• Indus Ai week !

    Ai can grow Pakistan #indusaiweek
    Indus Ai week ! Ai can grow Pakistan 🇵🇰 #indusaiweek
    0 Comments 0 Shares 477 Views 0
  • What is Rehan School ?

    What it is not ?
    It is not an Ai school !
    What is Rehan School ? What it is not ? It is not an Ai school !
    0 Comments 0 Shares 147 Views 0
  • Faisal edhi spent 6 hours with us and rated our students as very confident and honest at very young age !

    Thank you
    Faisal edhi spent 6 hours with us and rated our students as very confident and honest at very young age ! Thank you
    0 Comments 0 Shares 145 Views 0
  • Thank you Azhar Hussain sahib sales coach for visiting our schools today !
    Thank you Azhar Hussain sahib sales coach for visiting our schools today !
    0 Comments 0 Shares 175 Views 0
  • اپنے ضلع میں Rehan AI Academy کھولنے کا سب سے آسان طریقہ

    کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے شہر کے بچے صرف کتابیں نہ رٹیں…
    بلکہ واقعی سیکھیں؟

    انٹرنیٹ کا صحیح استعمال
    AI ٹولز (ChatGPT، آٹومیشن، ڈیجیٹل اسکلز)
    آن لائن کمائی کی اسکلز

    اور سب سے اہم…
    اپنی فیس خود کمانا سیکھیں؟

    تو سیدھا، واضح اور کام کرنے والا طریقہ یہ ہے

    ⸻

    Step One: WhatsApp گروپ بنائیں

    • کم از کم 25 طلبہ (عمر 9 تا 18 سال)
    • طلبہ + والدین دونوں شامل ہوں
    • گروپ کا واضح نام رکھیں: Rehan AI Academy – [آپ کا ضلع]

    جب 25 سنجیدہ بچے تیار ہوں گے
    تب سسٹم حرکت میں آئے گا۔

    ⸻

    Step Two: مکمل تفصیل اور رجسٹریشن

    وزٹ کریں: rehan.education

    وہاں آپ کو ملے گا:
    • مکمل نصاب
    • فیس اسٹرکچر
    • کمائی کا ماڈل
    • اساتذہ کی ٹریننگ
    • اکیڈمی سیٹ اپ گائیڈ

    کوئی راز نہیں۔
    سب کچھ اوپن ہے۔

    ⸻

    یہ صرف ایک اکیڈمی نہیں ہے۔
    یہ آپ کے ضلع سے:

    AI Leaders
    Future Founders
    Digital Earners

    نکالنے کی تحریک ہے۔

    اگر آپ سنجیدہ ہیں…
    اگر آپ واقعی تبدیلی چاہتے ہیں…
    تو آج پہلا قدم اٹھائیں۔

    Share کریں
    WhatsApp گروپ بنائیں
    rehan.education پر Enroll کریں

    براہِ کرم کال کرنے سے پہلے ویب سائٹ ضرور وزٹ کریں (تاکہ ہم بہتر مدد کر سکیں):

    • Admissions: JP – +92 323 2147517
    • Scholarships: Mohsin – +92 310 2886045
    • General UAN: 0304-111-6044

    یہ وقت ہے ضلع بدلنے کا۔
    یہ وقت ہے بچوں کو کمانے والا بنانے کا۔

    #RehanAIAcademy
    #AIForKids
    #FutureLeaders
    #PakistanAI
    🔥 اپنے ضلع میں Rehan AI Academy کھولنے کا سب سے آسان طریقہ 🔥 کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے شہر کے بچے صرف کتابیں نہ رٹیں… بلکہ واقعی سیکھیں؟ 📱 انٹرنیٹ کا صحیح استعمال 🤖 AI ٹولز (ChatGPT، آٹومیشن، ڈیجیٹل اسکلز) 💻 آن لائن کمائی کی اسکلز اور سب سے اہم… 💰 اپنی فیس خود کمانا سیکھیں؟ تو سیدھا، واضح اور کام کرنے والا طریقہ یہ ہے ⬇️ ⸻ 1️⃣ Step One: WhatsApp گروپ بنائیں • کم از کم 25 طلبہ (عمر 9 تا 18 سال) • طلبہ + والدین دونوں شامل ہوں • گروپ کا واضح نام رکھیں: Rehan AI Academy – [آپ کا ضلع] جب 25 سنجیدہ بچے تیار ہوں گے تب سسٹم حرکت میں آئے گا۔ ⸻ 2️⃣ Step Two: مکمل تفصیل اور رجسٹریشن 🌍 وزٹ کریں: rehan.education وہاں آپ کو ملے گا: • مکمل نصاب • فیس اسٹرکچر • کمائی کا ماڈل • اساتذہ کی ٹریننگ • اکیڈمی سیٹ اپ گائیڈ کوئی راز نہیں۔ سب کچھ اوپن ہے۔ ⸻ یہ صرف ایک اکیڈمی نہیں ہے۔ یہ آپ کے ضلع سے: 🚀 AI Leaders 🚀 Future Founders 🚀 Digital Earners نکالنے کی تحریک ہے۔ اگر آپ سنجیدہ ہیں… اگر آپ واقعی تبدیلی چاہتے ہیں… تو آج پہلا قدم اٹھائیں۔ 👉 Share کریں 👉 WhatsApp گروپ بنائیں 👉 rehan.education پر Enroll کریں 📞 براہِ کرم کال کرنے سے پہلے ویب سائٹ ضرور وزٹ کریں (تاکہ ہم بہتر مدد کر سکیں): • Admissions: JP – +92 323 2147517 • Scholarships: Mohsin – +92 310 2886045 • General UAN: 0304-111-6044 یہ وقت ہے ضلع بدلنے کا۔ یہ وقت ہے بچوں کو کمانے والا بنانے کا۔ #RehanAIAcademy #AIForKids #FutureLeaders #PakistanAI 🚀
    0 Comments 0 Shares 2785 Views 0
  • میں نے آج
    Faisal Edhi صاحب کو
    ریٖحان اسکول کا تفصیلی دورہ کروایا۔

