• 0 Comentários 0 Compartilhamentos 38 Visualizações
  • 0 Comentários 0 Compartilhamentos 36 Visualizações
  • ٹیوٹا ٹریننگ کا پہلا مرحلہ مکمل
    الحمدللہ! ریحان فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام TEVTA پنجاب کے لیے منعقدہ مصنوعی ذہانت (AI) ٹریننگ پروگرام کے پہلے بیچ کی اختتامی نشست کامیابی کے ساتھ مکمل ہوئی۔

    اس موقع پر چیئرمین TEVTA پنجاب، بریگیڈیئر محمد ساجد کھوکھر (SI(M), ریٹائرڈ)، بانی ریحان فاؤنڈیشن محترم ریحان اللہ والا، اور پوری ریحان فاؤنڈیشن ٹیم کی شمولیت اس پروگرام کا اعزاز بنی۔

    یہ تربیتی سلسلہ TEVTA انسٹرکٹرز کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور تدریسی عمل میں جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کی طرف ایک عملی قدم ہے۔

    مجھے بطور ٹرینر اس پروگرام کا حصہ بننے اور اپنے علم و تجربہ شرکاء تک پہنچانے کا موقع ملا، جس پر میں اللہ کا شکر گزار ہوں اور چیئرمین TEVTA، ریحان فاؤنڈیشن اور تمام شریک ساتھیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

    دعا ہے کہ یہ کوشش ہمارے فنی و تعلیمی نظام کو مزید مضبوط اور جدید خطوط پر استوار کرنے کا ذریعہ بنے۔

    احسان احمد حسینی
    ٹرینر، ریحان فاؤنڈیشن
    ٹیوٹا ٹریننگ کا پہلا مرحلہ مکمل الحمدللہ! ریحان فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام TEVTA پنجاب کے لیے منعقدہ مصنوعی ذہانت (AI) ٹریننگ پروگرام کے پہلے بیچ کی اختتامی نشست کامیابی کے ساتھ مکمل ہوئی۔ اس موقع پر چیئرمین TEVTA پنجاب، بریگیڈیئر محمد ساجد کھوکھر (SI(M), ریٹائرڈ)، بانی ریحان فاؤنڈیشن محترم ریحان اللہ والا، اور پوری ریحان فاؤنڈیشن ٹیم کی شمولیت اس پروگرام کا اعزاز بنی۔ یہ تربیتی سلسلہ TEVTA انسٹرکٹرز کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور تدریسی عمل میں جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کی طرف ایک عملی قدم ہے۔ مجھے بطور ٹرینر اس پروگرام کا حصہ بننے اور اپنے علم و تجربہ شرکاء تک پہنچانے کا موقع ملا، جس پر میں اللہ کا شکر گزار ہوں اور چیئرمین TEVTA، ریحان فاؤنڈیشن اور تمام شریک ساتھیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ دعا ہے کہ یہ کوشش ہمارے فنی و تعلیمی نظام کو مزید مضبوط اور جدید خطوط پر استوار کرنے کا ذریعہ بنے۔ احسان احمد حسینی ٹرینر، ریحان فاؤنڈیشن
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 567 Visualizações
  • دنیا کا پہلا اے آئی سکول
    Rehan School Lahore Campus
    استفادہ عام کے لیئے منصورہ مین بازار میں شروع ہوچکا ہے
    ہر صبح 10 بجے آپ وزٹ کر سکتے ہیں
    دنیا کا پہلا اے آئی سکول Rehan School Lahore Campus استفادہ عام کے لیئے منصورہ مین بازار میں شروع ہوچکا ہے ہر صبح 10 بجے آپ وزٹ کر سکتے ہیں
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 54 Visualizações
  • 1: Open ChatGPT
    2. Upload your image where face is visible properly.
    3. Write this prompt.

