• Kuch Zaheen Ulema ko Ai Ka Keera hona chahyay hay !
    Kuch Zaheen Ulema ko Ai Ka Keera hona chahyay hay !
    0 Commenti 0 condivisioni 41 Views
  • Via Marc J. Lane
    Via Marc J. Lane
    0 Commenti 0 condivisioni 24 Views
  • 0 Commenti 0 condivisioni 24 Views
  • Pakistan needs more hero entrepreneurs like Waqas Ahmed Dar

    With 700 offices and 2300 employees in Pakistan he is the ceo and founder of TRAX a future unicorn in the making !

    Make sure to invite him to your podcast !
    Pakistan needs more hero entrepreneurs like Waqas Ahmed Dar With 700 offices and 2300 employees in Pakistan 🇵🇰 he is the ceo and founder of TRAX a future unicorn in the making ! Make sure to invite him to your podcast !
    0 Commenti 0 condivisioni 24 Views
  • I am delighted to inform you that my book has finally been published, Your invaluable guidance and unwavering support made this achievement possible. Thank you for your mentorship and encouragement.

    Please order a copy from inbox and soon on Amazon

    Manahil Remotejobwali
    Student Rehan School Korangi Campus
    I am delighted to inform you that my book has finally been published, Your invaluable guidance and unwavering support made this achievement possible. Thank you for your mentorship and encouragement. Please order a copy from inbox and soon on Amazon Manahil Remotejobwali Student Rehan School Korangi Campus
    0 Commenti 0 condivisioni 24 Views
  • 0 Commenti 0 condivisioni 28 Views
  • 0 Commenti 0 condivisioni 50 Views
  • 0 Commenti 0 condivisioni 60 Views
  • Classes started of Rehan School system in Lahore United School & College by Muhammad Mobeen Imtiaz

    These students don’t use any books , just laptops to learn and grow themselves !
    Classes started of Rehan School system in Lahore United School & College by Muhammad Mobeen Imtiaz These students don’t use any books , just laptops to learn and grow themselves !
    0 Commenti 0 condivisioni 70 Views
  • ایک وقت کی بات ہے، ایک خوبصورت گاؤں میں علی نام کا ایک نوجوان رہتا تھا۔ علی بہت تخلیقی ذہن کا مالک تھا اور ہر وقت نئی نئی چیزیں بنانے اور سوچنے میں مصروف رہتا تھا۔ لیکن ایک مسئلہ تھا، علی کی تخلیقی توانائی بکھری ہوئی تھی اور وہ اس کا صحیح استعمال نہیں کر پاتا تھا۔

    ایک دن علی اپنے بزرگ دوست، حکیم صاحب، کے پاس گیا اور اپنی پریشانی کا ذکر کیا۔ حکیم صاحب نے مسکرا کر کہا، "بیٹا، تخلیقی توانائی کو صحیح طریقے سے استعمال کرنا ایک فن ہے۔ آؤ، میں تمہیں کچھ سادہ اصول بتاتا ہوں جو تمہاری مدد کریں گے۔"

    پہلا اصول: **اپنے تخلیقی وقت کو پہچانو**
    حکیم صاحب نے کہا، "علی، سب سے پہلے تمہیں یہ معلوم کرنا ہوگا کہ تم کب سب سے زیادہ تخلیقی ہوتے ہو۔ کچھ لوگ صبح سویرے تخلیقی ہوتے ہیں، کچھ رات کے وقت۔ تم اپنے وقت کو پہچانو اور اسی وقت میں تخلیقی کام کرو۔"

    دوسرا اصول: **ایک مخصوص جگہ بناو**
    حکیم صاحب نے مزید کہا، "ایک ایسی جگہ بناؤ جہاں تم صرف تخلیقی کام کر سکو۔ جب تم اس جگہ پر جاؤ گے تو تمہارا ذہن خود بخود سمجھ جائے گا کہ یہ وقت تخلیق کا ہے۔"

    تیسرا اصول: **واضح مقاصد مقرر کرو**
    حکیم صاحب نے علی کو نصیحت کی، "اپنے تخلیقی کاموں کے لئے واضح مقاصد مقرر کرو۔ جب تمہیں پتہ ہوگا کہ تمہیں کیا کرنا ہے تو تمہاری توانائی صحیح سمت میں استعمال ہوگی۔"

