• دنیا بدل رہی ہے، اور اس کو بدلنے والے اصل معمار استاد ہیں۔

    استاد صرف علم نہیں دیتے، وہ انسانیت کو تراشتے ہیں، معاشرے کو سنوارتے ہیں اور نئی نسلوں کو خواب دیکھنے اور اُن خوابوں کو حقیقت بنانے کا حوصلہ دیتے ہیں۔

    آج کے دور میں جہاں ہر چیز تیزی سے بدل رہی ہے، وہاں AI (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) اساتذہ کے لیے سب سے بڑا تحفہ بن سکتا ہے۔ اگر استاد سیکھ لیں کہ AI کو کیسے استعمال کرنا ہے تو وہ نہ صرف اپنی تعلیم کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ اپنی کلاس کو دنیا کی بہترین کلاس میں بدل سکتے ہیں۔

    اسی مقصد کے لیے میں نے ایک چھوٹی مگر قیمتی ٹیچر کمیونٹی واٹس ایپ پر بنائی ہے۔
    یہاں ہم:
    اساتذہ کے لیے AI کے نئے ٹولز اور طریقے سیکھیں گے۔
    ایک دوسرے سے تجربات بانٹیں گے۔
    اپنی کلاسوں اور طلبہ کو مزید طاقتور بنانے کے راستے ڈھونڈیں گے۔

    اگر آپ استاد ہیں، یا استاد بننا چاہتے ہیں، یا تعلیم سے محبت کرتے ہیں تو یہ کمیونٹی آپ ہی کے لیے ہے۔

    آئیے مل کر یہ عہد کریں کہ ہم نہ صرف اپنی کلاس بدلیں گے بلکہ دنیا کو بدلنے والے استاد بنیں گے۔

    کمیونٹی میں شامل ہوں، علم بانٹیں، سیکھیں اور دنیا کو روشن کریں۔

    لنک یہاں ہے:

    https://chat.whatsapp.com/CTZWsPHzW5F4Nxee5KfD50
    🌍 دنیا بدل رہی ہے، اور اس کو بدلنے والے اصل معمار استاد ہیں۔ استاد صرف علم نہیں دیتے، وہ انسانیت کو تراشتے ہیں، معاشرے کو سنوارتے ہیں اور نئی نسلوں کو خواب دیکھنے اور اُن خوابوں کو حقیقت بنانے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ آج کے دور میں جہاں ہر چیز تیزی سے بدل رہی ہے، وہاں AI (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) اساتذہ کے لیے سب سے بڑا تحفہ بن سکتا ہے۔ اگر استاد سیکھ لیں کہ AI کو کیسے استعمال کرنا ہے تو وہ نہ صرف اپنی تعلیم کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ اپنی کلاس کو دنیا کی بہترین کلاس میں بدل سکتے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے میں نے ایک چھوٹی مگر قیمتی ٹیچر کمیونٹی واٹس ایپ پر بنائی ہے۔ یہاں ہم: ✅ اساتذہ کے لیے AI کے نئے ٹولز اور طریقے سیکھیں گے۔ ✅ ایک دوسرے سے تجربات بانٹیں گے۔ ✅ اپنی کلاسوں اور طلبہ کو مزید طاقتور بنانے کے راستے ڈھونڈیں گے۔ 👩‍🏫👨‍🏫 اگر آپ استاد ہیں، یا استاد بننا چاہتے ہیں، یا تعلیم سے محبت کرتے ہیں تو یہ کمیونٹی آپ ہی کے لیے ہے۔ 🙏 آئیے مل کر یہ عہد کریں کہ ہم نہ صرف اپنی کلاس بدلیں گے بلکہ دنیا کو بدلنے والے استاد بنیں گے۔ 📲 کمیونٹی میں شامل ہوں، علم بانٹیں، سیکھیں اور دنیا کو روشن کریں۔ 🔗 لنک یہاں ہے: https://chat.whatsapp.com/CTZWsPHzW5F4Nxee5KfD50
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 37 Visualizações
  • So proud of all these young gems coming out of Rehan School !

    He writes !
    Hello World!
    I’m Ayan EarningWala , an 11-year-old student at Rehan School Online Academy , Karachi, Pakistan .

    What I Do:

    Graphic Design – Creating attractive and impactful designs.

    Video Editing – Turning raw clips into professional videos.

    Coding – Building fun and creative projects.

    AI Skills – Using artificial intelligence to solve problems.

    Digital Skills – Exploring new ways to earn and grow online.

    My Goal:
    To inspire young people in my community to learn skills, earn online, and make a positive impact in the world.

    Follow my journey to watch me grow, learn, and share powerful ideas with the world!

    #AyanEarningWala #DigitalCreator #YoungEntrepreneur #FutureLeader #AI #Coding #GraphicDesign #VideoEditing #Inspiration #RehanSchool #Karachi #Pakistan #YouthEmpowerment #LearningNeverStops #GlobalGoals #ViralPost #SuccessMindset #FutureMillionaire #WorldChanger #TechSavvy
    So proud of all these young gems coming out of Rehan School ! He writes ! 👋 Hello World! I’m Ayan EarningWala , an 11-year-old student at Rehan School Online Academy , Karachi, Pakistan 🇵🇰. 💡 What I Do: 🎨 Graphic Design – Creating attractive and impactful designs. 🎬 Video Editing – Turning raw clips into professional videos. 💻 Coding – Building fun and creative projects. 🤖 AI Skills – Using artificial intelligence to solve problems. 🌐 Digital Skills – Exploring new ways to earn and grow online. 🎯 My Goal: To inspire young people in my community to learn skills, earn online, and make a positive impact in the world. 🌍✨ 📢 Follow my journey to watch me grow, learn, and share powerful ideas with the world! #AyanEarningWala #DigitalCreator #YoungEntrepreneur #FutureLeader #AI #Coding #GraphicDesign #VideoEditing #Inspiration #RehanSchool #Karachi #Pakistan #YouthEmpowerment #LearningNeverStops #GlobalGoals #ViralPost #SuccessMindset #FutureMillionaire #WorldChanger #TechSavvy
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 6580 Visualizações
  • آن لائن اذان اپنی مسجد میں لگانے کا طریقہ جاننے کے لیے ہماری ویب سائٹ onlineazan.com دیکھیں۔

