P.hd Doctor professor mohaqiq e Azam khabar pakhtoon khaw Allama Maulana Mufti fawed Hyder Voice Chancellor of Noshehra University of peshawar. he appreciate Murshad Masud Qazi laptop distribution substitute of sdqa Bakra.

*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ*
بلاشبہ صدقات بلاوں کو ٹالتے ہیں اور امت مسلمہ کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب کوئی مسلمان کسی مصیبت کا شکار ہو تو وہ صدقہ کرتا ہے تاکہ وہ مصیبت و بلا اس سے دور ہو۔
صدقہ کی کوئی صورت شریعت مطہرہ نے مقرر نہیں فرمائی بلکہ حسب استطاعت صدقہ کی اجازت دی ہے۔ شریعت نے عید قرباں و عقیقہ میں حلال جانور ہی کی قربانی مقرر کی ہے لیکن اس کے علاوہ صدقات نافلہ میں جانور شرط نہیں بلکہ جتنی استعداد ہو صدقہ کرے چاہے وہ ایک کھجور ہی ہو۔
آج کل بعض عوام نے بکرا وہ بھی کالے رنگ کا صدقہ کے لیے لازم سمجھ لیا ہے۔ یہ بالکل غلط ہے نا تو بکرا لازم ہے نا ہی اس کا کالے رنگ کا ہونا شرط ہے۔
بلکہ بہترین صدقہ وہ ہے جس سے صاحب خیر ضرورت مند کی کوئی ضرورت پوری کر دے۔
پچھلے وقتوں میں قبائلی علاقوں میں بھیڑ بکریاں پالی جاتیں اور انھیں غذا کا لازمی حصہ سمجھا جاتا۔ اس لیے صدقہ میں بھیڑ یا بکری کا صدقہ بہتر جانا گیا۔ لیکن آج کے دور میں نا تو یہ غذا کا لازمی حصہ سمجھے جاتے نا ہی ضرورت بلکہ بکرا وغیرہ عام طور پر گھروں میں کم ہی پکایا یا کھایا جاتا ہے۔
ہمیں بھی چاہیے کہ وقت کی ضرورت کو سمجھیں اور ضرورت مند کی ضرورت سمجھ کر صدقہ کریں۔
بلاشبہ طالب علم کی مدد کے لیے صدقہ کرنا بہت ہی افضل ہے کہ طلب علم کی بڑی فضیلت ہے اور اس پر خرچ کرنے کا ثواب بہت زیادہ ہے۔ آجکل حصول علم کے اہم جزو و ذرائع میں سے لیپ ٹاپ بھی ہے۔ اس لیے اگر ہم 40، 50 ہزار کا بکرا صدقہ کرنے کی بجائے کسی طالب علم کو لیپ ٹاپ دیں گے۔ تو حصول علم کے اس افضل ترین عمل میں ہمارا حصہ بھی پڑ جائے گا۔ اور وہ طالب علم جب اپنے علم پر عمل کرے گا یا پھیلائے گا تو اس کے اس عمل کا ثواب ہمیں بھی ملے گا۔ جو لوگ اس سے علم سمجھ کر عمل کریں گے اور جس جس کو اس علم سے جس طرح کا بھی فائدہ ملے گا۔ ان سب کا ثواب بھی لیپ ٹاپ صدقہ کرنے والے ملے گا اور جب تک وہ علم پھیلتا رہے گا اور لوگ عمل کر کے معاشرے کو خیر پہنچاتے رہیں گے۔ اس کا ثواب صدقہ کرنے والے کو بھی ملے گا۔ پس یہ ایک بار کا صدقہ نا ہو گا۔ بلکہ صدقہ جاریہ بن جائے گا۔ اتنے بڑے خیر کے عمل سے محروم رہنا بدنصیبی ہو گی۔
اس لیے ریحان فاونڈیشن والوں کا یہ عمل قابل استحسان ہے اور میں اس کی تائید و خیر مقدم کرتا ہوں۔
*کتبہ: فقیر انجنئیر پروفیسر ڈاکٹر محمد فواد حیدر مقصودی نقشبندی عفی عنہ 7 دسمبر 2021*
*وصلی اللہ تعالی علی النبی الامی سیدنا و مولانا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما*