    یہ دورہ عمارتوں کا نہیں تھا۔
    یہ سوچ کا دورہ تھا۔

    میں نے انہیں بتایا:

    یہ اسکول بچوں کو یہ نہیں سکھاتا
    کہ “جو بتایا جائے وہی یاد کرو”
    بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ
    سوال کیسے پوچھتے ہیں۔

    میں نے انہیں کلاس روم دکھایا
    جہاں بچے خاموش نہیں بیٹھتے،
    بلکہ بولتے ہیں، بحث کرتے ہیں،
    غلطی کرتے ہیں
    اور پھر خود کو بہتر بناتے ہیں۔

    میں نے کہا:

    “یہاں رزلٹ سے پہلے
    ہم اعتماد بناتے ہیں۔
    کیونکہ جس بچے کو بولنا آ جائے،
    دنیا خود سننے لگتی ہے۔”

    پھر ہم AI کی طرف گئے۔

    میں نے کہا:

    “یہاں AI کوئی مضمون نہیں،
    یہ ایک اوزار ہے۔
    جیسے قلم، جیسے کتاب —
    فرق صرف یہ ہے
    کہ یہ غریب بچے کو بھی
    دنیا کے برابر لا کھڑا کرتا ہے۔”

    میں نے انہیں بتایا
    کہ ہمارا مقصد
    صرف نوکری دلوانا نہیں۔

    ہم بچوں سے کہتے ہیں:
    ایک مسئلہ چنو
    جو کم از کم 10 لاکھ لوگوں کو متاثر کرتا ہو۔
    پھر اس کا حل بناؤ۔

    میں نے انہیں بتایا
    کہ ہم بچوں کو یہ بھی سکھاتے ہیں:
    • کیسے صفائی کی جاتی ہے
    • کیسے وقت کا احترام کیا جاتا ہے
    • کیسے سچ بولا جاتا ہے
    • اور کیسے طاقت آنے کے بعد
    انسان رہا جاتا ہے

    میں نے کہا:

    “ہم نہیں چاہتے
    کہ یہ بچے صرف کامیاب ہوں،
    ہم چاہتے ہیں
    کہ یہ بچے قابلِ اعتماد ہوں۔”

    پھر میں رُکا۔

    میں نے ان کی آنکھوں میں دیکھا۔
    وہ خاموش تھے۔
    لیکن وہ سمجھ چکے تھے۔

    یہی وہ لمحہ تھا
    جہاں مجھے
    Abdul Sattar Edhi
    کی یاد آئی۔

    میں نے دل میں سوچا:

    اگر خدمت کی وہ روایت
    اور تعلیم کا یہ نظام
    اکٹھے ہو جائیں…

    تو شاید
    پاکستان کو بدلنے کے لیے
    کوئی معجزہ نہیں چاہیے۔

    جب دورہ ختم ہوا
    تو بات اسکول پر نہیں رہی۔

    بات ذمہ داری پر آ گئی۔
    بات ملک پر آ گئی۔
    بات اگلی نسل پر آ گئی۔

    کچھ لوگ اسکول دیکھنے آتے ہیں۔
    کچھ لوگ
    مستقبل دیکھ لیتے ہیں۔

    آج
    ایک ایسا ہی دن تھا۔

    ہم شور نہیں مچاتے۔
    ہم آہستہ آہستہ
    ایسا نظام بناتے ہیں
    جس کی آواز
    کل پوری دنیا سنے گی۔

