• آج ایک طاقتور ملاقات ہوئی… اور دل خوش ہوگیا!

    آج میری ملاقات ہوئی
    سردار شعیب خان سے —
    نائب صدر، کشمیر اسکولز ایسوسی ایشن
    Sardar Shoaib Khan

    ایک ایسا پلیٹ فارم جس کے ساتھ:
    4,500 اسکولز منسلک ہیں
    6,00,000 طلبہ اس نظام کا حصہ ہیں

    سوچیں… چھ لاکھ بچے۔
    ایک وژن سے بدل سکتے ہیں۔
    ایک سمت سے اٹھ سکتے ہیں۔
    ایک صحیح سسٹم سے معاشی طور پر خودمختار بن سکتے ہیں۔

    سردار شعیب خان صرف ایک عہدہ نہیں رکھتے —
    وہ ایک دروازہ ہیں…
    ہزاروں اسکولوں تک رسائی کا دروازہ۔
    لاکھوں بچوں کے مستقبل تک پہنچنے کا راستہ۔

    ہم نے بات کی:
    AI کی
    بچوں کی کمائی کی
    اسکول سسٹم کی تبدیلی کی
    اور اس سوال کی:

    کیا ہم ایسا نظام بنا سکتے ہیں جہاں 15 سال کا بچہ خود کما رہا ہو؟
    کیا کشمیر کے بچے بھی AI کے ذریعے دنیا سے جڑ سکتے ہیں؟
    کیا 18 مہینے میں ہر بچہ کم از کم 5,000 روپے خود کما سکتا ہے؟

    یہ صرف خواب نہیں۔
    یہ منصوبہ ہے۔
    یہ سمت ہے۔
    یہ عزم ہے۔

    اگر 4,500 اسکول ایک سمت میں چل پڑے…
    تو تاریخ بدل سکتی ہے۔

    میں شکر گزار ہوں کہ آج یہ گفتگو شروع ہوئی۔
    انشاءاللہ یہ ملاقات ایک تحریک بنے گی۔

    کشمیر کے تعلیمی رہنماؤں،
    والدین، اساتذہ —
    وقت آگیا ہے کہ ہم صرف ڈگری نہیں،
    آمدن بھی سکھائیں۔
    صرف نصاب نہیں،
    قیادت بھی پیدا کریں۔

    ویڈیو دیکھیں
    تصویر شیئر کریں
    گفتگو آگے بڑھائیں

    ریاستیں تب بدلتی ہیں
    جب تعلیم بدلتی ہے۔

    — ریحان اللہ والا

    ThanknyoubSardar Shoaib Khan
    🔥 آج ایک طاقتور ملاقات ہوئی… اور دل خوش ہوگیا! آج میری ملاقات ہوئی سردار شعیب خان سے — نائب صدر، کشمیر اسکولز ایسوسی ایشن 🇵🇰 Sardar Shoaib Khan ایک ایسا پلیٹ فارم جس کے ساتھ: 🏫 4,500 اسکولز منسلک ہیں 👦👧 6,00,000 طلبہ اس نظام کا حصہ ہیں سوچیں… چھ لاکھ بچے۔ ایک وژن سے بدل سکتے ہیں۔ ایک سمت سے اٹھ سکتے ہیں۔ ایک صحیح سسٹم سے معاشی طور پر خودمختار بن سکتے ہیں۔ سردار شعیب خان صرف ایک عہدہ نہیں رکھتے — وہ ایک دروازہ ہیں… ہزاروں اسکولوں تک رسائی کا دروازہ۔ لاکھوں بچوں کے مستقبل تک پہنچنے کا راستہ۔ ہم نے بات کی: AI کی بچوں کی کمائی کی اسکول سسٹم کی تبدیلی کی اور اس سوال کی: ❓ کیا ہم ایسا نظام بنا سکتے ہیں جہاں 15 سال کا بچہ خود کما رہا ہو؟ ❓ کیا کشمیر کے بچے بھی AI کے ذریعے دنیا سے جڑ سکتے ہیں؟ ❓ کیا 18 مہینے میں ہر بچہ کم از کم 5,000 روپے خود کما سکتا ہے؟ یہ صرف خواب نہیں۔ یہ منصوبہ ہے۔ یہ سمت ہے۔ یہ عزم ہے۔ اگر 4,500 اسکول ایک سمت میں چل پڑے… تو تاریخ بدل سکتی ہے۔ میں شکر گزار ہوں کہ آج یہ گفتگو شروع ہوئی۔ انشاءاللہ یہ ملاقات ایک تحریک بنے گی۔ کشمیر کے تعلیمی رہنماؤں، والدین، اساتذہ — وقت آگیا ہے کہ ہم صرف ڈگری نہیں، آمدن بھی سکھائیں۔ صرف نصاب نہیں، قیادت بھی پیدا کریں۔ 📍 ویڈیو دیکھیں 📍 تصویر شیئر کریں 📍 گفتگو آگے بڑھائیں ریاستیں تب بدلتی ہیں جب تعلیم بدلتی ہے۔ — ریحان اللہ والا ThanknyoubSardar Shoaib Khan
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 131 Views 0
  • آج ایک طاقتور ملاقات ہوئی… اور دل خوش ہوگیا!

