ہندوستانی مسلمانوں کے نام
جب دماغ کا لاوا پھٹے تو پھر کچھ اس طرح کی تحریر بن جاتی ہے
آپ بھی پڑھئے
انٹرنیشنل آئی ٹی بورڈ کے مطابق عالمی ای پے مینٹ کمپنی پایونیر نے فری لانسنگ میں سرفہرست 10 ممالک کی رینکنگ جاری کر دی جس کے مطابق پاکستان چوتھے اور بھارت ساتویں نمبر پر آگیا ہے
ہائے افسوس ہمارا پڑوسی ملک گذشتہ تین سالوں میں وہاں لوگ ارننگ اور لرننگ پر اس طرح محنت کررہے ہیں کہ آج پوری دنیا انکی طرف متوجہ ہورہی ہے اور ہم سو رہے ہیں
فی الوقت تو میں پورے ہندوستان کی بات نہیں کرتا بس صرف ہندوستانی مسلمانوں کو جگانا چاہتا ہوں کہ آئیے آگے بڑھتے ہیں اور اسکلز سیکھ کر محنت کرکے خود بھی خوشحال ہوتے ہیں اور اس ملک کو آگے بڑھانے میں اپنا اہم کردار نبھاتے ہیں
2021 کے سال میں دنیا کی سب سے بڑا ای کامرس پلیٹ فارم علی بابا نے اعلان کیا کہ اس سال علی بابا کی سب سے زیادہ دنیا بھر میں سیلنگ کرنے والے پاکستانی نوجوان ہیں اور علی بابا کے مینیجر نے باقاعدہ اس طرح کے ادارے جو ای کامرس و فری لانسنگ کو فروغ دینے اور سکھانے کے لئے سر توڑ محنت کررہے ہیں انہیں جا کر مبارکباد بھی دی
اور ہم ابھی تک مفت کی روٹی ہی توڑنا چاہتے ہیں..........
پاکستان فری لانسنگ میں اضافے میں بھارت کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چوتھے نمبر پر آگیا ہے۔ جبکہ آج سے تین سال پہلے پاکستان فہرست میں ہی نہيں آتا تھا
امریکا پہلے، برطانیہ دوسرے، برازیل تیسرے، پاکستان چوتھے، یوکرائن پانچویں، فلپائن چھٹے، بھارت ساتویں، بنگلہ دیش آٹھویں، روس نویں اور سربیا دسویں نمبر پر ہے۔
ترجمان آئی ٹی بورڈ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس کے مقابلے میں فری لانسنگ میں 47 فیصد اضافہ ہوا اور سرکاری شعبہ ملک میں فری لانسنگ کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے فری لانسنگ ہنرمند افراد کےلیے امید کی کرن
صرف پاکستان کا ایک ادارہ *ای روزگار فری لانسنگ پروگرام* ملک کے زرمبادلہ میں اضافے اور بیروزگار میں کمی کا باعث بن رہا ہے، ای روزگار سے فارغ التحصیل 12 ہزار نوجوان صرف کچھ ہی عرصہ میں انٹرنیٹ سے کام کر کے 14 کروڑ روپے کما چکے ہیں
یہ تو صرف ایک ادارہ کا ہم نے بتایا ہے ایسے بہت سے ادارے وہ لوگ بناکر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں
یہ لوگ خلوص دل کے ساتھ شہر شہر بستی بستی جا جا کر نوجوانوں کو جگارہے ہیں سمجھا رہے ہیں کہ ڈگریوں کے پیچھے پندرہ سے بیس سال لگانے کی بجائے آئیں اسکلز کی طرف تاکہ چند مہینوں میں پیروں پر کھڑے ہوجائیں اور خوشحال زندگی گزاری
آپ صرف مزید دو اداروں کا ہی رکورڈ دیکھ لیں حیران ہوجائینگے کہ صرف تین سال میں دنیا بھر میں اتنا بڑا نیٹورک اور ہزاروں نوجوانوں کو ٹرینڈنگ اسکل سکھا کر لاکھوں کمانے والا بنا چکے ہیں اور ہم ابھی تک اپنے بچوں کو ڈگریوں کی ریس میں دوڑا رہے ہیں..........
