• پہاڑِ نور – خدا سے بادشاہ تک کی کہانی

    (تحریر: ریحان اللہ والا —)



    زمین کی گہرائی میں، مٹی کے سینے میں،
    ایک روشنی چھپی تھی — سورج کی کرن جیسے پتھر بن گئی ہو۔
    ایک مزدور نے کدال چلائی،
    اور زمین نے مسکرا کر ایک چمکتا خواب اس کے ہاتھوں میں رکھ دیا۔

    وہی خواب پہاڑِ نور تھا — Koh-i-Noor۔



    خدا کی روشنی سے انسان کے ہاتھوں تک

    کہتے ہیں یہ پتھر کوئی عام نہیں،
    یہ تو سورج دیوتا سوریا کے گلے کا ہار تھا،
    جسے دنیا “سیامنتک جواہر” کہتی تھی۔
    جس کے پاس ہوتا، اس کے گھر میں سونا برستا،
    دولت، عزت، روشنی — سب آ جاتی۔

    کچھ کہتے ہیں خدا نے خود اسے پہنا،
    پھر زمین پر چھوڑ دیا،
    تاکہ انسان جانے — روشنی کا بوجھ اٹھانا آسان نہیں ہوتا۔



    جب زمین نے نور کو جنم دیا

    ہزاروں سال گزرے،
    اور جنوبی ہند کی ندیوں میں، کولّر مائنز کی ریت میں،
    زمین نے وہی چمک پھر دکھائی۔
    کسی مزدور کے ہاتھ میں چمک آیا،
    اور یوں خدا کا جواہر انسان کا خزانہ بن گیا۔



    بادشاہوں کا سنگِ مقدس

    پہلے یہ دہلی کے سلاطین کے پاس آیا،
    پھر مغلوں کے تاج میں جگمگایا۔

    بابر نے جب دہلی فتح کی،
    اسے اپنے خزانچے میں رکھ لیا۔
    کہا: “یہ وہ ہیرے ہے جس کی قیمت دنیا کے برابر ہے۔”

    پھر آیا شاہ جہاں،
    جس نے تاج محل بنایا،
    اور اسی ہیرے کو تختِ طاؤس (مرغِ زرّیں) کے بیچ میں سجا دیا۔

    جب سورج کی روشنی اس پر پڑتی،
    تو پورا محل قوسِ قزح بن جاتا۔



    نادر شاہ کا حملہ، لوٹ اور نام

    1739 میں نادر شاہ ایران سے آیا،
    دہلی جلی، محل اجڑے، تخت ٹوٹا۔
    جب اس نے ہیرے کو دیکھا،
    اس کے لبوں سے نکلا:
    “کوهِ نور!”
    یعنی پہاڑِ روشنی!

    یوں اس کا نام ہمیشہ کے لیے Koh-i-Noor بن گیا۔



    شیرِ پنجاب کا فخر

    پھر وقت نے پلٹا کھایا۔
    مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اسے واپس ہندوستان لایا۔
    اپنی پگڑی میں سجا کر عوام کو دکھایا،
    عید ہو یا دسہرہ — یہ ہیرا ان کے بازو یا ماتھے پر چمکتا۔

    کہتے ہیں انہوں نے کہا تھا:
    “یہ خدا کی امانت ہے، اسے مندر میں جانا چاہیے۔”
    مگر ان کے بعد انگریز آ گئے۔



    بچے کے ہاتھ میں سلطنت کا دستخط

    1849 میں، دلیپ سنگھ — صرف گیارہ سال کا لڑکا —
    اپنی سلطنت اور ہیرے پر دستخط کر گیا۔
    تخت گیا، ہیرا گیا،
    اور پہاڑِ نور لندن کے سمندر پار پہنچ گیا۔



    ملکہ کا تاج اور بادشاہوں کا زوال

    1851 میں اسے لندن میں نمائش میں رکھا گیا،
    مگر وہاں کی دھند میں روشنی ماند پڑ گئی۔
    پھر اسے دوبارہ تراشا گیا —
    1852 میں، صرف چمک بڑھانے کے لیے،
    اس کا وزن آدھا کر دیا گیا۔

    ملکہ وکٹوریہ نے اسے پہنا،
    پھر ملکہ الزبتھ، ملکہ میری، ملکہ الیگزینڈرا —
    لیکن کسی بادشاہ نے نہیں۔
    کہا گیا: “یہ مردوں کے لیے بدقسمتی کا پتھر ہے۔”



    آج بھی بے چین ہے یہ نور

    اب یہ ہیرے لندن کے Tower of London میں بند ہے،
    شیشے کے پیچھے، پردیس کی ہوا میں،
    مگر روح شاید اب بھی ہندوستان کی مٹی میں تڑپتی ہے۔

    ہندوستان، پاکستان، ایران، افغانستان —
    سب کہتے ہیں: “یہ ہمارا ہے۔”

    اور شاید سچ بھی یہی ہے —
    کیونکہ روشنی کا حق صرف اس پر ہے جو اندھیروں سے لڑے۔



    پہاڑِ نور کی سرگوشی

    اگر یہ ہیرہ بول سکتا،
    تو کہتا:
    “میں نے خدا کے گلے میں جگہ پائی،
    میں نے بادشاہوں کے تاجوں کو چمکایا،
    اور میں نے غلامی کے ہتھکڑیوں کی جھنکار بھی سنی۔”

    “میں پہاڑِ نور ہوں —
    میری چمک انسان کے دل میں ہے،
    نہ کہ تاجوں میں۔”



