہیں۔ دوسری قطار میں ہر گلاس میں مختلف مقدار میں مشروب ہے۔ یہ اصل مستقل مزاجی ہے — یعنی کچھ دن زیادہ کام، کچھ دن کم، مگر ہر دن کچھ نہ کچھ ضرور کرنا۔ کامیاب لوگ یہی اصول اپناتے ہیں۔ مثلاً: • اگر کوئی طالب علم روزانہ صرف 15 منٹ بھی پڑھتا ہے، تو وہ ایک سال میں تقریباً 91 گھنٹے پڑھائی مکمل کر لیتا ہے — جو ایک بڑی کامیابی ہے۔ • اگر کوئی شخص روز صرف 10 منٹ ورزش کرے، تو ایک سال میں وہ 61 گھنٹے اپنے جسم کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ • اگر کوئی شخص روز 10 منٹ مطالعہ کرے، تو وہ بھی 61 گھنٹے سالانہ علم حاصل کرتا ہے۔ • اور اگر کوئی روز صرف ایک TEDx ویڈیو دیکھے جو اوسطاً 18 منٹ کی ہو، تو وہ ایک سال میں 109 گھنٹے اپنی زندگی کے مقصد کے بارے میں سیکھنے میں لگا دیتا ہے۔ اصل مستقل مزاجی کامل ہونے کا نام نہیں، تسلسل برقرار رکھنے کا نام ہے۔ کبھی زیادہ، کبھی کم — مگر کبھی رکے بغیر۔ لہٰذا، مستقل مزاجی کا مطلب روزانہ ایک جیسا نتیجہ پیدا کرنا نہیں، بلکہ ہر دن کچھ نہ کچھ قدم اپنے مقصد کی طرف بڑھانا ہے۔ یہی فرق عام انسان اور کامیاب انسان میں ہوتا ہے۔ جو شخص چھوٹی چھوٹی عادتوں کو روز دہراتا ہے، وہی بڑا انقلاب لاتا ہے۔ یہی ہے — اصل مستقل مزاجی۔ (By Rehan Allahwala —)
    0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • عنوان: مستقل مزاجی — اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل

    اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ ان صلاحیتوں میں سب سے اہم صفت مستقل مزاجی ہے، یعنی کسی اچھے عمل کو مسلسل کرتے رہنا، چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

    “أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ”
    (صحیح بخاری: 6464)

    ترجمہ: اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جو مسلسل کیا جائے، اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔

    یہ حدیث ایک نہایت گہرا سبق دیتی ہے۔ اکثر لوگ بڑے بڑے نیک کام کرنے کا ارادہ کرتے ہیں، مگر کچھ ہی دنوں بعد چھوڑ دیتے ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ عمل زیادہ قیمتی ہے جو انسان باقاعدگی سے، مستقل مزاجی کے ساتھ انجام دیتا ہے۔



    مستقل مزاجی کی حقیقت

    مستقل مزاجی کا مطلب ہے کہ انسان اپنے مقصد پر قائم رہے، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔ دنیا میں کامیابی ہمیشہ انہی کو ملی ہے جنہوں نے روز تھوڑا تھوڑا کر کے ترقی کی۔ کوئی بھی بڑا درخت ایک دن میں نہیں اُگتا، بلکہ دن رات پانی، روشنی اور وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ بڑھتا ہے۔ انسان کی ترقی بھی اسی طرح ہوتی ہے۔



    روزمرہ زندگی میں مثالیں
    1. تعلیم:
    جو طالبِ علم روزانہ صرف 10 منٹ پڑھتا ہے، وہ سال کے آخر میں 60 گھنٹے سے زیادہ مطالعہ مکمل کر لیتا ہے۔ یہی مستقل مزاجی اسے کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔
    2. جسمانی صحت:
    جو شخص روزانہ صرف 10 منٹ ورزش کرتا ہے، وہ سال میں 60 گھنٹے اپنے جسم کی بہتری کے لیے لگا دیتا ہے۔ چند منٹ روزانہ کے عزم سے انسان صحت مند، توانا اور پُر اعتماد بن جاتا ہے۔
    3. روحانی ترقی:
    جو شخص روزانہ صرف 10 منٹ قرآن، دعا یا ذکرِ الٰہی میں گزارتا ہے، وہ ایک سال میں اپنے رب سے تعلق میں غیر معمولی قرب حاصل کرتا ہے۔
    4. علم و شعور:
    جو شخص روزانہ صرف 10 منٹ مطالعہ کرتا ہے، یا ایک TEDx ویڈیو (18 منٹ کی) اپنی زندگی کے مقصد سے متعلق دیکھتا ہے، وہ ایک سال میں 300 سے زیادہ گہرے خیالات سیکھ لیتا ہے۔