جائیے سرچ کیجئے انیبلرس اور اکسٹریم کامرس کے ان کے اسٹوڈنٹس سالانہ کتنے بلین کماکر لارہے ہیں
آج ہمارا ہر آدمی جس کے پاس چار پیسے ہو وہ اگر کچھ کرنا چاہیں تو اس کے ذہن میں یہی چند چیز آتی ہے کہ ہم مسجد بنائینگے یا ہسپتال یا اسکول یا کالج یا مدرسہ
ضرورت انکی بھی ہے مگر اس سے زیادہ یوٹیوب انکیوبیٹر کی ضرورت ہے
ڈیجیٹل اسکلز سکھانے کے ادارے بنانے کی ضرورت ہے
اور مالیگاﺅں بزنس ہب اسی خواب کا ایک نام ہے
کچھ لوگ یہ پوسٹ پڑھ کر بندہ سے الجھینگے
تو ان کے لئے عرض ہے کہ جاؤ گوگل پر یوٹیوب پر اور سرچ کرو
ریحان اللہ والا کون ہے اور کیا کررہا ہے
ثاقب اظہر کون ہے اور کیا کررہا ہے
عثمان جغتائی کون ہے اور کیا کررہا ہے
ہشام سرور کون ہے اور کیا کررہا ہے
تنویر ناڈلہ کون ہے اور کیا کررہا ہے
سنی علی کون ہے اور کیا کررہا ہے
سکندر حیات بابا کون ہے اور کیا کررہا ہے
آزاد چائے والا کون ہے اور کیا کررہا ہے
سید کاشف شاہ کون ہے اور کیا کررہا ہے
شکیل احمد میر کون ہے اور کیا کررہا ہے
اشرف چودھری کون ہے اور کیا کررہا ہے
یہ چند نام بطور مثال پیش کئے ہیں ایسے ہزاروں لوگ میدان میں کود پڑے ہیں جو ہزاروں لوگوں کو لاکھوں کمانا سکھا چکے ہیں اور باقاعدہ رزلٹ ہزاروں کا لوگوں کے سامنے بھی ہے اور
ہم مفت خوری سکھا رہے ہیں کہ آئیے ہم فری میڈیکل کیمپ لگائیں آئیے ہم یہ فری اور وہ فری دے
کیا اس طرح غربت ختم ہوگی؟؟؟
کیا اس طرح لوگوں میں شعور بیدار ہوگا
کیا اس طرح ہماری سوچ بدلیگی
کب تک ہم امداد کے نام پر مفت خوری کی طرف قوم کو لیکر جائینگے
آئیے نعرہ لگاتے ہیں سوچ بدلو زندگی بدلےگی
اگر میری بات آپ کو بہت بری لگے تو پھر بتائیے
یہ پڑوس کے چند نوجوان ہے
ابھی تو انڈونیشیا ملیشیا فلپائن ویتنام کوریا جیسے ملکوں کی تو بات ہی نہیں کی ہے ان ملکوں میں بھی ایسے بہت سے ادارے ہیں جو مستقل اسکلز سکھانے اور نت نئے ڈیجیٹل روزگار کی طرف لانے کا کام کررہے ہیں
انڈیا پاکستان کرتے ہم نہیں تھکتے
انکی کرکٹ میں پریشان رہتے ہیں
اپنے علاقہ سے
تو ایک آزاد چائے والا دکھادو
ایک ریحان اللہ والا دکھادو
ایک سنی علی دکھادو
ایک ثاقب اظہر دکھادو
ایک شاہد حسین دکھادو
آئیے پھر نعرہ لگائیں .......... بدلو ذہن جی لو زندگی
مولانا شیخ محمد علقمہ
آواز: مالیگاﺅں بزنس ہب
Via Shaikh Muhammad Alqama
جب دماغ کا لاوا پھٹے تو پھر کچھ اس طرح کی تحریر بن جاتی ہے
آپ بھی پڑھئے
انٹرنیشنل آئی ٹی بورڈ کے مطابق عالمی ای پے مینٹ کمپنی پایونیر نے فری لانسنگ میں سرفہرست 10 ممالک کی رینکنگ جاری کر دی جس کے مطابق پاکستان چوتھے اور بھارت ساتویں نمبر پر آگیا ہے