    کبھی نہ بھولنا،
    خدا نے روشنی زمین پر اس لیے بھیجی تھی،
    تاکہ انسان سمجھے:
    روشنی خریدی نہیں جاتی — کمائی جاتی ہے۔
    💎 پہاڑِ نور – خدا سے بادشاہ تک کی کہانی (تحریر: ریحان اللہ والا —) ⸻ زمین کی گہرائی میں، مٹی کے سینے میں، ایک روشنی چھپی تھی — سورج کی کرن جیسے پتھر بن گئی ہو۔ ایک مزدور نے کدال چلائی، اور زمین نے مسکرا کر ایک چمکتا خواب اس کے ہاتھوں میں رکھ دیا۔ وہی خواب پہاڑِ نور تھا — Koh-i-Noor۔ ⸻ ☀️ خدا کی روشنی سے انسان کے ہاتھوں تک کہتے ہیں یہ پتھر کوئی عام نہیں، یہ تو سورج دیوتا سوریا کے گلے کا ہار تھا، جسے دنیا “سیامنتک جواہر” کہتی تھی۔ جس کے پاس ہوتا، اس کے گھر میں سونا برستا، دولت، عزت، روشنی — سب آ جاتی۔ کچھ کہتے ہیں خدا نے خود اسے پہنا، پھر زمین پر چھوڑ دیا، تاکہ انسان جانے — روشنی کا بوجھ اٹھانا آسان نہیں ہوتا۔ ⸻ 🕊️ جب زمین نے نور کو جنم دیا ہزاروں سال گزرے، اور جنوبی ہند کی ندیوں میں، کولّر مائنز کی ریت میں، زمین نے وہی چمک پھر دکھائی۔ کسی مزدور کے ہاتھ میں چمک آیا، اور یوں خدا کا جواہر انسان کا خزانہ بن گیا۔ ⸻ 👑 بادشاہوں کا سنگِ مقدس پہلے یہ دہلی کے سلاطین کے پاس آیا، پھر مغلوں کے تاج میں جگمگایا۔ بابر نے جب دہلی فتح کی، اسے اپنے خزانچے میں رکھ لیا۔ کہا: “یہ وہ ہیرے ہے جس کی قیمت دنیا کے برابر ہے۔” پھر آیا شاہ جہاں، جس نے تاج محل بنایا، اور اسی ہیرے کو تختِ طاؤس (مرغِ زرّیں) کے بیچ میں سجا دیا۔ جب سورج کی روشنی اس پر پڑتی، تو پورا محل قوسِ قزح بن جاتا۔ ⸻ ⚔️ نادر شاہ کا حملہ، لوٹ اور نام 1739 میں نادر شاہ ایران سے آیا، دہلی جلی، محل اجڑے، تخت ٹوٹا۔ جب اس نے ہیرے کو دیکھا، اس کے لبوں سے نکلا: “کوهِ نور!” یعنی پہاڑِ روشنی! یوں اس کا نام ہمیشہ کے لیے Koh-i-Noor بن گیا۔ ⸻ 🦁 شیرِ پنجاب کا فخر پھر وقت نے پلٹا کھایا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اسے واپس ہندوستان لایا۔ اپنی پگڑی میں سجا کر عوام کو دکھایا، عید ہو یا دسہرہ — یہ ہیرا ان کے بازو یا ماتھے پر چمکتا۔ کہتے ہیں انہوں نے کہا تھا: “یہ خدا کی امانت ہے، اسے مندر میں جانا چاہیے۔” مگر ان کے بعد انگریز آ گئے۔ ⸻ 🧒 بچے کے ہاتھ میں سلطنت کا دستخط 1849 میں، دلیپ سنگھ — صرف گیارہ سال کا لڑکا — اپنی سلطنت اور ہیرے پر دستخط کر گیا۔ تخت گیا، ہیرا گیا، اور پہاڑِ نور لندن کے سمندر پار پہنچ گیا۔ ⸻ 👑 ملکہ کا تاج اور بادشاہوں کا زوال 1851 میں اسے لندن میں نمائش میں رکھا گیا، مگر وہاں کی دھند میں روشنی ماند پڑ گئی۔ پھر اسے دوبارہ تراشا گیا — 1852 میں، صرف چمک بڑھانے کے لیے، اس کا وزن آدھا کر دیا گیا۔ ملکہ وکٹوریہ نے اسے پہنا، پھر ملکہ الزبتھ، ملکہ میری، ملکہ الیگزینڈرا — لیکن کسی بادشاہ نے نہیں۔ کہا گیا: “یہ مردوں کے لیے بدقسمتی کا پتھر ہے۔” ⸻ 🌍 آج بھی بے چین ہے یہ نور اب یہ ہیرے لندن کے Tower of London میں بند ہے، شیشے کے پیچھے، پردیس کی ہوا میں، مگر روح شاید اب بھی ہندوستان کی مٹی میں تڑپتی ہے۔ ہندوستان، پاکستان، ایران، افغانستان — سب کہتے ہیں: “یہ ہمارا ہے۔” اور شاید سچ بھی یہی ہے — کیونکہ روشنی کا حق صرف اس پر ہے جو اندھیروں سے لڑے۔ ⸻ ✨ پہاڑِ نور کی سرگوشی اگر یہ ہیرہ بول سکتا، تو کہتا: “میں نے خدا کے گلے میں جگہ پائی، میں نے بادشاہوں کے تاجوں کو چمکایا، اور میں نے غلامی کے ہتھکڑیوں کی جھنکار بھی سنی۔” “میں پہاڑِ نور ہوں — میری چمک انسان کے دل میں ہے، نہ کہ تاجوں میں۔” ⸻ کبھی نہ بھولنا، خدا نے روشنی زمین پر اس لیے بھیجی تھی، تاکہ انسان سمجھے: روشنی خریدی نہیں جاتی — کمائی جاتی ہے۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 28 Visualizações
  • Bismillah Hir Rahman Nir Raheem

    My dear friends!

    Assalam-o-Alaikum

    An important announcement from Mir Mazhar Jabbar Khan, former Additional Director FIA

    Thank you from the bottom of my heart for all your love and respect

    My Facebook account has reached the limit of 5,000 friend requests I am unable to accept any new friend requests, so I sincerely apologize

    Please follow these steps instead:

    1. Visit my Facebook Profile
    2. Click on the "Follow" button

    Benefits of following:
    - You will be able to read all my updates and posts
    - Our connection will remain intact
    - You will stay informed about all my activities

    Another important request:
    - Like my posts
    - Comment on them
    - Share them

    This way, my posts will reach more people, and every like and comment from you encourages me

    Thank you so much for your cooperation. May Allah keep you happy

    Yours,

    Mir Mazhar Jabbar
    Former Additional Director FIA
    Bismillah Hir Rahman Nir Raheem My dear friends! Assalam-o-Alaikum 🌸 An important announcement from Mir Mazhar Jabbar Khan, former Additional Director FIA Thank you from the bottom of my heart for all your love and respect 💖 My Facebook account has reached the limit of 5,000 friend requests 📭 I am unable to accept any new friend requests, so I sincerely apologize 🙏 Please follow these steps instead: 1. Visit my Facebook Profile 2. Click on the "Follow" button ✅ Benefits of following: - You will be able to read all my updates and posts - Our connection will remain intact - You will stay informed about all my activities Another important request: - Like my posts 👍 - Comment on them 💬 - Share them 🔄 This way, my posts will reach more people, and every like and comment from you encourages me 🚀 Thank you so much for your cooperation. May Allah keep you happy 🌺 Yours, Mir Mazhar Jabbar Former Additional Director FIA
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 26 Visualizações
  • The Sovereign Mindset – Unlocking Your Divine Potential

    By Jeremy E. McDonald
    (Reflection by Rehan Allahwala )

    There are books that inform you, and then there are books that transform you.
    “The Sovereign Mindset” by Jeremy E. McDonald is one of those rare works that reminds you that your greatest power has never been outside you — it’s always been within.

