• ڈاکٹر ندیم الحق: پاکستان کے ممتاز ماہرِ معاشیات، وزیر اور دانشور

    پاکستان میں اگر چند ایسے لوگوں کے نام لیے جائیں جنہوں نے علم، تحقیق، عالمی تجربے اور قومی خدمت کو یکجا کیا ہو، تو ڈاکٹر ندیم الحق ان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ وہ ایک معروف ماہرِ معاشیات، دانشور، محقق اور پالیسی ساز ہیں جنہوں نے نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ ملکی اقتصادی پالیسیوں، تعلیمی اداروں اور ترقیاتی منصوبوں میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔

    ڈاکٹر ندیم الحق نے اپنی اعلیٰ تعلیم دنیا کے ممتاز اداروں سے حاصل کی۔ انہوں نے 1974 میں برطانیہ کے معروف ادارے لندن اسکول آف اکنامکس سے معاشیات میں بیچلر آف سائنس کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں امریکہ کی یونیورسٹی آف شکاگو سے ماسٹر آف آرٹس اور 1986 میں معاشیات میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ یونیورسٹی آف شکاگو دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے اور اس سے وابستہ متعدد شخصیات نوبیل انعام حاصل کر چکی ہیں۔

    تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر ندیم الحق نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) میں شمولیت اختیار کی، جہاں انہوں نے تقریباً چوبیس برس تک مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔ اس دوران انہوں نے متعدد ممالک میں اقتصادی اصلاحات، مالیاتی پالیسیوں اور ترقیاتی پروگراموں پر کام کیا اور عالمی سطح پر ایک ممتاز ماہرِ معاشیات کے طور پر اپنی شناخت قائم کی۔

    2005 میں وہ پاکستان واپس آئے اور وزارتِ تجارت میں مشیر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں۔ بعد ازاں انہیں پلاننگ کمیشن آف پاکستان میں اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ 2010 سے 2013 تک انہوں نے حکومتِ پاکستان میں وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور قومی ترقیاتی منصوبوں، اقتصادی حکمتِ عملی اور طویل المدتی اصلاحات میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی توجہ ہمیشہ اقتصادی ترقی، نجی شعبے کے فروغ، سرمایہ کاری میں اضافے اور جدید شہروں کی تعمیر پر مرکوز رہی۔

    ڈاکٹر ندیم الحق کئی برس تک پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے وائس چانسلر بھی رہے۔ ان کی قیادت میں PIDE نے پاکستان کے اہم ترین تحقیقی اداروں میں اپنی حیثیت مزید مستحکم کی۔ انہوں نے نوجوان محققین کی تربیت، آزادانہ تحقیق اور پالیسی سازی کے فروغ کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں اور پاکستان کے معاشی مسائل کے حل کے لیے نئے خیالات اور مباحث کو فروغ دیا۔

    ڈاکٹر ندیم الحق پچاس سے زیادہ تحقیقی مقالوں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی تحقیق کے اہم موضوعات میں اقتصادی ترقی، شہری منصوبہ بندی، تعلیم، سرکاری اداروں کی اصلاحات، سرمایہ کاری، کاروباری ماحول اور گورننس شامل ہیں۔ ان کی تحریریں پاکستان سمیت دنیا بھر کے علمی حلقوں میں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔

    ڈاکٹر ندیم الحق کا یقین ہے کہ کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی صرف قرضوں اور امداد سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے مضبوط ادارے، بہتر شہر، تحقیق، اختراع، تعلیم اور نجی شعبے کی ترقی ناگزیر ہیں۔ وہ ہمیشہ نوجوانوں، علم، ٹیکنالوجی اور کاروباری سرگرمیوں کو پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد قرار دیتے رہے ہیں۔

    ڈاکٹر ندیم الحق پاکستان کے ان ممتاز دانشوروں اور ماہرینِ معاشیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، تحقیق اور قومی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ بین الاقوامی اداروں میں نمایاں خدمات، حکومتِ پاکستان میں اہم ذمہ داریاں اور تعلیمی و تحقیقی میدان میں ان کی کاوشیں انہیں ملک کی ممتاز علمی شخصیات میں شمار کراتی ہیں۔

