• Today my story post no 193
    Jai Parkash EducationWala
    Rehan School Korangi Campus

    One morning, a fathers toast burned. His little daughter looked at it, then smiled and ate it without saying a word. Later, the father asked, "Didnt you notice?" She replied, "I love you more than I dislike burnt

    ایک صبح، ایک باپ کی ٹوسٹ جل گئی۔ اس کی چھوٹی بیٹی نے دیکھا، مسکرائی اور بغیر کچھ کہے کھا لی۔ بعد میں باپ نے پوچھا، "تمہیں پتا نہیں چلا؟" بیٹی نے جواب دیا، "میں آپ سے اتنا پیار کرتی ہوں کہ جلی ہوئی ٹوسٹ کی پرواہ نہیں۔"
    سبق: محبت خامیوں کو نظر انداز کر دیتی ہ
    Today my story post no 193 Jai Parkash EducationWala Rehan School Korangi Campus One morning, a father's toast burned. His little daughter looked at it, then smiled and ate it without saying a word. Later, the father asked, "Didn't you notice?" She replied, "I love you more than I dislike burnt ایک صبح، ایک باپ کی ٹوسٹ جل گئی۔ اس کی چھوٹی بیٹی نے دیکھا، مسکرائی اور بغیر کچھ کہے کھا لی۔ بعد میں باپ نے پوچھا، "تمہیں پتا نہیں چلا؟" بیٹی نے جواب دیا، "میں آپ سے اتنا پیار کرتی ہوں کہ جلی ہوئی ٹوسٹ کی پرواہ نہیں۔" سبق: محبت خامیوں کو نظر انداز کر دیتی ہ
    0 تبصرے 0 شیئرز 28 ویوز
  • Today my story post no 192
    Jai Parkash EducationWala
    Rehan School Korangi Campus

    A balloon race was held for children. As they let go of their balloons, one red balloon flew the highest. A man asked the organizer, "Was it because it was red?" The organizer replied, "No, its whats inside the balloon that made it rise."

    بچوں کے لیے غباروں کی دوڑ رکھی گئی۔ سب نے اپنے غبارے چھوڑے۔ ایک لال غبارہ سب سے اونچا گیا۔ ایک شخص نے منتظم سے پوچھا، "کیا یہ رنگ کی وجہ سے تھا؟" منتظم نے جواب دیا، "نہیں، غبارے کے اندر کیا ہے، وہی اسے اوپر لے گیا۔"
    سبق: انسان کو اوپر لے جانے والی چیز اُس کے اندر ہوتی ہے، باہر نہیں
    Today my story post no 192 Jai Parkash EducationWala Rehan School Korangi Campus A balloon race was held for children. As they let go of their balloons, one red balloon flew the highest. A man asked the organizer, "Was it because it was red?" The organizer replied, "No, it's what's inside the balloon that made it rise." بچوں کے لیے غباروں کی دوڑ رکھی گئی۔ سب نے اپنے غبارے چھوڑے۔ ایک لال غبارہ سب سے اونچا گیا۔ ایک شخص نے منتظم سے پوچھا، "کیا یہ رنگ کی وجہ سے تھا؟" منتظم نے جواب دیا، "نہیں، غبارے کے اندر کیا ہے، وہی اسے اوپر لے گیا۔" سبق: انسان کو اوپر لے جانے والی چیز اُس کے اندر ہوتی ہے، باہر نہیں
    0 تبصرے 0 شیئرز 28 ویوز
  • Today my story post no 191
    Jai Parkash EducationWala
    Rehan School Korangi Campus

    Two seeds lay side by side in the soil. One said, "I want to grow! I want to reach the sky!" The other said, "Its scary out there. Ill stay here where its safe." The first seed pushed upward, grew into a tall plant. The second stayed underground and was eaten by insects.

    مٹی میں دو بیج ایک ساتھ پڑے تھے۔ ایک نے کہا، "میں اگنا چاہتا ہوں! میں آسمان کو چھونا چاہتا ہوں!" دوسرا بولا، "باہر خطرہ ہے، میں یہی محفوظ رہوں گا۔" پہلا بیج اوپر بڑھا اور ایک اونچا پودا بن گیا۔ دوسرا بیج زمین میں ہی رہا اور کیڑوں کا شکار ہو گیا۔
    سبق: ترقی کے لیے خطرہ لینا پڑتا ہے، ہمیشہ محفوظ رہنا کچھ حاصل نہیں کرتا۔
    Today my story post no 191 Jai Parkash EducationWala Rehan School Korangi Campus Two seeds lay side by side in the soil. One said, "I want to grow! I want to reach the sky!" The other said, "It's scary out there. I'll stay here where it's safe." The first seed pushed upward, grew into a tall plant. The second stayed underground and was eaten by insects. مٹی میں دو بیج ایک ساتھ پڑے تھے۔ ایک نے کہا، "میں اگنا چاہتا ہوں! میں آسمان کو چھونا چاہتا ہوں!" دوسرا بولا، "باہر خطرہ ہے، میں یہی محفوظ رہوں گا۔" پہلا بیج اوپر بڑھا اور ایک اونچا پودا بن گیا۔ دوسرا بیج زمین میں ہی رہا اور کیڑوں کا شکار ہو گیا۔ سبق: ترقی کے لیے خطرہ لینا پڑتا ہے، ہمیشہ محفوظ رہنا کچھ حاصل نہیں کرتا۔
    0 تبصرے 0 شیئرز 28 ویوز
  • Today my story post no 190
    Jai Parkash EducationWala
    Rehan School Korangi Campus