    #RehanSchool
    #FaisalEdhi
    #EdhiLegacy

    #AIForHumanity
    #LeadershipWithValues

    Rehan School - Shaheed e millat road, Karachi Website: Rehanschool.Com Address on google maps: �Https://goo.gl/maps/w2ASJvDx9KZc9r297 �Miss Rubab 03232145559 �General +923102886047
    میں نے آج Faisal Edhi صاحب کو ریٖحان اسکول کا تفصیلی دورہ کروایا۔ یہ دورہ عمارتوں کا نہیں تھا۔ یہ سوچ کا دورہ تھا۔ میں نے انہیں بتایا: یہ اسکول بچوں کو یہ نہیں سکھاتا کہ “جو بتایا جائے وہی یاد کرو” بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ 👉 سوال کیسے پوچھتے ہیں۔ میں نے انہیں کلاس روم دکھایا جہاں بچے خاموش نہیں بیٹھتے، بلکہ بولتے ہیں، بحث کرتے ہیں، غلطی کرتے ہیں اور پھر خود کو بہتر بناتے ہیں۔ میں نے کہا: “یہاں رزلٹ سے پہلے ہم اعتماد بناتے ہیں۔ کیونکہ جس بچے کو بولنا آ جائے، دنیا خود سننے لگتی ہے۔” پھر ہم AI کی طرف گئے۔ میں نے کہا: “یہاں AI کوئی مضمون نہیں، یہ ایک اوزار ہے۔ جیسے قلم، جیسے کتاب — فرق صرف یہ ہے کہ یہ غریب بچے کو بھی دنیا کے برابر لا کھڑا کرتا ہے۔” میں نے انہیں بتایا کہ ہمارا مقصد صرف نوکری دلوانا نہیں۔ ہم بچوں سے کہتے ہیں: 👉 ایک مسئلہ چنو جو کم از کم 10 لاکھ لوگوں کو متاثر کرتا ہو۔ پھر اس کا حل بناؤ۔ میں نے انہیں بتایا کہ ہم بچوں کو یہ بھی سکھاتے ہیں: • کیسے صفائی کی جاتی ہے • کیسے وقت کا احترام کیا جاتا ہے • کیسے سچ بولا جاتا ہے • اور کیسے طاقت آنے کے بعد انسان رہا جاتا ہے میں نے کہا: “ہم نہیں چاہتے کہ یہ بچے صرف کامیاب ہوں، ہم چاہتے ہیں کہ یہ بچے قابلِ اعتماد ہوں۔” پھر میں رُکا۔ میں نے ان کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہ خاموش تھے۔ لیکن وہ سمجھ چکے تھے۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں مجھے Abdul Sattar Edhi کی یاد آئی۔ میں نے دل میں سوچا: اگر خدمت کی وہ روایت اور تعلیم کا یہ نظام اکٹھے ہو جائیں… تو شاید پاکستان کو بدلنے کے لیے کوئی معجزہ نہیں چاہیے۔ جب دورہ ختم ہوا تو بات اسکول پر نہیں رہی۔ بات ذمہ داری پر آ گئی۔ بات ملک پر آ گئی۔ بات اگلی نسل پر آ گئی۔ کچھ لوگ اسکول دیکھنے آتے ہیں۔ کچھ لوگ مستقبل دیکھ لیتے ہیں۔ آج ایک ایسا ہی دن تھا۔ ہم شور نہیں مچاتے۔ ہم آہستہ آہستہ ایسا نظام بناتے ہیں جس کی آواز کل پوری دنیا سنے گی۔ #RehanSchool #FaisalEdhi #EdhiLegacy #AIForHumanity #LeadershipWithValues Rehan School - Shaheed e millat road, Karachi Website: Rehanschool.Com Address on google maps: �Https://goo.gl/maps/w2ASJvDx9KZc9r297 �Miss Rubab 03232145559 �General +923102886047
    0 Comments 0 Shares 3498 Views 0
  • کیمرہ آن نہیں ہے… مستقبل آن ہے۔

    یہ وہ بچے ہیں
    جو نوکری لینے نہیں
    بلکہ اپنے گاؤں، اپنے شہر، اپنی بستی میں AI اسکول کھولنے آئے ہیں۔

    یہ وہ استاد بننے آئے ہیں
    جو کتاب نہیں
    قسمت بدلنا سکھائیں گے۔

    جہاں اسکول نہیں،
    وہاں Rehan AI Teacher جائے گا۔
    جہاں استاد کمزور ہے،
    وہاں AI مضبوط بنے گی۔

    آج ہم اس خواب کا استقبال کر رہے ہیں
    جس کا نام ہے:

    Rehan AI Teachers Institute
    — پاکستان کے ہر کونے کے لیے

    یہ کلاس نہیں
    یہ تحریک ہے۔
    یہ کورس نہیں
    یہ ذمہ داری ہے۔

    اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ
    آپ کے علاقے میں علم ہو،
    روزگار ہو،
    اور خودداری ہو—

    تو یاد رکھیں:
    انقلاب ہمیشہ استاد سے شروع ہوتا ہے۔

    ⸻

    Program details & numbers — Confirmed & correct

    جی ہاں، نمبرز اور پروگرام کی تفصیل بالکل درست ہے
    آپ اسے بلا جھجک استعمال کر سکتے ہیں۔

    Official Program Summary (short & strict):
    • Website (ALL details first):
    http://rehan.education/
    • ⏱ Duration:
    2-month AI Bootcamp
    • Based on:
    25+ years of real-world experience (not theory)

    Options:

    Option 1: Self-Learning (Free)
    – Website پر موجود مواد سے خود سیکھیں

    Option 2: Serious Learners (Paid)
    – Live classes
    – Structure & accountability
    – Certification

