, اسلام و علیکم
پچھلے دنوں سیالکوٹ واقعے کے بعد علم ھوا کہ
سری لنکا نے تقریبا 83000 ھزار آنکھیں عطیہ کیں۔
جس کا 40 ٪ پاکستان کو دیا گیا۔
اس کو ایک مثبت خبر کے طور پر لیا گیا بظاھر سری لنکا کا شکریہ ادا کیا گیا ۔جو کہ بہت اچھی بات ہے۔
لیکن کچھ حقائق میں آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں
سری لنکا کی کی آبادی تقریبا 22 ملین یعنی دو کروڑ 20 لاکھ کے قریب ہے جس میں سے 90 ٪ نان مسلم ہیں
ڈیت کے بعد عام طور پر ڈیڈ باڈی کو ہسپتال لے جایا جاتا ہے اور اس کا پوسٹ مارٹم کر کے اس کے اندر سے ضروری اعضاء باہر نکال لئے جاتے ہیں اور اس کے بعد اپنے رسم و رواج کے مطابق کچھ دنوں کے بعد اس کی آخری رسومات ہوتی ہیں۔
اب اہم بات یہ ہے کہ کیا پاکستان جس کی آبادی 200 ملین سے زیادہ ہے اور یہاں اگر سری لنکا سے 35000 آنکھوں کا عطیہ مل چکا ہے تو کیا پاکستان میں آنکھوں کا عطیہ کے طور پر جو استعمال ہے یہاں سے پورا ہو جاتا ہے یا نہیں ہوتا؟
اس کی اہمیت کے پیش نظر بحیثیت مسلمان ھمیں شعور اور آگاہی کی ضرورت ہے کہ ہم اس چیز پر توجہ دیں۔

اسلام میں ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے
موت بر حق ھے اور اگر مرنے والا اپنے اعضاء عطیہ کے طور پر دے دے تو کتنے لوگوں کو صحت مند زندگی مل سکتی ھے ۔
خاص طور پر مزہبی طبقے اس کو ایک مثبت سوچ کے ساتھ لے کے آگے بڑھیں تو کتنے لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں کتنے ایسے ہوں گے جن کے لیے آنکھوں کے ساتھ ساتھ باقی جسم کے اعضاء ان کے استعمال میں آئیں گے اور مرنے والوں اور اس کے لواحقین کے لیے صدقہ جاریہ ہوگا میں اس حوالے سے ریکویسٹ کروں گا کہ سوشل میڈیا کی جو شخصیات ہیں اس معاملے کو اٹھایئے اور اس سے ریلیٹڈ جتنے قانونی، معاشرتی، مذہبی پہلو ھیں اس کو دیکھتے ہوئے اس پر گفت و شنید کا سلسلہ شروع کیا جائے اور تجویز کے طور پر یہ ہے کہ جو شخص اپنی زندگی میں ہی عطیہ کرنے کے لئے اس عمل کا آغاز کرے تو اس کو مثبت اپروچ سے آئی ڈی کارڈ پر مینشن کیا جاسکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کو معاشرے میں VIP سمجھا جائے تاکہ اس طرف رجحان پیدا ہو تو یہ بہت اچھا عمل ہوگا میری ریکویسٹ ہے کہ تمام لوگ اس تجویز کو دیکھتے ہوئے اس پر رائے دیں اور اس کو آہستہ آہستہ ایک تحریک کی شکل میں آگے بڑھائیں تاکہ اس سے ملک و قوم انسانیت کا بھلا ہو
الحمدللہ میں ریگولر بلڈ ڈونر ھوں اور انشاء اللہ اپنی موت پر اعضاء عطیہ کرنے کی وصیت کرنے جا رہا ہوں
اللہ تعالیٰ ھمیں عمل کی توفیق عطا فرمائیں آمین یارب العالمین
جزاک اللہ خیرا کثیرا
بہت معذرت کے ساتھ میرا سوشل میڈیا علم نہ ہونے کے باوجود آداب کے ساتھ
عرفان انجم ڈاکٹر
Irfan Anjum