    پہلا قدم: ٹرسٹی کو ایک اپلیکیشن فارم بھرنا ہوگا۔ یہ فارم آپ اس لنک سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:
    https://onlineazan.com/MasjidRegistrationForm.pdf

    دوسرا قدم: ایڈریس پروف کے لیے مسجد کا بجلی کا بل دینا ہوگا۔

    تیسرا قدم: مؤذن کا آدھار کارڈ کی فوٹو کاپی (Xerox) دینا ہوگی۔

    یہ تینوں دستاویزات مسجد کی مہر (Seal) کے ساتھ ٹرسٹی کے دستخط شدہ ہونی چاہئیں۔
    اگر آپ مسجد کے ٹرسٹی نہیں ہیں تو براہِ کرم یہ معلومات اپنی مسجد کے ٹرسٹی تک پہنچا دیں۔

    ہم، اِن شاء اللہ، اسے مفت میں انسٹال کریں گے۔
    کسی بھی سوال کے لیے WhatsApp کریں:

    +918838038635

    اپنے موبائل پر Online Azan سے اذان سننے کے لیے…
    Online Azan App ڈاؤن لوڈ کریں اور شہر کا نام (مثلاً: Kurla) لکھیں۔
    آن لائن اذان اپنی مسجد میں لگانے کا طریقہ جاننے کے لیے ہماری ویب سائٹ onlineazan.com دیکھیں۔ پہلا قدم: ٹرسٹی کو ایک اپلیکیشن فارم بھرنا ہوگا۔ یہ فارم آپ اس لنک سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں: https://onlineazan.com/MasjidRegistrationForm.pdf دوسرا قدم: ایڈریس پروف کے لیے مسجد کا بجلی کا بل دینا ہوگا۔ تیسرا قدم: مؤذن کا آدھار کارڈ کی فوٹو کاپی (Xerox) دینا ہوگی۔ یہ تینوں دستاویزات مسجد کی مہر (Seal) کے ساتھ ٹرسٹی کے دستخط شدہ ہونی چاہئیں۔ اگر آپ مسجد کے ٹرسٹی نہیں ہیں تو براہِ کرم یہ معلومات اپنی مسجد کے ٹرسٹی تک پہنچا دیں۔ ہم، اِن شاء اللہ، اسے مفت میں انسٹال کریں گے۔ کسی بھی سوال کے لیے WhatsApp کریں: +918838038635 اپنے موبائل پر Online Azan سے اذان سننے کے لیے… Online Azan App ڈاؤن لوڈ کریں اور شہر کا نام (مثلاً: Kurla) لکھیں۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 37 Visualizações
  • Come and meet Mufti Ihsan Hussaini

    Principal Rehan School Lahore Campus
    Come and meet Mufti Ihsan Hussaini Principal Rehan School Lahore Campus
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 37 Visualizações
  • پاکستان کو اپنی IKEA کیوں چاہیے؟

    اکثر لوگ کہتے ہیں: ”پاکستانی تو صرف وہ فرنیچر چاہتے ہیں جو دس سال چلے، IKEA جیسا بزنس یہاں نہیں چل سکتا“۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی وجہ ہے کہ ایسا بزنس پاکستان میں سب سے زیادہ کامیاب ہو سکتا ہے۔



    IKEA کیا ہے؟

    IKEA دنیا کی سب سے بڑی فرنیچر کمپنی ہے۔ یہ سویڈن میں 1943 میں ایک نوجوان انگوار کامپراد (Ingvar Kamprad) نے شروع کی تھی۔ اُس وقت فرنیچر بھاری اور مہنگا ہوتا تھا، عام لوگ خرید نہیں سکتے تھے۔ کامپراد نے سوچا:
    • فرنیچر کو سادہ ڈیزائن میں بناؤ۔
    • فلیٹ پیک (Flat Pack) کرو تاکہ ٹرک میں زیادہ سامان آ سکے اور ٹرانسپورٹ سستا ہو۔
    • کسٹمر خود آسانی سے اسمبل (assemble) کرے۔
    • اور سب سے اہم: کم ڈیزائن زیادہ تعداد میں بناؤ تاکہ قیمت نیچے آئے۔

    اسی لیے IKEA نے شروع میں ہزار ڈیزائن نہیں بنائے۔ انہوں نے صرف چند ڈیزائن منتخب کیے، ہزاروں لاکھوں بار وہی ڈیزائن بنایا، اور قیمت کم کرتے گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ IKEA دنیا کے 60 سے زیادہ ملکوں میں چھا گیا اور عام آدمی بھی خوبصورت اور جدید فرنیچر خریدنے لگا۔



    پاکستان: ایک سویا ہوا جن

    پاکستان میں روزانہ 20 ہزار بچے پیدا ہوتے ہیں۔ ہر سال 70 لاکھ نئے لوگ آبادی میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ سب بڑے ہو کر گھروں، اپارٹمنٹس، ہاسٹلز اور کرایے کے مکانوں میں رہیں گے اور انہیں فرنیچر چاہیے ہوگا — بیڈ، کرسی، الماری، میز۔

    لیکن آج زیادہ تر لوگ پرانا، بھاری لکڑی کا فرنیچر خریدتے ہیں کیونکہ سستا اور ماڈرن آپشن موجود نہیں۔ یہ ایک بہت بڑا خالی پن ہے جسے ایک پاکستانی IKEA پُر کر سکتا ہے۔



    پاکستانی مارکیٹ کی اصل ضرورت

    پاکستانی مڈل کلاس آج پچاس ہزار روپے کا سادہ بیڈ یا صوفہ چاہتا ہے، نہ کہ پانچ لاکھ روپے کا بھاری فرنیچر جو بیس سال چلے۔ وہ کرائے کے گھر میں رہتا ہے، اکثر شفٹ کرتا ہے، اور ہلکا، آسانی سے لے جانے والا فرنیچر چاہتا ہے۔

    IKEA کا اصل فارمولا یہی ہے: سادہ، سستا، ماڈرن اور آسانی سے جوڑنے والا فرنیچر۔



    1000 ڈیزائن نہیں — صرف 4 ڈیزائن!