    Rule (very important):
    ویب سائٹ وزٹ کیے بغیر سوال کرنا =
    آپ ابھی سنجیدہ نہیں ہیں۔

    Contact (ONLY after website visit):
    • Admissions: JP – +92 323 2147517
    • Scholarships: Mohsin – +92 310 2886045
    • UAN: 0304-111-6044

    Closing authority line (keep this):
    ہم متجسس لوگوں کو نہیں،
    ایکشن لینے والوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

    — Rehan Allahwala
    کیمرہ آن نہیں ہے… مستقبل آن ہے۔ 🤖 یہ وہ بچے ہیں جو نوکری لینے نہیں بلکہ اپنے گاؤں، اپنے شہر، اپنی بستی میں AI اسکول کھولنے آئے ہیں۔ یہ وہ استاد بننے آئے ہیں جو کتاب نہیں قسمت بدلنا سکھائیں گے۔ جہاں اسکول نہیں، وہاں Rehan AI Teacher جائے گا۔ جہاں استاد کمزور ہے، وہاں AI مضبوط بنے گی۔ آج ہم اس خواب کا استقبال کر رہے ہیں جس کا نام ہے: Rehan AI Teachers Institute — پاکستان کے ہر کونے کے لیے 🌍 یہ کلاس نہیں یہ تحریک ہے۔ یہ کورس نہیں یہ ذمہ داری ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کے علاقے میں علم ہو، روزگار ہو، اور خودداری ہو— تو یاد رکھیں: انقلاب ہمیشہ استاد سے شروع ہوتا ہے۔ ⸻ 2️⃣ Program details & numbers — ✔️ Confirmed & correct جی ہاں، نمبرز اور پروگرام کی تفصیل بالکل درست ہے ✅ آپ اسے بلا جھجک استعمال کر سکتے ہیں۔ Official Program Summary (short & strict): • 🌐 Website (ALL details first): http://rehan.education/ • ⏱ Duration: 2-month AI Bootcamp • 🧠 Based on: 25+ years of real-world experience (not theory) Options: Option 1: Self-Learning (Free) – Website پر موجود مواد سے خود سیکھیں Option 2: Serious Learners (Paid) – Live classes – Structure & accountability – Certification ⚠️ Rule (very important): ویب سائٹ وزٹ کیے بغیر سوال کرنا = آپ ابھی سنجیدہ نہیں ہیں۔ Contact (ONLY after website visit): • 📞 Admissions: JP – +92 323 2147517 • 🎓 Scholarships: Mohsin – +92 310 2886045 • ☎️ UAN: 0304-111-6044 Closing authority line (keep this): ہم متجسس لوگوں کو نہیں، ایکشن لینے والوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ — Rehan Allahwala
    0 Comments 0 Shares 146 Views 0
  • یہ صرف ایک ویڈیو نہیں ہے۔
    یہ پاکستان کے مستقبل کا دروازہ ہے۔

    آج آپ جس انسان کو سن رہے ہیں، وہ Liaqat Ali صاحب ہیں —
    وہ شخص جو پاکستان میں 100 AI سینٹرز قائم کرنے کے مشن پر نکلا ہے۔

    نعرے بہت سنے ہیں۔
    اعلانات بہت دیکھے ہیں۔
    لیکن یہ ان چند لوگوں میں سے ہیں جو
    سلائیڈ نہیں، سسٹم بناتے ہیں۔

    مقصد بالکل واضح ہے:
    • نوجوانوں کو صرف ڈگری ہولڈر نہیں
    • بلکہ عالمی معیار کا AI ٹیلنٹ بنانا
    • جو پاکستان میں بیٹھ کر
    • دنیا کے لیے کام کرے، کمائے اور نام بنائے

    یہ وہی LA Consulting ہے
    جس کے بارے میں میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں —
    کیونکہ جو لوگ زمین پر کام کر رہے ہوں
    ان کا ذکر کرنا فرض بن جاتا ہے۔

    یہ ویڈیو آخر تک ضرور دیکھیں۔
    کیونکہ آخر میں:
    • رابطہ بھی ہے
    • راستہ بھی
    • اور موقع بھی

    اگر آپ:
    • ایک طالبعلم ہیں
    • ایک والدین ہیں
    • ایک استاد ہیں
    • یا کوئی ایسا شخص جو پاکستان میں AI کا مستقبل بنانا چاہتا ہے

    تو یہ ویڈیو کسی اور کو نہیں، آپ کو بلا رہی ہے۔

    نمبر اور ویب سائٹ ویڈیو کے آخر میں موجود ہیں —
    وہیں سے بات شروع کریں۔

    قومیں نعروں سے نہیں بنتیں،
    قومیں اُن لوگوں سے بنتی ہیں جو خاموشی سے کام کرتے ہیں۔

