السلام علیکم ۔
میں خضر ولی چشتی ہوں۔
آج سے 31برس قبل میں نے چشتی گھرانے میں آنکھ کھولی۔
میں پیدائشی طور پر۔معزوری کا شکار تھا۔ مگر میرے والدین نے مجھ سے محبت میں کوئی فرق نہ کیا۔
میں نے ۔۔۔۔گورنمنٹ ہائی سکول فیروز پور چشتیاں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔۔۔اپنی معذوری کو بھول کر ہمت اور حوصلہ سے پڑھنے آگے بڑھنے کی ٹھان لی۔۔۔bzu 2015 یونیورسٹی سے ۔۔۔۔ایم ایس سی جغرافیائی کی ڈگری حاصل کی ۔۔۔
مجھے پھول بہت اچھے لگتے۔ میں اکثر پھولوں میں گھومتا۔تتلی پکڑتا۔۔۔
مجھے بچپن سے قدرتی ماحول درختوں سے بہت لگاؤ ہے۔۔
کلاس میں سبق پڑھا درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے۔
اپنی معذوری کے باوجود درخت خود لگایا۔
درخت لگانا اپنی زندگی کا نصب بنا لیا ۔
کسی بھی ملک کی ترقی خوشحالی اور عمدہ آب و ہوا کے لئے 25% حصوں پر درخت لگانا ضروری ہے جب کہ ہمارے ملک کے 4% سے بھی کم حصے پر درخت لگے ہوہے ہیں۔
جن کی وجہ سے آلودگی اور خطرناک قسم کی بیماریاں جنم لے رہی ہے۔۔
میں نے سوچا کہ مجھے کچھ ایسا کرنا چاہیے کہ میرا ملک زیادہ سے زیادہ گرین ہو اس مقصد کیلئے میں نے مختلف حصوں پر کام کرنا شرو ع کر دیا۔
1۔ سرکاری اداروں میں خوب پلانٹیشن کی ۔۔ گورنمنٹ ہائی اسکول فیروز پور اور بہت سےسرکاری اسکول مکمل طور پر گرین بنا دے
2۔ کسانوں کو شعور دیا کہ ہر کسان اپنے کم از کم ہر ایکڑ میں ایک درخت ضرور لگاۓ
3۔ لوکل درختوں کو پروموٹ کیا کیوں کہ مقامی ماحول میں انکی گروتھ اچھی ہے۔
4۔ فری نرسری کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ لوگوں کو مفت پودے دستیاب ہوں
5۔ طالب علموں کے ہاتھ سے درخت لگواۓ اور انکا خیال کروایا تاکہ انکے دلوں میں درختوں کی قدر پیدا ہو
6۔ پھل دار درخت لگاۓ ۔
اسکے علاوہ میری دیہات میں یہ کوشش رہی کہ ہر گھر سر سبز ہو ۔اس مقصد کے لئے ہر گھر ایک شجر کو پروموٹ کیا۔
اَلْحَمْدُلِلّٰه اب تک 90000 درخت لگا چکا ہوں۔میری معذوری میری طاقت ہے۔ اور میں نے اسی معذوری کو طاقت بنا کر اپنے ملک کو سر سبز و شاداب بنانے کا ارادہ کیا ہے۔
میں خضر ولی چشتی آپ سب سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ جس سکول میں پڑھتے ہیں اپنے نام سے ایک درخت لگایں اور میری اس خوبصورت سر سبز تحریک کا حصہ بن جایں ۔
آئیے مل کر اپنے وطن پاکستان کو سر سبز و شاداب بنایں تاکہ ماحول کو خوبصورت بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔۔
درخت ہیں تو ہم ہیں
Khizar Wali Chishti
میں خضر ولی چشتی ہوں۔
آج سے 31برس قبل میں نے چشتی گھرانے میں آنکھ کھولی۔
میں پیدائشی طور پر۔معزوری کا شکار تھا۔ مگر میرے والدین نے مجھ سے محبت میں کوئی فرق نہ کیا۔
میں نے ۔۔۔۔گورنمنٹ ہائی سکول فیروز پور چشتیاں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔۔۔اپنی معذوری کو بھول کر ہمت اور حوصلہ سے پڑھنے آگے بڑھنے کی ٹھان لی۔۔۔bzu 2015 یونیورسٹی سے ۔۔۔۔ایم ایس سی جغرافیائی کی ڈگری حاصل کی ۔۔۔
مجھے پھول بہت اچھے لگتے۔ میں اکثر پھولوں میں گھومتا۔تتلی پکڑتا۔۔۔
مجھے بچپن سے قدرتی ماحول درختوں سے بہت لگاؤ ہے۔۔
کلاس میں سبق پڑھا درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے۔
اپنی معذوری کے باوجود درخت خود لگایا۔
درخت لگانا اپنی زندگی کا نصب بنا لیا ۔
کسی بھی ملک کی ترقی خوشحالی اور عمدہ آب و ہوا کے لئے 25% حصوں پر درخت لگانا ضروری ہے جب کہ ہمارے ملک کے 4% سے بھی کم حصے پر درخت لگے ہوہے ہیں۔
جن کی وجہ سے آلودگی اور خطرناک قسم کی بیماریاں جنم لے رہی ہے۔۔
میں نے سوچا کہ مجھے کچھ ایسا کرنا چاہیے کہ میرا ملک زیادہ سے زیادہ گرین ہو اس مقصد کیلئے میں نے مختلف حصوں پر کام کرنا شرو ع کر دیا۔
1۔ سرکاری اداروں میں خوب پلانٹیشن کی ۔۔ گورنمنٹ ہائی اسکول فیروز پور اور بہت سےسرکاری اسکول مکمل طور پر گرین بنا دے