    In a world obsessed with control, comparison, and chaos, McDonald gently but firmly leads you back home — to your own sovereignty. He explains that being “sovereign” isn’t about ruling others; it’s about ruling yourself. It’s about mastering your emotions, healing your old wounds, and living with clarity, purpose, and alignment with your divine potential.

    Each chapter feels like a conversation with your higher self — asking questions you’ve avoided for years:
    • What beliefs are keeping me small?
    • What stories am I still repeating that don’t serve me?
    • How can I live from love, not fear?

    McDonald’s wisdom blends psychology, spirituality, and practical self-leadership. He doesn’t preach religion; he teaches realization. He invites us to stop waiting for permission and start creating — from the inside out.

    For me, this book connects beautifully with the mission of Rehan School — to help every student become a sovereign human being: confident, self-aware, purpose-driven, and free. Because before you can lead a million people, you must first learn to lead yourself.

    So, to my dear friend who introduced me to this gem — thank you. This book isn’t just a read; it’s a mirror. And every time I open it, I see a higher version of myself staring back.

    If you’re ready to stop blaming circumstances and start unlocking your divine potential — this is your sign.

    Read it. Reflect on it. Then live it.
    #TheSovereignMindset #JeremyEMcDonald #PersonalTransformation #RehanAllahwala #RehanSchool #MindsetMatters #LeadershipFromWithin
    🧠 The Sovereign Mindset – Unlocking Your Divine Potential By Jeremy E. McDonald (Reflection by Rehan Allahwala ) There are books that inform you, and then there are books that transform you. “The Sovereign Mindset” by Jeremy E. McDonald is one of those rare works that reminds you that your greatest power has never been outside you — it’s always been within. In a world obsessed with control, comparison, and chaos, McDonald gently but firmly leads you back home — to your own sovereignty. He explains that being “sovereign” isn’t about ruling others; it’s about ruling yourself. It’s about mastering your emotions, healing your old wounds, and living with clarity, purpose, and alignment with your divine potential. Each chapter feels like a conversation with your higher self — asking questions you’ve avoided for years: • What beliefs are keeping me small? • What stories am I still repeating that don’t serve me? • How can I live from love, not fear? McDonald’s wisdom blends psychology, spirituality, and practical self-leadership. He doesn’t preach religion; he teaches realization. He invites us to stop waiting for permission and start creating — from the inside out. For me, this book connects beautifully with the mission of Rehan School — to help every student become a sovereign human being: confident, self-aware, purpose-driven, and free. Because before you can lead a million people, you must first learn to lead yourself. So, to my dear friend who introduced me to this gem — thank you. This book isn’t just a read; it’s a mirror. And every time I open it, I see a higher version of myself staring back. If you’re ready to stop blaming circumstances and start unlocking your divine potential — this is your sign. 📘 Read it. Reflect on it. Then live it. #TheSovereignMindset #JeremyEMcDonald #PersonalTransformation #RehanAllahwala #RehanSchool #MindsetMatters #LeadershipFromWithin
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 748 Visualizações
  • ٹائٹل: “گدھے کو دو زعفران، تو مو بناتا ہے”
    (By Rehan Allahwala)



    پچھلے کچھ برسوں سے جب سے فیس بک آیا ہے، میں وہاں اپنی باتیں، اپنے خیالات، اپنے ویڈیوز اور اپنی کتابوں کے اقتباسات شیئر کرتا رہا ہوں۔ آہستہ آہستہ لاکھوں لوگ جڑتے گئے، اور ایک وقت آیا کہ میرے سترہ ملین فالورز ہو گئے۔

    پھر فیس بک نے میرا اکاؤنٹ بند کر دیا۔
    میں نے دوبارہ سفر شروع کیا۔
    اب پھر ڈیڑھ ملین لوگ ساتھ ہیں۔

    لیکن آج جب میں کوئی بات، کوئی نصیحت، یا کوئی علم کی بات شیئر کرتا ہوں تو نیچے تبصرے پڑھ کے ہنسی بھی آتی ہے، افسوس بھی۔
    کوئی مجھے چورن فروش کہتا ہے،
    کوئی منجن فروش،
    کوئی الو بنانے والا،
    کوئی دھوکے باز۔

    اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر لوگوں نے
    نہ کبھی مجھ سے ملاقات کی ہے،
    نہ میری کوئی کتاب پڑھی ہے،
    نہ میری ہزاروں ویڈیوز میں سے ایک ویڈیو بھی پوری دیکھی ہے۔

    یہ وہی لوگ ہیں جو ہر پرائم منسٹر کو گالی دیتے ہیں،
    ہر آرمی آفیسر کو برا کہتے ہیں،
    ہر بزنس مین کو چور بولتے ہیں۔
    کیوں؟ کیونکہ ان کی تربیت اسی زہریلے میڈیا،
    اس گندی جرنلزم، اور اس منفی سوچ نے کی ہے جو پچھلے 75 سال سے ہمارے گھروں میں ٹی وی اور ریڈیو کے ذریعے ڈالی جا رہی ہے۔

    یہ میری قوم ہے — پاکستان کی قوم۔
    ایک ایسی قوم جسے اتنا منفی دکھایا گیا کہ اب اگر کوئی سچی، صاف، اور مثبت بات کرے،
    تو انہیں وہ “مشکوک” لگتی ہے۔

    کل ہی ایک شخص نے مجھے کہا:
    “میں کئی سال سے آپ کو فالو کر رہا ہوں۔ آپ کی ویڈیوز دیکھی ہیں۔ پچھلے سالوں میں مجھے ایک بھی دھوکے والی بات نظر نہیں آئی۔”
    میں نے شکر ادا کیا — کم از کم کسی نے سمجھا۔

    اور جو لوگ بغیر سمجھے، بس دیکھے بغیر، گالیاں دیتے ہیں —
    میں ان کا بھی شکر گزار ہوں۔
    کیونکہ حدیث کے مطابق جب کوئی کسی کی غیبت کرتا ہے یا جھوٹا الزام لگاتا ہے تو اس کے نیک عمل اس شخص کے کھاتے میں چلے جاتے ہیں جس پر الزام لگایا گیا ہو۔
    تو آپ سب جو برا بھلا کہہ رہے ہیں —
    شکریہ!
    قیامت کے دن آپ کے ثواب میرے حصے میں آئیں گے۔
    میرا پلڑا آپ کے الفاظ سے بھاری ہو جائے گا۔