    پاکستان میں عموماً فرنیچر والے کہتے ہیں: “ہمارے پاس سو ڈیزائن ہیں، آپ جو چاہیں لے لیں۔” لیکن بزنس کا اصول یہ ہے کہ زیادہ ڈیزائن = زیادہ خرچ۔

    IKEA نے یہ اصول توڑا۔ انہوں نے کہا: ہم ہزار ڈیزائن نہیں بنائیں گے۔ ہم صرف چار یا پانچ ڈیزائن لیں گے، اور لاکھوں بار وہی بنائیں گے۔
    • ایک بیڈ کا ڈیزائن
    • ایک صوفے کا ڈیزائن
    • ایک کرسی کا ڈیزائن
    • ایک میز کا ڈیزائن

    بس۔ جب آپ ہزاروں بار ایک ہی چیز بناتے ہیں، تو:
    • لاگت بہت کم ہو جاتی ہے۔
    • کوالٹی خود بہتر ہو جاتی ہے۔
    • قیمت ہر آدمی کی پہنچ میں آ جاتی ہے۔

    یہی وہ فیکٹری پراسس ہے جو پاکستان میں غائب ہے۔



    کیوں یہ پاکستان میں کامیاب ہوگا؟
    1. آبادی کا دباؤ: 25 کروڑ لوگ، لاکھوں نئے گھر ہر سال۔ سب کو سستا فرنیچر چاہیے۔
    2. چھوٹے اپارٹمنٹس اور ہاؤسنگ سوسائٹیز: اب ہر گھر 5 کمروں کا نہیں۔ چھوٹے گھروں میں موڈیولر اور اسپیس سیونگ فرنیچر ضروری ہے۔
    3. ایکسپورٹ پوٹینشل: پاکستان کا فرنیچر دبئی، سعودی عرب، افریقہ اور وسطی ایشیا کو بیچا جا سکتا ہے۔ سستا لیبر + ڈیزائن = خطے کا IKEA۔
    4. برانڈ کی کمی: Habitt یا Interwood ہیں مگر وہ مہنگے اور محدود ہیں۔ کوئی پاکستانی برانڈ آج تک IKEA جیسا mass market نہیں بنا۔



    پاکستان کو اپنی IKEA کیوں چاہیے؟
    • تاکہ نوجوانوں کو سستا، جدید اور آسان فرنیچر مل سکے۔
    • تاکہ ہم صرف لکڑی کے لاگ اور خام مال ایکسپورٹ نہ کریں بلکہ ویلیو ایڈڈ برانڈز دنیا کو بیچیں۔
    • تاکہ ہم روزگار اور فیکٹریوں میں لاکھوں نوکریاں پیدا کر سکیں۔
    • تاکہ پاکستان “Made in Pakistan” کے ساتھ دنیا کا فخر بنے۔



    آخری پیغام

    IKEA سویڈن کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے شروع ہوا اور دنیا بدل دی۔ پاکستان کے کسی شہر سے بھی ایک نوجوان اُٹھ کر یہی کر سکتا ہے۔

    سوچنا یہ نہیں کہ پاکستانی مارکیٹ مختلف ہے۔ سوچنا یہ ہے کہ یہ مارکیٹ بھوکی ہے، اور کوئی بھی جو یہ خلا پُر کرے گا، اربوں کمائے گا اور پاکستان کو بدل دے گا۔