    This person stands atop a rocky cliff holding the Pakistan national flag on a tall pole, the fabric fluttering dramatically in the wind. He plants his feet firmly, looking out at the horizon with strength and pride. Behind him, a vast blue sky with dynamic clouds. Cinematic lighting, sharp textures, bold composition, hyper-realistic photography, patriotic tone, 4:5 portrait.
    1: Open ChatGPT 2. Upload your image where face is visible properly. 3. Write this prompt. This person stands atop a rocky cliff holding the Pakistan national flag on a tall pole, the fabric fluttering dramatically in the wind. He plants his feet firmly, looking out at the horizon with strength and pride. Behind him, a vast blue sky with dynamic clouds. Cinematic lighting, sharp textures, bold composition, hyper-realistic photography, patriotic tone, 4:5 portrait.
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 177 Visualizações
  • “اصل آزادی” — ریحان اللہ والا کا نوجوانوں سے خطاب

    میرے پیارے بھائیو اور بہنو،
    پاکستان کے جواں ہمت بیٹو اور بیٹیو،

    آج ہم یومِ آزادی منا رہے ہیں… لیکن ایک کڑوی حقیقت سن لو:
    ہم ابھی سچ مچ آزاد نہیں ہوئے۔

    1947 میں ہم نے سیاسی آزادی حاصل کر لی، مگر معاشی آزادی؟… وہ آج بھی ایک خواب ہے۔
    کیونکہ ایک ایسی قوم جہاں کروڑوں لوگ انتہا کی غربت میں جکڑے ہوں، جہاں بچے بھوکے سوئیں، جہاں نوجوان تعلیم یافتہ ہو کر بھی روزگار نہ پائیں — وہ قوم حقیقت میں آزاد نہیں کہلا سکتی۔

    لیکن خوشخبری یہ ہے کہ تاریخ میں پہلی بار یہ طاقت آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔
    یہ طاقت ہے AI – مصنوعی ذہانت، اور اس کا دروازہ ہے ChatGPT۔

    یہ صرف ایک ایپ نہیں — یہ ایک سپر پاور ہے!
    اس کے ساتھ لياڑی کا لڑکا سیلیکون ویلی کے پروگرامر کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ گلگت کی بیٹی گھر بیٹھے دنیا بھر میں کاروبار کر سکتی ہے۔

    میرا آپ کو اس یومِ آزادی پر چیلنج ہے:
    آپ میں سے ہر شخص ChatGPT کم از کم 10 لوگوں کو سکھائے۔
    صرف بات نہ کریں — ان کا فون پکڑ کر انسٹال کریں، طریقہ بتائیں، اور ان کے جواب دہ بنیں۔
    یقین دہانی کروائیں کہ وہ اسے دن میں کم از کم دو بار استعمال کریں، سیکھنے کے لیے، کمانے کے لیے، آگے بڑھنے کے لیے۔

    اگر ایک شخص 10 کو سکھائے، اور وہ 10 مزید 10 کو سکھائیں، تو چند مہینوں میں لاکھوں پاکستانی غربت کی زنجیروں کو توڑ سکتے ہیں۔

    یہ وقت ڈرامے دیکھنے کا نہیں، بے مقصد سوشل میڈیا اسکرول کرنے کا نہیں، فضول گپ شپ کرنے کا نہیں۔
    یہ وقت ہے خود کو بنانے کا، اپنے محلے کو بنانے کا، اپنے پاکستان کو بنانے کا۔

    یاد رکھو:
    ہم اُس دن سچ مچ آزاد ہوں گے جب کوئی پاکستانی بھوکا نہ سوئے۔
    ہم اُس دن آزاد ہوں گے جب ہر نوجوان عزت سے کما سکے۔
    ہم اُس دن آزاد ہوں گے جب ہم سب مل کر ایک دوسرے کو غربت سے نکالیں۔

    تو میرا پیغام ہے:
    سو مت! رکو مت! AI سیکھو، AI سکھاؤ، AI استعمال کرو!
    اور اس یومِ آزادی کو پاکستان کی اصل آزادی کی شروعات بنا دو۔