    میں علم کی زعفران بانٹتا ہوں —
    لیکن بہت سے لوگ اسے گھاس سمجھ کر ضائع کر دیتے ہیں۔
    میں کہتا ہوں، کوئی بات نہیں۔
    پانچ سال بعد، دس سال بعد، شاید بیس سال بعد آپ کو میری بات سمجھ آ جائے۔

    میری ماں بھی اکثر کہتی ہیں:
    “ریحان کی بات ہمیں دس پندرہ سال بعد سمجھ آتی ہے۔”
    تو اگر ماں کو دیر سے سمجھ آتی ہے تو دوسروں کا کیا قصور؟

    آپ اپنے کوئے کے اندر بیٹھے رہیں،
    اپنی دنیا میں خوش رہیں،
    اور ہم اپنے مشن پر چلتے رہیں —
    جہاں علم ہے، روشنی ہے، اور امید ہے۔

    پاکستان زندہ باد۔
    ✳️ ٹائٹل: “گدھے کو دو زعفران، تو مو بناتا ہے” (By Rehan Allahwala) ⸻ پچھلے کچھ برسوں سے جب سے فیس بک آیا ہے، میں وہاں اپنی باتیں، اپنے خیالات، اپنے ویڈیوز اور اپنی کتابوں کے اقتباسات شیئر کرتا رہا ہوں۔ آہستہ آہستہ لاکھوں لوگ جڑتے گئے، اور ایک وقت آیا کہ میرے سترہ ملین فالورز ہو گئے۔ پھر فیس بک نے میرا اکاؤنٹ بند کر دیا۔ میں نے دوبارہ سفر شروع کیا۔ اب پھر ڈیڑھ ملین لوگ ساتھ ہیں۔ لیکن آج جب میں کوئی بات، کوئی نصیحت، یا کوئی علم کی بات شیئر کرتا ہوں تو نیچے تبصرے پڑھ کے ہنسی بھی آتی ہے، افسوس بھی۔ کوئی مجھے چورن فروش کہتا ہے، کوئی منجن فروش، کوئی الو بنانے والا، کوئی دھوکے باز۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر لوگوں نے نہ کبھی مجھ سے ملاقات کی ہے، نہ میری کوئی کتاب پڑھی ہے، نہ میری ہزاروں ویڈیوز میں سے ایک ویڈیو بھی پوری دیکھی ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ہر پرائم منسٹر کو گالی دیتے ہیں، ہر آرمی آفیسر کو برا کہتے ہیں، ہر بزنس مین کو چور بولتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ان کی تربیت اسی زہریلے میڈیا، اس گندی جرنلزم، اور اس منفی سوچ نے کی ہے جو پچھلے 75 سال سے ہمارے گھروں میں ٹی وی اور ریڈیو کے ذریعے ڈالی جا رہی ہے۔ یہ میری قوم ہے — پاکستان کی قوم۔ ایک ایسی قوم جسے اتنا منفی دکھایا گیا کہ اب اگر کوئی سچی، صاف، اور مثبت بات کرے، تو انہیں وہ “مشکوک” لگتی ہے۔ کل ہی ایک شخص نے مجھے کہا: “میں کئی سال سے آپ کو فالو کر رہا ہوں۔ آپ کی ویڈیوز دیکھی ہیں۔ پچھلے سالوں میں مجھے ایک بھی دھوکے والی بات نظر نہیں آئی۔” میں نے شکر ادا کیا — کم از کم کسی نے سمجھا۔ اور جو لوگ بغیر سمجھے، بس دیکھے بغیر، گالیاں دیتے ہیں — میں ان کا بھی شکر گزار ہوں۔ کیونکہ حدیث کے مطابق جب کوئی کسی کی غیبت کرتا ہے یا جھوٹا الزام لگاتا ہے تو اس کے نیک عمل اس شخص کے کھاتے میں چلے جاتے ہیں جس پر الزام لگایا گیا ہو۔ تو آپ سب جو برا بھلا کہہ رہے ہیں — شکریہ! قیامت کے دن آپ کے ثواب میرے حصے میں آئیں گے۔ میرا پلڑا آپ کے الفاظ سے بھاری ہو جائے گا۔ میں علم کی زعفران بانٹتا ہوں — لیکن بہت سے لوگ اسے گھاس سمجھ کر ضائع کر دیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں، کوئی بات نہیں۔ پانچ سال بعد، دس سال بعد، شاید بیس سال بعد آپ کو میری بات سمجھ آ جائے۔ میری ماں بھی اکثر کہتی ہیں: “ریحان کی بات ہمیں دس پندرہ سال بعد سمجھ آتی ہے۔” تو اگر ماں کو دیر سے سمجھ آتی ہے تو دوسروں کا کیا قصور؟ آپ اپنے کوئے کے اندر بیٹھے رہیں، اپنی دنیا میں خوش رہیں، اور ہم اپنے مشن پر چلتے رہیں — جہاں علم ہے، روشنی ہے، اور امید ہے۔ پاکستان زندہ باد۔ 🇵🇰
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 53 Visualizações
  • Tahir Bhatti and Asaf Qadeer working on making a Netflix series on Quaid-e-Azam Mohammad Ali Jinnah in Houston !
    Tahir Bhatti and Asaf Qadeer working on making a Netflix series on Quaid-e-Azam Mohammad Ali Jinnah in Houston !
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 26 Visualizações
  • Nvidia’s DGX Spark, a compact “personal AI supercomputer,” went on sale on October 15, 2025, for $3,999. Built for developers and creators, it brings data center–level AI power to a desktop-sized device.

    Powered by Nvidia’s Grace Blackwell GB10 Superchip, the Spark delivers up to 1 petaflop of AI performance.

    It features 128 GB LPDDR5x memory, up to 4 TB NVMe SSD storage, WiFi 7, 10 GbE Ethernet, and USB-C connectivity — all in a lightweight 1.2 kg body.

    The DGX Spark is now available on Nvidia’s website and through partners like Asus, Dell, HP, Lenovo, and MSI, though early stock is already selling out fast.

    With DGX Spark, Nvidia aims to make high-end AI computing accessible to individuals, allowing developers and researchers to run large AI models locally instead of relying on the cloud.

    #DGXSpark #Nvidia #AISupercomputer
    Nvidia’s DGX Spark, a compact “personal AI supercomputer,” went on sale on October 15, 2025, for $3,999. Built for developers and creators, it brings data center–level AI power to a desktop-sized device. Powered by Nvidia’s Grace Blackwell GB10 Superchip, the Spark delivers up to 1 petaflop of AI performance. It features 128 GB LPDDR5x memory, up to 4 TB NVMe SSD storage, WiFi 7, 10 GbE Ethernet, and USB-C connectivity — all in a lightweight 1.2 kg body. The DGX Spark is now available on Nvidia’s website and through partners like Asus, Dell, HP, Lenovo, and MSI, though early stock is already selling out fast. With DGX Spark, Nvidia aims to make high-end AI computing accessible to individuals, allowing developers and researchers to run large AI models locally instead of relying on the cloud. #DGXSpark #Nvidia #AISupercomputer
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 264 Visualizações
  • Congratulations to Ayan Ibrahim Tedxwala on successfully completing your internship with @tedx lyari !