    he told them a joke. Everyone laughed. Then he repeated it — fewer laughed. After the third time, no one laughed. He smiled and said, "If you cant laugh at the same joke again and again, why cry over the same problem.

    لوگ ایک دانا بوڑھے آدمی کے پاس بار بار اپنے مسائل لے کر آتے۔ ایک دن اس نے انہیں لطیفہ سنایا، سب ہنسے۔ دوسری بار سنایا، کچھ لوگ ہنسے۔ تیسری بار سنایا، کوئی نہ ہنسا۔ وہ مسکرایا اور بولا، "جب ایک ہی لطیفے پر بار بار نہیں ہنستے، تو ایک ہی مسئلے پر بار بار کیوں روتے ہو؟"
    سبق: ایک ہی مسئلے پر بار بار پریشان ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔
    Today my story post no 190 Jai Parkash EducationWala Rehan School Korangi Campus he told them a joke. Everyone laughed. Then he repeated it — fewer laughed. After the third time, no one laughed. He smiled and said, "If you can't laugh at the same joke again and again, why cry over the same problem. لوگ ایک دانا بوڑھے آدمی کے پاس بار بار اپنے مسائل لے کر آتے۔ ایک دن اس نے انہیں لطیفہ سنایا، سب ہنسے۔ دوسری بار سنایا، کچھ لوگ ہنسے۔ تیسری بار سنایا، کوئی نہ ہنسا۔ وہ مسکرایا اور بولا، "جب ایک ہی لطیفے پر بار بار نہیں ہنستے، تو ایک ہی مسئلے پر بار بار کیوں روتے ہو؟" سبق: ایک ہی مسئلے پر بار بار پریشان ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔
    0 تبصرے 0 شیئرز 28 ویوز
  • Today my story post no 189
    Jai Parkash EducationWala
    Rehan School Korangi Campus

    A boy stood in the middle of the mountains and shouted, "Im useless!" The echo came back, "Im useless!" He felt worse. Then he shouted, "Im strong!" and heard, "Im strong!" back. He realized the world reflects what you send out.

    ایک لڑکا پہاڑوں کے بیچ کھڑا ہو کر چلایا، "میں ناکام ہوں!" جواب میں گونج آئی، "میں ناکام ہوں!" وہ مزید اداس ہوا۔ پھر وہ بولا، "میں مضبوط ہوں!" اور گونج آئی، "میں مضبوط ہوں!" اُسے احساس ہوا کہ دنیا وہی لوٹاتی ہے جو ہم دیتے ہیں۔
    سبق: مثبت بات کرو، دنیا تمہیں وہی واپس دیتی ہے۔
    Today my story post no 189 Jai Parkash EducationWala Rehan School Korangi Campus A boy stood in the middle of the mountains and shouted, "I'm useless!" The echo came back, "I'm useless!" He felt worse. Then he shouted, "I'm strong!" and heard, "I'm strong!" back. He realized the world reflects what you send out. ایک لڑکا پہاڑوں کے بیچ کھڑا ہو کر چلایا، "میں ناکام ہوں!" جواب میں گونج آئی، "میں ناکام ہوں!" وہ مزید اداس ہوا۔ پھر وہ بولا، "میں مضبوط ہوں!" اور گونج آئی، "میں مضبوط ہوں!" اُسے احساس ہوا کہ دنیا وہی لوٹاتی ہے جو ہم دیتے ہیں۔ سبق: مثبت بات کرو، دنیا تمہیں وہی واپس دیتی ہے۔
    0 تبصرے 0 شیئرز 28 ویوز
  • Today my story post no 188
    Jai Parkash EducationWala
    Rehan School Korangi Campus

    An oak tree laughed at a bamboo plant during a storm, saying, “You bend too easily!” But when a strong wind came, the oak broke, while the bamboo bent and survived. Flexibility saved the bamboo, not strength.
    Moral