    چوتھا اصول: **معمول بناو**
    حکیم صاحب نے کہا، "ہر روز کچھ وقت تخلیقی کاموں کے لئے مخصوص کرو۔ جب تم ہر روز ایک ہی وقت پر تخلیقی کام کرو گے تو تمہاری عادت بن جائے گی۔"

    پانچواں اصول: **خلل سے بچو**
    حکیم صاحب نے علی کو سمجھایا، "خلل سے بچنے کے لئے اپنے موبائل کی نوٹیفکیشن بند کرو، لوگوں سے کہو کہ تمہیں اس وقت تنگ نہ کریں، اور ایک خاموش جگہ تلاش کرو۔"

    چھٹا اصول: **ذہنی سکون حاصل کرو**
    حکیم صاحب نے مزید کہا، "ذہنی سکون کے لئے مراقبہ، گہری سانسیں یا یوگا کرو۔ جب تمہارا ذہن پرسکون ہوگا تو تمہاری تخلیقی توانائی زیادہ بہتر طریقے سے کام کرے گی۔"

    ساتواں اصول: **متاثر رہو**
    حکیم صاحب نے علی کو بتایا، "اپنے آس پاس ایسی چیزیں رکھو جو تمہیں متاثر کریں، چاہے وہ کتابیں ہوں، موسیقی ہو، یا فطرت کا نظارہ ہو۔"

    آٹھواں اصول: **تجربہ کرو اور رسک لو**
    حکیم صاحب نے کہا، "نئی چیزیں آزمانے اور رسک لینے سے ڈرو مت۔ تجربہ کرنے سے تمہیں نئی اور منفرد تخلیقات مل سکتی ہیں۔"

    نواں اصول: **جائزہ لو اور تبدیلی کرو**
    حکیم صاحب نے علی کو نصیحت کی، "اپنے تخلیقی عمل کا جائزہ لیتے رہو اور دیکھو کہ کیا کام کر رہا ہے اور کیا نہیں۔ جہاں ضرورت ہو، تبدیلی کرو۔"

    دسواں اصول: **کام اور آرام کا توازن برقرار رکھو**
    آخر میں، حکیم صاحب نے کہا، "کام اور آرام کا توازن برقرار رکھو۔ اگر تم مسلسل کام کرتے رہو گے تو تھک جاؤ گے اور تمہاری تخلیقی توانائی کمزور ہو جائے گی۔"

    علی نے حکیم صاحب کی باتیں غور سے سنیں اور ان پر عمل کرنا شروع کیا۔ کچھ ہی دنوں میں علی نے محسوس کیا کہ اس کی تخلیقی توانائی بہتر طریقے سے استعمال ہو رہی ہے اور وہ بہت کچھ نیا اور منفرد تخلیق کر رہا ہے۔