    آج میری ملاقات ہوئی
    سردار شعیب خان سے —
    نائب صدر، کشمیر اسکولز ایسوسی ایشن
    Sardar Shoaib Khan

    ایک ایسا پلیٹ فارم جس کے ساتھ:
    4,500 اسکولز منسلک ہیں
    6,00,000 طلبہ اس نظام کا حصہ ہیں

    سوچیں… چھ لاکھ بچے۔
    ایک وژن سے بدل سکتے ہیں۔
    ایک سمت سے اٹھ سکتے ہیں۔
    ایک صحیح سسٹم سے معاشی طور پر خودمختار بن سکتے ہیں۔

    سردار شعیب خان صرف ایک عہدہ نہیں رکھتے —
    وہ ایک دروازہ ہیں…
    ہزاروں اسکولوں تک رسائی کا دروازہ۔
    لاکھوں بچوں کے مستقبل تک پہنچنے کا راستہ۔

    ہم نے بات کی:
    AI کی
    بچوں کی کمائی کی
    اسکول سسٹم کی تبدیلی کی
    اور اس سوال کی:

    کیا ہم ایسا نظام بنا سکتے ہیں جہاں 15 سال کا بچہ خود کما رہا ہو؟
    کیا کشمیر کے بچے بھی AI کے ذریعے دنیا سے جڑ سکتے ہیں؟
    کیا 18 مہینے میں ہر بچہ کم از کم 5,000 روپے خود کما سکتا ہے؟

    یہ صرف خواب نہیں۔
    یہ منصوبہ ہے۔
    یہ سمت ہے۔
    یہ عزم ہے۔

    اگر 4,500 اسکول ایک سمت میں چل پڑے…
    تو تاریخ بدل سکتی ہے۔

    میں شکر گزار ہوں کہ آج یہ گفتگو شروع ہوئی۔
    انشاءاللہ یہ ملاقات ایک تحریک بنے گی۔

    کشمیر کے تعلیمی رہنماؤں،
    والدین، اساتذہ —
    وقت آگیا ہے کہ ہم صرف ڈگری نہیں،
    آمدن بھی سکھائیں۔
    صرف نصاب نہیں،
    قیادت بھی پیدا کریں۔

    ویڈیو دیکھیں
    تصویر شیئر کریں
    گفتگو آگے بڑھائیں

    ریاستیں تب بدلتی ہیں
    جب تعلیم بدلتی ہے۔

    — ریحان اللہ والا
    🔥 آج ایک طاقتور ملاقات ہوئی… اور دل خوش ہوگیا! آج میری ملاقات ہوئی سردار شعیب خان سے — نائب صدر، کشمیر اسکولز ایسوسی ایشن 🇵🇰 Sardar Shoaib Khan ایک ایسا پلیٹ فارم جس کے ساتھ: 🏫 4,500 اسکولز منسلک ہیں 👦👧 6,00,000 طلبہ اس نظام کا حصہ ہیں سوچیں… چھ لاکھ بچے۔ ایک وژن سے بدل سکتے ہیں۔ ایک سمت سے اٹھ سکتے ہیں۔ ایک صحیح سسٹم سے معاشی طور پر خودمختار بن سکتے ہیں۔ سردار شعیب خان صرف ایک عہدہ نہیں رکھتے — وہ ایک دروازہ ہیں… ہزاروں اسکولوں تک رسائی کا دروازہ۔ لاکھوں بچوں کے مستقبل تک پہنچنے کا راستہ۔ ہم نے بات کی: AI کی بچوں کی کمائی کی اسکول سسٹم کی تبدیلی کی اور اس سوال کی: ❓ کیا ہم ایسا نظام بنا سکتے ہیں جہاں 15 سال کا بچہ خود کما رہا ہو؟ ❓ کیا کشمیر کے بچے بھی AI کے ذریعے دنیا سے جڑ سکتے ہیں؟ ❓ کیا 18 مہینے میں ہر بچہ کم از کم 5,000 روپے خود کما سکتا ہے؟ یہ صرف خواب نہیں۔ یہ منصوبہ ہے۔ یہ سمت ہے۔ یہ عزم ہے۔ اگر 4,500 اسکول ایک سمت میں چل پڑے… تو تاریخ بدل سکتی ہے۔ میں شکر گزار ہوں کہ آج یہ گفتگو شروع ہوئی۔ انشاءاللہ یہ ملاقات ایک تحریک بنے گی۔ کشمیر کے تعلیمی رہنماؤں، والدین، اساتذہ — وقت آگیا ہے کہ ہم صرف ڈگری نہیں، آمدن بھی سکھائیں۔ صرف نصاب نہیں، قیادت بھی پیدا کریں۔ 📍 ویڈیو دیکھیں 📍 تصویر شیئر کریں 📍 گفتگو آگے بڑھائیں ریاستیں تب بدلتی ہیں جب تعلیم بدلتی ہے۔ — ریحان اللہ والا
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 127 Views 0
  • Facebook Video
    Facebook Video
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 123 Views 0
  • Facebook Video
    Facebook Video
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 138 Views 0
  • آج میں نے عثمان چغتائی صاحب کو ایک بہت اہم چیز سمجھائی۔

