• It was a pleasure and honor to meet a guru in business development and connections Shahid Bajwa from Dallas !

    Thank you for acknowledging and working for Rehan School Online Academy and helping us start in Dallas area !
    It was a pleasure and honor to meet a guru in business development and connections Shahid Bajwa from Dallas ! Thank you for acknowledging and working for Rehan School Online Academy and helping us start in Dallas area !
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 8 Visualizações
  • I want to thank brother Shahid Bajwa for trusting me and Rehan School Online Academy and allowing us to sit at his booth in #ICNACON to share what we are doing !

    InshaAllah @texas American university will become a phenomenal success !
    I want to thank brother Shahid Bajwa for trusting me and Rehan School Online Academy and allowing us to sit at his booth in #ICNACON to share what we are doing ! InshaAllah @texas American university will become a phenomenal success !
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 126 Visualizações
  • Honored to meet Farooq Shahid Sahib Nephew of Ariful Haque Arif !
    Honored to meet Farooq Shahid Sahib Nephew of Ariful Haque Arif !
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 8 Visualizações
  • بجلی کے بغیر “فری اے سی” کیسے بنائیں؟

    Rehan School کا دیسی کولر — صرف مٹی کے کپ اور چھوٹی موٹر کے ساتھ!



    مرحلہ 1: سامان جمع کریں
    1. 300 سے 500 مٹی کے کپ (کلفی یا مٹکا چائے والے کپ)
    2. سیمنٹ اور ریت (دیوار پر کپ چپکانے کے لیے)
    3. چھوٹی پانی کی موٹر (12V والی، جیسے فوارے میں لگتی ہے)
    4. اسپرنکلر نوزل (پانی چھڑکنے کے لیے)
    5. پانی رکھنے کے لیے بالٹی یا ٹینکی
    6. پائپ (موٹر سے نوزل تک جوڑنے کے لیے)



    مرحلہ 2: دیوار منتخب کریں
    • ایسی دیوار لیں جو کھلی جگہ پر ہو، جہاں ہوا آتی ہو
    • سورج کی روشنی بھی ہو تو بخارات جلدی بنیں گے



    مرحلہ 3: کپ دیوار پر لگائیں
    • مٹی کے کپوں کو شہد کے چھتے جیسی ترتیب میں سیمنٹ سے چپکا دیں
    • منہ باہر کی طرف ہو تاکہ ہوا اندر سے گزرے
    • نیچے سے اوپر ایک ایک کر کے لگاتے جائیں



    مرحلہ 4: پانی چھڑکنے کا سادہ نظام بنائیں
    • بالٹی یا ٹینکی میں پانی رکھیں
    • موٹر کو پانی میں رکھیں اور پائپ کے ذریعے اوپر لگے اسپرنکلر نوزل سے جوڑ دیں
    • نوزل کو اس زاویے پر رکھیں کہ وہ مٹی کے کپوں پر ہلکی پھوار گراتی رہے
    • صرف اتنا پانی استعمال کریں جتنا کپ جذب کر سکیں — کوئی ٹرے یا واپسی کا نظام نہیں چاہیے



    مرحلہ 5: سسٹم چلائیں
    • موٹر کو بیٹری یا سولر پینل سے چلائیں
    • پانی جب کپوں پر گرتا ہے تو مٹی اسے جذب کرتی ہے
    • جب گرم ہوا کپوں سے گزرتی ہے تو وہ بخارات بناتی ہے اور ٹھنڈی ہو جاتی ہے



    نتیجہ:
    • کمرہ ٹھنڈا، دل خوش
    • نہ بل، نہ مشین، صرف عقل اور مٹی
    • Rehan School کا اپنا “فری اے سی”!

