• ہم چندہ مانگنے نہیں آئے… ہم آپ کا خواب پورا کرنے آئے ہیں

    آج اسلام آباد میں میری ملاقات Saleem Akhter صاحب سے ہوئی، جو The Arqam Schools کے مالک ہیں اور چار اسکول کامیابی سے چلا رہے ہیں۔

    باتوں کے دوران انہوں نے ایک بہت دلچسپ بات کہی جس نے مجھے واقعی متاثر کیا۔

    انہوں نے کہا:

    “ہم لوگوں سے پیسے مانگنے نہیں جائیں گے۔ ہم ان سے کہیں گے کہ ہم آپ کی مدد کرنے آئے ہیں تاکہ آپ اپنے علاقے میں ایک ایسا اسکول بنا سکیں جو بچوں کو مستقبل کے لیے تیار کرے۔”

    یعنی پیغام یہ نہیں ہوگا کہ “ہمیں ڈونیشن دیں”۔
    پیغام یہ ہوگا:

    “آئیں، ہم آپ کے ساتھ مل کر آپ کے علاقے میں مستقبل کا اسکول بناتے ہیں۔”

    کیونکہ Rehan School صرف ایک عام اسکول نہیں ہے۔

    یہ دراصل ہیں:

    Leadership Creation Factories
    AI Training Centers
    Confidence Building Labs
    Global Thinking Classrooms

    جہاں بچے صرف کتابیں نہیں پڑھتے…
    بلکہ سیکھتے ہیں کہ:
    • AI کیسے استعمال کرنا ہے
    • دنیا کے لوگوں سے کیسے بات کرنی ہے
    • مسئلے کیسے حل کرنے ہیں
    • اور زندگی میں لیڈر کیسے بننا ہے

    ہماری ٹیم کا مقصد ہے کہ پاکستان کے ہر ضلع میں ایسے Micro Schools بنیں۔

    پہلا ہدف: 200 Rehan School Campuses

    اور اگر کوئی شخص یا کمیونٹی اپنے علاقے میں ایسا اسکول بنانا چاہتی ہے تو ہم کہتے ہیں:

    “ہم آپ کی مدد کریں گے۔”

    اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کے شہر یا علاقے میں
    AI اور لیڈرشپ سکھانے والا Rehan Micro School بنے تو آپ یہاں سے اس مشن کا حصہ بن سکتے ہیں:

    https://rehanschool.com/donate

    کیونکہ بعض اوقات
    ایک اسکول صرف تعلیم نہیں دیتا…

    وہ ایک پورے علاقے کا مستقبل بدل دیتا ہے۔

    — ریحان اللہ والا
    🚀 ہم چندہ مانگنے نہیں آئے… ہم آپ کا خواب پورا کرنے آئے ہیں آج اسلام آباد میں میری ملاقات Saleem Akhter صاحب سے ہوئی، جو The Arqam Schools کے مالک ہیں اور چار اسکول کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ باتوں کے دوران انہوں نے ایک بہت دلچسپ بات کہی جس نے مجھے واقعی متاثر کیا۔ انہوں نے کہا: “ہم لوگوں سے پیسے مانگنے نہیں جائیں گے۔ ہم ان سے کہیں گے کہ ہم آپ کی مدد کرنے آئے ہیں تاکہ آپ اپنے علاقے میں ایک ایسا اسکول بنا سکیں جو بچوں کو مستقبل کے لیے تیار کرے۔” یعنی پیغام یہ نہیں ہوگا کہ “ہمیں ڈونیشن دیں”۔ پیغام یہ ہوگا: 👉 “آئیں، ہم آپ کے ساتھ مل کر آپ کے علاقے میں مستقبل کا اسکول بناتے ہیں۔” کیونکہ Rehan School صرف ایک عام اسکول نہیں ہے۔ یہ دراصل ہیں: 🏭 Leadership Creation Factories 🤖 AI Training Centers 🎤 Confidence Building Labs 🌍 Global Thinking Classrooms جہاں بچے صرف کتابیں نہیں پڑھتے… بلکہ سیکھتے ہیں کہ: • AI کیسے استعمال کرنا ہے • دنیا کے لوگوں سے کیسے بات کرنی ہے • مسئلے کیسے حل کرنے ہیں • اور زندگی میں لیڈر کیسے بننا ہے ہماری ٹیم کا مقصد ہے کہ پاکستان کے ہر ضلع میں ایسے Micro Schools بنیں۔ 🎯 پہلا ہدف: 200 Rehan School Campuses اور اگر کوئی شخص یا کمیونٹی اپنے علاقے میں ایسا اسکول بنانا چاہتی ہے تو ہم کہتے ہیں: “ہم آپ کی مدد کریں گے۔” اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کے شہر یا علاقے میں AI اور لیڈرشپ سکھانے والا Rehan Micro School بنے تو آپ یہاں سے اس مشن کا حصہ بن سکتے ہیں: 🌐 https://rehanschool.com/donate کیونکہ بعض اوقات ایک اسکول صرف تعلیم نہیں دیتا… وہ ایک پورے علاقے کا مستقبل بدل دیتا ہے۔ — ریحان اللہ والا ✨
    0 Commentarios 0 Acciones 140 Views 0
  • آج ایک دلچسپ ملاقات ہوئی…

    آج ساہیوال سے محترم الطاف حسین صاحب ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس کے دورے پر آئے۔
    الطاف صاحب خود بھی ایک تعلیم دوست انسان ہیں اور ساہیوال میں اپنے تین اسکول چلا رہے ہیں۔