    You are now closer to your goal of helping in doing 500 tedx in pakistan a year and helping people becoming amazing tedx speakers !
    Congratulations to Ayan Ibrahim Tedxwala on successfully completing your internship with @tedx lyari ! You are now closer to your goal of helping in doing 500 tedx in pakistan a year and helping people becoming amazing tedx speakers !
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 488 Visualizações
  • زمین کے نیچے کا جادوئی کارخانہ

    زمین کی سطح کے نیچے، جہاں سورج کی روشنی صرف خواب دیکھتی ہے، وہاں ایک خاموش مزدور رہتا ہے — کیچوا۔
    اکثر لوگ اسے صرف ایک رینگنے والا کیڑا سمجھتے ہیں،
    مگر حقیقت میں یہ قدرت کا سب سے بڑا جادوگر ہے۔



    کیچوے کی کہانی

    ملیے ہمارے ہیرو وَرمِی سے۔
    ہر رات جب دنیا سو جاتی ہے، وَرمِی اپنا کام شروع کرتا ہے۔
    نہ اس کے پاس دستانے ہیں، نہ مشینیں، مگر وہ دن رات محنت کرتا ہے۔
    اس کا مشن ہے:
    دنیا کے فضلے اور گندے مواد — جیسے پتے، پھلوں کے چھلکے، اور جانوروں کا گوبر — کو بدل دینا زندگی بخش خزانے میں،
    جسے ہم کہتے ہیں ویئرمی کمپوسٹ۔



    جادو کیسے شروع ہوتا ہے

    وَرمِی جو کچھ کھاتا ہے، وہ صرف مٹی نہیں ہوتی۔
    اس کے ننھے سے جسم کے اندر اربوں مفید جراثیم رہتے ہیں — جو چھوٹے چھوٹے باورچیوں کی طرح کام کرتے ہیں۔
    یہ باورچی ہر چیز کو توڑ کر قابلِ استعمال بناتے ہیں۔
    جب وَرمِی یہ مواد ہضم کرتا ہے تو اندر کیمیائی عمل شروع ہوتے ہیں:
    نائٹروجن پتوں کی بڑھوتری کے لیے تیار ہوتی ہے ،
    فاسفورس جڑوں کو مضبوط بناتی ہے ،
    اور پوٹاشیم پودوں کو بیماریوں کے خلاف مزاحمت دیتا ہے ۔

    جب وَرمِی اپنا فضلہ خارج کرتا ہے — وہ “پاخانہ” نہیں رہتا، بلکہ بن جاتا ہے سونا — مٹی کا سونا۔



    فضلے سے خزانہ

    وَرمِی کے اس “سونے” کے ایک ایک ذرے میں زندگی بھری ہوتی ہے۔
    یہ بھرا ہوتا ہے:
    • نائٹروجن، فاسفورس، پوٹاشیم سے،
    • کیلشیم، میگنیشیم، سلفر سے،
    • اور چھوٹے مگر قیمتی معدنیات جیسے آئرن، زنک، کاپر، اور بورون سے۔

    ایک چائے کے چمچ جتنا ویئرمی کمپوسٹ میں لاکھوں خوردبینی جاندار رہتے ہیں، جو پودوں کو غذا دیتے ہیں اور زمین کو زرخیز بناتے ہیں۔
    جب کسان یہ کمپوسٹ اپنی زمین پر ڈالتے ہیں، تو سبزیاں زیادہ ہری، پھل زیادہ میٹھے،
    اور زمین زیادہ نرم ہو جاتی ہے۔

    یہ حتیٰ کہ ہوا سے کاربن کو زمین میں بند کر کے فضا کو صاف کرنے میں مدد دیتا ہے۔



    قدرت کا انجینئر

    یہ ننھا سا کیڑا نہ تنخواہ لیتا ہے، نہ چھٹی مانگتا ہے۔
    وہ چپ چاپ زمین کو نیا بناتا رہتا ہے۔
    وہ فضلہ لیتا ہے اور اسے زندگی، معدنیات، اور طاقت میں بدل دیتا ہے۔
    وہ ہمیں سکھاتا ہے کہ قدرت میں کچھ بھی بیکار نہیں ہوتا۔
    ہر گرا ہوا پتا، ہر بوسیدہ پھل — ایک نئے جنم کا وعدہ ہے۔



    وَرمِی کا پیغام

    جب بھی تم زمین پر کوئی کیچوا دیکھو،
    اسے حقیر نہ سمجھو۔
    جھک کر اس کا شکریہ ادا کرو۔
    وہ تمہاری زمین، تمہارا کھانا، اور تمہارا مستقبل بچا رہا ہے۔

    اصل جادو آسمان میں نہیں — زمین کے نیچے ہوتا ہے۔
    جہاں گندگی زندگی بنتی ہے،
    فضلہ خزانہ بن جاتا ہے،
    اور کیچوا دنیا کو زندہ رکھتا ہے۔



