• #KingCharles the Third has been declared the King of England.
    #KingCharles the Third has been declared the King of England.
    0 Commentarios 0 Acciones 48 Views
  • The team at Digital Earning Center Karachi is growing !
    The team at Digital Earning Center Karachi is growing !
    0 Commentarios 0 Acciones 9 Views
  • #TrillionDollarpakistan with Pakistan Software Houses Association
    #TrillionDollarpakistan with Pakistan Software Houses Association
    0 Commentarios 0 Acciones 9 Views
  • زاہد سعید گلگت بلتستان کے نئے لہجے کا پختہ شاعر ہے، انکی نثر میں بھی نئے افکار اور گیرائی موجود ہے۔ اپنے والد محترم کی وفات پر جو تحریر کوہ ذاد کے نام سےلکھی ہے، ایک شاہکار ہے، اسمیں فکری گہرائی کے ساتھ ساتھ بلتستان کی اسلامی ثقافتی جھلک بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ قارئین کرام یہ خوبصورت تحریر آپکی خدمت میں پیش ہے اور زاہد بھائی کے والد سمیت تمام والدین کی بلندی درجات و مغفرت کے لئے دعاؤں کی درخواست بھی ہے۔
    ایڈمن
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کوہ زاد

    ابا نہیں رہے۔۔
    کوہ زاد جو تمام عمر پہاڑوں سے سینہ آزما رہا، نہ رہا۔
    سنگ نژاد جو خاک و سنگ سے زندگی برامد کرنے میں تا عمر مَحو رہا، اپنی زندگی سپردِ خاک و سنگ کر گیا۔
    میرا فرہاد جو تمام زِیست تیشہ بدست کئی بے ستونوں کے عروقِ مردہ کو زندگی آشنا کرتا رہا، نہ رہا۔
    بدھ ۲۰ جولائی کا دن جب اپنی ابتدائی سانسیں لے رہا تھا، آغاز سحر موذن تہجد کےلیے ندا دینے لگا، مگر ابا کو قیام و سجود کے سنگ ہائے میل خوش نہ آئے اور سیدھے بڑے دربار جا پہنچے۔ گھڑی کی سوئی دو اور تین کے عین بیچ آخری سانسوں کی طرح ڈول رہی تھی کہ جب؎
    وہ جن کے ذکر سے رگوں میں دوڑتی تھیں بجلیاں
    انھیں کا ہاتھ ہم نے چُھو کے دیکھا کتنا سرد ہے
    اور ابا نہیں رہے۔

    ابا نہیں رہے، ہماری دنیا تک تلپٹ ہوگئی، مگر دنیا میں کچھ نہ بدلا۔
    دنیا میں بس اتنا بدلاؤ آیا کہ کونے والے کمرے سے ابا کے وجود کے ساتھ ان کا بستر بھی ہٹ گیا۔
    دوائیوں کا کارٹن اٹھ گیا۔
    ابا کے پہناوے چُھپ گئے۔
    خاموش وجود سے اٹھتی مدھم سانسوں کی مسلسل آواز جو آخری دو دن معمول سے تیز ہوئی تھی، اب نہیں آتی۔
    گونگفیوق مسجد میں نمازِ فجر کے مستقل نمازیوں کی تعداد سات سے اب چھے ہوگئی۔
    اگلی صف میں دائیں سے چوتھی نِشَست اپنے مانوس نمازی کو ڈھونڈتی ہے۔
    عصر اور مغرب کے بعد تلاوت کی آوازوں میں سے ایک اب سنائی نہیں دیتی۔
    قبرستان میں ایک تازہ قبر کا اضافہ ہوا۔
    دعا میں صحت و عافیت کے جگہ اب ابا کےلیے درجات و مغفرت مانگتا ہوں۔
    دنیا میں بس اتنا ہی بدلاؤ آیا ہے۔