    آج ریحان اسکول کے لیے یہ ایک اعزاز اور خوشی کا لمحہ تھا کہ ڈاکٹر ندیم الحق نے ہمارے ادارے کا دورہ کیا۔ ہم ان کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ریحان اسکول کے طلبہ، اساتذہ اور ہمارے مشن کے بارے میں نہایت حوصلہ افزا اور مثبت خیالات کا اظہار فرمایا۔ ان کے حوصلہ افزا کلمات ہمارے لیے باعثِ افتخار ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ان جیسے عظیم مفکرین، ماہرینِ معاشیات اور قومی رہنماؤں کی دعائیں اور رہنمائی ریحان اسکول کے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے میں مددگار ثابت ہوں گی جس کا مقصد ایک ہزار ایسے رہنما تیار کرنا ہے جو لاکھوں انسانوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائیں۔ ہم ڈاکٹر ندیم الحق کی تشریف آوری، محبت، شفقت اور حوصلہ افزائی پر ان کے بے حد ممنون ہیں۔

    Nadeem Ul Haque
    ڈاکٹر ندیم الحق: پاکستان کے ممتاز ماہرِ معاشیات، وزیر اور دانشور پاکستان میں اگر چند ایسے لوگوں کے نام لیے جائیں جنہوں نے علم، تحقیق، عالمی تجربے اور قومی خدمت کو یکجا کیا ہو، تو ڈاکٹر ندیم الحق ان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ وہ ایک معروف ماہرِ معاشیات، دانشور، محقق اور پالیسی ساز ہیں جنہوں نے نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ ملکی اقتصادی پالیسیوں، تعلیمی اداروں اور ترقیاتی منصوبوں میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر ندیم الحق نے اپنی اعلیٰ تعلیم دنیا کے ممتاز اداروں سے حاصل کی۔ انہوں نے 1974 میں برطانیہ کے معروف ادارے لندن اسکول آف اکنامکس سے معاشیات میں بیچلر آف سائنس کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں امریکہ کی یونیورسٹی آف شکاگو سے ماسٹر آف آرٹس اور 1986 میں معاشیات میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ یونیورسٹی آف شکاگو دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے اور اس سے وابستہ متعدد شخصیات نوبیل انعام حاصل کر چکی ہیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر ندیم الحق نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) میں شمولیت اختیار کی، جہاں انہوں نے تقریباً چوبیس برس تک مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔ اس دوران انہوں نے متعدد ممالک میں اقتصادی اصلاحات، مالیاتی پالیسیوں اور ترقیاتی پروگراموں پر کام کیا اور عالمی سطح پر ایک ممتاز ماہرِ معاشیات کے طور پر اپنی شناخت قائم کی۔ 2005 میں وہ پاکستان واپس آئے اور وزارتِ تجارت میں مشیر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں۔ بعد ازاں انہیں پلاننگ کمیشن آف پاکستان میں اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ 2010 سے 2013 تک انہوں نے حکومتِ پاکستان میں وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور قومی ترقیاتی منصوبوں، اقتصادی حکمتِ عملی اور طویل المدتی اصلاحات میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی توجہ ہمیشہ اقتصادی ترقی، نجی شعبے کے فروغ، سرمایہ کاری میں اضافے اور جدید شہروں کی تعمیر پر مرکوز رہی۔ ڈاکٹر ندیم الحق کئی برس تک پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے وائس چانسلر بھی رہے۔ ان کی قیادت میں PIDE نے پاکستان کے اہم ترین تحقیقی اداروں میں اپنی حیثیت مزید مستحکم کی۔ انہوں نے نوجوان محققین کی تربیت، آزادانہ تحقیق اور پالیسی سازی کے فروغ کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں اور پاکستان کے معاشی مسائل کے حل کے لیے نئے خیالات اور مباحث کو فروغ دیا۔ ڈاکٹر ندیم الحق پچاس سے زیادہ تحقیقی مقالوں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی تحقیق کے اہم موضوعات میں اقتصادی ترقی، شہری منصوبہ بندی، تعلیم، سرکاری اداروں کی اصلاحات، سرمایہ کاری، کاروباری ماحول اور گورننس شامل ہیں۔ ان کی تحریریں پاکستان سمیت دنیا بھر کے علمی حلقوں میں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر ندیم الحق کا یقین ہے کہ کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی صرف قرضوں اور امداد سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے مضبوط ادارے، بہتر شہر، تحقیق، اختراع، تعلیم اور نجی شعبے کی ترقی ناگزیر ہیں۔ وہ ہمیشہ نوجوانوں، علم، ٹیکنالوجی اور کاروباری سرگرمیوں کو پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد قرار دیتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر ندیم الحق پاکستان کے ان ممتاز دانشوروں اور ماہرینِ معاشیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، تحقیق اور قومی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ بین الاقوامی اداروں میں نمایاں خدمات، حکومتِ پاکستان میں اہم ذمہ داریاں اور تعلیمی و تحقیقی میدان میں ان کی کاوشیں انہیں ملک کی ممتاز علمی شخصیات میں شمار کراتی ہیں۔ آج ریحان اسکول کے لیے یہ ایک اعزاز اور خوشی کا لمحہ تھا کہ ڈاکٹر ندیم الحق نے ہمارے ادارے کا دورہ کیا۔ ہم ان کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ریحان اسکول کے طلبہ، اساتذہ اور ہمارے مشن کے بارے میں نہایت حوصلہ افزا اور مثبت خیالات کا اظہار فرمایا۔ ان کے حوصلہ افزا کلمات ہمارے لیے باعثِ افتخار ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ان جیسے عظیم مفکرین، ماہرینِ معاشیات اور قومی رہنماؤں کی دعائیں اور رہنمائی ریحان اسکول کے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے میں مددگار ثابت ہوں گی جس کا مقصد ایک ہزار ایسے رہنما تیار کرنا ہے جو لاکھوں انسانوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائیں۔ ہم ڈاکٹر ندیم الحق کی تشریف آوری، محبت، شفقت اور حوصلہ افزائی پر ان کے بے حد ممنون ہیں۔ Nadeem Ul Haque
    0 التعليقات 0 المشاركات 233 مشاهدة 0
  • Welcome to machinee.net - Pakistans market place for machines buying and selling !
    Welcome to machinee.net - Pakistans market place for machines buying and selling !
    0 التعليقات 0 المشاركات 101 مشاهدة 0
  • After spending 1.2 years in Rehan School Korangi Campus I am amazed to see the confidence in Zimal KnowledgeWali
    After spending 1.2 years in Rehan School Korangi Campus I am amazed to see the confidence in Zimal KnowledgeWali
    0 التعليقات 0 المشاركات 115 مشاهدة 0
  • Do you know someone making , buying or selling machines ?