    ہزار ڈیزائن چھوڑو — صرف چار ڈیزائن بنا کر ہزاروں بار بیچو۔
    یہی ہے وہ راز جو پاکستان کا IKEA بنائے گا۔
    پاکستان کو اپنی IKEA کیوں چاہیے؟ اکثر لوگ کہتے ہیں: ”پاکستانی تو صرف وہ فرنیچر چاہتے ہیں جو دس سال چلے، IKEA جیسا بزنس یہاں نہیں چل سکتا“۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی وجہ ہے کہ ایسا بزنس پاکستان میں سب سے زیادہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ ⸻ IKEA کیا ہے؟ IKEA دنیا کی سب سے بڑی فرنیچر کمپنی ہے۔ یہ سویڈن میں 1943 میں ایک نوجوان انگوار کامپراد (Ingvar Kamprad) نے شروع کی تھی۔ اُس وقت فرنیچر بھاری اور مہنگا ہوتا تھا، عام لوگ خرید نہیں سکتے تھے۔ کامپراد نے سوچا: • فرنیچر کو سادہ ڈیزائن میں بناؤ۔ • فلیٹ پیک (Flat Pack) کرو تاکہ ٹرک میں زیادہ سامان آ سکے اور ٹرانسپورٹ سستا ہو۔ • کسٹمر خود آسانی سے اسمبل (assemble) کرے۔ • اور سب سے اہم: کم ڈیزائن زیادہ تعداد میں بناؤ تاکہ قیمت نیچے آئے۔ اسی لیے IKEA نے شروع میں ہزار ڈیزائن نہیں بنائے۔ انہوں نے صرف چند ڈیزائن منتخب کیے، ہزاروں لاکھوں بار وہی ڈیزائن بنایا، اور قیمت کم کرتے گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ IKEA دنیا کے 60 سے زیادہ ملکوں میں چھا گیا اور عام آدمی بھی خوبصورت اور جدید فرنیچر خریدنے لگا۔ ⸻ پاکستان: ایک سویا ہوا جن پاکستان میں روزانہ 20 ہزار بچے پیدا ہوتے ہیں۔ ہر سال 70 لاکھ نئے لوگ آبادی میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ سب بڑے ہو کر گھروں، اپارٹمنٹس، ہاسٹلز اور کرایے کے مکانوں میں رہیں گے اور انہیں فرنیچر چاہیے ہوگا — بیڈ، کرسی، الماری، میز۔ لیکن آج زیادہ تر لوگ پرانا، بھاری لکڑی کا فرنیچر خریدتے ہیں کیونکہ سستا اور ماڈرن آپشن موجود نہیں۔ یہ ایک بہت بڑا خالی پن ہے جسے ایک پاکستانی IKEA پُر کر سکتا ہے۔ ⸻ پاکستانی مارکیٹ کی اصل ضرورت پاکستانی مڈل کلاس آج پچاس ہزار روپے کا سادہ بیڈ یا صوفہ چاہتا ہے، نہ کہ پانچ لاکھ روپے کا بھاری فرنیچر جو بیس سال چلے۔ وہ کرائے کے گھر میں رہتا ہے، اکثر شفٹ کرتا ہے، اور ہلکا، آسانی سے لے جانے والا فرنیچر چاہتا ہے۔ IKEA کا اصل فارمولا یہی ہے: سادہ، سستا، ماڈرن اور آسانی سے جوڑنے والا فرنیچر۔ ⸻ 1000 ڈیزائن نہیں — صرف 4 ڈیزائن! پاکستان میں عموماً فرنیچر والے کہتے ہیں: “ہمارے پاس سو ڈیزائن ہیں، آپ جو چاہیں لے لیں۔” لیکن بزنس کا اصول یہ ہے کہ زیادہ ڈیزائن = زیادہ خرچ۔ IKEA نے یہ اصول توڑا۔ انہوں نے کہا: ہم ہزار ڈیزائن نہیں بنائیں گے۔ ہم صرف چار یا پانچ ڈیزائن لیں گے، اور لاکھوں بار وہی بنائیں گے۔ • ایک بیڈ کا ڈیزائن • ایک صوفے کا ڈیزائن • ایک کرسی کا ڈیزائن • ایک میز کا ڈیزائن بس۔ جب آپ ہزاروں بار ایک ہی چیز بناتے ہیں، تو: • لاگت بہت کم ہو جاتی ہے۔ • کوالٹی خود بہتر ہو جاتی ہے۔ • قیمت ہر آدمی کی پہنچ میں آ جاتی ہے۔ یہی وہ فیکٹری پراسس ہے جو پاکستان میں غائب ہے۔ ⸻ کیوں یہ پاکستان میں کامیاب ہوگا؟ 1. آبادی کا دباؤ: 25 کروڑ لوگ، لاکھوں نئے گھر ہر سال۔ سب کو سستا فرنیچر چاہیے۔ 2. چھوٹے اپارٹمنٹس اور ہاؤسنگ سوسائٹیز: اب ہر گھر 5 کمروں کا نہیں۔ چھوٹے گھروں میں موڈیولر اور اسپیس سیونگ فرنیچر ضروری ہے۔ 3. ایکسپورٹ پوٹینشل: پاکستان کا فرنیچر دبئی، سعودی عرب، افریقہ اور وسطی ایشیا کو بیچا جا سکتا ہے۔ سستا لیبر + ڈیزائن = خطے کا IKEA۔ 4. برانڈ کی کمی: Habitt یا Interwood ہیں مگر وہ مہنگے اور محدود ہیں۔ کوئی پاکستانی برانڈ آج تک IKEA جیسا mass market نہیں بنا۔ ⸻ پاکستان کو اپنی IKEA کیوں چاہیے؟ • تاکہ نوجوانوں کو سستا، جدید اور آسان فرنیچر مل سکے۔ • تاکہ ہم صرف لکڑی کے لاگ اور خام مال ایکسپورٹ نہ کریں بلکہ ویلیو ایڈڈ برانڈز دنیا کو بیچیں۔ • تاکہ ہم روزگار اور فیکٹریوں میں لاکھوں نوکریاں پیدا کر سکیں۔ • تاکہ پاکستان “Made in Pakistan” کے ساتھ دنیا کا فخر بنے۔ ⸻ آخری پیغام IKEA سویڈن کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے شروع ہوا اور دنیا بدل دی۔ پاکستان کے کسی شہر سے بھی ایک نوجوان اُٹھ کر یہی کر سکتا ہے۔ سوچنا یہ نہیں کہ پاکستانی مارکیٹ مختلف ہے۔ سوچنا یہ ہے کہ یہ مارکیٹ بھوکی ہے، اور کوئی بھی جو یہ خلا پُر کرے گا، اربوں کمائے گا اور پاکستان کو بدل دے گا۔ ہزار ڈیزائن چھوڑو — صرف چار ڈیزائن بنا کر ہزاروں بار بیچو۔ یہی ہے وہ راز جو پاکستان کا IKEA بنائے گا۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 38 Visualizações
  • This guy just beat OpenAI and Grok with an AI that thinks for itself

    Meet Joseph Reth - the college kid who said "no" to tech giants and built something better.

    At 14, he was studying computer science.

    By 22, the biggest AI labs offered him life-changing money.

    He turned them all down to build Autopoiesis.

    His mission?

    Create AI that doesnt just generate answers, but actually reasons, checks its own work, and knows when it might be wrong.

    The goal: scientific superintelligence that can support real discoveries and transform how we understand the world.

    The results are insane:

    Autopoiesis model "Aristotle X1 Verify" just scored:
    → 92.4% on GPQA Diamond
    → 96.1% on SimpleQA

    These scores crush GPT-5, Grok 4, Gemini 2.5 Pro, and Claude.

    A small founder-led team just outperformed the industry giants.

    Now Oracle is backing them with enterprise-grade infrastructure.

    This isnt just another benchmark win.

    Its a step toward AI that knows when it doesnt know, checks its own answers, and can fuel reliable breakthroughs in science and discovery.

    While everyone else builds chatbots, this 22-year-old is building the future of intelligence.

    Follow me for more AI news

    Image source: theaifield on IG

    #AI #Autopoiesis #Oracle #OpenAI #Google #AIresearch #SuperIntelligence #TechNews #Innovation #AIbreakthrough
    This guy just beat OpenAI and Grok with an AI that thinks for itself 🚨 Meet Joseph Reth - the college kid who said "no" to tech giants and built something better. At 14, he was studying computer science. By 22, the biggest AI labs offered him life-changing money. He turned them all down to build Autopoiesis. His mission? Create AI that doesn't just generate answers, but actually reasons, checks its own work, and knows when it might be wrong. The goal: scientific superintelligence that can support real discoveries and transform how we understand the world. The results are insane: Autopoiesis' model "Aristotle X1 Verify" just scored: → 92.4% on GPQA Diamond → 96.1% on SimpleQA These scores crush GPT-5, Grok 4, Gemini 2.5 Pro, and Claude. A small founder-led team just outperformed the industry giants. Now Oracle is backing them with enterprise-grade infrastructure. This isn't just another benchmark win. It's a step toward AI that knows when it doesn't know, checks its own answers, and can fuel reliable breakthroughs in science and discovery. While everyone else builds chatbots, this 22-year-old is building the future of intelligence. Follow me for more AI news Image source: theaifield on IG #AI #Autopoiesis #Oracle #OpenAI #Google #AIresearch #SuperIntelligence #TechNews #Innovation #AIbreakthrough
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 424 Visualizações
  • Reminder to self
    Reminder to self
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 37 Visualizações
  • Please feel free to walk into any Rehan School location if you need shelter from rain, charge your phone or use the toilet.