    #Pakistan #AIinPakistan #FutureSkills
    #LiaqatAli #LAConsulting
    #100AICenters #YouthOfPakistan
    #RehanAllahwala
    یہ صرف ایک ویڈیو نہیں ہے۔ یہ پاکستان کے مستقبل کا دروازہ ہے۔ آج آپ جس انسان کو سن رہے ہیں، وہ Liaqat Ali صاحب ہیں — وہ شخص جو پاکستان میں 100 AI سینٹرز قائم کرنے کے مشن پر نکلا ہے۔ نعرے بہت سنے ہیں۔ اعلانات بہت دیکھے ہیں۔ لیکن یہ ان چند لوگوں میں سے ہیں جو سلائیڈ نہیں، سسٹم بناتے ہیں۔ 🎯 مقصد بالکل واضح ہے: • نوجوانوں کو صرف ڈگری ہولڈر نہیں • بلکہ عالمی معیار کا AI ٹیلنٹ بنانا • جو پاکستان میں بیٹھ کر • دنیا کے لیے کام کرے، کمائے اور نام بنائے یہ وہی LA Consulting ہے جس کے بارے میں میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں — کیونکہ جو لوگ زمین پر کام کر رہے ہوں ان کا ذکر کرنا فرض بن جاتا ہے۔ یہ ویڈیو آخر تک ضرور دیکھیں۔ کیونکہ آخر میں: • رابطہ بھی ہے • راستہ بھی • اور موقع بھی اگر آپ: • ایک طالبعلم ہیں • ایک والدین ہیں • ایک استاد ہیں • یا کوئی ایسا شخص جو پاکستان میں AI کا مستقبل بنانا چاہتا ہے تو یہ ویڈیو کسی اور کو نہیں، آپ کو بلا رہی ہے۔ 📌 نمبر اور ویب سائٹ ویڈیو کے آخر میں موجود ہیں — وہیں سے بات شروع کریں۔ قومیں نعروں سے نہیں بنتیں، قومیں اُن لوگوں سے بنتی ہیں جو خاموشی سے کام کرتے ہیں۔ #Pakistan #AIinPakistan #FutureSkills #LiaqatAli #LAConsulting #100AICenters #YouthOfPakistan #RehanAllahwala
    0 Comments 0 Shares 4123 Views 0
  • میں نے اپنی پوری زندگی میں کاروباری لوگوں کو ایک ہی شکایت کرتے سنا ہے:

    “ہمیں اچھا اسٹاف نہیں ملتا۔”

    ذرا رُک کر سوچیں۔

    یہ پاکستان ہے۔
    وہ ملک جہاں ہر سال لاکھوں نئے انسان پیدا ہوتے ہیں۔
    یعنی ہر سال دو نیوزی لینڈ یا دس آئس لینڈ کے برابر آبادی بڑھ رہی ہے۔

    پھر بھی ہم کہتے ہیں:
    “اچھے لوگ دستیاب نہیں ہیں۔”

    یہ جملہ دراصل اسٹاف کا مسئلہ نہیں۔
    یہ قیادت (Leadership) کا مسئلہ ہے۔

    سچ یہ ہے کہ:

    کاروباری لوگوں نے کبھی نصاب (Curriculum) ڈیزائن ہی نہیں کیا۔
    تو وہ تیار لوگ کیسے مانگ سکتے ہیں؟

    ہمارے کالجز سکھاتے ہیں:
    • امتحان پاس کرنا
    • رٹّا لگانا
    • نوکری کا انتظار کرنا

    لیکن کاروبار کو چاہیے:
    • مسئلہ حل کرنے والے لوگ
    • کام کر کے دکھانے والے
    • فیصلے لینے والے
    • بولنے، بیچنے، بنانے اور عمل کرنے والے انسان

    جو نظام کاروباری لوگوں نے بنایا ہی نہیں،
    وہ کاروبار کے لیے تیار انسان کیسے پیدا کرے گا؟

    یہ ممکن ہی نہیں۔

    حل بہت سادہ ہے — مگر طاقتور:

    اگر کاروباری لوگ
    اپنے کالجز خود بنائیں،
    اپنا نصاب خود ڈیزائن کریں،
    اپنی ڈگریاں اور ڈپلومے خود دیں،
    اور اپنے معیار خود طے کریں…

    تو انہیں کبھی “اچھے اسٹاف” کی کمی نہیں ہوگی۔

    کیونکہ وہ اجنبی لوگوں کو ہائر نہیں کریں گے،
    وہ اپنی ٹیم خود تیار کریں گے۔

    اگر آپ چاہتے ہیں:
    • 10 اچھے لوگ → غیر رسمی تربیت دیں
    • 50 سے زیادہ مضبوط اسٹاف → ایک چھوٹا پرائیویٹ کالج کھولیں
    • 100 مستقبل کے لیڈر اور پارٹنرز → تعلیم ڈیزائن کریں، اشتہار نہیں

    انہیں 2 سے 4 سال اپنے ساتھ تیار کریں۔
    انہیں اپنے سوچنے کا طریقہ سکھائیں۔
    انہیں محفوظ ماحول میں غلطی کرنے دیں۔
    انہیں اپنے ساتھ تعمیر کرنے دیں۔

    وہ صرف ملازم نہیں بنیں گے۔

    وہ بنیں گے:
    • وفادار ساتھی
    • آپ کی ثقافت کے امین
    • آپ کے ہی بزنس کے مستقبل کے CEO