    جب وہ ہمارے کیمپس میں آئے تو انہوں نے صرف کلاس رومز نہیں دیکھے…
    انہوں نے بچوں سے بات کی، ان کے سوال سنے، ان کے خواب سنے، اور دیکھا کہ یہاں تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اعتماد، کمیونیکیشن، انٹرنیٹ اور AI کے ذریعے زندگی کو سمجھنا بھی سکھایا جاتا ہے۔

    ہماری ملاقات کے دوران انہوں نے مجھ سے زندگی کے بارے میں بھی کئی گہرے سوالات پوچھے۔
    کامیابی کیا ہے؟
    تعلیم کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟
    اور آنے والے AI کے زمانے میں بچوں کو کیسے تیار کیا جائے؟

    میں نے اپنی سمجھ کے مطابق انہیں بتایا کہ:

    آج دنیا بدل رہی ہے۔
    کتابوں کا علم اب کافی نہیں رہا۔
    اب بچوں کو سوچنا، سوال کرنا، انٹرنیٹ استعمال کرنا، AI سے سیکھنا اور لوگوں سے جڑنا سکھانا ضروری ہے۔

    ریحان اسکول میں ہم یہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ
    بچوں کو صرف امتحان پاس کرنے والا نہیں بلکہ زندگی جیتنے والا انسان بنایا جائے۔

    الطاف حسین صاحب نے طلبہ کے ساتھ وقت گزارا، کلاسز دیکھیں اور ہمارے سسٹم کو قریب سے سمجھا۔
    ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کے مزید اسکول بھی اس نئی سوچ کو دیکھیں گے اور تعلیم کو 21ویں صدی کے مطابق بدلنے کی ہمت کریں گے۔

    کیونکہ سچ یہ ہے کہ…

    اگر تعلیم نہیں بدلی تو آنے والی نسلیں پیچھے رہ جائیں گی۔
    اور اگر تعلیم بدل گئی…
    تو یہی بچے پاکستان کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔

    — ریحان اللہ والا

    Mr Altaf Hussain from Sahiwal who runs 3 schools came today for a tour of Rehan School Islamabad Campus !

    He had many questions about life , I tried my best to answer them !
    آج ایک دلچسپ ملاقات ہوئی… آج ساہیوال سے محترم الطاف حسین صاحب ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس کے دورے پر آئے۔ الطاف صاحب خود بھی ایک تعلیم دوست انسان ہیں اور ساہیوال میں اپنے تین اسکول چلا رہے ہیں۔ جب وہ ہمارے کیمپس میں آئے تو انہوں نے صرف کلاس رومز نہیں دیکھے… انہوں نے بچوں سے بات کی، ان کے سوال سنے، ان کے خواب سنے، اور دیکھا کہ یہاں تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اعتماد، کمیونیکیشن، انٹرنیٹ اور AI کے ذریعے زندگی کو سمجھنا بھی سکھایا جاتا ہے۔ ہماری ملاقات کے دوران انہوں نے مجھ سے زندگی کے بارے میں بھی کئی گہرے سوالات پوچھے۔ کامیابی کیا ہے؟ تعلیم کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟ اور آنے والے AI کے زمانے میں بچوں کو کیسے تیار کیا جائے؟ میں نے اپنی سمجھ کے مطابق انہیں بتایا کہ: آج دنیا بدل رہی ہے۔ کتابوں کا علم اب کافی نہیں رہا۔ اب بچوں کو سوچنا، سوال کرنا، انٹرنیٹ استعمال کرنا، AI سے سیکھنا اور لوگوں سے جڑنا سکھانا ضروری ہے۔ ریحان اسکول میں ہم یہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بچوں کو صرف امتحان پاس کرنے والا نہیں بلکہ زندگی جیتنے والا انسان بنایا جائے۔ الطاف حسین صاحب نے طلبہ کے ساتھ وقت گزارا، کلاسز دیکھیں اور ہمارے سسٹم کو قریب سے سمجھا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کے مزید اسکول بھی اس نئی سوچ کو دیکھیں گے اور تعلیم کو 21ویں صدی کے مطابق بدلنے کی ہمت کریں گے۔ کیونکہ سچ یہ ہے کہ… اگر تعلیم نہیں بدلی تو آنے والی نسلیں پیچھے رہ جائیں گی۔ اور اگر تعلیم بدل گئی… تو یہی بچے پاکستان کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ — ریحان اللہ والا Mr Altaf Hussain from Sahiwal who runs 3 schools came today for a tour of Rehan School Islamabad Campus ! He had many questions about life , I tried my best to answer them !
    0 Commentarios 0 Acciones 157 Views 0
  • پاکستان میں AI ایمرجنسی ورکشاپ کا آغاز

    دوستو، دنیا ایک نئے انقلاب میں داخل ہو چکی ہے۔
    Artificial Intelligence (AI) اب صرف ٹیکنالوجی نہیں رہی… یہ آنے والی معیشت، نوکریوں اور کاروبار کی بنیاد بننے جا رہی ہے۔

    اسی لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان بھر میں “Rehan AI Emergency Workshop” شروع کی جائے۔

    یہ ورکشاپ آن لائن بھی ہوگی اور مختلف شہروں میں فزیکل بھی تاکہ پاکستان کا ہر نوجوان، ہر استاد اور ہر عام انسان AI سیکھ سکے اور اسے اپنی زندگی اور آمدنی بہتر بنانے کے لیے استعمال کر سکے۔

    اس ورکشاپ میں ہم سیکھیں گے:

    • ChatGPT سے اپنی آمدنی بڑھانے کے طریقے
    • AI سے گانے اور شاعری بنانا
    • AI سے بزنس کارڈ اور فلائر بنانا
    • AI سے کتاب کو پوڈکاسٹ میں تبدیل کرنا
    • AI سے اپنے موجودہ کام کو زیادہ کمائی والا بنانا