    ابّا پاکستان سے گیارہ سال بڑے تھے اور چھیاسی کے سِن میں تھے۔ ماتھے پر سات شکنیں پڑی تھیں۔ ہر شکن ایک لوسْکور* اور ساڑھے تین ماہ کی مشقتوں، رازوں، دُکھوں اور وُقوعوں کا استعارہ تھی۔
    جوانی میں ابّا شہ زور تھے۔ کچھ سالوں سے کُہنہ عمری نے اور آخری دنوں علالت نے ایسا نچوڑا کہ پنجر ہی رہ گئے۔ لحم و شحم کب کے پگھل چکے تھے۔ بازو اٹھاتے تو نحیف ہڈی پر جِلد یوں لٹکتی جیسے الگنی پر ڈالا گیا کپڑا۔ بستر سے لگے لگے بِن گودے کی ہڈیاں اور ان سے لٹکتی سال خوردہ جلد دُکھنے لگتی تو ہاتھ کے ہلکے سے اشارے سے اٹھانے کا کہتے۔ اٹھاتا اور ان کی پیٹھ کے پنجرے کو اپنے پیٹ کا سہارا دیتا۔ دو ثانیے گزرتے تو کہتے بیٹا تمھیں تکلیف ہو رہی مجھے لٹا دو۔ میں کہتا نہیں ابا مجھے بالکل تکلیف نہیں ہو رہی، آپ کو جس پہلو سہولت ہو بتانا میں اپنا جسم اس ہیئت میں ڈھال لوں گا۔ سر کو ہلکا سا اثبات میں ہلاتے مگر ساری عمر دوسروں کی فکر میں گزارنے والا پھر بے چین ہو اٹھتا اور کہتے بیٹا آپ پر بوجھ پڑ رہا ہے مجھے لٹا دو۔
    کاش آپ جانتے ابا! بوجھ تو مجھ پر اب پڑا ہے۔ اپنا نحیف وجود ہٹا کر کتنی ہی ذمے داریوں کا بوجھ مجھ پر آپ لاد گئے۔ ہفتے بھر میں ہانپنے لگا ہوں، تاعمر انھیں کیوں کر اٹھا پاوں گا۔

    ——
    *لوسْکْور: قدیم تبتی/ بلتی تقویم میں بارہ سالوں کا ایک چکر، اب بھی بڑے بوڑھے عمروں کا حساب سالوں کے بجائے لوسکور میں رکھتے ہیں۔

    تحریر زاہد سعید یگوی گلگت بلتستان
    زاہد سعید گلگت بلتستان کے نئے لہجے کا پختہ شاعر ہے، انکی نثر میں بھی نئے افکار اور گیرائی موجود ہے۔ اپنے والد محترم کی وفات پر جو تحریر کوہ ذاد کے نام سےلکھی ہے، ایک شاہکار ہے، اسمیں فکری گہرائی کے ساتھ ساتھ بلتستان کی اسلامی ثقافتی جھلک بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ قارئین کرام یہ خوبصورت تحریر آپکی خدمت میں پیش ہے اور زاہد بھائی کے والد سمیت تمام والدین کی بلندی درجات و مغفرت کے لئے دعاؤں کی درخواست بھی ہے۔ ایڈمن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوہ زاد ابا نہیں رہے۔۔ کوہ زاد جو تمام عمر پہاڑوں سے سینہ آزما رہا، نہ رہا۔ سنگ نژاد جو خاک و سنگ سے زندگی برامد کرنے میں تا عمر مَحو رہا، اپنی زندگی سپردِ خاک و سنگ کر گیا۔ میرا فرہاد جو تمام زِیست تیشہ بدست کئی بے ستونوں کے عروقِ مردہ کو زندگی آشنا کرتا رہا، نہ رہا۔ بدھ ۲۰ جولائی کا دن جب اپنی ابتدائی سانسیں لے رہا تھا، آغاز سحر موذن تہجد کےلیے ندا دینے لگا، مگر ابا کو قیام و سجود کے سنگ ہائے میل خوش نہ آئے اور سیدھے بڑے دربار جا پہنچے۔ گھڑی کی سوئی دو اور تین کے عین بیچ آخری سانسوں کی طرح ڈول رہی تھی کہ جب؎ وہ جن کے ذکر سے رگوں میں دوڑتی تھیں بجلیاں انھیں کا ہاتھ ہم نے چُھو کے دیکھا کتنا سرد ہے اور ابا نہیں رہے۔ ابا نہیں رہے، ہماری دنیا تک تلپٹ ہوگئی، مگر دنیا میں کچھ نہ بدلا۔ دنیا میں بس اتنا بدلاؤ آیا کہ کونے والے کمرے سے ابا کے وجود کے ساتھ ان کا بستر بھی ہٹ گیا۔ دوائیوں کا کارٹن اٹھ گیا۔ ابا کے پہناوے چُھپ گئے۔ خاموش وجود سے اٹھتی مدھم سانسوں کی مسلسل آواز جو آخری دو دن معمول سے تیز ہوئی تھی، اب نہیں آتی۔ گونگفیوق مسجد میں نمازِ فجر کے مستقل نمازیوں کی تعداد سات سے اب چھے ہوگئی۔ اگلی صف میں دائیں سے چوتھی نِشَست اپنے مانوس نمازی کو ڈھونڈتی ہے۔ عصر اور مغرب کے بعد تلاوت کی آوازوں میں سے ایک اب سنائی نہیں دیتی۔ قبرستان میں ایک تازہ قبر کا اضافہ ہوا۔ دعا میں صحت و عافیت کے جگہ اب ابا کےلیے درجات و مغفرت مانگتا ہوں۔ دنیا میں بس اتنا ہی بدلاؤ آیا ہے۔ ابّا پاکستان سے گیارہ سال بڑے تھے اور چھیاسی کے سِن میں تھے۔ ماتھے پر سات شکنیں پڑی تھیں۔ ہر شکن ایک لوسْکور* اور ساڑھے تین ماہ کی مشقتوں، رازوں، دُکھوں اور وُقوعوں کا استعارہ تھی۔ جوانی میں ابّا شہ زور تھے۔ کچھ سالوں سے کُہنہ عمری نے اور آخری دنوں علالت نے ایسا نچوڑا کہ پنجر ہی رہ گئے۔ لحم و شحم کب کے پگھل چکے تھے۔ بازو اٹھاتے تو نحیف ہڈی پر جِلد یوں لٹکتی جیسے الگنی پر ڈالا گیا کپڑا۔ بستر سے لگے لگے بِن گودے کی ہڈیاں اور ان سے لٹکتی سال خوردہ جلد دُکھنے لگتی تو ہاتھ کے ہلکے سے اشارے سے اٹھانے کا کہتے۔ اٹھاتا اور ان کی پیٹھ کے پنجرے کو اپنے پیٹ کا سہارا دیتا۔ دو ثانیے گزرتے تو کہتے بیٹا تمھیں تکلیف ہو رہی مجھے لٹا دو۔ میں کہتا نہیں ابا مجھے بالکل تکلیف نہیں ہو رہی، آپ کو جس پہلو سہولت ہو بتانا میں اپنا جسم اس ہیئت میں ڈھال لوں گا۔ سر کو ہلکا سا اثبات میں ہلاتے مگر ساری عمر دوسروں کی فکر میں گزارنے والا پھر بے چین ہو اٹھتا اور کہتے بیٹا آپ پر بوجھ پڑ رہا ہے مجھے لٹا دو۔ کاش آپ جانتے ابا! بوجھ تو مجھ پر اب پڑا ہے۔ اپنا نحیف وجود ہٹا کر کتنی ہی ذمے داریوں کا بوجھ مجھ پر آپ لاد گئے۔ ہفتے بھر میں ہانپنے لگا ہوں، تاعمر انھیں کیوں کر اٹھا پاوں گا۔ —— *لوسْکْور: قدیم تبتی/ بلتی تقویم میں بارہ سالوں کا ایک چکر، اب بھی بڑے بوڑھے عمروں کا حساب سالوں کے بجائے لوسکور میں رکھتے ہیں۔ تحریر زاہد سعید یگوی گلگت بلتستان
    0 Commentarios 0 Acciones 39 Views
  • Mr. Hunaid H. Lakhani has a Bachelors degree in Business Administration from The American Intercontinental University, USA and is a graduate of the Owner-President Management Program from Harvard Business School, USA.