    Help them join https://machinee.net/businesstalk
    Do you know someone making , buying or selling machines ? Help them join https://machinee.net/businesstalk
    0 التعليقات 0 المشاركات 638 مشاهدة 0
  • ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

    علامہ اقبال نے ایک صدی پہلے کہا تھا:

    “ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں”

    شاید آج کی دنیا میں اس شعر کا مطلب پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو گیا ہے۔

    مصنوعی ذہانت (AI) نے انسان کو ایک ایسی طاقت دے دی ہے جس کا تصور چند سال پہلے بھی مشکل تھا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ AI کو انہی کاموں کے لیے استعمال کر رہے ہیں جو ایک پری-AI دور کے لیے بنائے گئے تھے۔ اسی وجہ سے وہ AI سے خوفزدہ ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ یہ ان کی جگہ لے لے گا۔

    حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

    اگر کسی کے پاس ایک دیوہیکل فیکٹری ہو اور وہ اس سے صرف ایک کپ بنائے، تو مسئلہ فیکٹری کا نہیں، بلکہ اس انسان کی سوچ کا ہے۔

    AI ایک بہت بڑی فیکٹری ہے۔

    یہ آپ کی تخیل کی طاقت کو 10 گنا، 100 گنا بلکہ 1000 گنا بڑھا سکتی ہے۔

    مسئلہ AI نہیں ہے۔

    مسئلہ ہمارے خواب ہیں۔

    مسئلہ ہماری امنگیں ہیں۔

    ہم ابھی بھی چھوٹے مقاصد کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، اس لیے ہمیں AI ایک خطرہ محسوس ہوتی ہے۔ لیکن جیسے ہی آپ اپنے خوابوں کو سو گنا یا ہزار گنا بڑا کرتے ہیں، AI آپ کی دشمن نہیں بلکہ آپ کی سب سے طاقتور ساتھی بن جاتی ہے۔

    اسی سوچ کے ساتھ ریحان اسکول کوشش کر رہا ہے کہ ہر طالب علم نہ صرف ایک ملین ڈالر کی کمپنی بنانے کے قابل ہو بلکہ ایک ملین انسانوں کی زندگی پر مثبت اثر بھی ڈالے۔

    یہ خواب بہت بڑا لگتا ہے۔

    لیکن تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں نے بدلی ہے جنہوں نے بڑے خواب دیکھے۔

    آپ کو بھی یہی کرنا ہے۔

    اپنے مقاصد کو سو گنا بڑا کریں۔

    اپنی سوچ کو ہزار گنا وسیع کریں۔

    کیونکہ AI کا اصل فائدہ تیز ٹائپنگ یا بہتر نوٹس بنانے میں نہیں ہے۔

    اس کا اصل فائدہ انسان کی تخلیقی صلاحیت، اس کی جرات، اور اس کے خوابوں کو کئی گنا بڑھانے میں ہے۔

    جب مقصد چھوٹا ہو تو AI ایک خطرہ لگتی ہے۔

    لیکن جب مقصد ایک ملین لوگوں کی زندگی بہتر بنانا ہو، غربت ختم کرنا ہو، یا دنیا کو پہلے سے بہتر بنانا ہو، تو AI ایک حیرت انگیز شریک سفر بن جاتی ہے۔

    یہ پیغام دنیا کے تمام اساتذہ، تعلیمی ماہرین، اور مفکرین کے لیے ہے۔

    وقت آ گیا ہے کہ ہم AI کے بارے میں نہیں، بلکہ اپنی سوچ کے بارے میں دوبارہ غور کریں۔

    کیونکہ شاید اقبال کا پیغام آج بھی وہی ہے:

    ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔

    اور شاید AI پہلی ایسی ٹیکنالوجی ہے جس نے انسان کو واقعی ان نئے جہانوں تک پہنچنے کا موقع دیا ہے۔

    اور اس سوچ کے لیے میں خاص طور پر Jensen Huang کا شکر گزار ہوں، جن کے پوڈکاسٹس نے مجھے یہ احساس دلایا کہ AI کا سب سے بڑا فائدہ صرف کام کو تیز کرنا نہیں، بلکہ انسان کی سوچ، خوابوں اور امکانات کو وسعت دینا ہے۔