*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ*
بلاشبہ صدقات بلاوں کو ٹالتے ہیں اور امت مسلمہ کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب کوئی مسلمان کسی مصیبت کا شکار ہو تو وہ صدقہ کرتا ہے تاکہ وہ مصیبت و بلا اس سے دور ہو۔
صدقہ کی کوئی صورت شریعت مطہرہ نے مقرر نہیں فرمائی بلکہ حسب استطاعت صدقہ کی اجازت دی ہے۔ شریعت نے عید قرباں و عقیقہ میں حلال جانور ہی کی قربانی مقرر کی ہے لیکن اس کے علاوہ صدقات نافلہ میں جانور شرط نہیں بلکہ جتنی استعداد ہو صدقہ کرے چاہے وہ ایک کھجور ہی ہو۔
آج کل بعض عوام نے بکرا وہ بھی کالے رنگ کا صدقہ کے لیے لازم سمجھ لیا ہے۔ یہ بالکل غلط ہے نا تو بکرا لازم ہے نا ہی اس کا کالے رنگ کا ہونا شرط ہے۔
بلکہ بہترین صدقہ وہ ہے جس سے صاحب خیر ضرورت مند کی کوئی ضرورت پوری کر دے۔
پچھلے وقتوں میں قبائلی علاقوں میں بھیڑ بکریاں پالی جاتیں اور انھیں غذا کا لازمی حصہ سمجھا جاتا۔ اس لیے صدقہ میں بھیڑ یا بکری کا صدقہ بہتر جانا گیا۔ لیکن آج کے دور میں نا تو یہ غذا کا لازمی حصہ سمجھے جاتے نا ہی ضرورت بلکہ بکرا وغیرہ عام طور پر گھروں میں کم ہی پکایا یا کھایا جاتا ہے۔
ہمیں بھی چاہیے کہ وقت کی ضرورت کو سمجھیں اور ضرورت مند کی ضرورت سمجھ کر صدقہ کریں۔
بلاشبہ طالب علم کی مدد کے لیے صدقہ کرنا بہت ہی افضل ہے کہ طلب علم کی بڑی فضیلت ہے اور اس پر خرچ کرنے کا ثواب بہت زیادہ ہے۔ آجکل حصول علم کے اہم جزو و ذرائع میں سے لیپ ٹاپ بھی ہے۔ اس لیے اگر ہم 40، 50 ہزار کا بکرا صدقہ کرنے کی بجائے کسی طالب علم کو لیپ ٹاپ دیں گے۔ تو حصول علم کے اس افضل ترین عمل میں ہمارا حصہ بھی پڑ جائے گا۔ اور وہ طالب علم جب اپنے علم پر عمل کرے گا یا پھیلائے گا تو اس کے اس عمل کا ثواب ہمیں بھی ملے گا۔ جو لوگ اس سے علم سمجھ کر عمل کریں گے اور جس جس کو اس علم سے جس طرح کا بھی فائدہ ملے گا۔ ان سب کا ثواب بھی لیپ ٹاپ صدقہ کرنے والے ملے گا اور جب تک وہ علم پھیلتا رہے گا اور لوگ عمل کر کے معاشرے کو خیر پہنچاتے رہیں گے۔ اس کا ثواب صدقہ کرنے والے کو بھی ملے گا۔ پس یہ ایک بار کا صدقہ نا ہو گا۔ بلکہ صدقہ جاریہ بن جائے گا۔ اتنے بڑے خیر کے عمل سے محروم رہنا بدنصیبی ہو گی۔
اس لیے ریحان فاونڈیشن والوں کا یہ عمل قابل استحسان ہے اور میں اس کی تائید و خیر مقدم کرتا ہوں۔
*کتبہ: فقیر انجنئیر پروفیسر ڈاکٹر محمد فواد حیدر مقصودی نقشبندی عفی عنہ 7 دسمبر 2021*
*وصلی اللہ تعالی علی النبی الامی سیدنا و مولانا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما*
P.hd Doctor professor mohaqiq e Azam khabar pakhtoon khaw Allama Maulana Mufti fawed Hyder Voice Chancellor of Noshehra University of peshawar. he appreciate Murshad Masud Qazi laptop distribution substitute of sdqa Bakra.