ہائے افسوس ہمارا پڑوسی ملک گذشتہ تین سالوں میں وہاں لوگ ارننگ اور لرننگ پر اس طرح محنت کررہے ہیں کہ آج پوری دنیا انکی طرف متوجہ ہورہی ہے اور ہم سو رہے ہیں
فی الوقت تو میں پورے ہندوستان کی بات نہیں کرتا بس صرف ہندوستانی مسلمانوں کو جگانا چاہتا ہوں کہ آئیے آگے بڑھتے ہیں اور اسکلز سیکھ کر محنت کرکے خود بھی خوشحال ہوتے ہیں اور اس ملک کو آگے بڑھانے میں اپنا اہم کردار نبھاتے ہیں
2021 کے سال میں دنیا کی سب سے بڑا ای کامرس پلیٹ فارم علی بابا نے اعلان کیا کہ اس سال علی بابا کی سب سے زیادہ دنیا بھر میں سیلنگ کرنے والے پاکستانی نوجوان ہیں اور علی بابا کے مینیجر نے باقاعدہ اس طرح کے ادارے جو ای کامرس و فری لانسنگ کو فروغ دینے اور سکھانے کے لئے سر توڑ محنت کررہے ہیں انہیں جا کر مبارکباد بھی دی
اور ہم ابھی تک مفت کی روٹی ہی توڑنا چاہتے ہیں..........
پاکستان فری لانسنگ میں اضافے میں بھارت کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چوتھے نمبر پر آگیا ہے۔ جبکہ آج سے تین سال پہلے پاکستان فہرست میں ہی نہيں آتا تھا
امریکا پہلے، برطانیہ دوسرے، برازیل تیسرے، پاکستان چوتھے، یوکرائن پانچویں، فلپائن چھٹے، بھارت ساتویں، بنگلہ دیش آٹھویں، روس نویں اور سربیا دسویں نمبر پر ہے۔
ترجمان آئی ٹی بورڈ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس کے مقابلے میں فری لانسنگ میں 47 فیصد اضافہ ہوا اور سرکاری شعبہ ملک میں فری لانسنگ کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے فری لانسنگ ہنرمند افراد کےلیے امید کی کرن
صرف پاکستان کا ایک ادارہ *ای روزگار فری لانسنگ پروگرام* ملک کے زرمبادلہ میں اضافے اور بیروزگار میں کمی کا باعث بن رہا ہے، ای روزگار سے فارغ التحصیل 12 ہزار نوجوان صرف کچھ ہی عرصہ میں انٹرنیٹ سے کام کر کے 14 کروڑ روپے کما چکے ہیں
یہ تو صرف ایک ادارہ کا ہم نے بتایا ہے ایسے بہت سے ادارے وہ لوگ بناکر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں
یہ لوگ خلوص دل کے ساتھ شہر شہر بستی بستی جا جا کر نوجوانوں کو جگارہے ہیں سمجھا رہے ہیں کہ ڈگریوں کے پیچھے پندرہ سے بیس سال لگانے کی بجائے آئیں اسکلز کی طرف تاکہ چند مہینوں میں پیروں پر کھڑے ہوجائیں اور خوشحال زندگی گزاری
آپ صرف مزید دو اداروں کا ہی رکورڈ دیکھ لیں حیران ہوجائینگے کہ صرف تین سال میں دنیا بھر میں اتنا بڑا نیٹورک اور ہزاروں نوجوانوں کو ٹرینڈنگ اسکل سکھا کر لاکھوں کمانے والا بنا چکے ہیں اور ہم ابھی تک اپنے بچوں کو ڈگریوں کی ریس میں دوڑا رہے ہیں..........