    تحریر: ریحان اللہ والا — بمع ChatGPT
    🌍 زمین کے نیچے کا جادوئی کارخانہ زمین کی سطح کے نیچے، جہاں سورج کی روشنی صرف خواب دیکھتی ہے، وہاں ایک خاموش مزدور رہتا ہے — کیچوا۔ اکثر لوگ اسے صرف ایک رینگنے والا کیڑا سمجھتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ قدرت کا سب سے بڑا جادوگر ہے۔ ⸻ 🪱 کیچوے کی کہانی ملیے ہمارے ہیرو وَرمِی سے۔ ہر رات جب دنیا سو جاتی ہے، وَرمِی اپنا کام شروع کرتا ہے۔ نہ اس کے پاس دستانے ہیں، نہ مشینیں، مگر وہ دن رات محنت کرتا ہے۔ اس کا مشن ہے: دنیا کے فضلے اور گندے مواد — جیسے پتے، پھلوں کے چھلکے، اور جانوروں کا گوبر — کو بدل دینا زندگی بخش خزانے میں، جسے ہم کہتے ہیں ویئرمی کمپوسٹ۔ ⸻ ⚗️ جادو کیسے شروع ہوتا ہے وَرمِی جو کچھ کھاتا ہے، وہ صرف مٹی نہیں ہوتی۔ اس کے ننھے سے جسم کے اندر اربوں مفید جراثیم رہتے ہیں — جو چھوٹے چھوٹے باورچیوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ یہ باورچی ہر چیز کو توڑ کر قابلِ استعمال بناتے ہیں۔ جب وَرمِی یہ مواد ہضم کرتا ہے تو اندر کیمیائی عمل شروع ہوتے ہیں: نائٹروجن پتوں کی بڑھوتری کے لیے تیار ہوتی ہے 🌿، فاسفورس جڑوں کو مضبوط بناتی ہے 🌱، اور پوٹاشیم پودوں کو بیماریوں کے خلاف مزاحمت دیتا ہے 💪۔ جب وَرمِی اپنا فضلہ خارج کرتا ہے — وہ “پاخانہ” نہیں رہتا، بلکہ بن جاتا ہے سونا — مٹی کا سونا۔ ⸻ 💎 فضلے سے خزانہ وَرمِی کے اس “سونے” کے ایک ایک ذرے میں زندگی بھری ہوتی ہے۔ یہ بھرا ہوتا ہے: • نائٹروجن، فاسفورس، پوٹاشیم سے، • کیلشیم، میگنیشیم، سلفر سے، • اور چھوٹے مگر قیمتی معدنیات جیسے آئرن، زنک، کاپر، اور بورون سے۔ ایک چائے کے چمچ جتنا ویئرمی کمپوسٹ میں لاکھوں خوردبینی جاندار رہتے ہیں، جو پودوں کو غذا دیتے ہیں اور زمین کو زرخیز بناتے ہیں۔ جب کسان یہ کمپوسٹ اپنی زمین پر ڈالتے ہیں، تو سبزیاں زیادہ ہری، پھل زیادہ میٹھے، اور زمین زیادہ نرم ہو جاتی ہے۔ 🌾 یہ حتیٰ کہ ہوا سے کاربن کو زمین میں بند کر کے فضا کو صاف کرنے میں مدد دیتا ہے۔ 🌎 ⸻ 🌈 قدرت کا انجینئر یہ ننھا سا کیڑا نہ تنخواہ لیتا ہے، نہ چھٹی مانگتا ہے۔ وہ چپ چاپ زمین کو نیا بناتا رہتا ہے۔ وہ فضلہ لیتا ہے اور اسے زندگی، معدنیات، اور طاقت میں بدل دیتا ہے۔ وہ ہمیں سکھاتا ہے کہ قدرت میں کچھ بھی بیکار نہیں ہوتا۔ ہر گرا ہوا پتا، ہر بوسیدہ پھل — ایک نئے جنم کا وعدہ ہے۔ ⸻ 💚 وَرمِی کا پیغام جب بھی تم زمین پر کوئی کیچوا دیکھو، اسے حقیر نہ سمجھو۔ جھک کر اس کا شکریہ ادا کرو۔ وہ تمہاری زمین، تمہارا کھانا، اور تمہارا مستقبل بچا رہا ہے۔ اصل جادو آسمان میں نہیں — زمین کے نیچے ہوتا ہے۔ جہاں گندگی زندگی بنتی ہے، فضلہ خزانہ بن جاتا ہے، اور کیچوا دنیا کو زندہ رکھتا ہے۔ ⸻ ✍️ تحریر: ریحان اللہ والا — بمع ChatGPT
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 30 Visualizações
  • The Magical Factory Beneath Our Feet

    Deep beneath the quiet soil, where sunlight only dreams of reaching, lives a humble little worker — the earthworm.
    To most people, it’s just a wriggly creature, slimy and small.
    But in truth, it’s one of the most powerful alchemists on Earth.



    The Secret Life of Wormy

    Meet Wormy.
    Every night, when the world above sleeps, Wormy starts his shift in the underground factory.
    He doesn’t wear a helmet or gloves, but he works harder than any human engineer.
    His mission?
    To take the world’s waste — fallen leaves, spoiled fruits, animal dung, and bits of old plants — and turn it into something miraculous: vermicompost, a treasure chest of life-giving minerals.



    The Magic Begins

    Wormy munches on what we call “dirt.”
    But inside his tiny body lives a whole universe of microorganisms — billions of friendly bacteria that work like invisible chefs.
    As Wormy eats, these chefs break down the waste into simpler forms.
    Inside his gut, chemical reactions quietly happen:
    Nitrogen becomes available for new leaves ,
    Phosphorus prepares itself to strengthen roots ,
    and Potassium sharpens a plant’s immune system .

    When Wormy finally lets go of what he doesn’t need — his poo, or worm castings — it’s no longer waste.
    It’s pure black gold.



    From Poo to Power

    Each grain of this black gold glows under a microscope.
    It is rich in:
    • Nitrogen, Phosphorus, and Potassium,
    • Calcium, Magnesium, and Sulphur,
    • and trace minerals like Iron, Zinc, Copper, and Boron.

    In a single teaspoon of Wormy’s compost live millions of microbes, quietly feeding the Earth and keeping plants alive.
    When farmers sprinkle it on their fields, vegetables grow greener, fruits taste sweeter, and the soil becomes softer and more fertile.

    Wormy’s droppings even help the planet breathe — they lock carbon in the soil, reducing pollution from the air.



    Nature’s Recycling Engineer

    Without asking for salary or sleep, Wormy and his family work day and night.
    They don’t just recycle; they regenerate.
    They take what humans call “poo-poo” or garbage and transform it into minerals, enzymes, and life itself.
    Through them, nothing in nature is wasted.
    Every fallen leaf becomes a promise — that life will rise again.



    The Lesson of Wormy

    Next time you see a worm on the ground, don’t step over it.
    Bend down, smile, and say thank you.
    That little worm is helping feed the world.
    It is silently reminding us that real magic is not in the sky, but in the soil beneath our feet.

    From decay comes nourishment.
    From waste comes life.
    From Wormy comes the future.