2۔ کسانوں کو شعور دیا کہ ہر کسان اپنے کم از کم ہر ایکڑ میں ایک درخت ضرور لگاۓ
3۔ لوکل درختوں کو پروموٹ کیا کیوں کہ مقامی ماحول میں انکی گروتھ اچھی ہے۔
4۔ فری نرسری کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ لوگوں کو مفت پودے دستیاب ہوں
5۔ طالب علموں کے ہاتھ سے درخت لگواۓ اور انکا خیال کروایا تاکہ انکے دلوں میں درختوں کی قدر پیدا ہو
6۔ پھل دار درخت لگاۓ ۔
اسکے علاوہ میری دیہات میں یہ کوشش رہی کہ ہر گھر سر سبز ہو ۔اس مقصد کے لئے ہر گھر ایک شجر کو پروموٹ کیا۔
اَلْحَمْدُلِلّٰه اب تک 90000 درخت لگا چکا ہوں۔میری معذوری میری طاقت ہے۔ اور میں نے اسی معذوری کو طاقت بنا کر اپنے ملک کو سر سبز و شاداب بنانے کا ارادہ کیا ہے۔
میں خضر ولی چشتی آپ سب سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ جس سکول میں پڑھتے ہیں اپنے نام سے ایک درخت لگایں اور میری اس خوبصورت سر سبز تحریک کا حصہ بن جایں ۔
آئیے مل کر اپنے وطن پاکستان کو سر سبز و شاداب بنایں تاکہ ماحول کو خوبصورت بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔۔
درخت ہیں تو ہم ہیں
Khizar Wali Chishti
السلام علیکم ۔
میں خضر ولی چشتی ہوں۔
آج سے 31برس قبل میں نے چشتی گھرانے میں آنکھ کھولی۔
میں پیدائشی طور پر۔معزوری کا شکار تھا۔ مگر میرے والدین نے مجھ سے محبت میں کوئی فرق نہ کیا۔
میں نے ۔۔۔۔گورنمنٹ ہائی سکول فیروز پور چشتیاں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔۔۔اپنی معذوری کو بھول کر ہمت اور حوصلہ سے پڑھنے آگے بڑھنے کی ٹھان لی۔۔۔bzu 2015 یونیورسٹی سے ۔۔۔۔ایم ایس سی جغرافیائی کی ڈگری حاصل کی ۔۔۔
مجھے پھول بہت اچھے لگتے۔ میں اکثر پھولوں میں گھومتا۔تتلی پکڑتا۔۔۔
مجھے بچپن سے قدرتی ماحول درختوں سے بہت لگاؤ ہے۔۔
کلاس میں سبق پڑھا درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے۔
اپنی معذوری کے باوجود درخت خود لگایا۔
درخت لگانا اپنی زندگی کا نصب بنا لیا ۔
کسی بھی ملک کی ترقی خوشحالی اور عمدہ آب و ہوا کے لئے 25% حصوں پر درخت لگانا ضروری ہے جب کہ ہمارے ملک کے 4% سے بھی کم حصے پر درخت لگے ہوہے ہیں۔
جن کی وجہ سے آلودگی اور خطرناک قسم کی بیماریاں جنم لے رہی ہے۔۔
میں نے سوچا کہ مجھے کچھ ایسا کرنا چاہیے کہ میرا ملک زیادہ سے زیادہ گرین ہو اس مقصد کیلئے میں نے مختلف حصوں پر کام کرنا شرو ع کر دیا۔
1۔ سرکاری اداروں میں خوب پلانٹیشن کی ۔۔ گورنمنٹ ہائی اسکول فیروز پور اور بہت سےسرکاری اسکول مکمل طور پر گرین بنا دے
2۔ کسانوں کو شعور دیا کہ ہر کسان اپنے کم از کم ہر ایکڑ میں ایک درخت ضرور لگاۓ
3۔ لوکل درختوں کو پروموٹ کیا کیوں کہ مقامی ماحول میں انکی گروتھ اچھی ہے۔
4۔ فری نرسری کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ لوگوں کو مفت پودے دستیاب ہوں
5۔ طالب علموں کے ہاتھ سے درخت لگواۓ اور انکا خیال کروایا تاکہ انکے دلوں میں درختوں کی قدر پیدا ہو
6۔ پھل دار درخت لگاۓ ۔
اسکے علاوہ میری دیہات میں یہ کوشش رہی کہ ہر گھر سر سبز ہو ۔اس مقصد کے لئے ہر گھر ایک شجر کو پروموٹ کیا۔
اَلْحَمْدُلِلّٰه اب تک 90000 درخت لگا چکا ہوں۔میری معذوری میری طاقت ہے۔ اور میں نے اسی معذوری کو طاقت بنا کر اپنے ملک کو سر سبز و شاداب بنانے کا ارادہ کیا ہے۔
میں خضر ولی چشتی آپ سب سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ جس سکول میں پڑھتے ہیں اپنے نام سے ایک درخت لگایں اور میری اس خوبصورت سر سبز تحریک کا حصہ بن جایں ۔
آئیے مل کر اپنے وطن پاکستان کو سر سبز و شاداب بنایں تاکہ ماحول کو خوبصورت بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔۔
درخت ہیں تو ہم ہیں
Khizar Wali Chishti
0 Yorumlar
0 hisse senetleri
50 Views