جائیے سرچ کیجئے انیبلرس اور اکسٹریم کامرس کے ان کے اسٹوڈنٹس سالانہ کتنے بلین کماکر لارہے ہیں
آج ہمارا ہر آدمی جس کے پاس چار پیسے ہو وہ اگر کچھ کرنا چاہیں تو اس کے ذہن میں یہی چند چیز آتی ہے کہ ہم مسجد بنائینگے یا ہسپتال یا اسکول یا کالج یا مدرسہ
ضرورت انکی بھی ہے مگر اس سے زیادہ یوٹیوب انکیوبیٹر کی ضرورت ہے
ڈیجیٹل اسکلز سکھانے کے ادارے بنانے کی ضرورت ہے
اور مالیگاﺅں بزنس ہب اسی خواب کا ایک نام ہے
کچھ لوگ یہ پوسٹ پڑھ کر بندہ سے الجھینگے
تو ان کے لئے عرض ہے کہ جاؤ گوگل پر یوٹیوب پر اور سرچ کرو
ریحان اللہ والا کون ہے اور کیا کررہا ہے
ثاقب اظہر کون ہے اور کیا کررہا ہے
عثمان جغتائی کون ہے اور کیا کررہا ہے
ہشام سرور کون ہے اور کیا کررہا ہے
تنویر ناڈلہ کون ہے اور کیا کررہا ہے
سنی علی کون ہے اور کیا کررہا ہے
سکندر حیات بابا کون ہے اور کیا کررہا ہے
آزاد چائے والا کون ہے اور کیا کررہا ہے
سید کاشف شاہ کون ہے اور کیا کررہا ہے
شکیل احمد میر کون ہے اور کیا کررہا ہے
اشرف چودھری کون ہے اور کیا کررہا ہے
یہ چند نام بطور مثال پیش کئے ہیں ایسے ہزاروں لوگ میدان میں کود پڑے ہیں جو ہزاروں لوگوں کو لاکھوں کمانا سکھا چکے ہیں اور باقاعدہ رزلٹ ہزاروں کا لوگوں کے سامنے بھی ہے اور
ہم مفت خوری سکھا رہے ہیں کہ آئیے ہم فری میڈیکل کیمپ لگائیں آئیے ہم یہ فری اور وہ فری دے
کیا اس طرح غربت ختم ہوگی؟؟؟
کیا اس طرح لوگوں میں شعور بیدار ہوگا
کیا اس طرح ہماری سوچ بدلیگی
کب تک ہم امداد کے نام پر مفت خوری کی طرف قوم کو لیکر جائینگے
آئیے نعرہ لگاتے ہیں سوچ بدلو زندگی بدلےگی
اگر میری بات آپ کو بہت بری لگے تو پھر بتائیے
یہ پڑوس کے چند نوجوان ہے
ابھی تو انڈونیشیا ملیشیا فلپائن ویتنام کوریا جیسے ملکوں کی تو بات ہی نہیں کی ہے ان ملکوں میں بھی ایسے بہت سے ادارے ہیں جو مستقل اسکلز سکھانے اور نت نئے ڈیجیٹل روزگار کی طرف لانے کا کام کررہے ہیں
انڈیا پاکستان کرتے ہم نہیں تھکتے
انکی کرکٹ میں پریشان رہتے ہیں
اپنے علاقہ سے
تو ایک آزاد چائے والا دکھادو
ایک ریحان اللہ والا دکھادو
ایک سنی علی دکھادو
ایک ثاقب اظہر دکھادو
ایک شاہد حسین دکھادو
آئیے پھر نعرہ لگائیں .......... بدلو ذہن جی لو زندگی
مولانا شیخ محمد علقمہ
آواز: مالیگاﺅں بزنس ہب
Via Shaikh Muhammad Alqama
ہندوستانی مسلمانوں کے نام
جب دماغ کا لاوا پھٹے تو پھر کچھ اس طرح کی تحریر بن جاتی ہے
آپ بھی پڑھئے
انٹرنیشنل آئی ٹی بورڈ کے مطابق عالمی ای پے مینٹ کمپنی پایونیر نے فری لانسنگ میں سرفہرست 10 ممالک کی رینکنگ جاری کر دی جس کے مطابق پاکستان چوتھے اور بھارت ساتویں نمبر پر آگیا ہے