    یہ ورکشاپ طلبہ، اساتذہ، فری لانسرز، بزنس مین اور ہر عام پاکستانی کے لیے ہے۔

    اور سب سے اچھی بات…

    یہ ورکشاپ بالکل مفت ہے۔

    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آنے والے وقت میں
    آپ پیچھے نہ رہ جائیں…

    تو فوراً اس موومنٹ کا حصہ بنیں۔

    Emergency AI Community Join کریں:
    https://chat.whatsapp.com/HxhPHIBMoG11nUt9spqrYa

    Rehan Allahwala WhatsApp Channel Follow کریں:
    https://whatsapp.com/channel/0029VaEQbJEBVJl4n2J9Zw1m

    آنے والا وقت AI کا ہے۔
    اور پاکستان کو اس دوڑ میں آگے لے جانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

    — ریحان اللہ والا

    Launching Rehan Ai Emergency Workshop in Pakistan in person and online nationwide !
    🚨 پاکستان میں AI ایمرجنسی ورکشاپ کا آغاز 🚨 دوستو، دنیا ایک نئے انقلاب میں داخل ہو چکی ہے۔ Artificial Intelligence (AI) اب صرف ٹیکنالوجی نہیں رہی… یہ آنے والی معیشت، نوکریوں اور کاروبار کی بنیاد بننے جا رہی ہے۔ اسی لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان بھر میں “Rehan AI Emergency Workshop” شروع کی جائے۔ یہ ورکشاپ آن لائن بھی ہوگی اور مختلف شہروں میں فزیکل بھی تاکہ پاکستان کا ہر نوجوان، ہر استاد اور ہر عام انسان AI سیکھ سکے اور اسے اپنی زندگی اور آمدنی بہتر بنانے کے لیے استعمال کر سکے۔ اس ورکشاپ میں ہم سیکھیں گے: • ChatGPT سے اپنی آمدنی بڑھانے کے طریقے • AI سے گانے اور شاعری بنانا • AI سے بزنس کارڈ اور فلائر بنانا • AI سے کتاب کو پوڈکاسٹ میں تبدیل کرنا • AI سے اپنے موجودہ کام کو زیادہ کمائی والا بنانا یہ ورکشاپ طلبہ، اساتذہ، فری لانسرز، بزنس مین اور ہر عام پاکستانی کے لیے ہے۔ اور سب سے اچھی بات… یہ ورکشاپ بالکل مفت ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آنے والے وقت میں آپ پیچھے نہ رہ جائیں… تو فوراً اس موومنٹ کا حصہ بنیں۔ 📢 Emergency AI Community Join کریں: https://chat.whatsapp.com/HxhPHIBMoG11nUt9spqrYa 📢 Rehan Allahwala WhatsApp Channel Follow کریں: https://whatsapp.com/channel/0029VaEQbJEBVJl4n2J9Zw1m آنے والا وقت AI کا ہے۔ اور پاکستان کو اس دوڑ میں آگے لے جانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ — ریحان اللہ والا 🇵🇰 Launching Rehan Ai Emergency Workshop in Pakistan 🇵🇰 in person and online nationwide !
    0 Commentarios 0 Acciones 148 Views 0
  • پاکستان کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب…
    اور اب وہ چند لمحوں میں پوڈکاسٹ بن گئی!

    میں نے اپنی فیس بک وال پر ایک سادہ سوال پوچھا:

    پاکستان میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب کون سی ہے؟

    زیادہ تر لوگوں نے جواب دیا:
    مطالعۂ پاکستان

    میں نے اس کتاب کی وضاحت NotebookLM کو دی
    اور کہا:

    “اسے پوڈکاسٹ میں تبدیل کر دو۔”

    چند لمحوں میں ایسا پوڈکاسٹ تیار ہو گیا
    جیسے دو ماہرین بیٹھ کر اس کتاب پر گفتگو کر رہے ہوں۔

    نہ اسٹوڈیو…
    نہ مائیکروفون…
    نہ اینکر…

    صرف AI۔

    دوستوں، دنیا بدل رہی ہے۔

    جو لوگ AI سیکھ لیں گے
    وہی آنے والے وقت میں آگے ہوں گے۔

    اسی لیے ہم شروع کر رہے ہیں:

    Rehan AI Emergency Workshops

    اگلے دو مہینے تک روزانہ 3 گھنٹے کی مفت ورکشاپ
    جہاں ہم سکھائیں گے:

    • ChatGPT سے اپنی آمدنی بڑھانے کے طریقے
    • NotebookLM سے کتاب کو پوڈکاسٹ بنانا
    • Gemini سے اردو امیجز اور کارڈز بنانا
    • Suno AI سے گانے اور کمپنی جِنگلز بنانا

    اگر آپ ابھی نہیں سیکھیں گے
    تو چند سال بعد شاید
    AI سیکھنے والوں کے لیے کام کریں گے۔