    میں نے کہا:

    یہ صرف ہماری بات نہیں۔
    یہ صرف ہمارے ادارے کے لیے نہیں۔
    یہ پورے پاکستان کے ہر اسکول اور ہر مدرسے کے لیے ہے۔

    ہم نے جو ACCL سسٹم اور 5,000 روپے ماہانہ کتابی ماڈل بنایا ہے —
    وہ کسی ایک ادارے تک محدود نہیں۔

    یہ اُن تمام اسکولوں اور مدارس کے لیے ہے جو:

    • اپنے طلبہ کو AI سکھانا چاہتے ہیں
    • چاہتے ہیں کہ بچے خود کمائیں
    • چاہتے ہیں کہ طلبہ اپنی فیس خود ادا کریں
    • چاہتے ہیں کہ تعلیم بوجھ نہ رہے بلکہ طاقت بن جائے

    میں نے وضاحت کی:

    یہ 5,000 روپے کی کتاب صرف کتاب نہیں ہے۔
    یہ ایک مکمل ایکشن سسٹم ہے۔
    روزانہ ٹاسکس۔
    روزانہ AI پریکٹس۔
    روزانہ کمیونیکیشن مشق۔
    روزانہ کمائی کی تیاری۔

    اگر ایک بچہ 12 سے 18 مہینے میں اپنی 5,000 روپے فیس خود دینا شروع کر دے —
    تو اُس کے اندر جو تبدیلی آتی ہے،
    وہ نصاب سے نہیں…
    ذمہ داری سے آتی ہے۔

    میں نے کہا:

    ہم نہیں چاہتے کہ بچے صرف ڈگری لیں۔
    ہم چاہتے ہیں کہ وہ خود کھڑے ہوں۔

    اور یہ سسٹم کسی کے لیے بھی اوپن ہے۔

    پاکستان کا کوئی بھی اسکول، کوئی بھی مدرسہ،
    یہ کتاب ڈاؤن لوڈ کر سکتا ہے
    اور اپنے طلبہ کو AI اور خود کفالت کی تربیت دے سکتا ہے۔

    کتاب یہاں سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے:

    rehanschool.com/books

    فیصلہ اب اداروں کا ہے۔
    وہ بچوں کو صرف پڑھائیں گے…
    یا انہیں خود کمانا بھی سکھائیں گے؟

    — ریحان اللہ والا
    آج میں نے عثمان چغتائی صاحب کو ایک بہت اہم چیز سمجھائی۔ میں نے کہا: یہ صرف ہماری بات نہیں۔ یہ صرف ہمارے ادارے کے لیے نہیں۔ یہ پورے پاکستان کے ہر اسکول اور ہر مدرسے کے لیے ہے۔ ہم نے جو ACCL سسٹم اور 5,000 روپے ماہانہ کتابی ماڈل بنایا ہے — وہ کسی ایک ادارے تک محدود نہیں۔ یہ اُن تمام اسکولوں اور مدارس کے لیے ہے جو: • اپنے طلبہ کو AI سکھانا چاہتے ہیں • چاہتے ہیں کہ بچے خود کمائیں • چاہتے ہیں کہ طلبہ اپنی فیس خود ادا کریں • چاہتے ہیں کہ تعلیم بوجھ نہ رہے بلکہ طاقت بن جائے میں نے وضاحت کی: یہ 5,000 روپے کی کتاب صرف کتاب نہیں ہے۔ یہ ایک مکمل ایکشن سسٹم ہے۔ روزانہ ٹاسکس۔ روزانہ AI پریکٹس۔ روزانہ کمیونیکیشن مشق۔ روزانہ کمائی کی تیاری۔ اگر ایک بچہ 12 سے 18 مہینے میں اپنی 5,000 روپے فیس خود دینا شروع کر دے — تو اُس کے اندر جو تبدیلی آتی ہے، وہ نصاب سے نہیں… ذمہ داری سے آتی ہے۔ میں نے کہا: ہم نہیں چاہتے کہ بچے صرف ڈگری لیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ خود کھڑے ہوں۔ اور یہ سسٹم کسی کے لیے بھی اوپن ہے۔ پاکستان کا کوئی بھی اسکول، کوئی بھی مدرسہ، یہ کتاب ڈاؤن لوڈ کر سکتا ہے اور اپنے طلبہ کو AI اور خود کفالت کی تربیت دے سکتا ہے۔ کتاب یہاں سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے: rehanschool.com/books فیصلہ اب اداروں کا ہے۔ وہ بچوں کو صرف پڑھائیں گے… یا انہیں خود کمانا بھی سکھائیں گے؟ — ریحان اللہ والا
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 145 Views 0
  • آج ایک بہت سنجیدہ اور بصیرت بھری ملاقات ہوئی۔

