• See you on 30th in Mithi !

    To join as speaker or any other questions call Din Muhammad Thari +92 344 1588975
    See you on 30th in Mithi ! To join as speaker or any other questions call Din Muhammad Thari +92 344 1588975
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 7 Visualizações
  • Sahib/Sahiban Mahal built in 1940s by Mir Khuda Bux Talpur in name of his wife. The Mahal has three stories, five entrances and six minarets, two on each floor. Each story has a room with a terrace and colorful stained glass. Located in Khadaro town, Dist Badin, Sindh Pakistan

    Do you know who owns it now ? I think it’s a great place to make a Sarena Hotel or Pearl Continental Hotel similarly to Sarena Hotel, Shighar Fort, Skardu
    Sahib/Sahiban Mahal built in 1940's by Mir Khuda Bux Talpur in name of his wife. The Mahal has three stories, five entrances and six minarets, two on each floor. Each story has a room with a terrace and colorful stained glass. Located in Khadaro town, Dist Badin, Sindh Pakistan Do you know who owns it now ? I think it’s a great place to make a Sarena Hotel or Pearl Continental Hotel 🏨 similarly to Sarena Hotel, Shighar Fort, Skardu
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 112 Visualizações
  • 0 Comentários 0 Compartilhamentos 7 Visualizações
  • 0 Comentários 0 Compartilhamentos 7 Visualizações
  • 0 Comentários 0 Compartilhamentos 7 Visualizações
  • 0 Comentários 0 Compartilhamentos 7 Visualizações
  • 0 Comentários 0 Compartilhamentos 7 Visualizações
  • , اسلام و علیکم
    پچھلے دنوں سیالکوٹ واقعے کے بعد علم ھوا کہ
    سری لنکا نے تقریبا 83000 ھزار آنکھیں عطیہ کیں۔
    جس کا 40 ٪ پاکستان کو دیا گیا۔
    اس کو ایک مثبت خبر کے طور پر لیا گیا بظاھر سری لنکا کا شکریہ ادا کیا گیا ۔جو کہ بہت اچھی بات ہے۔
    لیکن کچھ حقائق میں آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں
    سری لنکا کی کی آبادی تقریبا 22 ملین یعنی دو کروڑ 20 لاکھ کے قریب ہے جس میں سے 90 ٪ نان مسلم ہیں
    ڈیت کے بعد عام طور پر ڈیڈ باڈی کو ہسپتال لے جایا جاتا ہے اور اس کا پوسٹ مارٹم کر کے اس کے اندر سے ضروری اعضاء باہر نکال لئے جاتے ہیں اور اس کے بعد اپنے رسم و رواج کے مطابق کچھ دنوں کے بعد اس کی آخری رسومات ہوتی ہیں۔
    اب اہم بات یہ ہے کہ کیا پاکستان جس کی آبادی 200 ملین سے زیادہ ہے اور یہاں اگر سری لنکا سے 35000 آنکھوں کا عطیہ مل چکا ہے تو کیا پاکستان میں آنکھوں کا عطیہ کے طور پر جو استعمال ہے یہاں سے پورا ہو جاتا ہے یا نہیں ہوتا؟
    اس کی اہمیت کے پیش نظر بحیثیت مسلمان ھمیں شعور اور آگاہی کی ضرورت ہے کہ ہم اس چیز پر توجہ دیں۔

    اسلام میں ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے
    موت بر حق ھے اور اگر مرنے والا اپنے اعضاء عطیہ کے طور پر دے دے تو کتنے لوگوں کو صحت مند زندگی مل سکتی ھے ۔
    خاص طور پر مزہبی طبقے اس کو ایک مثبت سوچ کے ساتھ لے کے آگے بڑھیں تو کتنے لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں کتنے ایسے ہوں گے جن کے لیے آنکھوں کے ساتھ ساتھ باقی جسم کے اعضاء ان کے استعمال میں آئیں گے اور مرنے والوں اور اس کے لواحقین کے لیے صدقہ جاریہ ہوگا میں اس حوالے سے ریکویسٹ کروں گا کہ سوشل میڈیا کی جو شخصیات ہیں اس معاملے کو اٹھایئے اور اس سے ریلیٹڈ جتنے قانونی، معاشرتی، مذہبی پہلو ھیں اس کو دیکھتے ہوئے اس پر گفت و شنید کا سلسلہ شروع کیا جائے اور تجویز کے طور پر یہ ہے کہ جو شخص اپنی زندگی میں ہی عطیہ کرنے کے لئے اس عمل کا آغاز کرے تو اس کو مثبت اپروچ سے آئی ڈی کارڈ پر مینشن کیا جاسکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کو معاشرے میں VIP سمجھا جائے تاکہ اس طرف رجحان پیدا ہو تو یہ بہت اچھا عمل ہوگا میری ریکویسٹ ہے کہ تمام لوگ اس تجویز کو دیکھتے ہوئے اس پر رائے دیں اور اس کو آہستہ آہستہ ایک تحریک کی شکل میں آگے بڑھائیں تاکہ اس سے ملک و قوم انسانیت کا بھلا ہو
    الحمدللہ میں ریگولر بلڈ ڈونر ھوں اور انشاء اللہ اپنی موت پر اعضاء عطیہ کرنے کی وصیت کرنے جا رہا ہوں
    اللہ تعالیٰ ھمیں عمل کی توفیق عطا فرمائیں آمین یارب العالمین
    جزاک اللہ خیرا کثیرا
    بہت معذرت کے ساتھ میرا سوشل میڈیا علم نہ ہونے کے باوجود آداب کے ساتھ
    عرفان انجم ڈاکٹر
    Irfan Anjum