    No spending required.

    Inspired by Mush Panjwani
    Please feel free to walk into any Rehan School location if you need shelter from rain, charge your phone or use the toilet. No spending required. Inspired by Mush Panjwani
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 38 Visualizações
  • کیا پاکستان میں بھی دنیا کا سب سے بڑا کجھور فیسٹیول ہو سکتا ہے؟

    جی ہاں! اگر ہم چاہیں، تو ضرور ہو سکتا ہے

    Via Tariq Tanveer

    بریدہ کجھور مارکیٹ – سعودی عرب
    دنیا کی سب سے بڑی کجھور مارکیٹ، جہاں ہر سال ایک عظیم الشان عالمی کجھور فیسٹیول کا انعقاد ہوتا ہے۔ لاکھوں ٹن کجھوریں، ہزاروں خریدار، ویلیو ایڈڈ مصنوعات، اور ایک مربوط مارکیٹنگ پلان کے تحت کجھور کو ایک برانڈ کی حیثیت دی گئی ہے۔
    پوری دنیا سے لاکھوں ٹورسٹ اس کجھور فیسٹیول کو وزٹ کرنے اتے ہیں اور جناب سعودی عرب نے اس کجھور فیسٹیول کو اپنے ملک میں پیسہ انجیکٹ کرنے کا سورس بنا لیا ہوا ہے ۔
    اس مارکیٹ کا ورچوئل وزٹ کے لیے لوکیشن بھی شیئر کر رہا ہوں ۔
    گوگل لوکیشن:
    https://maps.app.goo.gl/mCj4meW1j7YgHnqd8
    ایک دوسری سائٹ نے بھی اس کجھور فیسٹیول کو شیئر کیا ہے ۔
    https://www.facebook.com/share/1BDsjSW9BP/

    اور اب بات پاکستان کی…
    پاکستان دنیا کے بڑے کجھور پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے کئی علاقے کجھور کی اعلیٰ اقسام کے لیے مشہور ہیں۔ لیکن افسوس کہ اب تک ایک مربوط قومی حکمتِ عملی اور فیسٹیول کا تصور ہمارے ہاں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا گیا۔
    تو اب وقت ہے آگے بڑھنے کا!
    ایگری ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان (ATDCP)
    ہم پاکستان میں کجھور کا قومی دن ڈکلیئر کر کے اس کی سیلیبریشن کے لیے اے ٹی ڈی سی پی کی قیادت میں ہم یہ خواب شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں۔ ایک "نیشنل ڈیٹ فیسٹیول" (قومی کجھور میلہ) نہ صرف ہماری مقامی معیشت کو طاقت دے گا بلکہ:
    کجھور فارمنگ کو جدید خطوط پر استوار کرے گا
    سرٹیفائیڈ پلانٹ نرسریوں کی حوصلہ افزائی کرے گا
    ویلیو ایڈیڈ مصنوعات (ڈرنکس، چاکلیٹ، سرکہ، جام، شیمپو، سوپ، پاؤڈر وغیرہ) کو فروغ دے گا
    ایکسپورٹ کے لیے بہتر برانڈنگ اور پیکیجنگ کے دروازے کھولے گا
    کسانوں اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرے گا
    دنیا کو یہ پیغام دے گا کہ پاکستان صرف کجھور پیدا نہیں کرتا، کجھور کو برانڈ بھی کرتا ہے!
    اس کے ساتھ ساتھ کجھور کے پتوں سے جو ارٹ اینڈ کرافٹ بنایا جا سکتا ہے اور دیہاتی خواتین کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں کجھور ارٹ اینڈ کرافٹس بہت بڑا کردار ادا کر سکتی ہے ۔
    کیا ہم سب اس خواب کو حقیقت بنا سکتے ہیں؟
    جی ہاں! اگر ہم سب مل کر آواز بلند کریں، حکومت اور نجی ادارے یکجا ہوں، تو ہم ایک ایسا قومی کجھور فیسٹیول منعقد کر سکتے ہیں جو پاکستان کو ڈیٹ ایکانومی میں عالمی مقام دلا سکتا ہے۔
    بریدہ کو دیکھیں اور پاکستان کا تصور کریں – فرق صرف عمل کا ہے!
    چلیں، اب ہم اپنے کجھور کے کسان کو صرف کاشتکار نہیں، بلکہ ایک برانڈ بلڈر اور ویلیو ایڈیشن ایکسپرٹ بنائیں۔ اس سلسلے میں ایگری ٹورزم گزشتہ آٹھ سالوں سے پاکستان میں ایک کجھور فیسٹیول منعقد کر رہی ہے لیکن اس کا لیول ایک مقامی فیسٹیول کا سا بن کر رہ جاتا ہے ۔ تو آئیے اس تحریک کو ایک بڑے ڈیٹ پام فیسٹیول میں بدل دیں ۔
    پاکستان کا نواں سالانہ نیشنل ڈیٹ فیسٹیول— اسے انٹرنیشنل فیسٹیول کا درجہ دینا اب صرف خواب نہیں، بلکہ ہمارا اگلا قدم ہونا چاہیے ۔
    #NationalDateFestival
    #AgriTourismPakistan
    #BrandPakistaniDates
    #ValueAddition
    #GreenEconomy
    #KhushaalKisan
    #SustainableFarming
    #PakistaniDates
    #BureidahModelForPakistan
    #ATDCP
    #InvestInAgriTourism
    کیا پاکستان میں بھی دنیا کا سب سے بڑا کجھور فیسٹیول ہو سکتا ہے؟ جی ہاں! اگر ہم چاہیں، تو ضرور ہو سکتا ہے Via Tariq Tanveer 🌴 بریدہ کجھور مارکیٹ – سعودی عرب 🌴 دنیا کی سب سے بڑی کجھور مارکیٹ، جہاں ہر سال ایک عظیم الشان عالمی کجھور فیسٹیول کا انعقاد ہوتا ہے۔ لاکھوں ٹن کجھوریں، ہزاروں خریدار، ویلیو ایڈڈ مصنوعات، اور ایک مربوط مارکیٹنگ پلان کے تحت کجھور کو ایک برانڈ کی حیثیت دی گئی ہے۔ پوری دنیا سے لاکھوں ٹورسٹ اس کجھور فیسٹیول کو وزٹ کرنے اتے ہیں اور جناب سعودی عرب نے اس کجھور فیسٹیول کو اپنے ملک میں پیسہ انجیکٹ کرنے کا سورس بنا لیا ہوا ہے ۔ اس مارکیٹ کا ورچوئل وزٹ کے لیے لوکیشن بھی شیئر کر رہا ہوں ۔ 📍 گوگل لوکیشن: https://maps.app.goo.gl/mCj4meW1j7YgHnqd8 ایک دوسری سائٹ نے بھی اس کجھور فیسٹیول کو شیئر کیا ہے ۔ https://www.facebook.com/share/1BDsjSW9BP/ 🇵🇰 اور اب بات پاکستان کی… پاکستان دنیا کے بڑے کجھور پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے کئی علاقے کجھور کی اعلیٰ اقسام کے لیے مشہور ہیں۔ لیکن افسوس کہ اب تک ایک مربوط قومی حکمتِ عملی اور فیسٹیول کا تصور ہمارے ہاں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا گیا۔ 🌟 تو اب وقت ہے آگے بڑھنے کا! ایگری ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان (ATDCP) ہم پاکستان میں کجھور کا قومی دن ڈکلیئر کر کے اس کی سیلیبریشن کے لیے اے ٹی ڈی سی پی کی قیادت میں ہم یہ خواب شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں۔ ایک "نیشنل ڈیٹ فیسٹیول" (قومی کجھور میلہ) نہ صرف ہماری مقامی معیشت کو طاقت دے گا بلکہ: ✅ کجھور فارمنگ کو جدید خطوط پر استوار کرے گا ✅ سرٹیفائیڈ پلانٹ نرسریوں کی حوصلہ افزائی کرے گا ✅ ویلیو ایڈیڈ مصنوعات (ڈرنکس، چاکلیٹ، سرکہ، جام، شیمپو، سوپ، پاؤڈر وغیرہ) کو فروغ دے گا ✅ ایکسپورٹ کے لیے بہتر برانڈنگ اور پیکیجنگ کے دروازے کھولے گا ✅ کسانوں اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرے گا ✅ دنیا کو یہ پیغام دے گا کہ پاکستان صرف کجھور پیدا نہیں کرتا، کجھور کو برانڈ بھی کرتا ہے! اس کے ساتھ ساتھ کجھور کے پتوں سے جو ارٹ اینڈ کرافٹ بنایا جا سکتا ہے اور دیہاتی خواتین کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں کجھور ارٹ اینڈ کرافٹس بہت بڑا کردار ادا کر سکتی ہے ۔ 🌴 کیا ہم سب اس خواب کو حقیقت بنا سکتے ہیں؟ جی ہاں! اگر ہم سب مل کر آواز بلند کریں، حکومت اور نجی ادارے یکجا ہوں، تو ہم ایک ایسا قومی کجھور فیسٹیول منعقد کر سکتے ہیں جو پاکستان کو ڈیٹ ایکانومی میں عالمی مقام دلا سکتا ہے۔ ✨ بریدہ کو دیکھیں اور پاکستان کا تصور کریں – فرق صرف عمل کا ہے! چلیں، اب ہم اپنے کجھور کے کسان کو صرف کاشتکار نہیں، بلکہ ایک برانڈ بلڈر اور ویلیو ایڈیشن ایکسپرٹ بنائیں۔ اس سلسلے میں ایگری ٹورزم گزشتہ آٹھ سالوں سے پاکستان میں ایک کجھور فیسٹیول منعقد کر رہی ہے لیکن اس کا لیول ایک مقامی فیسٹیول کا سا بن کر رہ جاتا ہے ۔ تو آئیے اس تحریک کو ایک بڑے ڈیٹ پام فیسٹیول میں بدل دیں ۔ پاکستان کا نواں سالانہ نیشنل ڈیٹ فیسٹیول— اسے انٹرنیشنل فیسٹیول کا درجہ دینا اب صرف خواب نہیں، بلکہ ہمارا اگلا قدم ہونا چاہیے ۔ #NationalDateFestival #AgriTourismPakistan #BrandPakistaniDates #ValueAddition #GreenEconomy #KhushaalKisan #SustainableFarming #PakistaniDates #BureidahModelForPakistan #ATDCP #InvestInAgriTourism
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 5457 Visualizações
  • ہنری فورڈ کا بھولا ہوا سبق — اور پاکستان کیوں جاگے؟

