• Viva #palestine #cardiff uk
    Viva #palestine #cardiff uk 🇬🇧
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 188 Views
  • A 42-year-old California woman, Lisa Catalano from San Mateo, has gained widespread attention after renting multiple billboards along Highway 101 and launching www.MarryLisa.com in a bid to find a husband.

    Catalano, who also bought taxi ads, says the campaign is a serious, self-funded effort after disappointing experiences with dating apps. Her website outlines her lifestyle and “non-negotiables,” seeking a partner aged 35–45 who shares her values and is committed to marriage.
    A 42-year-old California woman, Lisa Catalano from San Mateo, has gained widespread attention after renting multiple billboards along Highway 101 and launching www.MarryLisa.com in a bid to find a husband. Catalano, who also bought taxi ads, says the campaign is a serious, self-funded effort after disappointing experiences with dating apps. Her website outlines her lifestyle and “non-negotiables,” seeking a partner aged 35–45 who shares her values and is committed to marriage.
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 56 Views
  • House of ummah , Cardiff uk #houseofummah
    House of ummah , Cardiff uk 🇬🇧 #houseofummah
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 288 Views
  • 0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 80 Views
  • 0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 80 Views
  • دنیا بھر کے تمام اساتذہ کو یومِ اساتذہ مبارک

    آج کا دن اُن تمام اساتذہ، معلّمین، رہنماؤں اور مربّیوں کے نام جو انسانیت کے اصل معمار ہیں۔

    اُن کے نام جو علم بانٹتے ہیں، دلوں کو جگاتے ہیں، اور خوابوں کو حقیقت میں بدل دیتے ہیں۔
    اُن کے نام جو کمروں میں نہیں، دلوں میں پڑھاتے ہیں۔
    اُن کے نام جو صرف کتابیں نہیں، زندگیاں بدلتے ہیں۔

    اُستاد وہ ہے جو ہمیں سوچنا سکھاتا ہے،
    جو روشنی دکھاتا ہے جب سب اندھیرا ہوتا ہے،
    جو ہمیں یقین دلاتا ہے کہ ہم کر سکتے ہیں، چاہے دنیا کچھ بھی کہے۔

    دنیا کے ہر کامیاب انسان کے پیچھے ایک اُستاد کا ہاتھ ہوتا ہے۔
    لیکن اکثر، دنیا اُن ہاتھوں کو بھول جاتی ہے۔
    ہم کامیابی کا جشن مناتے ہیں، مگر اُن کو بھول جاتے ہیں جنہوں نے ہمیں کامیابی کا راستہ دکھایا۔

    آج میں، ریحان اللہ والا، تمام دنیا کے اُستادوں کو دل کی گہرائیوں سے کہنا چاہتا ہوں:
    شکریہ۔

    آپ کے صبر، محبت، محنت، اور یقین کا شکریہ۔
    آپ کے اُس جذبے کا شکریہ جو ہر نسل کو نئی اُمید دیتا ہے۔
    آپ ہی انسانیت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔



    آج میں دنیا کو ایک تحفہ پیش کر رہا ہوں — www.educator.ac

    یہ پلیٹ فارم تمام دنیا کے اُستادوں کے لیے میرا تحفہ، سلام، اور شکریہ ہے۔
    ایک ڈیجیٹل گھر جہاں دنیا بھر کے اُستاد ایک دوسرے سے جڑ سکیں،
    علم بانٹ سکیں، سیکھ سکیں، اور مل کر آگے بڑھ سکیں۔

    Educator.ac محبت سے بنا ہے،
    شکر گزاری سے سانس لیتا ہے،
    اور اُمید کے لیے زندہ ہے۔

    یہ پلیٹ فارم اُستادوں کے لیے ہے تاکہ وہ:
    اپنی کلاسوں کے لیے AI کی مدد سے منصوبے تیار کر سکیں۔
    دنیا بھر کے دوسرے اساتذہ سے خیالات اور وسائل بانٹ سکیں۔
    نئی صلاحیتیں سیکھ سکیں، اور رہنمائی کے سفر پر دوسروں کو ساتھ لے جائیں۔