    اسلام میں مستقل مزاجی کی اہمیت

    اسلام ایک توازن والا دین ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے انسان پر بوجھ نہیں ڈالا بلکہ اس کے ظرف اور وقت کے مطابق آسانی رکھی ہے۔ نبی ﷺ نے خود اپنی عبادات میں تسلسل رکھا، مگر کبھی بھی سختی یا تکلف نہیں کیا۔ قرآن میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

    فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ
    (یعنی جس طرح حکم دیا گیا ہے، اسی طرح ثابت قدم رہو۔)
    — سورۃ ھود: 112

    یہ آیت اس بات کا اعلان ہے کہ بندگی کا اصل حسن ثبات اور تسلسل میں ہے، نہ کہ وقتی جوش میں۔



    عملی سبق
    • اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی بدلے، تو روزانہ صرف 10 منٹ کسی اچھے عمل کو دیں — چاہے وہ علم سیکھنا ہو، ورزش ہو، دعا ہو یا کسی کی مدد کرنا۔
    • وقت کے ساتھ یہی 10 منٹ روزانہ کا عمل آپ کی عادت بن جائے گا۔
    • عادتیں ہی انسان کی قسمت بدلتی ہیں۔



    نتیجہ

    مستقل مزاجی زندگی کی کنجی ہے۔ بڑے بڑے خواب بھی اگر روزانہ کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں تقسیم کر دیے جائیں، تو ناممکن ممکن بن جاتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب انسان وہ ہے جو اپنے عمل میں ثابت قدم، پُر عزم اور مستقل مزاج ہو۔

    اس لیے ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ:
    عمل کا سائز نہیں، تسلسل کی طاقت اہم ہے۔
    چاہے وہ 10 منٹ کی ورزش ہو، 10 منٹ کی تلاوت ہو، یا 18 منٹ کا کوئی تعلیمی ویڈیو — اگر آپ روز کرتے ہیں، تو آپ وہی کر رہے ہیں جو اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے۔