    جب ہنری فورڈ نے 1908ء میں ماڈل ٹی لانچ کیا تو اُس نے صرف گاڑی نہیں بنائی۔ اُس نے دنیا کو ایک نظام دیا۔ اُس نے اسمبلنگ لائن ایجاد کی، کام کو چھوٹے چھوٹے مرحلوں میں تقسیم کیا، اور مزدوروں کی تنخواہیں دگنی کر دیں تاکہ وہی مزدور اپنی بنائی ہوئی گاڑی خرید سکیں۔

    اُس کی سمجھ یہ تھی: پہلے مقدار، پھر معیار۔ جب کسی چیز کو بار بار بنایا جائے تو وہ خودبخود بہتر اور سستی ہوتی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماڈل ٹی کی قیمت 825 ڈالر سے کم ہو کر صرف 260 ڈالر رہ گئی۔ فورڈ نے صرف گاڑی نہیں بیچی — اُس نے ایک فیکٹری سسٹم بنایا جس نے امریکہ کو بدل ڈالا۔



    پاکستان: ایک سویا ہوا دیو

    اب ذرا پاکستان کو دیکھیں۔ یہاں روزانہ 20 ہزار بچے پیدا ہوتے ہیں۔ ہر سال 70 لاکھ نئے لوگ ہمارے ملک میں شامل ہو جاتے ہیں۔ جب یہ بچے 21 سال کے ہوں گے تو اُنہیں سائیکلیں، موٹرسائیکلیں، رکشے، کاریں اور نوکریاں چاہییں۔

    لیکن ہم بنا کیا رہے ہیں؟ تقریباً کچھ نہیں۔
    • کوئی پاکستانی سائیکل برانڈ نہیں۔
    • کوئی پاکستانی موٹرسائیکل برانڈ نہیں۔
    • کوئی پاکستانی کار نہیں۔
    • کوئی پاکستانی رکشہ نہیں۔