    کیونکہ علم کی کوئی سرحد نہیں ہوتی — اور اُستادوں کی بھی نہیں ہونی چاہیے۔



    میں نے یہ اس لیے بنایا کیونکہ میری زندگی کے ہر کامیاب لمحے کے پیچھے میرے اُستاد ہیں۔
    میں جو کچھ بھی ہوں، وہ اُن لوگوں کی وجہ سے ہوں جنہوں نے مجھے سکھایا، تھاما، اور یقین دلایا۔

    لہٰذا آج، یہ تحفہ تمام اُستادوں کے نام:
    www.educator.ac

    یہ آپ کا پلیٹ فارم ہے، آپ کا گھر، آپ کا نیٹ ورک۔
    آئیے، مل کر دنیا کے تمام اساتذہ کو ایک پلیٹ فارم پر جوڑیں —
    کیونکہ جب اُستاد اُٹھتے ہیں، تو انسانیت اُٹھتی ہے۔

    محبت، احترام اور شکر گزاری کے ساتھ،
    — ریحان اللہ والا

    بانی، www.educator.ac
    کراچی، پاکستان
    عالمی یومِ اساتذہ — ۵ اکتوبر ۲۰۲۵
    🌍 دنیا بھر کے تمام اساتذہ کو یومِ اساتذہ مبارک آج کا دن اُن تمام اساتذہ، معلّمین، رہنماؤں اور مربّیوں کے نام جو انسانیت کے اصل معمار ہیں۔ اُن کے نام جو علم بانٹتے ہیں، دلوں کو جگاتے ہیں، اور خوابوں کو حقیقت میں بدل دیتے ہیں۔ اُن کے نام جو کمروں میں نہیں، دلوں میں پڑھاتے ہیں۔ اُن کے نام جو صرف کتابیں نہیں، زندگیاں بدلتے ہیں۔ اُستاد وہ ہے جو ہمیں سوچنا سکھاتا ہے، جو روشنی دکھاتا ہے جب سب اندھیرا ہوتا ہے، جو ہمیں یقین دلاتا ہے کہ ہم کر سکتے ہیں، چاہے دنیا کچھ بھی کہے۔ دنیا کے ہر کامیاب انسان کے پیچھے ایک اُستاد کا ہاتھ ہوتا ہے۔ لیکن اکثر، دنیا اُن ہاتھوں کو بھول جاتی ہے۔ ہم کامیابی کا جشن مناتے ہیں، مگر اُن کو بھول جاتے ہیں جنہوں نے ہمیں کامیابی کا راستہ دکھایا۔ آج میں، ریحان اللہ والا، تمام دنیا کے اُستادوں کو دل کی گہرائیوں سے کہنا چاہتا ہوں: شکریہ۔ آپ کے صبر، محبت، محنت، اور یقین کا شکریہ۔ آپ کے اُس جذبے کا شکریہ جو ہر نسل کو نئی اُمید دیتا ہے۔ آپ ہی انسانیت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ⸻ 🌐 آج میں دنیا کو ایک تحفہ پیش کر رہا ہوں — www.educator.ac یہ پلیٹ فارم تمام دنیا کے اُستادوں کے لیے میرا تحفہ، سلام، اور شکریہ ہے۔ ایک ڈیجیٹل گھر جہاں دنیا بھر کے اُستاد ایک دوسرے سے جڑ سکیں، علم بانٹ سکیں، سیکھ سکیں، اور مل کر آگے بڑھ سکیں۔ Educator.ac محبت سے بنا ہے، شکر گزاری سے سانس لیتا ہے، اور اُمید کے لیے زندہ ہے۔ یہ پلیٹ فارم اُستادوں کے لیے ہے تاکہ وہ: ✅ اپنی کلاسوں کے لیے AI کی مدد سے منصوبے تیار کر سکیں۔ ✅ دنیا بھر کے دوسرے اساتذہ سے خیالات اور وسائل بانٹ سکیں۔ ✅ نئی صلاحیتیں سیکھ سکیں، اور رہنمائی کے سفر پر دوسروں کو ساتھ لے جائیں۔ کیونکہ علم کی کوئی سرحد نہیں ہوتی — اور اُستادوں کی بھی نہیں ہونی چاہیے۔ ⸻ میں نے یہ اس لیے بنایا کیونکہ میری زندگی کے ہر کامیاب لمحے کے پیچھے میرے اُستاد ہیں۔ میں جو کچھ بھی ہوں، وہ اُن لوگوں کی وجہ سے ہوں جنہوں نے مجھے سکھایا، تھاما، اور یقین دلایا۔ لہٰذا آج، یہ تحفہ تمام اُستادوں کے نام: 🌐 www.educator.ac یہ آپ کا پلیٹ فارم ہے، آپ کا گھر، آپ کا نیٹ ورک۔ آئیے، مل کر دنیا کے تمام اساتذہ کو ایک پلیٹ فارم پر جوڑیں — کیونکہ جب اُستاد اُٹھتے ہیں، تو انسانیت اُٹھتی ہے۔ محبت، احترام اور شکر گزاری کے ساتھ، — ریحان اللہ والا بانی، www.educator.ac کراچی، پاکستان 🇵🇰 عالمی یومِ اساتذہ — ۵ اکتوبر ۲۰۲۵
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 80 Views
  • The Prompt:
    Create a surrealistic image of a futuristic sci-fi building with a modern white architecture inspired by the Brothers Blood Tree on Socotra Island, suspended structures, and surreal material. Installation, building is coming up
    The Prompt: Create a surrealistic image of a futuristic sci-fi building with a modern white architecture inspired by the Brothers Blood Tree on Socotra Island, suspended structures, and surreal material. Installation, building is coming up
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 86 Views
  • Overcoming Fear — One Conversation at a Time