    میں نے ریحان کالج کا مکمل وژن عثمان چغتائی صاحب کے سامنے رکھا۔

    میں نے اُن سے کہا:

    یہ کوئی عام کالج نہیں ہے۔
    یہ 4 سالہ ریہائشی تبدیلی پروگرام ہے۔
    یہاں ڈگری نہیں، زندگی ڈیزائن کی جاتی ہے۔

    ریحان کالج میں:

    • روزانہ طویل گھنٹوں کی عملی ٹریننگ ہوتی ہے
    • AI کو استاد کی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے
    • ہر طالب علم کو خود کمانے کے قابل بنایا جاتا ہے
    • مقصد کم از کم 100,000 روپے ماہانہ آمدنی کی صلاحیت پیدا کرنا ہے

    میں نے واضح کیا:

    یہاں رٹا نہیں ہوگا۔
    یہاں موبائل ضائع کرنے کے لیے نہیں، بنانے کے لیے ہوگا۔
    یہاں AI کھیلنے کے لیے نہیں، کمانے کے لیے ہوگا۔
    یہاں نوجوانوں کو مارکیٹ سے جوڑا جائے گا — پہلے دن سے۔

    ریحان کالج میں طالب علم:

    • اپنی “والا شناخت” بناتا ہے
    • کسی ایک حقیقی مسئلے پر کام کرتا ہے
    • کمیونیکیشن، سیلز، نیٹ ورکنگ سیکھتا ہے
    • روزانہ عملی پراجیکٹس کرتا ہے
    • سروس کے ذریعے کردار سازی کرتا ہے

    عثمان چغتائی صاحب نے خاموشی سے سنا…
    پھر کہا:

    “اگر یہ مستقل مزاجی سے چل گیا تو یہ نوجوانوں کو خود مختار بنا دے گا۔
    یہ ڈگری سسٹم کا متبادل ہو سکتا ہے۔”

    انہوں نے خاص طور پر اس بات کی تعریف کی کہ یہاں ہدف واضح ہے۔
    باتیں نہیں — نتیجہ۔
    خواب نہیں — قابلِ پیمائش آمدنی۔

    انہوں نے کہا:

    “ہم اکثر نوجوانوں کو امید دیتے ہیں،
    لیکن راستہ واضح نہیں دیتے۔
    یہاں راستہ بھی ہے، نظام بھی ہے، اور پیمانہ بھی ہے۔”

    دوستو،

    کالج وہ نہیں جو چار سال بعد آپ کو سی وی بنا کر دے۔
    کالج وہ ہے جو چار سال بعد آپ کو اپنی آمدنی خود بنانے کے قابل کر دے۔

    ریحان کالج کا وعدہ سادہ ہے:

    4 سال۔
    ریہائشی ماحول۔
    AI + عملی مہارت + کردار سازی۔
    کم از کم 100,000 روپے ماہانہ کمانے کی صلاحیت۔

    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ
    صرف گریجویٹ نہیں…
    خود مختار ہو،