    Written by Rehan Allahwala — with ChatGPT
    🌍 The Magical Factory Beneath Our Feet Deep beneath the quiet soil, where sunlight only dreams of reaching, lives a humble little worker — the earthworm. To most people, it’s just a wriggly creature, slimy and small. But in truth, it’s one of the most powerful alchemists on Earth. ⸻ 🪱 The Secret Life of Wormy Meet Wormy. Every night, when the world above sleeps, Wormy starts his shift in the underground factory. He doesn’t wear a helmet or gloves, but he works harder than any human engineer. His mission? To take the world’s waste — fallen leaves, spoiled fruits, animal dung, and bits of old plants — and turn it into something miraculous: vermicompost, a treasure chest of life-giving minerals. ⸻ ⚗️ The Magic Begins Wormy munches on what we call “dirt.” But inside his tiny body lives a whole universe of microorganisms — billions of friendly bacteria that work like invisible chefs. As Wormy eats, these chefs break down the waste into simpler forms. Inside his gut, chemical reactions quietly happen: Nitrogen becomes available for new leaves 🌿, Phosphorus prepares itself to strengthen roots 🌱, and Potassium sharpens a plant’s immune system 💪. When Wormy finally lets go of what he doesn’t need — his poo, or worm castings — it’s no longer waste. It’s pure black gold. ⸻ 💎 From Poo to Power Each grain of this black gold glows under a microscope. It is rich in: • Nitrogen, Phosphorus, and Potassium, • Calcium, Magnesium, and Sulphur, • and trace minerals like Iron, Zinc, Copper, and Boron. In a single teaspoon of Wormy’s compost live millions of microbes, quietly feeding the Earth and keeping plants alive. When farmers sprinkle it on their fields, vegetables grow greener, fruits taste sweeter, and the soil becomes softer and more fertile. Wormy’s droppings even help the planet breathe — they lock carbon in the soil, reducing pollution from the air. 🌎 ⸻ 🌈 Nature’s Recycling Engineer Without asking for salary or sleep, Wormy and his family work day and night. They don’t just recycle; they regenerate. They take what humans call “poo-poo” or garbage and transform it into minerals, enzymes, and life itself. Through them, nothing in nature is wasted. Every fallen leaf becomes a promise — that life will rise again. ⸻ 💚 The Lesson of Wormy Next time you see a worm on the ground, don’t step over it. Bend down, smile, and say thank you. That little worm is helping feed the world. It is silently reminding us that real magic is not in the sky, but in the soil beneath our feet. From decay comes nourishment. From waste comes life. From Wormy comes the future. ⸻ 🖋️ Written by Rehan Allahwala — with ChatGPT
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 1475 Visualizações
  • چیئرمین پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور قومی نصاب کونسل کے رکن علی رضا کا ریحان اسکول لاہور کا دورہ — 17 اکتوبر 2025

    آج محترم علی رضا صاحب، چیئرمین پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور رکن نیشنل کریکولم کونسل (NCC)، حکومتِ پاکستان نے ریحان اسکول لاہور کا دورہ کیا۔
    اس دورے کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ کس طرح یہ اسکول جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کو تدریس کے عمل میں استعمال کر رہا ہے اور پاکستان کے تعلیمی نظام میں کیا نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔



    پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن کیا ہے؟

    پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن ایک قومی پلیٹ فارم ہے جو پورے ملک کے اسکولوں، کالجوں، تعلیمی اداروں، ٹیچر ٹریننگ سینٹرز، این جی اوز اور پالیسی ساز اداروں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔
    اس کا مقصد پاکستان میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا، پبلک اور پرائیویٹ اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنا، اور جدید، ہنرمند اور باوقار تعلیم کو فروغ دینا ہے۔

    چیئرمین علی رضا کی قیادت میں چیمبر درج ذیل شعبوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے:
    • اساتذہ کی تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی۔
    • نصاب کی جدید کاری اور عالمی معیار سے ہم آہنگی۔
    • ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا تعلیمی نظام میں انضمام۔
    • نجی و سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ اور پالیسی تجاویز کی تیاری۔

    چیمبر کے رکن اداروں میں بڑے تعلیمی نیٹ ورکس، ہنر مندی کے ادارے، غیر منافع بخش تنظیمیں، اور ملک بھر کے آزاد اسکول شامل ہیں۔



    علی رضا کا کردار قومی نصاب کی تشکیل میں

    چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ علی رضا نیشنل کریکولم کونسل (NCC) کے رکن بھی ہیں — جو حکومتِ پاکستان کا مرکزی ادارہ ہے جو قومی نصاب کی تیاری، نظرِ ثانی اور معیار بندی کرتا ہے۔

    اس حیثیت میں علی رضا کا کردار شامل ہے:
    • نصاب کے ڈھانچے اور مضامین کی بہتری پر مشاورت۔
    • اسکولوں اور اساتذہ کے زمینی تجربات کو نصاب میں شامل کرنے میں مدد۔
    • تدریسی معیار، سیکھنے کے نتائج (Learning Outcomes) اور امتحانی طریقوں پر تجاویز۔
    • نصاب میں ٹیکنالوجی، تخلیقی سوچ اور مہارت پر مبنی تعلیم کا فروغ۔

    ان کا دوہرا کردار — ایک طرف تعلیمی اداروں کی نمائندگی اور دوسری طرف نصاب سازی میں شمولیت — انہیں پالیسی اور عملی تدریس کے درمیان ایک پل بناتا ہے۔



    ریحان اسکول لاہور کا دورہ

    آج کے دورے میں علی رضا صاحب نے اسکول کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ سے ملاقات کی۔
    انہیں دکھایا گیا کہ کس طرح بچے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے انگریزی بول چال، اعتماد، تخلیقی اظہار اور تحقیق سیکھ رہے ہیں۔
    اساتذہ نے بتایا کہ AI کے ذریعے وہ ہر طالبعلم کی کارکردگی کو الگ سے سمجھ سکتے ہیں، سبق کو دلچسپ بنا سکتے ہیں، اور کم وسائل میں بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔

    چیئرمین علی رضا نے اسکول کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کے ماڈل پاکستان کے دوسرے تعلیمی اداروں کے لیے عملی مثال بن سکتے ہیں۔
    انہوں نے اس موقع پر اساتذہ کی تربیت، ڈیجیٹل تعلیم، اور نصاب میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر مشترکہ منصوبوں کی بات کی۔



    دورے کی اہمیت

    یہ دورہ پاکستان کے تعلیمی منظرنامے میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
    یہ اس بات کی علامت ہے کہ اب پالیسی بنانے والے رہنما اور اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔

    یہ دورہ درج ذیل پیغامات دیتا ہے:
    • نصاب اور پالیسی زمینی حقیقت کو دیکھ کر بننی چاہیے۔
    • جدید تعلیم میں مصنوعی ذہانت، تخلیقی صلاحیت، اور اعتماد کی تربیت بنیادی کردار رکھتے ہیں۔
    • اسکولوں میں جدت (Innovation) کو صرف سراہا نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیلایا جانا چاہیے۔



    آگے کا راستہ

    دورے کے دوران یہ اتفاق کیا گیا کہ پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور ریحان اسکول آئندہ درج ذیل شعبوں میں باہمی تعاون بڑھائیں گے:
    • اساتذہ کے لیے AI ٹریننگ پروگرام۔
    • ڈیجیٹل نصاب اور لرننگ میٹیریل کی تیاری۔
    • کمیونٹی پر مبنی اسکول ماڈلز کو فروغ دینا۔