*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ*
بلاشبہ صدقات بلاوں کو ٹالتے ہیں اور امت مسلمہ کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب کوئی مسلمان کسی مصیبت کا شکار ہو تو وہ صدقہ کرتا ہے تاکہ وہ مصیبت و بلا اس سے دور ہو۔
صدقہ کی کوئی صورت شریعت مطہرہ نے مقرر نہیں فرمائی بلکہ حسب استطاعت صدقہ کی اجازت دی ہے۔ شریعت نے عید قرباں و عقیقہ میں حلال جانور ہی کی قربانی مقرر کی ہے لیکن اس کے علاوہ صدقات نافلہ میں جانور شرط نہیں بلکہ جتنی استعداد ہو صدقہ کرے چاہے وہ ایک کھجور ہی ہو۔
آج کل بعض عوام نے بکرا وہ بھی کالے رنگ کا صدقہ کے لیے لازم سمجھ لیا ہے۔ یہ بالکل غلط ہے نا تو بکرا لازم ہے نا ہی اس کا کالے رنگ کا ہونا شرط ہے۔
بلکہ بہترین صدقہ وہ ہے جس سے صاحب خیر ضرورت مند کی کوئی ضرورت پوری کر دے۔
پچھلے وقتوں میں قبائلی علاقوں میں بھیڑ بکریاں پالی جاتیں اور انھیں غذا کا لازمی حصہ سمجھا جاتا۔ اس لیے صدقہ میں بھیڑ یا بکری کا صدقہ بہتر جانا گیا۔ لیکن آج کے دور میں نا تو یہ غذا کا لازمی حصہ سمجھے جاتے نا ہی ضرورت بلکہ بکرا وغیرہ عام طور پر گھروں میں کم ہی پکایا یا کھایا جاتا ہے۔
ہمیں بھی چاہیے کہ وقت کی ضرورت کو سمجھیں اور ضرورت مند کی ضرورت سمجھ کر صدقہ کریں۔
بلاشبہ طالب علم کی مدد کے لیے صدقہ کرنا بہت ہی افضل ہے کہ طلب علم کی بڑی فضیلت ہے اور اس پر خرچ کرنے کا ثواب بہت زیادہ ہے۔ آجکل حصول علم کے اہم جزو و ذرائع میں سے لیپ ٹاپ بھی ہے۔ اس لیے اگر ہم 40، 50 ہزار کا بکرا صدقہ کرنے کی بجائے کسی طالب علم کو لیپ ٹاپ دیں گے۔ تو حصول علم کے اس افضل ترین عمل میں ہمارا حصہ بھی پڑ جائے گا۔ اور وہ طالب علم جب اپنے علم پر عمل کرے گا یا پھیلائے گا تو اس کے اس عمل کا ثواب ہمیں بھی ملے گا۔ جو لوگ اس سے علم سمجھ کر عمل کریں گے اور جس جس کو اس علم سے جس طرح کا بھی فائدہ ملے گا۔ ان سب کا ثواب بھی لیپ ٹاپ صدقہ کرنے والے ملے گا اور جب تک وہ علم پھیلتا رہے گا اور لوگ عمل کر کے معاشرے کو خیر پہنچاتے رہیں گے۔ اس کا ثواب صدقہ کرنے والے کو بھی ملے گا۔ پس یہ ایک بار کا صدقہ نا ہو گا۔ بلکہ صدقہ جاریہ بن جائے گا۔ اتنے بڑے خیر کے عمل سے محروم رہنا بدنصیبی ہو گی۔
اس لیے ریحان فاونڈیشن والوں کا یہ عمل قابل استحسان ہے اور میں اس کی تائید و خیر مقدم کرتا ہوں۔
*کتبہ: فقیر انجنئیر پروفیسر ڈاکٹر محمد فواد حیدر مقصودی نقشبندی عفی عنہ 7 دسمبر 2021*
*وصلی اللہ تعالی علی النبی الامی سیدنا و مولانا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما*
0 Comments
0 Shares
69 Views