    ہم اب بھی خوش ہیں کہ چاول، کپاس، پیاز، مسالے باہر بھیج رہے ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہمیں سکھایا تھا: کچا مال بھیجو، تیار مال خرید لو۔

    ہم چین کے سپلائر بننے پر خوش ہیں، مگر اپنے لئے بنانے پر تیار نہیں۔



    حکومت کا بہانہ

    زیادہ تر بزنس مین کہتے ہیں: “حکومت سپورٹ نہیں کرتی۔”

    لیکن تاریخ دیکھیں۔ امریکہ میں راکفیلر نے اسٹینڈرڈ آئل بنایا جو اُس زمانے کی سب سے بڑی کمپنی تھی۔ حکومت نے اُس کی کمپنی کو 34 حصوں میں توڑ دیا۔ کیا اُس نے ہار مانی؟ نہیں۔ اُس نے پھر سے بنایا، سرمایہ لگایا اور پہلے سے زیادہ کامیاب ہو گیا۔

    تو ہم کیوں ہار مانتے ہیں؟ اگر حکومت ساتھ نہیں بھی دے رہی تو عوام تو ساتھ ہیں۔ گاہک آپ کے منتظر ہیں۔



    پاکستان کی اپنی مثالیں

    ہمیں اب بیرونِ ملک دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں۔
    • جبرن نیاز نے صرف چھ سال میں دنیا کے سب سے بڑے ایمیزون برانڈز میں سے ایک بنایا۔ پاکستان سے فیکٹریاں لگائیں، ہزاروں کنٹینرز ایکسپورٹ کئے، لاکھوں نوکریاں دیں۔ یہ ثبوت ہے کہ اگر حوصلہ اور نظام ہو تو پاکستان میں بھی عالمی سلطنت بن سکتی ہے۔
    • شان مصالحہ نے 1981ء میں کراچی کے ایک چھوٹے کمرے سے آغاز کیا۔ آج یہ 70 سے زائد ممالک میں بکتا ہے۔ ہر بڑے شہر کی کچن الماری میں آپ کو شان نظر آئے گا۔ یہ سب مشکلات کے باوجود ہوا۔

    یہ کامیابیوں کی کہانیاں سیلیکون ویلی کی نہیں — یہ کراچی اور لاہور کی ہیں۔ یہ ثبوت ہیں کہ یہ سب یہاں، ہمارے اپنے ملک میں ممکن ہے۔



    ہمیں کیا بنانا چاہیے؟
    • اپنی سائیکل جس کا خواب ہر بچہ دیکھے۔
    • اپنی موٹرسائیکل جسے ہر نوجوان خرید سکے۔
    • اپنا الیکٹرک رکشہ جو لاکھوں لوگوں کو روز لے جا سکے۔
    • اپنی چھوٹی کار جو مکمل طور پر پاکستان میں بنے۔
    • اپنے ٹرک، ٹریکٹر اور بسیں جو کسانوں اور مزدوروں کے کام آئیں۔

    اور صرف گاڑیاں ہی نہیں — ہمیں کپڑا، الیکٹرانکس، گھر کے استعمال کی عام چیزیں بھی خود بنانی ہیں۔



    پاکستان ڈریم

    یہ صرف فورڈ کے خواب سے بڑا نہیں — یہ راکفیلر کی سلطنت سے بھی بڑا ہے۔ یہ 25 کروڑ عوام کا خواب ہے۔ یہ ہر سال پیدا ہونے والے 70 لاکھ نئے پاکستانیوں کا خواب ہے۔

    ایک ایسا خواب جہاں ہر نوجوان، ہر بزنس مین، ہر محنت کش پاکستان کا نام لے کر دنیا کے سامنے فیکٹریاں، برانڈز اور نوکریاں بنائے۔

    میں اپنی اسکول بنانے کی وجہ سے رات کو سو نہیں پاتا کیونکہ جوش ہے۔ آپ کو بھی اپنے آئیڈیا، اپنی فیکٹری، اپنے اسٹارٹ اپ کی وجہ سے نیند نہیں آنی چاہیے۔ جب تک پاکستان کا نام دنیا میں نہ گونجے۔



    جاگ اُٹھو۔ بناؤ۔ دُہراؤ۔

    ہنری فورڈ نے اجازت کا انتظار نہیں کیا۔ راکفیلر نے ٹوٹنے کے بعد بھی ہمت نہیں ہاری۔ جبرن نیاز نے حکومت کا انتظار نہیں کیا۔ شان مصالحہ نے رُکاوٹوں پر قابو پایا۔

    تو آپ کیوں رکے ہوئے ہیں؟

    بہانے بند کرو۔ کچا مال بیچنا بند کرو۔ سونا مت سوؤ۔ فیکٹری لگاؤ۔ برانڈ بناؤ۔ ملک بناؤ۔
    • مقدار معیار لاتی ہے۔
    • دُہرانا کمال لاتا ہے۔
    • بڑے پیمانے پر بنانا قیمت کم کرتا ہے۔