    اس لیے ابھی کمیونٹی میں شامل ہو جائیں۔



    WhatsApp Community:
    https://chat.whatsapp.com/HxhPHIBMoG11nUt9spqrYa

    Facebook Group:
    https://www.facebook.com/share/g/1DSkCJ699p/?mibextid=wwXIfr

    آئیں…
    AI کو دیکھنے والے نہیں،
    AI کو استعمال کرنے والے بنیں۔
    پاکستان کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب… اور اب وہ چند لمحوں میں پوڈکاسٹ بن گئی! 🤯 میں نے اپنی فیس بک وال پر ایک سادہ سوال پوچھا: پاکستان میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب کون سی ہے؟ زیادہ تر لوگوں نے جواب دیا: مطالعۂ پاکستان میں نے اس کتاب کی وضاحت NotebookLM کو دی اور کہا: “اسے پوڈکاسٹ میں تبدیل کر دو۔” چند لمحوں میں ایسا پوڈکاسٹ تیار ہو گیا جیسے دو ماہرین بیٹھ کر اس کتاب پر گفتگو کر رہے ہوں۔ نہ اسٹوڈیو… نہ مائیکروفون… نہ اینکر… صرف AI۔ دوستوں، دنیا بدل رہی ہے۔ جو لوگ AI سیکھ لیں گے وہی آنے والے وقت میں آگے ہوں گے۔ اسی لیے ہم شروع کر رہے ہیں: 🚨 Rehan AI Emergency Workshops اگلے دو مہینے تک روزانہ 3 گھنٹے کی مفت ورکشاپ جہاں ہم سکھائیں گے: • ChatGPT سے اپنی آمدنی بڑھانے کے طریقے • NotebookLM سے کتاب کو پوڈکاسٹ بنانا • Gemini سے اردو امیجز اور کارڈز بنانا • Suno AI سے گانے اور کمپنی جِنگلز بنانا اگر آپ ابھی نہیں سیکھیں گے تو چند سال بعد شاید AI سیکھنے والوں کے لیے کام کریں گے۔ اس لیے ابھی کمیونٹی میں شامل ہو جائیں۔ 👇 WhatsApp Community: https://chat.whatsapp.com/HxhPHIBMoG11nUt9spqrYa Facebook Group: https://www.facebook.com/share/g/1DSkCJ699p/?mibextid=wwXIfr آئیں… AI کو دیکھنے والے نہیں، AI کو استعمال کرنے والے بنیں۔ 🚀
    0 Commentarios 0 Acciones 303 Views 0
  • Request to all madaris to become self sustaining with biogas, electricity and your own food if you have lands

    Via Waqas Ahmad and Hafiz Isamuddin and @fahim Fay
    Request to all madaris to become self sustaining with biogas, electricity and your own food if you have lands Via Waqas Ahmad and Hafiz Isamuddin and @fahim Fay
    0 Commentarios 0 Acciones 252 Views 0
  • جب ایک اسکول کے جنرل سیکریٹری نے اپنے ہی بچے کو کسی اسکول میں نہیں بھیجا… مگر ریحان اسکول دیکھ کر فیصلہ بدل گیا!

    کل اسلام آباد کے علاقے بھارہ کہو میں ایک دلچسپ اور سوچنے پر مجبور کرنے والا واقعہ پیش آیا۔

    انسٹیٹیوٹ آف اسلامک سائنسز بھارہ کہو کے جنرل سیکریٹری جناب محبوب عالم صاحب ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس تشریف لائے اور پورے اسکول کا تفصیلی دورہ کیا۔

    محبوب عالم صاحب کئی سالوں سے ایک ایسے ادارے سے وابستہ ہیں جہاں تقریباً 800 طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

    مگر ایک حیران کن بات سامنے آئی۔

    ان کے سب سے چھوٹے بیٹے کی عمر 8 سال ہے
    اور انہوں نے اسے آج تک کسی اسکول میں داخل نہیں کروایا۔

    انہوں نے اسے گھر پر ہی تعلیم دی (Homeschooling)۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں؟

    انہوں نے ایک جملہ کہا جو آج کے تعلیمی نظام کی حقیقت کو بیان کرتا ہے:

    “آج کا تعلیمی نظام بچوں کو وہ تعلیم نہیں دے رہا جو زندگی میں واقعی ضروری ہے۔”

    اسی احساس کی وجہ سے انہوں نے اپنے بیٹے کو روایتی اسکول میں نہیں بھیجا۔

    لیکن جب انہوں نے ریحان اسکول کا نظام دیکھا —
    جہاں بچے AI، کمپیوٹر، سوشل میڈیا، کمیونیکیشن، خوداعتمادی اور حقیقی زندگی کی مہارتیں سیکھتے ہیں —

    تو انہوں نے بہت مثبت تاثرات دیے اور کہا کہ وہ اپنے بیٹے کو ریحان اسکول میں داخل کروانا چاہتے ہیں۔

    یہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے۔

    پچھلے 3 سے 4 سال میں جتنے بھی اساتذہ، اسکول ایڈمنسٹریٹرز اور ماہرین تعلیم سے ملاقات ہوئی تقریباً سب ایک بات مانتے ہیں:

    موجودہ تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔

    مگر اکثر لوگ جانتے ہوئے بھی اسے بدل نہیں پاتے۔

    الحمدللہ، اللہ کے فضل سے ہم نے صرف بات نہیں کی —
    ہم نے ایک نیا نظام بنا دیا۔

    ایک ایسا نصاب جو بچوں کو صرف کتابی علم نہیں بلکہ زندگی جینے اور کمانے کی صلاحیت دیتا ہے۔

    اور سب سے بڑی بات:

    یہ نصاب اب اوپن سورس ہے۔

    دنیا کا کوئی بھی اسکول اسے استعمال کر سکتا ہے۔

    آپ خود دیکھ سکتے ہیں اور ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں:

    rehanschool.com/books

    اب آپ کے پاس تین راستے ہیں:

    • اپنے بچوں کو ریحان اسکول میں داخل کروائیں
    • اپنے علاقے میں ریحان اسکول کی فرنچائز شروع کریں
    • یا اپنے موجودہ اسکول میں یہ نصاب نافذ کریں