    پاکستان زندہ باد!
    “اصل آزادی” — ریحان اللہ والا کا نوجوانوں سے خطاب میرے پیارے بھائیو اور بہنو، پاکستان کے جواں ہمت بیٹو اور بیٹیو، آج ہم یومِ آزادی منا رہے ہیں… لیکن ایک کڑوی حقیقت سن لو: ہم ابھی سچ مچ آزاد نہیں ہوئے۔ 1947 میں ہم نے سیاسی آزادی حاصل کر لی، مگر معاشی آزادی؟… وہ آج بھی ایک خواب ہے۔ کیونکہ ایک ایسی قوم جہاں کروڑوں لوگ انتہا کی غربت میں جکڑے ہوں، جہاں بچے بھوکے سوئیں، جہاں نوجوان تعلیم یافتہ ہو کر بھی روزگار نہ پائیں — وہ قوم حقیقت میں آزاد نہیں کہلا سکتی۔ لیکن خوشخبری یہ ہے کہ تاریخ میں پہلی بار یہ طاقت آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ یہ طاقت ہے AI – مصنوعی ذہانت، اور اس کا دروازہ ہے ChatGPT۔ یہ صرف ایک ایپ نہیں — یہ ایک سپر پاور ہے! اس کے ساتھ لياڑی کا لڑکا سیلیکون ویلی کے پروگرامر کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ گلگت کی بیٹی گھر بیٹھے دنیا بھر میں کاروبار کر سکتی ہے۔ میرا آپ کو اس یومِ آزادی پر چیلنج ہے: آپ میں سے ہر شخص ChatGPT کم از کم 10 لوگوں کو سکھائے۔ صرف بات نہ کریں — ان کا فون پکڑ کر انسٹال کریں، طریقہ بتائیں، اور ان کے جواب دہ بنیں۔ یقین دہانی کروائیں کہ وہ اسے دن میں کم از کم دو بار استعمال کریں، سیکھنے کے لیے، کمانے کے لیے، آگے بڑھنے کے لیے۔ اگر ایک شخص 10 کو سکھائے، اور وہ 10 مزید 10 کو سکھائیں، تو چند مہینوں میں لاکھوں پاکستانی غربت کی زنجیروں کو توڑ سکتے ہیں۔ یہ وقت ڈرامے دیکھنے کا نہیں، بے مقصد سوشل میڈیا اسکرول کرنے کا نہیں، فضول گپ شپ کرنے کا نہیں۔ یہ وقت ہے خود کو بنانے کا، اپنے محلے کو بنانے کا، اپنے پاکستان کو بنانے کا۔ یاد رکھو: ہم اُس دن سچ مچ آزاد ہوں گے جب کوئی پاکستانی بھوکا نہ سوئے۔ ہم اُس دن آزاد ہوں گے جب ہر نوجوان عزت سے کما سکے۔ ہم اُس دن آزاد ہوں گے جب ہم سب مل کر ایک دوسرے کو غربت سے نکالیں۔ تو میرا پیغام ہے: سو مت! رکو مت! AI سیکھو، AI سکھاؤ، AI استعمال کرو! اور اس یومِ آزادی کو پاکستان کی اصل آزادی کی شروعات بنا دو۔ پاکستان زندہ باد! 🇵🇰
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 92 Visualizações
  • ایک چھوٹے موچی کا بڑا خواب

    1894 کی سرد شام تھی۔
    زلین (چیکوسلواکیہ) کے ایک چھوٹے سے قصبے میں، ایک نوجوان تھامس باچا اپنی دکان کے باہر بیٹھا جوتے سی رہا تھا۔
    ہاتھ کھال سے بھرے ہوئے، کپڑے پر دھول، اور دل میں ایک بے چین خواہش…
    “کیا میرا بنایا ہوا جوتا ایک دن اس قصبے سے نکل کر پوری دنیا میں جا سکتا ہے؟”

    لوگ ہنستے تھے —
    “تھامس! یہ خواب امیروں کے لیے ہیں، موچیوں کے لیے نہیں!”