    Growing up in Pakistan, many of us were taught — consciously or unconsciously — to fear the police. That fear stayed with me for decades. My first real interaction with police outside Pakistan was in Singapore when I was 20. They were kind, respectful, and professional — very different from what I had been taught to expect.

    Yet, even at 50+, I still feel that old fear sometimes. Today, while traveling, I saw two policewomen and decided to face that fear once again. I walked up, smiled, and asked if I could take a photo with them as a tourist. They happily agreed.

    Every time I do this, I feel a little freer.

    So next time you see a police officer — anywhere in the world — take a deep breath and say hello. Remember: most of them are here to help, to protect, and to keep our communities safe.

    Thank you to all the policemen and policewomen around the world for your service, kindness, and dedication.
    Overcoming Fear — One Conversation at a Time Growing up in Pakistan, many of us were taught — consciously or unconsciously — to fear the police. That fear stayed with me for decades. My first real interaction with police outside Pakistan was in Singapore when I was 20. They were kind, respectful, and professional — very different from what I had been taught to expect. Yet, even at 50+, I still feel that old fear sometimes. Today, while traveling, I saw two policewomen and decided to face that fear once again. I walked up, smiled, and asked if I could take a photo with them as a tourist. They happily agreed. Every time I do this, I feel a little freer. So next time you see a police officer — anywhere in the world — take a deep breath and say hello. Remember: most of them are here to help, to protect, and to keep our communities safe. Thank you to all the policemen and policewomen around the world for your service, kindness, and dedication. 🌍🙏
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 72 Views
  • پیر محل سے اگلے دس باٹا جنم لیں گے!