    جاگ اُٹھو پاکستان۔ سائیکل بناؤ۔ رکشہ بناؤ۔ کار بناؤ۔ خواب بناؤ۔

    اور چین سے مت بیٹھو جب تک پاکستان ایک پہلی دنیا کا ملک نہ بن جائے — بہانوں سے نہیں بلکہ فیکٹریوں، نظام اور حوصلے سے۔
    ہنری فورڈ کا بھولا ہوا سبق — اور پاکستان کیوں جاگے؟ جب ہنری فورڈ نے 1908ء میں ماڈل ٹی لانچ کیا تو اُس نے صرف گاڑی نہیں بنائی۔ اُس نے دنیا کو ایک نظام دیا۔ اُس نے اسمبلنگ لائن ایجاد کی، کام کو چھوٹے چھوٹے مرحلوں میں تقسیم کیا، اور مزدوروں کی تنخواہیں دگنی کر دیں تاکہ وہی مزدور اپنی بنائی ہوئی گاڑی خرید سکیں۔ اُس کی سمجھ یہ تھی: پہلے مقدار، پھر معیار۔ جب کسی چیز کو بار بار بنایا جائے تو وہ خودبخود بہتر اور سستی ہوتی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماڈل ٹی کی قیمت 825 ڈالر سے کم ہو کر صرف 260 ڈالر رہ گئی۔ فورڈ نے صرف گاڑی نہیں بیچی — اُس نے ایک فیکٹری سسٹم بنایا جس نے امریکہ کو بدل ڈالا۔ ⸻ پاکستان: ایک سویا ہوا دیو اب ذرا پاکستان کو دیکھیں۔ یہاں روزانہ 20 ہزار بچے پیدا ہوتے ہیں۔ ہر سال 70 لاکھ نئے لوگ ہمارے ملک میں شامل ہو جاتے ہیں۔ جب یہ بچے 21 سال کے ہوں گے تو اُنہیں سائیکلیں، موٹرسائیکلیں، رکشے، کاریں اور نوکریاں چاہییں۔ لیکن ہم بنا کیا رہے ہیں؟ تقریباً کچھ نہیں۔ • کوئی پاکستانی سائیکل برانڈ نہیں۔ • کوئی پاکستانی موٹرسائیکل برانڈ نہیں۔ • کوئی پاکستانی کار نہیں۔ • کوئی پاکستانی رکشہ نہیں۔ ہم اب بھی خوش ہیں کہ چاول، کپاس، پیاز، مسالے باہر بھیج رہے ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہمیں سکھایا تھا: کچا مال بھیجو، تیار مال خرید لو۔ ہم چین کے سپلائر بننے پر خوش ہیں، مگر اپنے لئے بنانے پر تیار نہیں۔ ⸻ حکومت کا بہانہ زیادہ تر بزنس مین کہتے ہیں: “حکومت سپورٹ نہیں کرتی۔” لیکن تاریخ دیکھیں۔ امریکہ میں راکفیلر نے اسٹینڈرڈ آئل بنایا جو اُس زمانے کی سب سے بڑی کمپنی تھی۔ حکومت نے اُس کی کمپنی کو 34 حصوں میں توڑ دیا۔ کیا اُس نے ہار مانی؟ نہیں۔ اُس نے پھر سے بنایا، سرمایہ لگایا اور پہلے سے زیادہ کامیاب ہو گیا۔ تو ہم کیوں ہار مانتے ہیں؟ اگر حکومت ساتھ نہیں بھی دے رہی تو عوام تو ساتھ ہیں۔ گاہک آپ کے منتظر ہیں۔ ⸻ پاکستان کی اپنی مثالیں ہمیں اب بیرونِ ملک دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں۔ • جبرن نیاز نے صرف چھ سال میں دنیا کے سب سے بڑے ایمیزون برانڈز میں سے ایک بنایا۔ پاکستان سے فیکٹریاں لگائیں، ہزاروں کنٹینرز ایکسپورٹ کئے، لاکھوں نوکریاں دیں۔ یہ ثبوت ہے کہ اگر حوصلہ اور نظام ہو تو پاکستان میں بھی عالمی سلطنت بن سکتی ہے۔ • شان مصالحہ نے 1981ء میں کراچی کے ایک چھوٹے کمرے سے آغاز کیا۔ آج یہ 70 سے زائد ممالک میں بکتا ہے۔ ہر بڑے شہر کی کچن الماری میں آپ کو شان نظر آئے گا۔ یہ سب مشکلات کے باوجود ہوا۔ یہ کامیابیوں کی کہانیاں سیلیکون ویلی کی نہیں — یہ کراچی اور لاہور کی ہیں۔ یہ ثبوت ہیں کہ یہ سب یہاں، ہمارے اپنے ملک میں ممکن ہے۔ ⸻ ہمیں کیا بنانا چاہیے؟ • اپنی سائیکل جس کا خواب ہر بچہ دیکھے۔ • اپنی موٹرسائیکل جسے ہر نوجوان خرید سکے۔ • اپنا الیکٹرک رکشہ جو لاکھوں لوگوں کو روز لے جا سکے۔ • اپنی چھوٹی کار جو مکمل طور پر پاکستان میں بنے۔ • اپنے ٹرک، ٹریکٹر اور بسیں جو کسانوں اور مزدوروں کے کام آئیں۔ اور صرف گاڑیاں ہی نہیں — ہمیں کپڑا، الیکٹرانکس، گھر کے استعمال کی عام چیزیں بھی خود بنانی ہیں۔ ⸻ پاکستان ڈریم یہ صرف فورڈ کے خواب سے بڑا نہیں — یہ راکفیلر کی سلطنت سے بھی بڑا ہے۔ یہ 25 کروڑ عوام کا خواب ہے۔ یہ ہر سال پیدا ہونے والے 70 لاکھ نئے پاکستانیوں کا خواب ہے۔ ایک ایسا خواب جہاں ہر نوجوان، ہر بزنس مین، ہر محنت کش پاکستان کا نام لے کر دنیا کے سامنے فیکٹریاں، برانڈز اور نوکریاں بنائے۔ میں اپنی اسکول بنانے کی وجہ سے رات کو سو نہیں پاتا کیونکہ جوش ہے۔ آپ کو بھی اپنے آئیڈیا، اپنی فیکٹری، اپنے اسٹارٹ اپ کی وجہ سے نیند نہیں آنی چاہیے۔ جب تک پاکستان کا نام دنیا میں نہ گونجے۔ ⸻ جاگ اُٹھو۔ بناؤ۔ دُہراؤ۔ ہنری فورڈ نے اجازت کا انتظار نہیں کیا۔ راکفیلر نے ٹوٹنے کے بعد بھی ہمت نہیں ہاری۔ جبرن نیاز نے حکومت کا انتظار نہیں کیا۔ شان مصالحہ نے رُکاوٹوں پر قابو پایا۔ تو آپ کیوں رکے ہوئے ہیں؟ بہانے بند کرو۔ کچا مال بیچنا بند کرو۔ سونا مت سوؤ۔ فیکٹری لگاؤ۔ برانڈ بناؤ۔ ملک بناؤ۔ • مقدار معیار لاتی ہے۔ • دُہرانا کمال لاتا ہے۔ • بڑے پیمانے پر بنانا قیمت کم کرتا ہے۔ جاگ اُٹھو پاکستان۔ سائیکل بناؤ۔ رکشہ بناؤ۔ کار بناؤ۔ خواب بناؤ۔ اور چین سے مت بیٹھو جب تک پاکستان ایک پہلی دنیا کا ملک نہ بن جائے — بہانوں سے نہیں بلکہ فیکٹریوں، نظام اور حوصلے سے۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 37 Visualizações