+92 321 66 22 811

Join the group Organ Donation Pakistan
, اسلام و علیکم پچھلے دنوں سیالکوٹ واقعے کے بعد علم ھوا کہ سری لنکا نے تقریبا 83000 ھزار آنکھیں عطیہ کیں۔ جس کا 40 ٪ پاکستان کو دیا گیا۔ اس کو ایک مثبت خبر کے طور پر لیا گیا بظاھر سری لنکا کا شکریہ ادا کیا گیا ۔جو کہ بہت اچھی بات ہے۔ لیکن کچھ حقائق میں آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں سری لنکا کی کی آبادی تقریبا 22 ملین یعنی دو کروڑ 20 لاکھ کے قریب ہے جس میں سے 90 ٪ نان مسلم ہیں ڈیت کے بعد عام طور پر ڈیڈ باڈی کو ہسپتال لے جایا جاتا ہے اور اس کا پوسٹ مارٹم کر کے اس کے اندر سے ضروری اعضاء باہر نکال لئے جاتے ہیں اور اس کے بعد اپنے رسم و رواج کے مطابق کچھ دنوں کے بعد اس کی آخری رسومات ہوتی ہیں۔ اب اہم بات یہ ہے کہ کیا پاکستان جس کی آبادی 200 ملین سے زیادہ ہے اور یہاں اگر سری لنکا سے 35000 آنکھوں کا عطیہ مل چکا ہے تو کیا پاکستان میں آنکھوں کا عطیہ کے طور پر جو استعمال ہے یہاں سے پورا ہو جاتا ہے یا نہیں ہوتا؟ اس کی اہمیت کے پیش نظر بحیثیت مسلمان ھمیں شعور اور آگاہی کی ضرورت ہے کہ ہم اس چیز پر توجہ دیں۔ اسلام میں ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے موت بر حق ھے اور اگر مرنے والا اپنے اعضاء عطیہ کے طور پر دے دے تو کتنے لوگوں کو صحت مند زندگی مل سکتی ھے ۔ خاص طور پر مزہبی طبقے اس کو ایک مثبت سوچ کے ساتھ لے کے آگے بڑھیں تو کتنے لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں کتنے ایسے ہوں گے جن کے لیے آنکھوں کے ساتھ ساتھ باقی جسم کے اعضاء ان کے استعمال میں آئیں گے اور مرنے والوں اور اس کے لواحقین کے لیے صدقہ جاریہ ہوگا میں اس حوالے سے ریکویسٹ کروں گا کہ سوشل میڈیا کی جو شخصیات ہیں اس معاملے کو اٹھایئے اور اس سے ریلیٹڈ جتنے قانونی، معاشرتی، مذہبی پہلو ھیں اس کو دیکھتے ہوئے اس پر گفت و شنید کا سلسلہ شروع کیا جائے اور تجویز کے طور پر یہ ہے کہ جو شخص اپنی زندگی میں ہی عطیہ کرنے کے لئے اس عمل کا آغاز کرے تو اس کو مثبت اپروچ سے آئی ڈی کارڈ پر مینشن کیا جاسکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کو معاشرے میں VIP سمجھا جائے تاکہ اس طرف رجحان پیدا ہو تو یہ بہت اچھا عمل ہوگا میری ریکویسٹ ہے کہ تمام لوگ اس تجویز کو دیکھتے ہوئے اس پر رائے دیں اور اس کو آہستہ آہستہ ایک تحریک کی شکل میں آگے بڑھائیں تاکہ اس سے ملک و قوم انسانیت کا بھلا ہو الحمدللہ میں ریگولر بلڈ ڈونر ھوں اور انشاء اللہ اپنی موت پر اعضاء عطیہ کرنے کی وصیت کرنے جا رہا ہوں اللہ تعالیٰ ھمیں عمل کی توفیق عطا فرمائیں آمین یارب العالمین جزاک اللہ خیرا کثیرا بہت معذرت کے ساتھ میرا سوشل میڈیا علم نہ ہونے کے باوجود آداب کے ساتھ عرفان انجم ڈاکٹر Irfan Anjum +92 321 66 22 811 Join the group Organ Donation Pakistan
0 Comentários 0 Compartilhamentos 265 Visualizações