    یہ سوال چھوڑ دیں:
    “اچھے لوگ کہاں ہیں؟”

    یہ سوال پوچھیں:
    “میں نے انہیں خود کیوں نہیں بنایا؟”

    پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔
    پاکستان میں نصاب کی ملکیت (Curriculum Ownership) کا بحران ہے۔

    جس دن کاروباری لوگ
    تعلیم کو آؤٹ سورس کرنا چھوڑ دیں گے،
    اس دن اسٹاف کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔

    اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ حقیقت میں کیسا نظر آتا ہے
    تو آ کر Rehan College of Mass Education دیکھیں۔
    خود دیکھیں کہ ہم کس طرح اسٹاف نہیں، لیڈر بنا رہے ہیں۔

    اور اگر آپ اپنے بزنس کے لیے
    ایسا ہی کالج، ایسا ہی سسٹم، ایسا ہی نصاب بنانا چاہتے ہیں —
    تو آپ ہماری ٹیم کو ہائر کر سکتے ہیں۔
    ہم آپ کے لیے یہ پورا نظام ڈیزائن بھی کریں گے، سیٹ اپ بھی، اور چلانا بھی سکھائیں گے۔

    یہ صرف ایک خیال نہیں۔
    یہ ایک کام کرتا ہوا ماڈل ہے۔

    اگر آپ سنجیدہ ہیں — کمنٹ کریں یا شیئر کریں۔
    کیونکہ پاکستان کو نوکری ڈھونڈنے والے نہیں،
    سسٹم بنانے والے لوگ چاہییں۔
    میں نے اپنی پوری زندگی میں کاروباری لوگوں کو ایک ہی شکایت کرتے سنا ہے: “ہمیں اچھا اسٹاف نہیں ملتا۔” ذرا رُک کر سوچیں۔ یہ پاکستان ہے۔ وہ ملک جہاں ہر سال لاکھوں نئے انسان پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی ہر سال دو نیوزی لینڈ یا دس آئس لینڈ کے برابر آبادی بڑھ رہی ہے۔ پھر بھی ہم کہتے ہیں: “اچھے لوگ دستیاب نہیں ہیں۔” یہ جملہ دراصل اسٹاف کا مسئلہ نہیں۔ یہ قیادت (Leadership) کا مسئلہ ہے۔ سچ یہ ہے کہ: کاروباری لوگوں نے کبھی نصاب (Curriculum) ڈیزائن ہی نہیں کیا۔ تو وہ تیار لوگ کیسے مانگ سکتے ہیں؟ ہمارے کالجز سکھاتے ہیں: • امتحان پاس کرنا • رٹّا لگانا • نوکری کا انتظار کرنا لیکن کاروبار کو چاہیے: • مسئلہ حل کرنے والے لوگ • کام کر کے دکھانے والے • فیصلے لینے والے • بولنے، بیچنے، بنانے اور عمل کرنے والے انسان جو نظام کاروباری لوگوں نے بنایا ہی نہیں، وہ کاروبار کے لیے تیار انسان کیسے پیدا کرے گا؟ یہ ممکن ہی نہیں۔ حل بہت سادہ ہے — مگر طاقتور: اگر کاروباری لوگ اپنے کالجز خود بنائیں، اپنا نصاب خود ڈیزائن کریں، اپنی ڈگریاں اور ڈپلومے خود دیں، اور اپنے معیار خود طے کریں… تو انہیں کبھی “اچھے اسٹاف” کی کمی نہیں ہوگی۔ کیونکہ وہ اجنبی لوگوں کو ہائر نہیں کریں گے، وہ اپنی ٹیم خود تیار کریں گے۔ اگر آپ چاہتے ہیں: • 10 اچھے لوگ → غیر رسمی تربیت دیں • 50 سے زیادہ مضبوط اسٹاف → ایک چھوٹا پرائیویٹ کالج کھولیں • 100 مستقبل کے لیڈر اور پارٹنرز → تعلیم ڈیزائن کریں، اشتہار نہیں انہیں 2 سے 4 سال اپنے ساتھ تیار کریں۔ انہیں اپنے سوچنے کا طریقہ سکھائیں۔ انہیں محفوظ ماحول میں غلطی کرنے دیں۔ انہیں اپنے ساتھ تعمیر کرنے دیں۔ وہ صرف ملازم نہیں بنیں گے۔ وہ بنیں گے: • وفادار ساتھی • آپ کی ثقافت کے امین • آپ کے ہی بزنس کے مستقبل کے CEO یہ سوال چھوڑ دیں: “اچھے لوگ کہاں ہیں؟” یہ سوال پوچھیں: “میں نے انہیں خود کیوں نہیں بنایا؟” پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ پاکستان میں نصاب کی ملکیت (Curriculum Ownership) کا بحران ہے۔ جس دن کاروباری لوگ تعلیم کو آؤٹ سورس کرنا چھوڑ دیں گے، اس دن اسٹاف کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ 👇 اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ حقیقت میں کیسا نظر آتا ہے تو آ کر Rehan College of Mass Education دیکھیں۔ خود دیکھیں کہ ہم کس طرح اسٹاف نہیں، لیڈر بنا رہے ہیں۔ اور اگر آپ اپنے بزنس کے لیے ایسا ہی کالج، ایسا ہی سسٹم، ایسا ہی نصاب بنانا چاہتے ہیں — تو آپ ہماری ٹیم کو ہائر کر سکتے ہیں۔ ہم آپ کے لیے یہ پورا نظام ڈیزائن بھی کریں گے، سیٹ اپ بھی، اور چلانا بھی سکھائیں گے۔ یہ صرف ایک خیال نہیں۔ یہ ایک کام کرتا ہوا ماڈل ہے۔ اگر آپ سنجیدہ ہیں — کمنٹ کریں یا شیئر کریں۔ کیونکہ پاکستان کو نوکری ڈھونڈنے والے نہیں، سسٹم بنانے والے لوگ چاہییں۔
    0 Comments 0 Shares 140 Views 0
  • میں نے اپنی پوری زندگی میں کاروباری لوگوں کو ایک ہی شکایت کرتے سنا ہے:

    “ہمیں اچھا اسٹاف نہیں ملتا۔”

    ذرا رُک کر سوچیں۔

    یہ پاکستان ہے۔
    وہ ملک جہاں ہر سال لاکھوں نئے انسان پیدا ہوتے ہیں۔
    یعنی ہر سال دو نیوزی لینڈ یا دس آئس لینڈ کے برابر آبادی بڑھ رہی ہے۔

    پھر بھی ہم کہتے ہیں:
    “اچھے لوگ دستیاب نہیں ہیں۔”

    یہ جملہ دراصل اسٹاف کا مسئلہ نہیں۔
    یہ قیادت (Leadership) کا مسئلہ ہے۔

    سچ یہ ہے کہ:

    کاروباری لوگوں نے کبھی نصاب (Curriculum) ڈیزائن ہی نہیں کیا۔
    تو وہ تیار لوگ کیسے مانگ سکتے ہیں؟

    ہمارے کالجز سکھاتے ہیں:
    • امتحان پاس کرنا
    • رٹّا لگانا
    • نوکری کا انتظار کرنا

    لیکن کاروبار کو چاہیے:
    • مسئلہ حل کرنے والے لوگ
    • کام کر کے دکھانے والے
    • فیصلے لینے والے
    • بولنے، بیچنے، بنانے اور عمل کرنے والے انسان

    جو نظام کاروباری لوگوں نے بنایا ہی نہیں،
    وہ کاروبار کے لیے تیار انسان کیسے پیدا کرے گا؟

    یہ ممکن ہی نہیں۔

    حل بہت سادہ ہے — مگر طاقتور:

    اگر کاروباری لوگ
    اپنے کالجز خود بنائیں،
    اپنا نصاب خود ڈیزائن کریں،
    اپنی ڈگریاں اور ڈپلومے خود دیں،
    اور اپنے معیار خود طے کریں…

    تو انہیں کبھی “اچھے اسٹاف” کی کمی نہیں ہوگی۔

    کیونکہ وہ اجنبی لوگوں کو ہائر نہیں کریں گے،
    وہ اپنی ٹیم خود تیار کریں گے۔

    اگر آپ چاہتے ہیں:
    • 10 اچھے لوگ → غیر رسمی تربیت دیں
    • 50 سے زیادہ مضبوط اسٹاف → ایک چھوٹا پرائیویٹ کالج کھولیں
    • 100 مستقبل کے لیڈر اور پارٹنرز → تعلیم ڈیزائن کریں، اشتہار نہیں

    انہیں 2 سے 4 سال اپنے ساتھ تیار کریں۔
    انہیں اپنے سوچنے کا طریقہ سکھائیں۔
    انہیں محفوظ ماحول میں غلطی کرنے دیں۔
    انہیں اپنے ساتھ تعمیر کرنے دیں۔

    وہ صرف ملازم نہیں بنیں گے۔

    وہ بنیں گے:
    • وفادار ساتھی
    • آپ کی ثقافت کے امین
    • آپ کے ہی بزنس کے مستقبل کے CEO

    یہ سوال چھوڑ دیں:
    “اچھے لوگ کہاں ہیں؟”

    یہ سوال پوچھیں:
    “میں نے انہیں خود کیوں نہیں بنایا؟”

    پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔
    پاکستان میں نصاب کی ملکیت (Curriculum Ownership) کا بحران ہے۔

    جس دن کاروباری لوگ
    تعلیم کو آؤٹ سورس کرنا چھوڑ دیں گے،
    اس دن اسٹاف کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔

    اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ حقیقت میں کیسا نظر آتا ہے
    تو آ کر Rehan College of Mass Education دیکھیں۔
    خود دیکھیں کہ ہم کس طرح اسٹاف نہیں، لیڈر بنا رہے ہیں۔