ہائے افسوس ہمارا پڑوسی ملک گذشتہ تین سالوں میں وہاں لوگ ارننگ اور لرننگ پر اس طرح محنت کررہے ہیں کہ آج پوری دنیا انکی طرف متوجہ ہورہی ہے اور ہم سو رہے ہیں
فی الوقت تو میں پورے ہندوستان کی بات نہیں کرتا بس صرف ہندوستانی مسلمانوں کو جگانا چاہتا ہوں کہ آئیے آگے بڑھتے ہیں اور اسکلز سیکھ کر محنت کرکے خود بھی خوشحال ہوتے ہیں اور اس ملک کو آگے بڑھانے میں اپنا اہم کردار نبھاتے ہیں
2021 کے سال میں دنیا کی سب سے بڑا ای کامرس پلیٹ فارم علی بابا نے اعلان کیا کہ اس سال علی بابا کی سب سے زیادہ دنیا بھر میں سیلنگ کرنے والے پاکستانی نوجوان ہیں اور علی بابا کے مینیجر نے باقاعدہ اس طرح کے ادارے جو ای کامرس و فری لانسنگ کو فروغ دینے اور سکھانے کے لئے سر توڑ محنت کررہے ہیں انہیں جا کر مبارکباد بھی دی
اور ہم ابھی تک مفت کی روٹی ہی توڑنا چاہتے ہیں..........
پاکستان فری لانسنگ میں اضافے میں بھارت کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چوتھے نمبر پر آگیا ہے۔ جبکہ آج سے تین سال پہلے پاکستان فہرست میں ہی نہيں آتا تھا
امریکا پہلے، برطانیہ دوسرے، برازیل تیسرے، پاکستان چوتھے، یوکرائن پانچویں، فلپائن چھٹے، بھارت ساتویں، بنگلہ دیش آٹھویں، روس نویں اور سربیا دسویں نمبر پر ہے۔
ترجمان آئی ٹی بورڈ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس کے مقابلے میں فری لانسنگ میں 47 فیصد اضافہ ہوا اور سرکاری شعبہ ملک میں فری لانسنگ کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے فری لانسنگ ہنرمند افراد کےلیے امید کی کرن
صرف پاکستان کا ایک ادارہ *ای روزگار فری لانسنگ پروگرام* ملک کے زرمبادلہ میں اضافے اور بیروزگار میں کمی کا باعث بن رہا ہے، ای روزگار سے فارغ التحصیل 12 ہزار نوجوان صرف کچھ ہی عرصہ میں انٹرنیٹ سے کام کر کے 14 کروڑ روپے کما چکے ہیں
یہ تو صرف ایک ادارہ کا ہم نے بتایا ہے ایسے بہت سے ادارے وہ لوگ بناکر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں
یہ لوگ خلوص دل کے ساتھ شہر شہر بستی بستی جا جا کر نوجوانوں کو جگارہے ہیں سمجھا رہے ہیں کہ ڈگریوں کے پیچھے پندرہ سے بیس سال لگانے کی بجائے آئیں اسکلز کی طرف تاکہ چند مہینوں میں پیروں پر کھڑے ہوجائیں اور خوشحال زندگی گزاری
آپ صرف مزید دو اداروں کا ہی رکورڈ دیکھ لیں حیران ہوجائینگے کہ صرف تین سال میں دنیا بھر میں اتنا بڑا نیٹورک اور ہزاروں نوجوانوں کو ٹرینڈنگ اسکل سکھا کر لاکھوں کمانے والا بنا چکے ہیں اور ہم ابھی تک اپنے بچوں کو ڈگریوں کی ریس میں دوڑا رہے ہیں..........