    کبھی ایک چھوٹے سے یورپی گاؤں میں ایک خاندان نے خواب دیکھا کہ
    ایک دن ایک جوتا دنیا بدل دے گا۔
    اس خواب کا نام تھا — باٹا۔

    چیکوسلوواکیہ کے ایک عام سے قصبے میں شروع ہونے والا یہ چھوٹا سا کاروبار
    آج دنیا کے 50 سے زائد ممالک میں اپنی موجودگی رکھتا ہے۔
    یہ کہانی ہے ویژن، محنت اور یقین کی —
    اور اب یہی کہانی پاکستان کے شہر پیر محل میں دوبارہ لکھی جا رہی ہے۔



    پیر محل – جوتا سازوں کا پوشیدہ شہر

    پیر محل، ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب واقع ایک چھوٹا مگر باصلاحیت شہر،
    پاکستان کا وہ خاموش جوتا دارالحکومت ہے
    جس کی گلیوں میں آج بھی ہتھوڑیوں کی ٹھک ٹھک اور چمڑے کی خوشبو گونجتی ہے۔

    یہاں تقریباً 100 چھوٹی ورکشاپس ہیں،
    جہاں 500 کے قریب کاریگر دن رات ہاتھوں سے چپلیں اور جوتے تیار کرتے ہیں۔
    ان کے ساتھ 250 کے قریب سپلائرز، دکاندار اور تاجر جڑے ہوئے ہیں —
    یعنی کل 750 خاندان اس صنعت سے روزگار حاصل کرتے ہیں۔

    یہ کاریگر روزانہ 1000 سے زائد جوڑے تیار کرتے ہیں —
    سالانہ پیداوار تقریباً تین لاکھ جوڑوں کی ہے۔
    اگر فی جوڑا صرف 400 روپے منافع مانا جائے،
    تو یہ چھوٹا سا شہر 12 کروڑ روپے سالانہ آمدنی پیدا کرتا ہے —
    بغیر کسی سرکاری مدد، مشینوں یا برانڈنگ کے۔

    یہ لوگ مزدور نہیں — یہ فنکار ہیں۔
    اور ان کے ہاتھوں میں پاکستان کا مستقبل ہے۔



    باٹا کی کہانی – اور پیر محل کا امکان

    جب باٹا نے 1894 میں آغاز کیا،
    وہ بھی ایک چھوٹا سا ہنرمند خاندان تھا۔
    انہوں نے ایک سادہ اصول اپنایا:
    “اچھا جوتا ہر انسان کا حق ہے۔”

    انہوں نے معیار، دیانت داری اور سستے داموں کو بنیاد بنایا —
    اور یہی بنیاد انہیں ایک عالمی برانڈ بنا گئی۔

    پیر محل کے کاریگر بھی وہی جذبہ رکھتے ہیں۔
    فرق صرف اتنا ہے کہ باٹا کے پاس سسٹم، وژن اور قیادت تھی —
    اور پیر محل کے کاریگروں کو آج وہی قیادت مل رہی ہے۔



    شعیب شہزاد اور Pir Mahal Factories کا خواب

    پیر محل کے نوجوان شعیب شہزاد نے ایک خواب دیکھا ہے —
    کہ ایک دن دنیا بھر میں لوگ چپل پہنیں گے
    جن پر لکھا ہوگا “Made in Pir Mahal”۔

    Pir Mahal Factories اسی خواب کا پہلا قدم ہے —
    ایک ایسا ماڈل جہاں ہر کاریگر کو عزت ملے،
    ہر ورکشاپ جدید مشینوں سے لیس ہو،
    اور ہر چپل عالمی معیار کے ساتھ تیار ہو۔

    شعیب شہزاد کا وژن ہے کہ پیر محل کو پاکستان کا باٹا ٹاؤن بنایا جائے —
    جہاں روایت، ہنر اور ٹیکنالوجی مل کر ایک نئی تاریخ لکھیں۔



    پیر محل کے اگلے دس باٹا – وہ نام جو دنیا میں گونجیں گے

    یہ ہیں وہ دس نام جو پیر محل کی مٹی سے جنم لے سکتے ہیں
    اور دنیا میں “Made in Pakistan” کی پہچان بن سکتے ہیں:
    1. Mahal Walks – پیر محل سے دنیا تک
    2. Peer Steps – شہر کے روحانی ورثے سے متاثر
    3. Toba Sole – ٹوبہ ٹیک سنگھ کی شان
    4. Punjab Leather Co. – روایت اور معیار کا امتزاج
    5. Naya Footwear – ایک نئے پاکستان کی علامت
    6. Raah – سادہ، دل سے جڑا ہوا، یادگار
    7. Pehnao – اردو میں جڑا، پاکستانی، مقامی
    8. StepIn – جدید، نوجوان، عالمی
    9. Juttify – “جُتی” اور “Amplify” کا حسین امتزاج
    10. Mahali – نرم، نفیس، اور بین الاقوامی انداز میں مقبول