    تو دروازہ کھلا ہے۔

    — ریحان اللہ والا

    Telling about Rehan College to Usman Chughtai and his feedback

    Rehan School College�Rehan College is a 4-year full-time residential program in Karachi that turns youth into confident, capable, AI-powered leaders — through real learning and real work. www.rehancollege.com�� General UAN +92-304-1116044 Admissions: +92 301 2985826 Project Head +92 310 2886045 Watch my video https://www.facebook.com/share/v/19KnLkjhxp/?mibextid=wwXIfr
    آج ایک بہت سنجیدہ اور بصیرت بھری ملاقات ہوئی۔ میں نے ریحان کالج کا مکمل وژن عثمان چغتائی صاحب کے سامنے رکھا۔ میں نے اُن سے کہا: یہ کوئی عام کالج نہیں ہے۔ یہ 4 سالہ ریہائشی تبدیلی پروگرام ہے۔ یہاں ڈگری نہیں، زندگی ڈیزائن کی جاتی ہے۔ ریحان کالج میں: • روزانہ طویل گھنٹوں کی عملی ٹریننگ ہوتی ہے • AI کو استاد کی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے • ہر طالب علم کو خود کمانے کے قابل بنایا جاتا ہے • مقصد کم از کم 100,000 روپے ماہانہ آمدنی کی صلاحیت پیدا کرنا ہے میں نے واضح کیا: یہاں رٹا نہیں ہوگا۔ یہاں موبائل ضائع کرنے کے لیے نہیں، بنانے کے لیے ہوگا۔ یہاں AI کھیلنے کے لیے نہیں، کمانے کے لیے ہوگا۔ یہاں نوجوانوں کو مارکیٹ سے جوڑا جائے گا — پہلے دن سے۔ ریحان کالج میں طالب علم: • اپنی “والا شناخت” بناتا ہے • کسی ایک حقیقی مسئلے پر کام کرتا ہے • کمیونیکیشن، سیلز، نیٹ ورکنگ سیکھتا ہے • روزانہ عملی پراجیکٹس کرتا ہے • سروس کے ذریعے کردار سازی کرتا ہے عثمان چغتائی صاحب نے خاموشی سے سنا… پھر کہا: “اگر یہ مستقل مزاجی سے چل گیا تو یہ نوجوانوں کو خود مختار بنا دے گا۔ یہ ڈگری سسٹم کا متبادل ہو سکتا ہے۔” انہوں نے خاص طور پر اس بات کی تعریف کی کہ یہاں ہدف واضح ہے۔ باتیں نہیں — نتیجہ۔ خواب نہیں — قابلِ پیمائش آمدنی۔ انہوں نے کہا: “ہم اکثر نوجوانوں کو امید دیتے ہیں، لیکن راستہ واضح نہیں دیتے۔ یہاں راستہ بھی ہے، نظام بھی ہے، اور پیمانہ بھی ہے۔” دوستو، کالج وہ نہیں جو چار سال بعد آپ کو سی وی بنا کر دے۔ کالج وہ ہے جو چار سال بعد آپ کو اپنی آمدنی خود بنانے کے قابل کر دے۔ ریحان کالج کا وعدہ سادہ ہے: 4 سال۔ ریہائشی ماحول۔ AI + عملی مہارت + کردار سازی۔ کم از کم 100,000 روپے ماہانہ کمانے کی صلاحیت۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ صرف گریجویٹ نہیں… خود مختار ہو، تو دروازہ کھلا ہے۔ — ریحان اللہ والا Telling about Rehan College to Usman Chughtai and his feedback Rehan School College�Rehan College is a 4-year full-time residential program in Karachi that turns youth into confident, capable, AI-powered leaders — through real learning and real work. www.rehancollege.com�� General UAN +92-304-1116044 Admissions: +92 301 2985826 Project Head +92 310 2886045 Watch my video https://www.facebook.com/share/v/19KnLkjhxp/?mibextid=wwXIfr
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 126 Views 0
  • Feedback of Rehan School Islamabad Campus by Usman Chughtai
    Feedback of Rehan School Islamabad Campus by Usman Chughtai
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 127 Views 0
  • آج بارہ کہو، اسلام آباد میں ایک خاص لمحہ

    آج ریحان اسکول — اسلام آباد، بارہ کہو کیمپس کا خصوصی دورہ کروایا گیا
    محترم عثمان چغتائی صاحب کو۔

    وہ صرف دیکھنے نہیں آئے تھے…
    وہ سوال لے کر آئے تھے۔
    وہ جاننے آئے تھے کہ آخر یہاں ایسا کیا ہو رہا ہے جو بچے بدل رہے ہیں؟

    اور جب انہوں نے دیکھا —

    بچے AI سے بات کر رہے ہیں
    10–12 سال کے بچے اپنی ویب سائٹس بنا رہے ہیں
    ہر طالب علم اپنی شناخت کے ساتھ “Wala/Wali” مشن پر کام کر رہا ہے
    اعتماد، انگریزی، کوڈنگ، کمائی — سب ایک ہی چھت کے نیچے

    تو ان کے چہرے پر حیرت بھی تھی…
    اور امید بھی۔

    یہ روایتی اسکول نہیں۔
    یہ وہ جگہ ہے جہاں:

    بچہ صرف کتاب نہیں پڑھتا
    بچہ سوال کرنا سیکھتا ہے
    بچہ AI کو استاد بناتا ہے
    بچہ 18 ماہ میں کمائی کی طرف قدم بڑھاتا ہے

    ہم نے انہیں پورا سسٹم دکھایا —
    کلاس رومز، AI لرننگ سیشنز، طلبہ کے پراجیکٹس، اور وہ ماحول
    جہاں ہر بچہ لیڈر بننے کی تیاری کر رہا ہے۔