    ایک بلوط کا درخت طوفان میں بانس پر ہنسا اور کہا، "تم تو آسانی سے جھک جاتے ہو!" لیکن جب سخت ہوا آئی، بلوط ٹوٹ گیا، اور بانس جھک کر بچ گیا۔ طاقت نہیں، لچک نے اسے بچایا۔
    سبق: زندگی کے طوفانوں میں مضبوطی سے نہیں، صبر اور لچک سے بچا جاتا ہے۔
    Today my story post no 188 Jai Parkash EducationWala Rehan School Korangi Campus An oak tree laughed at a bamboo plant during a storm, saying, “You bend too easily!” But when a strong wind came, the oak broke, while the bamboo bent and survived. Flexibility saved the bamboo, not strength. Moral ایک بلوط کا درخت طوفان میں بانس پر ہنسا اور کہا، "تم تو آسانی سے جھک جاتے ہو!" لیکن جب سخت ہوا آئی، بلوط ٹوٹ گیا، اور بانس جھک کر بچ گیا۔ طاقت نہیں، لچک نے اسے بچایا۔ سبق: زندگی کے طوفانوں میں مضبوطی سے نہیں، صبر اور لچک سے بچا جاتا ہے۔
    0 تبصرے 0 شیئرز 28 ویوز
  • Today my story post no 187
    Jai Parkash EducationWala
    Rehan School Korangi Campus

    A donkey fell into a dry well. The farmer tried but couldnt pull it out. So he decided to bury it. As he threw dirt, the donkey shook it off and stepped on it. With every shovel of dirt, it rose higher — and finally came out.

    ایک گدھا کنویں میں گر گیا۔ کسان نے بچانے کی کوشش کی، ناکام رہا۔ اُس نے فیصلہ کیا کہ کنواں بھر دیتا ہوں۔ جب وہ مٹی پھینکنے لگا، گدھا مٹی جھاڑتا رہا اور اس پر چڑھتا رہا۔ آخرکار وہ اوپر آ گیا۔
    سبق: زندگی مٹی ڈالے گی، اسے جھاڑو اور اوپر اٹھتے جاؤ۔
    Today my story post no 187 Jai Parkash EducationWala Rehan School Korangi Campus A donkey fell into a dry well. The farmer tried but couldn't pull it out. So he decided to bury it. As he threw dirt, the donkey shook it off and stepped on it. With every shovel of dirt, it rose higher — and finally came out. ایک گدھا کنویں میں گر گیا۔ کسان نے بچانے کی کوشش کی، ناکام رہا۔ اُس نے فیصلہ کیا کہ کنواں بھر دیتا ہوں۔ جب وہ مٹی پھینکنے لگا، گدھا مٹی جھاڑتا رہا اور اس پر چڑھتا رہا۔ آخرکار وہ اوپر آ گیا۔ سبق: زندگی مٹی ڈالے گی، اسے جھاڑو اور اوپر اٹھتے جاؤ۔
    0 تبصرے 0 شیئرز 28 ویوز
  • Today my story post no 186
    Jai Parkash EducationWala
    Rehan School Korangi Campus

    A pencil said to the eraser, "Im sorry for hurting you every time I make a mistake." The eraser replied, "Thats what Im here for. Im meant to help you grow." They worked together — one learned, the other sacrificed.

    پنسل نے ربر سے کہا، "معاف کرنا، میں ہر غلطی پر تمہیں گھساتا ہوں۔" ربر نے جواب دیا، "اسی لیے تو میں ہوں۔ میں تمہیں بہتر بنانے کے لیے قربانی دیتا ہوں۔" دونوں ساتھ چلتے رہے — ایک سیکھتا رہا، دوسرا مٹاتا رہا۔
    سبق: جو لوگ واقعی آپ سے محبت کرتے ہیں، وہ آپ کی بہتری کے لیے قربانیاں دیتے ہیں۔
    Today my story post no 186 Jai Parkash EducationWala Rehan School Korangi Campus A pencil said to the eraser, "I'm sorry for hurting you every time I make a mistake." The eraser replied, "That's what I'm here for. I'm meant to help you grow." They worked together — one learned, the other sacrificed. پنسل نے ربر سے کہا، "معاف کرنا، میں ہر غلطی پر تمہیں گھساتا ہوں۔" ربر نے جواب دیا، "اسی لیے تو میں ہوں۔ میں تمہیں بہتر بنانے کے لیے قربانی دیتا ہوں۔" دونوں ساتھ چلتے رہے — ایک سیکھتا رہا، دوسرا مٹاتا رہا۔ سبق: جو لوگ واقعی آپ سے محبت کرتے ہیں، وہ آپ کی بہتری کے لیے قربانیاں دیتے ہیں۔
    0 تبصرے 0 شیئرز 28 ویوز
  • 0 تبصرے 0 شیئرز 28 ویوز
  • 0 تبصرے 0 شیئرز 28 ویوز