    لیکن ایک بات یاد رکھیں۔

    بچوں کا وقت سب سے قیمتی ہوتا ہے۔

    اگر ہم نے آج صحیح تعلیم نہ دی
    تو ہم صرف بچوں کا نہیں

    پوری نسل کا مستقبل ضائع کر دیں گے۔

    اب وقت ہے کہ ہم تعلیم کو بدلیں — صرف اس پر بات نہ کریں۔

    Thank You Mehboob Elahi

    — ریحان اللہ والا
    Rehan School
    rehanschool.com
    rehanschool.com/booksu
    جب ایک اسکول کے جنرل سیکریٹری نے اپنے ہی بچے کو کسی اسکول میں نہیں بھیجا… مگر ریحان اسکول دیکھ کر فیصلہ بدل گیا! کل اسلام آباد کے علاقے بھارہ کہو میں ایک دلچسپ اور سوچنے پر مجبور کرنے والا واقعہ پیش آیا۔ انسٹیٹیوٹ آف اسلامک سائنسز بھارہ کہو کے جنرل سیکریٹری جناب محبوب عالم صاحب ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس تشریف لائے اور پورے اسکول کا تفصیلی دورہ کیا۔ محبوب عالم صاحب کئی سالوں سے ایک ایسے ادارے سے وابستہ ہیں جہاں تقریباً 800 طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مگر ایک حیران کن بات سامنے آئی۔ ان کے سب سے چھوٹے بیٹے کی عمر 8 سال ہے اور انہوں نے اسے آج تک کسی اسکول میں داخل نہیں کروایا۔ انہوں نے اسے گھر پر ہی تعلیم دی (Homeschooling)۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں؟ انہوں نے ایک جملہ کہا جو آج کے تعلیمی نظام کی حقیقت کو بیان کرتا ہے: “آج کا تعلیمی نظام بچوں کو وہ تعلیم نہیں دے رہا جو زندگی میں واقعی ضروری ہے۔” اسی احساس کی وجہ سے انہوں نے اپنے بیٹے کو روایتی اسکول میں نہیں بھیجا۔ لیکن جب انہوں نے ریحان اسکول کا نظام دیکھا — جہاں بچے AI، کمپیوٹر، سوشل میڈیا، کمیونیکیشن، خوداعتمادی اور حقیقی زندگی کی مہارتیں سیکھتے ہیں — تو انہوں نے بہت مثبت تاثرات دیے اور کہا کہ وہ اپنے بیٹے کو ریحان اسکول میں داخل کروانا چاہتے ہیں۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے۔ پچھلے 3 سے 4 سال میں جتنے بھی اساتذہ، اسکول ایڈمنسٹریٹرز اور ماہرین تعلیم سے ملاقات ہوئی تقریباً سب ایک بات مانتے ہیں: موجودہ تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ مگر اکثر لوگ جانتے ہوئے بھی اسے بدل نہیں پاتے۔ الحمدللہ، اللہ کے فضل سے ہم نے صرف بات نہیں کی — ہم نے ایک نیا نظام بنا دیا۔ ایک ایسا نصاب جو بچوں کو صرف کتابی علم نہیں بلکہ زندگی جینے اور کمانے کی صلاحیت دیتا ہے۔ اور سب سے بڑی بات: یہ نصاب اب اوپن سورس ہے۔ دنیا کا کوئی بھی اسکول اسے استعمال کر سکتا ہے۔ آپ خود دیکھ سکتے ہیں اور ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں: 📚 rehanschool.com/books اب آپ کے پاس تین راستے ہیں: • اپنے بچوں کو ریحان اسکول میں داخل کروائیں • اپنے علاقے میں ریحان اسکول کی فرنچائز شروع کریں • یا اپنے موجودہ اسکول میں یہ نصاب نافذ کریں لیکن ایک بات یاد رکھیں۔ بچوں کا وقت سب سے قیمتی ہوتا ہے۔ اگر ہم نے آج صحیح تعلیم نہ دی تو ہم صرف بچوں کا نہیں پوری نسل کا مستقبل ضائع کر دیں گے۔ اب وقت ہے کہ ہم تعلیم کو بدلیں — صرف اس پر بات نہ کریں۔ Thank You Mehboob Elahi — ریحان اللہ والا Rehan School 🌐 rehanschool.com 📚 rehanschool.com/booksu
    0 Commentarios 0 Acciones 1388 Views 0
  • Introducing Ai basic class book to Mehboob Elahi sahib
    Introducing Ai basic class book to Mehboob Elahi sahib
    0 Commentarios 0 Acciones 150 Views 0
  • صدر اسلامک اسکول بارہ کہو، جناب عبداللہ اقبال صاحب سے ملاقات

    آج بارہ کہو میں ایک نہایت خوشگوار اور بامقصد ملاقات ہوئی اسلامک اسکول بارہ کہو کے صدر جناب عبداللہ اقبال صاحب سے۔

    یہ وہ لوگ ہیں جو خاموشی سے تعلیم کے میدان میں خدمت کر رہے ہیں اور علاقے کے بچوں کو بہتر مستقبل دینے کے لیے اپنی زندگی وقف کیے ہوئے ہیں۔

    ہماری گفتگو میں ایک اہم بات بار بار سامنے آئی:

    آنے والا زمانہ صرف کتابوں کا نہیں بلکہ AI، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور خود اعتمادی کا زمانہ ہے۔

    اسی مقصد کے تحت ہم نے بات کی کہ کیسے بارہ کہو کے بچوں کو ایسے ہنر دیے جائیں کہ وہ صرف نوکری تلاش نہ کریں بلکہ اپنے لیے مواقع پیدا کریں۔

    میں نے انہیں بتایا کہ Rehan School میں ہم بچوں کو صرف تعلیم نہیں دیتے بلکہ:

