آج کی کمای !
چند سال قبل 2014 میں جب ایک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں مجھے طویل عرصہ گھر میں گزارنا پڑا تو اس دوران صحت اور معاش کے مسائل کی وجہ سے مجھے شدید ذہنی دباؤ کا سامنا تھا ، اس وقت ریحان بھائی کو اللہ تعالی نے میری زندگی سے مایوسی کے اندھیرے دور کرنے کے لیے وسیلہ بنا کر بھیجا ، ان سے فیس بک پر جڑنے اور کال پر بات ہونے کے بعد مجھے اس تھکا دینے والی تنہائی میں اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی مصروفیت میسر آئی ، سوشل میڈیا پر دنیا بھر کے مختلف الخیال لوگوں سے روابط قائم کرنے کا فائدہ پتا چلا، اپنی ذات کے کمزوریوں کو طاقت میں کیسے بدلا جاتا ہے کا راز معلوم ہوا ، وہ اڑھائی سال بستر علالت پر ہونے کے باوجود میرے لئے زندگی بدلنے کا سب سے سنہری دور ثابت ہوئے ، اور جب میں اپنے پاؤں پر چلنے کے قابل ہوا تو پھر پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا ،ریحان اللہ والا میرے لیے الف لیلی کی کہانیوں کا وہ پراسرار کردار ثابت ہوئے جس سے ملنے کے بعد انسان کی پوری زندگی دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے ، اک تیرے آنے سے پہلے ، اک تیرے جانے کے بعد !!
کبھی ٹیکنالوجی جئینس ، کبھی انٹرنیٹ گُرو ، اور کبھی مشفق استاد کے طور پر سامنے آکر اور کبھی اپنی بچگانہ اداؤں سے ہنسنے پر اور کبھی اپنے درد دل سے رونے پر مجبور کردینے والا یہ کردار شاید اپنے وقت سے پہلے اس سرزمین پر وارد ہوگیا ہے جبھی کچھ لوگ اس کی باتیں سن کر سمجھنے کا تکلف کیے بغیر ہنسی میں اڑا کر آگے گزر جاتے ہیں اور کچھ سرپھرے ان باتوں کو نسخہ کیمیا سمجھ کر دل میں جگہ دیتے ہیں اور ان پر عمل کرکے اپنی اور بے شمار دوسروں کی زندگی بدلنے کا سبب بنتے ہیں ۔
کوئی کچھ بھی کہے مگر میں اپنے پورے صدق دل سے یہ بات کہتا ہوں کہ قوم کو معاشی خوشحالی کا خواب دکھانے والا اور پھر اس کی تعبیر پانے کا راستہ سمجھانے والا یہ مرد درویش بس ایک ہی ہے ۔
اور مجھے یقین ہے کہ آج نہیں تو کل دنیا اسے اس کا جائز مقام اور کئی دہائیوں پر مشتمل بے لوث خدمات پر خراج تحسین ضرور پیش کرے گی ۔
میری تکمیل میں حصہ ہے تمھارا بھی بہت
میں اگر تم سے نا ملتا تو ادھورا رہتا !!
محمد سجار رضا
Mufti Sajjad Raza Madni
#اج_کی_کمای
چند سال قبل 2014 میں جب ایک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں مجھے طویل عرصہ گھر میں گزارنا پڑا تو اس دوران صحت اور معاش کے مسائل کی وجہ سے مجھے شدید ذہنی دباؤ کا سامنا تھا ، اس وقت ریحان بھائی کو اللہ تعالی نے میری زندگی سے مایوسی کے اندھیرے دور کرنے کے لیے وسیلہ بنا کر بھیجا ، ان سے فیس بک پر جڑنے اور کال پر بات ہونے کے بعد مجھے اس تھکا دینے والی تنہائی میں اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی مصروفیت میسر آئی ، سوشل میڈیا پر دنیا بھر کے مختلف الخیال لوگوں سے روابط قائم کرنے کا فائدہ پتا چلا، اپنی ذات کے کمزوریوں کو طاقت میں کیسے بدلا جاتا ہے کا راز معلوم ہوا ، وہ اڑھائی سال بستر علالت پر ہونے کے باوجود میرے لئے زندگی بدلنے کا سب سے سنہری دور ثابت ہوئے ، اور جب میں اپنے پاؤں پر چلنے کے قابل ہوا تو پھر پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا ،ریحان اللہ والا میرے لیے الف لیلی کی کہانیوں کا وہ پراسرار کردار ثابت ہوئے جس سے ملنے کے بعد انسان کی پوری زندگی دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے ، اک تیرے آنے سے پہلے ، اک تیرے جانے کے بعد !!