    اگر چاہیں تو میں ابھی اس کی تصویری گائیڈ، پوسٹر یا ویڈیو اسکرپٹ بھی بنا دیتا ہوں۔
    بجلی کے بغیر “فری اے سی” کیسے بنائیں؟ Rehan School کا دیسی کولر — صرف مٹی کے کپ اور چھوٹی موٹر کے ساتھ! ⸻ مرحلہ 1: سامان جمع کریں 1. 300 سے 500 مٹی کے کپ (کلفی یا مٹکا چائے والے کپ) 2. سیمنٹ اور ریت (دیوار پر کپ چپکانے کے لیے) 3. چھوٹی پانی کی موٹر (12V والی، جیسے فوارے میں لگتی ہے) 4. اسپرنکلر نوزل (پانی چھڑکنے کے لیے) 5. پانی رکھنے کے لیے بالٹی یا ٹینکی 6. پائپ (موٹر سے نوزل تک جوڑنے کے لیے) ⸻ مرحلہ 2: دیوار منتخب کریں • ایسی دیوار لیں جو کھلی جگہ پر ہو، جہاں ہوا آتی ہو • سورج کی روشنی بھی ہو تو بخارات جلدی بنیں گے ⸻ مرحلہ 3: کپ دیوار پر لگائیں • مٹی کے کپوں کو شہد کے چھتے جیسی ترتیب میں سیمنٹ سے چپکا دیں • منہ باہر کی طرف ہو تاکہ ہوا اندر سے گزرے • نیچے سے اوپر ایک ایک کر کے لگاتے جائیں ⸻ مرحلہ 4: پانی چھڑکنے کا سادہ نظام بنائیں • بالٹی یا ٹینکی میں پانی رکھیں • موٹر کو پانی میں رکھیں اور پائپ کے ذریعے اوپر لگے اسپرنکلر نوزل سے جوڑ دیں • نوزل کو اس زاویے پر رکھیں کہ وہ مٹی کے کپوں پر ہلکی پھوار گراتی رہے • صرف اتنا پانی استعمال کریں جتنا کپ جذب کر سکیں — کوئی ٹرے یا واپسی کا نظام نہیں چاہیے ⸻ مرحلہ 5: سسٹم چلائیں • موٹر کو بیٹری یا سولر پینل سے چلائیں • پانی جب کپوں پر گرتا ہے تو مٹی اسے جذب کرتی ہے • جب گرم ہوا کپوں سے گزرتی ہے تو وہ بخارات بناتی ہے اور ٹھنڈی ہو جاتی ہے ⸻ نتیجہ: • کمرہ ٹھنڈا، دل خوش • نہ بل، نہ مشین، صرف عقل اور مٹی • Rehan School کا اپنا “فری اے سی”! اگر چاہیں تو میں ابھی اس کی تصویری گائیڈ، پوسٹر یا ویڈیو اسکرپٹ بھی بنا دیتا ہوں۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 8 Visualizações
  • UAE just flipped the script on AI access — and made history.

    While most of the world pays $20/month for ChatGPT Plus, UAE is now giving it to every citizen and resident for FREE.

    Yes, free. No catch.
    This move, part of the bold Stargate UAE initiative between OpenAI and G42, isn’t just about a subscription —
    It’s about a vision to make AI a public utility.

    From building the region’s largest AI compute hub to turning citizens into AI power-users, this is how nations leapfrog.

    I recommend that the Government of Pakistan immediately start a nationwide awareness campaign about ChatGPT —
    just like they did for narcotics, cigarettes, and COVID-19.
    Let people know how to use AI, subscribe on their own, and benefit before it’s too late.

    AI is not a fad — it’s a future skill, a job multiplier, and a knowledge equalizer.

    Question for the world:

    Should your country do the same?
    Is AI access a luxury — or a right in the digital age?

    Bravo to Sam Altman, Peng Xiao, and the UAE leadership for showing what’s possible when governments think like startups.

    #ChatGPT #AIForAll #UAE #StargateUAE #SamAltman #G42 #OpenAI #TechLeadership #DigitalRights #FutureReady #RehanReacts

    [Source: Axios — https://lnkd.in/dPiTqSDE]
    UAE just flipped the script on AI access — and made history. While most of the world pays $20/month for ChatGPT Plus, UAE is now giving it to every citizen and resident for FREE. Yes, free. No catch. This move, part of the bold Stargate UAE initiative between OpenAI and G42, isn’t just about a subscription — It’s about a vision to make AI a public utility. From building the region’s largest AI compute hub to turning citizens into AI power-users, this is how nations leapfrog. I recommend that the Government of Pakistan immediately start a nationwide awareness campaign about ChatGPT — just like they did for narcotics, cigarettes, and COVID-19. Let people know how to use AI, subscribe on their own, and benefit before it’s too late. AI is not a fad — it’s a future skill, a job multiplier, and a knowledge equalizer. Question for the world: Should your country do the same? Is AI access a luxury — or a right in the digital age? Bravo to Sam Altman, Peng Xiao, and the UAE leadership for showing what’s possible when governments think like startups. #ChatGPT #AIForAll #UAE #StargateUAE #SamAltman #G42 #OpenAI #TechLeadership #DigitalRights #FutureReady #RehanReacts [Source: Axios — https://lnkd.in/dPiTqSDE]
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 4990 Visualizações
  • بغیر بِجلی کے چلنے والا اے سی۔ پچاس ڈِگری ٹمپریچر پر بھی کمرہ برف خانہ !