    • AI اور ٹیکنالوجی استعمال کرنا
    • دنیا بھر کے لوگوں سے سوشل میڈیا پر رابطہ کرنا
    • خود اعتمادی کے ساتھ بات کرنا
    • اور کم عمری میں ہی earning while learning شروع کرنا

    یہ سب سکھایا جاتا ہے۔

    میری ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ بارہ کہو جیسے علاقوں کے بچے بھی دنیا کے بہترین بچوں کے ساتھ مقابلہ کر سکیں۔

    اگر اس علاقے کے مزید اسکول، مدارس اور تعلیمی ادارے چاہیں تو وہ آ کر Rehan School Islamabad – Bara Kahu Campus میں ہمارے بچوں سے مل سکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ ہم کیسے بچوں کو AI، انٹرنیٹ اور خود اعتمادی کے ذریعے بااختیار بنا رہے ہیں۔

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عبداللہ اقبال صاحب کی کاوشوں میں برکت دے اور بارہ کہو کو ایک دن پاکستان کا بہترین تعلیمی شہر بنا دے۔

    تعلیم بدلتی ہے…
    لیکن صحیح تعلیم پورا معاشرہ بدل دیتی ہے۔

    In meeting also Waqas Ahmad, Mehboob Elahi and Hafiz Isamuddin

    — ریحان اللہ والا

    #RehanSchool
    #Barakahu
    #FutureOfEducation
    #AIeducation
    #LearnToEar
    صدر اسلامک اسکول بارہ کہو، جناب عبداللہ اقبال صاحب سے ملاقات آج بارہ کہو میں ایک نہایت خوشگوار اور بامقصد ملاقات ہوئی اسلامک اسکول بارہ کہو کے صدر جناب عبداللہ اقبال صاحب سے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خاموشی سے تعلیم کے میدان میں خدمت کر رہے ہیں اور علاقے کے بچوں کو بہتر مستقبل دینے کے لیے اپنی زندگی وقف کیے ہوئے ہیں۔ ہماری گفتگو میں ایک اہم بات بار بار سامنے آئی: آنے والا زمانہ صرف کتابوں کا نہیں بلکہ AI، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور خود اعتمادی کا زمانہ ہے۔ اسی مقصد کے تحت ہم نے بات کی کہ کیسے بارہ کہو کے بچوں کو ایسے ہنر دیے جائیں کہ وہ صرف نوکری تلاش نہ کریں بلکہ اپنے لیے مواقع پیدا کریں۔ میں نے انہیں بتایا کہ Rehan School میں ہم بچوں کو صرف تعلیم نہیں دیتے بلکہ: • AI اور ٹیکنالوجی استعمال کرنا • دنیا بھر کے لوگوں سے سوشل میڈیا پر رابطہ کرنا • خود اعتمادی کے ساتھ بات کرنا • اور کم عمری میں ہی earning while learning شروع کرنا یہ سب سکھایا جاتا ہے۔ میری ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ بارہ کہو جیسے علاقوں کے بچے بھی دنیا کے بہترین بچوں کے ساتھ مقابلہ کر سکیں۔ اگر اس علاقے کے مزید اسکول، مدارس اور تعلیمی ادارے چاہیں تو وہ آ کر Rehan School Islamabad – Bara Kahu Campus میں ہمارے بچوں سے مل سکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ ہم کیسے بچوں کو AI، انٹرنیٹ اور خود اعتمادی کے ذریعے بااختیار بنا رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عبداللہ اقبال صاحب کی کاوشوں میں برکت دے اور بارہ کہو کو ایک دن پاکستان کا بہترین تعلیمی شہر بنا دے۔ تعلیم بدلتی ہے… لیکن صحیح تعلیم پورا معاشرہ بدل دیتی ہے۔ In meeting also Waqas Ahmad, Mehboob Elahi and Hafiz Isamuddin — ریحان اللہ والا #RehanSchool #Barakahu #FutureOfEducation #AIeducation #LearnToEar
    0 Commentarios 0 Acciones 806 Views 0
  • ملاقات: سابق ایم پی اے خیبر پختونخوا حافظ عصام الدین قریشی محسود سے

    آج مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ میری ملاقات حافظ عصام الدین قریشی محسود صاحب سے ہوئی — جو جنوبی وزیرستان کے ایک باوقار عالمِ دین، حدیث کے استاد، اسلامی علوم میں ایم فل اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے سابق رکن (MPA) رہ چکے ہیں۔

    وہ جمعیت علماء اسلام (JUI) سے وابستہ رہے ہیں اور اپنے علاقے میں ایک بااثر مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
    ان کی شخصیت کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ وہ صرف سیاست یا تدریس تک محدود نہیں بلکہ مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

    وزیرستان کی زمین کی خالص نعمتوں کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے وہ یہ مصنوعات فروغ دے رہے ہیں:

    خالص زیتون کا تیل
    اصل شہد
    دیسی گھی

    یہ سب وہ نعمتیں ہیں جو وزیرستان کی زمین سے نکلتی ہیں اور پاکستان کے لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔

    ملاقات کے دوران ہم نے ایک بہت اہم موضوع پر گفتگو کی…

    آج دنیا تیزی سے Artificial Intelligence، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔
    لیکن ایک سوال ہے:

    کیا وزیرستان، فاٹا اور پاکستان کے دینی مدارس کے طلبہ بھی اس نئی دنیا کا حصہ بن سکتے ہیں؟

    میرا جواب تھا: جی ہاں، بالکل بن سکتے ہیں۔

    میں نے انہیں بتایا کہ Rehan School میں ہم ایک ایسا نظام بنا رہے ہیں جہاں بچے:

    انٹرنیٹ اور کمپیوٹر مہارتیں سیکھتے ہیں
    AI کے ساتھ کام کرنا سیکھتے ہیں
    اعتماد اور مضبوط گفتگو کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں
    سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کو سمجھتے ہیں

    اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ:

    ہمارے کئی طلبہ 6 سے 18 مہینے کے اندر اپنی اسکول فیس خود کمانا شروع کر دیتے ہیں۔

    ذرا تصور کریں…

    اگر یہی نظام وزیرستان کے نوجوانوں تک پہنچ جائے تو کیا ہو سکتا ہے؟

    وہ نوجوان جو آج صرف نوکری ڈھونڈتے ہیں،
    کل دنیا بھر کے ساتھ کام کرنے والے فری لانسر، کاروباری افراد اور لیڈر بن سکتے ہیں۔

    اور پھر…

    وزیرستان صرف خبروں میں نہیں
    بلکہ دنیا کے نقشے پر علم، کردار اور معیشت کی ایک نئی مثال بن سکتا ہے۔

    جب علمِ دین، سیاسی تجربہ اور جدید ٹیکنالوجی ایک ساتھ آ جائیں تو معاشرے بدل جاتے ہیں۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ پاکستان کے ہر علاقے — خاص طور پر وزیرستان — کے نوجوانوں کو
    علم، AI، انٹرنیٹ اور روزگار کے نئے راستوں سے جوڑ سکیں۔

    رابطہ:

    +92 305 9736377
    Facebook: Hafiz Isamuddin Qureshi Mehsood

    — ریحان اللہ والا
    🔥 ملاقات: سابق ایم پی اے خیبر پختونخوا حافظ عصام الدین قریشی محسود سے آج مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ میری ملاقات حافظ عصام الدین قریشی محسود صاحب سے ہوئی — جو جنوبی وزیرستان کے ایک باوقار عالمِ دین، حدیث کے استاد، اسلامی علوم میں ایم فل اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے سابق رکن (MPA) رہ چکے ہیں۔ وہ جمعیت علماء اسلام (JUI) سے وابستہ رہے ہیں اور اپنے علاقے میں ایک بااثر مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ وہ صرف سیاست یا تدریس تک محدود نہیں بلکہ مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ وزیرستان کی زمین کی خالص نعمتوں کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے وہ یہ مصنوعات فروغ دے رہے ہیں: 🌿 خالص زیتون کا تیل 🍯 اصل شہد 🧈 دیسی گھی یہ سب وہ نعمتیں ہیں جو وزیرستان کی زمین سے نکلتی ہیں اور پاکستان کے لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔ ملاقات کے دوران ہم نے ایک بہت اہم موضوع پر گفتگو کی… آج دنیا تیزی سے Artificial Intelligence، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ لیکن ایک سوال ہے: ❓ کیا وزیرستان، فاٹا اور پاکستان کے دینی مدارس کے طلبہ بھی اس نئی دنیا کا حصہ بن سکتے ہیں؟ میرا جواب تھا: جی ہاں، بالکل بن سکتے ہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ Rehan School میں ہم ایک ایسا نظام بنا رہے ہیں جہاں بچے: 💻 انٹرنیٹ اور کمپیوٹر مہارتیں سیکھتے ہیں 🤖 AI کے ساتھ کام کرنا سیکھتے ہیں 🎤 اعتماد اور مضبوط گفتگو کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں 📱 سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کو سمجھتے ہیں اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ: 💰 ہمارے کئی طلبہ 6 سے 18 مہینے کے اندر اپنی اسکول فیس خود کمانا شروع کر دیتے ہیں۔ ذرا تصور کریں… اگر یہی نظام وزیرستان کے نوجوانوں تک پہنچ جائے تو کیا ہو سکتا ہے؟ وہ نوجوان جو آج صرف نوکری ڈھونڈتے ہیں، کل دنیا بھر کے ساتھ کام کرنے والے فری لانسر، کاروباری افراد اور لیڈر بن سکتے ہیں۔ اور پھر… 🌍 وزیرستان صرف خبروں میں نہیں بلکہ دنیا کے نقشے پر علم، کردار اور معیشت کی ایک نئی مثال بن سکتا ہے۔ جب علمِ دین، سیاسی تجربہ اور جدید ٹیکنالوجی ایک ساتھ آ جائیں تو معاشرے بدل جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ پاکستان کے ہر علاقے — خاص طور پر وزیرستان — کے نوجوانوں کو علم، AI، انٹرنیٹ اور روزگار کے نئے راستوں سے جوڑ سکیں۔ 📞 رابطہ: +92 305 9736377 📘 Facebook: Hafiz Isamuddin Qureshi Mehsood — ریحان اللہ والا
    0 Commentarios 0 Acciones 191 Views 0
  • ملاقات: سابق ایم پی اے خیبر پختونخوا حافظ عصام الدین قریشی محسود سے

    آج مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ میری ملاقات حافظ عصام الدین قریشی محسود صاحب سے ہوئی — جو جنوبی وزیرستان کے ایک باوقار عالمِ دین، حدیث کے استاد، اسلامی علوم میں ایم فل اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے سابق رکن (MPA) رہ چکے ہیں۔

    وہ جمعیت علماء اسلام (JUI) سے وابستہ رہے ہیں اور اپنے علاقے میں ایک بااثر مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
    ان کی شخصیت کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ وہ صرف سیاست یا تدریس تک محدود نہیں بلکہ مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

    وزیرستان کی زمین کی خالص نعمتوں کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے وہ یہ مصنوعات فروغ دے رہے ہیں:

    خالص زیتون کا تیل
    اصل شہد
    دیسی گھی

    یہ سب وہ نعمتیں ہیں جو وزیرستان کی زمین سے نکلتی ہیں اور پاکستان کے لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔

    ملاقات کے دوران ہم نے ایک بہت اہم موضوع پر گفتگو کی…

    آج دنیا تیزی سے Artificial Intelligence، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔
    لیکن ایک سوال ہے:

    کیا وزیرستان، فاٹا اور پاکستان کے دینی مدارس کے طلبہ بھی اس نئی دنیا کا حصہ بن سکتے ہیں؟

    میرا جواب تھا: جی ہاں، بالکل بن سکتے ہیں۔

    میں نے انہیں بتایا کہ Rehan School میں ہم ایک ایسا نظام بنا رہے ہیں جہاں بچے:

    انٹرنیٹ اور کمپیوٹر مہارتیں سیکھتے ہیں
    AI کے ساتھ کام کرنا سیکھتے ہیں
    اعتماد اور مضبوط گفتگو کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں
    سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کو سمجھتے ہیں

    اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ:

    ہمارے کئی طلبہ 6 سے 18 مہینے کے اندر اپنی اسکول فیس خود کمانا شروع کر دیتے ہیں۔

    ذرا تصور کریں…

    اگر یہی نظام وزیرستان کے نوجوانوں تک پہنچ جائے تو کیا ہو سکتا ہے؟

    وہ نوجوان جو آج صرف نوکری ڈھونڈتے ہیں،
    کل دنیا بھر کے ساتھ کام کرنے والے فری لانسر، کاروباری افراد اور لیڈر بن سکتے ہیں۔

    اور پھر…

    وزیرستان صرف خبروں میں نہیں
    بلکہ دنیا کے نقشے پر علم، کردار اور معیشت کی ایک نئی مثال بن سکتا ہے۔

    جب علمِ دین، سیاسی تجربہ اور جدید ٹیکنالوجی ایک ساتھ آ جائیں تو معاشرے بدل جاتے ہیں۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ پاکستان کے ہر علاقے — خاص طور پر وزیرستان — کے نوجوانوں کو
    علم، AI، انٹرنیٹ اور روزگار کے نئے راستوں سے جوڑ سکیں۔

    رابطہ:

    +92 305 9736377
    Facebook: Hafiz Isamuddin Qureshi Mehsood

    — ریحان اللہ والا
    🔥 ملاقات: سابق ایم پی اے خیبر پختونخوا حافظ عصام الدین قریشی محسود سے آج مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ میری ملاقات حافظ عصام الدین قریشی محسود صاحب سے ہوئی — جو جنوبی وزیرستان کے ایک باوقار عالمِ دین، حدیث کے استاد، اسلامی علوم میں ایم فل اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے سابق رکن (MPA) رہ چکے ہیں۔ وہ جمعیت علماء اسلام (JUI) سے وابستہ رہے ہیں اور اپنے علاقے میں ایک بااثر مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ وہ صرف سیاست یا تدریس تک محدود نہیں بلکہ مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ وزیرستان کی زمین کی خالص نعمتوں کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے وہ یہ مصنوعات فروغ دے رہے ہیں: 🌿 خالص زیتون کا تیل 🍯 اصل شہد 🧈 دیسی گھی یہ سب وہ نعمتیں ہیں جو وزیرستان کی زمین سے نکلتی ہیں اور پاکستان کے لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔ ملاقات کے دوران ہم نے ایک بہت اہم موضوع پر گفتگو کی… آج دنیا تیزی سے Artificial Intelligence، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ لیکن ایک سوال ہے: ❓ کیا وزیرستان، فاٹا اور پاکستان کے دینی مدارس کے طلبہ بھی اس نئی دنیا کا حصہ بن سکتے ہیں؟ میرا جواب تھا: جی ہاں، بالکل بن سکتے ہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ Rehan School میں ہم ایک ایسا نظام بنا رہے ہیں جہاں بچے: 💻 انٹرنیٹ اور کمپیوٹر مہارتیں سیکھتے ہیں 🤖 AI کے ساتھ کام کرنا سیکھتے ہیں 🎤 اعتماد اور مضبوط گفتگو کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں 📱 سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کو سمجھتے ہیں اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ: 💰 ہمارے کئی طلبہ 6 سے 18 مہینے کے اندر اپنی اسکول فیس خود کمانا شروع کر دیتے ہیں۔ ذرا تصور کریں… اگر یہی نظام وزیرستان کے نوجوانوں تک پہنچ جائے تو کیا ہو سکتا ہے؟ وہ نوجوان جو آج صرف نوکری ڈھونڈتے ہیں، کل دنیا بھر کے ساتھ کام کرنے والے فری لانسر، کاروباری افراد اور لیڈر بن سکتے ہیں۔ اور پھر… 🌍 وزیرستان صرف خبروں میں نہیں بلکہ دنیا کے نقشے پر علم، کردار اور معیشت کی ایک نئی مثال بن سکتا ہے۔ جب علمِ دین، سیاسی تجربہ اور جدید ٹیکنالوجی ایک ساتھ آ جائیں تو معاشرے بدل جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ پاکستان کے ہر علاقے — خاص طور پر وزیرستان — کے نوجوانوں کو علم، AI، انٹرنیٹ اور روزگار کے نئے راستوں سے جوڑ سکیں۔ 📞 رابطہ: +92 305 9736377 📘 Facebook: Hafiz Isamuddin Qureshi Mehsood — ریحان اللہ والا
    0 Commentarios 0 Acciones 140 Views 0