    اگر یہ اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو یہ پاکستان میں تعلیم کے نظام کو جدید، منصفانہ اور عالمی معیار کے قریب لے جا سکتے ہیں۔



    اختتامیہ

    محترم علی رضا صاحب — چیئرمین پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور رکن نیشنل کریکولم کونسل — کا آج کا ریحان اسکول لاہور کا دورہ ایک نئی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔
    یہ دورہ صرف ملاقات نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ پاکستان میں تعلیمی اصلاحات تب ہی ممکن ہیں جب پالیسی ساز، اسکول، اور اساتذہ مل کر ایک ہی مقصد کے لیے کام کریں۔

    پاکستان کا مستقبل انہی کلاس رومز میں لکھا جا رہا ہے — جہاں بچے سیکھنے کے ساتھ سوچنا، بولنا اور بدلنا بھی سیکھ رہے ہیں۔

    Connect with Ali Raza
    چیئرمین پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور قومی نصاب کونسل کے رکن علی رضا کا ریحان اسکول لاہور کا دورہ — 17 اکتوبر 2025 آج محترم علی رضا صاحب، چیئرمین پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور رکن نیشنل کریکولم کونسل (NCC)، حکومتِ پاکستان نے ریحان اسکول لاہور کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ کس طرح یہ اسکول جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کو تدریس کے عمل میں استعمال کر رہا ہے اور پاکستان کے تعلیمی نظام میں کیا نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ ⸻ پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن کیا ہے؟ پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن ایک قومی پلیٹ فارم ہے جو پورے ملک کے اسکولوں، کالجوں، تعلیمی اداروں، ٹیچر ٹریننگ سینٹرز، این جی اوز اور پالیسی ساز اداروں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ اس کا مقصد پاکستان میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا، پبلک اور پرائیویٹ اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنا، اور جدید، ہنرمند اور باوقار تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ چیئرمین علی رضا کی قیادت میں چیمبر درج ذیل شعبوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے: • اساتذہ کی تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی۔ • نصاب کی جدید کاری اور عالمی معیار سے ہم آہنگی۔ • ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا تعلیمی نظام میں انضمام۔ • نجی و سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ اور پالیسی تجاویز کی تیاری۔ چیمبر کے رکن اداروں میں بڑے تعلیمی نیٹ ورکس، ہنر مندی کے ادارے، غیر منافع بخش تنظیمیں، اور ملک بھر کے آزاد اسکول شامل ہیں۔ ⸻ علی رضا کا کردار قومی نصاب کی تشکیل میں چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ علی رضا نیشنل کریکولم کونسل (NCC) کے رکن بھی ہیں — جو حکومتِ پاکستان کا مرکزی ادارہ ہے جو قومی نصاب کی تیاری، نظرِ ثانی اور معیار بندی کرتا ہے۔ اس حیثیت میں علی رضا کا کردار شامل ہے: • نصاب کے ڈھانچے اور مضامین کی بہتری پر مشاورت۔ • اسکولوں اور اساتذہ کے زمینی تجربات کو نصاب میں شامل کرنے میں مدد۔ • تدریسی معیار، سیکھنے کے نتائج (Learning Outcomes) اور امتحانی طریقوں پر تجاویز۔ • نصاب میں ٹیکنالوجی، تخلیقی سوچ اور مہارت پر مبنی تعلیم کا فروغ۔ ان کا دوہرا کردار — ایک طرف تعلیمی اداروں کی نمائندگی اور دوسری طرف نصاب سازی میں شمولیت — انہیں پالیسی اور عملی تدریس کے درمیان ایک پل بناتا ہے۔ ⸻ ریحان اسکول لاہور کا دورہ آج کے دورے میں علی رضا صاحب نے اسکول کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ سے ملاقات کی۔ انہیں دکھایا گیا کہ کس طرح بچے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے انگریزی بول چال، اعتماد، تخلیقی اظہار اور تحقیق سیکھ رہے ہیں۔ اساتذہ نے بتایا کہ AI کے ذریعے وہ ہر طالبعلم کی کارکردگی کو الگ سے سمجھ سکتے ہیں، سبق کو دلچسپ بنا سکتے ہیں، اور کم وسائل میں بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ چیئرمین علی رضا نے اسکول کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کے ماڈل پاکستان کے دوسرے تعلیمی اداروں کے لیے عملی مثال بن سکتے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر اساتذہ کی تربیت، ڈیجیٹل تعلیم، اور نصاب میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر مشترکہ منصوبوں کی بات کی۔ ⸻ دورے کی اہمیت یہ دورہ پاکستان کے تعلیمی منظرنامے میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اب پالیسی بنانے والے رہنما اور اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔ یہ دورہ درج ذیل پیغامات دیتا ہے: • نصاب اور پالیسی زمینی حقیقت کو دیکھ کر بننی چاہیے۔ • جدید تعلیم میں مصنوعی ذہانت، تخلیقی صلاحیت، اور اعتماد کی تربیت بنیادی کردار رکھتے ہیں۔ • اسکولوں میں جدت (Innovation) کو صرف سراہا نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیلایا جانا چاہیے۔ ⸻ آگے کا راستہ دورے کے دوران یہ اتفاق کیا گیا کہ پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور ریحان اسکول آئندہ درج ذیل شعبوں میں باہمی تعاون بڑھائیں گے: • اساتذہ کے لیے AI ٹریننگ پروگرام۔ • ڈیجیٹل نصاب اور لرننگ میٹیریل کی تیاری۔ • کمیونٹی پر مبنی اسکول ماڈلز کو فروغ دینا۔ اگر یہ اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو یہ پاکستان میں تعلیم کے نظام کو جدید، منصفانہ اور عالمی معیار کے قریب لے جا سکتے ہیں۔ ⸻ اختتامیہ محترم علی رضا صاحب — چیئرمین پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور رکن نیشنل کریکولم کونسل — کا آج کا ریحان اسکول لاہور کا دورہ ایک نئی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ دورہ صرف ملاقات نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ پاکستان میں تعلیمی اصلاحات تب ہی ممکن ہیں جب پالیسی ساز، اسکول، اور اساتذہ مل کر ایک ہی مقصد کے لیے کام کریں۔ پاکستان کا مستقبل انہی کلاس رومز میں لکھا جا رہا ہے — جہاں بچے سیکھنے کے ساتھ سوچنا، بولنا اور بدلنا بھی سیکھ رہے ہیں۔ Connect with Ali Raza
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 1207 Visualizações