    تحریر: ریحان اللہ والا —
    عنوان: مستقل مزاجی — اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ ان صلاحیتوں میں سب سے اہم صفت مستقل مزاجی ہے، یعنی کسی اچھے عمل کو مسلسل کرتے رہنا، چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: “أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ” (صحیح بخاری: 6464) ترجمہ: اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جو مسلسل کیا جائے، اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ یہ حدیث ایک نہایت گہرا سبق دیتی ہے۔ اکثر لوگ بڑے بڑے نیک کام کرنے کا ارادہ کرتے ہیں، مگر کچھ ہی دنوں بعد چھوڑ دیتے ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ عمل زیادہ قیمتی ہے جو انسان باقاعدگی سے، مستقل مزاجی کے ساتھ انجام دیتا ہے۔ ⸻ مستقل مزاجی کی حقیقت مستقل مزاجی کا مطلب ہے کہ انسان اپنے مقصد پر قائم رہے، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔ دنیا میں کامیابی ہمیشہ انہی کو ملی ہے جنہوں نے روز تھوڑا تھوڑا کر کے ترقی کی۔ کوئی بھی بڑا درخت ایک دن میں نہیں اُگتا، بلکہ دن رات پانی، روشنی اور وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ بڑھتا ہے۔ انسان کی ترقی بھی اسی طرح ہوتی ہے۔ ⸻ روزمرہ زندگی میں مثالیں 1. تعلیم: جو طالبِ علم روزانہ صرف 10 منٹ پڑھتا ہے، وہ سال کے آخر میں 60 گھنٹے سے زیادہ مطالعہ مکمل کر لیتا ہے۔ یہی مستقل مزاجی اسے کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔ 2. جسمانی صحت: جو شخص روزانہ صرف 10 منٹ ورزش کرتا ہے، وہ سال میں 60 گھنٹے اپنے جسم کی بہتری کے لیے لگا دیتا ہے۔ چند منٹ روزانہ کے عزم سے انسان صحت مند، توانا اور پُر اعتماد بن جاتا ہے۔ 3. روحانی ترقی: جو شخص روزانہ صرف 10 منٹ قرآن، دعا یا ذکرِ الٰہی میں گزارتا ہے، وہ ایک سال میں اپنے رب سے تعلق میں غیر معمولی قرب حاصل کرتا ہے۔ 4. علم و شعور: جو شخص روزانہ صرف 10 منٹ مطالعہ کرتا ہے، یا ایک TEDx ویڈیو (18 منٹ کی) اپنی زندگی کے مقصد سے متعلق دیکھتا ہے، وہ ایک سال میں 300 سے زیادہ گہرے خیالات سیکھ لیتا ہے۔ ⸻ اسلام میں مستقل مزاجی کی اہمیت اسلام ایک توازن والا دین ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے انسان پر بوجھ نہیں ڈالا بلکہ اس کے ظرف اور وقت کے مطابق آسانی رکھی ہے۔ نبی ﷺ نے خود اپنی عبادات میں تسلسل رکھا، مگر کبھی بھی سختی یا تکلف نہیں کیا۔ قرآن میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ (یعنی جس طرح حکم دیا گیا ہے، اسی طرح ثابت قدم رہو۔) — سورۃ ھود: 112 یہ آیت اس بات کا اعلان ہے کہ بندگی کا اصل حسن ثبات اور تسلسل میں ہے، نہ کہ وقتی جوش میں۔ ⸻ عملی سبق • اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی بدلے، تو روزانہ صرف 10 منٹ کسی اچھے عمل کو دیں — چاہے وہ علم سیکھنا ہو، ورزش ہو، دعا ہو یا کسی کی مدد کرنا۔ • وقت کے ساتھ یہی 10 منٹ روزانہ کا عمل آپ کی عادت بن جائے گا۔ • عادتیں ہی انسان کی قسمت بدلتی ہیں۔ ⸻ نتیجہ مستقل مزاجی زندگی کی کنجی ہے۔ بڑے بڑے خواب بھی اگر روزانہ کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں تقسیم کر دیے جائیں، تو ناممکن ممکن بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب انسان وہ ہے جو اپنے عمل میں ثابت قدم، پُر عزم اور مستقل مزاج ہو۔ اس لیے ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ: عمل کا سائز نہیں، تسلسل کی طاقت اہم ہے۔ چاہے وہ 10 منٹ کی ورزش ہو، 10 منٹ کی تلاوت ہو، یا 18 منٹ کا کوئی تعلیمی ویڈیو — اگر آپ روز کرتے ہیں، تو آپ وہی کر رہے ہیں جو اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے۔ ⸻ تحریر: ریحان اللہ والا —
    0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • زندگی کے 6 سال کیوبا میں گزارے ….. کہا جاتا ہے کہ فی زمانہ صرف کیوبا ہی ایک ایسا ملک ہے جہاں سوشلزم اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ رائج ہے … صاحب جب میں کیوبا گیا تھا، نہ تو مجھے تب پتہ تھا کہ سوشلزم کس بلا کا نام ہے اور نہ ہی مجھے اب پتہ ہے کہ یہ کیا چیز ہے …. میں فقط اتنا جانتا ہوں کہ کیوبا محبت کرنے والوں کا ملک ہے ….

    جن سہولیات کے حصول کے لیے ہم ساری زندگی کولھو کے بیل کی طرح پیسہ کمانے میں جٹے رہتے ہیں، وہ سہولیات ادھر عام عوام کو مفت میسر ہیں، یعنی صحت اور تعلیم … ہاں تنخواہیں کم ہیں مگر ہر شخص کو اپنی تنخواہ اپنی ذات پر خرچ کرنے کو میسر ہے …

    بیٹے کی فیس کس طرح ادا ہوگی؟ …. ماں جی کے آپریشن کے پیسے کہاں سے لاؤں؟ … ایسی تمام پریشانیوں کی دیوی کی پوجا کیوبا والوں نے کب کی چھوڑ دی ….

    کیوبا میں عام طور پر ہانڈی بجلی کے چولہے پر بنائی جاتی ہے … مگر حکومت ہر اس گھر میں جہاں شوگر کا مریض رہتا ہو، ایک گیس کا سلنڈر بھی مہیا کرتی ہے تاکہ اگر کسی روز اتفاقاً بجلی نہ ہو تو شوگر کا مریض بھوکا نہ رہے کیونکہ بہت زیادہ دیر تک بھوکا رہنا اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے … اور ہاں گیس ختم ہو جانے پر دوبارہ بھروانا بھی حکومت نے اپنے سر لے رکھا ہے …