جائیے سرچ کیجئے انیبلرس اور اکسٹریم کامرس کے ان کے اسٹوڈنٹس سالانہ کتنے بلین کماکر لارہے ہیں
آج ہمارا ہر آدمی جس کے پاس چار پیسے ہو وہ اگر کچھ کرنا چاہیں تو اس کے ذہن میں یہی چند چیز آتی ہے کہ ہم مسجد بنائینگے یا ہسپتال یا اسکول یا کالج یا مدرسہ
ضرورت انکی بھی ہے مگر اس سے زیادہ یوٹیوب انکیوبیٹر کی ضرورت ہے
ڈیجیٹل اسکلز سکھانے کے ادارے بنانے کی ضرورت ہے
اور مالیگاﺅں بزنس ہب اسی خواب کا ایک نام ہے
کچھ لوگ یہ پوسٹ پڑھ کر بندہ سے الجھینگے
تو ان کے لئے عرض ہے کہ جاؤ گوگل پر یوٹیوب پر اور سرچ کرو
ریحان اللہ والا کون ہے اور کیا کررہا ہے
ثاقب اظہر کون ہے اور کیا کررہا ہے
عثمان جغتائی کون ہے اور کیا کررہا ہے
ہشام سرور کون ہے اور کیا کررہا ہے
تنویر ناڈلہ کون ہے اور کیا کررہا ہے
سنی علی کون ہے اور کیا کررہا ہے
سکندر حیات بابا کون ہے اور کیا کررہا ہے
آزاد چائے والا کون ہے اور کیا کررہا ہے
سید کاشف شاہ کون ہے اور کیا کررہا ہے
شکیل احمد میر کون ہے اور کیا کررہا ہے
اشرف چودھری کون ہے اور کیا کررہا ہے
یہ چند نام بطور مثال پیش کئے ہیں ایسے ہزاروں لوگ میدان میں کود پڑے ہیں جو ہزاروں لوگوں کو لاکھوں کمانا سکھا چکے ہیں اور باقاعدہ رزلٹ ہزاروں کا لوگوں کے سامنے بھی ہے اور
ہم مفت خوری سکھا رہے ہیں کہ آئیے ہم فری میڈیکل کیمپ لگائیں آئیے ہم یہ فری اور وہ فری دے
کیا اس طرح غربت ختم ہوگی؟؟؟
کیا اس طرح لوگوں میں شعور بیدار ہوگا
کیا اس طرح ہماری سوچ بدلیگی
کب تک ہم امداد کے نام پر مفت خوری کی طرف قوم کو لیکر جائینگے
آئیے نعرہ لگاتے ہیں سوچ بدلو زندگی بدلےگی
اگر میری بات آپ کو بہت بری لگے تو پھر بتائیے
یہ پڑوس کے چند نوجوان ہے
ابھی تو انڈونیشیا ملیشیا فلپائن ویتنام کوریا جیسے ملکوں کی تو بات ہی نہیں کی ہے ان ملکوں میں بھی ایسے بہت سے ادارے ہیں جو مستقل اسکلز سکھانے اور نت نئے ڈیجیٹل روزگار کی طرف لانے کا کام کررہے ہیں
انڈیا پاکستان کرتے ہم نہیں تھکتے
انکی کرکٹ میں پریشان رہتے ہیں
اپنے علاقہ سے
تو ایک آزاد چائے والا دکھادو
ایک ریحان اللہ والا دکھادو
ایک سنی علی دکھادو
ایک ثاقب اظہر دکھادو
ایک شاہد حسین دکھادو
آئیے پھر نعرہ لگائیں .......... بدلو ذہن جی لو زندگی
مولانا شیخ محمد علقمہ
آواز: مالیگاﺅں بزنس ہب
Via Shaikh Muhammad Alqama
0 Commenti
0 condivisioni
304 Views