    آپ کی سکرین پر جو انوکھا سا ڈھانچہ نظر آ رہا ہے، یہ کسی جدید ٹیکنالوجی کے مہنگے ماڈل کا حصہ نہیں بلکہ ایک دیسی، ماحول دوست اور بجلی کے بغیر چلنے والا ائیر کنڈیشنر ہے۔ جی ہاں، یہ وہ ایجاد ہے جو گرمی سے جھلستی فضا میں راحت کا سانس لینے کا موقع فراہم کرتی ہے — وہ بھی بغیر بجلی کے۔

    اس سادہ مگر شاندار ایجاد کو "بی ہائیو" یعنی مکھیوں کا چھتہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کا ڈیزائن قدرتی شہد کی مکھیوں کے چھتے سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا ہے۔ چھتے کی طرز پر بنے یہ مٹی کے لمبوترے برتن ایک خاص ترتیب میں رکھے گئے ہیں، جو نہ صرف دیدہ زیب ہیں بلکہ انتہائی کارآمد بھی۔ اس کا بنیادی اصول پانی کے بخارات کے ذریعے ٹھنڈک فراہم کرنا ہے — ایک ایسا قدرتی طریقہ جو صدیوں سے روایتی گھروں میں استعمال ہوتا رہا ہے، لیکن اب اسے ایک نیا سائنسی روپ دے دیا گیا ہے۔

    "بی ہائیو" میں ہوا کا گزر اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ جب گرم ہوا برتنوں کی ایک طرف سے داخل ہوتی ہے تو مٹی کے برتنوں میں موجود پانی آہستہ آہستہ بخارات میں تبدیل ہوتا ہے۔ یہ بخارات گرم ہوا سے توانائی لے کر اسے ٹھنڈا کر دیتے ہیں، اور یہ ٹھنڈی ہوا دوسری طرف سے باہر نکلتی ہے۔ یوں بغیر کسی پنکھے، موٹر یا کمپریسر کے، صرف قدرت کے اصولوں کے سہارے، کمرہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔

    اس اختراع کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے خاص طور پر ان علاقوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جہاں بجلی ناپید یا غیرمستقل ہے — مثلاً دور دراز کے صحرائی علاقے، دیہی سکول، یا چھوٹے دیہات۔ لیکن اس کی افادیت صرف وہاں تک محدود نہیں۔ شہروں کے رہائشی اور تجارتی دفاتر بھی اسے استعمال کر سکتے ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو بجلی کے بھاری بلوں سے تنگ آ چکے ہیں یا ماحول دوست متبادل تلاش کر رہے ہیں۔

    آج جب پوری دنیا ماحولیاتی تبدیلیوں اور توانائی کے بحران سے نبرد آزما ہے، ایسے میں یہ سوال ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے کہ کیا ہم ایسی سادہ، سستی اور پائیدار ٹیکنالوجیز کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے؟ کیا ہمارے سرکاری اسکولوں، ہسپتالوں اور دیگر عوامی مقامات پر ایسی سہولتیں مہیا نہیں کی جا سکتیں؟ جہاں بچے شدید گرمی میں پڑھنے پر مجبور ہیں، کیا ان کے لیے یہ چھوٹا سا مگر مؤثر حل فراہم نہیں کیا جا سکتا؟

    یہ ایک سوچنے کی بات ہے، اور شاید ایک عملی قدم کا آغاز بھی۔ آپ اس پیغام کو شیئر کریں، شاید کسی پالیسی ساز، کسی ادارے یا کسی بااختیار شخص کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ ہمیں اب سادہ مگر مؤثر حل اپنانے کی طرف جانا ہے۔ کبھی کبھی ایک چھوٹی سی سوچ ایک بڑی تبدیلی کا آغاز بن سکتی ہے۔

