اسلام علیکم صاحب ۔
میرا نام طارق تنویر ہے اور میں پاکستان میں ایگری کلچر کی ٹورازم کو متعارف کروانے پر کام کر رہا ہوں ۔
ایگری ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان ایک جماعت ہے جو پورے ملک کے کونے کونے سے سینکڑوں رضاکاروں پر مشتمل ہے ۔ ہر وہ بندہ ہماری جماعت کا رکن ہے جو رضاکارانہ طور پر وطن عزیز کے کسانوں ، خواتین اور بچوں کے لیے ان کو آپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں ۔ ایگری ٹورازم کا ہر رکن اپنے اپنے فیلڈ کے مہان اور کامیاب لوگ ہیں ۔ ہم سب لوگ دوسروں کی خدمت کرنے کی کسی سے کوئی تنخواہ نہیں لیتے ، ہم لوگ کسی سے کوئی فنڈز یا چندہ نہیں لیتے ۔ ہم سب لوگ اپنے اپنے وسائل اور وقت دوسرے لوگوں فلاح و بہبود کے لیے خرچ کرتے ہیں کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ چیریٹی یعنی خیرات کی بہترین قسم یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو مچھلی پکڑنے کا سلیقہ عطا فرمایا ہے تو آپ کسی دوسرے کو بھی مچھلی پکڑنے کا طریقہ سمجھا دیں ۔ ہمارے نزدیک چیریٹی یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت زیادہ دولت عطا فرما دی ہے تو آپ کسی دوسرے کو تھوڑی دولت کمانے میں اس کی مدد کر دیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت زیادہ عزت اور شہرت عطا فرمائی ہے تو آپ کسی دوسرے کو تھوڑی سی عزت و شہرت کمانے میں اس کی مدد کر دیں، آگر اللہ تعالی نے آپ کو کامیاب انسان بنا دیا ہے تو آپ کسی دوسرے انسان کو کامیاب ہونے میں اس کی مدد کر دیں۔ یہی چیریٹی کی بہترین مثال ہے ۔
یقین جانیے ہم سب دوست اپنے اپنے شعبے کے کامیاب ترین لوگ ہیں۔ بس ایسی لیے اس طرح کا جذبہ و شوق لیکر نکلتے ہیں۔ دیہات میں کسانوں ان کی فیملی کی خواتین اور ان کے بچوں کو انٹرپینورشپ سکھانا ہے تاکہ وہ اچھا منافع کمائیں اور اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر اپنے اور اپنے خاندان کے لیے بہتر سے بہترین زندگی گزارنے کے قابل ہو جائیں ۔
ہمارا یہ بھی ماننا ہے کہ وطن عزیز کا ہر بچہ پچیس سال کی عمر کو پہنچنے تک معاشی آزادی (اکنامک فریڈم) حاصل کر لیں ۔ (معاشی آزادی کا مطلب ہوتا ہے کہ پیٹ پوجا کے لیے ساری زندگی اٹھ سے پانچ کی نوکریوں کے پیچھے نہ بھاگنا پڑے بندے کو )
اگر تو ہمارے بچوں نے طے کر لیا ہے کہ زندگی میں نوکری ہی کرنی ہے تو انہیں پوری آزادی ہو کہ وہ نوکری کے لیے تیاری و پڑھائی کرے ۔ دوسری صورت میں انٹرپینورشپ بہترین آپشن ہے ۔ بچوں کو پہلی کلاسوں سے ہی انٹرپینورشپ اور برینڈنگ کی سکلز دی جائے اور ایسی گیمز اور ہوم ورک دیے جائیں جس سے ان میں اپنے اپنے برینڈ لانچ کرنے کا شوق پیدا ہو۔ والدین کو اپنے بارہ تیرہ سال کا خواہ وہ بچہ ہو یا بچی ان کو اپنے اپنے برینڈ بنانے میں ان کی تربیت کرنی چاہیے ۔ جیسے جیسے بچہ بڑا ہو گا اس کے برینڈ کی عمر بھی ساتھ ساتھ بڑھے گی ۔ پچیس سال کی عمر تک اس کے برینڈ کی عمر بھی بارہ تیرہ سال ہو چکی ہو گی ۔
ایگریکلچر، ایگری ویلیو ایڈیشن مصنوعات اور ایگریکلچر کی ٹورازم اپنے اندر بے شمار انٹرپینورشپ کے مواقع سموئے ہوئے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان مواقعوں کو فروغ دے کر وطن عزیز کے ہر ہر بچے کو کامیاب انسان بننے میں ان کی مدد کی جائے ۔
ائیے آپ کو زندگی کی حقیقی خوشی کا راز بتاؤں اج۔