    لیکن تھامس نے دل میں طے کر لیا:
    “میں ثابت کر کے دکھاؤں گا کہ چھوٹا کاریگر بھی دنیا بدل سکتا ہے۔”



    سفر کا آغاز

    پہلے دن اس کے پاس بس ایک چھوٹی دکان، چند اوزار، اور تھوڑی سی کھال تھی۔
    وہ صبح سے رات تک جوتے بناتا، خود ہی بیچتا، اور ہر گاہک سے کہتا:
    “یہ صرف جوتا نہیں، یہ میرے ہاتھ کی محنت اور میرا وعدہ ہے کہ یہ لمبے عرصے چلے گا۔”

    رفتہ رفتہ لوگ اس کے جوتوں کو پہچاننے لگے۔
    لیکن ایک دن اس نے سوچا — “اگر میں زیادہ تیزی اور بہتر معیار سے جوتے بنا سکوں تو میں مزید لوگوں تک پہنچ سکتا ہوں”۔



    مشینوں کا جادو

    یہ وہ لمحہ تھا جب اس نے سب کچھ داؤ پر لگا کر امریکہ سے مشینیں منگوائیں۔
    گاؤں کے لوگ حیران تھے — “اتنا خرچ؟”
    لیکن تھامس جانتا تھا کہ بڑوں کے خواب، بڑے فیصلے مانگتے ہیں۔

    مشینیں آئیں، پیداوار بڑھی، قیمت کم ہوئی، معیار ایک جیسا ہوا۔
    اب جوتے صرف امیروں کے لیے نہیں رہے — کسان، مزدور، استاد، سب کے لیے۔



    دنیا تک رسائی

    چند سال میں وہ قصبے کی دکان شہر کا برانڈ بنی، اور پھر ایک دن… دنیا کا۔
    اس نے صرف جوتے نہیں بیچے — اس نے “Bata” کا نام بیچا، ایک بھروسہ بیچا۔

    1932 تک، “Bata” 50 ممالک میں پہنچ چکا تھا۔



    پاکستان کی کہانی کہاں ہے؟

    آج پشاور، لاہور اور کراچی میں ہزاروں کاریگر جوتے بنا رہے ہیں، جن کا معیار دنیا کے بڑے برانڈز سے کم نہیں۔
    فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے ابھی وہ ایک فیصلہ نہیں لیا… مشین اور برانڈ کا فیصلہ۔

    ہماری دکانوں میں ٹیلنٹ ہے، ہنر ہے، محنت ہے — لیکن دنیا تک پہنچنے کا سسٹم نہیں۔
    جب تک ہم برانڈنگ، یکساں معیار، اور جدید پیداوار نہیں اپناتے، تب تک ہم عالمی سطح پر نہیں جا سکتے۔