    اسلام آباد والوں!
    آپ کے شہر میں یہ سب ہو رہا ہے۔
    آپ ابھی تک کیوں نہیں آئے؟

    آئیں، خود دیکھیں۔
    تنقید بعد میں کیجیے گا۔

    Rehan School – Islamabad – Bara Kahu Branch
    rehanschool.net
    Principal: Asma EducationWali +92 344 5152745
    Qasim: +92 308 5511534
    UAN: 0304-1116044

    آنے والے وقت میں قومیں وہی آگے بڑھیں گی
    جو بچوں کو صرف ڈگری نہیں…
    سمت اور ہمت دیں گی۔

    بارہ کہو میں تبدیلی شروع ہو چکی ہے۔
    کیا آپ اس کا حصہ بنیں گے؟

    Tour of Rehan School Islamabad Campus to Usman Chughtai in Barakhu, Islamabad
    🔥 آج بارہ کہو، اسلام آباد میں ایک خاص لمحہ 🔥 آج ریحان اسکول — اسلام آباد، بارہ کہو کیمپس کا خصوصی دورہ کروایا گیا محترم عثمان چغتائی صاحب کو۔ وہ صرف دیکھنے نہیں آئے تھے… وہ سوال لے کر آئے تھے۔ وہ جاننے آئے تھے کہ آخر یہاں ایسا کیا ہو رہا ہے جو بچے بدل رہے ہیں؟ اور جب انہوں نے دیکھا — 📌 بچے AI سے بات کر رہے ہیں 📌 10–12 سال کے بچے اپنی ویب سائٹس بنا رہے ہیں 📌 ہر طالب علم اپنی شناخت کے ساتھ “Wala/Wali” مشن پر کام کر رہا ہے 📌 اعتماد، انگریزی، کوڈنگ، کمائی — سب ایک ہی چھت کے نیچے تو ان کے چہرے پر حیرت بھی تھی… اور امید بھی۔ یہ روایتی اسکول نہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں: ✔️ بچہ صرف کتاب نہیں پڑھتا ✔️ بچہ سوال کرنا سیکھتا ہے ✔️ بچہ AI کو استاد بناتا ہے ✔️ بچہ 18 ماہ میں کمائی کی طرف قدم بڑھاتا ہے ہم نے انہیں پورا سسٹم دکھایا — کلاس رومز، AI لرننگ سیشنز، طلبہ کے پراجیکٹس، اور وہ ماحول جہاں ہر بچہ لیڈر بننے کی تیاری کر رہا ہے۔ اسلام آباد والوں! آپ کے شہر میں یہ سب ہو رہا ہے۔ آپ ابھی تک کیوں نہیں آئے؟ آئیں، خود دیکھیں۔ تنقید بعد میں کیجیے گا۔ 📍 Rehan School – Islamabad – Bara Kahu Branch 🌐 rehanschool.net 📞 Principal: Asma EducationWali +92 344 5152745 📞 Qasim: +92 308 5511534 ☎️ UAN: 0304-1116044 آنے والے وقت میں قومیں وہی آگے بڑھیں گی جو بچوں کو صرف ڈگری نہیں… سمت اور ہمت دیں گی۔ 🚀 بارہ کہو میں تبدیلی شروع ہو چکی ہے۔ کیا آپ اس کا حصہ بنیں گے؟ Tour of Rehan School Islamabad Campus to Usman Chughtai in Barakhu, Islamabad
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 688 Views 0
  • پاکستان کی 75٪ آبادی آج بھی سولر استعمال نہیں کرتی۔

    کیوں؟

    انورٹر مہنگے ہیں
    کوالٹی ہارڈویئر دستیاب نہیں
    سب کچھ امپورٹ پر انحصار
    سروس اور اسپیئر پارٹس کا مسئلہ

    نتیجہ؟
    مہنگی بجلی…
    لوڈشیڈنگ…
    اور سولر کا خواب ادھورا۔

    ⸻

    ملیے Mr. Farhan سے

    وہ صرف سولر انسٹالر نہیں…
    وہ سولر انورٹر بنانے والے ہیں۔

    اور وہ تیار ہیں آپ کو سکھانے کے لیے
    کہ انورٹر کیسے بنتا ہے۔

    اگر آپ چاہیں —
    وہ آپ کے اپنے برانڈ نام سے بھی انورٹر بنا سکتے ہیں۔

    سوچیں…

    “Made in Pakistan”
    آپ کے اپنے لوگو کے ساتھ۔
    آپ کے اپنے شہر میں۔

    یہ صرف ٹیکنیکل سکل نہیں۔
    یہ مکمل بزنس ماڈل ہے۔

    ⸻

    ان کے چاروں بیٹے Rehan School Islamabad Campus میں پڑھ رہے ہیں۔

    جہاں میکر اسپیس میں سرکٹس بنتے ہیں،
    بورڈ ڈیزائن ہوتے ہیں،
    پروٹو ٹائپس ٹیسٹ ہوتے ہیں۔