کبھی ٹیکنالوجی جئینس ، کبھی انٹرنیٹ گُرو ، اور کبھی مشفق استاد کے طور پر سامنے آکر اور کبھی اپنی بچگانہ اداؤں سے ہنسنے پر اور کبھی اپنے درد دل سے رونے پر مجبور کردینے والا یہ کردار شاید اپنے وقت سے پہلے اس سرزمین پر وارد ہوگیا ہے جبھی کچھ لوگ اس کی باتیں سن کر سمجھنے کا تکلف کیے بغیر ہنسی میں اڑا کر آگے گزر جاتے ہیں اور کچھ سرپھرے ان باتوں کو نسخہ کیمیا سمجھ کر دل میں جگہ دیتے ہیں اور ان پر عمل کرکے اپنی اور بے شمار دوسروں کی زندگی بدلنے کا سبب بنتے ہیں ۔
کوئی کچھ بھی کہے مگر میں اپنے پورے صدق دل سے یہ بات کہتا ہوں کہ قوم کو معاشی خوشحالی کا خواب دکھانے والا اور پھر اس کی تعبیر پانے کا راستہ سمجھانے والا یہ مرد درویش بس ایک ہی ہے ۔
اور مجھے یقین ہے کہ آج نہیں تو کل دنیا اسے اس کا جائز مقام اور کئی دہائیوں پر مشتمل بے لوث خدمات پر خراج تحسین ضرور پیش کرے گی ۔
میری تکمیل میں حصہ ہے تمھارا بھی بہت
میں اگر تم سے نا ملتا تو ادھورا رہتا !!
محمد سجار رضا
Mufti Sajjad Raza Madni
#اج_کی_کمای
آج کی کمای !
چند سال قبل 2014 میں جب ایک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں مجھے طویل عرصہ گھر میں گزارنا پڑا تو اس دوران صحت اور معاش کے مسائل کی وجہ سے مجھے شدید ذہنی دباؤ کا سامنا تھا ، اس وقت ریحان بھائی کو اللہ تعالی نے میری زندگی سے مایوسی کے اندھیرے دور کرنے کے لیے وسیلہ بنا کر بھیجا ، ان سے فیس بک پر جڑنے اور کال پر بات ہونے کے بعد مجھے اس تھکا دینے والی تنہائی میں اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی مصروفیت میسر آئی ، سوشل میڈیا پر دنیا بھر کے مختلف الخیال لوگوں سے روابط قائم کرنے کا فائدہ پتا چلا، اپنی ذات کے کمزوریوں کو طاقت میں کیسے بدلا جاتا ہے کا راز معلوم ہوا ، وہ اڑھائی سال بستر علالت پر ہونے کے باوجود میرے لئے زندگی بدلنے کا سب سے سنہری دور ثابت ہوئے ، اور جب میں اپنے پاؤں پر چلنے کے قابل ہوا تو پھر پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا ،ریحان اللہ والا میرے لیے الف لیلی کی کہانیوں کا وہ پراسرار کردار ثابت ہوئے جس سے ملنے کے بعد انسان کی پوری زندگی دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے ، اک تیرے آنے سے پہلے ، اک تیرے جانے کے بعد !!
کبھی ٹیکنالوجی جئینس ، کبھی انٹرنیٹ گُرو ، اور کبھی مشفق استاد کے طور پر سامنے آکر اور کبھی اپنی بچگانہ اداؤں سے ہنسنے پر اور کبھی اپنے درد دل سے رونے پر مجبور کردینے والا یہ کردار شاید اپنے وقت سے پہلے اس سرزمین پر وارد ہوگیا ہے جبھی کچھ لوگ اس کی باتیں سن کر سمجھنے کا تکلف کیے بغیر ہنسی میں اڑا کر آگے گزر جاتے ہیں اور کچھ سرپھرے ان باتوں کو نسخہ کیمیا سمجھ کر دل میں جگہ دیتے ہیں اور ان پر عمل کرکے اپنی اور بے شمار دوسروں کی زندگی بدلنے کا سبب بنتے ہیں ۔
کوئی کچھ بھی کہے مگر میں اپنے پورے صدق دل سے یہ بات کہتا ہوں کہ قوم کو معاشی خوشحالی کا خواب دکھانے والا اور پھر اس کی تعبیر پانے کا راستہ سمجھانے والا یہ مرد درویش بس ایک ہی ہے ۔
اور مجھے یقین ہے کہ آج نہیں تو کل دنیا اسے اس کا جائز مقام اور کئی دہائیوں پر مشتمل بے لوث خدمات پر خراج تحسین ضرور پیش کرے گی ۔
میری تکمیل میں حصہ ہے تمھارا بھی بہت
میں اگر تم سے نا ملتا تو ادھورا رہتا !!
محمد سجار رضا
Mufti Sajjad Raza Madni
#اج_کی_کمای
0 Commentarii
0 Distribuiri
153 Views