    سبق:
    تھامس باچا آپ سے زیادہ امیر نہیں تھا، زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھا — وہ بس ایک بات جانتا تھا:
    سوچ گاؤں کی نہیں، دنیا کی رکھو۔
    ایک چھوٹے موچی کا بڑا خواب 1894 کی سرد شام تھی۔ زلین (چیکوسلواکیہ) کے ایک چھوٹے سے قصبے میں، ایک نوجوان تھامس باچا اپنی دکان کے باہر بیٹھا جوتے سی رہا تھا۔ ہاتھ کھال سے بھرے ہوئے، کپڑے پر دھول، اور دل میں ایک بے چین خواہش… “کیا میرا بنایا ہوا جوتا ایک دن اس قصبے سے نکل کر پوری دنیا میں جا سکتا ہے؟” لوگ ہنستے تھے — “تھامس! یہ خواب امیروں کے لیے ہیں، موچیوں کے لیے نہیں!” لیکن تھامس نے دل میں طے کر لیا: “میں ثابت کر کے دکھاؤں گا کہ چھوٹا کاریگر بھی دنیا بدل سکتا ہے۔” ⸻ سفر کا آغاز پہلے دن اس کے پاس بس ایک چھوٹی دکان، چند اوزار، اور تھوڑی سی کھال تھی۔ وہ صبح سے رات تک جوتے بناتا، خود ہی بیچتا، اور ہر گاہک سے کہتا: “یہ صرف جوتا نہیں، یہ میرے ہاتھ کی محنت اور میرا وعدہ ہے کہ یہ لمبے عرصے چلے گا۔” رفتہ رفتہ لوگ اس کے جوتوں کو پہچاننے لگے۔ لیکن ایک دن اس نے سوچا — “اگر میں زیادہ تیزی اور بہتر معیار سے جوتے بنا سکوں تو میں مزید لوگوں تک پہنچ سکتا ہوں”۔ ⸻ مشینوں کا جادو یہ وہ لمحہ تھا جب اس نے سب کچھ داؤ پر لگا کر امریکہ سے مشینیں منگوائیں۔ گاؤں کے لوگ حیران تھے — “اتنا خرچ؟” لیکن تھامس جانتا تھا کہ بڑوں کے خواب، بڑے فیصلے مانگتے ہیں۔ مشینیں آئیں، پیداوار بڑھی، قیمت کم ہوئی، معیار ایک جیسا ہوا۔ اب جوتے صرف امیروں کے لیے نہیں رہے — کسان، مزدور، استاد، سب کے لیے۔ ⸻ دنیا تک رسائی چند سال میں وہ قصبے کی دکان شہر کا برانڈ بنی، اور پھر ایک دن… دنیا کا۔ اس نے صرف جوتے نہیں بیچے — اس نے “Bata” کا نام بیچا، ایک بھروسہ بیچا۔ 1932 تک، “Bata” 50 ممالک میں پہنچ چکا تھا۔ ⸻ پاکستان کی کہانی کہاں ہے؟ آج پشاور، لاہور اور کراچی میں ہزاروں کاریگر جوتے بنا رہے ہیں، جن کا معیار دنیا کے بڑے برانڈز سے کم نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے ابھی وہ ایک فیصلہ نہیں لیا… مشین اور برانڈ کا فیصلہ۔ ہماری دکانوں میں ٹیلنٹ ہے، ہنر ہے، محنت ہے — لیکن دنیا تک پہنچنے کا سسٹم نہیں۔ جب تک ہم برانڈنگ، یکساں معیار، اور جدید پیداوار نہیں اپناتے، تب تک ہم عالمی سطح پر نہیں جا سکتے۔ ⸻ 💡 سبق: تھامس باچا آپ سے زیادہ امیر نہیں تھا، زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھا — وہ بس ایک بات جانتا تھا: سوچ گاؤں کی نہیں، دنیا کی رکھو۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 37 Visualizações
  • How I Finally Stopped Getting Distracted by Too Many Ideas

    Most of my life, I was guilty of running too many businesses at the same time.
    I thought I could handle them all… until I realised I was spreading myself too thin.

    3 years ago, I killed almost all my projects — even my telecom business — just to focus on one mission:
    Rehan School
    Goal: Create 1,000 millionaires from its students.

    But even now, new ideas keep popping up in my head every week.
    Today, I asked ChatGPT to help me stay disciplined without killing my creativity — and it gave me this simple system:



    The Idea Discipline System (From ChatGPT)
    Write new ideas in a “Dream Parking Lot”
    Let them cool for 90 days before touching them
    Only start if it helps your main mission & someone else can run it
    Max 3 projects per quarter
    Weekly check-in: What did I do for my 3 projects? Did I start anything new?



    ChatGPT is now my accountability partner — it keeps my cold-storage idea list and checks in with me weekly.

    If you’re an entrepreneur drowning in your own ideas, ask ChatGPT to make this system for YOU.
    It’s like a seatbelt for your creativity — you can still drive fast, but you won’t crash.

    Tag a fellow entrepreneur who needs this
    🔥 How I Finally Stopped Getting Distracted by Too Many Ideas 🔥 Most of my life, I was guilty of running too many businesses at the same time. I thought I could handle them all… until I realised I was spreading myself too thin. 💥 3 years ago, I killed almost all my projects — even my telecom business — just to focus on one mission: Rehan School 🎯 Goal: Create 1,000 millionaires from its students. But even now, new ideas keep popping up in my head every week. Today, I asked ChatGPT to help me stay disciplined without killing my creativity — and it gave me this simple system: ⸻ 📌 The Idea Discipline System (From ChatGPT) ✅ Write new ideas in a “Dream Parking Lot” ⏳ Let them cool for 90 days before touching them 🎯 Only start if it helps your main mission & someone else can run it 🔄 Max 3 projects per quarter 📝 Weekly check-in: What did I do for my 3 projects? Did I start anything new? ⸻ 💡 ChatGPT is now my accountability partner — it keeps my cold-storage idea list and checks in with me weekly. If you’re an entrepreneur drowning in your own ideas, ask ChatGPT to make this system for YOU. It’s like a seatbelt for your creativity — you can still drive fast, but you won’t crash. 🚗💡 👇 Tag a fellow entrepreneur who needs this 👇
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 38 Visualizações
  • سن 2035…