    کیونکہ آنے والے زمانے میں شاید سب سے بڑی کمی ذہانت کی نہیں ہوگی۔

    سب سے بڑی کمی بڑے خواب دیکھنے والوں کی ہوگی۔
    ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں علامہ اقبال نے ایک صدی پہلے کہا تھا: “ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں” شاید آج کی دنیا میں اس شعر کا مطلب پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) نے انسان کو ایک ایسی طاقت دے دی ہے جس کا تصور چند سال پہلے بھی مشکل تھا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ AI کو انہی کاموں کے لیے استعمال کر رہے ہیں جو ایک پری-AI دور کے لیے بنائے گئے تھے۔ اسی وجہ سے وہ AI سے خوفزدہ ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ یہ ان کی جگہ لے لے گا۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اگر کسی کے پاس ایک دیوہیکل فیکٹری ہو اور وہ اس سے صرف ایک کپ بنائے، تو مسئلہ فیکٹری کا نہیں، بلکہ اس انسان کی سوچ کا ہے۔ AI ایک بہت بڑی فیکٹری ہے۔ یہ آپ کی تخیل کی طاقت کو 10 گنا، 100 گنا بلکہ 1000 گنا بڑھا سکتی ہے۔ مسئلہ AI نہیں ہے۔ مسئلہ ہمارے خواب ہیں۔ مسئلہ ہماری امنگیں ہیں۔ ہم ابھی بھی چھوٹے مقاصد کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، اس لیے ہمیں AI ایک خطرہ محسوس ہوتی ہے۔ لیکن جیسے ہی آپ اپنے خوابوں کو سو گنا یا ہزار گنا بڑا کرتے ہیں، AI آپ کی دشمن نہیں بلکہ آپ کی سب سے طاقتور ساتھی بن جاتی ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ ریحان اسکول کوشش کر رہا ہے کہ ہر طالب علم نہ صرف ایک ملین ڈالر کی کمپنی بنانے کے قابل ہو بلکہ ایک ملین انسانوں کی زندگی پر مثبت اثر بھی ڈالے۔ یہ خواب بہت بڑا لگتا ہے۔ لیکن تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں نے بدلی ہے جنہوں نے بڑے خواب دیکھے۔ آپ کو بھی یہی کرنا ہے۔ اپنے مقاصد کو سو گنا بڑا کریں۔ اپنی سوچ کو ہزار گنا وسیع کریں۔ کیونکہ AI کا اصل فائدہ تیز ٹائپنگ یا بہتر نوٹس بنانے میں نہیں ہے۔ اس کا اصل فائدہ انسان کی تخلیقی صلاحیت، اس کی جرات، اور اس کے خوابوں کو کئی گنا بڑھانے میں ہے۔ جب مقصد چھوٹا ہو تو AI ایک خطرہ لگتی ہے۔ لیکن جب مقصد ایک ملین لوگوں کی زندگی بہتر بنانا ہو، غربت ختم کرنا ہو، یا دنیا کو پہلے سے بہتر بنانا ہو، تو AI ایک حیرت انگیز شریک سفر بن جاتی ہے۔ یہ پیغام دنیا کے تمام اساتذہ، تعلیمی ماہرین، اور مفکرین کے لیے ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم AI کے بارے میں نہیں، بلکہ اپنی سوچ کے بارے میں دوبارہ غور کریں۔ کیونکہ شاید اقبال کا پیغام آج بھی وہی ہے: ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ اور شاید AI پہلی ایسی ٹیکنالوجی ہے جس نے انسان کو واقعی ان نئے جہانوں تک پہنچنے کا موقع دیا ہے۔ اور اس سوچ کے لیے میں خاص طور پر Jensen Huang کا شکر گزار ہوں، جن کے پوڈکاسٹس نے مجھے یہ احساس دلایا کہ AI کا سب سے بڑا فائدہ صرف کام کو تیز کرنا نہیں، بلکہ انسان کی سوچ، خوابوں اور امکانات کو وسعت دینا ہے۔ کیونکہ آنے والے زمانے میں شاید سب سے بڑی کمی ذہانت کی نہیں ہوگی۔ سب سے بڑی کمی بڑے خواب دیکھنے والوں کی ہوگی۔
    0 التعليقات 0 المشاركات 141 مشاهدة 0
  • تمام اسکولوں کی چھتوں پر ایسا نظام بنانے میں میری مدد کے لیے ہم پودوں سے محبت کرنے والے ایک فرد کو کل وقتی بنیادوں پر ملازمت دینا چاہتے ہیں!

    دلچسپی رکھنے والے افراد رابطہ کریں:

    0305-8887388

    Looking to hire a plant lover full time to help me make this on my roofs of all schools !
    تمام اسکولوں کی چھتوں پر ایسا نظام بنانے میں میری مدد کے لیے ہم پودوں سے محبت کرنے والے ایک فرد کو کل وقتی بنیادوں پر ملازمت دینا چاہتے ہیں! 🌱🏫 دلچسپی رکھنے والے افراد رابطہ کریں: 📞 0305-8887388 Looking to hire a plant lover full time to help me make this on my roofs of all schools !
    0 التعليقات 0 المشاركات 171 مشاهدة 0
  • How do we educate students in Rehan School explained to Syed Asif Zaman
    How do we educate students in Rehan School explained to Syed Asif Zaman
    0 التعليقات 0 المشاركات 149 مشاهدة 0
  • Thank you Syed Asif Zaman for visiting @rehan school labs and meeting my stars ️
    Thank you Syed Asif Zaman for visiting @rehan school labs and meeting my stars ⭐️
    0 التعليقات 0 المشاركات 111 مشاهدة 0
  • موبائل کس استعمال آج ایک بڑی ضرورت بن گیا ہے لیکن بچے ہو یا بڑے موبائل کی استعمال سے وقت بہت ضائع ہوتا ہے لیکن اگر ہم موبائل کے اس استعمال کو پروڈکٹیو لیں تو یہ ہماری طاقت بن جائے اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس نے اسے سچ کر دکھایا ہے۔
    پائنیئر بزنس سکول کا مشن ہی کہ ہر بندہ موبائل یوزر ہے کریئٹر بنے۔ کانٹینٹ رائٹنگ، تصاویر، تجزے، ریسرچ، وڈیوز، پوڈکاسٹ، کارٹون اور کوڈنگ یہ سب عام لوگ اے آئ کہ فری ایپس سے کر سکتے ہیں تو ہم لے کر آئے ہیں ڈیجی سٹارٹ بوٹ کیمپ جس کو ان تمام سکلز کیے ساتھ بنیادی گرافک ڈیزائننگ، وڈیو ایڈیٹنگ اور فری لانسنگ بھی شامل ہے
    دو ہفتے ہے کورس کی فیس صرف 2500 روپے۔ آن لائن اور فزیکل دونوں کلاسز ہیں۔ خواتین اور بچوں کی الگ کلاسز ہیں۔
    بہت سارے سٹوڈنٹس سیکھ چکے ہیں اور تمام سکلز پریکٹیکلی سکھائی جاتی ہیں۔
    نئے بیچ سٹارٹ ہیں بچے، سٹوڈنٹس، ہائوس وائف، جاب ہولڈر اور اپنا بزنس کرنے والے یہ سب کہ ضرورت ہے۔
    تو اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور ایڈمیشن کے لیے ابھی اس مسیج کا ریپلائ کرین یا
    03276796767 پر رابطہ کریں۔
    موبائل کس استعمال آج ایک بڑی ضرورت بن گیا ہے لیکن بچے ہو یا بڑے موبائل کی استعمال سے وقت بہت ضائع ہوتا ہے لیکن اگر ہم موبائل کے اس استعمال کو پروڈکٹیو لیں تو یہ ہماری طاقت بن جائے اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس نے اسے سچ کر دکھایا ہے۔ پائنیئر بزنس سکول کا مشن ہی کہ ہر بندہ موبائل یوزر ہے کریئٹر بنے۔ کانٹینٹ رائٹنگ، تصاویر، تجزے، ریسرچ، وڈیوز، پوڈکاسٹ، کارٹون اور کوڈنگ یہ سب عام لوگ اے آئ کہ فری ایپس سے کر سکتے ہیں تو ہم لے کر آئے ہیں ڈیجی سٹارٹ بوٹ کیمپ جس کو ان تمام سکلز کیے ساتھ بنیادی گرافک ڈیزائننگ، وڈیو ایڈیٹنگ اور فری لانسنگ بھی شامل ہے دو ہفتے ہے کورس کی فیس صرف 2500 روپے۔ آن لائن اور فزیکل دونوں کلاسز ہیں۔ خواتین اور بچوں کی الگ کلاسز ہیں۔ بہت سارے سٹوڈنٹس سیکھ چکے ہیں اور تمام سکلز پریکٹیکلی سکھائی جاتی ہیں۔ نئے بیچ سٹارٹ ہیں بچے، سٹوڈنٹس، ہائوس وائف، جاب ہولڈر اور اپنا بزنس کرنے والے یہ سب کہ ضرورت ہے۔ تو اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور ایڈمیشن کے لیے ابھی اس مسیج کا ریپلائ کرین یا 03276796767 پر رابطہ کریں۔
    0 التعليقات 0 المشاركات 139 مشاهدة 0
  • Facebook Video
    Facebook Video
    0 التعليقات 0 المشاركات 111 مشاهدة 0