ایک 28 سال کے جوان نے خود کشی کرلی۔
وجہ: بے روز گاری
قصوروار: حکومت

عموماً میں ایسی خبروں پر ذیادہ توجہ نہیں دیتا لیکن آج نہیں رہا جا رہا۔
28 سال کا جوان کیسے ایسے کر سکتا ہے۔ بی ایس سی کر کہ بھی شعور نہیں آیا کیوں؟ کیا واقعی حکومت اسکی زمہ دار ہے؟ کیا یہ جوان چوک پر بیٹھ کر دن کی 800 روپے کی دیھاڑی نہیں لگا سکتا تھا ؟ ہمت نہیں تھی نہ۔

غلطی حکومت کی نہیں غلطی اس جوان کے والدین کی ہے، غلطی اس جوان کہ اپنی ہے۔ والدین نے اسکی تربیت ٹھیک سے نہیں کی اور اس جوان نے بی ایس سی تو کرلی لیکن اللہ پر ایمان کامل نہیں سیکھا۔

ایک وقت تھا جب میں 28 سال کی عمر میں میلینز کا مالک تھا۔ میرے پاس مرسیڈیز تھی پراڈو تھی اسلام آباد کے مہنگے ہوٹلوں میں کھانا کھایا کرتا تھا شوپنگ سینٹورس مال سے کرتا تھا گھر تھا دفتر تھا سٹاف تھا سب بہت ہائ فائ تھا۔
اور پھر ایک حادثہ ہوا جس کی وجہ سے میرے پاس کچھ نہ رہا۔ 29 سال کی عمر میں میرے پاس نہ گھر تھا نہ گاڑی نہ دوست تھا نہ رشتہ دار نہ بچے کو سکول بھجوانے کے لیے پیسہ نہ گھر کا رینٹ۔ میں بہت بیمار پڑ گیا اور 6 ماہ بیڈ سے لگ کہ رہ گیا۔ کئ دفعہ شیطان نے اکسایا خود کشی کا سوچا لیکن اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اسکے فیصلوں پر صبر نے شیطان کا مقابلہ کرنے کی ہمت باندھی رکھی۔ شدید قسم کی ڈیپریشن میں رہا لیکن اللہُ تعالیٰ کو یاد کرتا رہا۔ اس حال میں بھی نہیں تھا کہ باہر نکل کر مزدوری کرتا۔

ان شارٹ۔ ہم لوگ دین کی سمجھ، اللہ کے احکامات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بتاے ہوے طریقوں پر چل رہے ہیں ؟ کیا ہمارا اللہ پر ایمان کامل ہے؟ کیا ہم واقعی اللہ کے ناموں پر اسکی صفاتوں پر یقین کامل رکھتے ہیں؟

رات کے پچھلے پہر جب اللہ انسان کا منتظر ہوتا ہے، ہم اس پہر کیا کر رہے ہوتے ہیں ؟ وہ ذات عالی کل جہانوں کا مالک، روزی رساں، مشکل کشا، رحیم، کریم، ہمارا مالک ہمارا انتظار کرتا ہے، اے بندے تو مانگ کہ تو دیکھ پھر دیکھ میری غیرت۔

اللہ تعالیٰ پر ایمان کامل اسکے فیصلوں پر صبر اسکی رحمتوں کا انتظار اسکے قدموں میں جھکنا سیکھ لیں اللہ کی قسم سکون، روزی پیسہ آپ کو ڈھونڈے گا۔
اور اس سب کا نتیجہ میری شکل میں آپ سبکے سامنے یے۔


Written by Madi Khan
ایک 28 سال کے جوان نے خود کشی کرلی۔ وجہ: بے روز گاری قصوروار: حکومت عموماً میں ایسی خبروں پر ذیادہ توجہ نہیں دیتا لیکن آج نہیں رہا جا رہا۔ 28 سال کا جوان کیسے ایسے کر سکتا ہے۔ بی ایس سی کر کہ بھی شعور نہیں آیا کیوں؟ کیا واقعی حکومت اسکی زمہ دار ہے؟ کیا یہ جوان چوک پر بیٹھ کر دن کی 800 روپے کی دیھاڑی نہیں لگا سکتا تھا ؟ ہمت نہیں تھی نہ۔ غلطی حکومت کی نہیں غلطی اس جوان کے والدین کی ہے، غلطی اس جوان کہ اپنی ہے۔ والدین نے اسکی تربیت ٹھیک سے نہیں کی اور اس جوان نے بی ایس سی تو کرلی لیکن اللہ پر ایمان کامل نہیں سیکھا۔ ایک وقت تھا جب میں 28 سال کی عمر میں میلینز کا مالک تھا۔ میرے پاس مرسیڈیز تھی پراڈو تھی اسلام آباد کے مہنگے ہوٹلوں میں کھانا کھایا کرتا تھا شوپنگ سینٹورس مال سے کرتا تھا گھر تھا دفتر تھا سٹاف تھا سب بہت ہائ فائ تھا۔ اور پھر ایک حادثہ ہوا جس کی وجہ سے میرے پاس کچھ نہ رہا۔ 29 سال کی عمر میں میرے پاس نہ گھر تھا نہ گاڑی نہ دوست تھا نہ رشتہ دار نہ بچے کو سکول بھجوانے کے لیے پیسہ نہ گھر کا رینٹ۔ میں بہت بیمار پڑ گیا اور 6 ماہ بیڈ سے لگ کہ رہ گیا۔ کئ دفعہ شیطان نے اکسایا خود کشی کا سوچا لیکن اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اسکے فیصلوں پر صبر نے شیطان کا مقابلہ کرنے کی ہمت باندھی رکھی۔ شدید قسم کی ڈیپریشن میں رہا لیکن اللہُ تعالیٰ کو یاد کرتا رہا۔ اس حال میں بھی نہیں تھا کہ باہر نکل کر مزدوری کرتا۔ ان شارٹ۔ ہم لوگ دین کی سمجھ، اللہ کے احکامات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بتاے ہوے طریقوں پر چل رہے ہیں ؟ کیا ہمارا اللہ پر ایمان کامل ہے؟ کیا ہم واقعی اللہ کے ناموں پر اسکی صفاتوں پر یقین کامل رکھتے ہیں؟ رات کے پچھلے پہر جب اللہ انسان کا منتظر ہوتا ہے، ہم اس پہر کیا کر رہے ہوتے ہیں ؟ وہ ذات عالی کل جہانوں کا مالک، روزی رساں، مشکل کشا، رحیم، کریم، ہمارا مالک ہمارا انتظار کرتا ہے، اے بندے تو مانگ کہ تو دیکھ پھر دیکھ میری غیرت۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان کامل اسکے فیصلوں پر صبر اسکی رحمتوں کا انتظار اسکے قدموں میں جھکنا سیکھ لیں اللہ کی قسم سکون، روزی پیسہ آپ کو ڈھونڈے گا۔ اور اس سب کا نتیجہ میری شکل میں آپ سبکے سامنے یے۔ Written by Madi Khan
0 Commentaires 0 Parts 85 Vue