    علی صبح 7:30 بجے جاگتا ہے۔
    برش کرنے سے پہلے وہ اپنے “علی ایپ” کو چیک کرتا ہے — جی ہاں، اُس کی اپنی ایپ۔
    اس پر آج کے آرڈرز کی لسٹ ہے، جو لوگ اُس کے ڈیزائن کیے ہوئے جوتے خرید رہے ہیں۔ پاکستان کے کونے کونے سے اور کینیڈا تک کے لوگ رات بھر میں آرڈر دے چکے ہیں، اور پیسے اُس کے اکاؤنٹ میں آ چکے ہیں۔

    وہ کوئی ٹیک جائنٹ نہیں، نہ ہی پروفیشنل پروگرامر۔
    بس اُن لاکھوں لوگوں میں سے ایک ہے جنہوں نے 2025 میں Coding with AI سیکھا اور اپنی آئیڈیاز کو ایپس میں بدل دیا۔

    ناشتے کے راستے میں علی نیبرہُڈ ہب ایپ کھولتا ہے۔ قریبی کسان تازہ آم بیچ رہا ہے۔
    وہ ایک کریٹ بُک کرتا ہے، فوراً ادائیگی کر دیتا ہے، اور ایپ پر لکھا ہے کہ شام 4 بجے تک ڈیلیور ہو جائے گا۔

    علی کی چھوٹی بہن Math Tutor App چلاتی ہے — اپنے شہر کے بچوں اور تین دوسرے ملکوں کے طلبہ کو پڑھاتی ہے۔ وہ صرف 17 سال کی ہے مگر اپنے والد کی سرکاری نوکری کی تنخواہ سے زیادہ کماتی ہے۔

    اب ہر گلی، ہر گاؤں، ہر اسکول کی اپنی ایپس ہیں:
    • مسجد کی ایپ اذان کا نوٹیفکیشن بھیجتی ہے۔
    • بیکری کی ایپ آپ کو گرم نان پہلے سے بُک کرنے دیتی ہے۔
    • کمیونٹی ایپ کچرا اُٹھانے، گمشدہ پالتو جانور کی اطلاع اور چیریٹی ڈرائیوز منظم کرتی ہے۔

    2025 میں لوگوں کو یہ سب سائنس فکشن لگتا تھا۔
    مگر جنہوں نے وقت پر سیکھ لیا، وہ ڈیجیٹل لینڈلارڈز بن گئے — وہ پلیٹ فارمز اُن کے ہیں جنہیں باقی سب استعمال کرتے ہیں۔
    اور باقی؟ وہ صرف دوسروں کی ایپس کے صارف بن کر رہ گئے۔



    آج 2025 ہے۔
    ابھی بھی وقت ہے کہ آپ آگے بڑھ کر سیکھ لیں۔
    Coding with AI کے ساتھ ریحان اکیڈمی میں — زیرو سے شروعات کر کے اپنی Twitter، Uber، Airbnb، Instagram اور جو چاہیں وہ ایپ بنائیں۔

    5 کتابیں
    ہر کتاب میں 20 عملی ٹاسک
    ہر ٹاسک کا وقت: 1 سے 2 گھنٹے
    کوئی رَٹّا نہیں — صرف پریکٹیکل لرننگ