    Mr. Hunaid Lakhani has over ten years of experience in the construction industry.

    After graduating in Business Administration from The American College, Los Angeles, in 1997, Mr. Hunaid Lakhani graduated from the Owner-President Management Program at Harvard Business School, USA, in 2006.In 1998, Mr. Hunaid Lakhani initiated Iqra University to offer international quality education to the people of Pakistan.

    Iqra University is chartered by the Government of Sindh, recognized by the Higher Education Commission, and is ranked as the No.1 private university in Sindh by CIEC.

    PTI leader and Chairman Baitul Mal Sindh
    PM’s facilitation for Sindh for the programs of Ehsas and Kamyab Naujawan

    Education
    OWNER-PRESIDENT MANAGEMENT PROGRAM
    2003- 2005
    Harvard Business School
    BACHELORS OF BUSINESS ADMINISTRATION
    1994- 1997
    American Intercontinental University
    Professional Experience

    REAL ESTATE SECTOR, MANAGING DIRECTOR
    1991 - Present
    Residential and Commercial properties in Pakistan include:
    Hunaid City (Karachi, 1000 apartments)

    Gulf Shopping Mall and Towers (Karachi, apartments and shopping mall)

    Cliff Shopping Mall and Towers (Karachi, apartments and shopping mall) Gulshan View (Karachi, 500 apartments)

    EDUCATION SECTOR, FOUNDER/ CHAIRMAN
    1998 – Present Iqra University:
    Ranked No. 1 University as declared by Higher Education Commission of Pakistan.
    Ranked No. 1 University by Charter Inspection and Evaluation Committee, Government of Sindh since last 10 years.
    Recognized by the Higher Education Commission for enrolment of their Ph.D.in the disciplines of Business Administration, Computer Sciences and Engineering
    More than 6000 Students enrolled

    He was a wonderful man, and a role model for the youth !