    2005 میں 3000 کیوبن ڈاکٹرز نے پاکستان کے سخت ترین موسم اور خطرناک ترین علاقوں میں زلزلہ زدگان کو علاج کی سہولت مہیا کی … یہ بات تو شاید آپ کو پتہ ہی ہو … مگر شاید آپ یہ نہ جانتے ہوں کہ کیوبا نے 1000 پاکستانی طلبہ کو اپنے ملک میں رکھ کر 1 روپیہ لیے بغیر ڈاکٹر بھی بنایا …

    اگر آپ یہ بات نہیں جانتے تو جانتے ہیں کیوں؟؟ کیوں کہ کیوبا نے یہ سب انسانیت کے ناطے کیا … نہ کہ تشہیر کے لیے … اور ہزاروں باتیں، ہزاروں یادیں ہیں جو لکھ سکتا ہوں … مجھے نہیں پتہ کہ یہ سب سوشلزم کا نتیجہ ہیں یا کسی اور کا …..

    میں بس اس بات پر خون روتا ہوں کہ ہر طرف سے پانی میں گھِرے چھوٹے سے جزیرے پر رہتے لوگوں کو کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی وہ سب کچھ میسر ہے جو میرے وطن کے باسیوں کو سب کچھ ہوتے ہوئے بھی نہیں میسر…

    وسعت اللہ خاں
    زندگی کے 6 سال کیوبا میں گزارے ….. کہا جاتا ہے کہ فی زمانہ صرف کیوبا ہی ایک ایسا ملک ہے جہاں سوشلزم اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ رائج ہے … صاحب جب میں کیوبا گیا تھا، نہ تو مجھے تب پتہ تھا کہ سوشلزم کس بلا کا نام ہے اور نہ ہی مجھے اب پتہ ہے کہ یہ کیا چیز ہے …. میں فقط اتنا جانتا ہوں کہ کیوبا محبت کرنے والوں کا ملک ہے …. جن سہولیات کے حصول کے لیے ہم ساری زندگی کولھو کے بیل کی طرح پیسہ کمانے میں جٹے رہتے ہیں، وہ سہولیات ادھر عام عوام کو مفت میسر ہیں، یعنی صحت اور تعلیم … ہاں تنخواہیں کم ہیں مگر ہر شخص کو اپنی تنخواہ اپنی ذات پر خرچ کرنے کو میسر ہے … بیٹے کی فیس کس طرح ادا ہوگی؟ …. ماں جی کے آپریشن کے پیسے کہاں سے لاؤں؟ … ایسی تمام پریشانیوں کی دیوی کی پوجا کیوبا والوں نے کب کی چھوڑ دی …. کیوبا میں عام طور پر ہانڈی بجلی کے چولہے پر بنائی جاتی ہے … مگر حکومت ہر اس گھر میں جہاں شوگر کا مریض رہتا ہو، ایک گیس کا سلنڈر بھی مہیا کرتی ہے تاکہ اگر کسی روز اتفاقاً بجلی نہ ہو تو شوگر کا مریض بھوکا نہ رہے کیونکہ بہت زیادہ دیر تک بھوکا رہنا اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے … اور ہاں گیس ختم ہو جانے پر دوبارہ بھروانا بھی حکومت نے اپنے سر لے رکھا ہے … 2005 میں 3000 کیوبن ڈاکٹرز نے پاکستان کے سخت ترین موسم اور خطرناک ترین علاقوں میں زلزلہ زدگان کو علاج کی سہولت مہیا کی … یہ بات تو شاید آپ کو پتہ ہی ہو … مگر شاید آپ یہ نہ جانتے ہوں کہ کیوبا نے 1000 پاکستانی طلبہ کو اپنے ملک میں رکھ کر 1 روپیہ لیے بغیر ڈاکٹر بھی بنایا … اگر آپ یہ بات نہیں جانتے تو جانتے ہیں کیوں؟؟ کیوں کہ کیوبا نے یہ سب انسانیت کے ناطے کیا … نہ کہ تشہیر کے لیے … اور ہزاروں باتیں، ہزاروں یادیں ہیں جو لکھ سکتا ہوں … مجھے نہیں پتہ کہ یہ سب سوشلزم کا نتیجہ ہیں یا کسی اور کا ….. میں بس اس بات پر خون روتا ہوں کہ ہر طرف سے پانی میں گھِرے چھوٹے سے جزیرے پر رہتے لوگوں کو کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی وہ سب کچھ میسر ہے جو میرے وطن کے باسیوں کو سب کچھ ہوتے ہوئے بھی نہیں میسر… وسعت اللہ خاں
    0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten
  • 0 Kommentare 0 Anteile 4 Ansichten