    یوں علی نے سیکھا کہ تخلیقی توانائی کو صحیح طریقے سے استعمال کرنا ایک فن ہے اور حکیم صاحب کے دیے گئے اصولوں پر عمل کرکے وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کر سکتا ہے۔
    ایک وقت کی بات ہے، ایک خوبصورت گاؤں میں علی نام کا ایک نوجوان رہتا تھا۔ علی بہت تخلیقی ذہن کا مالک تھا اور ہر وقت نئی نئی چیزیں بنانے اور سوچنے میں مصروف رہتا تھا۔ لیکن ایک مسئلہ تھا، علی کی تخلیقی توانائی بکھری ہوئی تھی اور وہ اس کا صحیح استعمال نہیں کر پاتا تھا۔ ایک دن علی اپنے بزرگ دوست، حکیم صاحب، کے پاس گیا اور اپنی پریشانی کا ذکر کیا۔ حکیم صاحب نے مسکرا کر کہا، "بیٹا، تخلیقی توانائی کو صحیح طریقے سے استعمال کرنا ایک فن ہے۔ آؤ، میں تمہیں کچھ سادہ اصول بتاتا ہوں جو تمہاری مدد کریں گے۔" پہلا اصول: **اپنے تخلیقی وقت کو پہچانو** حکیم صاحب نے کہا، "علی، سب سے پہلے تمہیں یہ معلوم کرنا ہوگا کہ تم کب سب سے زیادہ تخلیقی ہوتے ہو۔ کچھ لوگ صبح سویرے تخلیقی ہوتے ہیں، کچھ رات کے وقت۔ تم اپنے وقت کو پہچانو اور اسی وقت میں تخلیقی کام کرو۔" دوسرا اصول: **ایک مخصوص جگہ بناو** حکیم صاحب نے مزید کہا، "ایک ایسی جگہ بناؤ جہاں تم صرف تخلیقی کام کر سکو۔ جب تم اس جگہ پر جاؤ گے تو تمہارا ذہن خود بخود سمجھ جائے گا کہ یہ وقت تخلیق کا ہے۔" تیسرا اصول: **واضح مقاصد مقرر کرو** حکیم صاحب نے علی کو نصیحت کی، "اپنے تخلیقی کاموں کے لئے واضح مقاصد مقرر کرو۔ جب تمہیں پتہ ہوگا کہ تمہیں کیا کرنا ہے تو تمہاری توانائی صحیح سمت میں استعمال ہوگی۔" چوتھا اصول: **معمول بناو** حکیم صاحب نے کہا، "ہر روز کچھ وقت تخلیقی کاموں کے لئے مخصوص کرو۔ جب تم ہر روز ایک ہی وقت پر تخلیقی کام کرو گے تو تمہاری عادت بن جائے گی۔" پانچواں اصول: **خلل سے بچو** حکیم صاحب نے علی کو سمجھایا، "خلل سے بچنے کے لئے اپنے موبائل کی نوٹیفکیشن بند کرو، لوگوں سے کہو کہ تمہیں اس وقت تنگ نہ کریں، اور ایک خاموش جگہ تلاش کرو۔" چھٹا اصول: **ذہنی سکون حاصل کرو** حکیم صاحب نے مزید کہا، "ذہنی سکون کے لئے مراقبہ، گہری سانسیں یا یوگا کرو۔ جب تمہارا ذہن پرسکون ہوگا تو تمہاری تخلیقی توانائی زیادہ بہتر طریقے سے کام کرے گی۔" ساتواں اصول: **متاثر رہو** حکیم صاحب نے علی کو بتایا، "اپنے آس پاس ایسی چیزیں رکھو جو تمہیں متاثر کریں، چاہے وہ کتابیں ہوں، موسیقی ہو، یا فطرت کا نظارہ ہو۔" آٹھواں اصول: **تجربہ کرو اور رسک لو** حکیم صاحب نے کہا، "نئی چیزیں آزمانے اور رسک لینے سے ڈرو مت۔ تجربہ کرنے سے تمہیں نئی اور منفرد تخلیقات مل سکتی ہیں۔" نواں اصول: **جائزہ لو اور تبدیلی کرو** حکیم صاحب نے علی کو نصیحت کی، "اپنے تخلیقی عمل کا جائزہ لیتے رہو اور دیکھو کہ کیا کام کر رہا ہے اور کیا نہیں۔ جہاں ضرورت ہو، تبدیلی کرو۔" دسواں اصول: **کام اور آرام کا توازن برقرار رکھو** آخر میں، حکیم صاحب نے کہا، "کام اور آرام کا توازن برقرار رکھو۔ اگر تم مسلسل کام کرتے رہو گے تو تھک جاؤ گے اور تمہاری تخلیقی توانائی کمزور ہو جائے گی۔" علی نے حکیم صاحب کی باتیں غور سے سنیں اور ان پر عمل کرنا شروع کیا۔ کچھ ہی دنوں میں علی نے محسوس کیا کہ اس کی تخلیقی توانائی بہتر طریقے سے استعمال ہو رہی ہے اور وہ بہت کچھ نیا اور منفرد تخلیق کر رہا ہے۔ یوں علی نے سیکھا کہ تخلیقی توانائی کو صحیح طریقے سے استعمال کرنا ایک فن ہے اور حکیم صاحب کے دیے گئے اصولوں پر عمل کرکے وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کر سکتا ہے۔
    0 Commenti 0 condivisioni 73 Views