    #urdu #technology #desi ##hacks

    Sharing as received and would love to find someone who can make one for me in Karachi on my farm or school
    بغیر بِجلی کے چلنے والا اے سی۔ پچاس ڈِگری ٹمپریچر پر بھی کمرہ برف خانہ ! آپ کی سکرین پر جو انوکھا سا ڈھانچہ نظر آ رہا ہے، یہ کسی جدید ٹیکنالوجی کے مہنگے ماڈل کا حصہ نہیں بلکہ ایک دیسی، ماحول دوست اور بجلی کے بغیر چلنے والا ائیر کنڈیشنر ہے۔ جی ہاں، یہ وہ ایجاد ہے جو گرمی سے جھلستی فضا میں راحت کا سانس لینے کا موقع فراہم کرتی ہے — وہ بھی بغیر بجلی کے۔ اس سادہ مگر شاندار ایجاد کو "بی ہائیو" یعنی مکھیوں کا چھتہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کا ڈیزائن قدرتی شہد کی مکھیوں کے چھتے سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا ہے۔ چھتے کی طرز پر بنے یہ مٹی کے لمبوترے برتن ایک خاص ترتیب میں رکھے گئے ہیں، جو نہ صرف دیدہ زیب ہیں بلکہ انتہائی کارآمد بھی۔ اس کا بنیادی اصول پانی کے بخارات کے ذریعے ٹھنڈک فراہم کرنا ہے — ایک ایسا قدرتی طریقہ جو صدیوں سے روایتی گھروں میں استعمال ہوتا رہا ہے، لیکن اب اسے ایک نیا سائنسی روپ دے دیا گیا ہے۔ "بی ہائیو" میں ہوا کا گزر اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ جب گرم ہوا برتنوں کی ایک طرف سے داخل ہوتی ہے تو مٹی کے برتنوں میں موجود پانی آہستہ آہستہ بخارات میں تبدیل ہوتا ہے۔ یہ بخارات گرم ہوا سے توانائی لے کر اسے ٹھنڈا کر دیتے ہیں، اور یہ ٹھنڈی ہوا دوسری طرف سے باہر نکلتی ہے۔ یوں بغیر کسی پنکھے، موٹر یا کمپریسر کے، صرف قدرت کے اصولوں کے سہارے، کمرہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ اس اختراع کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے خاص طور پر ان علاقوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جہاں بجلی ناپید یا غیرمستقل ہے — مثلاً دور دراز کے صحرائی علاقے، دیہی سکول، یا چھوٹے دیہات۔ لیکن اس کی افادیت صرف وہاں تک محدود نہیں۔ شہروں کے رہائشی اور تجارتی دفاتر بھی اسے استعمال کر سکتے ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو بجلی کے بھاری بلوں سے تنگ آ چکے ہیں یا ماحول دوست متبادل تلاش کر رہے ہیں۔ آج جب پوری دنیا ماحولیاتی تبدیلیوں اور توانائی کے بحران سے نبرد آزما ہے، ایسے میں یہ سوال ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے کہ کیا ہم ایسی سادہ، سستی اور پائیدار ٹیکنالوجیز کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے؟ کیا ہمارے سرکاری اسکولوں، ہسپتالوں اور دیگر عوامی مقامات پر ایسی سہولتیں مہیا نہیں کی جا سکتیں؟ جہاں بچے شدید گرمی میں پڑھنے پر مجبور ہیں، کیا ان کے لیے یہ چھوٹا سا مگر مؤثر حل فراہم نہیں کیا جا سکتا؟ یہ ایک سوچنے کی بات ہے، اور شاید ایک عملی قدم کا آغاز بھی۔ آپ اس پیغام کو شیئر کریں، شاید کسی پالیسی ساز، کسی ادارے یا کسی بااختیار شخص کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ ہمیں اب سادہ مگر مؤثر حل اپنانے کی طرف جانا ہے۔ کبھی کبھی ایک چھوٹی سی سوچ ایک بڑی تبدیلی کا آغاز بن سکتی ہے۔ #urdu #technology #desi ##hacks Sharing as received and would love to find someone who can make one for me in Karachi on my farm or school
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 120 Visualizações
  • 0 Comentários 0 Compartilhamentos 8 Visualizações
  • Respectfully Ahsan Iqbal Chaudhary bhai
    One must realize who he or she or they are before making a the more correct decision ! As many call it a swat analysis

    Pakistan yet doesn’t make needles , computers , mobile , nail cutters , more cycles , cars and being in a race of Quantium is a waste of time and energy is what I requested chairman gik and his senior team in person honorable shakil Durrani sahib !

    We must promote at this time the use of ai as a nation and make sure every citizen has a smart phone and a laptop with internet access ! This should be our only technology primary priority before trying to make things that won’t help the masses but we may feel glorified by them !

    We can for sure do quantum one we are already able to do above

    Invest in safe neuclear energy as we are the only muslim nation having the power to
    Respectfully Ahsan Iqbal Chaudhary bhai One must realize who he or she or they are before making a the more correct decision ! As many call it a swat analysis Pakistan yet doesn’t make needles , computers , mobile , nail cutters , more cycles , cars and being in a race of Quantium is a waste of time and energy is what I requested chairman gik and his senior team in person honorable shakil Durrani sahib ! We must promote at this time the use of ai as a nation and make sure every citizen has a smart phone and a laptop with internet access ! This should be our only technology primary priority before trying to make things that won’t help the masses but we may feel glorified by them ! We can for sure do quantum one we are already able to do above Invest in safe neuclear energy as we are the only muslim nation having the power to
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 8 Visualizações
  • 0 Comentários 0 Compartilhamentos 8 Visualizações
  • 0 Comentários 0 Compartilhamentos 8 Visualizações