زندگی میں کامیاب لوگوں کے پاس دو طرح کے ٹریک ہوتے ہیں۔ یا تو وہ دو جمع دو کے چکر میں پڑے رہے اور اپنے بچوں کے لیے دولت کے انبار اکھٹے کرنے میں کولہو کا بیل بن جائے۔ ایک فیکٹری سے دوسری مل ایک ایکڑ اراضی سے اگلے سو ایکڑ کا ہدف، ایک گھر سے اگلے ہر شہر میں گھر اور پھر ہر ملک میں ایک گھر بنانے کے چکر میں ایک لا حاصل ٹریک کا مسافر بنے رہیں۔ زندگی کا دوسرا ٹریک یہ ہے کہ اگر آپ کامیاب انسان بن گئے ہیں اور اور دوسرے بہت سارے کامیاب لوگوں کی کامیابی میں آپ کی کامیابی کا ہاتھ ہے تو یقین جانیے آپ جیسا خوش قسمت انسان روئے زمین پر نہیں ہو سکتا اور جو اندر سے آپ کو حقیقی خوشی حاصل ہوتی ہے وہ کسی مادی چیز کو حاصل کرنے سے بھی نہیں مل پاتی۔
کامیاب انسان وہ انسان ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ
* شفا کے لیے ایک فارمولا/نسخہ عطا فرما دیتے ہیں۔
* علم عطا فرما دیتے ہیں۔
* یس عزت،شہرت اور دولت عطا فرما دیتے ہیں۔
* آپ کو کوئی سکلز، ہنر عطا فرما دیتے ہیں۔
* زندگی کے رہنما اصولوں کی سمجھ بوجھ عطا فرما دیتے ہیں۔
* کاشتکاری میں کوئی پریکٹیکل/سمارٹ طریقوں کی سمجھ بوجھ عطا فرما دیتے ہیں
یا پھر مچھلی پکڑنے کا کوئی بہتر طریقے آپ کے دماغ میں ڈال دیتے ہیں۔
تو یقین جانیے آپ زندگی کے کامیاب ترین انسان ہیں۔
میں ان تمام انسانوں سے جو اپنے اپنے شعبوں کے کامیاب لوگ ہیں ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں کہ پلیز آپ لوگ آگے آئیں اور کسی ضرورت مند کو کامیاب کرنے میں اس کی مدد کر دیں مان جائیے کہ چیزوں سے زیادہ انسان اہم ہوتے ہیں۔
اگر ہم ٹانگیں کیچھنے کی بجائے ہاتھ کیچھنے والے بن جائیں تو ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو
طارق تنویر سی ای او اینڈ فائنڈر ایگری ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان ۔

Add me Tariq Tanveer

Group https://www.facebook.com/groups/1246256708772335/
اسلام علیکم صاحب ۔ میرا نام طارق تنویر ہے اور میں پاکستان میں ایگری کلچر کی ٹورازم کو متعارف کروانے پر کام کر رہا ہوں ۔ ایگری ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان ایک جماعت ہے جو پورے ملک کے کونے کونے سے سینکڑوں رضاکاروں پر مشتمل ہے ۔ ہر وہ بندہ ہماری جماعت کا رکن ہے جو رضاکارانہ طور پر وطن عزیز کے کسانوں ، خواتین اور بچوں کے لیے ان کو آپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں ۔ ایگری ٹورازم کا ہر رکن اپنے اپنے فیلڈ کے مہان اور کامیاب لوگ ہیں ۔ ہم سب لوگ دوسروں کی خدمت کرنے کی کسی سے کوئی تنخواہ نہیں لیتے ، ہم لوگ کسی سے کوئی فنڈز یا چندہ نہیں لیتے ۔ ہم سب لوگ اپنے اپنے وسائل اور وقت دوسرے لوگوں فلاح و بہبود کے لیے خرچ کرتے ہیں کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ چیریٹی یعنی خیرات کی بہترین قسم یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو مچھلی پکڑنے کا سلیقہ عطا فرمایا ہے تو آپ کسی دوسرے کو بھی مچھلی پکڑنے کا طریقہ سمجھا دیں ۔ ہمارے نزدیک چیریٹی یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت زیادہ دولت عطا فرما دی ہے تو آپ کسی دوسرے کو تھوڑی دولت کمانے میں اس کی مدد کر دیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت زیادہ عزت اور شہرت عطا فرمائی ہے تو آپ کسی دوسرے کو تھوڑی سی عزت و شہرت کمانے میں اس کی مدد کر دیں، آگر اللہ تعالی نے آپ کو کامیاب انسان بنا دیا ہے تو آپ کسی دوسرے انسان کو کامیاب ہونے میں اس کی مدد کر دیں۔ یہی چیریٹی کی بہترین مثال ہے ۔ یقین جانیے ہم سب دوست اپنے اپنے شعبے کے کامیاب ترین لوگ ہیں۔ بس ایسی لیے اس طرح کا جذبہ و شوق لیکر نکلتے ہیں۔ دیہات میں کسانوں ان کی فیملی کی خواتین اور ان کے بچوں کو انٹرپینورشپ سکھانا ہے تاکہ وہ اچھا منافع کمائیں اور اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر اپنے اور اپنے خاندان کے لیے بہتر سے بہترین زندگی گزارنے کے قابل ہو جائیں ۔ ہمارا یہ بھی ماننا ہے کہ وطن عزیز کا ہر بچہ پچیس سال کی عمر کو پہنچنے تک معاشی آزادی (اکنامک فریڈم) حاصل کر لیں ۔ (معاشی آزادی کا مطلب ہوتا ہے کہ پیٹ پوجا کے لیے ساری زندگی اٹھ سے پانچ کی نوکریوں کے پیچھے نہ بھاگنا پڑے بندے کو ) اگر تو ہمارے بچوں نے طے کر لیا ہے کہ زندگی میں نوکری ہی کرنی ہے تو انہیں پوری آزادی ہو کہ وہ نوکری کے لیے تیاری و پڑھائی کرے ۔ دوسری صورت میں انٹرپینورشپ بہترین آپشن ہے ۔ بچوں کو پہلی کلاسوں سے ہی انٹرپینورشپ اور برینڈنگ کی سکلز دی جائے اور ایسی گیمز اور ہوم ورک دیے جائیں جس سے ان میں اپنے اپنے برینڈ لانچ کرنے کا شوق پیدا ہو۔ والدین کو اپنے بارہ تیرہ سال کا خواہ وہ بچہ ہو یا بچی ان کو اپنے اپنے برینڈ بنانے میں ان کی تربیت کرنی چاہیے ۔ جیسے جیسے بچہ بڑا ہو گا اس کے برینڈ کی عمر بھی ساتھ ساتھ بڑھے گی ۔ پچیس سال کی عمر تک اس کے برینڈ کی عمر بھی بارہ تیرہ سال ہو چکی ہو گی ۔ ایگریکلچر، ایگری ویلیو ایڈیشن مصنوعات اور ایگریکلچر کی ٹورازم اپنے اندر بے شمار انٹرپینورشپ کے مواقع سموئے ہوئے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان مواقعوں کو فروغ دے کر وطن عزیز کے ہر ہر بچے کو کامیاب انسان بننے میں ان کی مدد کی جائے ۔ ائیے آپ کو زندگی کی حقیقی خوشی کا راز بتاؤں اج۔ زندگی میں کامیاب لوگوں کے پاس دو طرح کے ٹریک ہوتے ہیں۔ یا تو وہ دو جمع دو کے چکر میں پڑے رہے اور اپنے بچوں کے لیے دولت کے انبار اکھٹے کرنے میں کولہو کا بیل بن جائے۔ ایک فیکٹری سے دوسری مل ایک ایکڑ اراضی سے اگلے سو ایکڑ کا ہدف، ایک گھر سے اگلے ہر شہر میں گھر اور پھر ہر ملک میں ایک گھر بنانے کے چکر میں ایک لا حاصل ٹریک کا مسافر بنے رہیں۔ زندگی کا دوسرا ٹریک یہ ہے کہ اگر آپ کامیاب انسان بن گئے ہیں اور اور دوسرے بہت سارے کامیاب لوگوں کی کامیابی میں آپ کی کامیابی کا ہاتھ ہے تو یقین جانیے آپ جیسا خوش قسمت انسان روئے زمین پر نہیں ہو سکتا اور جو اندر سے آپ کو حقیقی خوشی حاصل ہوتی ہے وہ کسی مادی چیز کو حاصل کرنے سے بھی نہیں مل پاتی۔ کامیاب انسان وہ انسان ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ * شفا کے لیے ایک فارمولا/نسخہ عطا فرما دیتے ہیں۔ * علم عطا فرما دیتے ہیں۔ * یس عزت،شہرت اور دولت عطا فرما دیتے ہیں۔ * آپ کو کوئی سکلز، ہنر عطا فرما دیتے ہیں۔ * زندگی کے رہنما اصولوں کی سمجھ بوجھ عطا فرما دیتے ہیں۔ * کاشتکاری میں کوئی پریکٹیکل/سمارٹ طریقوں کی سمجھ بوجھ عطا فرما دیتے ہیں یا پھر مچھلی پکڑنے کا کوئی بہتر طریقے آپ کے دماغ میں ڈال دیتے ہیں۔ تو یقین جانیے آپ زندگی کے کامیاب ترین انسان ہیں۔ میں ان تمام انسانوں سے جو اپنے اپنے شعبوں کے کامیاب لوگ ہیں ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں کہ پلیز آپ لوگ آگے آئیں اور کسی ضرورت مند کو کامیاب کرنے میں اس کی مدد کر دیں مان جائیے کہ چیزوں سے زیادہ انسان اہم ہوتے ہیں۔ اگر ہم ٹانگیں کیچھنے کی بجائے ہاتھ کیچھنے والے بن جائیں تو ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو طارق تنویر سی ای او اینڈ فائنڈر ایگری ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان ۔ Add me Tariq Tanveer Group https://www.facebook.com/groups/1246256708772335/
0 Комментарии 0 Поделились 95 Просмотры