    May he be blessed !

    He died due to a small mosquito that sits in our toilet bowls when not in use !

    Dengue is becoming a pandemic and this should not have happened He worked very hard to make a better Pakistan and we all shall continue to do so !
    Mr. Hunaid H. Lakhani has a Bachelors degree in Business Administration from The American Intercontinental University, USA and is a graduate of the Owner-President Management Program from Harvard Business School, USA. Mr. Hunaid Lakhani has over ten years of experience in the construction industry. After graduating in Business Administration from The American College, Los Angeles, in 1997, Mr. Hunaid Lakhani graduated from the Owner-President Management Program at Harvard Business School, USA, in 2006.In 1998, Mr. Hunaid Lakhani initiated Iqra University to offer international quality education to the people of Pakistan. Iqra University is chartered by the Government of Sindh, recognized by the Higher Education Commission, and is ranked as the No.1 private university in Sindh by CIEC. PTI leader and Chairman Baitul Mal Sindh PM’s facilitation for Sindh for the programs of Ehsas and Kamyab Naujawan Education OWNER-PRESIDENT MANAGEMENT PROGRAM 2003- 2005 Harvard Business School BACHELORS OF BUSINESS ADMINISTRATION 1994- 1997 American Intercontinental University Professional Experience REAL ESTATE SECTOR, MANAGING DIRECTOR 1991 - Present Residential and Commercial properties in Pakistan include: Hunaid City (Karachi, 1000 apartments) Gulf Shopping Mall and Towers (Karachi, apartments and shopping mall) Cliff Shopping Mall and Towers (Karachi, apartments and shopping mall) Gulshan View (Karachi, 500 apartments) EDUCATION SECTOR, FOUNDER/ CHAIRMAN 1998 – Present Iqra University: Ranked No. 1 University as declared by Higher Education Commission of Pakistan. Ranked No. 1 University by Charter Inspection and Evaluation Committee, Government of Sindh since last 10 years. Recognized by the Higher Education Commission for enrolment of their Ph.D.in the disciplines of Business Administration, Computer Sciences and Engineering More than 6000 Students enrolled He was a wonderful man, and a role model for the youth ! May he be blessed ! He died due to a small mosquito 🦟 that sits in our toilet bowls when not in use ! Dengue is becoming a pandemic and this should not have happened 😞 He worked very hard to make a better Pakistan and we all shall continue to do so !
    0 Commentarios 0 Acciones 21 Views
  • Can’t thank my mother Munawwar Ikhlas Allahwala enough to make me who I am today !
    Can’t thank my mother Munawwar Ikhlas Allahwala enough to make me who I am today !
    0 Commentarios 0 Acciones 9 Views
  • Come learn with Huzaifa Ali
    Come learn with Huzaifa Ali
    0 Commentarios 0 Acciones 9 Views
  • Hello Ladies Join Flaminia Buda

    Become a free nomad and travel the world while working from anywhere in the world online !

    Join on https://bit.ly/3Sy31Ht
    Hello Ladies Join Flaminia Buda Become a free nomad and travel the world while working from anywhere in the world online ! Join on https://bit.ly/3Sy31Ht
    0 Commentarios 0 Acciones 9 Views
  • Hello Sisters !

    2 hours Workshop Session about Freelancing abcd :

    Online Zoom Session will be held on Friday from 3pm to 5pm for Females only by Uzma Hafeez in Muzaffarabad Kashmir !

    Those who are interested please join this WhatsApp group.

    For Females only:
    https://chat.whatsapp.com/HiBR5cQFFheHXG4lNkqUMp
    Hello Sisters ! 2 hours Workshop Session about Freelancing abcd : Online Zoom Session will be held on Friday from 3pm to 5pm for Females only by Uzma Hafeez in Muzaffarabad Kashmir ! Those who are interested please join this WhatsApp group. For Females only: https://chat.whatsapp.com/HiBR5cQFFheHXG4lNkqUMp
    0 Commentarios 0 Acciones 9 Views
  • I am very happy to introduce newest member of our team at Social Media Incubator By Rehan Allahwala Brother Taimoor Hassan

    Avery dedicated, hard working, sweet and fantastic admission officer ‍ at Social Media Incubator and our other learning + earning facilities !

    Call him on 0310 2886044 to learn more about the earning and learning opportunities for you !
    I am very happy to introduce newest member of our team at Social Media Incubator By Rehan Allahwala Brother Taimoor Hassan Avery dedicated, hard working, sweet and fantastic admission officer 👮‍♂️ at Social Media Incubator and our other learning + earning facilities ! Call him on 0310 2886044 to learn more about the earning and learning opportunities for you !
    0 Commentarios 0 Acciones 9 Views