    +92 321 66 22 811

    Join the group Organ Donation Pakistan
    , اسلام و علیکم پچھلے دنوں سیالکوٹ واقعے کے بعد علم ھوا کہ سری لنکا نے تقریبا 83000 ھزار آنکھیں عطیہ کیں۔ جس کا 40 ٪ پاکستان کو دیا گیا۔ اس کو ایک مثبت خبر کے طور پر لیا گیا بظاھر سری لنکا کا شکریہ ادا کیا گیا ۔جو کہ بہت اچھی بات ہے۔ لیکن کچھ حقائق میں آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں سری لنکا کی کی آبادی تقریبا 22 ملین یعنی دو کروڑ 20 لاکھ کے قریب ہے جس میں سے 90 ٪ نان مسلم ہیں ڈیت کے بعد عام طور پر ڈیڈ باڈی کو ہسپتال لے جایا جاتا ہے اور اس کا پوسٹ مارٹم کر کے اس کے اندر سے ضروری اعضاء باہر نکال لئے جاتے ہیں اور اس کے بعد اپنے رسم و رواج کے مطابق کچھ دنوں کے بعد اس کی آخری رسومات ہوتی ہیں۔ اب اہم بات یہ ہے کہ کیا پاکستان جس کی آبادی 200 ملین سے زیادہ ہے اور یہاں اگر سری لنکا سے 35000 آنکھوں کا عطیہ مل چکا ہے تو کیا پاکستان میں آنکھوں کا عطیہ کے طور پر جو استعمال ہے یہاں سے پورا ہو جاتا ہے یا نہیں ہوتا؟ اس کی اہمیت کے پیش نظر بحیثیت مسلمان ھمیں شعور اور آگاہی کی ضرورت ہے کہ ہم اس چیز پر توجہ دیں۔ اسلام میں ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے موت بر حق ھے اور اگر مرنے والا اپنے اعضاء عطیہ کے طور پر دے دے تو کتنے لوگوں کو صحت مند زندگی مل سکتی ھے ۔ خاص طور پر مزہبی طبقے اس کو ایک مثبت سوچ کے ساتھ لے کے آگے بڑھیں تو کتنے لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں کتنے ایسے ہوں گے جن کے لیے آنکھوں کے ساتھ ساتھ باقی جسم کے اعضاء ان کے استعمال میں آئیں گے اور مرنے والوں اور اس کے لواحقین کے لیے صدقہ جاریہ ہوگا میں اس حوالے سے ریکویسٹ کروں گا کہ سوشل میڈیا کی جو شخصیات ہیں اس معاملے کو اٹھایئے اور اس سے ریلیٹڈ جتنے قانونی، معاشرتی، مذہبی پہلو ھیں اس کو دیکھتے ہوئے اس پر گفت و شنید کا سلسلہ شروع کیا جائے اور تجویز کے طور پر یہ ہے کہ جو شخص اپنی زندگی میں ہی عطیہ کرنے کے لئے اس عمل کا آغاز کرے تو اس کو مثبت اپروچ سے آئی ڈی کارڈ پر مینشن کیا جاسکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کو معاشرے میں VIP سمجھا جائے تاکہ اس طرف رجحان پیدا ہو تو یہ بہت اچھا عمل ہوگا میری ریکویسٹ ہے کہ تمام لوگ اس تجویز کو دیکھتے ہوئے اس پر رائے دیں اور اس کو آہستہ آہستہ ایک تحریک کی شکل میں آگے بڑھائیں تاکہ اس سے ملک و قوم انسانیت کا بھلا ہو الحمدللہ میں ریگولر بلڈ ڈونر ھوں اور انشاء اللہ اپنی موت پر اعضاء عطیہ کرنے کی وصیت کرنے جا رہا ہوں اللہ تعالیٰ ھمیں عمل کی توفیق عطا فرمائیں آمین یارب العالمین جزاک اللہ خیرا کثیرا بہت معذرت کے ساتھ میرا سوشل میڈیا علم نہ ہونے کے باوجود آداب کے ساتھ عرفان انجم ڈاکٹر Irfan Anjum +92 321 66 22 811 Join the group Organ Donation Pakistan
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 1061 Visualizações
  • Happy to meet English and Urdu teacher from India Maqsood Qasmi sahib

    Do connect and ask him questions about India and Muslims in India !
    Happy to meet English and Urdu teacher from India Maqsood Qasmi sahib Do connect and ask him questions about India 🇮🇳 and Muslims in India !
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 7 Visualizações
  • Good News !!!!!

    Education is the New Weapon that can help people live a life of Prosperity which is every human beings birthright.

    Success is a system that can be learnt by anyone who wants to live a healthy, happy and wealthy lifestyle.

    We need to redefine the meaning of helping others....instead of giving fish to a person, isnt it better we teach him how to fish so he can stand on his own feet?

    I am ready to teach if anyone is interested to invest in this education.

    Kavita Ramchand
    Good News !!!!! Education is the New Weapon that can help people live a life of Prosperity which is every human being's birthright. Success is a system that can be learnt by anyone who wants to live a healthy, happy and wealthy lifestyle. We need to redefine the meaning of helping others....instead of giving fish to a person, isnt it better we teach him how to fish so he can stand on his own feet? I am ready to teach if anyone is interested to invest in this education. Kavita Ramchand
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 7 Visualizações