    Farhan اپنے بچوں کے ساتھ مل کر
    اسی ماحول میں ٹیکنالوجی ڈیولپ کر رہے ہیں۔

    یہ تعلیم نہیں…
    یہ انڈسٹری کی تیاری ہے۔

    ⸻

    اگر آپ:

    اپنا سولر برانڈ شروع کرنا چاہتے ہیں
    انورٹر مینوفیکچرنگ سیکھنا چاہتے ہیں
    پارٹنرشپ چاہتے ہیں
    یا سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں

    تو انتظار نہ کریں۔

    براہِ راست WhatsApp کریں:
    +92 301 4636177

    یا ان کے WhatsApp گروپ میں شامل ہوں:
    https://chat.whatsapp.com/GNLmdTMqKquKk2nUJTxztH?mode=gi_t

    Facebook پر ایڈ کریں۔
    YouTube پر فالو کریں۔

    پہلے پاکستان کو سستا، لوکل سولر دیں۔
    پہلے انورٹر خود بنائیں۔
    پہلے مارکیٹ اپنے ہاتھ میں لیں۔

    جو آج بنائے گا…
    کل وہی لیڈر ہوگا۔
    پاکستان کی 75٪ آبادی آج بھی سولر استعمال نہیں کرتی۔ کیوں؟ ❌ انورٹر مہنگے ہیں ❌ کوالٹی ہارڈویئر دستیاب نہیں ❌ سب کچھ امپورٹ پر انحصار ❌ سروس اور اسپیئر پارٹس کا مسئلہ نتیجہ؟ مہنگی بجلی… لوڈشیڈنگ… اور سولر کا خواب ادھورا۔ ⸻ ملیے Mr. Farhan سے ⚡ وہ صرف سولر انسٹالر نہیں… وہ سولر انورٹر بنانے والے ہیں۔ اور وہ تیار ہیں آپ کو سکھانے کے لیے کہ انورٹر کیسے بنتا ہے۔ اگر آپ چاہیں — وہ آپ کے اپنے برانڈ نام سے بھی انورٹر بنا سکتے ہیں۔ سوچیں… “Made in Pakistan” آپ کے اپنے لوگو کے ساتھ۔ آپ کے اپنے شہر میں۔ یہ صرف ٹیکنیکل سکل نہیں۔ یہ مکمل بزنس ماڈل ہے۔ ⸻ ان کے چاروں بیٹے Rehan School Islamabad Campus میں پڑھ رہے ہیں۔ جہاں میکر اسپیس میں سرکٹس بنتے ہیں، بورڈ ڈیزائن ہوتے ہیں، پروٹو ٹائپس ٹیسٹ ہوتے ہیں۔ Farhan اپنے بچوں کے ساتھ مل کر اسی ماحول میں ٹیکنالوجی ڈیولپ کر رہے ہیں۔ یہ تعلیم نہیں… یہ انڈسٹری کی تیاری ہے۔ ⸻ اگر آپ: 🔹 اپنا سولر برانڈ شروع کرنا چاہتے ہیں 🔹 انورٹر مینوفیکچرنگ سیکھنا چاہتے ہیں 🔹 پارٹنرشپ چاہتے ہیں 🔹 یا سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تو انتظار نہ کریں۔ 📲 براہِ راست WhatsApp کریں: +92 301 4636177 یا ان کے WhatsApp گروپ میں شامل ہوں: https://chat.whatsapp.com/GNLmdTMqKquKk2nUJTxztH?mode=gi_t Facebook پر ایڈ کریں۔ YouTube پر فالو کریں۔ پہلے پاکستان کو سستا، لوکل سولر دیں۔ پہلے انورٹر خود بنائیں۔ پہلے مارکیٹ اپنے ہاتھ میں لیں۔ جو آج بنائے گا… کل وہی لیڈر ہوگا۔ ⚡🔥🇵🇰
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 130 Views 0
  • پاکستان کی 75٪ آبادی آج بھی سولر استعمال نہیں کرتی۔

    کیوں؟

    انورٹر مہنگے ہیں
    کوالٹی ہارڈویئر دستیاب نہیں
    سب کچھ امپورٹ پر انحصار
    سروس اور اسپیئر پارٹس کا مسئلہ