    بتائیں: ہفتے میں کتنی کلاسز ہونی چاہئیں؟ اور ہر کلاس 60 منٹ یا 90 منٹ کی ہو؟

    آپ کا جواب اگلی نسل کے کری ایٹرز کا راستہ طے کر سکتا ہے۔

    #RehanAcademy #CodingWithAI #FutureReady #AppRevolution #LearnByDoing

    Join the group to join

    https://chat.whatsapp.com/JGZi0FNuaGJCpiZR7HzQLc
    📅 سن 2035… علی صبح 7:30 بجے جاگتا ہے۔ برش کرنے سے پہلے وہ اپنے “علی ایپ” کو چیک کرتا ہے — جی ہاں، اُس کی اپنی ایپ۔ اس پر آج کے آرڈرز کی لسٹ ہے، جو لوگ اُس کے ڈیزائن کیے ہوئے جوتے خرید رہے ہیں۔ پاکستان کے کونے کونے سے اور کینیڈا تک کے لوگ رات بھر میں آرڈر دے چکے ہیں، اور پیسے اُس کے اکاؤنٹ میں آ چکے ہیں۔ وہ کوئی ٹیک جائنٹ نہیں، نہ ہی پروفیشنل پروگرامر۔ بس اُن لاکھوں لوگوں میں سے ایک ہے جنہوں نے 2025 میں Coding with AI سیکھا اور اپنی آئیڈیاز کو ایپس میں بدل دیا۔ ناشتے کے راستے میں علی نیبرہُڈ ہب ایپ کھولتا ہے۔ قریبی کسان تازہ آم بیچ رہا ہے۔ وہ ایک کریٹ بُک کرتا ہے، فوراً ادائیگی کر دیتا ہے، اور ایپ پر لکھا ہے کہ شام 4 بجے تک ڈیلیور ہو جائے گا۔ علی کی چھوٹی بہن Math Tutor App چلاتی ہے — اپنے شہر کے بچوں اور تین دوسرے ملکوں کے طلبہ کو پڑھاتی ہے۔ وہ صرف 17 سال کی ہے مگر اپنے والد کی سرکاری نوکری کی تنخواہ سے زیادہ کماتی ہے۔ اب ہر گلی، ہر گاؤں، ہر اسکول کی اپنی ایپس ہیں: • مسجد کی ایپ اذان کا نوٹیفکیشن بھیجتی ہے۔ • بیکری کی ایپ آپ کو گرم نان پہلے سے بُک کرنے دیتی ہے۔ • کمیونٹی ایپ کچرا اُٹھانے، گمشدہ پالتو جانور کی اطلاع اور چیریٹی ڈرائیوز منظم کرتی ہے۔ 2025 میں لوگوں کو یہ سب سائنس فکشن لگتا تھا۔ مگر جنہوں نے وقت پر سیکھ لیا، وہ ڈیجیٹل لینڈلارڈز بن گئے — وہ پلیٹ فارمز اُن کے ہیں جنہیں باقی سب استعمال کرتے ہیں۔ اور باقی؟ وہ صرف دوسروں کی ایپس کے صارف بن کر رہ گئے۔ ⸻ 🚀 آج 2025 ہے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ آپ آگے بڑھ کر سیکھ لیں۔ Coding with AI کے ساتھ ریحان اکیڈمی میں — زیرو سے شروعات کر کے اپنی Twitter، Uber، Airbnb، Instagram اور جو چاہیں وہ ایپ بنائیں۔ 📚 5 کتابیں 💡 ہر کتاب میں 20 عملی ٹاسک 🕒 ہر ٹاسک کا وقت: 1 سے 2 گھنٹے 💯 کوئی رَٹّا نہیں — صرف پریکٹیکل لرننگ 💬 بتائیں: ہفتے میں کتنی کلاسز ہونی چاہئیں؟ اور ہر کلاس 60 منٹ یا 90 منٹ کی ہو؟ آپ کا جواب اگلی نسل کے کری ایٹرز کا راستہ طے کر سکتا ہے۔ 🌍 #RehanAcademy #CodingWithAI #FutureReady #AppRevolution #LearnByDoing Join the group to join https://chat.whatsapp.com/JGZi0FNuaGJCpiZR7HzQLc
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 1961 Visualizações
  • Come buy your first laptop computer for 12000 rupees with 3 months !!

    Shaheed e millat road, Karachi

    Website: Google maps: https://maps.app.goo.gl/JWa92VDShVDPYFMN8

    Contact Sohail Siddiqui Laptopwala

    +92 318 2248959
    Come buy your first laptop 💻 computer for 12000 rupees with 3 months !! Shaheed e millat road, Karachi Website: Google maps: https://maps.app.goo.gl/JWa92VDShVDPYFMN8 Contact Sohail Siddiqui Laptopwala +92 318 2248959
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 38 Visualizações