    یہ وہ نام ہیں جو ایک دن باٹا، سروس اور نائکی کے ساتھ ایک ہی شیلف پر رکھے جا سکتے ہیں۔



    دعوتِ عمل – اب خواب کو حقیقت بنائیں

    پیر محل کے یہ کاریگر کسی خیرات کے نہیں،
    بلکہ موقع اور قیادت کے منتظر ہیں۔

    اگر آپ سرمایہ کار، ڈیزائنر، ٹرینر یا مارکیٹر ہیں —
    تو شعیب شہزاد اور Pir Mahal Factories کے ساتھ شامل ہوں۔
    ان کے ساتھ مل کر پیر محل کے کاریگروں کو عالمی برانڈ بنائیں۔
    انہیں تربیت دیں، برانڈنگ سکھائیں،
    اور پاکستان کے اس چھوٹے سے شہر کو دنیا کے نقشے پر لے آئیں۔



    باٹا نے ایک ورکشاپ سے آغاز کیا تھا۔
    پیر محل کے پاس پہلے ہی سو ہیں۔

    آئیے، ہم سب مل کر پیر محل سے اگلے دس باٹا پیدا کریں —
    تاکہ دنیا جانے کہ
    ایک چھوٹے پاکستانی شہر کے کاریگر بھی
    دنیا کی بڑی چال چل سکتے ہیں۔
    👞 پیر محل سے اگلے دس باٹا جنم لیں گے! کبھی ایک چھوٹے سے یورپی گاؤں میں ایک خاندان نے خواب دیکھا کہ ایک دن ایک جوتا دنیا بدل دے گا۔ اس خواب کا نام تھا — باٹا۔ چیکوسلوواکیہ کے ایک عام سے قصبے میں شروع ہونے والا یہ چھوٹا سا کاروبار آج دنیا کے 50 سے زائد ممالک میں اپنی موجودگی رکھتا ہے۔ یہ کہانی ہے ویژن، محنت اور یقین کی — اور اب یہی کہانی پاکستان کے شہر پیر محل میں دوبارہ لکھی جا رہی ہے۔ ⸻ 👞 پیر محل – جوتا سازوں کا پوشیدہ شہر پیر محل، ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب واقع ایک چھوٹا مگر باصلاحیت شہر، پاکستان کا وہ خاموش جوتا دارالحکومت ہے جس کی گلیوں میں آج بھی ہتھوڑیوں کی ٹھک ٹھک اور چمڑے کی خوشبو گونجتی ہے۔ یہاں تقریباً 100 چھوٹی ورکشاپس ہیں، جہاں 500 کے قریب کاریگر دن رات ہاتھوں سے چپلیں اور جوتے تیار کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ 250 کے قریب سپلائرز، دکاندار اور تاجر جڑے ہوئے ہیں — یعنی کل 750 خاندان اس صنعت سے روزگار حاصل کرتے ہیں۔ یہ کاریگر روزانہ 1000 سے زائد جوڑے تیار کرتے ہیں — سالانہ پیداوار تقریباً تین لاکھ جوڑوں کی ہے۔ اگر فی جوڑا صرف 400 روپے منافع مانا جائے، تو یہ چھوٹا سا شہر 12 کروڑ روپے سالانہ آمدنی پیدا کرتا ہے — بغیر کسی سرکاری مدد، مشینوں یا برانڈنگ کے۔ یہ لوگ مزدور نہیں — یہ فنکار ہیں۔ اور ان کے ہاتھوں میں پاکستان کا مستقبل ہے۔ ⸻ 📈 باٹا کی کہانی – اور پیر محل کا امکان جب باٹا نے 1894 میں آغاز کیا، وہ بھی ایک چھوٹا سا ہنرمند خاندان تھا۔ انہوں نے ایک سادہ اصول اپنایا: “اچھا جوتا ہر انسان کا حق ہے۔” انہوں نے معیار، دیانت داری اور سستے داموں کو بنیاد بنایا — اور یہی بنیاد انہیں ایک عالمی برانڈ بنا گئی۔ پیر محل کے کاریگر بھی وہی جذبہ رکھتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ باٹا کے پاس سسٹم، وژن اور قیادت تھی — اور پیر محل کے کاریگروں کو آج وہی قیادت مل رہی ہے۔ ⸻ 🏭 شعیب شہزاد اور Pir Mahal Factories کا خواب پیر محل کے نوجوان شعیب شہزاد نے ایک خواب دیکھا ہے — کہ ایک دن دنیا بھر میں لوگ چپل پہنیں گے جن پر لکھا ہوگا “Made in Pir Mahal”۔ Pir Mahal Factories اسی خواب کا پہلا قدم ہے — ایک ایسا ماڈل جہاں ہر کاریگر کو عزت ملے، ہر ورکشاپ جدید مشینوں سے لیس ہو، اور ہر چپل عالمی معیار کے ساتھ تیار ہو۔ شعیب شہزاد کا وژن ہے کہ پیر محل کو پاکستان کا باٹا ٹاؤن بنایا جائے — جہاں روایت، ہنر اور ٹیکنالوجی مل کر ایک نئی تاریخ لکھیں۔ ⸻ 💡 پیر محل کے اگلے دس باٹا – وہ نام جو دنیا میں گونجیں گے یہ ہیں وہ دس نام جو پیر محل کی مٹی سے جنم لے سکتے ہیں اور دنیا میں “Made in Pakistan” کی پہچان بن سکتے ہیں: 1. Mahal Walks – پیر محل سے دنیا تک 2. Peer Steps – شہر کے روحانی ورثے سے متاثر 3. Toba Sole – ٹوبہ ٹیک سنگھ کی شان 4. Punjab Leather Co. – روایت اور معیار کا امتزاج 5. Naya Footwear – ایک نئے پاکستان کی علامت 6. Raah – سادہ، دل سے جڑا ہوا، یادگار 7. Pehnao – اردو میں جڑا، پاکستانی، مقامی 8. StepIn – جدید، نوجوان، عالمی 9. Juttify – “جُتی” اور “Amplify” کا حسین امتزاج 10. Mahali – نرم، نفیس، اور بین الاقوامی انداز میں مقبول یہ وہ نام ہیں جو ایک دن باٹا، سروس اور نائکی کے ساتھ ایک ہی شیلف پر رکھے جا سکتے ہیں۔ ⸻ 🚀 دعوتِ عمل – اب خواب کو حقیقت بنائیں پیر محل کے یہ کاریگر کسی خیرات کے نہیں، بلکہ موقع اور قیادت کے منتظر ہیں۔ 👉 اگر آپ سرمایہ کار، ڈیزائنر، ٹرینر یا مارکیٹر ہیں — تو شعیب شہزاد اور Pir Mahal Factories کے ساتھ شامل ہوں۔ ان کے ساتھ مل کر پیر محل کے کاریگروں کو عالمی برانڈ بنائیں۔ انہیں تربیت دیں، برانڈنگ سکھائیں، اور پاکستان کے اس چھوٹے سے شہر کو دنیا کے نقشے پر لے آئیں۔ ⸻ باٹا نے ایک ورکشاپ سے آغاز کیا تھا۔ پیر محل کے پاس پہلے ہی سو ہیں۔ آئیے، ہم سب مل کر پیر محل سے اگلے دس باٹا پیدا کریں — تاکہ دنیا جانے کہ ایک چھوٹے پاکستانی شہر کے کاریگر بھی دنیا کی بڑی چال چل سکتے ہیں۔
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 531 Views
  • 0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 79 Views