    نتیجہ؟
    مہنگی بجلی…
    لوڈشیڈنگ…
    اور سولر کا خواب ادھورا۔

    ⸻

    ملیے Mr. Farhan سے

    وہ صرف سولر انسٹالر نہیں…
    وہ سولر انورٹر بنانے والے ہیں۔

    اور وہ تیار ہیں آپ کو سکھانے کے لیے
    کہ انورٹر کیسے بنتا ہے۔

    اگر آپ چاہیں —
    وہ آپ کے اپنے برانڈ نام سے بھی انورٹر بنا سکتے ہیں۔

    سوچیں…

    “Made in Pakistan”
    آپ کے اپنے لوگو کے ساتھ۔
    آپ کے اپنے شہر میں۔

    یہ صرف ٹیکنیکل سکل نہیں۔
    یہ مکمل بزنس ماڈل ہے۔

    ⸻

    ان کے چاروں بیٹے Rehan School Islamabad Campus میں پڑھ رہے ہیں۔

    جہاں میکر اسپیس میں سرکٹس بنتے ہیں،
    بورڈ ڈیزائن ہوتے ہیں،
    پروٹو ٹائپس ٹیسٹ ہوتے ہیں۔

    Farhan اپنے بچوں کے ساتھ مل کر
    اسی ماحول میں ٹیکنالوجی ڈیولپ کر رہے ہیں۔

    یہ تعلیم نہیں…
    یہ انڈسٹری کی تیاری ہے۔

    ⸻

    اگر آپ:

    اپنا سولر برانڈ شروع کرنا چاہتے ہیں
    انورٹر مینوفیکچرنگ سیکھنا چاہتے ہیں
    پارٹنرشپ چاہتے ہیں
    یا سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں

    تو انتظار نہ کریں۔

    براہِ راست WhatsApp کریں:
    +92 301 4636177

    یا ان کے WhatsApp گروپ میں شامل ہوں:
    https://chat.whatsapp.com/GNLmdTMqKquKk2nUJTxztH?mode=gi_t

    Facebook پر ایڈ کریں۔
    YouTube پر فالو کریں۔

    پہلے پاکستان کو سستا، لوکل سولر دیں۔
    پہلے انورٹر خود بنائیں۔
    پہلے مارکیٹ اپنے ہاتھ میں لیں۔

    جو آج بنائے گا…
    کل وہی لیڈر ہوگا۔
    پاکستان کی 75٪ آبادی آج بھی سولر استعمال نہیں کرتی۔ کیوں؟ ❌ انورٹر مہنگے ہیں ❌ کوالٹی ہارڈویئر دستیاب نہیں ❌ سب کچھ امپورٹ پر انحصار ❌ سروس اور اسپیئر پارٹس کا مسئلہ نتیجہ؟ مہنگی بجلی… لوڈشیڈنگ… اور سولر کا خواب ادھورا۔ ⸻ ملیے Mr. Farhan سے ⚡ وہ صرف سولر انسٹالر نہیں… وہ سولر انورٹر بنانے والے ہیں۔ اور وہ تیار ہیں آپ کو سکھانے کے لیے کہ انورٹر کیسے بنتا ہے۔ اگر آپ چاہیں — وہ آپ کے اپنے برانڈ نام سے بھی انورٹر بنا سکتے ہیں۔ سوچیں… “Made in Pakistan” آپ کے اپنے لوگو کے ساتھ۔ آپ کے اپنے شہر میں۔ یہ صرف ٹیکنیکل سکل نہیں۔ یہ مکمل بزنس ماڈل ہے۔ ⸻ ان کے چاروں بیٹے Rehan School Islamabad Campus میں پڑھ رہے ہیں۔ جہاں میکر اسپیس میں سرکٹس بنتے ہیں، بورڈ ڈیزائن ہوتے ہیں، پروٹو ٹائپس ٹیسٹ ہوتے ہیں۔ Farhan اپنے بچوں کے ساتھ مل کر اسی ماحول میں ٹیکنالوجی ڈیولپ کر رہے ہیں۔ یہ تعلیم نہیں… یہ انڈسٹری کی تیاری ہے۔ ⸻ اگر آپ: 🔹 اپنا سولر برانڈ شروع کرنا چاہتے ہیں 🔹 انورٹر مینوفیکچرنگ سیکھنا چاہتے ہیں 🔹 پارٹنرشپ چاہتے ہیں 🔹 یا سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تو انتظار نہ کریں۔ 📲 براہِ راست WhatsApp کریں: +92 301 4636177 یا ان کے WhatsApp گروپ میں شامل ہوں: https://chat.whatsapp.com/GNLmdTMqKquKk2nUJTxztH?mode=gi_t Facebook پر ایڈ کریں۔ YouTube پر فالو کریں۔ پہلے پاکستان کو سستا، لوکل سولر دیں۔ پہلے انورٹر خود بنائیں۔ پہلے مارکیٹ اپنے ہاتھ میں لیں۔ جو آج بنائے گا… کل وہی لیڈر ہوگا۔ ⚡🔥🇵🇰
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 128 Views 0