    اور اگر آپ اپنے بزنس کے لیے
    ایسا ہی کالج، ایسا ہی سسٹم، ایسا ہی نصاب بنانا چاہتے ہیں —
    تو آپ ہماری ٹیم کو ہائر کر سکتے ہیں۔
    ہم آپ کے لیے یہ پورا نظام ڈیزائن بھی کریں گے، سیٹ اپ بھی، اور چلانا بھی سکھائیں گے۔

    یہ صرف ایک خیال نہیں۔
    یہ ایک کام کرتا ہوا ماڈل ہے۔

    اگر آپ سنجیدہ ہیں — کمنٹ کریں یا شیئر کریں۔
    کیونکہ پاکستان کو نوکری ڈھونڈنے والے نہیں،
    سسٹم بنانے والے لوگ چاہییں۔
    میں نے اپنی پوری زندگی میں کاروباری لوگوں کو ایک ہی شکایت کرتے سنا ہے: “ہمیں اچھا اسٹاف نہیں ملتا۔” ذرا رُک کر سوچیں۔ یہ پاکستان ہے۔ وہ ملک جہاں ہر سال لاکھوں نئے انسان پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی ہر سال دو نیوزی لینڈ یا دس آئس لینڈ کے برابر آبادی بڑھ رہی ہے۔ پھر بھی ہم کہتے ہیں: “اچھے لوگ دستیاب نہیں ہیں۔” یہ جملہ دراصل اسٹاف کا مسئلہ نہیں۔ یہ قیادت (Leadership) کا مسئلہ ہے۔ سچ یہ ہے کہ: کاروباری لوگوں نے کبھی نصاب (Curriculum) ڈیزائن ہی نہیں کیا۔ تو وہ تیار لوگ کیسے مانگ سکتے ہیں؟ ہمارے کالجز سکھاتے ہیں: • امتحان پاس کرنا • رٹّا لگانا • نوکری کا انتظار کرنا لیکن کاروبار کو چاہیے: • مسئلہ حل کرنے والے لوگ • کام کر کے دکھانے والے • فیصلے لینے والے • بولنے، بیچنے، بنانے اور عمل کرنے والے انسان جو نظام کاروباری لوگوں نے بنایا ہی نہیں، وہ کاروبار کے لیے تیار انسان کیسے پیدا کرے گا؟ یہ ممکن ہی نہیں۔ حل بہت سادہ ہے — مگر طاقتور: اگر کاروباری لوگ اپنے کالجز خود بنائیں، اپنا نصاب خود ڈیزائن کریں، اپنی ڈگریاں اور ڈپلومے خود دیں، اور اپنے معیار خود طے کریں… تو انہیں کبھی “اچھے اسٹاف” کی کمی نہیں ہوگی۔ کیونکہ وہ اجنبی لوگوں کو ہائر نہیں کریں گے، وہ اپنی ٹیم خود تیار کریں گے۔ اگر آپ چاہتے ہیں: • 10 اچھے لوگ → غیر رسمی تربیت دیں • 50 سے زیادہ مضبوط اسٹاف → ایک چھوٹا پرائیویٹ کالج کھولیں • 100 مستقبل کے لیڈر اور پارٹنرز → تعلیم ڈیزائن کریں، اشتہار نہیں انہیں 2 سے 4 سال اپنے ساتھ تیار کریں۔ انہیں اپنے سوچنے کا طریقہ سکھائیں۔ انہیں محفوظ ماحول میں غلطی کرنے دیں۔ انہیں اپنے ساتھ تعمیر کرنے دیں۔ وہ صرف ملازم نہیں بنیں گے۔ وہ بنیں گے: • وفادار ساتھی • آپ کی ثقافت کے امین • آپ کے ہی بزنس کے مستقبل کے CEO یہ سوال چھوڑ دیں: “اچھے لوگ کہاں ہیں؟” یہ سوال پوچھیں: “میں نے انہیں خود کیوں نہیں بنایا؟” پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ پاکستان میں نصاب کی ملکیت (Curriculum Ownership) کا بحران ہے۔ جس دن کاروباری لوگ تعلیم کو آؤٹ سورس کرنا چھوڑ دیں گے، اس دن اسٹاف کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ 👇 اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ حقیقت میں کیسا نظر آتا ہے تو آ کر Rehan College of Mass Education دیکھیں۔ خود دیکھیں کہ ہم کس طرح اسٹاف نہیں، لیڈر بنا رہے ہیں۔ اور اگر آپ اپنے بزنس کے لیے ایسا ہی کالج، ایسا ہی سسٹم، ایسا ہی نصاب بنانا چاہتے ہیں — تو آپ ہماری ٹیم کو ہائر کر سکتے ہیں۔ ہم آپ کے لیے یہ پورا نظام ڈیزائن بھی کریں گے، سیٹ اپ بھی، اور چلانا بھی سکھائیں گے۔ یہ صرف ایک خیال نہیں۔ یہ ایک کام کرتا ہوا ماڈل ہے۔ اگر آپ سنجیدہ ہیں — کمنٹ کریں یا شیئر کریں۔ کیونکہ پاکستان کو نوکری ڈھونڈنے والے نہیں، سسٹم بنانے والے لوگ چاہییں۔
    0 Comments 0 Shares 143 Views 0